یعبادی الذین امنوا ۔۔۔۔۔ وھو السمیع العلیم (56 – 60)
دلوں کے خالق ، دلوں کی خفیہ باتوں کے جاننے والے ، دلوں میں آنے والے خیالات کے جاننے والے ، اور دلوں میں پیدا ہونے والے وساوس ، اور دلوں میں چھپے ہوئے خدشات کو جاننے والے اور ان دلوں کے پیدا کرنے والے خالق کائنات یوں پکارتے ہیں ” اے میرے بندو جو ایمان لائے ہو “ ان الفاظ کے ساتھ پکار کر ان کی دعوت دی جاتی ہے کہ اللہ کی راہ میں ہجرت کرو ، اس خطاب کے ذریعے پہلے ہی مرحلہ پر بتا دیا جاتا ہے کہ اس ہجرت کی حقیقت کیا ہے یہ کہ اللہ اور رب کے لیے اور مولائے کریم کی راہ میں ، میں اس کے بندوں کی یہ نقل مکانی ہے۔ یہ تو تھا پہلا نچ ، اور دوسرا احساس ان کو یہ دلایا جاتا ہے۔
ان ارضی واسعۃ (29: 56) ” میری زمین وسیع ہے “۔ تم میرے بندے ہو اور یہ میری زمین ہے اور بہت ہی وسیع ہے۔ اس قدر وسیع ہے کہ یہ تمہیں جگہ دے سکتی ہے اس لیے کیوں تم مکہ کی تنگنائیوں میں ڈٹے ہوئے ہو ، جہاں تم پر محض تمہارے دین اور عقائد و نظریات کی وجہ سے مظالم ہو رہے ہیں۔ یہاں تمہیں اس کی اجازت بھی نہیں ہے کہ تم اپنے رب اور مولائے کریم کی بندگی کرسکو۔ ان تنگیزوں کو خیرباد کہو اور اللہ کی وسیع دنیا کی طرف نکل جاؤ۔ اپنے دین کو لے کر اس ظلم سے نجات پاؤ تاکہ آزادی سے اپنے رب کی بندگی کو سکو۔ فایای فاعبدون (29: 56) ” پس تم میری ہی بندگی بجا لاؤ “۔
جب کسی کو ملک چھوڑنے پر آمادہ کیا جاتا ہے تو دل میں پہلا دکھ ملک چھوڑنے کا کروٹیں لیتا ہے۔ اسی وجہ سے اللہ تعالیٰ نے یہاں اس قدر میٹھا انداز اختیار کیا ، میرے بندو جو ایمان لائے ہو ، الا یہ کہ میری زمین وسیع ہے ، مکہ بھی میرا اور مدینہ بھی میرا ہے۔ تمام زمین میری ہے۔ لہٰذا محبت صرف اسی زمین سے رکھو جس میں تم میری عبادت کرسکو اور جس میں تمہارے لیے وسعت ہو۔ دوسرا خیال ایسے مواقع پر ہجرت کے عمل کے خطرات اور خدشات کا آتا ہے یعنی یہ کہ اپنے گھروں سے نکلیں گے تو راستوں میں موت ہی نہ آجائے۔ خصوصاً ایسے حالات میں جبکہ کفار نے مسلمانوں کو مکہ میں قید کر رکھا تھا۔ ان کو وہاں سے نکلنے کی اجازت ہی نہ دیتے تھے اس لیے مہاجرین کے لیے ہجرت کی راہ میں نکلنا بھی پر خطر تھا۔ چناچہ اللہ تعالیٰ ان کے اس خدشے کو بھی دور فرماتے ہیں
کل نفس ذائقۃ الموت ثم الینا ترجعون (29: 57) ” ہر متنفس کو موت کو مزہ چکھنا ہے۔ پھر تم سب ہماری طرف پلٹا کر لائے جاؤ گے “۔ جہاں تک موت کا تعلق ہے تو وہ ہر جگہ آنے والی ہے ، لہٰذا موت کی پرواہ مت کرو ، جبکہ موت کا وقت اور سبب کسی کو معلوم نہیں ہوتا۔ سب کو اللہ کی طرف لوٹنا ہے۔ یہ تو ہجرت کرنے والے ہیں اور اگر نہ بھی کریں تو پھر بھی اللہ کی طرف سب کو پلٹایا جانا ہے اور تم تو اللہ کے غلام ہو ، تم کو تو دنیا و آخرت دونوں میں اللہ ہی کی طرف متوجہ ہونا ہے۔ لہٰذا اس بارے میں ڈرنا کیا یا دلوں میں خوف و خطر کو لانے کا کیا مقام ہے۔ پھر اللہ کا کام صرف یہ نہیں کہ وہ تمہیں دنیا میں زمین کی وسعتیں دے گا اور تم محفوظ ہوگے بلکہ قیامت میں تمہارے لیے جو آرام گاہ تیار ہے وہ تو بہت ہی عظیم ہے۔ اب تم وطن چھوڑ رہے ہو تو دنیا میں بھی وسعت ملے گی اور گھر تم چھوڑ رہے ہو تو جنت میں تمہارے لیے محلات تیار ہیں اور وہ محلات تمہارے ان چھوٹے چھوٹے گھر وندوں سے بہت ہی بڑے اور عظیم ہیں۔
والذین امنوا ۔۔۔۔۔ خلدین فیھا (29: 58) ” جو لوگ ایمان لائے ہیں اور جنہوں نے نیک عمل کیے ہیں ان کو ہم جنت کی بلند وبالا عمارتوں میں رکھیں گے جن کے نیچے نہریں بہتی ہوں گی ، وہاں وہ ہمیشہ رہیں گے “۔ اور وہاں ان کو خوش آمدید ان الفاظ میں کہا جائے گا اور ان کی جدوجہد کا تذکرہ ہوگا۔
نعم اجر العملین ۔۔۔۔۔ یتوکلون (29: 59) ” کیا ہی عمدہ اجر ہے عمل کرنے والوں کے لیے ، ان لوگوں کیلئے جنہوں نے صبر کیا اور جو اپنے رب پر بھروسہ کرتے ہیں “۔ چناچہ یوم اہل ایمان کو ہجرت پر آمادہ کیا جاتا ہے ، ان کے ساتھ وعدے کیے جا رہے ہیں اور اس پر پریشانی ، خدشات اور خوف کے ماحول سے ان کو ثابت قدمی اور جرات مندی اور حوصلہ سکھایا جا رہا ہے۔
قدرتی طور پر ہجرت کے وقت یہ فکر بھی لاحق ہوجاتی ہے کہ انسان کے ساتھ پیٹ تو لگا ہوا ہے۔ آخر صبح و شام کی ضروریات کا بندوبست کیا ہوگا۔ وطن چھوڑ دیں گے ، مال چھوڑ دیں گے ، روزگار ترک کرکے چلے جائیں گے۔ یہاں تو مکہ میں بہرحال ضروریات زندگی کی فراہمی کا بندوبست تو یقینی ہے۔ ہر شخص روزگار پر لگا ہے۔ چناچہ ان خدشات کا جواب بھی دے دیا جاتا ہے۔
وکاین من دآبۃ لا تحمل رزقھا اللہ یرزقھا وایاکم (29: 60) ” اور کتنے ہی جانور ہیں جو اپنا رزق اٹھائے نہیں پھرتے ، اللہ ان کو رزق دیتا ہے اور تمہارا رازق بھی وہی ہے “۔ یہ ایک ایسا واقعہ ہے جو انسان کی آنکھیں کھول دیتا ہے اور یہ واقعی صورت حالات ہم رات اور دن اپنی آنکھوں سے دیکھتے ہیں۔ ایسے جانور ہیں جو نہ رزق اٹھائے پھرتے ہیں ، نہ جمع کرتے ہیں ، نہ اس کا کوئی اہتمام کرتے ہیں۔ ان کو یہ بھی معلوم نہیں کہ وہ اس رزق کو پیدا کرنے کی کیا تدبیر کریں گے۔ نہ ذخیرہ کرنا انہیں آتا ہے۔ اس کے باوجود اللہ سب کو رزق دیتا ہے۔ کوئی جانور کبھی بھوک سے نہیں مرا۔ اسی طرح اللہ لوگوں کو بھی رزق دیتا ہے۔ اگرچہ بعض لوگوں کو یہ زعم لاحق ہوجاتا ہے کہ وہ خود اپنے لیے رزق پیدا کرتے ہیں جبکہ حقیقت یہ ہے کہ یہ وسائل رزق اللہ ہی فراہم کرتا ہے اور یہ وسائل ہی دراصل رزق ہیں۔ اگر اللہ کے یہ پیدا کردہ وسائل نہ ہوں تو انسان کچھ بھی نہیں کرسکتا۔ لہٰذا ہجرت کی وجہ سے تم بھوک سے نہ مرو گے۔ اس کی فکر نہ کرو ، تم اللہ کے بندے ہو اور اللہ اپنے بندوں کا بندوبست کرتا ہے جہاں بھی وہ ہوں جس طرح اللہ اپنی دوسری مخلوق کا بندوبست کرتا ہے اور کسی کو بھی بھوکا مرنے نہیں دیتا۔
یہ محبت آمیز نغمے اس شعور پر آخر ختم ہوتے ہیں کہ اللہ اہل ایمان کے ساتھ ہے۔ وہ ہر وقت ان پر نظر کرم رکھتا ہے ، وہ ان کی سب باتیں سنتا ہے۔ ان کے حالات کو جانتا ہے اور کبھی بھی ان کو اکیلا نہیں چھوڑتا۔
وھو السمیع العلیم (29: 60) ” وہ سب کچھ سنتا اور جانتا ہے “۔ یہ دور یہاں اگر ختم ہوتا ہے ، اس حال میں اللہ نے مہاجرین کے دلوں میں پائے جانے والے تمام خدشات دور کر دئیے اور اللہ کی راہ میں نکلتے وقت دل میں کھٹکنے والے تمام خدشات دور کر دئیے اور اہل ایمان کے دلوں میں جو خدشات اور اندیشے پائے جاتے تھے اب ان کی جگہ اطمینان نے لے لی۔ قلق و پریشانیوں کی جگہ اب وہ مطمئن ہیں اور اب اہل ایمان کے دل اس قدر سکون اور ٹھہراؤ اور ثبات پا چکے ہیں کہ وہ اللہ کا قرب ، اللہ کی نگرانی اور اللہ کی پناہ میں اپنے آپ کو اب محفوظ تصور کرتے ہیں۔ کون ہے جو انسان کے خدشات کو اس انداز میں محسوس کرسکتا ہے اور ان کو اس طرح دور کرسکتا ہے ماسوائے خالق کائنات کے۔ جو ان تمام باتوں سے واقف ہوتا ہے ، جو دلوں میں گزرتی ہیں۔
مومنین کے ساتھ اس مختصر مکالمہ کے بعد روئے سخن پھر مشرکین کے باہم متضاد افکار کی طرف پھرجاتا ہے۔ ان کے تصورات اس قدر غیر معقول ہیں کہ وہ ایک طرف تو یہ اقرار کرتے ہیں کہ صرف اللہ ہی ہے جو زمینوں اور آسمانوں کا خالق ہے۔ وہی ہے جس نے شمس و قمر کر مسخر کر رکھا ہے۔ وہی ہے جو آسمانوں سے بارشیں برساتا ہے اور زمین کو مردہ ہونے کے بعد دوبارہ زندہ کرتا ہے اور یہ کہ وہی ہے جو رزق کو کھلا بھی کرتا ہے اور تنگ بھی کرتا ہے۔ جب یہ لوگ انتہائی خوف کی حالت میں ہوتے ہیں تو صرف اللہ کو پکارتے ہیں۔ لیکن ان باتوں کو تسلیم کرنے کے بعد یہ لوگ اللہ کے ساتھ شرک کرتے ہیں ۔ جو لوگ صرف اللہ وحدہ کو پکارتے ہیں اور اس کی بندگی کرتے ہیں ، یہ ان کو اذیت دیتے ہیں ۔ حالانکہ اللہ کو یہ بھی تسلیم کرتے ہیں اور بلاوجہ یہ لوگ ایسے لوگوں پر مظالم ڈھاتے ہیں۔ اللہ نے ان پر جو احسانات کیے ، ان کو یہ لوگ بھلاتے ہیں اور اللہ کے بندوں کو بیت اللہ میں خوفزدہ کرتے ہیں۔
آیت 56 یٰعِبَادِیَ الَّذِیْنَ اٰمَنُوْٓا اِنَّ اَرْضِیْ وَاسِعَۃٌ فَاِیَّایَ فَاعْبُدُوْنِ ”قرآن کے اس اسلوب کے بارے میں ایک نکتہ جو پہلے کئی بار دہرایا جا چکا ہے یہاں پھر ذہن میں تازہ کرلیں کہ مکی دور میں اہل ایمان سے براہ راست بہت کم خطاب کیا گیا ہے ‘ زیادہ تر انہیں نبی مکرم ﷺ کی وساطت سے ہی مخاطب کیا گیا ہے ‘ جبکہ یٰٓاَیُّھَا الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا کی اصطلاح صرف مدنی قرآن میں ملتی ہے۔یہاں پر یٰعِبَادِیَ کے طرز تخاطب میں بہت شفقت اور عنایت کا اظہار پایا جاتا ہے کہ اے میرے بندو ! اگر مجھ پر ایمان لانے کی پاداش میں مکہ کی سرزمین میں تمہارا قافیہ تنگ کردیا گیا ہے ‘ تمہارے لیے اگر یہاں رہنا محال ہوگیا ہے اور ان حالات کا مقابلہ کرنے کے لیے مزید ہمت تم لوگوں میں نہیں رہی تو اپنے اس شہر کو چھوڑ دو ‘ کہیں اور چلے جاؤ ‘ میری زمین بہت وسیع ہے۔ اس آیت میں ہجرت کی طرف راہنمائی ہے اور ہجرت حبشہ اسی حکم کی روشنی میں وقوع پذیر ہوئی تھی۔ اب اگلی آیت میں چوتھی ہدایت کا ذکر ہے :
مہاجرین کے لیے انعامات الٰہی اللہ تبارک وتعالیٰ اس آیت میں ایمان والوں کو ہجرت کا حکم دیتا ہے کہ جہاں وہ دین کو قائم نہ رکھ سکتے ہوں وہاں سے اس جگہ چلے جائیں جہاں ان کے دین میں انہیں آزادی رہے اللہ کی زمین بہت کشادہ ہے جہاں وہ فرمان اللہ کے ماتحت اللہ کی عبادت و توحید بجالاسکیں وہاں چلے جائیں۔ مسند احمد میں ہے رسول اللہ ﷺ فرماتے ہیں تمام شہر اللہ کے شہر ہیں اور کل بندے اللہ کے غلام ہیں جہاں تو بھلائی پاسکتا ہو وہیں قیام کر چناچہ صحابہ اکرام پر جب مکہ شریف کی رہائش مشکل ہوگئی تو وہ ہجرت کرکے حبشہ چلے گئے تاکہ امن وامان کے ساتھ اللہ کے دین پر قیام کرسکیں وہاں کے سمجھدار دیندار بادشاہ اصحمہ نجاشی نے ان کی پوری تائید ونصرت کی اور وہاں وہ بہت عزت اور خوشی سے رہے سہے۔ پھر اس کے بعد بااجازت الٰہی دوسرے صحابہ نے اور خود حضور ﷺ نے مدینہ منورہ کی طرف ہجرت کی۔ بعد ازاں فرماتا ہے کہ تم میں سے ہر ایک مرنے والا اور میرے سامنے حاضر ہونے والا ہے۔ تم خواہ کہیں ہو موت کے نیچے سے نجات نہیں پاسکتے پس تمہیں زندگی بھر اللہ کی اطاعت میں اور اس کے راضی کرنے میں رہنا چاہئے تاکہ مرنے کے بعد اللہ کے ہاں جاکر عذاب میں نہ پھنسو۔ ایماندار نیک اعمال لوگوں کو اللہ تعالیٰ جنت عدن کی بلندی وبالا منزلوں میں پہنچائے گا۔ جن کے نیچے قسم قسم کی نہریں بہہ رہی ہیں۔ کہیں صاف شفاف پانی کی کہیں شراب طہور کی کہیں شہد کی کہیں دودھ کی۔ یہ چشمیں خود بخود جہاں چاہیں بہنے لگیں گے۔ یہ وہاں رہیں گے نہ وہاں سے نکالیں جائیں نہ ہٹائے جائیں گے نہ وہ نعمتیں ختم ہونگی نہ ان میں گھاٹا آئے گا۔ مومنوں کے نیک اعمال پر جنتی بالا خانے انہیں مبارک ہوں۔ جنہوں نے اپنے سچے دین پر صبر کیا اور اللہ کی طرف ہجرت کی۔ اس کے دشمنوں کو ترک کیا اپنے اقرباء اور اپنے گھر والوں کو راہ اللہ میں چھوڑا اس کی نعمتوں اور اس کے انعامات کی امید پر دنیا کے عیش و عشرت پر لات ماردی۔ ابن ابی حاتم میں ہے۔ رسول اللہ ﷺ فرماتے ہیں جنت میں ایسے بالاخانے ہیں جن کا ظاہر باطن سے نظر آتا ہے۔ اللہ تعالیٰ نے ان کے لئے بنائے ہیں جو کھانا کھلائیں خوش کلام نرم گو ہوں۔ روزے نماز کے پابند ہوں اور راتوں کو جبکہ لوگ سوتے ہوئے ہوں۔ یہ نمازیں پڑھتے ہوں اور اپنے کل احوال میں دینی ہوں یا دنیوی اپنے رب پر کامل بھروسہ رکھتے ہوں۔ پھر فرمایا کہ رزق کسی جگہ کے ساتھ مخصوص نہیں بلکہ اللہ تعالیٰ کا تقیسم کیا ہوا رزق عام ہے اور ہر جگہ جو جہاں ہو اسے وہ وہیں پہنچ جاتا ہے۔ مہاجرین کے رزق میں ہجرت کے بعد اللہ نے وہ برکتیں دیں کہ یہ دنیا کے کناروں کے مالک ہوگئے اور بادشاہ بن گئے فرمایا کہ بہت سے جانور ہیں جو اپنے رزق کے جمع کرنے کی طاقت نہیں رکھتے اللہ کے ذمہ ان کی روزیاں ہیں۔ پروردگار انہیں ان کے رزق پہنچا دیتا ہے۔ تمہارا رازق بھی وہی ہے وہ کسی بھی صورت اپنی مخلوق کو نہیں بھولتا۔ چینٹیوں کو ان کے سوراخوں میں پرندوں کو آسمان و زمین کے خلا میں مچھلیوں کو پانی میں وہی رزق پہنچاتا ہے۔ جیسے فرمایا آیت (وَمَا مِنْ دَاۗبَّةٍ فِي الْاَرْضِ اِلَّا عَلَي اللّٰهِ رِزْقُهَا وَيَعْلَمُ مُسْتَــقَرَّهَا وَمُسْـتَوْدَعَهَا ۭ كُلٌّ فِيْ كِتٰبٍ مُّبِيْنٍ) 11۔ ھود :6) یعنی کوئی جانور روئے زمین پر ایسا نہیں کہ اس کی روزی اللہ کے ذمہ نہ ہو وہی ان کے ٹھہرنے اور رہنے سہنے کی جگہ کو بخوبی جانتا ہے یہ سب اس کی روشن کتاب میں موجود ہے۔ ابن ابی حاتم میں ہے ابن عمر فرماتے ہیں میں رسول ﷺ کے ساتھ چلا آپ مدینے کے باغات میں سے ایک باغ میں گئے۔ اور گری پڑی ردی کھجوریں کھول کھول کر صاف کرکے کھانے لگے۔ مجھ سے بھی کھانے کو فرمایا۔ میں نے کہا حضور ﷺ مجھ سے تو یہ ردی کجھوریں نہیں کھائی جائیں گی۔ آپ نے فرمایا لیکن مجھے تو یہ بہت اچھی معلوم ہوتی ہیں۔ اس لئے کہ چوتھے دن کی صبح ہے کہ میں نے کھانا نہیں کھایا اور نہ کھانے کی وجہ یہ ہے کہ مجھے کھانا ملا ہی نہیں۔ سنو اگر میں چاہتا تو اللہ سے دعا کرتا اور اللہ مجھے قیصر وکسریٰ کا ملک دے دیتا۔ اے ابن عمر تیرا کیا حال ہوگا جبکہ تو ایسے لوگوں میں ہوگا جو سال سال بھر کے غلے وغیرہ جمع کرلیاکریں گے۔ اور ان کا یقین اور توکل بالکل بودا ہوجائے گا۔ ہم ابھی تو وہیں اسی حالت میں تھے جو آیت (وکاین الخ) ، نازل ہوئی۔ پس رسول اللہ ﷺ نے فرمایا اللہ عزوجل نے مجھے دنیا کے خزانے جمع کرنے کا اور خواہشوں کے پیچھے لگ جانے کا حکم نہیں کیا جو شخص دنیا کے خزانے جمع کرے اور اس سے باقی والی زندگی چاہے وہ سمجھ لے کہ باقی رہنے والی حیات تو اللہ کے ہاتھ ہے۔ دیکھو میں تو نہ دینار ودرہم جمع کروں نہ کل کے لئے آج روزی کا ذخیرہ جمع کر رکھوں۔ یہ حدیث غریب ہے اور اس کا راوی ابو العطوف جزی ضعیف ہے۔ یہ مشہور ہے کہ کوے کے بچے جب نکلتے ہیں تو ان کے پر وبال سفید ہوتے ہیں یہ دیکھ کر کوا ان سے نفرت کرکے بھاگ جاتا ہے کچھ دنوں کے بعد ان پروں کی رنگت سیاہ ہوجاتی ہے تب ان کے ماں باپ آتے ہیں اور انہیں دانہ وغیرہ کھلاتے ہیں ابتدائی ایام میں جبکہ ماں باپ ان چھوٹے بچوں سے متنفر ہو کر بھاگ جاتے ہیں اور ان کے پاس بھی نہیں آتے اس وقت اللہ تعالیٰ چھوٹے چھوٹے مچھر ان کے پاس بھیج دیتا ہے وہی ان کی غذا بن جاتے ہیں۔ عرب کے شعراء نے اسے نظم بھی کیا ہے۔ حضور ﷺ کا فرمان ہے کہ سفر کرو تاکہ صحت اور روزی پاؤ اور حدیث میں ہے کہ سفر کرو تاکہ صحت و غنیمت ملے۔ اور حدیث میں ہے کہ سفر کرو نفع اٹھاؤ گے روزے رکھو تندرست رہو گے جہاد کرو غنیمت ملے گی۔ ایک اور روایت میں ہے جد والوں اور آسانی والوں کے ساتھ سفر کرو۔ پھر فرمایا اللہ تعالیٰ اپنے بندوں کی باتیں سننے والا اور ان کی حرکات و سکنات کو جاننے والا ہے۔