یہاں ان کے دلوں کو پتھروں سے تشبیہ دی جاتی ہے اور جب ان کا مقابلہ پتھروں کے ساتھ کیا جاتا ہے تو وہ ان سے بھی سخت اور خشک تر نکلتے ہیں ۔ جیسے پتھروں سے یہاں انہیں تشبیہ دی جارہی ہے ۔ وہ بنی اسرائیل کے علم میں ہے ۔ اس سے قبل وہ یہ منظر دیکھ چکے تھے کہ ایک پتھر سے بارہ چشمے پھوٹ نکلے تھے ........ وہ یہ بھی دیکھ چکے تھے کہ جب تجلیات الٰہی کا ایک پرتو پہاڑ پر پڑا تو ہو ریزہ ریزہ ہوگیا تھا اور حضرت موسیٰ (علیہ السلام) بیہوش ہوکر گر پڑے تھے ۔ لیکن ان کے دل اس قدر سخت ہیں کہ ان کے اندر کسی قسم کی کوئی نرمی یا تروتازگی پیدا نہیں ہوتی ۔ ان میں خوف خدا سے دھڑکن نہیں پیدا ہوتی بلکہ وہ نہایت سخت ، خشک ، بنجر اور پتھردل ہیں ۔ اس لئے کہ انہیں ان الفاظ میں تنبیہہ کی جاتی ہے ۔ وَمَا اللَّهُ بِغَافِلٍ عَمَّا تَعْمَلُونَ ” اللہ تمہارے کرتوتوں سے بیخبر نہیں ہے۔ “
ان الفاظ پر بنی اسرائیل پر تنقید اور ان کی طویل تاریخ ........ کفر ، تکذیب انبیاء ، مکروفریب۔ فسق وفجور ، حکم عدولی وسرکشی ، بےخوفی و سنگدلی اور لجاجت اور چالاکی سے بھرپور تاریخ پر بحث کا پہلا حصہ یہاں ختم ہوجاتا ہے۔
درس 5 ایک نظر میں
اس سے قبل ہم نے جس ٹکڑے کی تشریح کی ہے ، اس میں خاتمہ کلام بنی سرائیل کے لئے یاد دہانی اور تذکیر پر ہوا تھا اور یہ بتایا گیا تھا کہ کس طرح اللہ تعالیٰ ان پر انعامات کی بارش کرتا رہا اور اس کے مقابلے میں یہ لوگ کس ثابت قدمی سے بار بار کفران نعمت کرتے رہے ۔ وہاں کہیں بسط کے ساتھ اور کہیں اختصار کے ساتھ ساتھ اللہ کے انعامات اور بنی اسرائیل کی نافرمانیوں کے واقعات اور مشاہدات بیان کئے گئے تھے ۔ بیان کا خاتمہ اس فیصلے پر ہوا تھا کہ بنی اسرائیل کے دل قبول ہدایت کے معاملے میں اس قدر سخت ، خشک اور بنجر ہوچکے ہیں جیسے مضبوط پتھر ہوتے ہیں ، بلکہ سنگدلی اور خشکی میں ان کے دل پتھروں سے بھی کہیں زیادہ سخت ہوگئے ہیں ۔
اب ان زیر بحث آیات میں روئے سخن اسلامی جماعت کی طرف پھرجاتا ہے اور مسلمانوں کے سامنے ان کی کہانی بیان ہوتی ہے اور انہیں بتایا جاتا ہے کہ بنی اسرائیل کس قدر مکار اور فتنہ پرداز قوم ہے ۔ ان کی فطرت اور ان کی طویل تاریخ کی روشنی میں اسلامی جماعت کو ان کی مکاری اور عیاری سے خبردار کیا جاتا ہے ۔ تاکہ کہیں ان کی فتنہ پردازی اور غلط پروپیگنڈے اور جھوٹے دعوؤں سے متاثر ہوکر مسلمان دھوکہ نہ کھاجائیں ۔ بنی اسرائیل کی مکاری کا یہ طویل بیان اور پھر بار بار اور مختلف پہلوؤں سے اس کا تکرار ، اس بات کو ظاہر کررہا ہے کہ اس دور میں یہودی امت مسلمہ اور دین اسلام کے خلاف کتنے وسیع پیمانے پر سازشیں کررہے تھے اور کس طرح وہ ہر وقت اس تحریک کو نقصان پہنچانے کی تاک میں بیٹھے رہتے تھے ۔ اس لئے اس قدر تفصیلی گفتگو کی ضرورت پیش آرہی تھی۔
دوران گفتگو روئے سخن کبھی بنی اسرائیل کی طرف پھرجاتا ہے تاکہ امت مسلمہ کے سامنے ، انہیں یاد دلایاجائے کہ اللہ نے ان سے کیا کیا وعدے لئے تھے اور انہوں نے کس کس طرح ان وعدوں کو توڑا تھا ۔ کس طرح وہ گمراہ ہوئے ، عہد شکنی کرتے رہے اور پھر انبیاء کرام کی تکذیب کرتے رہے ۔ انہوں نے کئی انبیاء کو قتل بھی کیا۔ کیونکہ وہ ان کی خواہشات نفس کے مطابق نہ چل سکتے تھے ۔ نیزیہ کہ کس طرح انہوں نے اللہ کی شریعت کی خلاف ورزی کی ناجائز بحث وجدال کرتے رہے اور شریعت کے جو قوانین ان کے پاس تھے ان میں تحریف کرتے رہے ۔
مسلمانوں کے ساتھ جو بحث اور مناظرہ اور جو کٹ حجتی وہ کرتے تھے یہاں اس کے کچھ نمونے پیش کئے جاتے ہیں ۔ اور نبی ﷺ کو ہدایت کی جاتی ہے کہ آپ ان دعوؤں کی حقیقت کھول دیں اور ان کے دلائل کی کمزوری واضح کردیں اور ان کی باطل سازشوں کے مقابلے میں روشن اور واضح سچائی پیش کریں۔
مثلاً ان کا خیال تھا کہ وہ صرف گنتی کے چند دن ہی جہنم میں رہیں گے ۔ کیونکہ وہ اللہ کے نزدیک پسندیدہ اور محبوب لوگ ہیں ، اللہ کے ہاں ان کا بلند رتبہ ہے ۔ چناچہ اللہ اللہ تعالیٰ نبی کریم ﷺ کو حکم دیتے ہیں کہ ذرا ” ان سے پوچھیں ، کیا تم نے اللہ سے کوئی عہد لے لیا ہے ، جس کی خلاف ورزی وہ نہیں کرسکتا ؟ یا یہ بات ہے کہ تم اللہ کے ذمے ڈال کر ایسی بات بات کہہ دیتے ہو ، جن کے متعلق تمہیں علم نہیں ہے کہ اس نے اس کا ذمہ لیا ہے۔ “
جب انہیں اسلام کی طرف دعوت دی جاتی ہے تو وہ کہتے !” ہم تو صرف اس چیز پر ایمان لائے ہیں جو ہمارے ہاں اتری ہے۔ “ اور اس دائرے باہر جو کچھ آیا ہے اسے ماننے سے وہ انکار کرتے ہیں ، حالانکہ وہ حق ہے اور اسی تعلیم کی تصدیق وتائید کررہا ہے جو ان کے ہاں پہلے سے موجود تھی ۔ چناچہ نبی ﷺ کو یہ ہدایت کی جاتی ہے ۔” اچھا ان سے کہو ، اگر تم اس تعلیم ہی پر ایمان رکھنے والے ہو جو تمہارے ہاں آئی تھی ، تو اس سے پہلے اللہ کے پیغمبروں کو (جو بنی اسرائیل میں پیدا ہوئے ) کیوں کر قتل کرتے رہے ۔ “ تمہارے پاس موسیٰ کیسی کیسی روشن نشانیوں کے ساتھ آیا ۔ پھر بھی تم ایسے ظالم رہے کہ اس کے پیٹھ موڑتے ہی بچھڑے کو معبود بنابیٹھے ۔ پھر ذرا اس میثاق کو یاد کرو جو کوہ طورکو تمہارے اوپر اٹھاکر ہم نے تم سے لیا تھا ، ہم نے تاکید کی تھی کہ جو ہدایات ہم دے رہے ہیں ان کی سختی کے ساتھ پابندی کرو اور کان لگا کر سنو تمہارے اسلاف نے کہا کہ ہم نے سن لیا مانیں گے نہیں اور ان کی باطل پرستی کا یہ حال تھا کہ دلوں میں بچھڑا ہی بسا ہوا تھا ۔ کہو اگر تم مومن ہو ، تو عجیب ایمان ہے ، جو ایسی بری حرکات کا تمہیں حکم دیتا ہے ۔ “ (البقرہ۔ 93)
ان کا دعویٰ یہ تھا کہ اگلا جہاں تو صرف انہی کے لئے ہے ۔ دوسرے لوگوں کو تو وہاں کچھ نہ ملے گا ۔ اللہ تعالیٰ نے نبی کریم ﷺ کو یہ تلقین کی کہ آپ ان کو دعوت مباہلہ دیں اور کسی میدان میں دونوں فریق جمع ہوجائیں اور اللہ سے بدست دعا ہوں کہ ان میں سے جو جھوٹا ہے اللہ اسے مار دے۔” ان سے کہو اگر واقعی اللہ کے نزدیک آخرت کا گھر تمام انسانوں کو چھوڑ کر صرف تمہارے ہی لئے مخصوص ہے ، تب تو تمہیں چاہئے کہ موت کی تمنا کرو ، اگر تم اپنے اس خیال میں سچے ہو ۔ “ اس کے بعد اللہ تعالیٰ خود ہی بتادیتے ہیں کہ یہ لوگ ، ہرگز موت کی تمنا نہ کریں گے ۔ “ چناچہ ایسا ہی ہوا ۔ وہ مباہلہ کرنے سے پھرگئے کیونکہ جس چیز کا وہ دعویٰ کررہے تھے انہیں معلوم تھا کہ وہ اس میں جھوٹے ہیں۔
غرض دوران کلام یہودیوں پر کڑی تنقید کی جاتی ہے ۔ ان کی مکاریوں پر سے پردہ اٹھایا جاتا ہے اور مسلمانوں کو ان کے بارے میں محتاط رہنے کی ہدایت دی جاتی ہیں ۔ اس اقدام کا مقصد یہ ہے کہ جماعت مسلمہ کی صفوں میں خفیہ سازشوں کے ذریعے ، انتشار پیدا کرنے کی جو کوششیں اس یہودی کررہے تھے ، ان کا زور توڑا جائے اور مسلمانوں کو چوکنا کردیا جائے ۔ آج بھی امت مسلمہ کو یہودیوں کی اسی مکاری اور فریب کاری کا سامنا ہے ۔ جس کا سامنا کبھی مدینہ طیبہ میں امت مسلمہ کے اسلاف کو تھا لیکن نہایت افسوس کے ساتھ یہ بات کہنی پڑتی ہے کہ امت مسلمہ ان قرآنی آیات سے اس طرح فائدہ نہیں اٹھارہی جس طرح امت کے اسلاف نے اس ربانی ہدایات سے فائدہ اٹھایا تھا اور جس کے نتیجے میں وہ مدینہ طیبہ میں یہودیوں کی مکاری اور عیاری پر غالب آئے تھے ۔ حالانکہ اس وقت دین اسلام نیا تھا اور جماعت مسلمہ ابھی ابھی تشکیل پائی تھی ۔ اس وقت سے لے کر آج تک یہودی اس بات کی کوشش کررہے ہیں کہ امت مسلمہ کو قرآن کریم سے دور ہٹادیں ۔ مسلمان اپنے دین کو چھوڑ دیں ۔ کیونکہ یہودیوں کو شدیدخطرہ ہے کہ کہیں مسلمان ان کے خلاف وہی قرآنی ہتھیار کام میں لانا شروع کردیں اور ان کی مکاری اور سازشوں سے بچنے کے لئے وہ تدابیر نہ کریں جو ان کے بچاؤ کی حقیقی تدابیر ہیں اور کارگر بھی ہیں ۔ کیونکہ یہودی اس بات کو اچھی طرح جانتے ہیں کہ جب تک امت مسلمہ اپنی شوکت اور برتری کے ان حقیقی سرچشموں سے محروم ہے یہودی امن وچین سے رہ سکتے ہیں ۔ لہٰذا یہ ایک حقیقت ہے اس امت کو جو شخص بھی قرآن کریم اور دین اسلام سے دور کرتا ہے وہ یہودیوں کا ایجنٹ ہے ۔ چاہے وہ یہ کام شعوری طور پر کررہا ہو یا غیر شعوری طور پر ، بالارادہ کررہاہو جو بلا ارادہ۔ کیونکہ جب تک یہ امت ایک حقیقت یعنی حقیقتاً ایمانی ، ایمانی نظام زندگی اور ایمانی شریعت اور اسلامی قانون سے دور اور غافل ہے ۔ اس وقت تک یہودیت کو کوئی خطرہ نہیں ہے۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ امت مسلمہ کا وجود ، اس کی قوت اور اس کی برتری کا حقیقی اور منفرد سرچشمہ صرف ایک ہے یعنی ایمان اور اسلام ۔ یہی ایک راہ ہے اور رہنمائی کرنے والے یہی نشانات ہیں جن پر چل کر ایک مسلمان منزل مقصود تک پہنچ سکتا ہے۔
آیت 74 ثُمَّ قَسَتْ قُلُوْبُکُمْ مِّنْم بَعْدِ ذٰلِکَ جب دین میں حیلے بہانے نکالے جانے لگیں اور حیلوں بہانوں سے شریعت کے احکام سے بچنے اور اللہ کو دھوکہ دینے کی کوشش کی جائے تو اس کا جو نتیجہ نکلتا ہے وہ دل کی سختی ہے۔فَہِیَ کَالْحِجَارَۃِ اَوْ اَشَدُّ قَسْوَۃً ط ”“یہ فصاحت و بلاغت کے اعتبار سے بھی قرآن حکیم کا ایک بڑا عمدہ مقام ہے۔وَاِنَّ مِنَ الْحِجَارَۃِ لَمَا یَتَفَجَّرُ مِنْہُ الْاَنْہٰرُ ط ”“ وَاِنَّ مِنْہَا لَمَا یَشَّقَّقُ فَیَخْرُجُ مِنْہُ الْمَآءُ ط ”“ وَاِنَّ مِنْہَا لَمَا یَہْبِطُ مِنْ خَشْیَۃِ اللّٰہِ ط وَمَا اللّٰہُ بِغَافِلٍ عَمَّا تَعْمَلُوْنَ ”“ قساوت قلبی کی یہ کیفیت اس امت کے افراد کی بیان کی جا رہی ہے جسے کبھی اہل عالم پر فضیلت عطا کی گئی تھی۔ اس امت پر چودہ سو برس ایسے گزرے کہ کوئی لمحہ ایسا نہ تھا کہ ان کے ہاں کوئی نبی موجود نہ ہو۔ انہیں تین کتابیں دی گئیں۔ لیکن یہ اپنی بدعملی کے باعث قعر مذلتّ میں جا گری۔ عقائد میں ملاوٹ ‘ اللہ اور اس کے رسول کے احکام میں میں میخ نکال کر اپنے آپ کو بچانے کے راستے نکالنے اور اعمال میں بھی ”کتاب الحِیَل“ کے ذریعے سے اپنے آپ کو ذمہ داریوں سے مبرا کرلینے کی روش کا نتیجہ پھر یہی نکلتا ہے۔ اللہ تعالیٰ مجھے اور آپ کو اس انجام بد سے بچائے۔ آمین !
پتھر دل لوگ اس آیت میں بنی اسرائیل کو زجر و توبیخ کی گئی ہے کہ اس قدر زبردست معجزے اور قدرت کی نشانیاں دیکھ کر پھر بھی بہت جلد تمہارے دل سخت پتھر بن گئے۔ اسی لئے ایمان والوں کو اس طرح کی سختی سے روکا گیا اور کہا گیا آیت (اَلَمْ يَاْنِ لِلَّذِيْنَ اٰمَنُوْٓا اَنْ تَخْشَعَ قُلُوْبُهُمْ لِذِكْرِ اللّٰهِ وَمَا نَزَلَ مِنَ الْحَقِّ ۙ وَلَا يَكُوْنُوْا كَالَّذِيْنَ اُوْتُوا الْكِتٰبَ مِنْ قَبْلُ فَطَالَ عَلَيْهِمُ الْاَمَدُ فَقَسَتْ قُلُوْبُهُمْ ۭ وَكَثِيْرٌ مِّنْهُمْ فٰسِقُوْنَ) 57۔ الحدید :16) یعنی کیا اب تک وہ وقت نہیں آیا کہ ایمان والوں کے دل اللہ تعالیٰ کے ذکر اور اللہ کے نازل کردہ حق سے کانپ اٹھیں ؟ اور اگلے اہل کتاب کی طرح نہ ہوجائیں جن کے دل لمبا زمانہ گزرنے کے بعد سخت ہوگئے اور ان میں سے اکثر فاسق ہیں۔ حضرت ابن عباس سے مروی ہے کہ اس مقتول کے بھتیجے نے اپنے چچا کے دوبارہ زندہ ہونے اور بیان دینے کے بعد جب مرگیا تو کہا کہ اس نے جھوٹ کہا اور پھر کچھ وقت گزر جانے کے بعد بنی اسرائیل کے دل پھر پتھر سے بھی زیادہ سخت ہوگئے کیونکہ پتھروں سے تو نہریں نکلتی اور بہنے لگتی ہیں بعض پتھر پھٹ جاتے ہیں ان سے چاہے وہ بہنے کے قابل نہ ہوں بعض پتھر خوف اللہ سے گرپڑتے ہیں لیکن ان کے دل کسی وعظ و نصیحت سے کسی پند و موعظت سے نرم ہی نہیں ہوتے۔ یہاں سے یہ بھی معلوم ہوا کہ پتھروں میں ادراک اور سمجھ ہے اور جگہ ہے آیت (تُـسَبِّحُ لَهُ السَّمٰوٰتُ السَّـبْعُ وَالْاَرْضُ وَمَنْ فِيْهِنَّ ۭ وَاِنْ مِّنْ شَيْءٍ اِلَّايُسَبِّحُ بِحَمْدِهٖ وَلٰكِنْ لَّا تَفْقَهُوْنَ تَسْبِيْحَهُمْ ۭ اِنَّهٗ كَانَ حَلِــيْمًا غَفُوْرًا) 17۔ الاسرآء :44) یعنی ساتوں آسمان اور زمینیں اور ان کی تمام مخلوق اور ہر ہر چیز اللہ تعالیٰ کی تسبیح بیان کرتی ہے لیکن تم ان کی تسبیح سمجھتے نہیں ہو۔ اللہ تعالیٰ حلم و بردباری والا اور بخشش و عفو والا ہے۔ ابو علی جبانی نے پتھر کے خوف سے گر پڑنے کی تاویل اولوں کے برسنے سے کی ہے لیکن یہ ٹھیک نہیں رازی بھی غیر درست بتلاتے ہیں اور فی الواقع یہ تاویل صحیح نہیں کیونکہ اس میں لفظی معنی بےدلیل کو چھوڑنا لازم آیا ہے واللہ اعلم۔ نہریں بہہ نکلنا زیادہ رونا ہے۔ پھٹ جانا اور پانی کا نکلنا اس سے کم رونا ہے گرپڑنا دل سے ڈرنا بعض کہتے ہیں یہ مجازاً کہا گیا جیسے اور جگہ ہے یریدان ینقض یعنی دیوار گرپڑنا چاہ رہی تھی۔ ظاہر ہے کہ یہ مجاز ہے۔ حقیقتاً دیوار کا اردہ ہی نہیں ہوتا۔ رازی قرطبی وغیرہ کہتے ہیں ایسی تاویلوں کی کوئی ضرورت نہیں اللہ تعالیٰ جو صفت جس چیز میں چاہے پیدا کرسکتا ہے دیکھئے اس کا فرمان ہے آیت (اِنَّا عَرَضْنَا الْاَمَانَةَ عَلَي السَّمٰوٰتِ وَالْاَرْضِ وَالْجِبَالِ فَاَبَيْنَ اَنْ يَّحْمِلْنَهَا وَاَشْفَقْنَ مِنْهَا وَحَمَلَهَا الْاِنْسَانُ) 33۔ الاحزاب :72) یعنی ہم نے امانت کو آسمانوں زمینوں اور پہاڑوں کے سامنے پیش کیا انہوں نے اس کے اٹھانے سے مجبوری ظاہر کی اور ڈر گئے اور آیت گزر چکی کہ تمام چیزیں اللہ تعالیٰ کی تسبیح بیان کرتی ہے اور جگہ ہے آیت (والنجم والشجر یسجدان یعنی اکاس بیل اور درخت اللہ تعالیٰ کو سجدہ کرتے ہیں اور فرمایا یتقیاظلالہ الخ اور فرمایا آیت (قَالَتَآ اَتَيْنَا طَاۗىِٕعِيْنَ) 41۔ فصلت :11) زمین و آسمان نے کہا ہم خوشی خوشی حاضر ہیں اور جگہ ہے کہ پہاڑ بھی قرآن سے متاثر ہو کر ڈر کے مارے پھٹ پھٹ جاتے اور جگہ فرمان ہے آیت (وقالوا لجلودھم) یعنی گناہ گار لوگ اپنے جسموں سے کہیں گے تم نے ہمارے خلاف شہادت کیوں دی ؟ وہ جواب دیں گے کہ ہم سے اس اللہ نے بات کرائی جو ہر چیز کو بولنے کی طاقت عطا فرماتا ہے ایک صحیح حدیث میں ہے کہ احد پہاڑ کی نسبت رسول اللہ ﷺ نے فرمایا یہ پہاڑ ہم سے محبت رکھتا ہے اور ہم بھی اس سے محبت رکھتے ہیں ایک اور حدیث میں ہے کہ جس کھجور کے تنے پر ٹیک لگا کر حضور ﷺ جمعہ کا خطبہ پڑھا کرتے تھے جب منبر بنا اور وہ تنا ہٹا دیا گیا تو وہ تنا پھوٹ پھوٹ کر رونے لگا۔ صحیح مسلم شریف کی حدیث میں ہے رسول اللہ ﷺ فرماتے ہیں میں مکہ کے اس پتھر کو پہچانتا ہوں جو میری نبوت سے پہلے مجھے سلام کیا کرتا تھا حجر اسود کے بارے میں ہے کہ جس نے اسے حق کے ساتھ بوسہ دیا ہوگا یہ اس کے ایمان کی گواہی قیامت والے دن دے گا اور اس طرح کی بہت سی آیات اور حدیثیں ہیں جن سے صاف معلوم ہوتا ہے کہ ان چیزوں میں ادراک و حس ہے اور یہ تمام باتیں حقیقت پر محمول ہیں نہ کہ مجاز پر۔ آیت میں لفظ " او " جو ہے اس کی بابت قرطبی اور رازی تو کہتے ہیں کہ یہ تبخیر کے لئے ہے یعنی ان کے دلوں کو خواہ جیسے پتھر سمجھ لو یا اس سے بھی زیادہ سخت۔ رازی نے ایک وجہ یہ بھی بیان کی ہے کہ یہ ابہام کے لئے ہے گویا مخاطب کے سامنے باوجود ایک بات کا پختہ علم ہونے کے دو چیزیں بطور ابہام پیش کی جا رہی ہیں۔ بعض کا قول ہے کہ مطلب یہ ہے کہ بعض دل پتھر جیسے اور بعض اس سے زیادہ سخت ہیں واللہ اعلم۔ اس لفظ کے جو معنی یہاں پر ہیں وہ بھی سن لیجئے اس پر تو اجماع ہے کہ آؤ شک کے لئے نہیں یا تو یہ معنی میں واو کے ہے یعنی اس کے دل پتھر جیسے اور اس سے بھی زیادہ سخت ہوگئے جیسے آیت (وَلَا تُطِعْ مِنْهُمْ اٰثِمًا اَوْ كَفُوْرًا) 76۔ الانسان :24) میں اور آیت (عذرا اور نذرا) میں شاعروں کے اشعار میں اور واؤ کے معنی میں جمع کے لئے آیا ہے یا او یہاں پر معنی میں بل یعنی بلکہ کے ہے جیسے آیت (كَخَشْيَةِ اللّٰهِ اَوْ اَشَدَّ خَشْـيَةً) 4۔ النسآء :77) میں اور آیت (وَاَرْسَلْنٰهُ اِلٰى مِائَةِ اَلْفٍ اَوْ يَزِيْدُوْنَ) 37۔ الصافات :147) میں اور آیت (فَكَانَ قَابَ قَوْسَيْنِ اَوْ اَدْنٰى) 53۔ النجم :9) میں بعض کا قول ہے کہ مطلب یہ ہے کہ وہ پتھر جیسے ہیں یا سختی میں تمہارے نزدیک اس سے بھی زیادہ بعض کہتے ہیں صرف مخاطب پر ابہام ڈالا گیا ہے اور یہ شاعروں کے شعروں میں بھی پایا جاتا ہے کہ باوجود پختہ علم و یقین کے صرف مخاطب پر ابہام ڈالنے کے لئے ایسا کلام کرتے ہیں قرآن کریم میں اور جگہ ہے آیت (وَاِنَّآ اَوْ اِيَّاكُمْ لَعَلٰى هُدًى اَوْ فِيْ ضَلٰلٍ مُّبِيْنٍ) 34۔ سبأ :24) یعنی ہم یا تم صاف ہدایت یا کھلی گمراہی پر ہیں تو ظاہر ہے کہ مسلمانوں کا ہدایت پر ہونا اور کفار کا گمراہی پر ہونا یقینی چیز ہے لیکن مخاطب کے ابہام کے لئے اس کے سامنے کلام مبہم بولا گیا۔ یہ بھی مطلب ہوسکتا ہے کہ تمہارے دل ان دو سے خارج نہیں یا تو وہ پتھر جیسے ہیں یا اس سے بھی زیادہ سخت یعنی بعض ایسے اس قول کے مطابق یہ بھی ہے آیت (كَمَثَلِ الَّذِى اسْـتَوْقَدَ نَارًا) 2۔ البقرۃ :17) پھر فرمایا آیت (او کصیب) اور فرمایا ہے کسراب پھر فرمایا آیت (او کظلمات) مطلب یہی ہے کہ بعض ایسے اور بعض ایسے واللہ اعلم۔ تفسیر ابن مردویہ میں ہے رسول اللہ ﷺ فرماتے ہیں اللہ کے ذکر کے سوا زیادہ باتیں نہ کیا کرو کیونکہ کلام کی کثرت دل کو سخت کردیتی ہے اور سخت دل والا اللہ سے بہت دور ہوجاتا ہے امام ترمذی نے بھی اس حدیث کو بیان فرمایا ہے اور اس کے ایک طریقہ کو غریب کہا ہے بزار میں حضرت انس سے مرفوعاً روایت ہے کہ چار چیزیں بدبختی اور شقاوت کی ہیں خوف اللہ سے آنکھوں سے آنسو نہ بہنا۔ دل کا سخت ہوجانا۔ امیدوں کا بڑھ جانا۔ لالچی بن جانا۔