ان کی جانب سے یہ کافرانہ رویہ اختیار کرنا اس لئے زیادہ قبیح تھا کہ وہ اس کا انکار کررہے تھے ۔ جس کے انتظار میں وہ صدیوں تک بیٹھے ہوئے تھے اور وہ یہ امید لگائے ہوئے تھے کہ اس کے ذریعے وہ تمام کفار پر غلبہ پالیں گے ۔ ان کا عقیدہ تھا کہ اس آنے والے نبی کے ذریعے وہ فتح اور نصرت حاصل کریں گے ۔ اور جب وہ اس کتاب کی تصدیق کرتے ہوئے تشریف لائے ، جو ان کے پاس تھی تو انہوں نے کفر کی راہ لی ۔
وَلَمَّا جَاءَهُمْ كِتَابٌ مِنْ عِنْدِ اللَّهِ مُصَدِّقٌ لِمَا مَعَهُمْ وَكَانُوا مِنْ قَبْلُ يَسْتَفْتِحُونَ عَلَى الَّذِينَ كَفَرُوا فَلَمَّا جَاءَهُمْ مَا عَرَفُوا كَفَرُوا بِهِ
” اور اب جو ایک کتاب اللہ کی طرف سے ان کے پاس آئی ہے ۔ اس کے ساتھ ان کا کیا برتاؤ ہے ؟ باوجودیکہ وہ اس کتاب کی تصدیق کرتی ہے ۔ جو ان کے پاس پہلے سے موجود تھی ۔ باوجودیکہ اس کی آمد سے پہلے وہ کفار کے مقابلے میں فتح ونصرت کی دعائیں مانگا کرتے تھے ۔ مگر جب وہ چیز آگئی ، جسے وہ پہچان بھی گئے تو انہوں نے اسے ماننے سے انکار کردیا۔ “
یہ ان کی ایسی قبیح حرکت تھی کہ وہ اس پر بجاطور پر اس سزا کے مستحق تھے کہ انہیں راہ ہدایت سے دور پھینک دیا جائے ۔ یہی وجہ ہے کہ ان پر اللہ کی پھٹکار برستی ہے۔ اور انہیں کفر کے عیب سے متصف قرا ردیا جاتا ہے فَلَعْنَةُ اللَّهِ عَلَى الْكَافِرِينَ ” اللہ کی لعنت ان منکروں پر ۔ “ اس کے بعد اللہ تعالیٰ یہ بیان کرتے ہیں کہ انہوں نے جو سودا کیا وہ گھاٹے کا سودا ہے ۔ نیز اللہ تعالیٰ ان کے اس مکروہ موقف اور ناپسندیدہ طرز عمل کا اصل اور پوشیدہ سبب بھی ظاہر فرمادیتے ہیں ۔
آیت 89 وَلَمَّا جَآءَ ہُمْ کِتٰبٌ مِّنْ عِنْدِ اللّٰہِ مُصَدِّقٌ لِّمَا مَعَہُمْ لا جو اس کی تصدیق کرنے والی ہے جو ان کے پاس پہلے سے موجود ہے یہ وضاحت قبل ازیں کی جا چکی ہے کہ قرآن کریم ایک طرف تورات اور انجیل کی تصدیق کرتا ہے اور دوسری طرف وہ تورات اور انجیل کی پیشین گوئیوں کا مصداق بن کر آیا ہے۔وَکَانُوْا مِنْ قَبْلُ یَسْتَفْتِحُوْنَ عَلَی الَّذِیْنَ کَفَرُوْا ج ان کا حال یہ تھا کہ وہ اس کی آمد سے پہلے اللہ کی آخری کتاب اور آخری نبی ﷺ کے حوالے اور واسطے سے اللہ تعالیٰ سے کافروں کے خلاف فتح و نصرت کی دعائیں کیا کرتے تھے۔ یہود کے تین قبائل بنو قینقاع ‘ بنو نضیر اور بنو قریظہ مدینہ میں آکر آباد ہوگئے تھے۔ وہاں اوس اور خزرج کے قبائل بھی آباد تھے جو یمن سے آئے تھے اور اصل عرب قبائل تھے۔ پھر آس پاس کے قبائل بھی تھے۔ وہ سب امیینّ میں سے تھے ‘ ان کے پاس نہ کوئی کتاب تھی ‘ نہ کوئی شریعت اور نہ وہ کسی نبوت سے آگاہ تھے۔ ان کی جب آپس میں لڑائیاں ہوتی تھیں تو یہودی چونکہ سرمایہ دار ہونے کی وجہ سے بزدل تھے لہٰذا ہمیشہ مار کھاتے تھے۔ اس پر وہ کہا کرتے تھے کہ ابھی تو تم ہمیں مار لیتے ہو ‘ دبا لیتے ہو ‘ نبی آخر الزمان ﷺ کے آنے کا وقت آچکا ہے جو نئی کتاب لے کر آئیں گے۔ جب وہ آئیں گے اور ہم ان کے ساتھ ہو کر جب تم سے جنگ کریں گے تو تم ہمیں شکست نہیں دے سکو گے ‘ ہمیں فتح پر فتح حاصل ہوگی۔ وہ دعا کیا کرتے تھے کہ اے اللہ ! اس نبی آخر الزمان کا ظہور جلدی ہو تاکہ اس کے واسطے سے اور اس کے صدقے ہمیں فتح مل سکے۔ خزرج اور اوس کے قبائل نے یہود کی یہ دعائیں اور ان کی زبان سے نبی آخر الزمان ﷺ کی آمد کی پیشین گوئیاں سن رکھی تھیں۔ یہی وجہ ہے کہ 11 نبوی کے حج کے موقع پر جب مدینہ سے جانے والے خزرج کے چھ افراد کو رسول اللہ ﷺ نے اپنی دعوت پیش کی تو انہوں نے کن انکھیوں سے ایک دوسرے کو دیکھا کہ معلوم ہوتا ہے یہ وہی نبی ﷺ ہیں جن کا یہودی ذکر کرتے ہیں ‘ تو اس سے پہلے کہ یہود ان پر ایمان لائیں ‘ تم ایمان لے آؤ ! اس طرح وہ علم جو بالواسطہ طور پر ان تک پہنچا تھا ان کے لیے ایک عظیم سرمایہ اور ذریعۂ ‘ نجات بن گیا۔ مگر وہی یہودی جو آنے والے نبی کے انتظار میں گھڑیاں گن رہے تھے ‘ آپ ﷺ کی آمد پر اپنے تعصبّ اور تکبرّ کی وجہ سے آپ ﷺ کے سب سے بڑھ کر مخالف بن گئے۔فَلَمَّا جَآءَ ‘ ہُمْ مَّا عَرَفُوْا کَفَرُوْا بِہٖز فَلَعْنَۃُ اللّٰہِ عَلَی الْکٰفِرِیْنَ
انکار کا سبب جب کبھی یہودیوں اور عرب کے مشرکین کے درمیان لڑائی ہوتی تو یہود کہا کرتے تھے کہ عنقریب اللہ تعالیٰ کی سچی کتاب لے کر اللہ عزوجل کے ایک عظیم الشان پیغمبر تشریف لانے والے ہیں ہم ان کے ساتھ مل کر تمہیں ایسا قتل و غارت کریں گے کہ تمہارا نام و نشان مٹ جائے گا۔ اللہ تعالیٰ سے دعائیں کیا کرتے تھے کہا اے اللہ تو اس نبی کو جلد بھیج جس کی صفتیں ہم توراۃ میں پڑھتی ہیں تاکہ ہم ان پر ایمان لا کر ان کے ساتھ مل کر اپنا بازو مضبوط کر کے تیرے دشمنوں سے انتقام لیں۔ مشرکوں سے کہا کرتے تھے کہ اس نبی کا زمانہ اب بالکل قریب آگیا ہے لیکن جس وقت حضور مبعوث ہوئے تمام نشانیاں آپ میں دیکھ لیں۔ پہچان بھی لیا۔ دل سے قائل بھی ہوگئے۔ مگر چونکہ آپ عرب میں سے تھے۔ حسد کیا اور آپ کی نبوت سے انکار کردیا اور اللہ تعالیٰ کے لعنت یافتہ ہوگئے بلکہ وہ مشرکین مدینہ جو ان سے نبی ﷺ کی آمد کے بارے میں سنتے چلے آتے تھے انہیں تو ایمان نصیب ہوا اور بالاخر حضور ﷺ کے ساتھ مل کر وہ یہود پر غالب آگئے ایک مرتبہ حضرت معاذ بن جبل حضرت بشر بن براء حضرت داؤد بن سلمہ نے ان یہود مدینہ سے کہا بھی کہ تم تو ہمارے شرک کی حالت میں ہم سے حضور نبوت کا ذکر کیا کرتے تھے بلکہ ہمیں ڈرایا کرتے تھے اور اب جب کہ وہ عام اوصاف جو تم حضرت کے بیان کرتے تھے وہ تمام اوصاف آپ میں ہیں۔ پھر تم خود ایمان کیوں نہیں لاتے ؟ آپ کا ساتھ کیوں نہیں دیتے ؟ تو سلام بن مشکم نے جواب دیا کہ ہم ان کے بارے میں نہیں کہتے تھے۔ اسی کا ذکر اس آیت میں ہے کہ پہلے تو مانتے تھے منتظر بھی تھے لیکن آپ ﷺ کے آنے کے بعد حسد اور تکبر سے اپنی ریاست کے کھوئے جانے کے ڈر سے صاف انکار کر بیٹھے۔