بِئْسَمَا اشْتَرَوْا بِهِ أَنْفُسَهُمْ أَنْ يَكْفُرُوا بِمَا أَنْزَلَ اللَّهُ بَغْيًا أَنْ يُنَزِّلَ اللَّهُ مِنْ فَضْلِهِ عَلَى مَنْ يَشَاءُ مِنْ عِبَادِهِ فَبَاءُوا بِغَضَبٍ عَلَى غَضَبٍ وَلِلْكَافِرِينَ عَذَابٌ مُهِينٌ
” کیا بری ہے وہ قیمت جس سے یہ اپنے نفس فروخت کرتے ہیں کہ جو ہدایت اللہ نے نازل کی ہے ، اس کو قبول کرنے سے صرف اس ضد کی بناپر انکار کررہے ہیں کہ اللہ نے اپنے فضل (وحی و رسالت) سے اپنے جس بندے کو خود چاہا نواز دیا ! لہٰذا اب یہ غضب بلائے غضب کے مستحق ہوگئے ہیں اور ایسے کافروں کے لئے سخت ذلت آمیز سزا مقرر ہے۔ “
انہوں نے جان بوجھ کر اپنی جان کے بدلے جو کفر خریدا ہے ، وہ انکے لئے بہت گھاٹے کا سودا ہے ۔ گویا انہوں نے اپنی جان قیمت کفر کو قرار دیا ۔ انسان اپنے آپ کی کم وبیش کوئی نہ کوئی قیمت لگاتا ہے اور اگر وہ اپنی ذات کو کفر کے عوض فروخت کردے تو یہ اس کے لئے سخت خسارے کا سودا ہوگا۔ لیکن یہ حقیقت ہے کہ انہوں نے ایسا ہی کیا اگرچہ یہ بات یہاں بطور رتمثیل اور منظر کشی کے بیان ہوئی ہے ۔
دنیا میں انہیں یہ خسارا ہوا کہ وہ اس قابل احترام قافلہ ایمان کے ممبر نہ بن سکے ۔ اور آخرت کا خسارہ یہ ہوا کہ نہایت ذلت آمیز عذاب ان کے لئے چشم براہ ہے ۔ کیونکہ ان کا آخری خاتمہ کفر پر ہوا اور اپنی پوری زندگی میں انہوں نے کفر ہی کمایا۔
انہیں اس روش پر جس چیز نے مجبور کیا وہ صرف یہ تھی کہ ان کے دل نبی ﷺ کے حسد سے بھرے ہوئے تھے ۔ ان کا خیال تھا کہ نبی آخرالزمان ان میں سے ہوگا لیکن اللہ تعالیٰ نے بنی اسماعیل میں حضرت محمد ﷺ کا انتخاب فرمایا۔ وہ اپنے دلوں میں یہ وسعت پیدا کرتے ہوئے یہ برداشت نہ کرسکے کہ اللہ اپنے فضل وکرم اور وحی و رسالت سے جسے چاہے نوازدے۔ ان کا یہ طرز عمل صریح ظلم اور حد سے تجاوز تھا ۔ اور اس ظلم وتعدی کی وجہ سے یہ لوگ غضب بالائے غضب کے مستحق ہوکر لوٹے ۔ چناچہ اس استکبار ، حسد اور مذموم تعدی کی سزا کے طور پر ایک ذلت آمیز عذاب ہے جوان کے لئے چشم براہ ہے۔
یہودیوں کے اندر اس قسم کا جو ایک خاص مزاج پایا جاتا ہے ، یہ احسان فراموشی کا مزاج ہے اور جو لوگ یہ مزاج رکھتے ہیں وہ شدید ترین تعصب کے محدود دائرے میں خود غرضانہ زندگی بسر کرنے کے عادی ہوتے ہیں ۔ ایسے لوگ ہر وقت یہ محسوس کرتے ہیں کہ ان کے علاوہ دوسرے لوگوں کی خیروفلاح درحقیقت ان کی محرومی ہے ۔ ایسے لوگ انسانیت کے وسیع ترین تصور اخوت کے شعور سے عاری ہوتے ہیں ۔ یہودیوں کی تاریخ کا مطالعہ کیا جائے تو معلوم ہوتا ہے کہ یہودیوں نے سالہا سال تک اسی ذہنیت کے ساتھ پوری انسانیت سے علیحدگی کی زندگی بسر کی ۔ گویا کہ شجر انسانیت سے انہیں کوئی تعلق نہ تھا۔ بلکہ وہ ہمیشہ پوری انسانیت کے خلاف سازشیں کرتے رہے ۔ وہ ہمیشہ اپنے دلوں کے اندر پوری انسانیت کے خلاف بغض اور حسد کی آگ سلگاتے رہے اور یوں یہ بغض وحسد ان کے لئے بلائے جان بنے رہے ۔ اس بغض اور کینہ کا مزہ وہ پوری انسانیت کو چکھاتے رہے کہ انہوں نے ہمیشہ بعض اقوام کو دوسری اقوام کے خلاف بھڑکایا اور انہیں باہم لڑایا تاکہ وہ ان جنگوں کے نتیجہ میں مالی منفعت حاصل کریں ۔ اور اس طرح اپنے دلوں میں بغض وحسد کی سدا سلگنے والی آگ کو بجھاتے رہیں۔ انہوں نے ہمیشہ مختلف اقوام پر ایسی تباہیاں لانے کی سازشیں کیں ، جس کے نتیجہ میں بعض اوقات خود یہ لوگ بھی تباہ ہو اور برباد ہوتے رہے ۔ شر اور فساد کا یہ طویل سلسلہ ہمیشہ اس لئے بپا ہوا کہ یہودیوں کے دل انسانیت کے خلاف حسد وبغض سے بھرے ہوئے تھے اور یہ لوگ انتہائی خود غرضانہ ذہنیت کے مالک تھے ؟
بَغْيًا أَنْ يُنَزِّلَ اللَّهُ مِنْ فَضْلِهِ عَلَى مَنْ يَشَاءُ مِنْ عِبَادِهِ ” صرف اس ضد کی بناپر کہ اللہ نے اپنے فضل (وحی و رسالت) سے اپنے جس بندے کو خود چاہا نواز دیا ۔ “
آیت 90 بِءْسَمَا اشْتَرَوْا بِہٖٓ اَنْفُسَہُمْ یعنی دنیا کا حقیر سا فائدہ ‘ یہاں کی حقیر سی منفعتیں ‘ یہاں کی مسندیں اور چودھراہٹیں ان کے پاؤں کی زنجیر بن گئی ہیں اور وہ اپنی فلاح وسعادت اور نجات کی خاطر ان حقیر سی چیزوں کی قربانی دینے کو تیار نہیں ہیں۔اَنْ یَّکْفُرُوْا بِمَآ اَنْزَلَ اللّٰہُ بَغْیًا اَنْ یُّنَزِّلَ اللّٰہُ مِنْ فَضْلِہٖ عَلٰی مَنْ یَّشَآءُ مِنْ عِبَادِہٖ ج یہود اس امید میں تھے کہ آخری نبی بھی اسرائیلی ہی ہوگا ‘ اس لیے کہ چودہ سو برس تک نبوت ہمارے پاس رہی ہے ‘ یہ فترۃ کا زمانہ ہے ‘ جسے چھ سو برس گزر گئے ‘ اب آخری نبی آنے والے ہیں۔ ان کو یہ گمان تھا کہ وہ بنی اسرائیل ہی میں سے ہوں گے۔ لیکن ہوا یہ کہ اللہ تعالیٰ کی یہ رحمت اور یہ فضل بنی اسماعیل پر ہوگیا۔ اس ضدم ضدا کی وجہ سے یہود عناد اور سرکشی پر اتر آئے۔ اس بَغْیًا کے لفظ کو اچھی طرح سمجھ لیجیے۔ دین میں جو اختلاف ہوتا ہے اس کا اصل سبب یہی ضدم ضدا والا رویہ ہوتا ہے ‘ جسے قرآن مجید میں بَغْیًا کہا گیا ہے۔ یہ لفظ قرآن میں کئی بار آیا ہے۔ ّ عہد حاضر میں علم نفسیات Psychology میں ایڈلر کے مکتبۂ فکر کو ایک خاص مقام حاصل ہے۔ اس کا نقطۂ فظر یہ ہے کہ انسان کے جبلی افعال instincts اور محرکاتّ motives میں ایک نہایت طاقتور محرک غالب ہونے کی طلب Urge to dominate ہے۔ چناچہ کسی دوسرے کی بات ماننا نفس انسانی پر بہت گراں گزرتا ہے ‘ وہ چاہتا ہے کہ میری بات مانی جائے ! بَغْیًا کے معنی بھی حد سے بڑھنے اور تجاوز کرنے کے ہیں۔ دوسروں پر غالب ہونے کی خواہش میں انسان اپنی حد سے تجاوز کرجاتا ہے۔ یہی معاملہ یہود کا تھا کہ انہوں نے دوسروں پر رعب گانٹھنے کے لیے ضدام ضدا کی روش اختیار کی ‘ محض اس وجہ سے کہ اللہ تعالیٰ نے بنی اسماعیل کے ایک شخص محمد عربی ﷺ کو اپنے فضل سے نواز دیا۔ ّ َ فَبَآءُ ‘ وْ بِغَضَبٍ عَلٰی غَضَبٍط۔ یعنی وہ اللہ تعالیٰ کے غضب بالائے غضب کے مستحق ہوگئے۔وَلِلْکٰفِرِیْنَ عَذَابٌ مُّہِیْنٌ ۔ مُھِیْنٌ اہانت سے بنا ہے۔ ان کی اس روش کی وجہ سے ان کے لیے اہانت آمیز عذاب مقرر ہے۔ّ
برا ہو حسد کا مطلب یہ ہے کہ ان یہودیوں نے حضور کی تصدیق کے بدلے تکذیب کی اور آپ پر ایمان لانے کے بدلے کفر کیا۔ آپ کی نصرت و امداد کے بدلے مخالفت اور دشمین کی اس وجہ سے اپنے آپ کو جس غضب الٰہی کا سزاوار بنایا وہ بدترین چیز ہے جو بہترین چیز کے بدلے انہوں نے لی اور اس کی وجہ سے سوائے حسد و بغض تکبر وعناد کے اور کچھ نہیں چونکہ حضور ﷺ ان کے قبیلہ میں سے نہ تھے بلکہ آپ عرب میں سے تھے اس لئے یہ منہ موڑ کر بیٹھ گئے حالانکہ اللہ پر کوئی حاکم نہیں وہ رسالت کے حق دار کو خوب جانتا ہے وہ اپنا فضل و کرم اپنے جس بندے کو چاہے عطا فرماتا ہے پس ایک تو توراۃ کے احکام کی پابندی نہ کرنے کی وجہ سے ان پر غضب نازل ہوا دوسرا حضور کے ساتھ کفر کرنے کے سبب نازل ہوا۔ یا یوں سمجھ لیجئے کہ پہلا غضب حضرت عیسیٰ کو پیغمبر نہ ماننے کی وجہ سے اور دوسرا غضب حضرت محمد کو پیغمبر تسلیم نہ کرنے کے سبب سدی کا خیال ہے۔ کہ پہلا غضب بچھڑے کے پوجنے کے سبب تھا دوسرا غضب حضور ﷺ کی مخالفت کی بناء پر چونکہ یہ حسد و بغض کی وجہ سے حضور کی نبوت سے منکر ہوئے تھے اور اس حسد بغض کا اصلی باعث ان کا تکبر تھا اس لئے انہیں ذلیل عذابوں میں مبتلا کردیا گیا تاکہ گناہ کا بدلہ پورا ہوجائے جیسے فرمان ہے آیت (اِنَّ الَّذِيْنَ يَسْتَكْبِرُوْنَ عَنْ عِبَادَتِيْ سَيَدْخُلُوْنَ جَهَنَّمَ دٰخِرِيْنَ) 40۔ غافر :60) میری عبادت سے جو بھی تکبر کریں گے وہ ذلیل ہو کر جہنم میں داخل ہوں گے۔ رسول اللہ ﷺ فرماتے ہیں متکبر لوگوں کا حشر قیامت کے دن انسانی صورت میں چیونٹیوں کی طرح ہوگا جنہیں تمام چیزیں روندتی ہوئی چلیں گی اور جہنم کے " بولس " نامی قید خانے میں ڈال دیئے جائیں گے جہاں کی آگ دوسری تمام آگوں سے تیز ہوگی اور جہنمیوں کا لہو پیپ وغیرہ انہیں پلایا جائے گا۔