اس صفحہ میں سورہ Al-Baqara کی تمام آیات کے علاوہ فی ظلال القرآن (سید ابراہیم قطب) کی تمام آیات کی تفسیر بھی شامل ہے۔ پہلے حصے میں آپ سورہ البقرة کو صفحات میں ترتیب سے پڑھ سکتے ہیں جیسا کہ یہ قرآن میں موجود ہے۔ کسی آیت کی تفسیر پڑھنے کے لیے اس کے نمبر پر کلک کریں۔
إِنَّ ٱلَّذِينَ ءَامَنُوا۟ وَٱلَّذِينَ هَادُوا۟ وَٱلنَّصَٰرَىٰ وَٱلصَّٰبِـِٔينَ مَنْ ءَامَنَ بِٱللَّهِ وَٱلْيَوْمِ ٱلْءَاخِرِ وَعَمِلَ صَٰلِحًا فَلَهُمْ أَجْرُهُمْ عِندَ رَبِّهِمْ وَلَا خَوْفٌ عَلَيْهِمْ وَلَا هُمْ يَحْزَنُونَ
وَإِذْ أَخَذْنَا مِيثَٰقَكُمْ وَرَفَعْنَا فَوْقَكُمُ ٱلطُّورَ خُذُوا۟ مَآ ءَاتَيْنَٰكُم بِقُوَّةٍ وَٱذْكُرُوا۟ مَا فِيهِ لَعَلَّكُمْ تَتَّقُونَ
ثُمَّ تَوَلَّيْتُم مِّنۢ بَعْدِ ذَٰلِكَ ۖ فَلَوْلَا فَضْلُ ٱللَّهِ عَلَيْكُمْ وَرَحْمَتُهُۥ لَكُنتُم مِّنَ ٱلْخَٰسِرِينَ
وَلَقَدْ عَلِمْتُمُ ٱلَّذِينَ ٱعْتَدَوْا۟ مِنكُمْ فِى ٱلسَّبْتِ فَقُلْنَا لَهُمْ كُونُوا۟ قِرَدَةً خَٰسِـِٔينَ
فَجَعَلْنَٰهَا نَكَٰلًا لِّمَا بَيْنَ يَدَيْهَا وَمَا خَلْفَهَا وَمَوْعِظَةً لِّلْمُتَّقِينَ
وَإِذْ قَالَ مُوسَىٰ لِقَوْمِهِۦٓ إِنَّ ٱللَّهَ يَأْمُرُكُمْ أَن تَذْبَحُوا۟ بَقَرَةً ۖ قَالُوٓا۟ أَتَتَّخِذُنَا هُزُوًا ۖ قَالَ أَعُوذُ بِٱللَّهِ أَنْ أَكُونَ مِنَ ٱلْجَٰهِلِينَ
قَالُوا۟ ٱدْعُ لَنَا رَبَّكَ يُبَيِّن لَّنَا مَا هِىَ ۚ قَالَ إِنَّهُۥ يَقُولُ إِنَّهَا بَقَرَةٌ لَّا فَارِضٌ وَلَا بِكْرٌ عَوَانٌۢ بَيْنَ ذَٰلِكَ ۖ فَٱفْعَلُوا۟ مَا تُؤْمَرُونَ
قَالُوا۟ ٱدْعُ لَنَا رَبَّكَ يُبَيِّن لَّنَا مَا لَوْنُهَا ۚ قَالَ إِنَّهُۥ يَقُولُ إِنَّهَا بَقَرَةٌ صَفْرَآءُ فَاقِعٌ لَّوْنُهَا تَسُرُّ ٱلنَّٰظِرِينَ
إِنَّ الَّذِينَ آمَنُوا ........ یعنی مسلمان
وَالَّذِينَ هَادُوا ............ یعنی وہ جو اللہ کی طرف راہ پاگئے وہ جو ” یہودا “ کی اولاد ہیں۔
وَالنَّصَارَى........ ........ یعنی عیسائی
وَالصَّابِئِينَ میرے نزدیک راحج یہ ہے کہ صابئین سے مراد مشرکین کے وہ لوگ ہیں ، جو بعثت سے قبل مشرکین کے موروثی شرکیہ دین سے برگشتہ ہوگئے تھے۔ انہیں بتوں کی پوجا کی معقولیت میں شک لاحق ہوگیا تھا ۔ اس لئے انہوں نے خود اپنے غور وفکر سے اپنے لئے خود کوئی عقیدہ تجویز کرنے کی کوشش کی اور اس آزادنہ غور وفکر کے نتیجے میں وہ عقیدہ توحید پر پہنچ گئے تھے ۔ ان لوگوں کا دعویٰ یہ تھا کہ وہ ابتدائی دین حنیف پر ہیں جو حضرت ابراہیم (علیہ السلام) نے پیش کیا تھا ۔ چناچہ ان لوگوں نے بتوں کی پوجا ترک کردی تھی ، اگرچہ وہ اپنی قوم کو عقیدہ ٔ توحید کی طرف دعوت نہ دیتے تھے ۔ ان لوگوں کے بارے میں مشرکین کہتے ہیں تھے کہ یہ لوگ صابی ہوگئے ہیں ۔ یعنی اپنے باپ دادا کا دین انہوں نے ترک کردیا ہے جیسا کہ بعد میں یہی طعنہ مشرکین ان مسلمانوں کو بھی دیا کرتے تھے ۔ یہ جو بعض تفاسیر میں آیا ہے کہ یہ لوگ ستارہ پرست تھے ۔ اس کے مقابلے میں یہ قول راحج معلوم ہوتا ہے۔
آیت کا مقصد یہ ہے کہ ان گروہوں میں سے جو بھی ایمان لائے ، اللہ پر اور یوم آخرت پر اور اس کے ساتھ ساتھ عمل صالح بھی کرے تو وہ اپنے رب کے نزدیک اجر کا مستحق ہوگا۔ اسے کسی قسم کا خوف اور حزن وملال نہ ہوگا کیونکہ اسلام میں دارومدار نظریہ اور عقیدے پر ہے ، کسی قوم اور نسل پر نہیں ، لیکن عمل وجزاء کا یہ اصول بعث محمدی ﷺ سے پہلے کے ادوار سے متعلق ہے ۔ آپ کی بعث کے بعد ظاہر ہے کہ ایمان باللہ کی آخری شکل (اسلام کی صورت میں ) متعین ہوگئی ہے۔
اس کے بعد مسلمانوں کو سناتے ہوئے اور یہود مدینہ کو سامنے رکھتے ہوئے بنی اسرائیل کے کچھ کارنامے بیان کئے جاتے ہیں۔
اس عہد کی تفصیل دوسری سورتوں اور خود اس سورة بقرہ میں بھی بعد میں مذکور ہے ۔ یہاں مقصد صرف یہ ہے کہ اس منظر کو دوبارہ ان کی نظروں کے سامنے اجاگر کردیا جائے ، اور یہ بتایا جائے کہ ان کے سروں پر کوہ طور کو معلق کرنا اور طاقت سے عہد لینا اور ان کو حکم دینا کہ وہ احکام تورات کو پوری قوت کے ساتھ تھام لیں ، ان امور کے درمیان ایک نفسیاتی اور تعبیری ہم آہنگی موجود ہے ۔ انہیں حکم دیا جاتا ہے کہ وہ عقائد کے سلسلے میں عزیمت اختیار کریں ۔ کیونکہ عقائد ونظریات میں کسی قسم کی نرمی اور مداہنت نہیں برداشت کی جاسکتی ۔ نظریات کے باب میں کچھ لو اور کچھ دو کی پالیسی اختیار نہیں کی جاسکتی ۔ نہ اس بارے میں غیر سنجیدگی اور نرمی برداشت کی جاسکتی ہے نظریہ و عقیدہ اللہ اور مومنین کے درمیان ایک عہد ہے ۔ ایک سنجیدہ اور برحق معاہدہ ۔ لہٰذا اس میں باطل اور غیر سنجیدگی کی کوئی گنجائش نہیں ہے ۔ اس راہ میں بےحد قربانیاں دینی پڑتی ہیں ، کیونکہ عقائد ونظریات کا مزاج ہی یہ ہے ۔ عقیدہ ایک عظیم چیز ہے ۔ اس کائنات میں اس کی عظمت ہر چیز سے بڑھی ہوئی ہے ۔ لہٰذا انسان کو چاہئے کہ وہ بڑی سنجیدگی سے ، اچھی طرح سمجھتے ہوئے اور اس کے تقاضوں کو پیش نظر رکھتے ہوئے اس کی طرف متوجہ ہو۔ اور پوری دلجمعی اور عزم صمیم سے نظریہ کی راہ میں آنے والی مشکلات کو انگیز کرے ۔ جو شخص بھی کسی عقیدے کو ان معنوں میں اپنائے ، اسے معلوم ہونا چاہئے کہ اب اس نے آرام و آسائش اور عیش و عشرت کو الوداع کہہ دیا ہے ۔ جب اللہ تعالیٰ نے نبی ﷺ کو فریضہ رسالت کی ادائیگی کے لئے پکارا تو آپ نے فرمایا ” خدیجہ ! اب آرام اور سونے کا زمانہ ختم ہوگیا۔ “ نیز اللہ تعالیٰ نے بھی آپ کو متنبہ فرمایا کہسَنُلقِی عَلَیکَ قَولًا ثَقِیلَا ” ہم عنقریب آپ پر ایک بھاری بات نازل کریں گے ۔ “ اور جیسا کہ بنی اسرائیل سے کہا گیا ” جو کتاب ہم تمہیں دینے والے ہیں اسے مضبوطی کے ساتھ تھامنا اور جو احکام و ہدایات درج ہیں انہیں یاد رکھنا۔ “ اسی ذریعے سے توقع کی جاسکتی ہے کہ تم تقویٰ اختیار کرو۔
لیکن قوت ، سنجیدگی ، دلجمعی ، اور عزم صمیم کے ساتھ عہد لینے کے ساتھ ساتھ یہ بھی ضروری ہے کہ عہد کرنے والے مسلمان اس عہد کی حقیقت کو بھی سمجھیں ۔ انہیں اس عہد و پیمان کی نوعیت کا شعور اچھی طرح ہو ، وہ اپنی زندگیوں کو اس عہد و پیمان کے رنگ میں رنگ دیں۔ تاکہ معاملہ محض جذبات ، حمیت ، طاقت اور جوش و خروش تک ہی محدود نہ رہے کیونکہ اللہ کے ساتھ ہمارا عہد درحقیقت یہ ہے کہ ہم پوری زندگی ، اس پسندیدہ نظام حیات کے مطابق گزاریں گے ۔ یہ نظام زندگی قلب و دماغ میں بطور حیات اور زندہ شعور کے رائج ہوتا ہے اور عملی زندگی میں نظام حیات اور طریقہ زندگی کی شکل میں نمودار ہوتا ہے ۔ معاشرت میں حسن خلق اور حسن سلوک کی صورت میں ظاہر ہوتا ہے اور اخروی ، زندگی میں تقویٰ اور اللہ کے سامنے جوابدہی کے شعور احساس پر منتج ہوتا ہے۔
لیکن وائے ناکامی ! بنی اسرائیل پھر بھی جوں کے توں رہتے ہیں۔ ان کی بری فطرت ان پر غالب آجاتی ہے ثُمَّ تَوَلَّيْتُمْ مِنْ بَعْدِ ذَلِكَ ” مگر اس کے بعد تم پھر اپنے عہد سے پھرگئے ۔ “
اس کے بعد پھر اللہ کی رحمت و شفقت ان کا ساتھ دیتی ہے ۔ اللہ کا فضل وکرم ان کے شامل حال ہوجاتا ہے اور انہیں خسران اور تباہی سے نکال لیا جاتا ہے ۔
فَلَوْلا فَضْلُ اللَّهِ عَلَيْكُمْ وَرَحْمَتُهُ لَكُنْتُمْ مِنَ الْخَاسِرِينَ ” اس پر بھی اللہ کے فضل وکرم اور اس کی رحمت نے تمہارا ساتھ نہ چھوڑا ورنہ تم کبھی کے تباہ ہوچکے ہوتے ۔ “
اب دیکھئے ان کی گا داری ، عہد شکنی اور حیلہ سازی کا ایک نیا منظر ، جس میں وہ یہ ثابت کرتے ہیں کہ وہ کسی عہد کی پابندی کرنے کے سرے سے اہل ہی نہیں ۔ وہ اس عہدو پیمان کی ذمہ داریاں ادا کر ہی نہیں سکتے ، خواہشات نفس اور وقتی مفادات کو دیکھ کر وہ بےبس ہوجاتے ہیں ۔
دوسری جگہ قرآن کریم نے سبت کے احکام کی خلاف ورزی کی تفصیلات بیان کی ہیں ۔ “ اور ذرا ان سے اس بستی کا حال بھی پوچھئے ، جو سمندر کے کنارے واقع تھی ۔ انہیں یاد دلاؤ کہ وہاں کے لوگ سبت (ہفتہ) کے دن احکام الٰہی کی خلاف ورزی کرتے تھے اور یہ کہ مچھلیاں سبت ہی کے دن ابھر ابھر کر سطح پر ان کے سامنے آتی تھیں اور سبت کے سوا باقی دنوں میں نہیں آتی تھیں۔ “ (7۔ 213)
بنی اسرائیل نے اللہ تعالیٰ سے درخواست کی تھی کہ ان کے آرام کے لئے ایک دن کو مقدس قرار دیا جائے ۔ چناچہ اللہ تعالیٰ نے سبت کے دن کو مقدس قرار دیا اور اس دن دنیاوی معاش کے لئے کوئی کام کرنا حرام قرار دیا۔ اس کے بعد انہیں اس آزمائش میں ڈالا کہ ہفتے کے دن تمام مچھلیاں بڑی کثرت سے دریا کی سطح پر نکل آتیں اور دسرے دنوں میں غائب ہوتیں۔ یہ ایسی آزمائش تھی ، جس کے مقابلے میں یہود نہ ٹھہر سکے ۔ ان کے لئے ثابت قدمی کیسے ممکن تھی ۔ ایسا بہترین شکار بالکل قریب مل رہا تھا ۔ انہیں اس کے سوا اور کیا چاہئے تھا ۔ کیا محض عہدوپیمان کی خاطر وہ اس شکارکو جانے دیتے ۔ یہودیوں سے بہرحال یہ کام نہیں ہونے کا ۔ یہ تو ان کے مزاج کے خلاف ہے ۔
فَقُلْنَا لَهُمْ كُونُوا قِرَدَةً خَاسِئِينَ ” ہم نے انہیں کہہ دیا کہ بندربن جاؤ اور اس حال میں رہو کہ ہر طرف سے دھتکار پھٹکار تم پر پڑے۔ “
اللہ کا عہد تور کر بہرحال وہ اس سزا کے مستحق بن چکے تھے ۔ وہ اس بات کے مستحق تھے کہ حیوان بن جائیں کیونکہ انسان تو ایک صاحب ارادہ مخلوق ہے اور وہ اس مقام سے نیچے گرگئے تھے۔
ظاہر ہے کوئی حیوان اپنے پیٹ سے بلند ہوکر سوچ نہیں سکتا ۔ چناچہ جونہی انہوں نے انسان کی خصوصیت اولیٰ یعنی ٹھوس اور بلند ارادہ اور خداوند کریم کے ساتھ کئے ہوئے عہد پر قائم رہنے کا عزم صمیم ........ کو ترک کیا تو وہ مقام انسایت سے گر کر بہمیت کے درجے میں آگئے۔
یہ ضروری نہیں ہے کہ ان کے جسم بھی بندر کے جسموں میں تبدیل ہوگئے ہوں ۔ ہوسکتا ہے کہ روح ، فکر ، شعور اور مزاج کے اعتبار سے وہ بندر بن گئے ہوں اور بندروں جیسی حرکتیں کرتے ہوں کیونکہ فکر کا پر تو ہمیشہ چہرے ، شکل وہیبت اور حرکات سکنات پر پڑتا ہے ۔ انسان کی ظاہری حالت پر اس کی فکر کے گہرے اثرات پڑتے ہیں ۔
یہ واقعہ اس دور میں اور اس کے متصلاً مابعد کے ادوار میں مخالفین حق کے لئے ایک نہایت ہی عبرت آموز واقعہ تھا اور مومنین کے لئے ہر دور میں یہ ایک بہترین نصیحت ہے فَجَعَلْنَاهَا نَكَالا لِمَا بَيْنَ يَدَيْهَا وَمَا خَلْفَهَا وَمَوْعِظَةً لِلْمُتَّقِينَ ” اس طرح ہم نے ان کے انجام کو ، اس زمانے کے لوگوں اور بعد کی آنے والی نسلوں کے لئے عبرت اور ڈرنے والوں کے لئے نصیحت بناکر چھوڑا “
اس سبق کے آخر میں اب گائے ذبح کرنے کا مشہور قصہ بیان کیا جاتا ہے ۔ یہ قصہ ایک کہانی کی شکل میں بڑی تفصیل سے بیان کیا جاتا ہے ۔ اور اس سے قبل سورت میں بنی اسرائیل کے جو تاریخی واقعات بیان ہوئے ہیں ، ان میں اجمال واختصار سے کام لیا گیا ہے ۔ کیونکہ وہ تمام واقعات سورة بقرہ سے پہلے نازل ہونے والی مکی سورتوں میں بیان ہوچکے تھے لیکن یہ واقعہ کسی دوری جگہ بیان نہیں ہوا تھا ۔ یہ قصہ بنی اسرائیل کی لجاجت ، نافرمانی اور تعمیل حکم میں لیت ولعل اور عذر سازی کی واضح تصویر کھینچ کر رکھ دیتا ہے ، جس میں مدینہ کے یہودی ممتاز تھے ۔
اور تمہیں یاد ہے وہ واقعہ جب تم نے ایک شخص کی جان لی تھی۔ پھر اس کے بارے میں جھگڑنے اور ایک دوسرے پر قتل کا الزام تھوپنے لگے اور اللہ نے فیصلہ کرلیا تھا کہ جو کچھ تم چھپاتے ہو ، اسے کھول کر رکھ دے گا ، اس وقت ہم نے حکم دیا کہ مقتول کی لاش کو اس کے ایک حصے سے ضرب لگاؤ۔ دیکھو اس طرح اللہ مردوں کو زندگی بخشتا ہے اور تمہیں اپنی نشانیاں دکھاتا ہے تاکہ تم سمجھو۔ “
قرآن کریم نے یہ قصہ اس انداز میں بیان کیا ہے ، اس کے کئی پہلو غور وفکر ہیں ۔ اس کا ایک پہلو تو یہ ہے کہ یہ بنی اسرائیل کے قومی مزاج اور ان کی موروثی جبلت کو اچھی طرح اجاگر کردیتا ہے ۔ نیز اس سے موت وحیات کی حقیقت ، موت کے بعد اٹھائے جانے کی کیفیت اور اللہ تعالیٰ کی قدرت بےپایاں کا اظہار بھی ہوتا ہے ، پھر اس قصے میں بیان اور طرز ادا کی فنی خوبیاں بھی قابل لحاظ ہیں۔ قصے کا آگاز ، اس کی انتہا اور سیاق وسباق سے اس کی ہم آہنگی قابل غور ہیں۔
مختصراًیہ کہ بقرہ کے اس قصے میں بنی اسرائیل کے قومی خدوخال بڑی خوبی سے ظاہر کئے گئے ہیں ، معلوم ہوتا ہے کہ ہدایت کہ اس صاف و شفاف سرچشمے وحی الٰہی اور ان کے دلوں کے رابطے ٹوٹ چکے ہیں۔ ایمان بالغیب ، اللہ پر توکل ، اور اصولوں پر نازل شدہ ہدایت الٰہی کی تصدیق سے محروم ہوچکے ہیں ۔ اللہ کے احکام وہدایات کے قبول کرنے میں وہ ہر وقت متأمل ہیں اور پس وپیش کرتے ہیں ۔ ہر وقت جھوٹے بہانے تلاش کرتے رہتے ہیں اور بارہا اپنی چرب زبانی اور دل کی بےباکی کی وجہ سے وہ شعائر دین کے ساتھ مذاق کرنے پر اترآتے ہیں ۔
ان کے پیغمبر انہیں اللہ کا صاف صاف حکم سناتے ہیں ۔” اللہ تمہیں حکم دیتے ہیں کہ تم گائے ذبح کرو ۔ “ ظاہر ہے کہ یہ حکم اپنے الفاظ میں بالکل صاف اور واضح تھا اور اس پر عمل کیا جاسکتا تھا ۔ حکم سناننے والے نبی ان کے وہ محبوب رہنما تھے ، جن کی قیادت میں اللہ نے انہیں فرعونیوں کے دردناک عذاب سے نجات دی تھی اور نجات کا یہ کام اللہ کی خاص رحمت ، نگرانی اور ہدایات کے مطابق ایک حیرت انگیز معجزانہ انداز میں اپنے انجام کو پہنچا تھا ۔ ان کے نبی نے انہیں واضح طور پر بتادیا کہ یہ کوئی ان کی ذاتی رائے یا ذاتی حکم نہیں ہے بلکہ یہ اس رب ذوالجلال کا حکم ہے جس کی ہدایات کے مطابق بنی اسرائیل کو لے کر چل رہے ہیں ۔ اب ذرا غور کیجئے ! یہ لوگ اس جلیل القدر نبی کو کیا جواب دیتے ہیں ؟ نہایت گستاخی ، حماقت اور بےحیائی سے وہ اپنے نبی سے کہتے ہیں کہ کیا وہ ان کے ساتھ مذاق کررہا ہے ۔ ان کی بےحیائی تو دیکھئے کہ ان کے نزدیک گویا الہ کی معرفت رکھنے والا ایک عام آدمی بھی نہیں ، بلکہ اللہ کے جلیل القدر نبی اور کسی عام معاملے میں بھی نہیں ، بلکہ کے اللہ کے نام پر اور اللہ تعالیٰ کے احکام کے معاملے میں برسرعام اور لوگوں کے سامنے مذاق کرسکتا ہے ۔ وہ کہتے ہیں أَتَتَّخِذُنَا هُزُوًا کیا تم ہم سے مذاق کررہے ہو۔ “
اس احمقانہ اور سفیہانہ بہتان کے جواب میں حضرت موسیٰ (علیہ السلام) نعوذبا للہ پڑھنے کے سوا اور کر ہی کیا کرسکتے تھے ، چناچہ آپ بڑی نرمی کے ساتھ اشاروں اور کنایوں میں انہیں سمجھاتے ہیں کہ اللہ جل شانہ کی بارگاہ میں کس قدر ادب واحترام لازم ہے ۔ آپ انہیں سمجھاتے ہیں کہ انہوں نے جو بہتان باندھا ہے اس کا ارتکاب وہی کرسکتا ہے جو بارگاہ قدس کے آداب واحترام سے واقف ہو ۔ اور اس کے دل میں اللہ کی عظمت اور قدر ومنزلت ہو ۔ چناچہ آپ نے کہا قَالَ أَعُوذُ بِاللَّهِ أَنْ أَكُونَ مِنَ الْجَاهِلِينَ موسیٰ نے کہا ، میں اس سے پناہ مانگتا ہوں کہ جاہلوں کی سی باتیں کروں۔ “
یہ ہے ہدایت و رہنمائی ان کے لئے کافی تھی کہ اب وہ ہوش میں آجائیں ، اپنے رب کی طرف لوٹیں اور اپنے نبی کے حکم کی تعمیل کریں لیکن بہرحال وہ بنی اسرائیل تھے ۔ یہ کیسے ممکن تھا کہ حکم آئے اور وہ عمل پیرا ہوجائیں۔
ان کے لئے یہ ممکن تھا ، جب کہ حکم بالکل آسان تھا ، کہ وہ کسی گائے کو پکڑتے اور ذبح کر ڈالتے ، اور اس طرح بسہولت وہ اللہ کے حکم پر عمل پیرا ہوجاتے اور اپنے لیڈر اور اپنے نبی کا اشارہ ملتے ہی اسے نافذ کردیتے ۔ لیکن اس وقت ان کی فطرت حیلہ ساز جاگ اٹھتی ہے ، اور اپنے موروثی مزاج سے مغلوب ہوکر وہ پوچھنے لگتے ہیں قَالُوا ادْعُ لَنَا رَبَّكَ يُبَيِّنْ لَنَا مَا هِيَ ” بولے ! اچھا ، اپنے رب سے درخواست کرو کہ وہ ہمیں اس گائے کی کچھ تفصیل بتائے ۔ “ انہوں نے اپنا سوال جن الفاظ میں بیان کیا ، وہ الفاظ ہی یہ ظاہر کررہے ہیں کہ انہیں اب بھی اس بارے میں شک ہے کہ حضرت موسیٰ (علیہ السلام) مذاق کررہے ہیں ۔ یہ سنجیدہ ہیں وہ پہلے تو کہتے ہیں کہ اپنے رب سے درخواست کرو گویا موسیٰ (علیہ السلام) کا رب صرف اسی کا ہے اور وہ ان کا رب نہیں ہے ۔ یا گویا ، اس سوال کا تعلق صرف موسیٰ ہی سے ہے ، انہیں اس سے کوئی خاص دلچسپی نہیں ہے ۔ یہ صرف حضرت موسیٰ (علیہ السلام) اور آپ کے رب کا معاملہ ہے ۔ پھر وہ حضرت موسیٰ (علیہ السلام) سے کہتے ہیں کہ وہ اپنے رب سے معلوم کرکے بتائے کہ وہ گائے ” کیا ہے “ یہاں مقصد تو یہ تھا کہ گائے کیسی ہو ، لیکن بطور استہزا اور انکار پوچھتے ہیں کہ ” گائے ! گائے کیا چیز ہوتی ہے ؟ “ گویا وہ گائے کی ماہیت سے واقف نہیں۔ گائے کیسی ہو ، حضرت موسیٰ (علیہ السلام) نے انہیں صاف صاف بتادیا تھا کہ وہ گائے ذبح کریں تعمیل حکم کے لئے وہ کافی ہوگی ۔ اب حضرت موسیٰ (علیہ السلام) ان کے سوال کو نظرانداز کرکے انہیں صحیح جواب دیتے ہیں اور انہیں راست پر لانے کی کوشش کرتے ہیں ۔ وہ ان کے اصلی سوال کا جواب دے کر ان کے ساتھ گائے کی ماہیت پر فلسفیانہ بحث و مباحثہ نہیں شروع کرتے ، بلکہ انہیں اس طرح جواب دیتے ہیں جس طرح ایک مصلح اور مربی ، ایسے لوگوں کو دیا کرتا جبکہ اللہ تعالیٰ ایسے احمقوں اور فاسقوں کو راہ ہدایت پر لانے کے مشکل کام میں لگا کر آزماتا ہے ۔ حضرت موسیٰ (علیہ السلام) انہیں گائے کے بارے میں کہتے ہیں قَالَ إِنَّهُ يَقُولُ إِنَّهَا بَقَرَةٌ لا فَارِضٌ وَلا بِكْرٌ عَوَانٌ بَيْنَ ذَلِكَ کہا کہ اللہ کا ارشاد ہے کہ وہ ایسی گائے ہونی چاہئے جو نہ بوڑھی ہو نہ بچھیا ہو ، بلکہ اوسط عمر کی ہو ۔ “ یعنی نہ بہت بوڑھی ہو اور نہ بالکل جوان ہو بلکہ اقوسط درجے کی ہو ، لیکن اس مجمل بیان کے بعد حضرت موسیٰ (علیہ السلام) پھر انہیں نصیحت کرتے ہیں اور بتاکید انہیں کہتے ہیں ۔ فَافْعَلُوا مَا تُؤْمَرُونَ ” بس جو حکمدیا جارہا ہے اس کی تعمیل کرو۔ “
یہاں تک جو گفتگو ہوئی ، اگر بنی اسرائیل حکم کی تعمیل چاہتے تو یہ کافی وشافی تھی ۔ اس گفتگو سے انہیں تسلی ہوجانی چاہئے تھی ، دومرتبہ یہ جلیل القدر پیغمبر انہیں جادہ مستقیم پر لاچکے اور بارگاہ اقدس میں سوال و جواب اور وہاں سے استفادہ کرنے کے آداب بھی انہیں سمجھا چکے ، دوبارہ انہیں بتاچکے کہ بس آگے بڑھیں اور اپنی گائیوں میں سے کسی اوسط درجے کی گائے ذبح کرڈالیں ۔ نہ بوڑھی ہو اور نہ ہی بہت چھوٹی ، ادھیڑ عمر کی ہو ، اس طرح وہ اس فرض کی ادائیگی سے جلدبری الذمہ ہوجائیں اور اسے ذبح کرکے اللہ تعالیٰ کے حکم کی تعمیل کرڈالیں اور اپنے آپ کو مزید قیود وحدود اور تنگی ومشقت میں نہ ڈالیں ........ لیکن وائے ناکام ! بنی اسرائیل بہرحال بنی اسرائیل تھے !
قَالُوا ادْعُ لَنَا رَبَّكَ يُبَيِّنْ لَنَا مَا لَوْنُهَا ” پھر کہنے لگے ، اپنے رب سے یہ اور پوچھ دو کہ اس کا رنگ کیسا ہو ؟ “ یوں سہ بارہ وہ کہتے ہیں ۔” اپنے رب سے یہ اور پوچھ دو “ اس لئے ان کے اصرار و تکرار کے نتیجے میں یہ ضروری ہوگیا کہ بالتفصیل انہیں جواب دیا جائے ۔ چناچہ جواب آیا قَالَ إِنَّهُ يَقُولُ إِنَّهَا بَقَرَةٌ صَفْرَاءُ فَاقِعٌ لَوْنُهَا تَسُرُّ النَّاظِرِينَ ” موسیٰ نے کہا ” وہ فرماتے ہیں زرد رنگ کی گائے ہونی چاہئے جس کا رنگ ایسا شوخ ہو کہ دیکھنے والوں کا جی خوش ہوجائے۔ “
یوں ان بدبختوں نے اپنا وسیع دائرہ اختیار کم کردیا۔ اس سے پہلے اس حکم میں بڑی وسعت اور گنجائش تھی لیکن اب وہ صرف کوئی ایک گائے ذبح کرنے کے مکلف نہیں ، بلکہ ایک ایسی گائے انہیں ذبح کرنی ہے جو ادھیڑ عمر کی ہو ، نہ بوڑھی ہو اور نہ بچھیا ہو ، پھر اس کا رنگ بھی زرد ہو اور اس میں بھی شوخ رنگ گائے ہو ۔ پھر وہ دبلی پتلی اور بدصورت بھی نہ ہو بلکہ ایسی ہو کہ اسے دیکھ کر جی خوش ہوجائے اور ظاہر ہے کہ دیکھنے والے کا سرور تب ہی مکمل ہوسکتا ہے کہ جب مطلوبہ گائے خوب موٹی تازی ، حیات ونشاط سے بھرپور ، اچھلتی کودتی چمکدار ہو ۔ کیونکہ مویشیوں میں یہ صفات لوگوں کے نزدیک پسندیدہ صفات ہیں اور لوگ بالعموم زندگی سے بھرپور اور متوسط عمر کے اور خوبصورت جانوروں کو دیکھ کر خوش ہوتے ہیں اور دبلے پتلے ، بدصورت جانوروں سے نفرت کرتے ہیں ۔
غرض اب تک بنی اسرائیل نے لیت ولعل سے کام لیا ۔ غالباً وہ کافی بلکہ ضرورت سے بھی زیادہ تھا۔ لیکن وہ اب بھی بس نہیں کرتے ۔ اپنی غلط روش میں آگے بڑھتے ہی چلے جاتے ہیں ، معاملے کو اور پیچیدہ بناتے چلے جاتے ہیں ۔ اپنے اوپر اور سختی کررہے ہیں ۔ اس لئے اللہ تعالیٰ بھی ان کی روش کے مطابق اپنے حکم اور سخت کرتے چلے جاتے ہیں ۔ اس قدر تفصیلات آچکنے کے بعد ، وہ اچانک دوبارہ گائے کی ماہیت اور حقیقت کو پوچھنے لگتے ہیں ۔