اس صفحہ میں سورہ Al-Baqara کی تمام آیات کے علاوہ فی ظلال القرآن (سید ابراہیم قطب) کی تمام آیات کی تفسیر بھی شامل ہے۔ پہلے حصے میں آپ سورہ البقرة کو صفحات میں ترتیب سے پڑھ سکتے ہیں جیسا کہ یہ قرآن میں موجود ہے۔ کسی آیت کی تفسیر پڑھنے کے لیے اس کے نمبر پر کلک کریں۔
قَالُوا۟ ٱدْعُ لَنَا رَبَّكَ يُبَيِّن لَّنَا مَا هِىَ إِنَّ ٱلْبَقَرَ تَشَٰبَهَ عَلَيْنَا وَإِنَّآ إِن شَآءَ ٱللَّهُ لَمُهْتَدُونَ
قَالَ إِنَّهُۥ يَقُولُ إِنَّهَا بَقَرَةٌ لَّا ذَلُولٌ تُثِيرُ ٱلْأَرْضَ وَلَا تَسْقِى ٱلْحَرْثَ مُسَلَّمَةٌ لَّا شِيَةَ فِيهَا ۚ قَالُوا۟ ٱلْـَٰٔنَ جِئْتَ بِٱلْحَقِّ ۚ فَذَبَحُوهَا وَمَا كَادُوا۟ يَفْعَلُونَ
وَإِذْ قَتَلْتُمْ نَفْسًا فَٱدَّٰرَْٰٔتُمْ فِيهَا ۖ وَٱللَّهُ مُخْرِجٌ مَّا كُنتُمْ تَكْتُمُونَ
فَقُلْنَا ٱضْرِبُوهُ بِبَعْضِهَا ۚ كَذَٰلِكَ يُحْىِ ٱللَّهُ ٱلْمَوْتَىٰ وَيُرِيكُمْ ءَايَٰتِهِۦ لَعَلَّكُمْ تَعْقِلُونَ
ثُمَّ قَسَتْ قُلُوبُكُم مِّنۢ بَعْدِ ذَٰلِكَ فَهِىَ كَٱلْحِجَارَةِ أَوْ أَشَدُّ قَسْوَةً ۚ وَإِنَّ مِنَ ٱلْحِجَارَةِ لَمَا يَتَفَجَّرُ مِنْهُ ٱلْأَنْهَٰرُ ۚ وَإِنَّ مِنْهَا لَمَا يَشَّقَّقُ فَيَخْرُجُ مِنْهُ ٱلْمَآءُ ۚ وَإِنَّ مِنْهَا لَمَا يَهْبِطُ مِنْ خَشْيَةِ ٱللَّهِ ۗ وَمَا ٱللَّهُ بِغَٰفِلٍ عَمَّا تَعْمَلُونَ
۞ أَفَتَطْمَعُونَ أَن يُؤْمِنُوا۟ لَكُمْ وَقَدْ كَانَ فَرِيقٌ مِّنْهُمْ يَسْمَعُونَ كَلَٰمَ ٱللَّهِ ثُمَّ يُحَرِّفُونَهُۥ مِنۢ بَعْدِ مَا عَقَلُوهُ وَهُمْ يَعْلَمُونَ
وَإِذَا لَقُوا۟ ٱلَّذِينَ ءَامَنُوا۟ قَالُوٓا۟ ءَامَنَّا وَإِذَا خَلَا بَعْضُهُمْ إِلَىٰ بَعْضٍ قَالُوٓا۟ أَتُحَدِّثُونَهُم بِمَا فَتَحَ ٱللَّهُ عَلَيْكُمْ لِيُحَآجُّوكُم بِهِۦ عِندَ رَبِّكُمْ ۚ أَفَلَا تَعْقِلُونَ
قَالُوا ادْعُ لَنَا رَبَّكَ يُبَيِّنْ لَنَا مَا هِيَ ” پھر بولے ، اپنے رب سے صاف صاف پوچھ کر بتاؤ ، کیسی گائے مطلوب ہے ؟........“ اس سوال اور لیت ولعل کا عذر وہ یہ بیان کرتے ہیں کہ یہ معاملہ ان کے لئے موجب اشتباہ بن گیا اور گائے کے تعین میں بڑی مشکل پیش آرہی ہے ۔إِنَّ الْبَقَرَ تَشَابَهَ عَلَيْنَا ” ہمیں اس گائے کے تعین میں اشتباہ ہوگیا ہے “ اب آکر انہیں اپنی لجاجت اور جھگڑالو پنے کا قدرے احساس ہوجاتا ہے ۔ اور بادل نخواستہ ان کی زبان سے یہ الفاظ نکلتے ہیں۔ وَإِنَّا إِنْ شَاءَ اللَّهُ لَمُهْتَدُونَ ” اللہ نے چاہا تو ہم اس کا پتہ پالیں گے۔ “
غرض اس نہ ختم ہونے والی لجاجت اور مباحثے کے نتیجے میں اس کے سوا کوئی چارہ کار ہی نہ تھا کہ اس حکم کو مزید پیچیدہ اور سخت کردیا جائے اور انتخاب واختیار کا وسیع دائرہ انہیں فراہم کیا گیا تھا ، اسے مزید تنگ اور محصور کردیا جائے اور مطلوبہ گائے کے اندر چند مزید اوصاف کا اضافہ کردیاجائے ، جبکہ پہلے ان اوصاف کی ضرورت نہ تھی اور حکم کی تعمیل کا دائرہ وسیع تر رکھا گیا تھا۔ قَالَ إِنَّهُ يَقُولُ إِنَّهَا بَقَرَةٌ لا ذَلُولٌ تُثِيرُ الأرْضَ وَلا تَسْقِي الْحَرْثَ مُسَلَّمَةٌ لا شِيَةَ فِيهَا ” موسیٰ نے کہا ! اللہ کہتا ہے وہ ایسی گائے ہو جس سے خدمت نہیں لی جاتی ہو ، نہ زمین جوتتی ہے ، نہ پانی کھینچتی ہے صحیح سالم اور بےداغ ہے۔ “
اب وہ گائے صرف شوخ اور دل کو لبھانے والے زرد رنگ کی متوسط عمر کی گائے ہی نہ رہی بلکہ اس کے ساتھ ساتھ وہ ایسی گائے بن گئی جو کوئی محنت نہیں کرتی ، ہل نہیں جوتتی ، پانی نہیں کھنچتی اور ہے بھی خالص رنگ اس میں کوئی داغ نہیں ہے ۔
یہاں آکر اب ان کا دماغ درست ہوتا ہے ۔ معاملے کو مشکل تر بنانے ، زیادہ سے زیادہ شرائط عائد کرانے اور اپنے دائرہ عمل کو آخری حد تک تنگ کرانے کے بعد اب وہ پکار اٹھتے ہیں ۔ قَالُوا الآنَ جِئْتَ بِالْحَقِّ ” اس پر وہ پکار اٹھے ! ہاں اب تم نے ٹھیک پتہ بتایا۔ “
” اب “ گویا اس سے پہلے جو کچھ آپ فرما رہے تھے وہ حق نہ تھا ، گویا اس لمحہ ہی میں انہیں یہ یقین ہورہا ہے کہ حضرت موسیٰ جو کچھ پیش فرما رہے ہیں وہ حق ہے ۔
فَذَبَحُوهَا وَمَا كَادُوا يَفْعَلُونَ ” پھر انہوں نے گائے کو ذبح کیا ورنہ وہ ایسا کرتے معلوم نہ ہوتے تھے۔ “
جب وہ حکم الٰہی پر عمل پیرا ہوجاتے ہیں اور فریضہ الٰہی کو ادا کردیتے ہیں ، تو اب یہاں پوری کہانی کے آخر میں ، اللہ تعالیٰ انہیں بتاتے ہیں کہ اس نے گائے کو ذبح کرنے کا حکم کیوں دیا تھا۔
یہاں آکرہم قصہ بقرۃ کے ایک دوسرے پہلو تک آپہنچتے ہیں۔ یہ پہلو اللہ تعالیٰ کی قدرت بےپایاں کا اظہارکررہا ہے ۔ اس سے موت وحیات کی حقیقت اور موت کے بعد دوبارہ اٹھائے جانے کی کیفیت معلوم ہوتی ہے اور یہاں اسلوب کلام ، کہانی کے انداز کے بجائے خطاب کی شکل اختیار کرجاتا ہے۔
اللہ تعالیٰ حضرت موسیٰ (علیہ السلام) کی قوم کے لئے گائے کو ذبح کرنے کا حکم کی حکمت کھول دیتے ہیں ۔ واقعہ یہ تھا کہ انہوں نے ایک شخص کو قتل کیا تھا ، اور ہر آدمی اپنے آپ کو اس قتل کے الزام سے بری قرار دے کر دوسرے پر الزام لگاتا تھا اور کوئی گواہ نہ تھا ۔ اللہ تعالیٰ کی مشیئت نے چاہا کہ مقتول خود صداقت کو ظاہر کردے اور اس شہادت حق سے پہلے گائے کا ذبح کیا جانا دراصل ادائیگی شہادت کا ایک ظاہری ذریعہ تھا ۔ یوں کہ بقرہ کے گوشت اسے مارتے ہی اس نے زندہ ہوجانا تھا ۔ چناچہ ایسا ہی ہوا ، انہوں نے اسے ذبح شدہ گائے کے ایک ٹکڑے سے مارا اور وہ زندہ ہوگیا ۔ تاکہ وہ خود اپنے قاتل کی نشاندہی کردے اور ان تمام شکوک و شبہات کو ختم کردے جو اس کے قتل کے مسئلے میں پھیلے ہوئے تھے ، اور یوں صداقت محکم ترین دلائل کے ساتھ سامنے آجائے ۔ حق حق ہوجائے اور باطل باطل ۔ دودھ ، دودھ اور پانی ، پانی ۔
سوال یہ ہے کہ اس ظاہری وسیلہ اور سبب کیا ضرورت تھی ؟ اللہ تعالیٰ تو اس کے بغیر بھی مردوں کو زندہ کرسکتا ہے ، بغیر کسی وسیلے اور ذریعے کے بھی ۔ سوال یہ ہے کہ
ذبح شدہ گائے اور زندہ کئے جانے والے مقتول کے درمیان تعلق کی نوعیت کیا ہے ؟
بنی اسرائیل کی عادت کے مطابق ، ان کے ہاں بطور قربانی اور تقرب الی اللہ گائے ذبح ہوا کرتی تھی ، رہا یہ منظر کہ ایک بےجان قطعہ لحم ایک بےجان مقتول کے اندر بظاہر زندگی کے آثا رپیدا کردیتا ہے ، تو اس کی حقیقت یہ ہے کہ گوشت کا ٹکڑا محض ظاہری سبب ہے جو اللہ تعالیٰ کی قدرت ماہرہ کا اظہار کررہا ہے ، جس کی حقیقت تک پہنچنا انسان کے لئے ممکن ہی نہیں ہے ۔ لوگ اس کا اثر اور نتیجہ تو اپنی آنکھوں کے ساتھ دیکھ رہے ہیں ۔ لیکن مردے کو جلانے کا یہ طریق کاران کے فہم سے باہر ہے ۔ كَذَلِكَ يُحْيِي اللَّهُ الْمَوْتَى ” وہ مردوں کو کیوں کر زندہ کرتا ہے ؟ یوں جیسا کہ تم بچشم سر دیکھ رہے ہو ، لیکن اسکے باوجود اس کی حقیقت سے بیخبر ہو۔ نہیں جانتے کہ وہ کیوں کر زندہ ہوا ؟ مقصد یہ ہے کہ ایسی ہی بےمشقت اور بڑی سہولت سے اللہ تعالیٰ مردوں کو دوبارہ زندہ کردے گا۔
موت وحیات کی نوعیت کے درمیان کس قدر بعد ہے۔ اس فرق سے سر چکراجاتے ہیں لیکن قدرت الٰہی کے مقابلے میں موت سے حیات اور حیات سے موت ایک معمولی اور آسان عمل ہوتا ہے ، کیونکر ؟ بس یہی وہ بات ہے جو ہر انسان کے ادراک سے وراء ہے ۔ اسے کوئی نہیں پاسکتا ۔ موت وحیات کے بھید کو پانا اور اصل اسرار الٰہیہ کو پانا ہے اور اس جہان لافانی میں اللہ کے اس راز تک رسائی پانا ممکن نہیں ہے ۔ اگرچہ انسان اس بھید اور راز پر غور کرکے اس سے نصیحت اور عبرت حاصل کرسکتا ہے۔
وَيُرِيكُمْ آيَاتِهِ لَعَلَّكُمْ تَعْقِلُونَ ” اور اللہ تعالیٰ نشانیاں دکھاتا ہے تاکہ تم سمجھو۔ “
اب ہم حسن ادا اور سیاق وسباق سے اس کی ہم آہنگی پر آتے ہیں ۔
یہ ایک مختصر قصہ ہے ، جس کا آغاز بھی نہایت مجمل انداز میں ہوتا ہے ۔ ابتداء میں ہمیں یہ تک معلوم نہیں کہ اللہ تعالیٰ بنی اسرائیل کو گائے ذبح کرنے کا حکم کیوں دیتے ہیں ؟ جیسا کہ خود بنی اسرائیل کو بھی یہ معلوم نہ تھا کہ انہیں یہ حکم کیوں دیا جارہا ہے ؟ یوں بنی اسرائیل کے جذبہ اطاعت اور جذبہ تسلیم ورضا کو آزمایا جاتا ہے ۔
اس کے بعد اصل قصہ شروع ہوجاتا ہے ۔ بنی اسرائیل اور حضرت موسیٰ کے مابین گفتگو شروع ہوتی ہے ہے ۔ یہ بات بڑھتی جاتی ہے اور دوسری جانب اللہ تعالیٰ بھی اس گفتگو میں برابر شریک ہیں لیکن معلوم نہیں ہوسکتا کہ حضرت موسیٰ اور اللہ تعالیٰ کے درمیان کیا گفتگو ہوئی ؟ حالانکہ وہ ہر بار آپ سے پوچھتے ہیں کہ وہ اپنے رب سے پوچھ کر بتائیں اور آپ بھی پہلے اپنے رب سے پوچھتے اور پھر جواب انہیں سنادیتے ۔ اگرچہ سیاق کلام میں یہ بات نہیں ہے کہ آپ نے اللہ سے کیا پوچھا اور اللہ نے اس کا کیا جواب دیا ، یہ سکوت اور یہ خاموشی اللہ تعالیٰ کی بزرگی اور برتری اور علومرتبت سے زیادہ مناسبت رکھتی ہے ۔ بنی اسرائیل جس طریقہ سے گفتگو کرنے کے عادی تھے اور جس طرح گفتگو بالخصوص اس واقعہ میں وہ کررہے تھے ، ہرگز مناسب نہ تھا کہ اللہ تعالیٰ کے ساتھ حضرت موسیٰ کے سوال و جواب کا بھی اس میں ذکر کیا جائے۔
آخر میں اچانک ........ جیسا کہ اس وقت بنی اسرائیل کے لئے یہ بات بالکل خلاف توقع تھی ۔ بنی اسرائیل کو حکم ہوتا ہے کہ وہ مذبوحہ بقرہ کے مردہ اور بےجان ٹکڑے کو مقتول پر ماریں اور دیکھیں کہ وہ کس طرح زندہ ہوجاتا ہے اور بات کرتا ہے ۔ حالانکہ بقرہ کے گوشت میں نہ زندگی تھی اور نہ زندگی کا کوئی سامان تھا۔
غرض قرآن کریم کے دیگر مختصر بہترین قصوں کی طرح اس مختصر قصے میں حکیمانہ موضوع سخن کے عین مطابق ، نہایت ہی حکیمانہ طرزادا اختیار کی گئی ہے۔
قصے کے اس آخری منظر کے اختتام پر اور اس قصے سے پہلے کے عبرت انگیز مظاہر اور سبق آموز واقعات کے نتیجے کے طور پر اس بات کی توقع تھی کہ اب تو بنی اسرائیل کے دل پگھل جائیں گے اور ان کے دلوں میں خوف خدا اور تقویٰ کے جذبات امڈ آئیں گے ۔ لیکن ہمارے تعجب کی انتہاء نہیں رہتی جب ہم دیکھتے ہیں کہ کلام کا خاتمہ بالکل خلاف توقع ان الفاظ پر ہوتا ہے۔
یہاں ان کے دلوں کو پتھروں سے تشبیہ دی جاتی ہے اور جب ان کا مقابلہ پتھروں کے ساتھ کیا جاتا ہے تو وہ ان سے بھی سخت اور خشک تر نکلتے ہیں ۔ جیسے پتھروں سے یہاں انہیں تشبیہ دی جارہی ہے ۔ وہ بنی اسرائیل کے علم میں ہے ۔ اس سے قبل وہ یہ منظر دیکھ چکے تھے کہ ایک پتھر سے بارہ چشمے پھوٹ نکلے تھے ........ وہ یہ بھی دیکھ چکے تھے کہ جب تجلیات الٰہی کا ایک پرتو پہاڑ پر پڑا تو ہو ریزہ ریزہ ہوگیا تھا اور حضرت موسیٰ (علیہ السلام) بیہوش ہوکر گر پڑے تھے ۔ لیکن ان کے دل اس قدر سخت ہیں کہ ان کے اندر کسی قسم کی کوئی نرمی یا تروتازگی پیدا نہیں ہوتی ۔ ان میں خوف خدا سے دھڑکن نہیں پیدا ہوتی بلکہ وہ نہایت سخت ، خشک ، بنجر اور پتھردل ہیں ۔ اس لئے کہ انہیں ان الفاظ میں تنبیہہ کی جاتی ہے ۔ وَمَا اللَّهُ بِغَافِلٍ عَمَّا تَعْمَلُونَ ” اللہ تمہارے کرتوتوں سے بیخبر نہیں ہے۔ “
ان الفاظ پر بنی اسرائیل پر تنقید اور ان کی طویل تاریخ ........ کفر ، تکذیب انبیاء ، مکروفریب۔ فسق وفجور ، حکم عدولی وسرکشی ، بےخوفی و سنگدلی اور لجاجت اور چالاکی سے بھرپور تاریخ پر بحث کا پہلا حصہ یہاں ختم ہوجاتا ہے۔
درس 5 ایک نظر میں
اس سے قبل ہم نے جس ٹکڑے کی تشریح کی ہے ، اس میں خاتمہ کلام بنی سرائیل کے لئے یاد دہانی اور تذکیر پر ہوا تھا اور یہ بتایا گیا تھا کہ کس طرح اللہ تعالیٰ ان پر انعامات کی بارش کرتا رہا اور اس کے مقابلے میں یہ لوگ کس ثابت قدمی سے بار بار کفران نعمت کرتے رہے ۔ وہاں کہیں بسط کے ساتھ اور کہیں اختصار کے ساتھ ساتھ اللہ کے انعامات اور بنی اسرائیل کی نافرمانیوں کے واقعات اور مشاہدات بیان کئے گئے تھے ۔ بیان کا خاتمہ اس فیصلے پر ہوا تھا کہ بنی اسرائیل کے دل قبول ہدایت کے معاملے میں اس قدر سخت ، خشک اور بنجر ہوچکے ہیں جیسے مضبوط پتھر ہوتے ہیں ، بلکہ سنگدلی اور خشکی میں ان کے دل پتھروں سے بھی کہیں زیادہ سخت ہوگئے ہیں ۔
اب ان زیر بحث آیات میں روئے سخن اسلامی جماعت کی طرف پھرجاتا ہے اور مسلمانوں کے سامنے ان کی کہانی بیان ہوتی ہے اور انہیں بتایا جاتا ہے کہ بنی اسرائیل کس قدر مکار اور فتنہ پرداز قوم ہے ۔ ان کی فطرت اور ان کی طویل تاریخ کی روشنی میں اسلامی جماعت کو ان کی مکاری اور عیاری سے خبردار کیا جاتا ہے ۔ تاکہ کہیں ان کی فتنہ پردازی اور غلط پروپیگنڈے اور جھوٹے دعوؤں سے متاثر ہوکر مسلمان دھوکہ نہ کھاجائیں ۔ بنی اسرائیل کی مکاری کا یہ طویل بیان اور پھر بار بار اور مختلف پہلوؤں سے اس کا تکرار ، اس بات کو ظاہر کررہا ہے کہ اس دور میں یہودی امت مسلمہ اور دین اسلام کے خلاف کتنے وسیع پیمانے پر سازشیں کررہے تھے اور کس طرح وہ ہر وقت اس تحریک کو نقصان پہنچانے کی تاک میں بیٹھے رہتے تھے ۔ اس لئے اس قدر تفصیلی گفتگو کی ضرورت پیش آرہی تھی۔
دوران گفتگو روئے سخن کبھی بنی اسرائیل کی طرف پھرجاتا ہے تاکہ امت مسلمہ کے سامنے ، انہیں یاد دلایاجائے کہ اللہ نے ان سے کیا کیا وعدے لئے تھے اور انہوں نے کس کس طرح ان وعدوں کو توڑا تھا ۔ کس طرح وہ گمراہ ہوئے ، عہد شکنی کرتے رہے اور پھر انبیاء کرام کی تکذیب کرتے رہے ۔ انہوں نے کئی انبیاء کو قتل بھی کیا۔ کیونکہ وہ ان کی خواہشات نفس کے مطابق نہ چل سکتے تھے ۔ نیزیہ کہ کس طرح انہوں نے اللہ کی شریعت کی خلاف ورزی کی ناجائز بحث وجدال کرتے رہے اور شریعت کے جو قوانین ان کے پاس تھے ان میں تحریف کرتے رہے ۔
مسلمانوں کے ساتھ جو بحث اور مناظرہ اور جو کٹ حجتی وہ کرتے تھے یہاں اس کے کچھ نمونے پیش کئے جاتے ہیں ۔ اور نبی ﷺ کو ہدایت کی جاتی ہے کہ آپ ان دعوؤں کی حقیقت کھول دیں اور ان کے دلائل کی کمزوری واضح کردیں اور ان کی باطل سازشوں کے مقابلے میں روشن اور واضح سچائی پیش کریں۔
مثلاً ان کا خیال تھا کہ وہ صرف گنتی کے چند دن ہی جہنم میں رہیں گے ۔ کیونکہ وہ اللہ کے نزدیک پسندیدہ اور محبوب لوگ ہیں ، اللہ کے ہاں ان کا بلند رتبہ ہے ۔ چناچہ اللہ اللہ تعالیٰ نبی کریم ﷺ کو حکم دیتے ہیں کہ ذرا ” ان سے پوچھیں ، کیا تم نے اللہ سے کوئی عہد لے لیا ہے ، جس کی خلاف ورزی وہ نہیں کرسکتا ؟ یا یہ بات ہے کہ تم اللہ کے ذمے ڈال کر ایسی بات بات کہہ دیتے ہو ، جن کے متعلق تمہیں علم نہیں ہے کہ اس نے اس کا ذمہ لیا ہے۔ “
جب انہیں اسلام کی طرف دعوت دی جاتی ہے تو وہ کہتے !” ہم تو صرف اس چیز پر ایمان لائے ہیں جو ہمارے ہاں اتری ہے۔ “ اور اس دائرے باہر جو کچھ آیا ہے اسے ماننے سے وہ انکار کرتے ہیں ، حالانکہ وہ حق ہے اور اسی تعلیم کی تصدیق وتائید کررہا ہے جو ان کے ہاں پہلے سے موجود تھی ۔ چناچہ نبی ﷺ کو یہ ہدایت کی جاتی ہے ۔” اچھا ان سے کہو ، اگر تم اس تعلیم ہی پر ایمان رکھنے والے ہو جو تمہارے ہاں آئی تھی ، تو اس سے پہلے اللہ کے پیغمبروں کو (جو بنی اسرائیل میں پیدا ہوئے ) کیوں کر قتل کرتے رہے ۔ “ تمہارے پاس موسیٰ کیسی کیسی روشن نشانیوں کے ساتھ آیا ۔ پھر بھی تم ایسے ظالم رہے کہ اس کے پیٹھ موڑتے ہی بچھڑے کو معبود بنابیٹھے ۔ پھر ذرا اس میثاق کو یاد کرو جو کوہ طورکو تمہارے اوپر اٹھاکر ہم نے تم سے لیا تھا ، ہم نے تاکید کی تھی کہ جو ہدایات ہم دے رہے ہیں ان کی سختی کے ساتھ پابندی کرو اور کان لگا کر سنو تمہارے اسلاف نے کہا کہ ہم نے سن لیا مانیں گے نہیں اور ان کی باطل پرستی کا یہ حال تھا کہ دلوں میں بچھڑا ہی بسا ہوا تھا ۔ کہو اگر تم مومن ہو ، تو عجیب ایمان ہے ، جو ایسی بری حرکات کا تمہیں حکم دیتا ہے ۔ “ (البقرہ۔ 93)
ان کا دعویٰ یہ تھا کہ اگلا جہاں تو صرف انہی کے لئے ہے ۔ دوسرے لوگوں کو تو وہاں کچھ نہ ملے گا ۔ اللہ تعالیٰ نے نبی کریم ﷺ کو یہ تلقین کی کہ آپ ان کو دعوت مباہلہ دیں اور کسی میدان میں دونوں فریق جمع ہوجائیں اور اللہ سے بدست دعا ہوں کہ ان میں سے جو جھوٹا ہے اللہ اسے مار دے۔” ان سے کہو اگر واقعی اللہ کے نزدیک آخرت کا گھر تمام انسانوں کو چھوڑ کر صرف تمہارے ہی لئے مخصوص ہے ، تب تو تمہیں چاہئے کہ موت کی تمنا کرو ، اگر تم اپنے اس خیال میں سچے ہو ۔ “ اس کے بعد اللہ تعالیٰ خود ہی بتادیتے ہیں کہ یہ لوگ ، ہرگز موت کی تمنا نہ کریں گے ۔ “ چناچہ ایسا ہی ہوا ۔ وہ مباہلہ کرنے سے پھرگئے کیونکہ جس چیز کا وہ دعویٰ کررہے تھے انہیں معلوم تھا کہ وہ اس میں جھوٹے ہیں۔
غرض دوران کلام یہودیوں پر کڑی تنقید کی جاتی ہے ۔ ان کی مکاریوں پر سے پردہ اٹھایا جاتا ہے اور مسلمانوں کو ان کے بارے میں محتاط رہنے کی ہدایت دی جاتی ہیں ۔ اس اقدام کا مقصد یہ ہے کہ جماعت مسلمہ کی صفوں میں خفیہ سازشوں کے ذریعے ، انتشار پیدا کرنے کی جو کوششیں اس یہودی کررہے تھے ، ان کا زور توڑا جائے اور مسلمانوں کو چوکنا کردیا جائے ۔ آج بھی امت مسلمہ کو یہودیوں کی اسی مکاری اور فریب کاری کا سامنا ہے ۔ جس کا سامنا کبھی مدینہ طیبہ میں امت مسلمہ کے اسلاف کو تھا لیکن نہایت افسوس کے ساتھ یہ بات کہنی پڑتی ہے کہ امت مسلمہ ان قرآنی آیات سے اس طرح فائدہ نہیں اٹھارہی جس طرح امت کے اسلاف نے اس ربانی ہدایات سے فائدہ اٹھایا تھا اور جس کے نتیجے میں وہ مدینہ طیبہ میں یہودیوں کی مکاری اور عیاری پر غالب آئے تھے ۔ حالانکہ اس وقت دین اسلام نیا تھا اور جماعت مسلمہ ابھی ابھی تشکیل پائی تھی ۔ اس وقت سے لے کر آج تک یہودی اس بات کی کوشش کررہے ہیں کہ امت مسلمہ کو قرآن کریم سے دور ہٹادیں ۔ مسلمان اپنے دین کو چھوڑ دیں ۔ کیونکہ یہودیوں کو شدیدخطرہ ہے کہ کہیں مسلمان ان کے خلاف وہی قرآنی ہتھیار کام میں لانا شروع کردیں اور ان کی مکاری اور سازشوں سے بچنے کے لئے وہ تدابیر نہ کریں جو ان کے بچاؤ کی حقیقی تدابیر ہیں اور کارگر بھی ہیں ۔ کیونکہ یہودی اس بات کو اچھی طرح جانتے ہیں کہ جب تک امت مسلمہ اپنی شوکت اور برتری کے ان حقیقی سرچشموں سے محروم ہے یہودی امن وچین سے رہ سکتے ہیں ۔ لہٰذا یہ ایک حقیقت ہے اس امت کو جو شخص بھی قرآن کریم اور دین اسلام سے دور کرتا ہے وہ یہودیوں کا ایجنٹ ہے ۔ چاہے وہ یہ کام شعوری طور پر کررہا ہو یا غیر شعوری طور پر ، بالارادہ کررہاہو جو بلا ارادہ۔ کیونکہ جب تک یہ امت ایک حقیقت یعنی حقیقتاً ایمانی ، ایمانی نظام زندگی اور ایمانی شریعت اور اسلامی قانون سے دور اور غافل ہے ۔ اس وقت تک یہودیت کو کوئی خطرہ نہیں ہے۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ امت مسلمہ کا وجود ، اس کی قوت اور اس کی برتری کا حقیقی اور منفرد سرچشمہ صرف ایک ہے یعنی ایمان اور اسلام ۔ یہی ایک راہ ہے اور رہنمائی کرنے والے یہی نشانات ہیں جن پر چل کر ایک مسلمان منزل مقصود تک پہنچ سکتا ہے۔
گزشتہ درس کے آخر میں اللہ تعالیٰ نے بنی اسرائیل کے قلوب کی حالت کا جو نقشہ کھینچا تھا۔ اس سے ہمیں معلوم ہوا تھا کہ وہ نہایت سنگدل ، خشک اور ناقابل تغیر دل و دماغ کے مالک ہیں ۔ اللہ تعالیٰ نے ان کے دلوں کو ایسے پتھروں سے تشبیہ دی تھی جو نہایت ہی ٹھوس تھے اور جن میں پانی کا کوئی قطرہ برآمد نہ ہوتا تھا ۔ اس قدر کھردرے تھے کہ انسان ان پر سہولت سے ہاتھ نہیں پھیر سکتا تھا ۔ ان کے اندر کسی چیز کا اگنا یا ان کے اندر زندگی کے آثار پیدا ہونا تو یہ سرے سے ممکن ہی نہ تھا۔
یہ ایک ایسی تصویر ہے جس سے معلوم ہوتا ہے کہ وہ اپنے اس جامد دماغ ایسی پست فطرت اور ایسی بےلچک متعصبانہ ذہنیت کی وجہ سے اس قابل ہی نہیں رہے کہ راہ ہدایت پر آجائیں ۔ چناچہ اس تصویرکشی اور ان کی طرف سے مایوس ہوجانے کے بعد اس اشارے کے بعد کلام کا رخ بعض ایسے مسلمانوں کی طرف پھرجاتا ہے جو اب بھی یہ خیال کرتے تھے کہ شاید بنی اسرائیل راہ ہدایت پر آجائیں ۔ ایسے لوگ کوشش کرتے تھے کہ بنی اسرائیل کے دلوں میں ایمان انڈیل دیں ، کسی طرح انہیں ایمان کی روشنی کی طرف لے آئیں ۔ قرآن کریم اس طرز پر سوچنے والے مومنین کو سوالیہ انداز میں مایوس کردیتا ہے اور یہ کہتا ہے کہ اس سلسلے میں ان کے دلوں میں امید کی جو آخری کرن ہے اسے بھی دل سے نکال دیں۔
أَفَتَطْمَعُونَ أَنْ يُؤْمِنُوا لَكُمْ وَقَدْ كَانَ فَرِيقٌ مِنْهُمْ يَسْمَعُونَ كَلامَ اللَّهِ ثُمَّ يُحَرِّفُونَهُ مِنْ بَعْدِ مَا عَقَلُوهُ وَهُمْ يَعْلَمُونَ ” اے مسلمانو ! اب کیا تم ان لوگوں سے یہ توقع رکھتے ہو کہ تمہاری دعوت پر ایمان لے آئیں گے ؟ حالانکہ ان میں سے ایک گروہ کا شیوہ یہ رہا ہے کہ اللہ کا کلام سنا اور پھر خوب سمجھ بوجھ کر دانستہ اس میں تحریف کی ۔ “
خبردار ! ایسے لوگوں کے ایمان لانے کی کوئی امید نہیں ہے ۔ ایمان لانے والوں کا مزاج ہی دوسرا ہوتا ہے ان میں کچھ دوسری ہی صلاحیتیں ہوتی ہیں ۔ ایمان لانے والی طبیعت نرم ، سادہ اور سہل ہوتی ہے ، اس کے دل و دماغ کے دریچے ہر قسم کی روشنی کے لئے کھلے ہوتے ہیں ۔ وہ اللہ تعالیٰ کے ازلی وابدی سرچشمہ ہدایت سے جڑنے اور سیراب ہونے کے لئے ہر وقت وہ تیار ہوتی ہے۔ اس کے اندر احساس ، احتیاط اور خدا خوفی ہوتی ہے اور یہ خدا خوفی اس بات سے روکتی ہے کہ خدا کے کلام کو سن کر ، اسے سمجھ کر پھر اس میں تحریف کرے۔ محض ذاتی خواہش کے لئے اور محض تعصب کی خاطر کلام الٰہی میں تحریف کرے کیوں کہ ایمان لانے والی طبیعت ، بالکل سیدھی سادھی ہوتی ہے اور وہ اس قسم کی کجروی اور بات کو توڑ موڑ کر پیش کرنے سے محترز رہتی ہے۔
پھر یہاں جس طبقے کی طرف اشارہ کیا گیا ہے وہ (یہود) سب سے زیادہ تعلیم یافتہ طبقہ ہے۔ اور اس سچائی کو سب سے زیادہ جاننے والا ہے جو اللہ تعالیٰ نے ان پر ان کی کتاب میں اتاری ۔ جیسے علمائے یہود کا طبقہ ، جو ان کے نبی پر اتری ہوئی کتاب تورات کو سنتے تھے ، سمجھتے تھے لیکن اس کے باوجود اسے بدل ڈالتے تھے اور اس میں ایسی تاویلات کرتے تھے کہ بات کچھ کی کچھ بن جاتی تھی اور یہ بات وہ اس لئے نہ کرتے تھے کہ انہیں کلام کا صحیح محل معلوم نہ تھا بلکہ وہ یہ حرکت سوچ سمجھ کر بالارادہ کیا کرتے تھے اور یہ جانتے ہوئے کرتے تھے کہ وہ تحریف کررہے ہیں ۔ خواہشات نفس اور مصلحت کے ہاتھ میں ان کے فکر وعمل کی لگام تھی اور ذلیل اغراض کے نغموں کے پیچھے مست ہوکر دوڑ رہے تھے ۔ جب وہ حضرت موسیٰ (علیہ السلام) کی کتاب کے ساتھ بدسلوکی کرتے تھے ، جس پر ان کا ایمان بھی تھا تو قرآن کریم جو حضرت محمد ﷺ پر نازل ہوا ، اس کے ساتھ تو انہیں اس سے بھی بدتر سلوک کرنا ہی تھا کیونکہ وہ حضرت محمد ﷺ پر سرے سے ایمان ہی نہ لائے تھے ۔ لہٰذا اپنی اس خراب ذہنیت اور باطل رویے پر وہ جان بوجھ کر اصرار کرتے تھے ۔ جب ہم دیکھتے ہیں کہ ان کی ذہنیت خراب ہے اور یہ کہ وہ سوچ سمجھ کر باطل پر اصرار کررہے ہیں یا پھر ان کی جانب سے دعوت اسلامی کی یہ مخالفت اور تحریک اسلامی کے خلاف سازشیں اور بہتان تراشیاں کوئی خلاف توقع امر نہیں رہتا۔
وَإِذَا لَقُوا الَّذِينَ آمَنُوا قَالُوا آمَنَّا وَإِذَا خَلا بَعْضُهُمْ إِلَى بَعْضٍ قَالُوا أَتُحَدِّثُونَهُمْ بِمَا فَتَحَ اللَّهُ عَلَيْكُمْ لِيُحَاجُّوكُمْ بِهِ عِنْدَ رَبِّكُمْ أَفَلا تَعْقِلُونَ
” جب محمد رسول اللہ کے ماننے والوں سے ملتے ہیں تو کہتے ہیں کہ ہم بھی انہیں مانتے ہیں اور جب آپس میں تخلئے کی بات چیت ہوتی ہے تو کہتے ہیں ۔ بیوقوف ہو ! ان لوگوں کو وہ باتیں بتاتے ہو جو اللہ نے تم پر کھولیں ہیں تاکہ تمہارے رب کے پاس تمہارے مقابلے میں انہیں حجت میں پیش کریں۔ “
کیا تم ان سے توقع رکھتے ہو کہ وہ تمہاری بات مان جائیں گے ؟ حالانکہ وہ نہایت غیر ذمہ دار ، حق کو چھپانے والے اور کلام اللہ میں تحریف کرنے والے لوگ ہیں ۔ ریاء ، فریب کاری ، منافقت اور چالبازی جیسے مفاسد ان کی جبلت میں داخل ہوگئے ہیں ۔ پھر ان میں بعض ایسے بھی تھے کہ جب مسلمانوں سے ملتے تو کہتے ہم بھی ایمان لاچکے ہیں ۔ یعنی نبی ﷺ کی رسالت پر ایمان لاچکے ہیں کیونکہ ان کے ہاں تورات میں نبی آخرالزماں کے بارے میں واضح بشارتیں موجود تھیں اور وہ نبی آخرالزماں کی بعثت کا شدت سے انتظار کررہے تھے ۔ اور اللہ تعالیٰ سے یہ دعا کیا کرتے تھے کہ وہ نبی آخرالزماں کے ذریعے انہیں کفار پر فتح عطاکرے۔ اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں ۔ کَانُوا مَن قَبلُ یَستَفتِحُونَ عَلَی الَّذِینَ کَفَرُوا ” وہ اس سے قبل کفار پر دعائے فتح مندی مانگا کرتے تے۔ “ لیکن جب وہ ایک دوسرے کے ساتھ تنہائی میں ملتے ، تو ایک دوسرے کو اس بات پر سخت تنبیہ کرتے کہ کیوں وہ مسلمانوں کو وہ باتیں بتا رہے ہیں جو آپ کی رسالت کی صداقت کے بارے میں تورات میں مذکور ہیں ، کہتے ہیں ، بیوقوف ہوگئے ہو ! ان لوگوں کو وہ باتیں بتاتے ہو جو اللہ نے تم پر کھولیں ہیں تاکہ تمہارے رب کے پاس تمہارے مقابلے میں انہیں حجت میں پیش کریں ۔ “ اس طرح تم پر حجت قائم کردیں گے ۔ یہاں ان کا مخصوص مزاج جو معرفت الٰہی سے بالکل کورا ہے ان پر غالب آجاتا ہے ، وہ اللہ تعالیٰ کے علم کی حقیقت اور اس کی صفات کے حقیقی تصور تک سے عاری نظر آتے ہیں ۔ وہ سمجھتے ہیں کہ اگر وہ یہ باتیں مسلمانوں کو نہ بتائیں تو اللہ تعالیٰ ان سے کچھ مواخذہ نہ کرے گا ۔ مواخدہ صرف اس صورت میں ہوگا جب یہ باتیں مسلمانوں کو بتادی جائیں۔
اس سے بھی زیادہ ان کی مضحکہ خیز بات یہ ہے کہ وہ ایک دوسرے کو کہتے ہیں ۔” کیا تم عقل سے کام نہیں لیتے ؟ “ معلوم نہیں وہ کیسی عقل ودانشمندی ہے جس کے کام میں نہ لانے پر وہ ایک دوسرے کی سرزنش کررہے ہیں۔