اس صفحہ میں سورہ Al-Baqara کی تمام آیات کے علاوہ فی ظلال القرآن (سید ابراہیم قطب) کی تمام آیات کی تفسیر بھی شامل ہے۔ پہلے حصے میں آپ سورہ البقرة کو صفحات میں ترتیب سے پڑھ سکتے ہیں جیسا کہ یہ قرآن میں موجود ہے۔ کسی آیت کی تفسیر پڑھنے کے لیے اس کے نمبر پر کلک کریں۔
وَٱتَّبَعُوا۟ مَا تَتْلُوا۟ ٱلشَّيَٰطِينُ عَلَىٰ مُلْكِ سُلَيْمَٰنَ ۖ وَمَا كَفَرَ سُلَيْمَٰنُ وَلَٰكِنَّ ٱلشَّيَٰطِينَ كَفَرُوا۟ يُعَلِّمُونَ ٱلنَّاسَ ٱلسِّحْرَ وَمَآ أُنزِلَ عَلَى ٱلْمَلَكَيْنِ بِبَابِلَ هَٰرُوتَ وَمَٰرُوتَ ۚ وَمَا يُعَلِّمَانِ مِنْ أَحَدٍ حَتَّىٰ يَقُولَآ إِنَّمَا نَحْنُ فِتْنَةٌ فَلَا تَكْفُرْ ۖ فَيَتَعَلَّمُونَ مِنْهُمَا مَا يُفَرِّقُونَ بِهِۦ بَيْنَ ٱلْمَرْءِ وَزَوْجِهِۦ ۚ وَمَا هُم بِضَآرِّينَ بِهِۦ مِنْ أَحَدٍ إِلَّا بِإِذْنِ ٱللَّهِ ۚ وَيَتَعَلَّمُونَ مَا يَضُرُّهُمْ وَلَا يَنفَعُهُمْ ۚ وَلَقَدْ عَلِمُوا۟ لَمَنِ ٱشْتَرَىٰهُ مَا لَهُۥ فِى ٱلْءَاخِرَةِ مِنْ خَلَٰقٍ ۚ وَلَبِئْسَ مَا شَرَوْا۟ بِهِۦٓ أَنفُسَهُمْ ۚ لَوْ كَانُوا۟ يَعْلَمُونَ
وَلَوْ أَنَّهُمْ ءَامَنُوا۟ وَٱتَّقَوْا۟ لَمَثُوبَةٌ مِّنْ عِندِ ٱللَّهِ خَيْرٌ ۖ لَّوْ كَانُوا۟ يَعْلَمُونَ
يَٰٓأَيُّهَا ٱلَّذِينَ ءَامَنُوا۟ لَا تَقُولُوا۟ رَٰعِنَا وَقُولُوا۟ ٱنظُرْنَا وَٱسْمَعُوا۟ ۗ وَلِلْكَٰفِرِينَ عَذَابٌ أَلِيمٌ
مَّا يَوَدُّ ٱلَّذِينَ كَفَرُوا۟ مِنْ أَهْلِ ٱلْكِتَٰبِ وَلَا ٱلْمُشْرِكِينَ أَن يُنَزَّلَ عَلَيْكُم مِّنْ خَيْرٍ مِّن رَّبِّكُمْ ۗ وَٱللَّهُ يَخْتَصُّ بِرَحْمَتِهِۦ مَن يَشَآءُ ۚ وَٱللَّهُ ذُو ٱلْفَضْلِ ٱلْعَظِيمِ
انہوں نے اللہ کی اس کتاب کو تو چھوڑ دیا جو خود اس ہدایت کی تصدیق بھی کررہی تھی ۔ جو ان کے پاس تھی اور ان باتوں کی پیروی شروع کردی ۔ جو شیاطین حضرت سلیمان (علیہ السلام) کے دور کی طرف منسوب کرتے تھے ۔ یہ شیاطین حضرت سلیمان (علیہ السلام) کی طرف غلط باتیں منسوب کیا کرتے تھے ۔ یعنی یہ کہ وہ ایک عظیم جادوگر تھے اور انہوں نے جن جن چیزوں کو مسخر کررکھا تھا وہ انہوں نے اس کالے علم کے ذریعے مسخر کررکھی تھیں ۔ قرآن کریم ان کے اس زعم باطل کی تردید کرتے ہوئے یہ کہتا ہے کہ حضرت سلیمان جادوگر نہ تھے ۔ وَمَا كَفَرَ سُلَيْمَانُ ” سلیمان نے کفر نہیں کیا “ قرآن کریم گویا جادوگری کو کفر سمجھتا ہے ۔ اس لئے حضرت سلیمان (علیہ السلام) سے اس کی نفی کرکے اور یہ بتارہا ہے کہ جادوگری کا کام حضرت سلیمان (علیہ السلام) نہیں بلکہ شیاطین کیا کرتے تھے ۔ وَلَكِنَّ الشَّيَاطِينَ كَفَرُوا يُعَلِّمُونَ النَّاسَ السِّحْرَ ” کفر کے مرتکب تو وہ شیاطین تھے جو لوگوں کو جادوگری کی تعلیم دیتے تھے ۔ “
اس کے بعد قرآن کریم اس خیال کی تردید کرتا ہے کہ جادوگری کی تعلیم خود اللہ تعالیٰ نے بابل کے دوفرشتوں ہاروت وماروت پر نازل کی تھی ۔ وَمَا أُنْزِلَ عَلَى الْمَلَكَيْنِ بِبَابِلَ هَارُوتَ وَمَارُوتَ ” نہ ہی یہ بات درست ہے کہ جادوگری بابل میں ہاروت وماروت نامی دوفرشتوں پر نازل کی گئی تھی۔ “
معلوم ہوتا ہے کہ یہودیوں کے ہاں ان دوفرشتوں کے بارے میں کوئی خاصا قصہ مشہور تھا اور یہودی اور شیطان یہ کہتے تھے کہ دو فرشتے جادو کا علم رکھتے تھے ۔ اور یہ علم وہ لوگوں کو بھی سکھاتے پھرتے تھے ۔ ان کا یہ بھی خیال تھا کہ وہ جادو کی یہ تعلیم ان پر اللہ تعالیٰ کی جانب سے نازل کی گئی تھی ۔ قرآن کریم نے اسی افتراء کی بھی تردید کردی کہ سحر کی تعلیم بابل میں ان دوفرشتوں پر اللہ کی طرف سے نازل ہوئی تھی ۔
البتہ یہاں قرآن کریم اس قصہ کی حقیقت کو واضح کردیتا ہے کہ یہ دوفرشتے اللہ تعالیٰ کے حکیمانہ رازوں میں سے ایک راز تھے اور عوالناس کے لئے انہیں بطور فتنہ اور آزمائش بھیجا گیا تھا ۔ اور وہ ہر شخص جو ان کے پاس تعلیم سحر کے حصول کے لئے جاتا تھا وہ اسے کہہ دیتے تھے وَمَا يُعَلِّمَانِ مِنْ أَحَدٍ حَتَّى يَقُولا إِنَّمَا نَحْنُ فِتْنَةٌ فَلا تَكْفُرْ ” وہ فرشتے جب بھی کسی کو اس کی تعلیم دیتے تھے تو پہلے صاف طور پر متنبہ کردیا کرتے تھے دیکھ ہم محض ایک آزمائش ہیں تو کفر میں مبتلا نہ ہو۔ “
یہاں قرآن کریم دوبارہ سحر کی تعلیم اور جادوگری کو کفر سے تعبیر کرتا ہے اور اس کے کفر ہونے کا اعلان دو فرشتوں ہاروت وماروت کے ذریعہ کرایا جاتا ہے ۔
قرآن کریم کہتا ہے کہ بعض لوگ ایسے تھے جو ان فرشتوں کے واضح تنبیہ کے باوجود اس بات پر مصر تھے کہ وہ ان کی سحر سے تعلیم حاصل کریں ۔ جب انہیں اصرار تھا کہ وہ اس فتنے کا شکار ہوں تو اللہ تعالیٰ نے بھی ان کے لئے یہ دروازہ کھول دیا فَيَتَعَلَّمُونَ مِنْهُمَا مَا يُفَرِّقُونَ بِهِ بَيْنَ الْمَرْءِ وَزَوْجِهِ ” پھر بھی یہ لوگ ان سے وہ چیزسیکھتے تھے جس سے شوہر اور بیوی میں جدائی ڈال دیں۔ “
حالانکہ یہی شر تھا ، اس سیاہ علم میں جس سے فرشتوں نے آگایہ کیا تھا لیکن قرآن کریم موقع ومحل کی مناسبت سے یہاں اسلامی نظریہ حیات کے ایک بنیادی اصول کی طرف مبذول کردیتا ہے یہ کہ اس کائنات میں اللہ کی مشئیت اور اذن کے بغیر ایک پتا بھی حرکت نہیں کرسکتا وَمَا هُمْ بِضَارِّينَ بِهِ مِنْ أَحَدٍ إِلا بِإِذْنِ اللَّهِ ” یہ بات ظاہر تھی کہ اذن الٰہی کے بغیر وہ اس کے ذریعے کسی کو بھی ضرر نہ پہنچاسکتے تھے ۔ “
یہ اللہ کی مشیئت اور اس کا اذن ہی ہے جس کی وجہ سے اسباب سے مسببات اور نتائج پیدا ہوتے ہیں ۔ اسلامی نظریہ حیات کا یہ نہایت ہی بنیادی اور اہم اصول اور عقیدہ ہے ۔ اور ایک مومن کے دل و دماغ میں سے اچھی طرح واضح اور جاگزین ہونا چاہئے ۔ اس عقیدے کو پیش کرنے کا بہترین مقام بھی ایسا ہی ساحرانہ ماحول ہوتا ہے ۔ اس میں شک نہیں کہ آپ اگر اپنا ہاتھ آگ میں ڈالیں تو وہ لازماً جل جائے گا ، لیکن یہ جلنا اللہ کے حکم اور مشیئت کے بغیر ممکن نہیں ۔ اللہ ہی نے آگ میں جلانے اور آپ کے ہاتھ میں جلنے کی قابلیت رکھی ہے اور جب وہ چاہے آگ اور بندوں دونوں سے یہ قابلیت سلب کرسکتا ہے ۔ جیسا کہ حضرت ابراہیم (علیہ السلام) کے واقعہ میں ایسا عملاً ہوا بھی۔ یہی حال اس جادو کا بھی ہے جس کے ذریعے جادوگر میاں بیوی میں تفرقہ ڈالتے ہیں ، اگر اللہ کی مشیئت نہ ہو تو وہ کوئی اثر نہیں کرسکتا ۔ اگر اس کی حکمت اور مشیئت متقاضی نہ ہو ، تو وہ جادوگر کی اس خاصیت کو کسی وقت بھی معطل کرسکتا ہے۔
یہی حال ہے ان تمام مؤثرات اور اسباب کا جو آج تک ہمارے علم میں آچکے ہیں ۔ ان میں سے ہر سبب میں اللہ تعالیٰ نے ایک مخصوص خاصیت ودیعت کی ہے اور یہ خاصیت اللہ تعالیٰ کے اذن اور مشیئت سے کام کررہی ہے ، جس طرح اللہ تعالیٰ نے ان اسباب کو یہ خصوصیات عطا کی ہیں ، بعینہ اسی طرح وہ ان سے خاصیات کو سلب بھی کرسکتا ہے۔
اس کے بعد قرآن کریم اس چیز کی حقیقت کو بھی کھول کر بیان کردیتا ہے ، جس کی تعلیم وہ حاصل کرتے تھے ۔ یعنی وہ جادو جس کے ذریعے وہ میاں اور بیوی کے درمیان تفرقہ دالتے تھے ۔ قرآن حکیم بتاتا ہے کہ یہ کالا علم خود ان کے لئے بھی کوئی مفید چیز نہ تھی ، وَيَتَعَلَّمُونَ مَا يَضُرُّهُمْ وَلا يَنْفَعُهُمْ ” مگر اس کے باوجود وہ اسی چیز کو سیکھتے تھے ، جو خود ان کے لئے بھی نفع بخش نہیں بلکہ نقصان دہ تھی۔ “ جس فتنے میں وہ مبتلا ہورہے تھے اس کا کفرہونا اس بات کے لئے کافی ثبوت تھا کہ وہ شر ہی شر ہے اور اس میں کوئی منفعت نہیں ہے۔
وَلَقَدْ عَلِمُوا لَمَنِ اشْتَرَاهُ مَا لَهُ فِي الآخِرَةِ مِنْ خَلاقٍ ” اور انہیں خوب معلوم تھا کہ جو اس چیز کا خریدار بنا اس کے لئے آخرت میں کوئی حصہ نہیں ۔ “ اور جب آپ کو یہ معلوم ہے کہ جو کچھ وہ کررہا ہے ، اسی کے نتیجے میں وہ آخرت کی تمام بھلائیوں سے محروم ہوجائے گا اور پھر بھی وہ اس روش کو اختیار کرتا ہے ، تو گویا وہ بالقصد اپنی آخرت کو خراب کررہا ہے اور اپنے آپ کو آنے والے جہاں کی جملہ بھلائیوں سے محروم کررہا ہے۔
یہ کیوں ؟ تاکہ وہ اس چند روزہ زندگی میں مزے لوٹ لے۔ کیا ہی براسودا ہے جو یہ لوگ کررہے ہیں ۔ حالانکہ وہ اس حقیقت سے اچھی طرح باخبر ہیں۔
وَلَبِئْسَ مَا شَرَوْا بِهِ أَنْفُسَهُمْ لَوْ كَانُوا يَعْلَمُونَ ” کتنی ہی بری متاع تھی جس کے بدلے میں انہوں نے جان کو بیچ ڈالا ! کاش انہیں معلوم ہوتا ! “
وَلَوْ أَنَّهُمْ آمَنُوا وَاتَّقَوْا لَمَثُوبَةٌ مِنْ عِنْدِ اللَّهِ خَيْرٌ لَوْ كَانُوا يَعْلَمُونَ (103) ” اگر وہ ایمان اور تقویٰ اختیار کرتے تو اللہ کے ہاں اس کا جو بدلہ ملتا ، وہ ان کے لئے زیادہ بہتر تھا ، کاش انہیں خبر ہوتی ! “
یہ بات تو ان لوگوں پر بھی صادق آتی ہے جو بابل میں ہاروت وماروت سے جادو سیکھتے تھے ، ان پر بھی صادق آتی ہے جو ان باتوں کی پیروی کرتے تھے جنہیں شیاطین حضرت سلیمان (علیہ السلام) کی سلطنت کا نام لے کر پیش کرتے تھے اور یہ لوگ یہودی تھے جنہوں نے اللہ کی کتاب کو تو پس پشت ڈال دیا اور ان خرافات اور مذمومات کی پابندی اپنے اوپر لازم کردی۔
یہاں ضروری معلوم ہوتا ہے کہ اس جادو کی حقیقت پر بھی قدرے روشنی ڈال دی جائے جس کے پیچھے یہ یہودی پڑگئے تھے اور جس کے ذریعے یہ لوگ میاں اور بیوی میں ناچاقی پیدا کرتے تھے اور اس کی وجہ سے انہوں نے کتاب الٰہی تک کو پس پشت ڈال دیا تھا۔
یہ بات ہمارے دور میں بھی بارہا مشاہدے میں آتی رہتی ہے کہ بعض لوگ اپنے اندر ایسی معجزانہ خصائص رکھتے ہیں کہ سائنس آج تک ان کی کوئی علمی توجیہ نہیں کرسکتی ۔ ایسے عجائبات کے لئے لوگوں نے ، مختلف نام تو تجویز کر رکھے ہیں ، تاہم ان کی حقیقت کا تعین ابھی تک نہیں کیا جاسکا۔ اور ابھی تک وہ عجوبہ ہی ہیں ۔ مثلاً ٹیلی پیتھی یعنی دور سے خیالات کا اخذ کرنا ، اس کی حقیقت کیا ہے ؟ یہ کیونکر ممکن ہے کہ ایک آدمی ایک ایسے فاصلے سے ، جہاں تک نہ اس کی نظر پہنچتی ہے اور نہ آواز ، ایک آدمی کو بلاتا ہے اور اس سے خیالات اخذ کرتا ہے اور ان دونوں کے درمیان طویل فاصلے حائل نہیں ہوتے ۔
پھر مقناطیسی تنویم کا عمل بھی قابل غور ہے ۔ یہ کیوں کر ممکن ہوجاتا ہے۔ ایک ارادہ دوسرے پر ناقابل ادراک طریقے سے استیلاء حاصل کرلیتا ہے اور ایک فکردوسری فکر کے ساتھ کس طرح مطابقت اختیار کرلیتی ہے کہ ایک دوسرے کی طرف خیالات منتقل کرتی چلی جاتی ہے اور دوسری اس سے اخذ کرتی چلی جاتی ہے ۔ ایسا معلوم ہوتا ہے کہ گویا متاثرہ شخص ایک کھلی کتاب پڑھ رہا ہے۔ آج تک سائنس اس سلسلے میں جو کچھ کرسکی ہے وہ صرف یہ ہے کہ اس نے ان حقائق کا اعتراف کرکے ان کے لئے کچھ نام تجویز کرلئے ہیں لیکن سائنس آج تک اس بات کا جواب نہیں سے سکی کہ ان کی حقیقت کیا ہے ؟ نیز سائنس کے پاس اس کا جواب نہیں ہے کہ یہ عمل کیسے مکمل ہوتا ہے ؟
ان حقائق کے علاوہ بھی بعض ایسی چیزیں ہیں جن کے تسلیم کرنے میں سائنس کو ابھی تامل ہے ۔ یا تو اس لئے کہ ابھی تک ان کے بارے میں اس قدر مشاہدات جمع نہیں ہوئے جن کے ذریعے وہ اس میدان میں کوئی تجربہ کرسکے ۔ خود سچے خوابوں کو معاملہ بھی بڑا عجیب ہے ۔ فرائڈ جو ہر روحانی قوت کا بڑی شدت سے انکار کرتا ہے ، وہ بھی ان کا انکار نہیں کرسکا ۔ خواب کے ذریعے ہمیں مستقبل کی تاریکیوں میں ہونے والے واقعات کا اشارہ کیسے مل جاتا ہے ؟ اور پھر طویل عرصہ نہیں گزرتا کہ وہ اشارہ واقعات کی صورت اختیار کرلیتا ہے ۔ یہی معاملہ انسان کے ان خفیہ احساسات کا ہے ، جن کا ابھی تک وہ کوئی نام بھی تجویز نہیں کرسکا ۔ بعض اوقات انسان یہ محسوس کرنے لگتا ہے کہ کچھ ہونے والا ہے ؟ کوئی آنے والا ہے ؟ اور اس کے بعد یہ متوقع امر کسی نہ کسی صورت میں وقوع پذیر ہوجاتا ہے۔
لہٰذا یہ محض ہٹ دھرمی ہے کہ انسان محض بےتکلفی میں ان نامعلوم حقائق کا انکار کردے ، صرف اس لئے کہ سائنس کی رسائی ابھی ایسے وسائل تک نہیں ہوسکی جن کے ذریعے وہ اس میدان میں کوئی تجربہ کرسکے ۔
اس کا مطلب یہ بھی نہیں کہ انسان دنیا کے تمام خرافات کو بےچون وچرامانتا چلاجائے ، ہر فسانے پر ایمان لاتا چلا جائے ، بلکہ صحیح اور معتدل روش یہ ہے کہ ایسے نامعلوم حقائق کے بارے میں انسان ایک لچک دار اور معتدل موقف اختیار کرے ۔ نہ سو فیصدی ان کا انکار کرنا درست ہے اور نہ ہی بےچون وچرا تسلیم کرلینا معقول ہے ۔ اس درمیانی روش کا نتیجہ یہ ہوگا کہ انسان کے علم ، ادراک کے جو ابتدائی ذرائع اس وقت حاصل ہیں جب ان میں انسان مزید ترقی کرے گا تو اس کے لئے ایسے حقائق کا معلوم کرلینا ممکن ہوجائے گا ۔ لہٰذا انسان کو یہ تسلیم کرلینا چاہئے کہ اس کا علم محدود ہے ۔ اور بعض حقائق ایسے بھی ہیں جو اس کے حیطہ ادراک سے باہر ہیں ، اسے اپنی حدود کو پہچاننا چاہئے اور نامعلوم حقائق کا بھی کچھ لحاظ رکھنا چاہئے۔
جادوگری کی نوعیت بھی کچھ ایسی ہی ہے ۔ شیاطین کی جانب سے جو القاء بدکردار لوگوں کو ہوتا ہے ، وہ بھی فوق الادراک امور میں سے ہے۔ اس کی متعدد شکلوں میں سے ایک یہ ہے کہ جادوگر انسانوں کے حواس اور خیالات پر اثر انداز ہونے کی قدرت رکھتا ہے ۔ کبھی اس کا اثر ٹھوس چیزوں اور اجسام پر بھی ہوتا ہے ۔ البتہ قرآن کریم میں فرعون کے جادوگروں کی جس سحرکاری کا ذکر ہے ، وہ محض نظربندی اور نظر فریبی ہی تھی ، دراصل اس سے کسی چیز کی حقیقت میں کوئی تبدیلی واقع نہ ہوتی تھی۔
یُخَیَّلُ اِلَیہِ مِن سَحرِھِم اِنَّھَا تَسعٰی ” ان کی جادوگری کی وجہ سے ، اس کو ایسامعلوم ہوتا تھا کہ گویا وہ چل رہی ہیں ۔ “ ہوسکتا ہے کہ وہ لوگ اپنی جادوگری کے ایسے اثرات استعمال کرکے میاں بیوی اور دوست اور دوست کے تفریق ڈالتے ہوں ، کیونکہ جب انسان کسی چیز سے متاثر ہوتا ہے ، اس انفعال کی مطابقت میں اس سے بعض حرکات سرزد ہوجاتی ہیں ، لیکن جیسا کہ کہا گیا وسائل واسباب اور ان کے تنائج اور مسببات کا سلسلہ اللہ تعالیٰ کے اذن کے سوا کام نہیں کرسکتا ۔
قدرتی طور پر یہاں سوال پیدا ہوتا ہے کہ وہ دوفرشتے ہاروت وماروت کون تھے ؟ اور تاریخ کے کس دور میں وہ بابل میں گزرے ہیں ؟ اس سوال کی تشریح قرآن نے اس ضروری نہیں سمجھی کہ ان فرشتوں کا قصہ یہودیوں کے درمیان عام طور پر معروف تھا ، اور جب قرآن کریم نے انہیں یہ قصہ سنایا تو انہوں نے اس پر کوئی اعتراض نہیں کیا۔ کئی ایسے واقعات جو اس وقت قرآن کریم کے مخاطبین کے ہاں مشہور ومعروف تھے ۔ انہیں قرآن کریم نے اجمال کے ساتھ بیان کیا ہے ۔ کیونکہ قرآن کریم کا مقصد صرف اشارے ہی سے پورا ہوجاتا تھا اور قصہ گوئی قرآن کے پیش نظر تھی ہی نہیں ۔
فی ظلال القرآن میں ، ہم وہ تمام تفصیلات اور رطب ویابس روایات درج نہیں کرنا چاہتے جو ان فرشتوں کے بارے میں مشہور ہیں ۔ کیونکہ تفاسیر میں ان کے بارے میں مواد پایا جاتا ہے ، یا جو روایات معقول ہیں ان میں کوئی روایت ثقہ نہیں ہے۔
انسانیت اپنی طویل ترین تاریخ میں متعدد آزمائشوں اور ابتلاؤں سے دوچارہوتی رہی ہے۔ یہ آزمائشیں اور ابتلائیں ، مختلف ادوار میں انسانیت کی ذہنی سطح اور اس وقت کے ماحول کی مناسبت سے مختلف نوعیت اختیار کرتی رہی ہیں ۔ اب یہ آزمائش اگر کسی وقت دو فرشتوں کی صورت میں یا دو فرشتہ سیرت انسانوں کی صورت میں آئی ہے تو یہ کوئی تعجب انگیز اور انوکھی بات نہیں ہے۔ کیونکہ انسانیت پر جو آزمائشیں آتی رہی ہیں وہ کئی قسم کی عجیب و غریب اور خارق العادۃ بھی ہوتی رہی ہیں ، بالخصوص اس دور میں جبکہ انسانیت فکر وادراک کی دنیا میں ترقی کی ابتدائی منازل طے کررہی تھی اور وہم وجہالت کی تاریک رات میں سماوی روشنی کے پیچھے چل رہی تھی۔
نیز ان آیات میں جو محکم اور واضح ہدایات دی گئی ہیں ہمارے لئے وہی کافی ہیں ۔ اور اگر کوئی چیز متشابہ اور ناقابل فہم ہے تو اس کے پیچھے پڑنے کی ضرورت نہیں ہے ۔ بالخصوص اب جبکہ ہم اس ماحول سے بہت دور جانکلے ہیں ۔ جہاں ایسے واقعات پیش آئے تھے ۔ بس ہمارے لئے یہی جان لینا کافی ہے کہ بنی اسرائیل جادوگری اور دوسری موہوم اور لایعنی باتوں کے پیچھے پڑ کر گمراہ ہوگئے تھے۔ انہوں نے اللہ تعالیٰ کی سچی اور یقینی ہدایات کو پس پشت ڈال دیا تھا اور یہ کہ عمل سحر ایک کفریہ عمل ہے ۔ اور جو لوگ ایسے اعمال کریں ان کے لئے دار آخرت میں کوئی حصہ نہ ہوگا ۔ اور وہ ان تمام بھلائیوں اور خیرات سے محروم ہوجائیں گے جو ان کے لئے وہاں اللہ تعالیٰ کی جانب سے تیار کی گئی ہیں۔
درس 6 ایک نظر میں
اس سبق میں یہودی سازشوں اور اسلام اور مسلمانوں کے خلاف ان ریشہ دوانیوں کو مزید کھولا جاتا ہے ۔ اسلامی جماعت کو ان کی چالوں اور حیلوں سے خبردار کیا جاتا ہے جو یہودی اسلام کے خلاف استعمال کرتے تھے ۔ نیز بتایا جاتا ہے کہ ان کے دلوں میں مسلمانوں کے خلاف کس قدر بغض وحسد پایا جاتا ہے اور وہ امت مسلمہ کو نقصان پہنچانے اور ان کے خلاف سازشیں تیار کرنے میں کس طرح رات دن مصروف عمل ہیں ۔ اس لئے مسلمانوں کو اپنی بول چال اور اپنے طرز عمل میں ان دشمنان اسلام ، کفار اہل کتاب کے ساتھ ہر قسم کا تشبہ کرنے سے روکا جاتا ہے ۔ مسلمانوں کو یہودیوں کے اقوال اور افعال اور پالیسیوں کے حقیقی اسباب بتائے جاتے ہیں ۔ مسلمانوں کے اتحاد ویکجہتی کے خلاف وہ جو سازشیں ، جو فتنہ انگیزیاں اور جو فریب کاریاں کررہے تھے ، انہیں واضح طور پر بیان کیا جاتا ہے ۔ ایسا معلوم ہوتا ہے کہ یہودیوں نے اسلامی معاشرے کی تشکیل جدید اور نئے حالات اور تقاضوں کے مطابق بعض شرعی احکامات اور تکالیف میں رد وبدل اور نسخ جیسے مسائل کی آڑ لے کر مکروہ پروپیگنڈے کا طوفان برپا کیا تھا ۔ انہوں نے جو گہری سازشیں مرتب کی تھی اس کے ذریعے وہ ان احکامات اور تکالیف کے منبع یعنی ذات باری تعالیٰ اور اس کی جانب سے وحی الٰہی کے نزول کی بابت مسلمانوں کے دلوں میں شکوک و شبہات پیدا کرنے چاہتے تھے ۔ وہ مسلمانوں سے کہتے تھے ” اگر یہ وحی منجانب اللہ ہوتی تو سابقہ احکامات میں ردوبدل اور انہیں منسوخ کرنے کی ضرورت ہی پیش نہ آتی۔ “
یہودی پہلے بھی ایسے پروپیگنڈے کرتے رہتے تھے لیکن جب ہجرت نبوی ﷺ کے 16 مہینے بعد تحویل قبلہ کا حکم نازل ہوا تو ان لوگوں نے اسلام کے خلاف پروپیگنڈے کا ایک عظیم طوفان برپا کردیا ۔ ہجرت کے بعد ایک عرصے تک نبی ﷺ ، یہودیوں کے قبلہ ” بیت المقدس “ ہی کی طرف منہ کرکے نماز پڑھتے رہے اور اس امر سے یہودی یہ استدلال کرتے تھے کہ بس قبلہ حق اور دین حق تو انہی کا دین اور قبلہ ہیں لہٰذا نبی کریم ﷺ کی دلی خواہش یہ تھی کہ مسلمانوں کا قبلہ بیت المقدس سے تبدیل ہوکر ، بیت الحرام ہوجائے ۔ البتہ نبی ﷺ نے کبھی اس کا اظہار نہ کیا تھا لیکن اس پورے عرصے میں یہ خواہش بدستور آپ کے دل میں موجود رہی اور اللہ تعالیٰ نے نبی ﷺ کی اس خواہش کے مطابق آپ ﷺ کے پسندیدہ قبلہ ہی کو مسلمانوں کا قبلہ بنادیا جیسا کہ آئندہ صفحات میں تفصیلات مذکور ہیں ۔ بنی اسرائیل چونکہ اس بات کو اچھی طرح محسوس کررہے تھے کہ تحویل قبلہ کے نتیجہ میں اسلام کے مقابلے میں ان کے دین کی ایک ظاہری برتری بھی ختم ہوجائے گی ۔ اور آئندہ اسے اپنے دین کی برتری کے لئے دلیل کے طور پر استعمال نہ کرسکیں گے لہٰذا اس مرحلے پر انہوں نے اسلامی صفوں انتشار پھیلانے اور وحی الٰہی کے من جانب اللہ کے نزول کے بارے میں اہل ایمان کے عقائد کے اندرشکوک و شبہات پیدا کرنے کی خاطر زبردست پروپیگنڈہ شروع کردیا ۔ ان کی یہ سازش اس قدر گہری تھی کہ اس میں انہوں نے مسلمانوں کے بنیادی عقیدے اور قرآن کے من جانب اللہ ہونے پر کلہاڑا چلانے کی کوشش کی تھی۔ وہ مسلمانوں سے جو کچھ کہتے تھے اس کا خلاصہ یہ تھا ” اگر بیت المقدس کی طرف چہرہ کرکے نماز پڑھنا باطل اور خلاف حق تھا تو 16 ماہ تک تمہاری تمام نمازیں ضائع ہوگئیں۔ اور اگر یہ فعل برحق تھا تو پھر تبدیلی کیوں ہوئی ؟ مقصد یہ تھا کہ اب تک انہوں نے جو نمازیں ادا کیں اس کا انہیں کوئی ثواب نہ ملے گا اور یہ کہ حضرت نبی کریم ﷺ کی قیادت کوئی حکیمانہ قیادت نہیں ہے ۔ (نعوذ باللہ) “
ایسا محسوس ہوتا ہے کہ بعض مسلمانوں پر اس پروپیگنڈے کے برے اثرات پڑنے لگے تھے ۔ اس لئے وہ نہایت قلق اور بےچینی سے اس کے متعلق نبی کریم ﷺ سے سوالات بھی کرنے لگے تھے ۔ کیونکہ یہ واقعہ اس غیر معمولی تھا اور دلوں میں اس قدر خلش پیدا ہوگئی کہ اس کے ہوتے ہوئے اسلامی قیادت پر اطمینان کی فضاقائم نہیں رہ سکتی تھی ۔ نہ اسلامی عقائد کے منبع و ماخذ پر مکمل اعتماد رہ سکتا تھا۔ اس لئے مسلمان بھی اس کی حکمت اور اس کے بارے میں اطمینان بخش دلائل پوچھنے لگے تھے ۔ یہ تھی وہ فضا جس میں قرآن کریم کی یہ آیات نازل ہوئیں ۔ ان میں بتایا گیا کہ احکامات میں نسخ ایک گہری حکمت پر مبنی ہوتی ہے۔ اس کے ذریعے اللہ تعالیٰ مسلمانوں کے لئے زیادہ بہتر احکامات نازل فرماتے ہیں ۔ ایسے احکامات جو نئے حالات میں مسلمانوں کے لئے زیاہ مفید ہیں ۔ کیونکہ اللہ ہی جانتا ہے کہ کن حالات میں کیا حکم بہتر ہے ۔ ساتھ ہی مسلمانوں کو اس امر سے بھی خبردار کردیا جاتا ہے کہ یہودیوں کا اصل مقصد اور کوشش صرف یہ ہے کہ وہ مسلمانوں کو ایمان لانے کے بعد دوبارہ کافر بناکر چھوڑدیں کیونکہ ان کو یہ حسد کھائے جارہا ہے کہ اللہ تعالیٰ نے وحی الٰہی جیسا فضل وکرم اور اعزازِ عظیم مسلمانوں کو کیوں بخشا ؟ کیونکہ اللہ نے اپنی آخری کتاب مسلمانوں پر نازل کردی ہے اور ان کے مقابلے میں یہ عظیم ذمہ داری کیوں ان کے سپرد کردی ہے ۔ قرآن کریم یہاں اس بات کو کھول کر بیان کرتا ہے کہ یہودیوں کی ان تما فتنہ سامانیوں کے پیچھے کون سا خفیہ مقصد کام کررہا ہے ۔ اس موقع پر قرآن کریم ان کے اس جھوٹے دعویٰ کا بھی مضحکہ اڑاتا ہے کہ جنت تو صرف ان کے لئے مخصوص ہے ۔ قرآن کریم ان کی آپس کی الزام تراشیوں کو بھی نقل کردیتا ہے کہ یہودی کہتے ہیں ” نصرانیوں کے دین کی کوئی حقیقت نہیں ہے۔ “ اور نصرانی کہتے ہیں ” یہودیوں کے دین کی کوئی حقیقت نہیں ہے ۔ “ اور مشرکین آگے بڑھ کر یہ دعویٰ کرتے ہیں ” دونوں باطل پر ہیں۔ “
قرآن کریم تحویل قبلہ کے معاملے میں ان کی بدنیتی اور خفیہ سازشوں کے راز کو یوں کھولتا ہے کہ بیت اللہ توروئے زمین پر اللہ کی پہلی عبادت گاہ ہے اور اس کی طرف چہرہ کرکے نماز پڑھنے سے لوگوں کو روک کر یہودی اللہ کی مساجد اور عبادت گاہوں کو خراب کرنے کے لئے ایسے جرم کے مرتکب ہورہے ہیں جو خود ان کے نزدیک بھی بہت بڑا جرم ہے ۔
غرض اس پورے سبق میں یہی مضمون آکر تک بیان کیا گیا ہے اور آخر میں مسلمانوں کے سامنے یہودیوں اور نصرانیوں کے اس مقصد کو واضح طور پر رکھ دیا گیا ہے ۔ جوان تمام کاروائیوں سے ان کے پیش نظر ہوتا ہے ۔ یعنی مسلمانوں کو اپنے اس دین حق سے پھیر کر اپنے دین پر لے آنا ۔ قرآن کہتا ہے کہ اہل کتاب نبی ﷺ سے اس وقت تک راضی نہیں ہوسکتے جب تک آپ ان کی ملت کے پیرو نہ بن جائیں ۔ جب تک آپ ان کی یہ آرزو پوری نہ کریں گے ، مکر و فریب اور جھوٹے پروپیگنڈے کی اس جنگ کو آخری وقت تک جاری رکھیں گے ۔ ان کی تمام فتنہ انگیزیوں ، فریب کاریوں اور ان کی جانب سے پیش کئے جانے والے تمام کھوکھلے دلائل کے پس پشت بس یہی ایک مقصد کارفرما ہے۔
درس 6 تشریح آیات (104 تا 123)
اس سبق کے شروع میں روئے سخن ” ان لوگوں کی طرف ہے جو ایمان لاچکے ہیں۔ “ مقصد یہ کہ دوسرے لوگوں سے ان مابہ الامتیاز کی صفت ایمان ہے ۔ یہی صفت ہے جس کی وجہ سے ایک طرف تو وہ اپنے نبی سے مربوط ہیں اور دوسری طرف اپنے پروردگار سے منسلک ہیں ۔ اور یہی صفت ہے کہ جس کے ساتھ اگر انہیں پکاراجائے تو اس کی وجہ سے ان کے دل متوجہ ہوجاتے ہیں ۔ اور وہ ہر پکار پر لبیک کہنے کے لئے تیار ہوجاتے ہیں ۔
اس صفت سے انہیں پکار کر اللہ تعالیٰ انہیں ہدایت دیتے ہیں کہ وہ نبی ﷺ سے مخاطب ہوتے وقت ” راعنا “ کا لفظ استعمال نہ کریں۔ بلکہ ” انظرنا “ (ہماری طرف رعایت کیجئے) کے بھی وہی معنی ہیں ۔ صفت ایمان کے ساتھ اپیل کرتے ہوئے قرآن کریم انہیں سمع اور طاعت اختیار کرنے کا حکم دیتا ہے اور کافروں کے برے ٹھکانے اور برے انجام یعنی عذاب الیم سے انہیں ڈراتا ہے۔
لفظ ” راعنا “ کے استعمال سے ممانعت کا سبب مفسرین نے یہ بتایا ہے کہ بعض احمق یہودی اس لفظ کو یوں ادا کرتے تھے کہ یہ مصدر ” رعایت “ کے بجائے ” رعونت “ کا مشتق معلوم ہوتا تھا۔ یہ لوگ یوں نبی کریم ﷺ کی توہین کرکے اور آپ کی شان میں گستاخی کرکے دل کی بھڑاس نکالنے کی کوشش کرتے تھے ۔ ان میں یہ جراءت تو تھی نہیں کہ اعلانیہ کھل کر نبی کریم ﷺ کو کچھ کہہ سکیں ۔ اس لئے یہودیوں کے بعض کمینے اور ذلیل لوگ یوں لفظی ہیر پھیر سے آپ کے حق میں بدزبانی کرنے کی سعی کرتے تھے ۔ اس لئے مؤمنین کو یہ حکم دیا گیا کہ وہ سرے سے وہ الفاظ استعمال نہ کریں ، جسے یہودی اس ذلیل مقصد کے لئے استعمال کررہے تھے تاکہ ان کی کمینگی کا دروازہ ہی بند ہوجائے۔
نبی ﷺ کی شان میں گستاخی کرنے کے لئے یہودیوں کی جانب سے ایسے ذلیلانہ ہتھکنڈوں کا استعمال اس امر کو اچھی طرح ظاہر کردیتا ہے کہ ان بدبختوں کو نبی کریم ﷺ اور آپ کی تحریک سے کس قدر بغض تھا ۔ اور کس طرح وہ آپ کے خلاف ہر گھٹیا حربہ استعمال کررہے کرنے کے لئے تیار رہتے تھے ۔ اور اس سلسلے میں کسی موقع کو بھی ہاتھ سے جانے نہیں دیتے تھے ۔ نیز ایسے موقع پر وحی الٰہی کے ذریعے ایسے الفاظ کے استعمال کی ممانعت کردینے سے یہ بات بھی ظاہر ہوجاتی ہے کہ اللہ تعالیٰ ہر وقت اپنے نبی اور تحریک اسلامی کے نگہبان تھے اور ان کے مکار دشمنوں کی سازشوں اور مکاریوں کا دفیعہ فرمادیتے تھے۔
اس کے بعد اللہ تعالیٰ مسلمانوں کو متنبہ کرتے ہیں کہ ان لوگوں کے دلوں مسلمانوں کے خلاف کس قدر بغض وکینہ بھرا ہوا ہے ۔ کیونکر یہ ہر وقت مسلمانوں کی عداوت اور ایذا رسانی پر کمر بستہ ہیں ۔ یہ سب کچھ وہ محض اس لئے کررہے ہیں کہ کیوں اللہ تعالیٰ نے مسلمانوں کو اپنے اس مخصوص فضل وکرم سے نوازا۔ یہ تفصیلات اللہ تعالیٰ نے اس لئے بیان کیں کہ مسلمان اپنے دشمنوں سے محتاط ہوجائیں اور جس ایمان کی وجہ سے ان کے دشمنوں کے دل جل اٹھے ہیں ، اس پر اور جم جائیں ۔ اور اللہ تعالیٰ نے ان پر جو خصوصی فضل فرمایا ہے اس کا شکریہ ادا کریں۔ اس کی حفاظت کریں۔
اللہ تعالیٰ یہاں اہل کتاب اور مشرکین دونوں کو کافروں کے زمرے میں داخل فرماتے ہیں ۔ کیونکہ یہ دونوں طبقے نبی آخرالزمان کی رسالت کے منکر تھے ، لہٰذا اس پہلو سے وہ دونوں ایک حیثیت رکھتے ہیں اور دونوں کے دل مسلمانوں کے حسد اور بغض سے بھرے ہوتے ہیں ، یہ دونوں نہیں چاہتے کہ مسلمانوں کو کوئی بھلائی نصیب ہو ۔ وہ مسلمانوں کی جس چیز سے بہت جل بھن گئے ہیں وہ ان کا دین ہے ۔ ان کو یہ بات کھلتی ہے کہ اللہ تعالیٰ نے انہیں چھوڑ کر اس بھلائی کے لئے مسلمانوں کو کیوں منتخب فرمایا۔ ان پر قرآن کی صورت میں وحی الٰہی کیوں نازل ہوئی ، انہیں اس انعام واکرام سے کیوں نوازا گیا ۔ اور کائنات کی عظیم ترین امانت ، یعنی اسلامی نظریہ حیات کا محافظ مسلمانوں کو کیوں قرار دیا گیا ۔
اس سے پہلے بیان ہوچکا ہے کہ یہ لوگ اس بات کے ہرگز روادار نہیں تھے کہ اللہ تعالیٰ اپنے فضل وکرم سے کسی اور بندے کو بھی نواز دے ۔ اس سلسلے میں ان کی تنگ دلی اس حد کو جاپہنچی ہے کہ نبی ﷺ پر پیغام وحی لے کر آنے کی وجہ سے یہ لوگ حضرت جبریل (علیہ السلام) کے بھی دشمن ہوگئے ہیں ۔ حالانکہ وَاللَّهُ يَخْتَصُّ بِرَحْمَتِهِ مَنْ يَشَاءُ ” اللہ جس کو چاہتا ہے اپنی رحمت کے لئے چن لیتا ہے ۔ “ نیز صرف اللہ ہی اس بات کو جانتا ہے کہ اس کی اس امانت و رسالت کا بہترین مہبط کہاں ہے ؟ اب اگر اللہ تعالیٰ نے یہ پیغام حضرت محمد ﷺ پر اتارا ہے اور مسلمان اس پر ایمان لاتے ہیں تو اللہ کے علم میں یہ بات موجود تھی کہ رسول اکرم ﷺ اور مؤمنین اس بار امانت کو اٹھانے کے اہل ہیں وَاللَّهُ ذُو الْفَضْلِ الْعَظِيمِ (105) ” اور وہ بڑا فضل فرمانے والا ہے۔ “
نبوت اور رسالت کی نعمت سے کوئی بڑی نعمت نہیں ہے ، اور دولت ایمان سے بڑی کوئی دولت نہیں ہے اور دعوت اسلامی کے اعزاز سے کوئی بڑا اعزاز نہیں ہے ۔ اللہ تعالیٰ مسلمانوں کو یہاں یہ احساس دلانا چاہتا ہے اور ان کے اندر یہ شعور اجاگر کرنا چاہتا ہے کہ اللہ تعالیٰ نے ان پر ایک عظیم احسان اور فضل وکرم کیا ہے ۔ اس سے پہلے مسلمانوں کو یہ تصور دلایا گیا تھا کہ مسلمانوں پر اللہ کے ان احسانات کی وجہ سے کفار کے دل کینہ اور حسد سے جل بھن گئے ہیں ۔ لہٰذا انہیں ان سے چوکنا رہنا چاہئے ۔ اس کا مقصد بھی یہی تھا کہ مسلمان ان سے محتاط رہیں اور یہودی سازشیوں کے مقابلے میں ان کا شعور تیز رہے ۔ یہودیوں کی وسوسہ اندازی اور تشکیک کے مقابلے میں مسلمانوں کے اندر اس قسم کے احساس و شعور کو بیدار کرنا ضروری تھا ، کیونکہ یہ لوگ اس وقت بھی اور اس کے بعد آج تک مسلمانوں کے دل و دماغ میں سے اس نظریہ حیات پر ایمان کمزور کرنے کی کوشش کررہے ہیں ۔ یہ دولت ایمان ہی تھی جس کی وجہ سے وہ مسلمانوں کے ساتھ حسد کرتے تھے ۔ کیونکہ اس کی وجہ سے مسلمان ان سے ممتاز اور برتر ہوگئے تھے ۔
جیسا کہ ہم نے اوپر بیان کیا ۔ یہودیوں کے اس حملے کا آغاز قرآن کریم کی بعض آیات اور احکامات کی تنسیخ سے ہوا تھا۔ بالخصوص جب بیت المقدس سے خانہ کعبہ کی قبلے کی تحویل کا حکم نازل ہوا۔ یہ واقعہ ایسا تھا جس کی وجہ سے یہودی اپنے دعوائے برتری کے اہم ثبوت سے محروم ہوگئے تھے اور انہوں نے یہ مذموم پروپیگنڈا تیز تر کردیا تھا۔ لہٰذا اللہ تعالیٰ نے فرمایا ! مَا نَنْسَخْ مِنْ آيَةٍ أَوْ نُنْسِهَا نَأْتِ بِخَيْرٍ مِنْهَا أَوْ مِثْلِهَا أَلَمْ تَعْلَمْ أَنَّ اللَّهَ عَلَى كُلِّ شَيْءٍ قَدِيرٌ(106)
یہ آیات تحویل قبلہ کے موقعہ پر نازل ہوئی ہیں ، جیسا کہ ان آیات کے بعد سیاق کلام سے بھی معلوم ہوتا ہے ۔ یا اس سے مراد وہ جزوی تبدیلیاں ہوں جو جماعت مسلمہ کی ہدایت کے لئے مختلف حالات میں احکامات قرآنی اور ہدایات الٰہی میں کی جارہی تھیں یا اس سے مراد قرآن کریم کی وہ مجموعی تبدیلیاں ہوں جو تورات وانجیل کے مقابلے میں قرآن نے کیں حالانکہ مجموعی لحاظ سے قرآن نے ان کتابوں کو کتب برحق کہا تھا۔ ان میں سے کوئی ایک مراد ہو یا تینوں مراد ہوں جنہیں یہودیوں نے اس وقت تحریک اسلامی کے خلاف پروپیگنڈے اور مسلمانوں کے اندر شبہات پھیلانے کی خاطر استعمال کیا تھا اور اسلام کے مرکزی عقائد پر حملے شروع کردئیے تھے ۔ بہرحال مراد جو بھی ہو قرآن کریم اس اس موقع پر احکامات میں تبدیلی اور نسخ کے بارے میں واضح یدایات دے دیتا ہے ۔ اور یہودیوں کی ان تمام وسوسہ اندازیوں اور نکتہ چینیوں کا خاتمہ کردیتا ہے جو وہ حسب عادت مختلف طریقوں سے ، اسلامی نظریہ حیات کے خلاف کرتے رہتے تھے۔
قرآن کریم کہتا ہے کہ زمانہ ٔ رسالت کے دوران ہدایات واحکامات میں جزوی تبدیلی خود انسانوں کی بھلائی کے لئے کی جاتی ہے ۔ اور ہر تبدیلی بدلے ہوئے حالات میں انسانیت کی بہتری ہی کے لئے کی جاتی ہے کیونکہ اللہ ہی انسانوں کا خالق ہے ۔ اسی نے رسول بھیجے ہیں ۔ وہی ان احکامات کا نازل کرنے والا ہے ۔ اور یہ سب کچھ اس کے مقررہ پروگرام کے مطابق ہوتا ہے۔ چناچہ جب اللہ تعالیٰ کسی آیت کو منسوخ کردیتا ہے یا بھلا دیتا ہے ۔ آیت سے مراد پڑھی جانے والی آیات قرآن ہو جو احکامات پر مشتمل ہوتی ہے۔ یا اس سے مراد وہ علامت یا طبعی معجزات اور خارق عادات وقعات ہوں جن کا صدور مختلف حالات میں پیغمبروں کے ہاتھوں ہوا کرتا تھا۔ اور بعد میں یہ آیات ومعجزات لپیٹ دیئے جاتے تھے ۔ جو بھی مراد ہو ، اللہ تعالیٰ وہ کسی چیز کے معاملے میں بےبس نہیں ہے ۔ زمین و آسمان کے تمام امور اس کے دست قدرت میں ہیں ۔ یہی وجہ ہے کہ اس کے بعد اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں۔