اس صفحہ میں سورہ Al-Baqara کی تمام آیات کے علاوہ فی ظلال القرآن (سید ابراہیم قطب) کی تمام آیات کی تفسیر بھی شامل ہے۔ پہلے حصے میں آپ سورہ البقرة کو صفحات میں ترتیب سے پڑھ سکتے ہیں جیسا کہ یہ قرآن میں موجود ہے۔ کسی آیت کی تفسیر پڑھنے کے لیے اس کے نمبر پر کلک کریں۔
مَثَلُهُمْ كَمَثَلِ ٱلَّذِى ٱسْتَوْقَدَ نَارًا فَلَمَّآ أَضَآءَتْ مَا حَوْلَهُۥ ذَهَبَ ٱللَّهُ بِنُورِهِمْ وَتَرَكَهُمْ فِى ظُلُمَٰتٍ لَّا يُبْصِرُونَ
صُمٌّۢ بُكْمٌ عُمْىٌ فَهُمْ لَا يَرْجِعُونَ
أَوْ كَصَيِّبٍ مِّنَ ٱلسَّمَآءِ فِيهِ ظُلُمَٰتٌ وَرَعْدٌ وَبَرْقٌ يَجْعَلُونَ أَصَٰبِعَهُمْ فِىٓ ءَاذَانِهِم مِّنَ ٱلصَّوَٰعِقِ حَذَرَ ٱلْمَوْتِ ۚ وَٱللَّهُ مُحِيطٌۢ بِٱلْكَٰفِرِينَ
يَكَادُ ٱلْبَرْقُ يَخْطَفُ أَبْصَٰرَهُمْ ۖ كُلَّمَآ أَضَآءَ لَهُم مَّشَوْا۟ فِيهِ وَإِذَآ أَظْلَمَ عَلَيْهِمْ قَامُوا۟ ۚ وَلَوْ شَآءَ ٱللَّهُ لَذَهَبَ بِسَمْعِهِمْ وَأَبْصَٰرِهِمْ ۚ إِنَّ ٱللَّهَ عَلَىٰ كُلِّ شَىْءٍ قَدِيرٌ
يَٰٓأَيُّهَا ٱلنَّاسُ ٱعْبُدُوا۟ رَبَّكُمُ ٱلَّذِى خَلَقَكُمْ وَٱلَّذِينَ مِن قَبْلِكُمْ لَعَلَّكُمْ تَتَّقُونَ
ٱلَّذِى جَعَلَ لَكُمُ ٱلْأَرْضَ فِرَٰشًا وَٱلسَّمَآءَ بِنَآءً وَأَنزَلَ مِنَ ٱلسَّمَآءِ مَآءً فَأَخْرَجَ بِهِۦ مِنَ ٱلثَّمَرَٰتِ رِزْقًا لَّكُمْ ۖ فَلَا تَجْعَلُوا۟ لِلَّهِ أَندَادًا وَأَنتُمْ تَعْلَمُونَ
وَإِن كُنتُمْ فِى رَيْبٍ مِّمَّا نَزَّلْنَا عَلَىٰ عَبْدِنَا فَأْتُوا۟ بِسُورَةٍ مِّن مِّثْلِهِۦ وَٱدْعُوا۟ شُهَدَآءَكُم مِّن دُونِ ٱللَّهِ إِن كُنتُمْ صَٰدِقِينَ
فَإِن لَّمْ تَفْعَلُوا۟ وَلَن تَفْعَلُوا۟ فَٱتَّقُوا۟ ٱلنَّارَ ٱلَّتِى وَقُودُهَا ٱلنَّاسُ وَٱلْحِجَارَةُ ۖ أُعِدَّتْ لِلْكَٰفِرِينَ
چناچہ مزید وضاحت کی خاطر قرآن کریم مثالیں دے کر اس گروہ کی نفسیات ، اس کے مزاج کے تلون ، اس کی بےثباتی اور قلابازیوں کی مزید نشان دہی کرتا ہے کہ ایسے افراد کے خدوخال نکھر کر ہمارے سامنے آجائیں ۔
مَثَلُهُمْ كَمَثَلِ الَّذِي اسْتَوْقَدَ نَارًا فَلَمَّا أَضَاءَتْ مَا حَوْلَهُ ذَهَبَ اللَّهُ بِنُورِهِمْ وَتَرَكَهُمْ فِي ظُلُمَاتٍ لا يُبْصِرُونَ
” ان کی مثال ایسی ہے جیسے ایک شخص نے آگ روشن کی اور جب سارا ماحول چمک اٹھا تو اللہ نے ان کا نور بصارت سلب کرلیا اور انہیں اس حال میں چھوڑ دیا کہ تاریکیوں میں انہیں کچھ نظر نہیں آتا ۔ یہ بہرے ہیں ، گونگے ہیں ، اندھے ہیں ، اسی لئے یہ اب نہ پلٹیں گے ۔ “
اس سے معلوم ہوتا ہے کہ ابتداء میں ان کا رویہ ایسا نہ تھا کہ انہوں نے ہدایت سے اعراض کیا ہو ، یا اپنے کانوں میں انگلیاں ٹھونس لی ہوں ، آنکھیں بند کرلی ہوں اور نہ یہ صورت تھی کہ انہوں نے اس تحریک کے مطالعے سے انکار کیا ہو ، جیسا کہ کفار نے کیا لیکن بعد میں انہوں نے ہدایت کے بدلے گمراہی کو پسند کرلیا اور یہ فیصلہ انہوں نے سوچ سمجھ کر غور وخوض کے بعد کیا ۔ انہوں نے آگ جلائی ۔ اس نے ان کے ماحول کو روشن بھی کیا لیکن انہوں نے اس سے کوئی فائدہ نہیں اٹھایا حالانکہ وہ روشنی کے متلاشی تھے۔ جب ان لوگوں نے اپنی مطلوب روشنی کو پاکر بھی اس منہ موڑا تو اللہ نے ان کے اس رویے کی وجہ سے ان کا نور بصارت ہی سلب کرلیا اور انہیں اس حال میں چھوڑدیا کہ تاریکی میں بھٹکتے پھریں کیونکہ انہوں نے عین اس چیز سے منہ موڑا جس کے وہ طالب تھے ۔
اللہ نے انسان کو آنکھ ، کان اور زبان دی ہی اس لئے ہے کہ انسان بات سن سکے ۔ روشنی کو دیکھ سکے اور نور ہدایت سے فائدہ اٹھائے ۔ لیکن انہوں نے اپنے کانوں سے کام نہ لیا ۔ بہرے قرار پائے ۔ انہوں نے اپنی زبان سے بھی کام نہ لیا ۔ پس گونگے قرار دیے گئے ، انہوں نے آنکھ سے دیکھنا ہی بند کردیا لہٰذا اندھے بن گئے ۔ ظاہر ہے کہ ایسے حالات میں ان کے لئے ممکن نہیں ہے کہ وہ حق کی طرف لوٹ سکیں ، راہ ہدایت کی طرف مڑسکیں اور صداقت کی روشنی کو دیکھ سکیں ۔
اب ایک دوسری تمثیل کے ذریعے ان کی نفسیاتی صورتحال کا تجزیہ کیا جاتا ہے ۔ جس سے ان کے اندرونی اضطراب ، حیرت اور خوف وبے چینی کا اظہار ہوتا ہے ۔ أَوْ كَصَيِّبٍ مِنَ السَّمَاءِ........ إِنَّ اللَّهَ عَلَى كُلِّ شَيْءٍ قَدِيرٌ” یا پھر ان کی مثال یوں سمجھو کہ آسمان سے زور کی بارش ہورہی ہے ، اور اس کے ساتھ اندھیری گھٹا اور کڑک اور چمک بھی ہے ۔ یہ بجلی کے کڑاکے سن کر اپنی جانوں کے خوف سے کانوں میں انگلیاں ٹھونسے لیتے ہیں اور اللہ ان منکرین حق کو ہر طرف سے گھیرے میں لئے ہوئے ہے ۔ چمک سے ان کی حالت یہ ہورہی ہے کہ گویا عنقریب بجلی ان کی بصارت لے جائے ۔ جب ذرا کچھ روشنی انہیں محسوس ہوتی ہے تو اس میں کچھ دور چل لیتے ہیں ۔ جب ان پر اندھیرا چھا جاتا ہے تو کھڑے ہوجاتے ہیں ۔ اللہ چاہتا تو ان کی سماعت اور بصارت بالکل ہی سلب کرلیتا یقینا وہ ہر چیز پر قادر ہے ۔ “
عجیب منظر ہے یہ بھی ، جس دوڑ بھاگ ، قلق و اضطراب ، گمراہی وضلالت ، خوف ورعب ، جزع وفزع ، حیرانی و پریشانی ، چمک دمک اور چیخ و پکار کی مختلف تصویریں رواں اور دواں نظر آتی ہیں ۔ آسمان سے موسلا دھار بارش ہورہی ہے اور اس کے ساتھ اندھیری گھٹائیں اور نیز چمک اور بجلی کے کڑاکے کی سخت آوازیں ہیں ۔ کچھ لوگ ہیں جو اس تیز چمک کی روشنی میں آگے بڑھنے کی کوشش کررہے ہیں ۔ اچانک اندھیرا ہوجاتا ہے ۔ بےچارے کھڑے ہوجاتے ہیں ، حیران وپریشان ہیں ، نہیں جانتے کہ کدھر جائیں ، مارے خوف کے کانپ رہے ہیں اور بجلی کے کڑاکے سن کر جان نکلی جارہی ہے اور اس کی وجہ سے کانوں میں انگلیاں ٹھونس لیتے ہیں ۔
پورامنظر اس تگ وتاز سے بھرا ہوا ہے ، موسلا دھار بارش ، تاریکیاں ، کڑک اور چمک ، خوفزدہ اور پریشان مسافر جو ڈرتے ڈرتے کچھ قدم آگے بڑھاتے ہیں اور اندھیرا آتے ہی رک جاتے ہیں ۔ اس پورے منظر سے قرآن کریم یہ مثبت تاثر دینا چاہتا ہے کہ منافقین کسی طرح قلق و اضطراب ، حیرانی و پریشانی ، گمراہی وسرگردانی کا شکار ہیں ۔ ادھر مومنین سے ملتے ہیں ۔ ادھر اپنے شیاطین سے بھی ان کی ملاقات ہے ۔ ادھر اقرار حق ہے تو ایک لحظہ بعد انکار اور سرکشی ہے ۔ وہ نور اور ہدایت کے متلاشی ہیں ۔ لیکن وہ عملاً اندھیروں اور گمراہیوں میں پھنسے ہوئے ہیں ۔ یہ ایک انتہائی محسوس تمثیل اور منظر ہے لیکن منافقین کی خفیہ ترین نفسیاتی صورتحال کو آئینہ دکھارہا ہے۔ شعوری صورتحال کو مجسم شکل میں ظاہر کررہا ہے ۔ یہ قرآن مجید کا مخصوص اور عجیب اسلوب بیان ہے ۔ قرآن کرین نفسیاتی اور الجھی ہوئیی ذہنی کیفیات کو اس طرح مخصوص انداز میں بیان کرتا ہے کہ وہ مجسم شکل میں آنکھوں کے سامنے کھڑی ہوئی نظر آتی ہیں ۔
مذکورہ بالا تین قسم کے لوگوں کی تصویر کشی کے بعد سیاق کلام اب پوری انسانیت کو دعوت دینے کی طرف مڑجاتا ہے ۔ پوری انسانیت سے کہا جاتا ہے کہ وہ ان تین تصاویر میں سے سیدھی اور شریفانہ ، پاک وخالص ، سرگرم عمل اور نفع بخش اور ہدایت یافتہ اور کامیاب تصویر یعنی متقین کی تصویر کو اختیار کرے ۔ چناچہ کہا جاتا ہے :
يَا أَيُّهَا النَّاسُ اعْبُدُوا رَبَّكُمُ الَّذِي خَلَقَكُمْ وَالَّذِينَ مِنْ قَبْلِكُمْ لَعَلَّكُمْ تَتَّقُونَ (21) الَّذِي جَعَلَ لَكُمُ الأرْضَ فِرَاشًا وَالسَّمَاءَ بِنَاءً وَأَنْزَلَ مِنَ السَّمَاءِ مَاءً فَأَخْرَجَ بِهِ مِنَ الثَّمَرَاتِ رِزْقًا لَكُمْ فَلا تَجْعَلُوا لِلَّهِ أَنْدَادًا وَأَنْتُمْ تَعْلَمُونَ (22)
” اے لوگو ! بندگی اختیارکرو اپنے اس رب کی جو تمہارا اور تم سے پہلے جو لوگ ہو گزرے ہیں ، ان سب کا خالق ہے ، تمہارے بچنے کی توقع اسی صورت میں ہوسکتی ہے ۔ وہی تو ہے جس نے تمہارے لئے زمین کا فرش بچھایا ، آسمان کی چھت بنائی ۔ اوپر سے پانی برسایا اور اس کے ذریعے سے ہر طرح کی پیداوار نکال کر تمہارے لئے رزق بہم پہنچایا ۔ پس جب تم یہ جانتے ہو تو دوسروں کو اللہ کا مدمقابل نہ ٹھہراؤ۔ “
اب گویا یہ تمام لوگوں کو دعوت ہے کہ وہ اس رب واحد کی بندگی میں داخل ہوجائیں جس نے انہیں پیدا کیا ہے ۔ اور اسی نے ان کے آباء واجداد کو بھی پیدا کیا ہے ۔ وہ ایسا رب ہے جو اکیلا اس کائنات کا خالق ہے لہٰذا صرف وہی اس بات کا مستحق ہے کہ اس کی بندگی کی جائے ۔ اور اس کی بندگی کا ایک خاص مقصد ہے اور توقع ہے کہ اللہ کی بندگی کرکے تمام لوگ اس مقصد تک جاپہنچیں اور اسے حاصل کرلیں ۔ اور وہ مقصد یہ ہے لَعَلَّكُمْ تَتَّقُونَ ” تاکہ تم پرہیز گار بن جاؤ۔ “ تم انسانی زندگی کا وہ نقشہ اختیار کرلو جو پسندیدہ ہے اور جو اللہ کو پسند ہے ۔ یعنی اللہ کی بندگی کرنے والوں اور اس سے ڈرنے والوں کا نقش حیات ، جنہوں نے اللہ کی خالقیت اور ربوبیت کا حق صحیح طرح ادا کردیا ، صرف ایک خالق کی بندگی کی ، جو تم حاضر اور گذشتہ لوگوں کا خالق ہے ، اور جس نے آسمان و زمین کے وسائل کے ذریعہ ان کے رزق کا بندوبست کیا اور اس کام میں اس کا نہ کوئی مساوی ہے اور نہ شریک ۔ الَّذِي جَعَلَ لَكُمُ الأرْضَ فِرَاشًا ” جس نے تمہارے لئے زمین کا فرش بچھایا۔ “
اس تعبیر سے معلوم ہوتا ہے کہ اللہ تعالیٰ نے زمین پر انسانی حیات کو بےحد سہل بنایا ہے ۔ زمین کو اس طرح بنایا کہ وہ انسانوں کے لئے خوشگوار رہائش گاہوں اور فرش کی طرح محفوظ جائے قیام ہو۔ لیکن انسان چونکہ ایک طویل عرصہ تک یہاں رہتے ہیں ۔ اس لئے ان کے شعور سے زمین و آسمان کی یہ خوشگواری محو ہوجاتی ہے ۔ وہ اس بات کو بھول جاتے ہیں کہ اللہ تعالیٰ نے ان کے وسائل حیات فراہم کرنے کے واسطے اس زمین کے موسم کو ان کے لئے کیسا موافق اور خوشگوار بنایا ہے ، اور ان کے لئے اس جہاں میں آرام اور آسائش کے کیا کیا ذرائع بہم پہنچائے ہیں ۔ اگر یہ وسائل نہ ہوتے تو اس کرہ ارض پر ان کی زندگی اس قدر خوشگوار ، سہل اور پرسکون نہ ہوتی ۔ اس کائنات کے عناصرترکیبی میں سے اگر کوئی ایک عنصر بھی غائب ہوجائے تویہاں کا ماحول اس قدر تبدیل ہوجائے کہ اس میں اس پوری انسانیت کی نشوونما محال ہوجائے۔ صرف ہوا ہی کی مثال لیجئے کہ جن مقررہ عناصر پر یہ مشتمل ہے ، اگر ان میں ذرہ بھر کمی ہوجائے تو لوگوں کے لئے زمین پرسانس لینا دشوار ہوجائے ۔ اگرچہ انہوں نے ابھی زندہ رہنا ہے۔
وَالسَّمَاءَ بِنَاءً ” اور آسمان کو چھت بنایا “ یعنی آسمان ایک چھت کی طرح موزوں اور پختہ ہے ۔ اسی زمین میں انسان کی زندگی اور اس زندگی کی آسائشوں کے ساتھ آسمان کو گہرا ربط ہے۔ آسمان کی حرارت اجرام فلکی کی جاذبیت اور توازن وغیرہ غرض زمین و آسمان کے تمام طبعی روابط ممد حیات ہیں اور اس زمین میں قیام حیات کے لئے تمہید اور خشت اول ہیں ۔ یہی وجہ ہے کہ قرآن میں جب بھی اس جہان کے خالق کی قدرت کا بیان ہوتا ہے ، انسان کے رازق کی کبریائی بیان ہوتی ہے اور یہ کہا جاتا ہے کہ تمام مخلوق اور تمام انسانوں کا یہ فرض ہے کہ وہ صرف اسی کی عبادت کریں ۔ چناچہ تمام ایسے مواقع پر اللہ کے احسانات کا ذکر ہوتا ہے ۔
وَأَنْزَلَ مِنَ السَّمَاءِ مَاءً فَأَخْرَجَ بِهِ مِنَ الثَّمَرَاتِ رِزْقًا لَكُمْ ” اوپر سے پانی برسایا اور اس کے ذریعے سے ہر طرح کی پیداوار نکال کر تمہارے لئے رزق بہم پہنچایا۔ “ اللہ جل شانہ کی قدرت اور اس کے انعامات کے تذکرے کے ضمن میں ، آسمان سے پانی برسانے اور اس کے ذریعے مختلف قسم کی پیداوار نکالنے کا ذکر قرآن مجید کے متعدد مقامات میں کیا گیا ہے ۔ چناچہ آسمان سے اترنے والا پانی ، طبعی نقطہ نظر سے بھی اس زمین پر قیام حیات کا بنیادی عنصر ہے ۔ زمین پر زندگی اپنی مختلف شکلوں اور درجوں میں ، اسی پانی کی رہین منت ہے ۔ قرآن مجید میں وَجَعَلنَا مِنَ المَآءِ کُلَّ شَیئٍ حَیٍّ ” اور ہم نے ہر چیز کو پانی سے زندہ بنایا۔ “ کبھی تو پانی بارش کی صورت میں کھیتوں کو سیراب کرتا ہے ، کبھی وہ میٹھی ندیوں اور نہروں کی صورت میں بہتا ہے ۔ اور کبھی وہ زمین کی رگوں میں سرایت کرجاتا ہے اور چشموں اور کنووں کی صورت میں نمودار ہوتا ہے اور آلات کے ذریعے زراعت اور کھیتی باڑی کے کام میں استعمال ہوتا ہے ۔
زمین میں پانی کی اہمیت ، یہاں بقائے حیات میں اس کا کردار اور مختلف چیزوں کی زندگی کا اس پر موقوف ہونا ، ایک ایسی بدیہی اور مسلم بات ہے جس کی طرف اشارہ اور یاد دہانی ہی کافی ہے ۔ مقصد یہ ہے کہ اللہ جو ہمارا خالق اور رازق ہے اور جس نے یہ تمام نعمتیں ہمیں بخشیں ہیں وہ اس بات کا مستحق ہے کہ ہم صرف اسی کی بندگی کریں ۔
اس طریقہ دعوت سے ، اسلامی تصور حیات کے دو اہم اصول خود بخود واضح ہوجاتے ہیں ، ایک یہ کہ اس پوری کائنات کا خالق ایک ہے ۔ الَّذِي خَلَقَكُمْ وَالَّذِينَ مِنْ قَبْلِكُمْ ” جس نے تمہیں اور تم سے پہلے جو لوگ ہو گزرے ہیں ، ان سب کو پیدا کیا۔ “ یعنی یہ کائنات ایک ہے ، اس کی اکائیوں اور اجزا کے درمیان مکمل ہم آہنگی ہے اور وہ انسان اور زندگی کے لے معین و مددگار ہے ۔
الَّذِي جَعَلَ لَكُمُ الأرْضَ فِرَاشًا وَالسَّمَاءَ بِنَاءً وَأَنْزَلَ مِنَ السَّمَاءِ مَاءً فَأَخْرَجَ بِهِ مِنَ الثَّمَرَاتِ رِزْقًا لَكُمْ فَلا تَجْعَلُوا لِلَّهِ أَنْدَادًا وَأَنْتُمْ تَعْلَمُونَ
” وہی تو ہے جس نے تمہارے لئے زمین کا فرش بچھایا ، آسمان کی چھت بنائی ، اوپر سے پانی برسایا اور اس کے ذریعے سے ہر طرح کی پیداوار نکال کر تمہارے لئے رزق بہم پہنچایا۔ “ زمین ایک تخت کی طرح بچھی ہوئی ہے ۔ اس کی فضاؤں کا نظام قانون قدرت میں بندھا ہوا ہے اس کے ذریعہ آبپاشی کا ایسا انتظام کیا گیا ہے کہ روئے زمین پر لوگوں کی ضروریات کی فراہمی کے لئے ہر قسم کی پیداوار کا بندوبست کردیا گیا ہے ۔ یہ سب کچھ کس کے لئے ؟ حضرت انسان کے لئے ۔ اور یہ سب اس کائنات کے خالق وحدہ لاشریک کا کمال ہے۔
فَلا تَجْعَلُوا لِلَّهِ أَنْدَادًا وَأَنْتُمْ تَعْلَمُونَ ” پس جب تم یہ جانتے ہو تو دوسروں کو اللہ کا مدمقابل نہ ٹھہراؤ۔ “ تم اچھی طرح جانتے ہو کہ اس نے تمہیں پیدا کیا ۔ تم سے قبل جو لوگ ہو گزرے ہیں ان سب کو پیدا کیا ۔ تم جانتے ہو کہ اسی نے تمہارے لئے زمین کو فرش بنایا اور آسمان کو چھت بنایا ۔ آسمان سے پانی اتارا اور اس پورے کام میں اس کا کوئی مددگار نہ تھا جو اس کام میں اس کا ہاتھ بٹاتا۔ نہ کوئی مدمقابل تھا جو اس کی کسی بات کی مخالفت کرتا ۔ لہٰذا اس علم کے بعد بھی اس کے ساتھ کسی کو شریک کرنا نہایت ہی نامناسب طرز عمل ہے ۔
عقیدہ توحید کو صاف و شفاف طریقے سے ذہنوں میں بٹھانے کے لئے قرآن کریم ، اللہ تعالیٰ کے جن شریکوں کی بار بار نفی اور تردید کرتا ہے ، وہ ہمیشہ صرف اسی معروف صورت میں نہیں ہوتے کہ کچھ بت یا اشخاص ہوں جنہیں اللہ کا شریک بناکر ان کی پوجا کی جائے بلکہ کبھی وہ اس کے علاوہ دوسری خفی صورتوں میں بھی ہوتے ہیں ۔ مثلاً اللہ تعالیٰ کے سوا کسی سے کسی قسم کی امید رکھنا اللہ کے سوا کسی سے کسی قسم کا خوف اپنے دل میں رکھنا بھی شرک ہوتا ہے۔ نیز یہ اعتقاد رکھنا بھی شرک ہے کہ اللہ کے سوا کوئی اور بھی نفع ونقصان پہنچاسکتا ہے ۔ حضرت ابن عباس ؓ فرماتے ہیں انداد شرک ہے اور یہ اس قدر خفی ہوتی ہے جس طرح اندھیری رات میں سیاہ پتھر پر چیونٹی کا آہستہ آہستہ چلنا پوشیدہ ہوتا ہے اور اس کی کئی صورتیں ہیں مثلاً کوئی کہے کہ ” اے فلاں خدا کی قسم ، میری جان کی قسم ، تیری جان کی قسم ۔ “ یا کوئی کہے ” اگر گئی رات کتیا نہ ہوتی تو چور ہمیں لوٹ لیتے ، “ یا کوئی کہے ” اگر گھر میں بطخ نہ ہوتی تو چور آجاتے ۔ “ یا کوئی اپنے دوست سے کہے جو اللہ چاہے اور جو آپ چاہیں ۔ یا کسی کا یہ کہنا کہ ” اگر اللہ اور فلاں نہ ہوتے تو “ غرض یہ سب اقوال شرک ہیں ۔ نیز حدیث شریف میں آتا ہے کہ کسی شخص نے رسول اللہ ﷺ سے کہا ” جو اللہ چاہے اور جو آپ چاہیں ۔ “ تو آپ ﷺ نے فرمایا ” کیا تم مجھے اللہ کا شریک بنانا چاہتے ہو۔ “
یہ تھا سلف صالحین کا نقطہ نظر شرک خفی اور اللہ کے شریکوں کے بارے میں ہمیں چاہئے کہ ہم ذرا گریبان میں سر ڈال کر اپنے حال پر غور کریں ۔ کہاں سلف کا شرک کے بارے میں یہ شدیداحساس اور کہاں ہم ؟ کس قدر دور ہوگئے ہیں ہم عقیدہ توحید کی اس عظیم الشان سچائی سے ؟
یہودیوں کو نبی ﷺ کی رسالت میں شک تھا ۔ منافقین بھی اس میں شک کرتے تھے اور مشرکین کی بھی یہی حالت تھی ۔ قرآن کریم یہاں سب کو چیلنج دیتا ہے ۔ اور ان کے سامنے ایک فیصلہ کن عملی تجربہ رکھ کر ان کو دعوت دیتا ہے کہ وہ اس قرآن جیسی کتاب بنالائیں۔
وَإِنْ كُنْتُمْ فِي رَيْبٍ مِمَّا نَزَّلْنَا عَلَى عَبْدِنَا فَأْتُوا بِسُورَةٍ مِنْ مِثْلِهِ وَادْعُوا شُهَدَاءَكُمْ مِنْ دُونِ اللَّهِ إِنْ كُنْتُمْ صَادِقِينَ (23)
” اگر تمہیں اس امر میں شک ہے کہ یہ کتاب جو ہم نے اپنے بندے پر اتاری ہے ، یہ ہماری ہے یا نہیں ، تو اس کے مانند ایک ہی سورت بنالاؤ، اپنے سارے ہم نواؤں کو بلالو ، ایک اللہ کو چھوڑ کر باقی جس کی چاہو مدد لے لو ، اگر تم سچے ہو۔ “
یہ چیلنج ایک خاص انداز سے شروع ہوتا ہے ، جو اس مقام میں اہمیت رکھتا ہے ۔ یہاں اللہ تعالیٰ نے نبی ﷺ کی صفت عبودیت کا ذکر فرمایا ہے کہ ہم نے اپنے بندے پر کتاب اتاری ہے اگر تمہیں اس بارے میں شک ہے کہ وہ ، ہماری جانب سے ہے یا نہیں تو تم اس جیسی کوئی کتاب بنالاؤ۔
یہاں نبی ﷺ کو ” اپنا بندہ “ کہا گیا ہے ، اس سے متعدد اور باہم مربوط باتوں کی طرف اشارہ کیا گیا ہے ۔ مثلاً یہ کہ آپ ﷺ کو ” ہمارا بندہ “ کہہ کر آپ کی عظمت شان کی طرف اشارہ کیا گیا ہے ۔ مقصد یہ کہ اللہ کی بندگی اور غلامی ، وہ بلند ترین اعزاز ہے جو کسی انسان کو یہاں دیا جاسکتا ہے اور جس پر کوئی فخر کرسکتا ہے ۔ دوسرے یہ کہ نبی ﷺ کو اپنا بندہ اور غلام کہہ کر اس بات کی طرف اشارہ کیا گیا ہے کہ ذات باری کے ساتھ کوئی شریک نہیں ہے اور نہ کوئی اس کا ہمسر ہے ۔ بلکہ سب لوگ اسی کے بندے اور غلام ہیں اور تو اور حضرت نبی ﷺ پیغمبر اور مورد وحی ہونے کے باوجود اللہ کے غلام اور بندے ہیں اور انہیں اپنے اس اعزاز پر فخر ہے ۔
اس چیلنج میں اس بات کو پیش نظر رکھا گیا ہے کہ سورة کے آغاز میں حروف تہجی کا ذکر تھا۔ اور یہ کتاب انہی حروف کلمات سے مرکب ہے جو ان کی دسترس میں ہیں ۔ اگر انہیں اس کتاب کے منزل من اللہ ہونے میں کوئی شبہ ہے تو یہ حروف ان کے پاس موجود ہیں ۔ انہیں چاہئے کہ وہ اس جیسی کوئی ایک سورت مرتب کرکے لے آئیں ۔ اور اس کام میں اپنے تمام ہمنواؤں اور مددگاروں سے بھی کام لیں تاکہ وہ اس سلسلے میں ان کے حق میں کوئی بات کریں۔ جہاں تک باری تعالیٰ کا تعلق ہے اس نے تو اپنے بندے کے حق میں گواہی دے دی ہے کہ وہ سچا ہے۔
یہ چیلنج جو متشککین قرآن کو دیا گیا ، رسول اللہ ﷺ کی پوری زندگی میں اور آپ ﷺ کے بعد قائم رہا۔ اور آج بھی ہمارے دور تک اسی طرح قائم ہے ۔ یہ ایک ایسی دلیل ہے جس کا کسی کے پاس کوئی جواب نہیں ہے ۔ آج تک قرآن کریم اور تمام انسانی تحریروں اور ادبی شہ پاروں کے درمیان واضح فرق قائم ہے اور قیامت تک یونہی رہے گا اور یہ فرق قیامت تک اللہ تعالیٰ کے اس فرمان کی تصدیق کرتا رہے گا۔
فَإِنْ لَمْ تَفْعَلُوا وَلَنْ تَفْعَلُوا فَاتَّقُوا النَّارَ الَّتِي وَقُودُهَا النَّاسُ وَالْحِجَارَةُ أُعِدَّتْ لِلْكَافِرِينَ (24)
” لیکن اگر تم نے ایسا نہ کیا ، اور یقینا کبھی نہیں کرسکتے ، تو ڈرو اس آگ سے ، جس کا ایندھن بنیں گے انسان اور پتھر جو مہیا کی گئی ہے منکرین حق کے لئے ۔ “
یہ چیلنج اگر عجیب ہے تو یہ جزم کہ اسے قیامت تک کوئی قبول ہی نہیں کرسکتا ، اس سے عجیب تر ہے ، اگر کفار کے بس میں یہ بات ہوتی کہ وہ اس جیسی کتاب بنالائیں تو وہ ایک لحظہ کے لئے بھی توقف نہ کرتے ۔ قرآن کا یہ کہہ دینا کہ ” وہ یقینا اس جیسی کتاب نہیں لاسکتے ۔ “ اور اس کے بعد صدیوں تک فی الواقعہ مخالفین کا عاجز وہ جانا ہی اپنی جگہ ایک ایسا کھلا معجزہ ہے ، جس میں کسی قسم کے شک وشبہ کی کوئی گنجائش نہیں ۔ یہ مخالفین کے لئے ایک عام چیلنج تھا ۔ ان کے لئے میدان کھلا تھا ۔ اگر وہ اس جیسی کوئی کتاب لے ہی آتے تو قرآن کا اعجاز ہمیشہ کے لئے ختم ہوسکتا تھا مگر وہ ایسا نہ کرسکے اور نہ ایسا کر ہی سکیں گے ۔ اگر ابتداً خطاب ایک نسل کو تھا لیکن دراصل یہ پوری انسانیت کو چیلنج دیا گیا تھا اور اعجاز قرآن اور حجیت قرآن کا تاریخی فیصلہ تھا۔
جو لوگ انسانی اسالیب کلام کا کسی قدر ذوق رکھتے ہیں ۔ جنہیں ، اس کائنات اور موجودات کے بارے میں انسانی تصورات سے کچھ بھی واقفیت ہے اور جو لوگ انسان کے بنائے ہوئے طریقوں اور نظاموں کے بارے میں کچھ بھی جانتے ہیں اور اس کے قائم کئے ہوئے نفسیاتی اور اجتماعی تصورات میں کسی قدر بھی درک رکھتے ہیں ۔ وہ یقینا اس بات کو اچھی طرح سمجھتے ہیں کہ اس سلسلے میں قرآن جو کچھ کہتا ہے وہ بالکل ایک دوسری ہی چیز ہے اور اسے ان گھروندوں سے کوئی نسبت ہی نہیں ہے ، جو یہ بےچارہ انسان بناتا رہتا ہے۔ اس بارے میں اگر کوئی شک وشبہ میں مبتلا ہے تو وہ جاہل ہے ، اسے کھرے کھوٹے کی کوئی تمیز نہیں ہے یا وہ اپنے کسی مفاد کی خاطر حق و باطل کو گڈمڈ کررہا ہے۔
یہی وجہ ہے کہ جو لوگ اس چیلنج کے مقابلے میں عاجز آگئے اور پھر بھی انہوں نے اس کھلی سچائی کو تسلیم نہ کیا ان کے بارے میں یہ وعید شدید آتی ہے ۔
فَاتَّقُوا النَّارَ الَّتِي وَقُودُهَا النَّاسُ وَالْحِجَارَةُ أُعِدَّتْ لِلْكَافِرِينَ ” توڈرو اس آگ سے ، جس کا ایندھن بنیں گے انسان اور پتھر جو مہیا کی گئی ہے منکرین حق کے لئے ۔ “
اس میں انسان پتھروں کے ساتھ کیوں جمع کئے گئے۔ اور پھر اس خوفناک اور ڈراؤنی صورت میں ؟ اس لئے کہ وہ آگ منکرین حق کے لئے تیار کی گئی ہے ۔ وہ منکرین جن کا ذکر اس سورت کے آغاز میں ان الفاظ میں کیا گیا تھا کہ ” اللہ نے ان کے دلوں اور کانوں پر مہر لگادی ہے اور ان کی آنکھوں پر پردہ پڑا ہوا ہے۔ “ یہ وہی لوگ ہیں قرآن کریم یہ چیلنج دیتا ہے کہ وہ اس کے قبول کرنے سے (صدیوں تک ) عاجز آجاتے ہیں لیکن پھر بھی دعوت حق کو قبول نہیں کرتے ۔ اس لئے یہ لوگ بھی گویا اور پتھروں کی طرح پتھر ہیں ، اگرچہ ظاہری صورت کے لحاظ سے یہ آدمی نظر آتے ہیں ۔ بس اب انتظار اس بات کا ہے قیامت میں یہ پتھر کی قسم کے پتھر اور انسانوں کے پتھر جہنم میں باہم جمع ہوجائیں ۔
یہاں پتھروں کے ذکر سے ایک خاص مفہوم کو ذہن نشین کرنا مطلوب ہے۔ یعنی آگ کی خوفناکی ۔ ملاحظہ ہو پتھروں کو کھائے جارہی ہے اور اس آگ کے اندر ان بدبخت آدمیوں کی حالت ملاحظہ ہو جو پتھروں کے اندر دبے پڑے ہوں گے ۔