اس صفحہ میں سورہ Al-Baqara کی تمام آیات کے علاوہ تفسیر بیان القرآن (ڈاکٹر اسرار احمد) کی تمام آیات کی تفسیر بھی شامل ہے۔ پہلے حصے میں آپ سورہ البقرة کو صفحات میں ترتیب سے پڑھ سکتے ہیں جیسا کہ یہ قرآن میں موجود ہے۔ کسی آیت کی تفسیر پڑھنے کے لیے اس کے نمبر پر کلک کریں۔
وَإِذْ نَجَّيْنَٰكُم مِّنْ ءَالِ فِرْعَوْنَ يَسُومُونَكُمْ سُوٓءَ ٱلْعَذَابِ يُذَبِّحُونَ أَبْنَآءَكُمْ وَيَسْتَحْيُونَ نِسَآءَكُمْ ۚ وَفِى ذَٰلِكُم بَلَآءٌ مِّن رَّبِّكُمْ عَظِيمٌ
وَإِذْ فَرَقْنَا بِكُمُ ٱلْبَحْرَ فَأَنجَيْنَٰكُمْ وَأَغْرَقْنَآ ءَالَ فِرْعَوْنَ وَأَنتُمْ تَنظُرُونَ
وَإِذْ وَٰعَدْنَا مُوسَىٰٓ أَرْبَعِينَ لَيْلَةً ثُمَّ ٱتَّخَذْتُمُ ٱلْعِجْلَ مِنۢ بَعْدِهِۦ وَأَنتُمْ ظَٰلِمُونَ
ثُمَّ عَفَوْنَا عَنكُم مِّنۢ بَعْدِ ذَٰلِكَ لَعَلَّكُمْ تَشْكُرُونَ
وَإِذْ ءَاتَيْنَا مُوسَى ٱلْكِتَٰبَ وَٱلْفُرْقَانَ لَعَلَّكُمْ تَهْتَدُونَ
وَإِذْ قَالَ مُوسَىٰ لِقَوْمِهِۦ يَٰقَوْمِ إِنَّكُمْ ظَلَمْتُمْ أَنفُسَكُم بِٱتِّخَاذِكُمُ ٱلْعِجْلَ فَتُوبُوٓا۟ إِلَىٰ بَارِئِكُمْ فَٱقْتُلُوٓا۟ أَنفُسَكُمْ ذَٰلِكُمْ خَيْرٌ لَّكُمْ عِندَ بَارِئِكُمْ فَتَابَ عَلَيْكُمْ ۚ إِنَّهُۥ هُوَ ٱلتَّوَّابُ ٱلرَّحِيمُ
وَإِذْ قُلْتُمْ يَٰمُوسَىٰ لَن نُّؤْمِنَ لَكَ حَتَّىٰ نَرَى ٱللَّهَ جَهْرَةً فَأَخَذَتْكُمُ ٱلصَّٰعِقَةُ وَأَنتُمْ تَنظُرُونَ
ثُمَّ بَعَثْنَٰكُم مِّنۢ بَعْدِ مَوْتِكُمْ لَعَلَّكُمْ تَشْكُرُونَ
وَظَلَّلْنَا عَلَيْكُمُ ٱلْغَمَامَ وَأَنزَلْنَا عَلَيْكُمُ ٱلْمَنَّ وَٱلسَّلْوَىٰ ۖ كُلُوا۟ مِن طَيِّبَٰتِ مَا رَزَقْنَٰكُمْ ۖ وَمَا ظَلَمُونَا وَلَٰكِن كَانُوٓا۟ أَنفُسَهُمْ يَظْلِمُونَ
آیت 49 وَاِذْ نَجَّیْنٰکُمْ مِّنْ اٰلِ فِرْعَوْنَ یَسُوْمُوْنَکُمْ سُوْءَ الْعَذَابِ ”“ یُذَبِّحُوْنَ اَبْنَآءَ ‘ کُمْ وَیَسْتَحْیُوْنَ نِسَآءَ کُمْ ط فرعون نے حکم دیا تھا کہ بنی اسرائیل میں جو بھی لڑکا پیدا ہو اس کو قتل کردیا جائے اور لڑکیوں کو زندہ رہنے دیا جائے تاکہ ان سے خدمت لی جاسکے اور انہیں لونڈیاں بنایا جاسکے۔ بنی اسرائیل کے ساتھ یہ معاملہ دو مواقع پر ہوا ہے۔ اس کی تفصیل ان شاء اللہ بعد میں آئے گی۔وَفِیْ ذٰلِکُمْ بَلَآءٌ مِّنْ رَّبِّکُمْ عَظِیْمٌ “
آیت 50 وَاِذْ فَرَقْنَا بِکُمُ الْبَحْرَ یہ ایک مختلف فیہ بات ہے کہ بنی اسرائیل نے مصر سے جزیرہ نمائے سینا آنے کے لیے کس سمندر یا دریا کو عبور کیا تھا۔ ایک رائے یہ ہے کہ دریائے نیل کو عبور کر کے گئے تھے ‘ لیکن یہ بات اس اعتبار سے غلط ہے کہ دریائے نیل تو مصر کے اندر بہتا ہے ‘ وہ کبھی بھی مصر کی حد نہیں بنا۔ دوسری رائے یہ ہے کہ بنی اسرائیل نے خلیج سویز کو عبور کیا تھا۔ بحیرۂ قلزم Red Sea اوپر جا کر دو کھاڑیوں میں تبدیل ہوجاتا ہے ‘ مشرق کی طرف خلیج عقبہ اور مغرب کی طرف خلیج سویز ہے اور ان کے درمیان جزیرہ نمائے سینا Sinai Peninsula ہے۔ یہ اسی طرح کی تکون ہے جیسے جزیرہ نمائے ہند Indian Peninsula ہے۔ خلیج سویز اور بحیرۂ روم کے درمیان کئی بڑی بڑی جھیلیں تھیں ‘ جن کو باہم جوڑ جوڑ کر ‘ درمیان میں حائل خشکی کو کاٹ کر نہر سویز بنائی گئی ہے ‘ جو اب ایک مسلسل رابطہ ہے۔ معلوم ہوتا ہے کہ حضرت موسیٰ علیہ السلام اور بنی اسرائیل نے خلیج سویز کو عبور کیا تھا۔ مجھے خود بھی اسی رائے سے اتفاق ہے۔ اس لیے کہ کوہ طور اس جزیرہ نمائے سینا کی نوک tip پر واقع ہے ‘ جہاں حضرت موسیٰ علیہ السلام کو چالیس دن رات کے لیے بلایا گیا اور پھر انہیں تورات دی گئی۔ بنی اسرائیل نے خلیج سویز کو اس طرح عبور کیا کہ حضرت موسیٰ علیہ السلام کے عصا کی ایک ضرب سے سمندر پھٹ گیا۔ ازروئے الفاظ قرآنی : فَانْفَلَقَ فَکَانَ کُلُّ فِرْقٍ کَالطَّوْدِ الْعَظِیْمِ الشُّعراء ”پس سمندر پھٹ گیا اور ہوگیا ہر حصہ جیسے بڑا پہاڑ“۔ سمندر کا پانی دونوں طرف پہاڑ کی طرح کھڑا ہوگیا اور بنی اسرائیل اس کے درمیان میں سے نکل گئے۔ ان کے پیچھے پیچھے جب فرعون اپنا لشکر لے کر آیا تو اس نے سوچا کہ ہم بھی ایسے ہی نکل جائیں گے ‘ لیکن وہ غرق ہوگئے۔ اس لیے کہ دونوں طرف کا پانی آپس میں مل گیا۔ یہ ایک معجزانہ کیفیت تھی اور یہ بات فطرت nature کے قوانین کے مطابق نہیں تھی۔فَاَنْجَیْنٰکُمْ وَاَغْرَقْنَا اٰلَ فِرْعَوْنَ وَاَنْتُمْ تَنْظُرُوْنَ ”“ تمہاری نگاہوں کے سامنے فرعون کے لاؤ لشکر کو غرق کردیا۔ بنی اسرائیل خلیج سویز سے گزر چکے تھے اور دوسری جانب کھڑے تھے۔ انہوں نے دیکھا کہ ادھر سے فرعون اور اس کا لاؤ لشکر سمندر میں داخل ہوا تو پانی دونوں طرف سے آکر مل گیا اور یہ سب غرق ہوگئے۔
آیت 51 وَاِذْ وٰعَدْنَا مُوْسٰٓی اَرْبَعِیْنَ لَیْلَۃً اللہ تعالیٰ نے حضرت موسیٰ علیہ السلام کو تورات عطا فرمانے کے لیے چالیس دن رات کے لیے کوہ طور پر بلایا۔ثُمَّ اتَّخَذْتُمُ الْعِجْلَ مِنْم بَعْدِہٖ ”“ بنی اسرائیل نے حضرت موسیٰ علیہ السلام کی غیر حاضری میں بچھڑے کی پرستش شروع کردی اور اسے معبودبنا لیا۔ وَاَنْتُمْ ظٰلِمُوْنَ ”۔“ بچھڑے کو معبود بنا کر تم نے بہت بڑے ظلم کا ارتکاب کیا تھا۔ الفاظ قرآنی : اِنَّ الشِّرْکَ لَظُلْمٌ عَظِیْمٌ کے مصداق عظیم ترین ظلم جو ہے وہ شرک ہے ‘ اور بنی اسرائیل نے شرک جلی کی یہ مکروہ ترین شکل اختیار کی کہ بچھڑے کی پرستش شروع کردی !
آیت 52 ثُمَّ عَفَوْنَا عَنْکُمْ مِّنْم بَعْدِ ذٰلِکَ ”“ یہ ہمارا کرم رہا ہے ‘ ہماری رحمت رہی ہے۔ لَعَلَّکُمْ تَشْکُرُوْنَ “
آیت 53 وَاِذْ اٰتَیْنَا مُوْسَی الْکِتٰبَ وَالْفُرْقَانَ لَعَلَّکُمْ تَہْتَدُوْنَ ”فرقان“ سے مراد حق اور باطل کے درمیان فرق کردینے والی چیز ہے اور کتاب کا لفظ عام طور پر شریعت کے لیے آتا ہے۔
آیت 54 وَاِذْ قَالَ مُوْسٰی لِقَوْمِہٖ یٰقَوْمِ اِنَّکُمْ ظَلَمْتُمْ اَنْفُسَکُمْ باتِّخَاذِکُمُ الْعِجْلَ فَتُوْبُوْآ اِلٰی بَارِءِکُمْ فَاقْتُلُوْا اَنْفُسَکُمْ ط یہ واقعہ تورات میں تفصیل سے آیا ہے ‘ قرآن میں اس کی تفصیل مذکور نہیں ہے۔ بہت سے واقعات جن کا قرآن میں اجمالاً ذکر ہے ان کی تفصیل کے لیے ہمیں تورات سے رجوع کرنا پڑتا ہے ‘ ورنہ بعض آیات کا صحیح صحیح مفہوم واضح نہیں ہوتا۔ یہاں الفاظ آئے ہیں : فَاقْتُلُوْا اَنْفُسَکُمْ ط ”مار ڈالو اپنی جانیں“ یا ”قتل کرو اپنے آپ کو“۔ اس کے کیا معنی ہیں ؟ یہ دراصل قتل مرتد کی سزا ہے۔ بنی اسرائیل کے بارہ قبیلے تھے۔ ہر قبیلے میں سے کچھ لوگوں نے یہ کفر اور شرک کیا کہ بچھڑے کو معبود بنا لیا ‘ باقی لوگوں نے ایسا نہیں کیا۔ بنی اسرائیل کو حکم دیا گیا کہ ہر قبیلے کے وہ لوگ جو اس شرک میں ملوث نہیں ہوئے اپنے اپنے قبیلے کے ان لوگوں کو قتل کریں جو اس کفر و شرک کے مرتکب ہوئے۔ ”فَاقْتُلُوْا اَنْفُسَکُمْ“ سے مراد یہ ہے کہ تم اپنے قبیلے کے لوگوں کو قتل کرو۔ اس لیے کہ قبائلی زندگی بڑی حساسّ ہوتی ہے اور کسی دوسرے قبیلے کی مداخلت سے قبائلی عصبیتّ بھڑک اٹھنے کا اندیشہ ہوتا ہے۔ حضرت موسیٰ علیہ السلام کے اس حکم پر عمل درآمد کے نتیجے میں ستر ہزار یہودی قتل ہوئے۔ اس سے بڑی توبہ اور اس سے بڑی تطہیر purge ممکن نہیں ہے۔ کسی بھی نظریاتی جماعت کے اندر تزکیہ اور تطہیر کا عمل بہت ضروری ہوتا ہے۔ کچھ لوگ ایک نظریے کو قبول کرکے جماعت سے وابستہ ہوجاتے ہیں ‘ لیکن رفتہ رفتہ نظریہ اوجھل ہوجاتا ہے اور اپنے مفادات اور چودھراہٹیں مقدمّ ہوجاتی ہیں۔ اسی سے جماعتیں خراب ہوتی ہیں اور غلط راستے پر پڑجاتی ہیں۔ چناچہ نظریاتی جماعتوں میں یہ عمل بہت ضروری ہوتا ہے کہ جو افراد نظریے سے منحرف ہوجائیں ان کو جماعت سے کاٹ کر علیحدہ کردیاجائے۔ قرآن حکیم کے اس مقام سے قتل مرتد کی سزا ثابت ہوتی ہے ‘ جبکہ قتل مرتد کا واضح حکم حدیث نبوی ﷺ میں موجود ہے۔ ہمارے بعض جدید دانشور اسلام میں قتل مرتد کی حد کو تسلیم نہیں کرتے ‘ لیکن میرے نزدیک یہ شریعت موسوی علیہ السلام کا تسلسل ہے۔ شریعت موسوی علیہ السلام کے جن احکام کے بارے میں صراحتاً یہ معلوم نہیں کہ انہیں تبدیل کردیا گیا ہے وہ شریعت محمدی ﷺ کا جزو بن گئے ہیں۔ شادی شدہ زانی پر حد رجم کا معاملہ بھی یہی ہے۔ قرآن مجید میں حد رجم کی کوئی صریح آیت موجود نہیں ہے ‘ لیکن احادیث میں یہ سزا موجود ہے۔ اسی طرح قرآن مجید میں مرتد کے قتل کی کوئی صریح آیت موجود نہیں ہے ‘ لیکن یہ حدیث اور سنت سے ثابت ہے۔ البتہ ان دونوں سزاؤں کا منبع اور ماخذ دراصل تورات ہے۔ اس اعتبار سے قرآن حکیم کا یہ مقام بہت اہم ہے ‘ لیکن اکثر لوگ یہاں سے بہت سرسری طور پر گزر جاتے ہیں۔ ّ َ بنی اسرائیل جب مصر سے نکلے تو ان کی تعداد چھ لاکھ تھی۔ جزیرہ نمائے سینا پہنچنے کے بعد ان کی تعداد مزید بڑھ گئی ہوگی۔ ان میں سے سترّ ہزار افراد کو شرک کی پاداش میں قتل کیا گیا ‘ اور ہر قبیلے نے جو اپنے مرتد تھے ان کو اپنے ہاتھ سے قتل کیا۔ذٰلِکُمْ خَیْرٌ لَّکُمْ عِنْدَ بَارِءِکُمْ ط“ فَتَابَ عَلَیْکُمْ ط ”“ بنی اسرائیل کی توبہ اس طرح قبول ہوئی کہ امت کا تزکیہ ہوا اور ان میں سے جن لوگوں نے اتنی بڑی غلط حرکت کی تھی ان کو ذبح کر کے ‘ قتل کرکے امت سے کاٹ کر پھینک دیا گیا۔اِنَّہٗ ہُوَ التَّوَّاب الرَّحِیْمُ ”“
آیت 55 وَاِذْ قُلْتُمْ یٰمُوْسٰی لَنْ نُّؤْمِنَ لَکَ حَتّٰی نَرَی اللّٰہَ جَہْرَۃً اٰمَنَ یُؤْمِنُ کے بعد ”بِ“ کا صلہ ہو تو اس کے معنی ایمان لانے کے ہوتے ہیں ‘ جبکہ ”لِ“ کے صلہ کے ساتھ اس کے معنی صرف تصدیق کے ہوتے ہیں۔ بنی اسرائیل نے حضرت موسیٰ علیہ السلام سے کہا تھا کہ ہم آپ کی بات کی تصدیق نہیں کریں گے جب تک ہم اپنی آنکھوں سے اللہ کو آپ سے کلام کرتے نہ دیکھ لیں۔ ہم کیسے یقین کرلیں کہ اللہ نے یہ کتاب آپ کو دی ہے ؟ آپ علیہ السلام تو ہمارے سامنے پتھر کی کچھ تختیاں لے کر آگئے ہیں جن پر کچھ لکھا ہوا ہے۔ ہمیں کیا پتا کہ یہ کس نے لکھا ہے ؟ دیکھئے ‘ ایک خواہش حضرت موسیٰ علیہ السلام کی بھی تھی کہ رَبِّ اَرِنِیْ اَنْظُرْ اِلَیْکَ ط الاعراف : 143 ”اے میرے ربّ ! مجھے یارائے نظر دے کہ میں تجھ کو دیکھوں“۔ وہ کچھ اور شے تھی ‘ وہ ع ”تو میرا شوق دیکھ مرا انتظار دیکھ !“ کی کیفیت تھی ‘ لیکن یہ تخریبی ذہن کی سوچ ہے کہ ہم بھی چاہتے ہیں کہ اللہ کو اپنی آنکھوں سے دیکھیں اور ہمیں معلوم ہو کہ واقعی اس نے آپ کو یہ کتاب دی ہے۔فَاَخَذَتْکُمُ الصّٰعِقَۃُ وَاَنْتُمْ تَنْظُرُوْنَ ”“۔تمہارے دیکھتے دیکھتے ایک بہت بڑی کڑک نے تمہیں آلیا اور تم سب کے سب مردہ ہوگئے۔
آیت 56 ثُمَّ بَعَثْنٰکُمْ مِّنْ بَعْدِ مَوْتِکُمْ بعض لوگ اس کی ایک تاویل کرتے ہیں کہ یہ موت نہیں تھی ‘ بلکہ زبردست کڑک کی وجہ سے سب کے سب بےہوش ہو کر گرپڑے تھے ‘ لیکن میرے نزدیک یہاں تاویل کی ضرورت نہیں ہے ‘ بعث بعد الموت اللہ کے لیے کچھ مشکل نہیں ہے۔ مِنْ بَعْدِ مَوْتِکُمْ کے الفاظ اپنے مفہوم کے اعتبار سے بالکل صریح ہیں ‘ انہیں خواہ مخواہ کوئی اور معنی پہنانا درست نہیں ہے۔ لَعَلَّکُمْ تَشْکُرُوْنَ
آیت 57 وَظَلَّلْنَا عَلَیْکُمُ الْغَمَامَ جزیرہ نمائے سینا کے لق و دق صحرا میں چھ لاکھ کا قافلہ چل رہا ہے ‘ کوئی اوٹ نہیں ‘ کوئی سایہ نہیں ‘ دھوپ کی تپش سے بچنے کا کوئی انتظام نہیں۔ ان حالات میں ان پر اللہ تعالیٰ کا یہ فضل ہوا کہ تمام دن ایک بادل ان پر سایہ کیے رہتا اور جہاں جہاں وہ جاتے وہ بادل ان کے ساتھ ساتھ ہوتا۔ وَاَنْزَلْنَا عَلَیْکُمُ الْمَنَّ وَالسَّلْوٰی ط“ صحرائے سینا میں بنی اسرائیل کے پاس کھانے کو کچھ نہیں تھا تو ان کے لیے مَنّ وسلویٰ نازل کیے گئے۔ ”مَنّ“ رات کے وقت شبنم کے قطروں کی مانند اترتا تھا ‘ جس میں شیرینی بھی ہوتی تھی ‘ اور اس کے قطرے زمین پر آکر جم جاتے تھے اور دانوں کی صورت اختیار کرلیتے تھے۔ یہ گویا ان کا اناج ہوگیا ‘ جس سے کاربوہائیڈریٹس کی ضرورت پوری ہوگئی۔ ”سلویٰ“ ایک خاص قسم کا بٹیر کی شکل کا پرندہ تھا۔ شام کے وقت ان پرندوں کے بڑے بڑے جھنڈ آتے اور جہاں بنی اسرائیل ڈیرہ ڈالے ہوتے اس کے گرد اتر آتے تھے۔ رات کی تاریکی میں یہ ان پرندوں کو آسانی سے پکڑ لیتے تھے اور بھون کر کھاتے تھے۔ چناچہ ان کی پروٹین کی ضرورت بھی پوری ہو رہی تھی۔ اس طرح اللہ تعالیٰ نے ان کو مکمل غذا فراہم کردی تھی۔ کُلُوْا مِنْ طَیِّبٰتِ مَا رَزَقْنٰکُمْ ط ”ہم نے کہا کھاؤ ان پاکیزہ چیزوں کو جو ہم نے تم کو عطا کی ہیں۔“ وَمَا ظَلَمُوْنَا وَلٰکِنْ کَانُوْٓا اَنْفُسَہُمْ یَظْلِمُوْنَ “ ہر قدم پر نافرمانی اور ناشکری بنی اسرائیل کا وطیرہ تھی۔ چناچہ انہوں نے ”مَنّ وسلویٰ“ جیسی نعمت کی قدر بھی نہ کی اور ناشکری کی روش اپنائے رکھی۔ اس کا ذکر اگلی آیات میں آجائے گا۔