سورۃ الحشر: آیت 22 - هو الله الذي لا إله... - اردو

آیت 22 کی تفسیر, سورۃ الحشر

هُوَ ٱللَّهُ ٱلَّذِى لَآ إِلَٰهَ إِلَّا هُوَ ۖ عَٰلِمُ ٱلْغَيْبِ وَٱلشَّهَٰدَةِ ۖ هُوَ ٱلرَّحْمَٰنُ ٱلرَّحِيمُ

اردو ترجمہ

وہ اللہ ہی ہے جس کے سوا کوئی معبود نہیں، غائب اور ظاہر ہر چیز کا جاننے والا، وہی رحمٰن اور رحیم ہے

انگریزی ٹرانسلیٹریشن

Huwa Allahu allathee la ilaha illa huwa AAalimu alghaybi waalshshahadati huwa alrrahmanu alrraheemu

آیت 22 کی تفسیر

ھواللہ .................... العزیز الحکیم (42) (95 : 22 تا 42) ” وہ اللہ ہی ہے جس کے سوا کوئی معبود نہیں ، غائب اور ظاہر ہر چیز کا جاننے والا ، وہی رحمن اور رحیم ہے ۔ وہ اللہ ہی ہے جس کے سوا کوئی معبود نہیں۔ وہ بادشاہ ہے نہایت مقدس ، سراسر سلامتی ، امن دینے والا ، نگہبان ، سب پر غالب ، اپنا حکم بزور نافذ کرنے والا ، اور بڑا ہی ہوکر رہنے والا۔ پاک ہے ، اللہ اس شرک سے جو لوگ کررہے ہیں وہ اللہ ہی ہے جو تخلیق کا منصوبہ بنانے والا اور اس کو نافذ کرنے والا اور اس کے مطابق صورت گری کرنے والا ہے۔ اس کے لئے بہترین نام ہیں۔ ہر چیز جو آسمانوں اور زمین میں ہے اس کی تسبیح کررہی ہے ، اور وہ زبردست اور حکیم ہے “۔

اللہ کی تسبیح کے تین ٹکڑے ہیں اور ہر ایک کا آغاز عقیدہ توحید سے ہوتا ہے۔

ھواللہ لا الہ الا ھو یا ھواللہ سے ہوتا ہے۔ اللہ کے اسماء میں سے ہر اسم کا اثر اس کائنات میں صاف نظر آتا ہے یا انسانی زندگی میں نظر آتا ہے۔ دکھانا یہ ہے کہ اللہ کی ذات فعال ہے۔ اور اللہ کی فعالیت کا تعلق اس کائنات اور انسانوں کی زندگیوں سے ہے۔ یہ کوئی منفی صفات نہیں اور نہ اس زندگی کے عملی پہلو سے جدا ہیں۔ یہ صفات ہمارے ماحول ، ہمارے احوال اور ہمارے مظاہر میں ہمارے ساتھ ہیں۔

آیت 22{ ہُوَ اللّٰہُ الَّذِیْ لَآ اِلٰـہَ اِلَّا ہُوَ } ”وہی ہے اللہ ‘ جس کے سوا کوئی معبود برحق نہیں۔“ { عٰلِمُ الْغَیْبِ وَالشَّہَادَۃِج } ”وہ جاننے والا ہے چھپے کا اور کھلے کا۔“ یہ پورا مرکب اللہ تعالیٰ کے ایک اسم پر مشتمل ہے۔ اللہ تعالیٰ اسے بھی جانتا ہے جو ہمارے سامنے ہے اور اسے بھی جو ہماری نگاہوں سے پوشیدہ ہے۔ یہاں یہ نکتہ بھی سمجھ لیجیے کہ قرآن میں جہاں اللہ کے لیے غیب اور شہادۃ کے الفاظ آتے ہیں ‘ وہ ہم انسانوں کے لیے ہیں۔ ظاہر ہے اللہ تعالیٰ کے لیے تو سب شہادہ ہی شہادہ ہے ‘ اس کے لیے تو کوئی چیز بھی غیب نہیں۔ ہم انسانوں کے لیے کچھ چیزیں تو وہ ہیں جنہیں ہم اپنے حواس خمسہ سے محسوس کرسکتے ہیں۔ ایسی تمام اشیاء ہمارے لیے ”ظاہر“ الشَّہَادَۃ کے زمرے میں آتی ہیں۔ مثلاً اگر کسی چیز کو ہم مائیکرو سکوپ یا ٹیلی سکوپ سے بھی دیکھ لیں تو اس کی حیثیت بھی ہمارے لیے ”ظاہر“ ہی کی ہے۔ دوسری طرف کچھ ایسے حقائق ہیں جنہیں ہم سے چھپا دیا گیا ہے ‘ انہیں ہم کسی طرح بھی اپنے حواس کے احاطہ میں نہیں لاسکتے۔ ایسی سب چیزیں ہمارے لیے غیب کا درجہ رکھتی ہیں۔ مثلاً اللہ تعالیٰ کی ذات ‘ فرشتے ‘ جنت ‘ دوزخ ‘ عالم ِ آخرت وغیرہ ‘ سب ہمارے لیے غیب ہیں۔ یہ مضمون سورة الجن میں دوبارہ واضح تر انداز میں آئے گا۔ { ہُوَ الرَّحْمٰنُ الرَّحِیْمُ۔ } ”وہ بہت رحم کرنے والا ‘ نہایت مہربان ہے۔“ سورة الفاتحہ کی دوسری آیت ان ہی دو اسمائے حسنیٰ پر مشتمل ہے۔ لغوی اور اشتقاقی تفصیل کے لیے ملاحظہ ہو متعلقہ آیت کی تشریح۔

آیت 22 - سورۃ الحشر: (هو الله الذي لا إله إلا هو ۖ عالم الغيب والشهادة ۖ هو الرحمن الرحيم...) - اردو