قرآن مجید نے یہاں انسان کو ایک چیز کہا ہے اور یہ کہ وہ بڑی جھگڑا لو چیز ہے۔ چیز سے تعبیر اس لئے کیا گیا تاکہ انسان اپنے کبر و غرور سے ذرا نیچے اترے اور یہ سمجھے کہ وہ بھی اللہ کی بیشمار مخلوقات میں سے ایک مخلوق ہے اور انسان تمام مخلوقات سے زیادہ جھگڑالو ہے۔ اس کے باوجود کہ اللہ نے اس قرآن میں انسان کو مختلف طریقوں سے سمجھانے کی سعی کی اور مثالوں سے اسے سمجھایا۔
اب یہ بتایا جاتا ہے کہ اکثر لوگ کیوں ایمان نہ لائے ؟ وہ کیا شبہ تھا جو رکاوٹ بنا ؟ مختلف رسولوں کے زمانے میں اکث لوگ ایمان سے محروم رہے۔
آیت 54 وَلَقَدْ صَرَّفْــنَا فِيْ هٰذَا الْقُرْاٰنِ للنَّاسِ مِنْ كُلِّ مَثَلٍ الفاظ کے معمولی فرق کے ساتھ یہ آیت سورة بنی اسرائیل میں بھی آیت 89 موجود ہے۔ وَكَانَ الْاِنْسَانُ اَكْثَرَ شَيْءٍ جَدَلًاسورۂ بنی اسرائیل کی آیت 89 کے پہلے حصے کے الفاظ جوں کے توں وہی ہیں جو اس آیت کے پہلے حصے کے ہیں صرف لفظوں کی ترتیب میں معمولی سا فرق ہے۔ البتہ دونوں آیات کے آخری حصوں کے الفاظ مختلف ہیں۔ سورة بنی اسرائیل کی مذکورہ آیت کا آخری حصہ یوں ہے : فَاَبآی اَکْثَرُ النَّاس الاَّ کُفُوْرًا ”مگر اکثر لوگ کفران نعمت پر ہی اڑے رہتے ہیں۔“
ہر بات صاف صاف کہہ دی گئی۔انسانوں کے لئے ہم نے اس اپنی کتاب میں ہر بات کا بیان خوب کھول کھول کر بیان کردیا ہے تاکہ لوگ راہ حق سے نہ بہکیں ہدایت کی راہ سے نہ بھٹکیں لیکن باوجود اس بیان، اس فرقان کے پھر بھی بجز راہ یافتہ لوگوں کے اور تمام کے تمام راہ نجات سے ہٹے ہوئے ہیں۔ مسند احمد میں ہے کہ ایک رات کو رسول اللہ ﷺ حضرت فاطمہ ؓ اور حضرت علی ؓ کے پاس ان کے مکان میں آئے اور فرمایا تم سوئے ہوئے ہو نماز میں نہیں ہو ؟ اس پر حضرت علی ؓ نے جواب دیا کہ یا رسول اللہ ﷺ ہماری جانیں اللہ کے ہاتھ ہیں وہ جب ہمیں اٹھانا چاہتا ہے اٹھا بٹھاتا ہے۔ آپ یہ سن کر بغیر کچھ فرمائے لوٹ گئے لیکن اپنی زانو پر ہاتھ مارتے ہوئے یہ فرماتے ہوئے جا رہے تھے کہ انسان تمام چیزوں سے زیادہ جھگڑالو ہے۔