یہ لوگ دراصل اللہ کی آیات اور اللہ کے رسولوں کے ساتھ مذاق کرتے ہیں۔ اسلئے ان سے یہ توقع نہ کی جائے کہ یہ لوگ قرآن کو سمجھ لیں گے۔ نہ ان سے یہ توقع کر ھی جائے کہ یہ لوگ اس کی تعلیمات سے نفع اٹھائیں گے۔ اللہ تعالیٰ نے ان کی اس روش کی وجہ سے ان دلوں پر پردے ڈال دیئے ہیں اور ان کے کانوں میں گرانی پیدا کردی ہے۔ لہٰذا یہ نہ سن سکتے ہیں نہ سمجھ سکتے ہیں اور ان کی اس روش مذاق اور استہزاء کی وجہ سے ان کے لئے ضلالت لکھ دی گئی ہے۔ لہٰذا اب ان کو کبھی بھی ہدایت نہیں ملے گی کیونکہ ہدایت ان لوگوں کو ملتی ہے جو کھلے دل و دماغ سے بات کو سنتے ہیں۔
آیت 57 وَمَنْ اَظْلَمُ مِمَّنْ ذُكِّرَ بِاٰيٰتِ رَبِّهٖ فَاَعْرَضَ عَنْهَا وَنَسِيَ مَا قَدَّمَتْ يَدٰهُ بجائے ایمان لانے کے اور اپنے سابقہ گناہوں سے توبہ کرنے کے اس نے اللہ کی آیات سے روگردانی کی روش اپنائے رکھی۔ اس ضد اور ہٹ دھرمی میں وہ اپنے اعمال کے اس جھاڑ جھنکاڑ کو بھی بھول گیا جو اس نے اپنی آخرت کے لیے تیار کر رکھا تھا۔اِنَّا جَعَلْنَا عَلٰي قُلُوْبِهِمْ اَكِنَّةً اَنْ يَّفْقَهُوْهُ وَفِيْٓ اٰذَانِهِمْ وَقْرًایہ مضمون سورة بنی اسرائیل میں اس طرح آچکا ہے : وَاِذَا قَرَاْتَ الْقُرْاٰنَ جَعَلْنَا بَیْنَکَ وَبَیْنَ الَّذِیْنَ لاَ یُؤْمِنُوْنَ بالْاٰخِرَۃِ حِجَابًا مَّسْتُوْرًا ”اور جب آپ قرآن پڑھتے ہیں تو ہم آپ کے اور آخرت پر ایمان نہ رکھنے والے لوگوں کے درمیان پردہ حائل کردیتے ہیں۔“وَاِنْ تَدْعُهُمْ اِلَى الْهُدٰى فَلَنْ يَّهْتَدُوْٓا اِذًا اَبَدًاکیونکہ حق واضح ہوجانے بعد ان کی مسلسل ہٹ دھرمی کے سبب ان کے دلوں پر مہریں لگ چکی ہیں اور اس طرح وہ اللہ کے قانون ہدایت و ضلالت کی آخری دفعہ کی زد میں آ چکے ہیں جس کے تحت جان بوجھ کر حق سے اعراض کرنے والے کو ہمیشہ کے لیے ہدایت سے محروم کردیا جاتا ہے۔
بد ترین شخص کون ہے ؟ فی الحقیقت اس سے بڑھ کر پاپی کون ہے ؟ جس کے سامنے اس کے پالنے پوسنے والے کا کلام پڑھا جائے اور وہ اس کی طرف التفات تک نہ کرے اس سے مانوس نہ ہو بلکہ منہ پھیر کر انکار کر جائے اور بدعملیاں اور سیاہ کاریاں اس سے پہلے کی ہیں انہیں بھی فراموش کر جائے۔ اس ڈھٹائی کی سزا یہ ہوتی ہے کہ دلوں پر پردے پڑجاتے ہیں پھر قرآن وبیان کا سمجھنا نصیب نہیں ہوتا کانوں میں گرانی ہوجاتی ہے بھلی بات کی طرف توجہ نہیں رہتی اب لاکھ دعوت ہدایت دو لیکن راہ یابی مشکل و محال ہے۔ اے نبی تیرا رب بڑا ہی مہربان بہت اعلیٰ رحمت والا ہے اگر وہ گنہگار کی سزا جلدی ہی کر ڈالا کرتا، تو زمین پر کوئی جاندار باقی نہ بچتا وہ لوگوں کے ظلم سے درگزر کر رہا ہے لیکن اس سے یہ نہ سمجھا جائے کہ پکڑے گا ہی نہیں۔ یاد رکھو وہ سخت عذابوں والا ہے یہ تو اس کا حلم ہے پردہ پوشی ہے معافی ہے تاکہ گمراہی والے راہ راست پر آجائیں گناہوں والے توبہ کرلیں اور اس کے دامن رحمت کو تھام لیں۔ لیکن جس نے اس حلم سے فائدہ اٹھایا اور اپنی سرکشی پر جما رہا تو اس کی پکڑ کا دن قریب ہے جو اتنا سخت دن ہوگا کہ بچے بوڑھے ہوجائیں گے حمل گرجائیں گے اس دن کوئی جائے پناہ نہ ہوگی کوئی چھٹکارے کی صورت نہ ہوگی۔ یہ ہیں تم سے پہلے کی امتیں کہ وہ بھی تمہاری طرح کفر و انکار میں پڑگئیں اور آخرش مٹا دی گئیں ان کی ہلاکت کا مقررہ وقت آپہنچا اور وہ تباہ برباد ہوگئیں۔ پس اے منکرو تم بھی ڈرتے رہو تم اشرف الرسل اعظم ہی کو ستا رہے اور انہیں جھٹلا رہے ہو حالانکہ اگلے کفار سے تم قوت طاقت میں سامان اسباب میں بہت کم ہو میرے عذابوں سے ڈرو میری باتوں سے نصیحت پکڑو۔