لیکن اللہ ان لوگوں کو خالص اپنی رحمت کی وجہ سے مہلت دیتا ہے اور ان پر وہ ہلاکت نہیں لاتا جس کے لئے وہ جلدی کر رہے لیکن اس مہلت کی بھی ایک حد مقرر ہے۔
یعنی دنیا میں بھی ان پر عذاب الٰہی کے نزول کے لئے وقت مقرر ہے اور پھر آخرت میں ان کے لئے ایک وقت مقرر ہے جس میں انہیں سخت سزا دی جائے گی۔
انہوں نے چونکہ ظلم کیا ہے اس لئے یہ لوگ بھی امم سابقہ کی طرح ہلاکت کے مستحق قرار پا چکے ہیں۔ لیکن اللہ نے اپنی حکمت اور تدبیر کے مطابق چونکہ ان کے لئے ایک مہلت مقرر کر رکھی ہے اس لئے اللہ ان کو اس طرح ہلاکت سے دوچار نہیں کر رہا ہے جس طرح اللہ نے ظالم امم سابقہ کو ہلاک کیا۔ ہاں ان کے لئے علیحدہ میعاد مقرر ہے۔
آیت 58 وَرَبُّكَ الْغَفُوْرُ ذو الرَّحْمَةِ ۭ لَوْ يُؤَاخِذُهُمْ بِمَا كَسَبُوْا لَعَجَّلَ لَهُمُ الْعَذَابَ یہ مضمون سورة النحل آیت 61 اور سورة فاطر آیت 45 میں بھی بڑی وضاحت سے بیان ہوا ہے کہ اگر اللہ تعالیٰ لوگوں کے ظلم اور برے اعمال کے سبب ان کا مؤاخذہ کرتا تو روئے زمین پر کوئی متنفس زندہ نہ بچتا۔بَلْ لَّهُمْ مَّوْعِدٌ لَّنْ يَّجِدُوْا مِنْ دُوْنِهٖ مَوْىِٕلًاجب کسی کے وعدے کی مقررہ گھڑی اجل آپہنچے گی تو اسے کوئی جائے پناہ نہیں ملے گی اور اس کے لیے اس سے سرک کر ادھر ادھر ہونے کی کوئی گنجائش نہیں ہوگی : فَاِذَاجَآءَ اَجَلُہُمْ لاَ یَسْتَاْخِرُوْنَ سَاعَۃً وَّلاَ یَسْتَقْدِمُوْنَ النحل ”پھر جب آجاتا ہے ان کا وقت معین تو نہ وہ پیچھے رہ سکتے ہیں ایک لمحہ اور نہ آگے بڑھ سکتے ہیں۔“