درس نمبر 431 ایک نظر میں
یہ سورة کہف کا آخری سبق ہے۔ اس سبق کا بڑا حصہ ذوالقرنین کے قصے کے بارے میں ہے۔ اس میں ذوالقرنین کے تین سفروں کے بارے میں بتایا گیا ہے۔ سفر مشرق ، سفر مغرب اور سفروسط نیز اس میں یاجوج اور ماجوج کے مقابلے میں ان کی جانب سے دیوار کھڑی کرنے کا خصوصی ذکر ہے۔
قرآن کریم نے اس قصے میں ذوالقرنین کا ایک قول نقل کیا ہے۔ تعمیر سد کے بعد وہ کہتا ہے۔
قال ھذا رحمۃ من ربی فاذا جآء وعد ربی جعلہ دکاء وکان وعد ربی حقاً (81 : 89) ” ذوالقرنین نے کہا ، یہ میرے رب کی رحمت ہے ، مگر جب میرے رب کے وعدے کا وقت آئے گا تو وہ اس کو پیوند خاک کر دے گا اور میرے رب کا وعدہ برحق ہے۔ “ اس کے بعد نفخ صور اور قیامت کے مناظر میں سے ایک منظر آتا ہے اور اس سبق اور اس سورة دونوں کا خاتمہ تین مختصر قطعات پر ہوتا ہے۔ جن پر بات ختم کی جاتی ہے اور ہر ایک مقطعہ کا آغاز لفظ قل کے ساتھ ہوتا ہے۔ ان قطعات کے ذریعہ پوری سورة کے مضامین کا خلاصہ دیا جاتا ہے اور سورة کا عام فکری رجحان بتا دیا جاتا ہے۔ گویا یہ خلاصہ کلام قاری کے دل و دماغ کی تاروں پر آخری ضربات ہیں لیکن ذرا زیادہ قوت کے ساتھ ہیں۔
محمد ابن اسحاق نے اس سورة کے شان نزول کے سلسلے میں یہ روایت نقل کی ہے۔ ” مجھے ہمارے شہر کے ایک شیخ نے بتایا ، جس نے ہمارے ہاں چالیس سال سے اوپر قیام کیا۔ انہوں نے عکرمہ ، عن ابن عباس کی سند سے روایت کی ۔ ابن عباس کہتے ہیں کہ قریش نے نضر ابن حارث اور عقبہ ابن ابی معیط کو مدینہ میں یہود کے علماء کے پاس بھیجا ، قریش نے ان سے کہا کہ ان علماء سے حضرت محمد ﷺ کے بارے میں دریافت کرو ، ان کا پورا تعارف کر ائو ، ان کی باتوں کے بارے میں ان کو پوری طرح آگاہ کرو ، یہ لوگ پہلے اہل کتاب ہیں ، ان کے پاس انبیاء کے بارے میں ہمارے مقابلے میں زیادہ علم ہے۔ یہ لوگ اس سفر پر نکلے یہاں تک کہ یہ مدینہ آئے ، انہوں نے یہودی علماء سے حضرت محمد ﷺ کے بارے میں سوالات کئے۔ انہوں نے حضرت محمد کا پورا تعارف کرایا اور آپ کے بعض اقوال و نظریات ان کو بتائے ان دونوں نے یہ گزاشر کی کہ تم لوگ حاملین تورات ہو ، ہم تمہارے پاس اس لئے آئے ہیں کہ تم ہمیں ہمارے اس شخص کے بارے میں صحیح معلومات دو اور اپنی رائے بھی دو ۔ کہتے ہیں کہ ان علماء نے اس وفد کو مشورہ دیا کہ ہم تمہیں تین سوالات بتاتے ہیں ، تم یہ سوالات ان سے پوچھو۔ اگر اس نے ان تینوں کے جوابات تمہیں دے دیئے تو وہ بیشک نبی مرسل ہیں ، اللہ کے سچے نبی ہیں۔ اگر انہوں نے ان سوالات کے جوابات نہ دیئے تو پھر یہ شخص باتیں بتانے والا ہے۔ تم جانو اور وہ پہلا سوال یہ ہے کہ وہ نوجوان کون تھے جو پہلے زمانے میں دین کی خاطر گھر بار چھوڑ کر چلے گئے تھے۔ ان کا معاملہ کیا تھا ؟ کیونکہ ان کا قصہ بڑا عجیب ہے۔ ان سے دوسرا سوال یہ کرو کہ وہ مہم جو شخص کون تھا جس نے کرہ ارض کے مشرق و مغرب کا سفر کیا۔ اس کے متعلق واقعات و خبریں۔ تیسرا سوال یہ کہ ان سے پوچھیں کہ روح کیا ہے۔ اگر اس نے ان تین سوالات کے جوابات دے دیئے تو وہ سچا نبی ہے۔ تمہیں چاہئے کہ اس کی اطاعت کرو ، اور اگر اس نے ان سوالات کا جواب نہ دیا تو وہ اپنی طرف سے باتیں بنانے والا شخص ہے ، اس کے بارے میں تم جو چاہو کرو۔ نضر اور عقبہ واپس قریش کے پاس آئے۔ انہوں نے رپورٹ دی کہ ہم تمہارے اور محمد کے درمیان ایک فیصلہ کن بات لے کر آئے ہیں۔ ہمیں یہودی علماء نے یہ مشورہ دیا کہ اس سے کچھ باتیں پوچھو۔ انہوں نے قریش کو یہ سوالات بتائے۔ پھر یہ لوگ رسول اللہ کے پاس آئے اور کہا ، محمد ہمیں ان سوالات کے بارے میں صحیح بتائو۔ انہوں نے وہ سوالات آپ کے سامنے رکھے۔ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا میں تمہیں تمہارے سوالات کا جواب کل دوں گا لیکن آپ نے اس موقع پر لفظ انشاء اللہ نے کہا۔ یہ لوگ چلے گئے ، رسول اللہ ﷺ پندرہ شب و روز جبرئیل کا اتنظار کرتے رہے لیکن وحی نہ آئی نہ جبرئیل آئے۔ اہل مکہ مارے خوشی کے ناچنے لگے۔ وہ کہتے ہمارے ساتھ محمد کا وعدہ کل کا تھا لیکن آج پندرہواں دن ہے اور محمد ہمیں سوالات کا جواب نہیں دے سکا۔ اس پر حضور اکرم ﷺ کو بےحد رنج ہوا۔ کیونکہ ایک تو وحی بند ہوگئی ، دوسرے اہل مکہ بغلیں بجانے لگے۔ اس کے بعد حضرت جبرئیل سورة کہ لے کر نازل ہوئے۔ اس سورة میں آپ کو تنبیہ کی گئی کہ آپ ان لوگوں کے باتوں سے پریشان کیو ہوئے ؟ اس سورة میں نوجوانوں کا قصہ شرق و غرب تک پہنچنے والے شخص کا قصہ اور روح کے بارے میں جواب نازل ہوا۔
یہ تو تھی ایک رویات اور حضرت ابن عباس ؓ سے آیت روح کے نزول کے سلسلے میں ایک دوسری روایت بھی مروی ہے ……نے اس کا ذکر کیا ہے۔ وہ یہ کہ یہودیوں نے حضور سے سوال کیا کہ روح کی حقیقت کیا ہے ؟ جسم میں جو روح ہے اسے کس طرح سزا دی جاتی ہے جبکہ روح من جانب اللہ ہے ؟ اس بارے میں آپ پر کوئی آیت نازل نہ ہوئی تھی اس لئے آپ نے ان کو کوئی جواب نہ دیا۔ اس پر یہ آیت ازل ہوئی۔
قل الروح من امر ربی وما اوتیتم من العلم الا قلیلاً (81 : 58) ” کہہ دو ، روح اللہ کے امر میں سے ایک امر ہے اور تمہیں بہت ہی تھوڑا علم دیا گیا ہے۔ ‘
چونکہ اسباب نزول میں روایات متعدد ہیں لہٰذا ہم اسی مفہوم پر اکتفا کرتے ہیں جو قرآن کی نص قطعی سے ثابت ہے۔ اس آیت میں صرف یہی معلوم ہوتا ہے کہ ذوالقرنین کے بارے میں اس وقت سوال کیا گیا تھا لیکن یقینی طور پر معلوم نہیں ہے کہ یہ سوال کس نے کیا تھا۔ نیز اگر معلوم بھی ہوجائے کہ یہ سوال کس نے کن حالات میں کیا تھا تو اس سے اس قصے کے اصل حقائق اور عبرت آموزی میں کوئی فرق نہیں پڑتا۔ لہذا ہمیں چاہئے کہ تفسیر میں اسی حد تک اپنے آپ کو محدود رکھیں جس حد تک نص سے بات معلوم ہوتی ہے۔ اس پر حاشیہ آرائی کی کوئی ضرورت نہیں ہے۔
ماہر فلکیات ابو ریحان البیرونی نے اپنی کتاب (الا ثارلباقیۃ عن القرون الخالیہ) میں لکھا ہے کہ قرآن کریم میں جس ذوالقرنین کا ذکر ہے وہ ملوک حمیر میں تھا انہوں نے محض اس کے نام ذوالقرنین سے یہ قیاس کیا ہے کیونکہ ملوک حمیر اپنے نام کے ساتھ (ذو) کا لفظ استعمال کرتے تھے۔ مثلاً ذونواس ، اس کا نام دراصل ابوبکر بن افریقی تھا۔ یہ اپنی فوجیں لے کر بحر متوسط کے ساحل کے ساتھ ساتھ آخر تک گیا۔ تونس اور مراکش اس نے فتح کیا۔ اس نے شہر افریقہ بتایا ، بعد کے زمانوں میں پورے بر اعظم کا نام افریقہ پڑگیا اور ذوالقرنین اس کو سا لئے کہا گیا کہ یہ سورج کے دونوں سینگوں تک پہنچ گیا۔ (یعنی مشرق و مغرب تک) ۔
البیرونی کی یہ بات صحیح بیھ ہو سکتی ہے لیکن ہمارے پاس ایسے ذرائع نہیں ہیں کہ ہم بالجزم کوئی بات کہہ سکیں یا اس شخص کی حقیقت کے بارے میں چھان بین کرسکیں اس لئے کہ انسانی تاریخ میں اس شخص کے بارے میں کوئی تفصیل نہیں ہے ، جس کی تاریخ کے ایک حصے کے بارے میں ہمیں قرآن کریم بتاتا ہے۔ اس قصے کی نوعیت بھی ایسی ہے جس طرح قصص القرآن کے دور سے حصو کی ہے۔ مثلاً قصہ قوم نوح ، قوم ہود ، قوم صالح وغیرہ۔ کیونکہ ان قصص کا تعلق جس دور سے ہے وہ ماقبل التاریخ دور ہے۔ تاریخ نو دور جدید کی ایک مولود چیز ہے جبکہ انسانوں کا زمانہ اس سے بہت پہلے کا ہے۔ زمانہ ” تاریخ مدون “ سے قبل ایسے واقعات گزرے ہیں جن کے بارے میں انسان کو کوئی علم نہیں ہے۔ لہٰذا کوئی ایسا تاریخی ریکارڈ نہیں ہے ، جہاں سے ہم کوئی یقینی بات اخذ کرسکیں۔
اگر تورات تحریف اور اضافوں سے پاک ہوتی تو وہ ان قدیم واقعات کے بارے میں ایک قابل اعتماد ریکارڈ ہوتی۔ لیکن تورات ایسے قصے کہانیوں سے بھری پڑی ہے جن کے بارے میں کوئی شک نہیں ہے کہ ان کا حقیقت سے دور کا واسطہ بھی نہیں ہے۔ نیز اس میں ایسی باتیں کثرت سے ہیں جن سے معلوم ہوتا ہے کہ وہ اصل وحی پر اضافہ ہیں۔ تو رات میں جو تاریخی قصے ہیں وہ تاریخ کا مستند ماخذ نہیں ہو سکتے۔ اب قرآن ہی وہ ماخذ رہ جاتا ہے جو حذف و اضافہ اور تحریف سے پاک ہے اور اس کے اندر جو بھی تاریخی مواد ہے وہ درست ہے۔
ایک نہایت ہی مسلمہ حقیقت یہ ہے کہ اب ہم قرآن کریم کی تاریخ کی روشنی میں نہیں پڑھ سکتے۔ اس کی دو واضح وجوہات ہیں۔ پہلی وجہ یہ ہے کہ تاریخ بالکل دور جدید کی لکھی ہوئی چیز ہے اور ہے بھی نامکمل۔ انساین تاریخ کے کئی واقعات بلکہ بیشمار اہم واقعات میں ریکارڈ ہونے سے بالکل رہ گئے ہیں۔ ان کے بارے میں انسانوں کو اب کوئی علم نہیں ہے۔ قرآن کریم ان واقعات میں سے بعض واقعات کو پیشک رتا ہے جن کے بارے میں تاریخ فہمی دامن ہے۔
دوسری وجہ یہ ہے کہ تاریخ نے اگرچہ بعض واقعات کو سمجھا اور قلم بند کیا ہے لیکن یہ کام بہرحال دوسرے انسانی اعمال کی طرح قصور اور غلطی سے مبرا نہیں ہے۔ اس میں غلطی اور تخریف کا ہر جگہ امکان موجود ہے ۔ ہم خود اپنے زمانے میں مشاہدہ کرتے ہیں کہ باوجود اس کے کہ ذرائع مواصلات ترقی کر گئے ہیں اور تحقیقات کے لئے بیشمار ذرائع میسر ہیں لیکن ایک ہی واقعہ کے بارے میں رپورٹروں کی رپورٹ مختلف ہوتی ہے۔ لوگ مختلف زاویوں سے اسیب یان کرتے ہیں اور متضاد تجزیہ کرتے ہیں۔ یہ ہے وہ خام مواد جس سے انسانوں کی تاریخ کو مرتب کیا گیا ہے۔ کوئی جس قدر چاہے تحقیق و تفتیش کا دعویٰ کیوں نہ کرے تاریخی ریکارڈ بہرحال مشکوک ہوتا ہے۔
یہ بات کرنا تو موجودہ دور کے مرتب کردہ اصول تاریخ کے بھی خلاف ہے کہ قرآن مجید جن واقعات کا ذکر کرتا ہے ان کو ہم تاریخ کی کسوٹی پر رکھیں ، جبکہ اسلامی عقیدہ اور اسلامی نظریہ حیات تو اس کی سرے سے اجازت ہی نہیں دیتا کیونکہ ہمارا ایمان ہے کہ قرآن مجید ایک قول فیصل ہے۔ اس اندازہ کی بات نہ تو وہ شخص کرسکتا ہے جو ایک سچا مومن ہے اور نہ وہ شخص کر سکات ہے جو دور جدید کے انداز تحقیق و تفتیش کو جانتا ہے۔ قرآن کریم کی صحت کو تاریخ سے معلوم کرنا محض بےعقلی ہے۔
پوچھنے والوں نے ذوالقرنین کے بارے میں رسول اللہ ﷺ سے کچھ سوالات پوچھے۔ آپ کی سیرت کے مصدقہ ذرائع اور مصادر بتاتے ہیں کہ آپ پر اللہ نے وحی بھیجی اور وہ قرآن میں قلم بند کردی گئی۔ قرآن کے سوا اس دور کی تاریخ کے بارے میں اور کوئی ریکارڈ موجود نہی ہے لہذا ہم بغیر علم کے اس کے بارے عقل گھوڑے نہیں دوڑا سکتے۔
تفاسیر میں بیشمار اقوال وارد ہیں لیکن ہماری تفسیروں کے بیشمار اقوال بھی قابل یقین نہیں ہیں۔ ہم ان تفاسیر کے اقوال میں سے جو قول بھی لیں ہمیں چاہئے کہ اس کی اچھی طرح جانچ پڑتال کریں کیونکہ ہماری قدیم تفاسیر میں اسرائیلیات اور قصے کہانیاں بھی راہ پا گئی ہیں۔
قرآن مجید کے سیاق کلام سے معلوم ہوتا ہے کہ ذوالقرنین نے تین سفر کئے۔ ایک سفر مشرق ، ایک سفر مغرب اور تیسرا سفر (بین البدین) دو بندوں والی جگہ کا سفر۔ ہمیں چاہئے کہ ہم قرآن کریم کے مطابق انہی تین سفروں کو یہاں لیں۔
قرآن کریم ذوالقرنین کی بات یوں شروع کرتا ہے۔
اس رکوع میں ذوالقرنین کے بارے میں یہود مدینہ کے سوال کا جواب دیا گیا ہے۔ بیسویں صدی کے آغاز تک اکثر مفسرین ذوالقرنین سے ناواقف تھے۔ چناچہ تیرہ سو سال تک عام طور پر سکندر اعظم ہی کو ذوالقرنین سمجھا جاتا رہا۔ اس کی وجہ یہ تھی کہ قرآن میں ذوالقرنین کی فتوحات کا ذکر جس انداز میں ہوا ہے یہ انداز سکندر اعظم کی فتوحات سے ملتا جلتا ہے ‘ لیکن حقیقت یہ ہے کہ ذوالقرنین کی سیرت کا وہ نقشہ جو قرآن نے پیش کیا ہے اس کی سکندر اعظم کی سیرت کے ساتھ سرے سے کوئی مناسبت ہی نہیں۔ بہرحال جدید تحقیق سے معلوم ہوا ہے کہ ذوالقرنین قدیم ایران کے بادشاہ کیخورس یا سائرس کا لقب تھا۔ یہ اس زمانے کی بات ہے جب ایران کے علاقے میں دو الگ الگ خود مختار مملکتیں قائم تھیں۔ ایک کا نام پارس تھا جس سے ”فارس“ کا لفظ بنا ہے اور دوسرے کا نام ”مادا“ تھا۔ کیخورس یا سائرس نے ان دونوں مملکتوں کو ملا کر ایک ملک بنا دیا اور یوں سلطنت ایران کے سنہرے دور کا آغاز ہوا۔ دو مملکتوں کے فرمانروا ہونے کی علامت کے طور پر اس نے اپنے تاج میں دو سینگ لگا رکھے تھے اور اس طرح اس کا لقب ذوالقرنین دو سینگوں والا پڑگیا۔آیت 83 وَيَسْـــَٔـلُوْنَكَ عَنْ ذِي الْقَرْنَيْنِ ۭ قُلْ سَاَتْلُوْا عَلَيْكُمْ مِّنْهُ ذِكْرًاذوالقرنین کے بارے میں جدید تحقیق کو اہل علم کے حلقے میں متعارف کرانے کا سہرا مولانا ابو الکلام آزاد کے سر ہے۔ انہوں نے اپنی تفسیر ”ترجمان القرآن“ میں اس موضوع پر بہت تفصیل سے بحث کی ہے اور ثابت کیا ہے کہ قدیم ایران کا بادشاہ کیخورس یا سائرس ہی ذوالقرنین تھا۔ مولانا ابو الکلام آزاد کی تحقیق کی بنیاد ان معلومات پر ہے جو شہنشاہ ایران رضا شاہ پہلوی کے دور میں ایک کھدائی کے دوران دستیاب ہوئی تھیں۔ اس کھدائی کے دوران اس عظیم فاتح بادشاہ کا ایک مجسمہ بھی دریافت ہوا تھا اور مقبرہ بھی۔ اس کھدائی سے ملنے والی معلومات کی بنیاد پر رضا شاہ پہلوی نے اس کی ڈھائی ہزار سالہ برسی منانے کا خصوصی اہتمام کیا تھا۔ دریافت شدہ مجسمے کے سر پر جو تاج تھا اس میں دو سینگ بھی موجود تھے جس سے یہ ثابت ہوگیا کہ ایران کا یہی بادشاہ کیخورس یا سائرس تھا جو تاریخ میں ذوالقرنین کے لقب سے مشہور ہے۔اب یہ سوال پیدا ہوتا ہے کہ یہودیوں نے خصوصی طور پر یہ سوال کیوں پوچھا تھا اور ذوالقرنین کی شخصیت میں ان کی اس دلچسپی کا سبب کیا تھا ؟ اس سوال کا جواب ہمیں بنی اسرائیل کی تاریخ سے ملتا ہے۔ جب 87 قبل مسیح کے لگ بھک عراق کے بادشاہ بخت نصر نے فلسطین پر حملہ کر کے یروشلم کو تباہ کیا تو اس شہر کی اکثریت کو تہ تیغ کردیا گیا اور زندہ بچ جانے والوں کو وہ اپنی فوج کے ساتھ بابل Babilonia لے گیا جہاں یہ لوگ ڈیڑھ سو سال تک اسیری کی حالت میں رہے۔ جب ایران کے بادشاہ کیخورس یا سائرس آئندہ سطور میں انہیں ”ذوالقرنین“ ہی لکھاجائے گا نے ایران کو متحد کرنے کے بعد اپنی فتوحات کا دائرہ وسیع کیا تو سب سے پہلے عراق کو فتح کیا۔ مشرق وسطیٰ کے موجودہ نقشے کو ذہن میں رکھا جائے تو فلسطین ‘ اسرائیل شرق اردن مغربی کنارہ اور لبنان کے ممالک پر مشتمل پورے علاقے کو اس زمانے میں شام عرب یا شام اور اس سے مشرق میں واقع علاقے کو عراق عرب یا عراق کہا جاتا تھا جبکہ عراق کے مزید مشرق میں ایران واقع تھا۔ عراق پر قبضہ کرنے کے بعد ذوالقرنین نے بابل میں اسیر یہودیوں کو آزاد کردیا اور انہیں اجازت دے دی کہ وہ اپنے ملک واپس جا کر اپنا تباہ شدہ شہر یروشلم دوبارہ آباد کرلیں۔ چناچہ حضرت عزیر کی قیادت میں یہودیوں کا قافلہ بابل سے واپس یروشلم آیا۔ انہوں نے اپنے اس شہر کو پھر سے آباد کیا اور ہیکل سلیمانی کو بھی از سر نو تعمیر کیا۔ اس پس منظر میں یہودی ذوالقرنین کو اپنا محسن سمجھتے ہیں اور اسی سبب سے ان کے بارے میں انہوں نے حضور سے یہ سوال پوچھا تھا۔ذوالقرنین کی فتوحات کے سلسلے میں تین مہمات کا ذکر تاریخ میں بھی ملتا ہے۔ ان مہمات میں ایران سے مغرب میں بحیرۂ روم Mediterranian تک پورے علاقے کی تسخیر ‘ مشرق میں بلوچستان اور مکران تک لشکرکشی اور شمال میں بحیرۂ خَزَر Caspian Sea اور بحیرۂ اسود Black Sea کے درمیانی پہاڑی علاقے کی فتوحات شامل ہیں۔ ذوالقرنین کا یہ سلسلہ فتوحات حضرت عمر کے دور خلافت کی فتوحات کے سلسلے سے مشابہ ہے۔ حضرت عمر کے دور میں بھی جزیرہ نمائے عرب سے مختلف سمتوں میں تین لشکروں نے پیش قدمی کی تھی ایک لشکر شام اور پھر مصر گیا تھا دوسرے لشکر نے عراق کے بعد ایران کو فتح کیا تھا جبکہ تیسرا لشکر شمال میں کوہ قاف Caucasus تک جا پہنچا تھا۔قدیم روایات میں ذوالقرنین کے بارے میں کچھ ایسی معلومات بھی ملتی ہیں کہ ابتدائی عمر میں وہ ایک چھوٹی سی مملکت کے شہزادے تھے۔ ان کے اپنے ملک میں کچھ ایسے حالات ہوئے کہ کچھ لوگ ان کی جان کے درپے ہوگئے۔ وہ کسی نہ کسی طرح وہاں سے بچ نکلنے میں کامیاب ہوگئے اور کچھ عرصہ صحرا میں روپوش رہے۔ اسی عرصے کے دوران ان تک کسی نبی کی تعلیمات پہنچیں۔ یہ بھی ممکن ہے کہ زرتشت ہی اللہ کے نبی ہوں اور انہی کی تعلیمات سے انہوں نے استفادہ کیا ہو۔ بہر حال قرآن نے ذوالقرنین کا جو کردار پیش کیا ہے وہ ایک نیک اور صالح بندۂ مومن کا کردار ہے اور اس کردار کی خصوصیات تاریخی اعتبار سے اس زمانے کے کسی اور فاتح حکمران پر منطبق نہیں ہوتیں۔
کفار کے سوالات کے جوابات۔پہلے گزر چکا ہے کہ کفار مکہ نے اہل کتاب سے کہلوایا تھا کہ ہمیں کچھ ایسی باتیں بتلاؤ جو ہم محمد ﷺ سے دریافت کریں اور ان کے جواب آپ سے نہ بن پڑیں۔ تو انہوں نے سکھایا تھا کہ ایک تو ان سے اس شخص کا واقعہ پوچھو جس نے روئے زمین کی سیاحت کی تھی۔ دوسرا سوال ان سے ان نوجوانوں کی بہ نسبت کرو جو بالکل لا پتہ ہوگئے ہیں اور تیسرا سوال ان سے روح کی بابت کرو۔ ان کے ان سوالوں کے جواب میں یہ سورت نازل ہوئی۔ یہ بھی روایت ہے کہ یہودیوں کی ایک جماعت حضور ﷺ سے ذوالقرنین کا قصہ دریافت کرنے کو آئی تھی۔ تو آپ نے انہیں دیکھتے ہی فرمایا کہ تم اس لئے آئے ہو۔ پھر آپ نے وہ واقعہ بیان فرمایا۔ اس میں ہے کہ وہ ایک رومی نوجوان تھا اسی نے اسکندریہ بنایا۔ اسے ایک فرشتہ آسمان تک چڑھالے گیا تھا اور دیوار تک لے گیا تھا اس نے کچھ لوگوں کو دیکھا جن کے منہ کتوں جیسے تھے وغیرہ۔ لیکن اس میں بہت طول ہے اور بیکار ہے اور ضعف ہے اس کا مرفوع ہونا ثابت نہیں۔ دراصل یہ بنی اسرائیل کی روایات ہیں۔ تعجب ہے کہ امام ابو زرعہ رازی جیسے علامہ زماں نے اسے اپنی کتاب دلائل نبوت میں مکمل وارد کیا ہے۔ فی الواقع یہ ان جیسے بزرگ سے تو تعجب خیز چیز ہی ہے۔ اس میں جو ہے کہ یہ رومی تھا یہ بھی ٹھیک نہیں۔ اسکندر ثانی البتہ رومی تھا وہ قیلیس مفذونی کا لڑکا ہے جس سے روم کی تاریخ شروع ہوتی ہے اور سکندر اول تو بقول ازرقی وغیرہ حضرت ابراہیم ؑ کے زمانے میں تھا۔ اس نے آپ کے ساتھ بیت اللہ شریف کی بنا کے بعد طواف بیت اللہ کیا ہے۔ آپ پر ایمان لایا تھا، آپ کا تابعدار بنا تھا۔ انہی کے وزیر حضرت خضر ؑ تھے۔ اور سکندر ثانی کا وزیر ارسطاطالیس مشہور فلسفی تھا واللہ اعلم۔ اسی نے مملکت روم کی تاریخ لکھی یہ حضرت میسح ؑ سے تقریبا تین سو سال پہلے تھا اور سکندر اول جس کا ذکر قرآن کریم میں ہے یہ حضرت ابراہیم خلیل اللہ ؑ کے زمانے میں تھا جیسے کہ ازرقی وغیرہ نے ذکر کیا ہے۔ جب حضرت ابراہیم ؑ نے بیت اللہ بنایا تو اس نے آپ کے ساتھ طواف کیا تھا اور اللہ کے نام بہت سی قربانیاں کی تھیں۔ ہم نے اللہ کے فضل سے ان کے بہت سے واقعات اپنی کتاب البدایہ والنہایہ میں ذکر کردیے ہیں۔ وہب کہتے ہیں یہ بادشاہ تھے چونکہ ان کے سر کے دونوں طرف تانبا رہتا تھا اس لئے انہیں ذوالقرنین کہا گیا یہ وجہ بھی بتلائی گئی ہے کہ یہ روم کا اور فارس کا دونوں کا بادشاہ تھا۔ بعض کا قول ہے کہ فی الواقع اس کے سر کے دونوں طرف کچھ سنیگ سے تھے۔ حضرت علی ؓ فرماتے ہیں اس نام کی وجہ یہ ہے کہ یہ اللہ کے نیک بندے تھے اپنی قوم کو اللہ کی طرف بلایا یہ لوگ مخالف ہوگئے اور ان کے سر کے ایک جانب اس قدر مارا کہ یہ شہید ہوگئے۔ اللہ تعالیٰ نے انہیں دوبارہ زندہ کردیا قوم نے پھر سر کے دوسری طرف اسی قدر مارا جس سے یہ پھر مرگئے اس لئے انہیں ذوالقرنین کہا جاتا ہے۔ ایک قول یہ بھی ہے کہ چونکہ یہ مشرق سے مغرب کی طرف سیاحت کر آئے تھے اس لیے انہیں ذوالقرنین کہا گیا ہے۔ ہم نے اسے بڑی سلطنت دے رکھی تھی۔ ساتھ ہی قوت لشکر آلات حرب سب کچھ ہی دے رکھا تھا۔ مشرق سے مغرب تک اس کی سلطنت تھی عرب عجم سب اس کے ماتحت تھے۔ ہر چیز کا اسے علم دے رکھا تھا۔ زمین کے ادنی اعلیٰ نشانات بتلا دیے تھے۔ تمام زبانیں جانتے تھے۔ جس قوم سے لڑائی ہوتی اس کی زبان بول لیتے تھے ایک مرتبہ حضرت کعب احبار ؒ سے حضرت امیر معاویہ ؓ نے فرمایا تھا کیا تم کہتے ہو کہ ذوالقرنین نے اپنے گھوڑے ثریا سے باندھے تھے۔ انہوں نے جواب دیا کہ اگر آپ یہ فرماتے ہیں تو سنئے اللہ تعالیٰ نے فرمایا ہے ہم نے اسے ہر چیز کا سامان دیا تھا۔ حقیقت میں اس بات میں حق حضرت معاویہ ؓ کے ساتھ ہے اس لئے بھی کہ حضرت کعب ؒ کو جو کچھ کہیں لکھا ملتا تھا روایت کردیا کرتے تھے گو وہ جھوٹ ہی ہو۔ اسی لئے آپ نے فرمایا ہے کہ کعب کا کذب تو با رہا سامنے آچکا ہے یعنی خود تو جھوٹ نہیں گھڑتے تھے لیکن جو روایت ملتی گو بےسند ہو بیان کرنے سے نہ چوکتے۔ اور یہ ظاہر ہے کہ بنی اسرائیل کی روایات جھوٹ، خرافات، تحریف، تبدیلی سے محفوظ نہ تھیں۔ بات یہ ہے کہ ہمیں ان اسرائیلی روایت کی طرف التفات کرنے کی بھی کیا ضرورت ؟ جب کہ ہمارے ہاتھوں میں اللہ کی کتاب اور اس کے پیغمبر ﷺ کی سچی اور صحیح احادیث موجود ہیں۔ افسوس انہیں بنی اسرائیلی روایات نے بہت سی برائی مسلمانوں میں ڈال دی اور فساد پھیل گیا۔ حضرت کعب ؒ نے اس بنی اسرائیل کی روایت کے ثبوت میں قرآن کی اس آیت کا آخری حصہ جو پیش کیا ہے یہ بھی کچھ ٹھیک نہیں کیونکہ یہ تو بالکل ظاہربات ہے کہ کسی انسان کو اللہ تعالیٰ نے آسمانوں پر اور ثریا پر پہنچنے کی طاقت نہی دی۔ دیکھئے بلقیس کے حق میں بھی قرآن نے یہی الفاظ کہے ہیں (وَاُوْتِيَتْ مِنْ كُلِّ شَيْءٍ وَّ لَهَا عَرْشٌ عَظِيْمٌ 23۔) 27۔ النمل :23) وہ ہر چیز دی گئی تھی اس سے بھی مراد صرف اسی قدر ہے کہ بادشاہوں کے ہاں عموما جو ہوتا ہے وہ سب اس کے پاس بھی تھا اسی طرح حضرت ذوالقرنین کو اللہ نے تمام راستے اور ذرائع مہیا کردیے تھے کہ وہ اپنی فتوحات کو وسعت دیتے جائیں اور زمین سرکشوں اور کافروں سے خالی کراتے جائیں اور اس کی توحید کے ساتھ موحدین کی بادشاہت دنیا پر پھیلائیں اور اللہ والوں کی حکومت جمائیں ان کاموں میں جن اسباب کی ضرورت پڑتی ہے وہ سب رب عزوجل نے حضرت ذوالقرنین کو دے رکھے تھے واللہ اعلم۔ حضرت علی ؓ سے پوچھا جاتا ہے کہ یہ مشرق ومغرب تک کیسے پہنچ گئے ؟ آپ نے فرمایا سبحان اللہ۔ اللہ تعالیٰ نے بادلوں کو ان کے لئے مسخر کردیا تھا اور تمام اسباب انہیں مہیا کردیے تھے اور پوری قوت وطاقت دے دی تھی۔