(آیت) ” نمبر 57 تا 58۔
” ہاں یہ صورت حال سخت ہیجان انگیز ہوتی بشرطیکہ کسی کے اندر ایمانی حمیت کا جذبہ موجود ہو اور وہ یہ سمجھتا ہو کہ اگر اس کے سامنے اس کے دین کی توہین کردی گئی ‘ اس کی عبادت کی توہین کردی گی اور اس کے نظریہ حیات اور موقف کی توہین کردی گئی تو اس کی کوئی عزت اور آبرو نہ رہے گی لہذا ایسے لوگوں سے ترک تعلق ہی ایک خدائی امر ہے ۔ اہل ایمان اور ایسے لوگوں کے درمیان دوستی یا تعلق موالات کس طرح قائم ہوسکتا ہے ۔ یہ حرکات وہ لوگ کرتے بھی اس لئے ہیں کہ ان کی عقل وخرد میں خرابی ہے اس لئے کہ اللہ کے دین اور مسلمانوں کے طریقہ عبادت کے ساتھ مذاق تو وہ لوگ کرتے ہیں جن کی عقل وخرد میں خرابی ہے اس لئے کہ اللہ کے دین اور مسلمانوں کے طریقہ عبادت کے ساتھ مذاق تو وہ لوگ کرتے ہیں جن کی عقل متوازن نہیں ہوتی ۔ جب عقل صحت مند اور درست ہو تو وہ اپنے ماحول سے ایمان کے اشارات پاتی رہتی ہے اور جب عقل اور فہم میں خلل واقعہ ہوجاتا ہے تو وہ اپنے اردگرد پھیلے ہوئے اشارات ایمان کا ادراک نہیں کرسکتی ۔ اس خلل کی وجہ سے انسان اور اس کے اردگرد پھیلی ہوئی کائنات کے درمیان ‘ تعلقات میں بھی خلل پیدا ہوجاتا ہے اس لئے کہ یہ پوری کائنات ہی اس بات پر شاید عادل ہے کہ اللہ ہی انسان کی بندگی کا مستحق ہے اور اگر عقل صحت مند ہو اور اس میں کوئی خلل نہ ہو تو اس کے اندر اس کائنات کی عظمت اور اس کے بنانے والے کی عظمت و جلالت پیدا ہوتی ہے اس لئے کوئی درست اور سلیم عقل اہل اسلام کے طریقہ عبادت کے ساتھ مزاح نہیں کرسکتی ۔
اسلامی عبادات کے ساتھ یہ مذاق اہل کتاب یہودیوں کی طرف سے بھی ہوتا تھا اور اہل کفر کی طرف سے بھی ۔ یہ مزاح اس وقت ہو رہا تھا جب یہ قرآن حضور اکرم ﷺ کے قلب پر اتر رہا تھا اور جماعت مسلمہ اسے اخذ کر رہی تھی ‘ البتہ سیرت رسول ﷺ سے کوئی ایسا واقعہ منقول نہیں ہے کہ نصاری کی طرف سے بھی یہ مذاق ہوا ہو ۔ لیکن قرآن کریم جماعت مسلمہ کے لئے ایک دائمی اصول وضع کر رہا تھا ‘ مسلمانوں کی زندگی کا ایک دائمی منہاج اور دائمی نظریہ تشکیل پا رہا تھا اور اللہ کو یہ بھی علم تھا کہ زمانے کی گردشیں کیا ہوں گی اور دیکھئے کہ بعد کے ادوار میں دین کے دشمنوں اور تحریک اسلامی کے دشمنوں نے اس امت کے ساتھ کیا سلوک کیا اور یہ سلوک ان لوگوں نے کیا جو اپنے آپ کو نصاری کہتے تھے اور یہ لوگ تعداد میں یہودیوں کے مقابلے میں بہت ہی زیادہ تھے ۔ بلکہ یہود اور دوسرے کفار سے مل کر بھی زیادہ تھے ۔ یہ لوگ اسلام کے خلاف اٹھ کھڑے ہوئے اور صدیوں تک اسلام کی دشمنی دلوں میں اٹھائے پھرے ۔ اسلام کے خلاف انہوں نے جنگیں جاری رکھیں اور یہ محاربت اس وقت سے شروع ہوگئی جب حضرت ابوبکر ؓ اور حضرت عمر ؓ کے دور میں سلطنت روم کے ساتھ مسلمانوں کی مڈبھیڑ ہوئی اور یہ مڈبھیڑ صلاح الدین ایوبی کے وقت تک صلیبی جنگوں کی شکل میں جاری رہی ۔ اس کے بعد عالم اسلام کے خلاف تمام مغربی ممالک نے جمع ہو کر یہاں سے خلاف اسلامیہ کو ختم کیا ۔ اس کے بعد مغربی استعمار پیدا ہوا ‘ جس کی آغوش میں صلیبیت چھپی ہوئی تھی اور کبھی کبھار اس استعمار کی زبان سے اس کا اظہار بھی ہوجاتا تھا ۔ اس استعمار کے زیر سایہ مسیحی تبلیغ آئی اور مسیحی تبلیغ اور استعمار دونوں اندر سے ملے ہوئے تھے ۔ آج بھی ان لوگوں کے خلاف یہود ونصاری کی جہ جنگ جاری ہے جو اسلام کی نشاۃ ثانیہ اور احیائے اسلام کے لئے کسی بھی جگہ کام کرتے ہیں اور ان حملوں میں یہودی ‘ عیسائی اور تمام مشرکین بحیثیت ملت واحدہ شریک ہیں۔
قرآن اس لئے آیا کہ یہ مسلمانوں کے لئے کتاب ہدایت ہے اور قیامت تک کے لئے ہے اور یہ کتاب ہی اس امت کے تصورات کو تشکیل دیتی ہے ۔ امت کے لئے اجتماعی نظام بناتی ہے اور اس کے لئے تحریکی خطوط وضع کرتی ہے چناچہ یہاں اس نے ایک مستقل اصول رکھ دیا کہ امت مسلمہ کا کوئی فرد اللہ ‘ رسول اللہ اور مومنین کے سوا کسی اور کے ساتھ تعلق موالات قائم نہ کرے گا اور یہ اصول منفی طور پر ان کے سامنے رکھ دیا جاتا ہے کہ وہ یہود ونصاری اور کافروں کے ساتھ کوئی تعلق مولات قائم ہی نہ کرے اور اس بات کا فیصلہ نہایت ہی سختی سے کیا جاتا ہے اور اسے اس طرح مختلف انداز سے بار بار لایا جاتا ہے ۔
دین اسلام اہل اسلام کو رواداری کا حکم دیتا ہے ۔ اہل کتاب کے ساتھ اسلام عموما حسن معاملہ کا حکم دیتا ہے ۔ اہل کتاب میں سے جو لوگ اپنے آپ کو نصاری کہتے ہیں ‘ ان کے ساتھ اسلام خصوصی طور پر رواداری کا حکم دیتا ہے لیکن اسلام ان لوگوں کے ساتھ بھی تعلق موالات کی ممانعت کا حکم دیتا ہے اس لئے کہ رواداری اور حسن معاملہ اور حسن سلوک اخلاقی معاملات ہیں اور موالات کا تعلق نظریہ حیات اور تنظیم کے ساتھ ہے ۔ تعلق موالات دراصل ایک دوسرے کے ساتھ تعاون کا معاہدہ ہوتا ہے اور اس سے دونوں فریق ایک دوسرے کی مدد کرنے اور باہم تعاون کرنے کے پابند ہوجاتے ہیں اور مسلمانوں اور اہل کتاب کے درمیان تعاون ممکن نہیں ہے ۔ کفار کا مال تو اس بھی زیادہ بدتر ہے جیسا کہ اس سے قبل ہم وضاحت کرچکے ہیں ۔ مسلمانوں کے ساتھ موالات صرف دین ‘ اقامت دین اور جہاد میں ہو سکتی ہے اور ان معاملات میں ایک غیر مسلم کے درمیان تعاون کسی طرح ممکن نہیں ہے ۔
یہ مسئلہ نظریاتی اور دو ٹوک ہے ۔ اس معاملے میں صرف فیصلہ کن اور سخت موقف ہی اختیار کیا جاسکتا ہے اور یہی ایک مسلم کے شایان شان ہے ‘ دو ٹوک سنجیدگی ۔
اہل ایمان کے نام ان سخت نداہائے ثلاثہ سے فارغ ہو کر اب حضور نبی کریم ﷺ کو پکارا جاتا ہے کہ آپ خود اہل کتاب کی طرف متوجہہو کر ذرا ان سے پوچھیں کہ آخر تم بتاؤ کہ ہمارے ساتھ تمہاری جانب سے کی جانے والی اس دشمنی کے اسباب کیا ہیں ؟ تم ہم سے کیوں ناراض ہو ؟ محض اس لئے کہ ہم اللہ وحدہ پر ایمان لائے ہیں اور موجودہ کتاب کے ساتھ ان کتب پر بھی ایمان لائے ہیں جو ہم سے پہلے تم پر نازل ہوئی ہیں اور اب جو باران رحمت آ رہا ہے ہم اس سے فائدہ اٹھاتے ہیں ۔ دشمنی بس یہی تو ہے کہ ہم مسلمان پورا پورا ایمان لاتے ہیں اور تم اہل کتاب فسق وفجور میں مبتلا ہو۔ حضور ﷺ کا یہ خطاب ان کے لئے نہایت ہی رسوا کن ہے لیکن اس خطاب سے اس معاملے کی اچھی طرح وضاحت بھی ہوتی ہے اور یہ فیصلہ کن خطاب ہے اور اس سے تعین ہوجاتا ہے کہ مابہ الافتراق کیا ہے ۔
یہ سوال اہل کتاب سے اللہ تعالیٰ کی ہدایات کے مطابق کیا جارہا ہے ۔ ایک جانب سے یہ سوال مظہر حقیقت ہے کہ اہل کتاب اور اہل ایمان کے درمیان اصل صورت حال ہے کیا ؟ اور یہ کہ وہ کیا اسباب اور وجوہات ہیں جن کی وجہ سے اہل کتاب نے دین اسلام اور جماعت مسلمہ کے خلاف یہ موقف اختیار کیا ہے ۔ دوسری جانب سے یہ استفہام انکاری ہے اور بتایا جاتا ہے کہ انہوں نے جو موقف اختیار کیا ہے ‘ وہ ان کے شایان شان نہیں ہے ۔ جن اسباب کی وجہ سے وہ اس دشمنی پر تلے ہوئے ہیں ان کا تقاضا یہ نہیں ہے جو وہ کرتے ہیں ۔ یہ اہل اسلام کے لئے ایک فہمائش بھی ہے اور ان کو یہ نفرت دلائی جاتی ہے کہ وہ اس قوم سے ہر گز تعلق موالات قائم نہ کریں اور یہ بالواسطہ اسی موقف کی تائید ہے جو اس سے قبل نداہائے ثلاثہ کے تحت بیان کیا گیا کہ ہر گز ان لوگوں سے یہ تعلق قائم نہ کرو ۔
اہل کتاب حضور ﷺ کے وقت بھی حضور ﷺ اور تحریک اسلامی کے ساتھ محص اس لئے دشمنی رکھتے تھے کہ یہ لوگ ایمان باللہ پر جمے ہوئے تھے ۔ قرآن کریم پر ایمان لاتے تھے ۔ اور سابقہ کتب پر بھی ایمان لاتے تھے اور اس کے سوا اہل ایمان کا اور کوئی جرم نہ تھا ‘ اور آج بھی وہ یہی دشمنی رکھتے ہیں ۔
یہ لوگ مسلمانوں کے ساتھ محض اس لئے دشمنی کرتے ہیں کہ ہو مسلمان ہیں اور یہود و نصاری نہیں ہیں اور یہود ونصاری کی حالت یہ ہے کہ وہ خود ان کتب سے بھی روگردانی اختیار کرچکے ہیں جو ان کی طرف نازل ہوئیں۔ ان کے فسق وفجور کی اور دلیلوں کے علاوہ یہ بھی ایک بڑی قوی دلیل ہے کہ وہ آخری رسالت پر ایمان نہیں لاتے حالانکہ یہ آخری رسالت تمام سابقہ رسالتوں کی تصدیق کرتی ہے ۔ اور ان کی ہدایات کے لئے مہیمن ہے ماسوائے ان کے کہ جو خرافات انہوں نے اپنائے ہیں اور جو تحریفات انہوں نے اس میں خود کی ہیں۔
وہ اسلام کے خلاف یہ شعلہ بار جنگ کیوں جاری رکھے ہوئے ہیں جو کبھی ٹھنڈی نہیں ہوتی اور گزشتہ چودہ صدیوں سے وہ اسے بھڑکا رہے ہیں یہ جنگ اس وقت سے برپا ہے جب سے مدینہ میں ایک اسلامی ریاست قائم ہوئی ہے ‘ اسلامی شخصیت نمودار ہوئی ہے اور مسلمانوں کا نقشہ عالم پر ایک مستقل وجود بنا ہے ۔ یہ وجود ان کے دین کی وجہ سے نمودار ہوا ہے ۔ انکے تصور حیات کی وجہ سے بنا ہے اور اسلامی نظام حیات کی وجہ سے بنا ہے اور اسلامی منہاج حیات کے قیام کے لئے بنا ہے ۔
غرض مسلمانوں کے خلاف وہ یہ چومکھی لڑائی اس لئے لڑ رہے ہیں کہ وہ سب سے پہلے مسلمان ہیں اور یہ لوگ اپنی اس جنگ کو اس وقت تک ختم نہ کریں گے جب تک مسلمانوں کو اپنے دین سے الٹے پاؤں پھیر کر نہ لے جائیں اور جب تک ان کو غیر مسلم نہ بنا دیں ۔ ان کی یہ خواہش اس لئے ہے کہ وہ خود اپنے دین کو چھوڑ کر فاسق ہوگئے ہیں اس لئے وہ اس بات کو پسند نہیں کرتے کہ کوئی دوسرا بھی صحیح مومن اور دین پر اچھی طرح چلنے والا دنیا میں رہے ۔ اور اللہ تعالیٰ نے ایک دوسری جگہ اس حقیقت کو رسول اکرم ﷺ کو مخاطب کرتے ہوئے بڑی صراحت کے ساتھ بیان کیا ہے ۔
(آیت) ” ولن ترضی عنک الیھود ولاالنصاری حتی تتبع ملتھم “۔ اور آپ سے یہود ونصاری ہر گز راضی نہ ہوں گے ‘ جب تک آپ ان کی ملت کے تابع نہ ہوجائیں “۔ اور یہی وجہ ہے کہ اس صورت میں اللہ نے واضح طور اہل کتاب کے سامنے ان کے اصل اغراض ومقاصد رکھ دیئے ہیں کہ وہ دشمنی کیوں کرتے ہیں۔
آیت 57 یٰٓاَیُّہَا الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا لاَ تَتَّخِذُوا الَّذِیْنَ اتَّخَذُوْا دِیْنَکُمْ ہُزُوًا وَّلَعِبًا مِّنَ الَّذِیْنَ اُوْتُوا الْکِتٰبَ مِنْ قَبْلِکُمْ وَالْکُفَّارَ اَوْلِیَآءَ ج پھر وہی بات فرمائی گئی کہ مشرکین اور اہل کتاب میں سے کسی کو اپنا ولی اور دوست نہ بناؤ۔
اذان اور دشمنان دین اللہ تعالیٰ مسلمانوں کو غیر مسلموں کی محبت سے نفرت دلاتا ہے اور فرماتا ہے کہ " کیا تم ان سے دوستیاں کرو گے جو تمہارے طاہر و مطہر دین کی ہنسی اڑاتے ہیں اور اسے ایک بازیچہ اطفال بنائے ہوئے ہیں "۔ من بیان جنس کیلئے جیسے (من الاوثان) میں۔ بعض نے (والکفار) پڑھا ہے اور عطف ڈالا ہے اور بعض نے (والکفار) پڑھا ہے اور (لاتتخذوا) کا نیا معمول بنایا ہے تو تقدیر عبارت (والا الکفار اولیاء) ہوگی، کفار سے مراد مشرکین ہیں، ابن مسعود کی قرأت میں (و من الذین اشرکوا) ہے۔ اللہ سے ڈرو اور ان سے دوستیاں نہ کرو اگر تم سچے مومن ہو۔ یہ تو تمہارے دین کے، اللہ کی شریعت کے دشمن ہیں۔ جیسے فرمایا آیت (لَا يَتَّخِذِ الْمُؤْمِنُوْنَ الْكٰفِرِيْنَ اَوْلِيَاۗءَ مِنْ دُوْنِ الْمُؤْمِنِيْنَ) 3۔ آل عمران :28) مومن مومنوں کو چھوڑ کر کفار سے دوستیاں نہ کریں اور جو ایسا کرے وہ اللہ کے ہاں کسی بھلائی میں نہیں ہاں ان سے بچاؤ مقصود ہو تو اور بات ہے، اللہ تعالیٰ تمہیں اپنی ذات سے ڈرا رہا ہے اور اللہ ہی کی طرف لوٹنا ہے۔ اسی طرح یہ کفار اہل کتاب اور مشرک اس وقت بھی مذاق اڑاتے ہیں جب تم نمازوں کیلئے لوگوں کو پکارتے ہو حالانکہ وہ اللہ تعالیٰ کی سب سے پیاری عبادت ہے، لیکن یہ بیوقوف اتنا بھی نہیں جانتے، اس لئے کہ یہ متبع شیطان ہیں، اس کی یہ حالت ہے کہ اذان سنتے ہی بدبو چھوڑ کر دم دبائے بھاگتا ہے اور وہاں جا کر ٹھہرتا ہے، جہاں اذان کی آواز نہ سن پائے۔ اس کے بعد آجاتا ہے پھر تکبیر سن کر بھاگ کھڑا ہوتا ہے اور اس کے ختم ہوتے ہی آکر اپنے بہکاوے میں لگ جاتا ہے، انسان کو ادھر ادھر کی بھولی بسری باتیں یاد دلاتا ہے یہاں تک کہ اسے یہ بھی خبر نہیں رہتی کہ نماز کی کتنی رکعت پڑھیں ؟ جب ایسا ہو تو وہ سجدہ سہو کرلے۔ (متفق علیہ) امام زہری فرماتے ہیں " اذان کا ذکر قرآن کریم میں بھی ہے پھر یہی آیت تلاوت کی "۔ ایک نصرانی مدینے میں تھا، اذان میں جب اشہد ان محمد الرسول اللہ سنتا تو کہتا کذاب جل جائے۔ ایک مرتبہ رات کو اس کی خادمہ گھر میں آگ لائی، کوئی پتنگا اڑا جس سے گھر میں آگ لگ گئی، وہ شخص اس کا گھر بار سب جل کر ختم ہوگیا۔ فتح مکہ والے سال حضور ﷺ نے حضرت بلال کو کعبے میں اذان کہنے کا حکم دیا، قریب ہی ابو سفیان بن حرب، عتاب بن اسید، حارث بن ہشام بیٹھے ہوئے تھے، عتاب نے تو اذان سن کر کہا میرے باپ پر تو اللہ کا فضل ہوا کہ وہ اس غصہ دلانے والی آواز کے سننے سے پہلے ہی دنیا سے چل بسا۔ حارث کہنے لگا اگر میں اسے سچا جانتا تو مان ہی نہ لیتا۔ ابو سفیان نے کہا بھئی میں تو کچھ بھی زبان سے نہیں نکالتا، ڈر ہے کہ کہیں یہ کنکریاں اسے خبر نہ کردیں انہوں نے باتیں ختم کی ہی تھیں کہ حضور ﷺ آگئے اور فرمانے لگے اس وقت تم نے یہ یہ باتیں کیں ہیں، یہ سنتے ہی عتاب اور حارث تو بول پڑے کہ ہماری گواہی ہے کہ آپ اللہ کے سچے رسول ﷺ ہیں، یہاں تو کوئی چوتھا تھا ہی نہیں، ورنہ گمان کرسکتے تھے کہ اس نے جا کر آپ سے کہہ دیا ہوگا (سیرۃ محمد بن اسحاق) حضرت عبداللہ بن جبیر جب شام کے سفر کو جانے لگے تو حضرت محذورہ سے جن کی گود میں انہوں نے ایام یتیمی بسر کئے تھے، کہا آپ کی اذان کے بارے میں مجھ سے وہاں کے لوگ ضرور سوال کریں گے تو آپ اپنے واقعات تو مجھے بتا دیجئے۔ فرمایا ہاں سنو جب رسول اللہ ﷺ حنین سے واپس آ رہے تھے، راستے میں ہم لوگ ایک جگہ رکے، تو نماز کے وقت حضور ﷺ کے مؤذن نے اذان کہی، ہم نے اس کا مذاق اڑانا شروع کیا، کہیں آپ کے کان میں بھی آوازیں پڑگئیں۔ سپاہی آیا اور ہمیں آپ کے پاس لے گیا۔ آپ نے دریافت فرمایا کہ تم سب میں زیادہ اونچی آواز کس کی تھی ؟ سب نے میری طرف اشارہ کیا تو آپ نے اور سب کو چھوڑ دیا اور مجھے روک لیا اور فرمایا " اٹھو اذان کہو " واللہ اس وقت حضور ﷺ کی ذات سے اور آپ کی فرماں برداری سے زیادہ بری چیز میرے نزدیک کوئی نہ تھی لیکن بےبس تھا، کھڑا ہوگیا، اب خود آپ نے مجھے اذان سکھائی اور جو سکھاتے رہے، میں کہتا رہا، پھر اذان پوری بیان کی، جب میں اذان سے فارغ ہوا تو آپ نے مجھے ایک تھیلی دے، جس میں چاندی تھی، پھر اپنا دست مبارک میرے سر پر رکھا اور پیٹھ تک لائے، پھر فرمایا اللہ تجھ میں اور تجھ پر اپنی برکت نازل کرے۔ اب تو اللہ کی قسم میرے دل سے رسول ﷺ کی عداوت بالکل جاتی رہی، ایسی محبت حضور ﷺ کی دل میں پیدا ہوگئی، میں نے آرزو کی کہ مکہ کا مؤذن حضور ﷺ مجھ کو بنادیں۔ آپ نے میری یہ درخواست منظور فرما لی اور میں مکہ میں چلا گیا اور وہاں کے گورنر حضرت عتاب بن اسید سے مل کر اذان پر مامور ہوگیا۔ حضرت ابو مخدورہ کا نام سمرہ بن مغیرہ بن لوذان تھا، حضور ﷺ کے چار مؤذنوں میں سے ایک آپ تھے اور لمبی مدت تک آپ اہل مکہ کے مؤذن رہے۔ ؓ وارضاہ۔