سورہ نساء: آیت 26 - يريد الله ليبين لكم ويهديكم... - اردو

آیت 26 کی تفسیر, سورہ نساء

يُرِيدُ ٱللَّهُ لِيُبَيِّنَ لَكُمْ وَيَهْدِيَكُمْ سُنَنَ ٱلَّذِينَ مِن قَبْلِكُمْ وَيَتُوبَ عَلَيْكُمْ ۗ وَٱللَّهُ عَلِيمٌ حَكِيمٌ

اردو ترجمہ

اللہ چاہتا ہے کہ تم پر اُن طریقوں کو واضح کرے اور اُنہی طریقوں پر تمہیں چلائے جن کی پیروی تم سے پہلے گزرے ہوئے صلحا٫ کرتے تھے وہ اپنی رحمت کے ساتھ تمہاری طرف متوجہ ہونے کا ارادہ رکھتا ہے، اور وہ علیم بھی ہے اور دانا بھی

انگریزی ٹرانسلیٹریشن

Yureedu Allahu liyubayyina lakum wayahdiyakum sunana allatheena min qablikum wayatooba AAalaykum waAllahu AAaleemun hakeemun

آیت 26 کی تفسیر

(آیت) ” یرید اللہ لیبین لکم ویھدیکم سنن الذین من قبلکم ویتوب علیکم واللہ علیم حکیم (26) واللہ یرید ان یتوب علیکم ویرید الذین یتبعون الشھوت ان تمیلوا میلا عظیما (27) یرید اللہ ان یخفف عنکم وخلق الانسان ضعیفا “۔ (28)

” اللہ چاہتا ہے کہ تم پر ان طریقوں کو واضح کرے اور انہی طریقوں پر تمہیں چلائے جن کی پیروی تم سے پہلے گزرے ہوئے صلحاء کرتے تھے ۔ وہ اپنی رحمت کے ساتھ تمہاری طرف متوجہ ہونے کا ارادہ رکھتا ہے اور وہ علیم بھی ہے اور دانا بھی ۔ ہاں ‘ اللہ تو تم پر رحمت کے ساتھ توجہ کرنا چاہتا ہے مگر جو لوگ خود اپنی خواہشات نفس کی پیروی کر رہے ہیں وہ چاہتے ہیں کہ تم راہ راست سے ہٹ کر دور نکل جاؤ ، اللہ تم پر سے پابندیوں کو ہلکا کرنا چاہتا ہے کیونکہ انسان کمزور پیدا کیا گیا ہے ۔ “

اللہ جل شانہ اپنے بندوں کے ساتھ بہت ہی نرمی برتتے ہیں ‘ اس لئے وہ ان کے سامنے اپنی حکمت قانون سازی بھی کھول کر بیان فرماتے ہیں ۔ وہ ان کو بتاتے ہیں کہ اپنے بندوں کے لئے وہ جو نظام زندگی تجویز کرتے ہیں اس میں ان کے لئے خیر ہی خیر ہے اور سہولت ہی سہولت ہے ۔ وہ ان کو اس ممتاز اور بلند مقام پر فائز کرکے ان کی عزت افزائی کر رہے ہیں ‘ وہ بلند مقام جس میں وہ خود ان سے ہمکلام ہوتے ہیں ‘ اور وہ ان کو اپنی حکمت تشریعی بتاتے ہیں اور ان سے کہتے ہیں کہ وہ ان کے سامنے اظہار خیال کرتے ہیں (آیت ) ” یرید اللہ لیبین “۔ (4 : 26) ” اللہ چاہتا ہے کہ تم پر ان طریقوں کو واضح کرے “ اس کا ارادہ ہے کہ وہ تم پر اپنی حکمت و دانائی کا انکشاف کرے ۔ وہ چاہتا ہے کہ تم اس حکمت کو بچشم سر دیکھو ‘ اس پر غور کرو ‘ اور اسے اس حال میں قبول کرو کہ تمہاری آنکھیں کھلی ہوں ‘ تمہارے دل آمادہ ہوں اور تمہاری عقل انہیں تسلیم کر رہی ہو ‘ اس لئے کہ اسلامی نظام حیات کے احکام معموں اور پہیلیوں پر مبنی نہیں ہیں ۔ وہ محض آمرانہ احکام نہیں جن کی نہ حکمت ہو اور نہ ہی ان کے کچھ مقاصد ہوں ۔ تم تو ان احکام کو اچھی طرح سمجھ سکتے ہو تم اس حکمت اور فلسفے کو بھی پاسکتے ہو جو ان احکام کی تہہ میں کار فرما ہے ۔ تم اچھی طرح جانتے ہو کہ اللہ حکیم ہے ‘ یہ انسان کے لئے ایک بڑا اعزاز ہے اور اس کی حقیقت کو وہی شخص جانتا ہے جو حقیقت الوہیت اور حقیقت بندگی کو اچھی طرح جان سکتا ہو ‘ غرض جو شخص یہ ادراک رکھتا ہو ‘ وہی اللہ کی اس شان کریمی اور مقام لطف وکرم کو سمجھ سکتا ہے ۔

(آیت) ” ویھدیکم سنن الذین من قبلکم “۔ (4 : 26) ” اور انہی طریقوں پر تمہیں چلائے جن کی پیروی تم سے پہلے گزرے ہوئے صلحاء کرتے تھے ۔ “ تو گویا یہی وہ منہاج حیات ہے جسے اللہ نے تمام مومنین کے لئے جاری کیا ہے ۔ وہ ایک ایسا منہاج ہے جس کی بنیادیں بہت ہی مستحکم ہیں جس کے اصول ایک ہیں ‘ جس کے مقاصد اور اہداف ہم آہنگ ہیں ‘ اور یہی منہاج جماعت مومنہ کا نظام زندگی ہے ‘ زمانہ ماضی میں بھی اور زمانہ مستقبل میں بھی ‘ اور یہی امت مسلمہ کا منہاج ہے جو صدیوں سے ایک امت چلی آرہی ہے ۔

یوں وہ تمام لوگ ‘ قرآن کریم کی نظروں میں ایک ہیں ‘ جنہوں نے راہ ہدایت کو پایا چاہے وہ جس دور میں ہوں اور جس جگہ ہوں اور پھر قرآن کریم یہ قرار دیتا ہے کہ ہر دور میں اور ہر جگہ اسلامی نظام زندگی بھی ایک رہا ہے ۔ اسی طرح زندگی کی طویل شاہراہ پر وہ قافلہ ایمان بھی ایک ہی ہے جو مسلسل حرکت میں ہے ۔ یہ وہ جھلک ہے ‘ جو ایک مسلمان کو یہ شعور عطا کرتی ہے کہ اس کی اصلیت کیا ہے ‘ اس کی امت اور پارٹی کیا ہے اس کا منہاج اور طریقہ زندگی کیا ہے ؟ ایک مومن یہ شعور پاتا ہے کہ وہ اس امت کا فرد ہے جو مومن باللہ ہے ‘ اس امت کا باہم رابطہ ” الہی منہاج “ زندگی ہے ۔ زمان ومکان کے بڑے اختلاف کے باوجود یہ رابطہ قائم رہتا ہے ‘ رنگوں اور ملکوں کے اختلاف اور دوری کے باوجود یہ تعلق قائم ودائم رہتا ہے اور ہر قوم اور ہر قبیلے کے مومنین کے درمیان یہ سنت الہی ایک مستحکم رابطے کا کام کرتی ہے ۔

(آیت) ” ویتوب علیکم “ وہ اپنی رحمت کے ساتھ تمہاری طرف متوجہ ہونے کا ارادہ رکھتا ہے ۔ “ وہ اللہ جل شانہ تمہیں ہر بات کی تفصیلات بتاتے ہیں ‘ ان اچھے راستوں کی نشاندہی کرتے ہیں ‘ جن پر تم جیسے پہلے لوگ چل چکے ہیں ۔ یہ کام وہ اس لئے کرتا ہے کہ وہ رحیم ہے اس لئے کرتا ہے کہ تم واپس آجاؤ تم راہ معصیت کو ترک کردو ‘ اور زندگی کی اس کھلی شاہراہ پر آجاؤ جو اس نے تمہارے لئے خوبصورتی کے ساتھ تیار کی ہے ‘ اور اس راہ پر چلانے کے لئے وہ تمہارا معاون بھی ہے ۔

(آیت) ” واللہ علیم حکیم “۔ (4 : 26) ” وہ علیم بھی ہے اور دانا بھی “۔ اس لئے وہ تمہارے لئے جو قانون سازی کر رہا ہے وہعلم و حکمت پر مبنی ہے ‘ وہ جو ہدایات دے رہا ہے ‘ وہ علم و حکمت پر مبنی ہیں ۔ وہ تمہاری نفسیات سے بھی آگاہ ہے اور تمہارے حالات بھی اس کی نظر میں ہیں ۔ وہ ان تدابیر سے بھی باخبر ہے جن کے ذریعے تمہاری اصلاح بھی ہو سکتی ہے اور وہ تمہارے لئے مفید بھی ہیں ۔ وہ اسلامی نظام کے مزاج سے بھی واقف ہے اور اسے اس کے نفاذ کا طریقہ کار بھی اچھی طرح معلوم ہے ۔

ان تین آیات میں احکام شریعت کے ضمن میں فلسفہ و حکمت کا بیان ہو رہا ہے۔ احکام شریعت کو انسان اپنے اوپر بوجھ سمجھنے لگتا ہے۔ اسے جب حکم دیا جاتا ہے کہ یہ کرو اور یہ مت کرو تو آدمی کی طبیعت ناگواری محسوس کرتی ہے۔ یہی وجہ ہے کہ عیسائیوں نے شریعت کا طوق اپنے گلے سے اتار پھینکا ہے۔ 1970 ء میں کرسمس کے موقع پر میں لندن میں تھا۔ وہاں میں نے ایک عیسائی دانشور کی تقریر سنی تھی ‘ جس نے کہا تھا کہ شریعت لعنت ہے۔ خواہ مخواہ ایک انسان کو یہ باور کرایا جاتا ہے کہ یہ حلال ہے ‘ یہ حرام ہے۔ جب وہ حرام سے رک نہیں سکتا تو اس کا دل میلا ہوجاتا ہے۔ وہ اپنے آپ کو خطاکار سمجھنے لگتا ہے اور مجرم ضمیر guilty conscience ہوجاتا ہے۔ اس احساس کے تحت وہ منفی نفسیات کا شکار ہوجاتا ہے۔ ان کے نزدیک اس ساری خرابی کا سبب یہ ہے کہ آپ نے حرام اور حلال کا فلسفہ چھیڑا۔ اگر سب کام حلال سمجھ لیے جائیں تو کوئی حرام کام کرتے ہوئے ضمیر پر کوئی بوجھ نہیں ہوگا۔ دنیا میں ایسے ایسے فلسفے بھی موجود ہیں۔ لیکن اللہ تعالیٰ کے نزدیک فلسفۂ احکام یہ ہے :آیت 26 یُرِیْدُ اللّٰہُ لِیُبَیِّنَ لَکُمْ وَیَہْدِیَکُمْ سُنَنَ الَّذِیْنَ مِنْ قَبْلِکُمْ پہلے گزرے ہوئے لوگوں میں نیکوکار بھی تھے اور بدکار بھی۔ اللہ تعالیٰ چاہتا ہے کہ تم انبیاء و صلحاء اور نیکوکاروں کا راستہ اختیار کرو صِرَاطَ الَّذِیْنَ اَنْعَمْتَ عَلَیْھِمْ اور تم دوسرے راستوں سے بچ سکو۔

پچاس سے پانچ نمازوں تک فرمان ہوتا ہے کہ اے مومنو اللہ تعالیٰ ارادہ کرچکا ہے کہ حلال و حرام تم پر کھول کھول کر بیان فرما دے جیسے کہ اس سورت میں اور دوسری سورتوں میں اس نے بیان فرمایا وہ چاہتا ہے کہ سابقہ لوگوں کی قابل تعریف راہیں تمہیں سمجھا دے تاکہ تم بھی اس کی اس شریعت پر عمل کرنے لگ جاؤ جو اس کی محبوب اور اس کی پسندیدہ ہیں وہ چاہتا ہے کہ تمہاری توبہ قبول فرمالے جس گناہ سے جس حرام کاری سے تم توبہ کرو وہ فوراً قبول فرما لیتا ہے وہ علم و حکمت والا ہے، اپنی شریعت اپنی اندازے اپنے کام اور اپنے فرمان میں وہ صحیح علم اور کامل حکمت رکھتا ہے، خواہش نفسانی کے پیروکار یعنی شیطانوں کے غلام یہود و نصاریٰ اور بدکاری لوگ تمہیں حق سے ہٹانا اور باطل کی طرف جھکانا چاہتے ہیں، اللہ تعالیٰ اپنے حکم احکام میں یعنی روکنے اور ہٹانے میں، شریعت اور اندازہ مقرر کرنے میں تمہارے لئے آسانیاں چاہتا ہے اور اسی بنا پر چند شرائط کے ساتھ اس نے لونڈیوں سے نکاح کرلینا تم پر حلال کردیا۔ انسان چونکہ پیدائشی کمزور ہے اس لئے اللہ تعالیٰ نے اپنے احکام میں کوئی سختی نہیں رکھی۔ یہ فی نفسہ بھی کمزور اس کے ارادے اور حوصلے بھی کمزور یہ عورتوں کے بارے میں بھی کمزور، یہاں آکر بالکل بیوقوف بن جانے والا۔ چناچہ جب رسول اللہ ﷺ شب معراج میں سدرۃ المنتہی سے لوٹے اور حضرت موسیٰ کلیم اللہ ؑ سے ملاقات ہوئی تو آپ نے دریافت کیا کہ آپ پر کیا فرض کیا گیا ؟ فرمایا ہر دن رات میں پچاس نمازیں تو کلیم اللہ نے فرمایا واپس جائیے اور اللہ کریم سے تخفیف طلب کیجئے آپ کی امت میں اس کی طاقت نہیں میں اس سے پہلے لوگوں کا تجربہ کرچکا ہوں وہ اس سے بہت کم ہیں گھبرا گئے تھے اور آپ کی امت تو کانوں آنکھوں اور دل کی کمزوری میں ان سے بھی بڑھی ہوئی ہے چناچہ آپ واپس گئے دس معاف کرا لائے پھر بھی یہی باتیں ہوئیں پھرگئے دس ہوئیں یہاں تک کہ آخری مرتبہ پانچ رہ گئیں۔

آیت 26 - سورہ نساء: (يريد الله ليبين لكم ويهديكم سنن الذين من قبلكم ويتوب عليكم ۗ والله عليم حكيم...) - اردو