(آیت) ” نمبر 35
اسلام یہ مشورہ نہیں دیتا کہ عورت کی جانب سے سرکشی شروع ہوتے ہی تم اس سرکشی اور نفرت کے سامنے ہتھیار ڈال دو اور نہ اسلام یہ مشورہ دیتا ہے کہ بس فورا معاہدہ نکاح کو ختم کر دو اور خاندان کی ہنڈیا ان لوگوں کے سر پر لا کر پھوڑ دو جن کا اس معاملے میں کوئی قصور نہیں ہے ‘ اس لئے اسلام اس کی اہمیت کی خاطر اسے از سر نو جدید اینٹوں کی مدد سے تعمیر کرتا ہے تاکہ وہ دوبارہ نشوونما حاصل کرسکے ۔
اب اسلامی نظام ادارہ نکاح کے ٹوٹنے کا خطرہ لاحق ہوتے ہیں اپنی آخری کوشش شروع کردیتا ہے ۔ حکم دیا جاتا ہے کہ ایک ثالث مرد کی مرضی کا مقرر ہو اور ایک ثالث عورت کی مرضی کا مقرر ہو اور وہ دونوں ان کے درمیان مصالحت کرانے کی سعی کریں ۔ یہ لوگ نہایت ہی ٹھنڈے ماحول میں جمع ہوں ۔ وہ اپنے ذاتی میلانات کو سامنے نہ رکھیں ‘ اپنے شعور اور احساس کے بوجھ سے الگ ہوجائیں اور معاشی حالات ومفادات کو نظر انداز کردیں ‘ جن کی وجہ سے زوجین کے درمیان تعلقات میں کشیدگی پیدا ہوئی ۔ یہ حکم ان حالات سے ہٹ کر سوچیں جن کی وجہ سے زندگی کے ماحول میں کدورت پیدا ہوئی یا جن کی وجہ سے فریقین کے درمیان پیچیدگی پیدا ہوئی اور جن کی وجہ سے زوجین کے درمیان مشترکہ زندگی کے اچھے عوامل غیر موثر ہوگئے ۔ ان ثالثوں کو کوشش کرنا چائیے کہ وہ زوجین کے دونوں خاندانوں کی شہرت اور عزت کا بھی خیال رکھیں اور زوجین کے چھوٹے بچے ہوں تو ان کے مستقبل کا بھی خیال رکھیں اور وہ اپنے دل سے یہ خواہش نکال دیں کہ ان میں سے کوئی فریق کامیاب رہتا ہے یا ناکام ۔ کیونکہ ایسے حالات میں زوجین میں سے ہر ایک اپنی بات منوانا اپنے لئے باعث عزت سمجھتا ہے ۔ بلکہ ان ثالثوں کو زوجین کے مفادات ‘ ان کے بچوں کے مفادات اور اس ادارے کے مفادات کا خیال رکھنا چاہئے جو ٹوٹ پھوٹ کا شکار ہو رہا ہے ۔ اس کے ساتھ ساتھ یہ بات بھی پیش نظر رہے کہ یہ زوجین کے رازوں کے بھی امین ہوں گے کیونکہ یہ دونوں حکم ‘ دونوں خاندانوں اور زوجین کے نمائندے ہوں گے ۔ فریقین کو یہ خوف نہ ہوگا کہ ان سے ان کے راز افشا ہوں گے اور نہ ہونا چاہئیں کیونکہ رازوں کی تشہیر میں دونوں کی مصلحت نہیں ہوتی بلکہ دونوں کی مصلحت تو اس میں ہوتی ہے کہ ان کے راز پس پردہ ہی رہیں۔
ان ثالثوں کا اجتماع زوجین کے درمیان اصلاح کی خاطر ہوگا بشرطیکہ زوجین کے درمیان اصلاح احوال کی حقیقی خواہش ہو اور یہ خواہش اصلاح محض غصے کے نیچے دب گئی ہو ۔ اگر ثالثوں کے دلوں میں حقیقی خواہش ہو اور وہ مخلص ہوں تو اللہ تعالیٰ زوجین کو اصلاح احوال کی توفیق دے دے گا ۔
(آیت) ” ان یریدا اصلاحا یوفق اللہ بینھما “ (4 : 35) ” اگر وہ دونوں اصلاح کرنا چاہیں گے تو اللہ ان کے درمیان موافقت کی صورت نکال دے گا “۔۔۔۔ ۔۔۔۔۔۔۔۔ چونکہ وہ صدق دل سے اصلاح چاہتے ہیں اس لئے اللہ تعالیٰ ان کی کوششوں کو قبولیت بخشتا ہے اور اصلاح کی توفیق دیتا ہے ۔
یہ ہے لوگوں کی سعی اور انکے دلوں کا رابطہ اللہ کی تقدیر اور اس کی مشیت کے ساتھ ۔ درحقیقت اللہ تعالیٰ کی قضا ہی لوگوں کی زندگیوں میں موثر ہوتی ہے ۔ لیکن اللہ کی تقدیر نے لوگوں کو یہ اختیار دیا ہے کہ ہو کوشش کریں اور اصلاح احوال کی سعی کریں ۔ ان کی اس کوشش کے جو نتائج نکلیں گے وہ اللہ کی تقدیر کے مطابق ہی ہوں گے ۔
جو نتائج بھی نکلیں گے وہ گہرے علم اور دور اندیشانہ مصلحت پر مبنی ہوں گے ۔ (آیت) ” ان اللہ کان علیما خبیرا “ (4 : 35) ” (اللہ سب کچھ جانتا ہے اور باخبر ہے)
غرض اس سبق میں یہ بات صاف نظر آتی ہے کہ اسلام زوجین کے درمیان اس تعلق کے نتیجے میں وجود میں آنے والے ادارہ خاندان کو بہت ہی اہمیت دیتا ہے ۔ ہمیں یہ بات بھی معلوم ہوتی ہے کہ اسلام انسانی زندگی کے اس پہلو کی تنظیم پر کس قدر زور دیتا ہے ۔ پھر احادیث سے معلوم ہوتا ہے کہ اسلام نے ابتدائی دور کی تحریک اسلامی میں زندگی کے اس پہلو کو بہتر سے بہتر کرنے میں کس قدر کوششیں کیں اور تحریک اسلامی کا ہاتھ پکڑ کر اسے جاہلیت کی گندگیوں سے نکالا ۔ اسے راہ ترقی پر ڈال کر بتدریج بلند ترین مقام اور مرتبہ تک اللہ کی ہدایات کے مطابق پہنچایا اس لئے کہ اللہ کی ہدایت کے سوا کوئی اور ہدایت انسان کے مفید مطلب نہیں ہے ۔
درس 33 ایک نظر میں :
اس سبق کے ابتدائی حصے اور پوری سورت کے موضوع ومضامنین کے درمیان کئی ربط ہیں۔ نیز اس سبق اور سابق درس کے مضامین کے درمیان بھی ربط پایا جاتا ہے ۔
اس سبق کے ذریعے اس مہم کا آغاز ہوا جس کو پیش نظر رکھ کر ‘ اسلامی معاشرے کی اجتماعی زندگی کی تنظیم کی گئی تھی اور اسے جاہلیت کی تمام آلائشوں سے پاک کرکے اس کے اندر جدید اسلامی خدوخال کو واضح اور مستحکم کرنے کا بیڑا اٹھایا گیا تھا ۔ اس مہم کا ایک حصہ یہ بھی تھا کہ مسلمانوں کو ان اہل کتاب کی سازشوں سے خبردار رکھا جائے جو یہودیوں کی صورت میں مدینہ کے اردگرد اپنے پورے شر اور سازشوں کے ساتھ پھیلے ہوئے تھے ‘ اور وہ ہر وقت اسلامی معاشرے کے خلاف اپنی سرگرمیوں میں مصروف تھے ۔ وہ رات دن اس کوشش میں لگے ہوئے تھے کہ اس معاشرے کی تشکیل وتکمیل کی راہ میں ممکن حد تک رکاوٹیں پیدا کریں ۔ خصوصا وہ مسلمانوں کی اخلاقی قدروں سے بہت ہی خائف تھے اور ان کی سعی تھی کہ وہ اخلاقی کمال حاصل نہ کریں ۔ نیز وہ مسلمانوں کے اتحاد واتفاق اور باہم تعاون وتکافل سے بھی خائف تھے ‘ اس لئے کہ اخلاقی اقدار اور معاشرتی اتحاد وتکافل ہی کی سوسائٹی کی اصل قوت ہوا کرتے ہیں۔
یہ نیا سبق ‘ دراصل ایک نہی مہم ہے اور اس کا آغاز اس اساسی اصول سے ہوا ہے جس کے اوپر اسلامی معاشرے کی بنیاد رکھی گئی ہے ‘ اور جس سے اسلامی نظام زندگی تشکیل پاتا ہے ۔ وہ اصول ہے خالص نظریہ توحید ۔ اسی اصول پر اسلامی نظام زندگی مبنی ہے ۔ اسلامی زندگی کا ہر پہلو اور اس کا ہر رخ اسی اصول سے پھوٹنے والی شاخ ہے ۔
اس سبق سے پہلے عائلی زندگی کی تنظیم پر متعدد پہلوؤں سے بات ہوچکی ہے ۔ اور اسی طرح اجتماعی زندگی کے معاملات بھی زیر بحث آچکے ہیں ۔ اس سے پہلے گزرنے والے سبق میں خاندانی زندگی ‘ اس کی تنظیم اور اس کے بچاؤ کی تدابیر کو زیر بحث لایا گیا تھا ۔ اور ان روابط سے بحث کی گئی تھی جو خاندان کو مستحکم اور مضبوط بناتے ہیں ۔ اب اس سے ذرا آگے بڑھ کر اس سبق میں پورے انسانی تعلقات اور روابط سے بحث کی گئی ہے ۔ یعنی وہ تعلقات جو اسلامی معاشرے میں خاندان کے محدود دائرے سے ذرا آگے بڑھ کر انسانی بنیادوں پر استوار ہوتے ہیں ۔ لیکن ان کا خاندانی نظام سے بھی تعلق ہوتا ہے ۔ مثلا آغاز ہوتا ہے والدین کے متعلق ہدایات سے جس کا تعلق خاندان سے بھی ہے ۔ والدین کے علاوہ پھر مزید روابط کو بیان کیا گیا ہے اور یہ روابط اس پاکیزہ محبت کے نتیجے میں پیدا ہوتے ہیں جو خاندان کے اندر پائی جاتی ہے اور جس کے اثرات دوسرے انسانی روابط تک وسیع ہوجاتے ہیں ان خوشگوار روابط کا لطف انسان کو سب سے پہلے خود اپنے خاندان کے اندر آتا ہے ۔ یہاں وہ اچھے تعلقات رکھنا سیکھتا ہے ۔ یوں اس کے لئے یہ تعلقات ایک محدود خاندان سے وسیع انسانی خاندان تک پھیل جاتے ہیں جبکہ پہلے ان خوشگوار تعلقات کو خاندان کے اندر بویا جاتا ہے ۔
زیر بحث سبق میں بعض ہدایات تو محدود عائلی خاندان کے بارے میں ہیں اور بعض ہدایات ایک وسیع تر انسانی خاندان کے بارے میں ہیں ۔ اس زاوے سے اقدار اور پیمانوں کی نشاندہی بھی کی گئی ہے ۔ یعنی خرچ کرنے والوں کے کیا مراتب ہیں اور کنجوسوں کے کیا مراتب ہیں ؟ درس کا آغاز اس اساسی قاعدے سے ہوا جس پر تمام اقدار اور پیامنے مبنی ہیں جس طرح زندگی کی تمام تفصیلی ہدایات بھی اسی اساسی اصولی پر مبنی ہیں ۔ یعنی عقیدہ توحید ۔ مسلمانوں کی ہر حرکت اور ہر سرگرمی ‘ ان کا ہر تصور اور ہر تاثر عقیدہ توحید پر مبنی ہوتا ہے اور یہی اللہ کی بندگی ہے ۔ اس کا مقصود اللہ کی پرستش ہے ۔ انسان کی تمام سرگرمیوں کا منتہائے مقصود اللہ کی اطاعت اور بندگی ہے اور یک مسلم اپنے عقیدے اور عمل کے اعتبار سے اللہ کا بندہ ہوتا ہے ۔
چونکہ ہم نے اپنی پوری زندگی میں اللہ کی بندگی اور عبادت کرنی ہے ‘ اس نسبت سے اللہ کی مخصوص پرستش اور عبادت یعنی نماز اور طہارت کے سلسلے میں بعض احکام بھی بیان کئے گئے ۔ اور نماز چونکہ ایک مرحلہ تھی جس میں شراب کو حرام قرار دیا گیا تھا ‘ اس سے قبل نماز کی حالت میں بھی یہ ممکن تھا کہ کوئی شراب پئے ہوئے ہو ۔ اس لحاظ سے حکم دیا گیا کہ مدہوشی کی حالت میں نماز میں شریک نہ ہوا کرو ۔ یہ اسلام کے ہمہ گیر تربیتی اقدامات میں سے ایک اقدام تھا جو نماز کی مناسبت سے دیا گیا ۔ غرض اس سبق کی تمام کڑیاں ایک دوسرے سے ملی ہوئی ہیں ۔ درس سابق سے بھی تمام مضامین مناسبت رکھتے ہیں اور پھر اس سورة کے پورے محور کے ساتھ بھی متناسب ہیں۔
آیت 35 وَاِنْ خِفْتُمْ شِقَاقَ بَیْنِہِمَا ‘اب اگر کوئی تدبیر نتیجہ خیز نہ ہو اور ان دونوں کے مابین ضدم ضدا کی کیفیت پیدا ہوچکی ہو کہ عورت بھی اکڑ گئی ہے ‘ مرد بھی اکڑا ہوا ہے ‘ اور اب ان کا ساتھ چلنا مشکل نظر آتا ہو تو اصلاح احوال کے لیے ایک دوسری تدبیر اختیار کرنے کی ہدایت فرمائی گئی ہے۔ ّ َ فَابْعَثُوْا حَکَمًا مِّنْ اَہْلِہٖ وَحَکَمًا مِّنْ اَہْلِہَا ج اِنْ یُّرِیْدَآ اِصْلاَحًا یُّوَفِّقِ اللّٰہُ بَیْنَہُمَا ط اِنْ یُّرِیْدَآ اِصْلاَحًا“ میں مراد زوجین بھی ہوسکتے ہیں اور حکمین بھی۔ یعنی ایک تو یہ کہ اگر واقعتا شوہر اور بیوی موافقت چاہتے ہیں تو اللہ ان کے درمیان سازگاری پیدا فرما دے گا۔ بعض اوقات ایسا ہوتا ہے کہ شوہر اور بیوی دونوں کی خواہش ہوتی ہے کہ معاملہ درست ہوجائے ‘ لیکن کوئی نفسیاتی گرہ ایسی بندھ جاتی ہے جسے کھولنا ان کے بس میں نہیں ہوتا۔ اب اگر دونوں کے خاندانوں میں سے ایک ایک ثالث آجائے گا اور وہ دونوں مل بیٹھ کر خیر خواہی کے جذبے سے اصلاح احوال کی کوشش کریں گے تو اس گرہ کو کھول سکیں گے۔ یہ دونوں اسباب اختلاف کی تحقیق کریں گے ‘ میاں بیوی دونوں کے گلے شکوے اور وضاحتیں سنیں گے اور دونوں کو سمجھا بجھا کر تصفیہ کی کوئی صورت نکالیں گے۔ اِنْ یُّرِیْدَآ اِصْلاَحًا“ میں مراد حکمین بھی ہوسکتے ہیں کہ اگر وہ اصلاح کی پوری کوشش کریں گے تو اللہ تعالیٰ ان کے مابین موافقت ‘ پیدا فرما دے گا۔ لیکن میرا رجحان پہلی رائے کی طرف زیادہ ہے کہ اس سے مراد میاں بیوی ہیں۔
میاں بیوی مصالحت کی کوشش اور اصلاح کے اصول اوپر اس صورت کو بیان فرمایا کہ اگر نافرمانی اور کج بحثی عورتوں کی جانب سے ہو اب یہاں اس صورت کا بیان ہو رہا ہے اگر دونوں ایک دوسرے سے نالاں ہوں تو کیا کیا جائے ؟ پس علماء کرام فرماتے ہیں کہ ایسی حالت میں حاکم ثقہ سمجھدار شخص کو مقرر کرے جو یہ دیکھے کہ ظلم و ذیادتی کس طرح سے ہے ؟ اس ظالم کو ظلم سے روکے، اگر اس پر بھی کوئی بہتری کی صورت نہ نکلے تو عورت والوں میں سے ایک اس کی طرف سے اور مرد والوں میں سے ایک بہتر شخص اسکی جانب سے منصب مقرر کردے اور دونوں مل کر تحقیقات کریں اور جس امر میں مصلحت سمجھیں اس کا فیصلہ کردیں یعنی خواہ الگ کرا دیں خواہ میل ملاپ کرا دیں لیکن شارع نے تو اسی امر کی طرف ترغیب دلائی ہے کہ جہاں تک ہو سکے کوشش کریں کہ کوئی شکل نباہ کی نکل آئے۔ اگر ان دونوں کی تحقیق میں خاوند کی طرف سے برائی بہت ہو تو اس کی عورت کو اس سے الگ کرلیں اور اسے مجبور کریں گے کہ اپنی عادت ٹھیک ہونے تک اس سے الگ رہے اور اس کے خرچ اخراجات ادا کرتا رہے اور اگر شرارت عورت کی طرف سے ثابت ہو تو اسے نان نفقہ نہیں دلائیں اور خاوند سے ہنسی خوشی بسر کرنے پر مجبور کریں گے۔ اسی طرح اگر وہ طلاق کا فیصلہ دیں تو خاوند کو طلاق دینی پڑے گی اگر وہ آپس میں بسنے کا فیصلہ کریں تو بھی انہیں ماننا پڑے گا، بلکہ حضرت ابن عباس ؓ فرماتے ہیں اگر دونوں پنچ اس امر پر متفق ہوں گئے کہ انہیں رضامندی کے ساتھ ایک دوسرے سے اپنے تعلقات نباہنے چاہیں اور اس فیصلہ کے بعد ایک کا انتقال ہوگیا تو جو راضی تھا وہ اس کی جائیداد کا وارث بنے گا لیکن جو ناراض تھا اسے اس کا ورثہ نہیں ملے گا (ابن جریر) ایک ایسے ہی جھگڑے میں حضرت عثمان ؓ نے حضرت ابن عباس ؓ اور حضرت معاویہ ؓ کو منصف مقرر کیا تھا اور فرمایا تھا کہ اگر تم ان میں میل ملاپ کرنا چاہو تو میل ہوگا اور اگر جدائی کرانا چاہو تو جدائی ہوجائے گی۔ ایک روایت میں ہے کہ عقیل بن ابو طالب نے فاطمہ بنت عتبہ بن ربیعہ نے نکاح کیا تو اس نے کہا تو وہ پوچھتی عتبہ بن ربیعہ اور شیبہ بن ربیعہ کہاں ہیں ؟ یہ فرماتے تیری بائیں جانب جہنم میں اس پر وہ بگڑ کر اپنے کپڑے ٹھیک کرلیتیں ایک مرتبہ حضرت عثمان ؓ کے پاس آئیں اور واقعہ بیان کیا خلیفۃ المسلمین اس پر ہنسے اور حضرت ابن عباس ؓ اور حضرت معاویہ ؓ کو ان کا پنچ مقرر کیا حضرت ابن عباس ؓ تو فرماتے تھے ان دونوں میں علیحدگی کرا دی جائے لیکن حضرت معاویہ ؓ فرماتے تھے بنو عبد مناف میں یہ علیحدگی میں ناپسند کرتا ہوں، اب یہ دونوں حضرات حضرت عقیل ؓ کے گھر آئے دیکھا تو دروازہ بند ہے اور دونوں میاں بیوی اندر ہیں یہ دونوں لوٹ گئے مسند عبدالرزاق میں ہے کہ حضرت علی ؓ کی خلافت کے زمانے میں ایک میاں بیوی اپنی ناچاقی کا جھگڑا لے کر آئے اس کے ساتھ اس کی برادری کے لوگ تھے اور اس کے ہمراہ اس کے گھرانے کے لوگ بھی، علی ؓ نے دونوں جماعتوں میں سے ایک ایک کو چنا اور انہیں منصف مقرر کردیا پھر دونوں پنچوں سے کہا جانتے بھی ہو تمہارا کام کیا ہے ؟ تمہارا منصب یہ ہے کہ اگر چاہو دونوں میں اتفاق کرا دو اور اگر چاہو تو الگ الگ کرا دو یہ سن کر عورت نے تو کہا میں اللہ تعالیٰ کے فیصلہ پر راضی ہوں خواہ ملاپ کی صورت میں ہو جدائی کی صورت میں مرد کہنے لگا مجھے جدائی نامنظور ہے اس پر حضرت علی ﷺ نے فرمایا نہیں نہیں اللہ کی قسم تجھے دونوں صورتیں منظور کرنی پڑیں گی۔ پس علماء کا اجماع ہے کہ ایسی صورت میں ان دونوں منصفوں کو دونوں اختیار ہیں یہاں تک کہ حضرت ابراہیم نخعی ؒ فرماتے ہیں کہ انہیں اجتماع کا اختیار ہے تفریق کا نہیں، حضرت امام مالک ؒ سے بھی یہی قول مروی ہے، ہاں احمد ابو ثور اور داؤد کا بھی یہی مذہب ہے ان کی دلیل (اِنْ يُّرِيْدَآ اِصْلَاحًا يُّوَفِّقِ اللّٰهُ بَيْنَهُمَا) 4۔ النسآء :35) والا جملہ ہے کہ ان میں تفریق کا ذکر نہیں، ہاں اگر یہ دونوں دونوں جانب سے وکیل ہیں تو بیشک ان کا حکم جمع اور تفریق دونوں میں نافذ ہوگا اس میں کسی کو پھر یہ بھی خیال رہے کہ یہ دونوں پنچ حاکم کی جانب سے مقرر ہوں گے اور فیصلہ کریں گے چاہے ان سے فریقین ناراض ہوں یا یہ دونوں میاں بیوی کی طرف سے ان کو بنائے ہوئے وکیل ہوں گے، جمہور کا مذہب تو پہلا ہے اور دلیل یہ ہے کہ ان کا نام قرآن حکیم نے حکم رکھا ہے اور حکم کے فیصلے سے کوئی خوش یا ناخوش بہر صورت اس کا فیصلہ قطعی ہوگا آیت کے ظاہری الفاظ بھی جمہور کے ساتھ ہی ہیں، امام شافعی ؒ کا نیا قول یبھی یہی ہے اور امام ابوحنیفہ اور ان کے اصحاب کا بھی یہی قول ہے، لیکن مخالف گروہ کہتا ہے کہ اگر یہ حکم کی صورت میں ہوتے تو پھر حضرت علی ؓ اس خاوند کو کیوں فرماتے ؟ کہ جس طرح عورت نے دونوں صورتوں کو ماننے کا اقرار کیا ہے اور اسی طرح تو بھی نہ مانے تو تو جھوٹا ہے۔ واللہ اعلم۔ امام ابن عبدالبر ؒ فرماتے ہیں علماء کرام کا اجماع ہے کہ دونوں پنچوں کا قول جب مختلف ہو تو دوسرے کے قول کا کوئی اعتبار نہیں اور اس امر پر بھی اجماع ہے کہ یہ اتفاق کرانا چاہیں تو ان کا فیصلہ نافذ ہے ہاں اگر وہ جدائی کرانا چاہیں تو بھی ان کا فیصلہ نافذ ہے یا نہیں ؟ اس میں اختلاف ہے لیکن جمہور کا مذہب یہی ہے کہ اس میں بھی ان کا فیصلہ نافذ ہے گو انہیں وکیل نہ بنایا گیا ہو۔