(آیت) ” نمبر 36 تا 43۔
یہ پیرا گراف اس حکم سے شروع ہوتا ہے کہ صرف اللہ کی بندگی کرو اور اس کے ساتھ کسی کو شریک نہ کرو اور یہ حکم واؤ کے ساتھ شروع ہوتا ہے جو حرف عطف ہے ۔ حرف عطف اس امر اور نہی کو سابقہ احکام کے ساتھ مربوط کردیتا ہے جو ادارہ خاندان کی تنظیم اور شیرازہ بندی سے متعلق ہیں اور جن کا ذکر سابقہ سبق کے آخر تک ہوا ۔ واؤ عطف سے معلوم ہوتا ہے کہ اس دین کا ایک ہی کلیہ اور اصول ہے اور وہی تمام امور کے درمیان رابطہ ہے یعنی پوری زندگی میں بندگی صرف اللہ کی کی جانی چاہئے اور یہ کہ اسلام صرف عقیدے اور چند نظریات کا نام نہیں ہے جو کسی انسان کے ضمیر میں پختہ طور پر بیٹھے ہوں نہ اسلام چند مراسم عبودیت کا نام ہے جو مسجد میں سرانجام دیئے جاتے ہوں اور نہ اسلام صرف دنیوی کاروبار کا نام ہے جس کا تعلق عقیدے اور رسوم پرستش سے بالکل نہ ہو ‘ بلکہ وہ ایک ایسا نظام ہے جس کے اندر یہ سب چیزیں موجود ہیں پھر اس کے تمام اجزاء بھی ایک دوسرے کے ساتھ مربوط ہیں اور پھر یہ سب اجزاء اپنے اصل الاصول یعنی نظریہ توحید کے ساتھ مربوط ہیں۔ ان تمام سرگرمیوں میں صرف اللہ سے ہدایت حاصل کرنا اور اس کے سوا کسی سے کوئی ہدایت نہ لینا یعنی مراسم عبادت میں اللہ کو الہ و معبود سمجھنا اور اسی طرح حاکمیت اور قانون سازی میں بھی اسے الہ وحاکم سمجھنا یہ دونوں چیزیں نظریہ توحید میں شامل ہیں ۔ ان دونوں میں توحید اسلام کا جزء ہے اور یہی خدا کا دین ہے ۔
توحید کے حکم اور شرک کی نفی کے ساتھ ہی حکم دیا جاتا ہے کہ احسان کرو اور یہ حکم ایک خاندان کو بھی دیا جاتا ہے ۔ اور پورے انسانی خاندان یعنی معاشرے کو بھی دیا جاتا ہے ۔ بخل فخر اور تکبر کی مذمت کی جاتی ہے ‘ نیز لوگوں کو بخل پر آمادہ کرنے کی بھی مذمت کی جاتی ہے ۔ یہ بھی کہا جاتا ہے کہ اللہ کے فضل کو چھپانا بھی ایک مذموم حرکت ہے۔ اللہ کا فضل عام ہے ‘ چاہے مالی فضل ہو یا اخلاقی اور دینی فضل ہو ۔ پھر شیطان کی اطاعت سے ڈرایا جاتا ہے ۔ اب روئے سخن آخرت کی طرف پھرجاتا ہے اور بتایا جاتا ہے کہ وہ دن نہایت ہی شرمندہ کرنے والا اور توہین آمیز ہوگا ۔ ان سب امور کو عقیدہ توحید سے مربوط کردیا جاتا ہے اور وہ مصدر ومنبع متعین کردیا جاتا ہے جس سے ان لوگوں نے ہدایت لینی ہے جو اللہ کی بندگی کرتے ہیں اور اس کے ساتھ کسی کو شریک نہیں کرتے اور وہ مصدر ہے بھی یکتا اس میں تعدد ممکن نہیں ہے ۔ ہدایت لینے کا ذریعہ بھی وہ ہے اور قانون ساز بھی وہ ہے ۔ اس کی حاکمیت میں بھی کوئی شریک نہیں ہے اور اس کی بندگی اور عبادت میں بھی کوئی شریک نہیں ہے ۔
(آیت) ” واعبدوا اللہ ولا تشرکوا بہ شیئا وبالوالدین احسانا وبذی القربی والیتمی والمسکین والجار ذی القربی والجار الجنب والصاحب بالجنب وابن السبیل وما ملکت ایمانکم (4 : 36)
” اور تم سب اللہ کی بندگی کرو ‘ اس کے ساتھ کسی کو شریک نہ بناؤ ‘ ماں باپ کے ساتھ نیک برتاؤ کرو ‘ قرابت داروں اور یتیموں اور مسکینوں کے ساتھ حسن سلوک سے پیش آؤ ‘ اور پڑوسی رشتہ دار سے ‘ اجنبی ہمسایہ سے ‘ پہلو کے ساتھی اور مسافر سے اور ان لونڈی غلاموں سے جو تمہارے قبضے میں ہوں ‘۔
اسلامی نظام حیات میں پرستش کے بارے میں ہدایات اور قانون سازی کے بارے میں ہدایات ایک ہی مرجع Sonrce سے اخذ ہوتی ہیں اور وہ ایک ہی محور کے اردگرد گھومتی ہیں ۔ یہ سب چیزیں ایمان باللہ سے اخذ ہوتی ہیں اور ایمان باللہ کا ارتکاز نقطہ توحید پر ہے اس لئے اسلام میں تمام ہدایات اور تمام تشریعات Law Making باہم جڑی ہوئی اور ہم آہنگ ہیں۔ اسلامی نظام میں یہ ممکن ہی نہیں ہے کہ اس کے ایک جزء کو دوسرے سے علیحدہ کردیا جائے ۔ اور اگر کوئی شخص اسلام کے کسی جزء کو اس کے نقطہ ارتکاز یعنی عقیدہ توحید سے علیحدہ کرکے سمجھنے کی سعی کرے گا تو اس کی سمجھ ناقص ہوگی ۔ اسی طرح عملی میدان میں بھی اسلام کے ایک جزئیہ پر عمل کرنے اور دوسری جزئیات کو ترک کرنے سے بھی اسلام پوری طرح نافذ اور قائم نہیں ہو سکتا اور نہ انسانی زندگی میں اس طرح کے جزئی اسلام کے ثمرات نکل سکتے ہیں ۔
اس کائنات ‘ زندگی اور انسانی تعلقات کے اساسی تصورات صرف ایمان باللہ کے سرچشمے سے پھوٹتے ہیں اور ان تصورات کے اوپر پھر طریقہ ہائے کار ‘ اقتصادی نظام ‘ سیاسی نظام ‘ اخلاقی نظام ‘ قانونی نظام اور عالمی روابط پر بھی اثر ہوتا ہے اور یہ تصورات ایک فرد کے ضمیر اور ایک معاشرے کی واقعی صورت حال کی کیفیات کا تعین بھی کرتے ہیں ۔ یہ تصورات معاملات دنیا کو عبادت میں منتقل کردیتے ہیں ۔ اگر یہ معاملات خدا و رسول کی اطاعت کرتے ہوئے سرانجام دیئے جائیں تو یہ عبادات کو معاملات کی اساس قرار دیتے ہوئے ان میں ضمیر کی پاکیزگی اور عمل کی صفائی پیدا کرتے ہیں اور آخر کار یہ تصورات زندگی کو ایک اکائی بنا دیتے ہیں جو اسلامی نظام حیات سے پھوٹتی ہے۔ اس میں ہدایات صرف رب واحد سے لی جاتی ہیں اور پوری زندگی دنیا اور آخرت میں اللہ کی طرف ہی لوٹتی ہے ۔
اسلامی نظریہ حیات اسلامی نظام حیات اور اللہ کے صحیح دین کی یہ خصوصیت کس بات سے معلوم ہوتی ہے ؟ یہ اس اصول سے معلوم ہوتی ہے کہ اس آیت میں والدین کے ساتھ احسان ‘ رشتہ داروں کے ساتھ احسان اور تمام لوگوں کے ساتھ احسان کرنے کے احکام سے پہلے یہ کہا گیا ہے کہ صرف اللہ کی عبادت کرو اور اس کے ساتھ کسی کو بھی شریک نہ کرو ۔ اس کے بعد والدین کی رشتہ داری اور دوسرے لوگوں کے ساتھ تعلقات کو ایک ہی لڑی میں پرویا گیا ہے اور دونوں امور کو اللہ کی توحید اور بندگی کے ساتھ منسلک کیا گیا ہے جبکہ اس سے ماقبل درس کے خاتمے پر نظریہ توحید اور اللہ کی بندگی کو خاندان کے اندر باہم تعلقات کے لئے دستور بنایا گیا تھا ۔ اس درس میں نظریہ توحید اور اللہ کی بندگی کو تمام انسانوں کے درمیان تعلقات کے لئے اساس بنایا گیا ہے جیسا کہ ہم نے اوپر بیان کیا ہے تاکہ ان تمام امور میں یہ نظریہ مستحکم ہو اور رابطہ بن جائے اور تمام معاشرتی روابط اور قانون سازی کا مصدر ایک ہوجائے ۔
(واعبدواللہ ولا تشرکوا بہ شیئا ) (4 : 36) ’ ؓ اجمعین اللہ کی بندگی کرو اور اس کے ساتھ کسی چیز کو شریک نہ کرو “۔۔۔۔ ۔۔ پہلا حکم یہ ہے کہ اللہ کی بندگی کرو اور دوسرا حکم یہ ہے کہ اللہ کی بندگی میں اللہ کے سوا کسی اور کو شریک نہ کرو ۔ یہ قطعی اور عمومی ممانعت ہے اور اس کا اطلاق ان تمام معبودوں پر ہوتا ہے جو انسانی تاریخ میں ریکارڈ ہیں ۔ (اس کے ساتھ کسی کو شریک نہ ٹھہراؤ) کسی بھی چیز کو ‘ چاہے وہ مادہ اور جمادات سے ہو ‘ حیوان ہو ‘ انسان ہو ‘ فرشتہ ہو اور یا شیطان ہو ۔ یہ تمام چیزیں (شئی) کے مفہوم میں داخل ہیں ۔ جب اس کا استعمال اس طرز پر ہو ۔
اس کے بعد حکم دیا جاتا ہے کہ والدین کے ساتھ احسان کرو ۔ والدین کا ذکر خصوصیت کے ساتھ کیا گیا ہے اور اقرباء کا ذکر عموما کیا گیا ہے ۔ زیادہ احکام اس بارے میں ہیں کہ اولاد اپنے والدین کے ساتھ اچھا سلوک کرے ۔ اگرچہ والدین کو بھی ہدایت کی گئی ہے کہ وہ اپنے بچوں کا خیال رکھیں ۔ اللہ تعالیٰ چھوٹے بچوں پر ہر حال میں ان کے ماں باپ سے بھی زیادہ رحم فرمانے والے ہیں ۔ اولاد اس بات کی زیادہ محتاج ہے کہ اسے والدین کے ساتھ بھلائی کرنے ہدایت کی جائے ‘ اس لئے کہ والدین اس دنیا سے جانے والے ہیں۔ ایک ایسی نسل سے ان کا تعلق ہوتا ہے جو پس پشت اور پس کی منظر میں جارہی ہوتی ہے ۔ اس لئے کہ اولاد بالعموم اپنی شخصیت ‘ اپنے جذبات ‘ اپنے رجحانات اور اپنے اہتمامات کے اعتبار سے ان بچوں کی طرف متوجہ ہوتی ہے جو ان کے بعد میں آنے والے ہوتے ہیں ۔ وہ اس نسل کی طرف متوجہ نہیں ہوتے جو اس سے قبل گزر رہی ہے ۔ زندگی کی دوڑ میں ان لوگوں کا رخ آگے کی طرف ہوتا ہے اور پیچھے مڑ کر دیکھنے میں وہ غفلت کرتے ہیں ۔ اس لئے اس اللہ رحمن ورحیم سے انہیں یہ ہدایات ملتی ہیں جو والدین کو بھی ہدایات دیتے ہیں اور بچوں کے لئے بھی ہدایات دیتے ہیں ۔ نہ اولاد کو بھلاتے ہیں اور نہ والدین کو بھلاتے ہیں اور جو اپنے بندوں کو یہ ہدایت دیتا ہیں کہ وہ آپس میں نہایت ہی مہربانی سے پیش آئیں خواہ والدین ہوں یا اولاد ہوں۔
اس آیت سے معلوم ہوتا ہے جیسا کہ دوسری متعدد آیات سے معلوم ہوتا ہے کہ اسلام نیکی کے سلسلے میں یوں ہدایات دیتا ہے کہ نیکی کا آغاز اپنے خاص اور عام رشتہ داروں سے کیا جائے اور اس کے بعد اس کا دائرہ بتدریج وسیع کیا جائے اور اسے ان تمام محتاجوں تک پھیلایا جائے جن کا تعلق وسیع تر انسانی خاندان کے ساتھ ہے ۔ یہ حکم انسانی فطرت کے مطابق اور انسانی فطرت کی سمت پرچلنے والا حکم ہے ۔ اس لئے کہ رحم ‘ دکھ اور درد میں شرکت کے جذبات سب سے پہلے گھر سے شروع ہوتے ہیں ‘ جو ایک چھوٹا خاندان ہوتا ہے ۔ جس شخص نے گھر کے اندر نیکی ‘ رحم اور محبت نہیں سیکھی یا اس کا تجربہ نہیں کیا اس سے ایسے جذبات کی توقع کسی غیر کے حق میں ہر گز نہیں کی جاسکتی ۔ طبیعت اور فطرت کے اعتبار سے بھی نفس انسانی اپنے قریبی رشتہ داروں کے ساتھ نیکی اور بھلائی کرنے کی طرف مائل ہوتا ہے ۔ اس جذبے میں کوئی برائی اور حرج نہیں ہے بشرطیکہ یہ جذبہ خیر خاندان کے محدود دائرے اور متعین نقطے سے آگے بھی بڑھے اس کے بعد پھر یہ منہاج اسلام کی اجتماعی تنظیم کے ساتھ متفق ہے کہ باہم تعاون اور کفالت کا نظام گھر سے شروع کیا جائے اور پھر اسے جماعت اور سوسائٹی کے دائرے تک پھیلایا جائے ۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ اسلام اپنے سوشل سیکورٹی کے نظام کو حکومت کے وسیع نظام کے ہاتھ میں دینا نہیں چاہتا ‘ الا یہ کہ گھر یا گاؤں کے لوگ ناکام ہوجائیں اس لئے کہ مقامی انتظام زیادہ موثر ہو سکتا ہے ۔ مقامی انجمن بہ نسبت حکومت کے غریبوں کے بارے میں سہولت کے ساتھ تحقیقات کرسکتی ہے اور بروقت امداد نہایت سہولت اور آسانی کے ساتھ مستحقین تک پہنچا سکتی ہے ۔ اس کی وجہ سے لوگوں کے اندر محبت اور باہم رابطہ بھی پیدا ہوتا ہے جو ایک انسانی سوسائٹی کے لئے ضروری ہے ۔
یہاں بات کا آغاز اس طرح ہوا ہے کہ والدین کے ساتھ احسان کرو ‘ اس کے بعد اسے رشتہ داروں تک وسعت دی گئی ہے ۔ اس کے بعد پھر یتیموں اور مسکینوں کا ذکر ہے چاہے یہ یتیم اور مساکین دور رہتے ہیں اس لئے کہ انکی ضرورت بھی زیادہ اہم ہوتی ہے اور ان کا خیال رکھنا سب سے زیادہ ضروری ہے ۔ اس کے بعد قریبی پڑوسی ‘ پھر اجنبی پڑوسی ‘ اس کے بعد پہلو میں رہنے والے ساتھی ‘ اس لئے کہ قرابت دار پڑوسی ہمیشہ ملتا ہے جبکہ پہلو میں رہنے والے ساتھی کبھی کبھار ملتے ہیں ۔ صاحب بالجنب کی تفسیر میں آیا ہے کہ اس سے مراد وہ دوست اور ہمنشین ہے جو ساتھ رہتا ہو۔ حضر اور سفر دونوں میں۔ پھر وہ مسافر جو اپنے اہل و عیال سے دور ہو اور پھر ان غلاموں کا حق ہے جنہیں حالات نے غلام بنا دیا ہے لیکن ہیں تو وہ بہرحال انسان ۔
احسان کے حکم کے بعد ‘ دوسرا حکم یہ آتا ہے ۔ فخر و غرور بری خصلت ہے ۔ بخل اور دعوت بخل اور اللہ کی نعمت اور فضل کو چھپانا یہ بری خصلتیں ہیں ۔ اسی طرح انفاق فی سبیل اللہ میں ریاکاری کی بھی ممانعت کی گئی اور بتایا گیا کہ جو لوگ یہ کام کرتے ہیں درحقیقت انکا اللہ اور آخرت پر ایمان نہیں ہوتا ۔ اور وہ شیطان کے مطیع اور ہمنشین ہیں ۔
(آیت) ” ان اللہ لا یحب من کان مختالا فخورا (36) الذین یبخلون ویامرون بالبخل ویکتمون ما اتھم اللہ من فضلہ واعتدنا للکفرین عذابا مھینا (37) والذین ینفقون اموالھم رئاء الناس ولا یومنون باللہ ولا بالیوم الاخر ومن یکن الشیطن لہ قرینا فسآء قرینا (38) (4 : 36 تا 38)
” یقین جانو اللہ کسی ایسے شخص کو پسند نہیں کرتا جو اپنے پندار میں مغرور ہو اور اپنی بڑائی پر فخر کرے ۔ ایسے لوگ بھی اللہ کو پسند نہیں ہیں جو کنجوسی کرتے ہیں اور دوسروں کو بھی کنجوسی کی ہدایت کرتے ہیں اور جو کچھ اللہ نے اپنے فضل سے انہیں دیا ہے اسے چھپاتے ہیں ‘ ایسے کافر نعمت لوگوں کے لئے ہم نے رسوا کن عذاب مہیا کر رکھا ہے ۔ اور وہ لوگ بھی اللہ کو ناپسند ہیں جو اپنے مال محض لوگوں کو دکھانے کے لئے خرچ کرتے ہیں اور درحقیقت نہ اللہ پر ایمان رکھتے ہیں نہ روز آخر پر ‘ سچ تو یہ ہے کہ شیطان جس کا رفیق ہوا اسے بہت ہی بری رفاقت میسر آئی ۔ “
یہاں آکر دوبارہ اسلامی نظام حیات کی یہ خصوصیت ظاہر ہوجاتی ہے کہ اس میں تمام معاملات ‘ تمام طرز ہائے عمل ‘ عقل و شعور کے تمام رجحانات اور سوسائٹی کے اندر پائے جانے والے تمام تعلقات کا ربط عقیدے اور تصور حیات کے ساتھ ہوتا ہے ۔ جب انسان صرف اللہ کا بندہ بن جاتا ہے اور تمام ہدایات اللہ سے لیتا ہے تو وہ لوگوں پر احسان کرنا خود بخود شروع کردیتا ہے ‘ اللہ کی رضا کے حصول اور آخرت کے اجر کی امیدواری کے لئے ۔ وہ یہ کام نہایت ہی عاجزی ‘ نہایت ہی نرمی کے ساتھ کرتا ہے اور یہ مانتے ہوئے کرتا ہے کہ وہ جو کچھ دے رہا ہے وہ اللہ ہی کے دیئے سے عاجزی ‘ نہایت ہی نرمی کے ساتھ کرتا ہے اور یہ مانتے ہوئے کرتا ہے کہ وہ جو کچھ دے رہا ہے وہ اللہ ہی کے دیئے سے دے رہا ہے وہ کود اپنے رزق اور مال و دولت کا خالق نہیں ہے ۔ اسے تو اللہ کے ہاں سے سب کچھ ملتا ہے ۔ اور اللہ کے انکار اور یوم آخرت سے انکار کے نتیجے میں فخر اور غرور پیدا ہوتا ہے اور بخل اور دعوت بخل پیدا ہوتے ہیں ۔ اور اللہ کے فضل کو چھپایا جاتا ہے کہ اس کے آثار بصورت داد ودہش ظاہر نہ ہوں اور اگر انفاق ہو بھی تو وہ ریاکاری کے لئے ہوتا ہے اور اس کے بعد لوگوں کے سامنے فخر ومباہات کا اظہار ہوتا ہے اس لئے کہ ایسے شخص کے سامنے نہ رضائے الہی ہوتی ہے اور نہ جزائے آخر کی امیدواری پس لوگوں کے سامنے فخر اور غرور کا اظہار مطلوب ہوتا ہے ۔
اس طرح ایمانی اخلاقیات اور کفر کی اخلاقیات کے حدود کا تعین بسہولت ہوجاتا ہے ۔ مومنین کے نزدیک اچھے اعمال اور اچھے اخلاق کا باعث ایمان باللہ اور جزائے آخرت ہوتے ہی ۔ اور اللہ کی رضا مندی کے حصول پر آنکھیں لگی ہوتی ہیں اور یہ ایک ایسا بلند داعیہ ہوتا ہے کہ انفاق کرنے والا لوگوں سے کسی بدلے کا منتظر نہیں ہوتا ‘ اور نہ وہ عمل لوگوں کے عرف و رواج سے سیکھتا ہے ۔ اگر کسی کے دل میں ایک خدا کا یقین نہ ہو جس کی رضا مندی وہ چاہتا ہو اور اس رضا مندی کے حصول کے لئے وہ جدوجہد کر رہا ہو اور اسی طرح یوم آخرت کا عقیدہ اور جزائے آخرت کا کوئی لالچ نہ ہو ‘ تو ایسے لوگ اگر نیکی کا کوئی کام کرتے بھی ہیں تو وہ رسم و رواج کے مطابق دنیاوی اقدار کے لئے کرتے ہیں ۔ ایسے شخص کے لئے پھر کسی نسل میں بھی کوئی ایک ضابطہ نہیں ہوتا چہ جائیکہ اس کے لئے ہر زمان ومکان میں کوئی ناقابل تغیر ضابطہ ہو ‘ اس کے لئے پھر نیکی کرنے کا داعیہ وہی باتیں ہوں گی جن کا ذکر ہوا یعنی فخر ومباہات اور یہ داعیہ بھی ہمیشہ غیر مستقل اور غیر یقینی ہوگا اور لوگوں کی اقدار اور ان کی اغراض کے ساتھ ساتھ تغیر پذیر ہوگا اور ہمیشہ یہ مذموم صفات انفاق کے ساتھ پیوسہ رہیں گی ۔ فخر ‘ غرور ‘ بخل اور بخل کی دعوت لوگوں کو دکھاوا کبھی بھی انفاق فی سبیل اللہ اخلاص اور بےلوثی سے نہ ہوگا ۔
قرآن کریم کہتا ہے اللہ ان لوگوں کو پسند نہیں کرتا ۔ اللہ تعالیٰ کی ذات کراہیت اور محبت کے انفعالات سے پاک ہے اس لئے ان الفاظ سے مراد یہاں کراہیت اور محبت کے اثرات ہیں ۔ یعنی اللہ ان کو دھتکارے گا ‘ اذیت دے گا اور انہیں ان کاموں پر سزا دی جائے گی ۔ (آیت) ” واعتدنا للکفرین عذابا مھینا “۔ (4 : 38) (اور ایسے کافروں کے لئے اللہ تعالیٰ نے رسوا کن عذاب تیار کیا ہے) یہاں فخر و غرور پر ان کے لئے رسوا کن عذاب دیئے جانے کا ذکر ہے جو ان اوصاف بد کے مقابل ہے ۔ قرآن کریم کا انداز تعبیر ایسا ہے کہ وہ معنائے مقصود کے علاوہ بھی اپنا پر تو ڈالتا ہے۔ اور قرآن کے یہ اشارات بھی بذات خود مقصود ومطلوب ہوتے ہیں اور ان کی وجہ سے زیر بحث اوصاف بد اور افعال مکروہیہ کے خلاف کراہیت اور نفرت پیدا ہوتی ہے ۔ اس کے نتیجے میں ان چیزوں کو حقیر سمجھ کر انسان ان سے دور رہتا ہے ۔ خصوصا اس صورت میں کہ اللہ تعالیٰ نے ساتھ یہ بھی فرمایا کہ اس قسم کے لوگ شیطان کے ساتھی ہیں اور جن لوگوں کا ساتھی شیطان ہوجائے تو سمجھ لیں کہ وہ بہت ہی برا ساتھی ہے ۔ (آیت) ” ومن یکن الشیطن لہ قرینا فسآء قرینا “۔ (4 : 38) بعض روایات میں آیا ہے کہ یہ آیات مدینہ کے بعض یہودیوں کے بارے میں وارد ہوئی ہیں کیونکہ ان میں جو صفات مذکورہ ہیں وہ یہودیوں پر پوری طرح منطبق ہوتی ہیں ‘ جیسا کہ وہ منافقین پر منطبق ہوتی ہیں ۔ جس دور میں یہ آیات نازل ہوئیں اس دور میں اللہ نے ان پر جو فضل وکرم کیا تھا ‘ وہ اسے چھپاتے تھے ۔ نیز اس سے مراد یہ بھی ‘ ہو سکتا ہے کہ وہ سچائی ہو جو انہیں دی گئی تھی انہوں نے اسے چھپا لیا تھا ۔ یعنی حضور اکرم ﷺ کی رسالت اور دین اسلام کے بارے میں جو پیشن گوئیاں ان کے ہاں تھیں ۔ لیکن آیت کی عبارت عام ہے اور بات یہاں مال اور فعل کے ذریعے احسان کی ہو رہی ہے ‘ لہذا مناسب ہے کہ آیت کے مفہوم کو عام ہی رہنے دیا جائے کیونکہ سیاق کلام کے ساتھ اس آیت کا عام مفہوم ہی زیادہ مناسبت رکھتا ہے ۔
جب ان لوگوں کے نفوس کا سرچاک ہوا ‘ جب ان لوگوں کے عمل کی فضیحت ظاہر ہوگئی اور ان کے اسباب یعنی انکار خدا ‘ انکار آخرت اور شیطان کی ہم نشینی اور اس کا اتباع بھی بیان کردیئے گئے اور اس کے بعد یہ بھی بتا دیا گیا کہ ان برائیوں کی سزا توہین آمیز عذاب ہے ‘ تو اس کے بعد اللہ تعالیٰ استفہام انکاری کے انداز پوچھتے ہین۔
اس سے قبل سورة البقرۃ آیت 83 میں بنی اسرائیل سے لیے جانے والے میثاق کا ذکر آیا تھا۔ اس میثاق میں جو باتیں مذکور تھیں وہ گویا امہات شریعت یا دین کی بنیادیں ہیں۔ ارشاد ہوا : اور یاد کرو جب ہم نے بنی اسرائیل سے عہد لیا تھا کہ تم نہیں عبادت کرو گے کسی کی سوائے اللہ کے ‘ اور والدین کے ساتھ نیک سلوک کرو گے اور قرابت داروں ‘ یتیموں اور محتاجوں کے ساتھ بھی ‘ اور لوگوں سے اچھی بات کہو ‘ اور نماز قائم رکھو اور زکوٰۃ ادا کرو“۔ اب یہ دوسرا مقام آ رہا ہے کہ شریعت کے اندر جو چیزیں اہم تر ہیں اور جنہیں معاشرتی سطح پر مقدم رکھنا چاہیے وہ بیان کی جا رہی ہیں۔فرمایا :آیت 36 وَاعْبُدُوا اللّٰہَ وَلاَ تُشْرِکُوْا بِہٖ شَیْءًا سب سے پہلا حق اللہ کا ہے کہ اسی کی بندگی اور پرستش کرو ‘ اور اس کے ساتھ کسی کو شریک نہ ٹھہراؤ۔وَّبِالْوَالِدَیْنِ اِحْسَانًا قرآن حکیم میں ایسے چار مقامات ہیں جہاں اللہ کے حق کے فوراً بعد والدین کے حق کا تذکرہ ہے۔ یہ بھی ہمارے خاندانی نظام کے لیے بہت اہم بنیاد ہے کہ والدین کے ساتھ حسن سلوک ہو ‘ ان کا ادب و احترام ہو ‘ ان کی خدمت کی جائے ‘ ان کے سامنے آواز پست رکھی جائے۔ یہ بات سورة بنی اسرائیل میں بڑی تفصیل سے آئے گی۔ ہمارے معاشرے میں خاندان کے استحکام کی یہ ایک بہت اہم بنیاد ہے۔وَّبِذِی الْقُرْبٰی وَالْیَتٰمٰی وَالْمَسٰکِیْنِ وَالْجَارِ ذِی الْقُرْبٰی وَالْجَارِ الْجُنُبِ پہلے عام طور پر محلے ایسے ہی ہوتے تھے کہ ایک قبیلہ ایک ہی جگہ رہ رہا ہے ‘ رشتہ داری بھی ہے اور ہمسائیگی بھی۔ لیکن کوئی اجنبی ہمسایہ بھی ہوسکتا ہے۔ جیسے آج کل شہروں میں ہمسائے اجنبی ہوتے ہیں۔وَالصَّاحِبِ بالْجَنْبِ وَابْنِ السَّبِیْلِ لا ایک ہمسائیگی عارضی نوعیت کی بھی ہوتی ہے۔ مثلاً آپ بس میں بیٹھے ہوئے ہیں ‘ آپ کے برابر بیٹھا ہوا شخص آپ کا ہمسایہ ہے۔ نیز جو لوگ کسی بھی اعتبار سے آپ کے ساتھی ہیں ‘ آپ کے پاس بیٹھنے والے ہیں ‘ وہ سب آپ کے حسن سلوک کے مستحق ہیں۔
حقوق العباد اور حقوق اللہ اللہ تبارک وتعالیٰ اپنی عبادت کا حکم دیتا ہے اور اپنی توحید کے ماننے کو فرماتا ہے اور اپنے ساتھ کسی کو شریک کرنے سے روکتا ہے اس لئے کہ جب خالق رزاق نعمتیں دینے والا تمام مخلوق پر ہر وقت اور ہر حال میں انعام کی بارش برسانے والا صرف وہی ہے تو لائق عبادت بھی صرف وہی ہوا۔ حضرت معاذ ؓ سے جناب رسول اللہ ﷺ بہت زیادہ جاننے والے ہیں آپ نے فرمایا یہ کہ وہ اسی کی عبادت کریں اسی کے ساتھ کسی کو شریک نہ ٹھہرائیں پھر فرمایا جانتے ہو جب بندے یہ کریں تو ان کا حق اللہ تعالیٰ کے ذمہ کیا ہے ؟ یہ کہ انہیں وہ عذاب نہ کرے، پھر فرماتا ہے ماں باپ کے ساتھ احسان کرتے رہو وہی تمہارے عدم سے وجود میں آنے کا سبب بنے ہیں۔ قرآن کریم کی بہت سی آیتوں میں اللہ سبحانہ وتعالیٰ نے اپنی عبادت کے ساتھ ہی ماں باپ سے سلوک و احسان کرنے کا حکم دیا ہے جیسے فرمایا (اَنِ اشْكُرْ لِيْ وَلِوَالِدَيْكَ) 31۔ لقمان :14) اور (وَقَضٰى رَبُّكَ اَلَّا تَعْبُدُوْٓا اِلَّآ اِيَّاهُ وَبِالْوَالِدَيْنِ اِحْسَانًا) 17۔ الاسراء :23) یہاں بھی یہ بیان فرما کر پھر حکم دیتا ہے کہ اپنے رشتہ داروں سے بھی سلوک و احسان کرتے رہو۔ حدیث میں ہے مسکین اور صدقہ دینا اور صلہ رحمی کرنا بھی، اسی حسن سلوک کی شاخ ہے پھر حکم ہوتا ہے کہ یتیموں کے ساتھ بھی سلوک و احسان کرو اس لئے کہ ان کی خبر گیری کرنے والا ان کے سر پر محبت سے ہاتھ پھیرنے والا ان کے ناز، لاڈ اٹھانے والا نہیں محبت کے ساتھ کھلانے پلانے والا ان کے سر سے اٹھ گیا ہے۔ پھر مسکینوں کے ساتھ نیکی کرنے کا ارشاد کیا کہ وہ حاجت مند ہے ہاتھ میں محتاج ہیں ان کی ضرورتیں تم پوری کرو ان کی احتیاج تم رفع کرو ان کے کام تم کردیا کرو۔ فقیرو مسکین کا پورا بیان سورة براۃ کی تفسیر میں آئے گا انشاء اللہ پڑوسیوں کے حقوق اپنے پڑوسیوں کا خیال رکھو ان ان کے ساتھ بھی برتاؤ اور نیک سلوک رکھو خواہ وہ قرابت دار ہوں یا نہ ہو، خواہ مسلمان یا یہود و نصرانی ہوں یہ بھی کہا گیا ہے کہ جارذی القربی سے مراد بیوی ہے اور جار الجنت سے مراد مرد رفیق سفر ہے، پڑوسیوں کے حق میں بہت سی حدیثیں آئی ہیں کچھ سن لیجئے۔ مسند احمد میں بیان ہے رسول اللہ ﷺ فرماتے ہیں مجھے حضرت جبرائیل پڑوسیوں کے بارے میں یہاں تک وصیت و نصیحت کرتے ہیں کہ مجھے گمان ہوا کہ شاید یہ پڑوسیوں کو وارث بنادیں گے، فرماتے ہیں بہتر ساتھی اللہ کے نزدیک وہ ہے جو اپنے ہمراہیوں کے ساتھ خوش سلوک زیادہ ہو اور پڑوسیوں کو وارث بنادیں گے، فرماتے ہیں بہتر ساتھی اللہ کے نزدیک وہ ہے جو ہمسایوں سے نیک سلوک میں زیادہ ہو، فرماتے ہیں انسان جو نہ چاہیے کہ اپنے پڑوسی کی آسودگی بغیر خود شکم سیر ہوجائے۔ ایک مرتبہ آپ صحابہ ؓ سے سوال کیا زنا کے بارے میں تم کیا کہتے ہو ؟ لوگوں نے کہا وہ حرام ہے اللہ نے اور اس کے رسول سے اسے حرام کیا ہے اور قیامت تک وہ حرام ہی رہے گا، آپ نے فرمایا سنو دس عورتوں سے زناکاری کرنے والا اس شخص کے گناہ سے کم گنہگار ہے جو اپنے پڑوسی کی عورت سے زنا کرے پھر دریافت فرمایا تم چوری کی نسبت کیا کہتے ہو ؟ انہوں نے جواب دیا کہ اسے بھی اللہ تعالیٰ نے اس کے رسول اللہ ﷺ نے حرام کیا ہے اور وہ بھی قیامت تک حرام ہے آپ نے فرمایا سنو دس گھروں سے چوری کرنے والے گناہ کا اس شخص کے گناہ سے ہلکا ہے جو اپنے پڑوسی کے گھر سے کچھ چرائے، بخاری و مسلم کی حدیث میں ہے حضرت ابن مسعود ؓ سوال کرتے ہیں کہ یا رسول اللہ ﷺ کون سا گناہ سب سے بڑا ہے ؟ آپ نے فرمایا یہ کہ تو اللہ کے ساتھ شریک ٹھہرائے حالانکہ اسی ایک نے تجھے پیدا کیا ہے میں نے پوچھا پھر کونسا ؟ فرمایا یہ کہ تو اپنی پڑوسن سے زناکاری کرے۔ ایک انصاری صحابی ؓ فرماتے ہیں آنحضرت ﷺ کی خدمت میں حاضر ہونے کے لئے گھر سے چلا وہاں پہنچ کر دیکھتا ہوں کہ ایک صاحب کھڑے ہیں اور حضور ﷺ ان کی طرف متوجہ ہیں میں نے خیال کیا کہ شاید انہیں آپ سے کچھ کام ہوگا حضور ﷺ کھڑے ہیں اور ان سے باتیں ہو رہی ہیں بڑی دیر ہوگئی یہاں تک کہ مجھے آپ کے تھک جانے کے خیال نے بےچین کردیا بہت دیر کے بعد آپ لوٹے اور میرے پاس آئے میں نے کہا حضور ﷺ تم نے انہیں دیکھا میں نے کہا ہاں خوب اچھی طرح دیکھا فرمایا جانتے ہو وہ کون تھے ؟ وہ جبرائیل ؑ تھے مجھے پڑوسیوں کے حقوق کی تاکید کرتے رہے یہاں تک ان کے حقوق بیان کئے کہ مجھے کھٹکا ہوا کہ غالباً آج تو پڑوسی کو وارث ٹھہرا دیں گے (مسند احمد) مسند عبد بن حمید میں ہے حضرت جابر بن عبداللہ تعالیٰ عنہ فرماتے ہیں ایک شخص عوالی مدینہ سے آیا اس وقت رسول اللہ ﷺ اور حضرت جبرائیل (علیہ الصلوۃ والسلام) اس جگہ نماز پڑھ رہے تھے جہاں جنازوں کی نماز پڑھی جاتی ہے جب آپ فارغ ہوئے تو اس شخص نے کہا حضور ﷺ کے ساتھ یہ دوسرا شخص کون نماز پڑھ رہا تھا آپ نے فرمایا تم نے انہیں دیکھا ؟ اس نے کہا ہاں فرمایا تو نے بہت بڑی بھلائی دیکھی یہ جبرائیل تھے مجھے پڑوسی کے بارے میں وصیت کرتے رہے یہاں تک کہ میں نے دیکھا کہ عنقریب اسے وارث بنادیں گے آٹھویں حدیث بزار میں ہے حضور ﷺ نے فرمایا پڑوسی تین قسم کے ہیں ایک حق والے یعنی ادنی، دو حق والے اور تین حق والے یعنی اعلیٰ ، ایک حق والا وہ ہے جو مشرک ہو اور اس سے رشتہ داری نہ ہو، دو حق والا وہ ہے جو مسلمان ہو اور رشتہ دار نہ ہو، ایک حق اسلام دوسرا حق پڑوس، تین حق والا وہ ہے جو مسلمان بھی ہو پڑوسی بھی ہو اور رشتے ناتے کا بھی ہو تو حق اسلام کا حق ہمسائیگی حق صلہ رحمی تین تین حق اس کے ہوگئے۔ حدیث مسند احمد میں ہے حضرت عائشہ صدیقہ ؓ نے رسول اللہ ﷺ سے دریافت کیا کہ میرے دو پڑوسی ہیں میں ایک کو ہدیہ بھیجنا چاہتی ہوں تو کسے بھیجواؤں ؟ آپ نے فرمایا جس کا دروازہ قریب ہو۔ دسویں حدیث طبرانی میں ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے وضو کیا لوگوں نے آپ کے وضو کے پانی کو لینا اور ملنا شروع کیا آپ نے پوچھا ایسا کیوں کرتے ہو ؟ انہوں نے کہا اللہ اور اس کے رسول ﷺ کی محبت میں آپ نے فرمایا جسے یہ خوش لگے کہ اللہ اور اس اس کا رسول اس سے محبت کریں تو اسے چاہئے کہ جب بات کرے سچ کرے اور جب امانت دیا جائے تو ادا کرے۔ (تفسیر ابن کثیر میں یہ حدیث یہیں پر ختم ہے لیکن شاید اگلا جملہ اس کا سہوا رہ گیا ہے جس کا صحیح تعلق اس مسئلہ سے ہے وہ یہ کہ اسے چاہیے پڑوسی کے ساتھ سلوک و احسان کرے۔ مترجم) گیا رھویں حدیث مسند احمد میں ہے کہ قیامت کے دن سب سے پہلے جو جھگڑا اللہ کے سامنے پیش ہوگا وہ دو پڑوسیوں کا ہوگا۔ پھر حکم ہوتا ہے صاحب بالجنت کے ساتھ سلوک کرنے کا۔ اس سے مراد بہت سے مفسرین کے نزدیک عورت ہے اور بہت سے فرماتے ہیں مراد سفر کا ساتھی ہے اور یہ بھی مروی ہے کہ اس سے مراد دوست اور ساتھی ہے عام اس سے کہ سفر میں وہ یا قیام کی حالت میں ابن سبیل سے مراد مہمان ہے اور یہ بھی جو سفر میں کہیں ٹھہر گیا ہو اگر مہمان بھی یہاں مراد لی جائے کہ سفر میں جاتے جاتے مہمان بنا تو دونوں ایک ہوگئے، اس کا پورا بیان سورة براۃ کی تفسیر میں آ رہا ہے انشاء اللہ تعالی۔ غلاموں کے بارے میں احکامات پھر غلاموں کے بارے میں فرمایا جا رہا ہے کہ ان کے ساتھ بھی نیک سلوک رکھو اس لئے کہ وہ غریب تمہارے ہاتھوں اسیر ہے اس پر تو تمہارا کامل اختیار ہے تو تمہیں چاہیے کہ اس پر رحم کھاؤ اور اس کی ضرورت کا اپنے امکان بھر خیال رکھو رسول اللہ ﷺ تو اپنے آخری مرض الموت میں بھی اپنی امت کو اس کی وصیت فرما گئے فرماتے ہیں لوگو نماز کا اور غلاموں کا خوب خیال رکھنا بار بار اسی کو فرماتے رہے یہاں تک کہ زبان رکنے لگی مسند کی حدیث میں ہے آپ فرماتے ہیں تو جو خود کھائے وہ بھی صدقہ ہے جو اپنے بچوں کو کھلائے وہ بھی صدقہ ہے جو اپنی بیوی کھلائے وہ بھی صدقہ ہے جو اپنے خادم کو کھلائے وہ بھی صدقہ ہے مسلم میں ہے کہ حضرت عبداللہ بن عمر ؓ نے ایک مرتبہ داروغہ سے فرمایا کہ کیا غلاموں کو تم نے ان کی خوراک دے دی ؟ اس نے کہا اب تک نہیں دی فرمایا جاؤ دے کر آؤ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا ہے انسان کو یہی گناہ کافی ہے کہ جن کی خوراک کا وہ مالک ہے ان سے روک رکھے، مسلم میں ہے مملوکہ ماتحت کا حق ہے کہ اسے کھلایا پلایا پہنایا اڑھایا جائے اور اس کی طاقت سے زیادہ کام اس سے نہ لیا جائے، بخاری شریف میں ہے جب تم میں سے کسی کا خادم اس کا کھانا لے کر آئے تو تمہیں چاہیے کہ اگر ساتھ بٹھا کر نہیں کھلاتے تو کم از کم اسے لقمہ دو لقمہ دے دو خیال کرو کہ اس نے پکانے کی گرمی اور تکلیف اٹھائی ہے اور روایت میں ہے کہ چاہیے تو یہ کہ اسے اپنے ساتھ بٹھا کر کھلائے اور اگر کھانا کم ہو تو لقمہ دو لقمے ہی دے دیا کرو، آپ فرماتے ہیں تمہارے غلام بھی تمہارے بھائی ہیں، اللہ تعالیٰ نے انہیں تمہارے ماتحت کردیا ہے پس جس کے ہاتھ تلے اس کا بھائی ہو اسے اپنے کھانے سے کھلائے اور اپنے پہننے میں سے پہنائے اور ایسا کام نہ کرے کہ وہ عاجز ہوجائے اگر کوئی ایسا ہی مشکل کام آپڑے تو خود بھی اس کا ساتھ دے (بخاری مسلم) پھر فرمایا کہ خودبین، معجب، متکبر، خود پسند، لوگوں پر اپنی فوقیت جتانے والا، اپنے آپ کو تولنے والا اپنے تئیں دوسروں سے بہتر جاننے والا اللہ کا پسندیدہ بندہ نہیں، وہ گو اپنے آپکو بڑا سمجھے لیکن اللہ تعالیٰ کے ہاں وہ ذلیل ہے لوگوں کی نظروں میں وہ حقیر ہے بھلا کتنا اندھیر ہے کہ خود تو اگر کسی سے سلوک کرے تو اپنا احسان اس پر رکھے لیکن رب کی نعمتوں کا جو اللہ تعالیٰ نے اسے دے رکھی ہیں شکر بجا نہ لائے لوگوں میں بیٹھ کر فخر کرے کہ میں اتنا بڑا آدمی ہوں میرے پاس یہ بھی ہے اور وہ بھی ہے حضرت ابو رجاہروی ؒ فرماتے ہیں کہ ہر بدخلق متکبر اور خود پسند ہوتا ہے پھر اسی آیت کو تلاوت کیا اور فرمایا ہر ماں باپ کا نافرمان سرکش اور بدنصیب ہوتا ہے پھر آپ نے (وَځ ا بِوَالِدَتِيْ ۡ وَلَمْ يَجْعَلْنِيْ جَبَّارًا شَقِيًّا) 19۔ مریم :32) پڑھی، حضرت عوام بن حوشب ؒ بھی یہی فرماتے ہیں حضرت مطرب ؒ فرماتے ہیں مجھے حضرت ابوذر ؓ کی ایک روایت ملی تھی میرے دل میں تمنا تھی کہ کسی وقت خود حضرت ابوذر ؓ سے مل کر اس روایت کو انہی کی زبانی سنوں چناچہ ایک مرتبہ ملاقات ہوگئی تو میں نے کہا مجھے یہ خبر ملی ہے کہ آپ رسول اللہ ﷺ کی ایک حدیث بیان فرماتے ہیں کہ اللہ تعالیٰ تین قسم کے لوگوں کو دوست رکھتا ہے اور تین قسم کے لوگوں کو ناپسند فرماتا ہے حضرت ابوذر ؓ نے فرمایا ہاں یہ سچ ہے میں بھلا اپنے خلیل ﷺ پر بہتان کیسے باندھ سکتا ہوں ؟ آپ نے اسی آیت کی تلاوت کی اور فرمایا اسے تو تم کتاب اللہ میں پاتے بھی ہو، بنو ہجیم کا ایک شخص رسول مقبول ﷺ سے کہتا ہے مجھے کچھ نصیحت کیجئے آپ نے یرمایا کپڑا ٹخنے سے نیچا نہ لٹکاؤ کیونکہ یہ تکبر اور خود پسندی ہے جسے اللہ ناپسند رکھتا ہے۔