آیت نمبر 26
اس سے قبل اس بات کی طرف اشارہ کیا گیا تھا۔ ایک شخص اس حقیقت کو جانتا ہے اور مانتا ہے کہ رسول اللہ ﷺ پر جو سچائی نازل ہو رہی ہے ، وہ حق ہے ، وہی دانشمند اور عقلمند ہے اور جو نہیں جانتا وہ اعمیٰ ہے۔ اب یہاں اہل کفر کی کم عقلی اور اندھے پن کی کچھ مثالیں دی جاتی ہیں کہ یہ لوگ اس کائنات میں اللہ کی آیات و نشانات کو نہیں دیکھ پا رہے۔ دانشوروں کے لئے یہ تو قرآن ہی کافی معجزہ ہے لیکن عقل کے یہ کورے قرآن سے بھی بڑا کوئی معجزہ طلب کرتے ہیں۔ سورة کے پہلے حصے میں ان کے مطالبات کا ذکر ہوچکا ہے اور وہاں یہ جواب بھی دے دیا گیا تھا کہ رسول تو صرف ڈرانے والا ہے اور معجزات کا صدور اللہ کے اختیار میں ہے۔ یہاں ایسے ہی مطالبات کو پھر دہرا کر بتایا جاتا ہے کہ ضلالت و ہدایت کے اسباب کیا ہوتے ہیں ۔ پھر ان دلوں کا ذکر کیا جاتا ہے جو اللہ کے ذکر ہی سے مطمئن ہوجاتے ہیں اور وہ اس قرآن اور ذکر الٰہی سے آگے مزید خوارق عادت معجزات کا مطالبہ نہیں کرتے۔ یہ قرآن اپنی جگہ گہری اثر آفرینی کا حامل ہے یہاں تک کہ اسے سن کر قریب ہے کہ پہاڑ چل پڑیں اور قریب ہے کہ زمین پھٹ پڑے اور قریب ہے کہ مردے بھی اس کی حقانیت کے نعرے لگانے لگ جائیں کیونکہ اس قرآن میں بےپناہ قوت ، مادہ حیات اور انقلابی اسپرٹ ہے۔ آخر میں مومنین کو یہ ہدایت کی جاتی ہے کہ وہ ان لوگوں سے مایوس ہوجائیں جو معجزات طلب کرتے ہیں اور انسانی تاریخ میں ان لوگوں کے رویہ کا مطالعہ کریں جنہوں نے اچھی مثالیں چھوڑی ہیں اور پھر ان لوگوں کی حالت کو بھی دیکھیں جو ان جیسے تھے اور جو اللہ کے عذاب میں گرفتار ہوئے۔
وَفَرِحُوْا بالْحَيٰوةِ الدُّنْيَا ۭ وَمَا الْحَيٰوةُ الدُّنْيَا فِي الْاٰخِرَةِ اِلَّا مَتَاعٌجو لوگ اخروی زندگی کے انعامات کے امیدوار نہیں ہیں ان کی جہد و کوشش کی جولان گاہ یہی دنیوی زندگی ہے۔ ان کی تمام تر صلاحیتیں اسی زندگی کی آسائشوں کے حصول میں صرف ہوتی ہیں اور وہ اس کی زیب وزینت پر فریفتہ اور اس میں پوری طرح مگن ہوجاتے ہیں۔ وہ اپنے اس طرز عمل پر بہت خوش اور مطمئن ہوتے ہیں حالانکہ دنیا کی زندگی آخرت کے مقابلے میں ایک متاع قلیل و حقیر کے سوا کچھ بھی نہیں۔
مسئلہ رزق اللہ جس کی روزی میں کشادگی دینا چاہے قادر ہے، جسے تنگ روزی دینا چاہے قادر ہے، یہ سب کچھ حکمت وعدل سے ہو رہا ہے۔ کافروں کو دنیا پر ہی سہارا ہوگیا۔ یہ آخرت سے غافل ہوگئے سمجھنے لگے کہ یہاں رزق کی فراوانی حقیقی اور بھلی چیز ہے حالانکہ دراصل یہ مہلت ہے اور آہستہ پکڑ کی شروع ہے لیکن انہیں کوئی تمیز نہیں۔ مومنوں کو جو آخرت ملنے والی ہے اس کے مقابل تو یہ کوئی قابل ذکر چیز نہیں یہ نہایت ناپائیدار اور حقیر چیز ہے آخرت بہت بڑی اور بہتر چیز۔ لیکن عموما لوگ دینا کو آخرت پر ترجیح دیتے ہیں۔ آنحضرت ﷺ نے اپنی کلمہ کی انگلی سے اشارہ کر کے فرمایا کہ اسے کوئی سمندر میں ڈبو لے اور دیکھے کہ اس میں کتنا پانی آتا ہے ؟ جتنا یہ پانی سمندر کے مقابلے پر ہے اتنی ہی دنیا آخرت کے مقابلے میں ہے (مسلم) ایک چھوٹے چھوٹے کانوں والے بکری کے مرے ہوئے بچے کو راستے میں پڑا ہوا دیکھ کر آنحضرت ﷺ نے فرمایا جیسا یہ ان لوگوں کے نزدیک ہے جن کا یہ تھا اس سے بھی زیادہ بیکار اور ناچیز اللہ کے سامنے ساری دنیا ہے۔