سورہ رحمن (55): آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں۔ - اردو ترجمہ

اس صفحہ میں سورہ Ar-Rahmaan کی تمام آیات کے علاوہ فی ظلال القرآن (سید ابراہیم قطب) کی تمام آیات کی تفسیر بھی شامل ہے۔ پہلے حصے میں آپ سورہ الرحمن کو صفحات میں ترتیب سے پڑھ سکتے ہیں جیسا کہ یہ قرآن میں موجود ہے۔ کسی آیت کی تفسیر پڑھنے کے لیے اس کے نمبر پر کلک کریں۔

سورہ رحمن کے بارے میں معلومات

Surah Ar-Rahmaan
سُورَةُ الرَّحۡمَٰن
صفحہ 531 (آیات 1 سے 16 تک)

سورہ رحمن کو سنیں (عربی اور اردو ترجمہ)

سورہ رحمن کی تفسیر (فی ظلال القرآن: سید ابراہیم قطب)

اردو ترجمہ

رحمٰن نے

انگریزی ٹرانسلیٹریشن

Alrrahmanu

رحمان کے انعامات کے بیان میں یہ پہلا پیرگراف ہے اور اس اعلان عام کی یہ پہلی خبر ہے اور پہلی نعمت :

علم القرآن (اس نے قرآن کی تعلیم دی) اور قرآن کی تعلیم کی شکل میں اللہ نے اپنے بندوں پر عظیم رحمت فرمائی۔ قرآن جو نوایس فطرت کا ترجمان ہے۔ یہ اہل زمین کے لئے آسمان کا منہاج ہے اور یہ منہاج اہالیان زمین کو ناموں فطرت سے ملاتا ہے اور یہ ان کے عقائد ، ان کے تصورات ، ان کے پیمانوں ، ان کی قدروں ، ان کے اداروں ، ان کے حالات کو نہایت ہی مضبوط بنیادوں پر استوار کرتا ہے۔ انہی بنیادوں پر جن پر یہ پوری کائنات قائم ہے ، یہ دستور ان کی سہولتیں اطمینان اور ناموس فطرت کے ساتھ مفاہمت اور ہم آہنگی عطا کرتا ہے۔

قرآن انسانوں کے حواس اور ان کے شعور کو اس پوری کائنات کے لئے کھولتا ہے کہ دیکھو کیا ہی خوبصورت ہے یہ کائنات اور قرآن ان کو اس کا مشاہدہ یوں کراتا ہے کہ گویا انسانیت نے کائنات کو پہلی مرتبہ دیکھا ہے۔ وہ دیکھتے رہے تھے لیکن یہ ایک نیا مطالعہ ہے۔ انہوں نے خود اپنی ذات کا بھی از سر نو مطالعہ کیا۔ انہوں نے اپنے ارد گرد کائنات کو پڑھنا شروع کیا بلکہ قرآن نے اس پورے کائناتی ماحول کو ایک زندگی عطا کردی اور یہ ماحول انسان کے ساتھ ساتھ چلنا شروع ہوگیا ہے۔ اب انسان اس کائنات کے مظاہر کا دوست بن گیا۔ ساتھی بن گیا اور وہ ہمقدم ہوکر چل رہے ہیں اور اس زمین پر انسان کا یہ سفر نہایت خوشگواری سے چلنے لگا۔

اس قرآن نے انسان کے ذہن نشین کرایا کہ انسانو ! تم اس کائنات میں اللہ کے خلفاء ہو۔ رحمان کے خلفاء ہو۔ اللہ کے نزدیک تم بہت مکرم ہو۔ تمہیں اللہ نے یہ قرآن ایک عظیم امانت دی ہے۔ وہ امانت کہ زمین و آسمانوں اور پہاڑوں نے اس کے اٹھانے سے معذرت کرلی تھی۔ قرآن تمہیں جو اعلیٰ انسانیت عطا کرتا ہے اس کی قدروقیمت کو سمجھو اور یہ فہم وادراک صرف قرآن کے ، ذریعہ ممکن ہے۔ ایمان کی راہ سے ممکن ہے۔ ایمان ہی تمہاری روح میں یہ جذبہ ، یہ ہدایت پھونک سکتا ہے اور صرف قرآن کے ذریعے سے تم اللہ کی عظیم نعمت حاصل کرسکتے ہو۔ یہی وجہ ہے کہ اللہ تعالیٰ نے انسان کی تخلیق اور اسے وجود بخشنے کی نعمتوں سے بھی پہلے تعلیم کا ذکر کیا کیونکہ علم قرآن کے ذریعہ ہی انسان انسان بن سکتا ہے۔

اردو ترجمہ

اِس قرآن کی تعلیم دی ہے

انگریزی ٹرانسلیٹریشن

AAallama alqurana

اردو ترجمہ

اُسی نے انسان کو پیدا کیا

انگریزی ٹرانسلیٹریشن

Khalaqa alinsana

خلق الانسان (55: 3) علمہ البیان (55:4) (انسان کو پیدا کیا اور اسے بولنا سکھایا) ہم یہاں انسان کی تخلیق کی نعمت پر کلام نہیں کرتے۔ جلد ہی سورة میں یہ بیان آئے گا۔ یہاں اصل مقصود تعلیم بیان ہے۔

ہم دیکھتے ہیں کہ انسان بات کرتا ہے۔ مافی الضمیر کی تعبیر کرتا ہے۔ بیان کرتا ہے ایک دوسرے کی بات سمجھتا ہے اور پھر انسان باہم تعاون کرتے ہیں۔ یہ کام چونکہ ہر وقت ہمارے درمیان ہوتا رہتا ہے اس لئے اللہ کی اس نعمت عظمیٰ کو ہم نے بھلا دیا ہے ورنہ ذرا بھی غور کیا جائے تو یہ ایک عجوبہ ہے۔ قرآن ایسی کئی نعمتوں کی یاد دہانی کراتا ہے ہمیں جگاتا ہے۔

انسان کیا چیز ہے ؟ اس کی اصلیت کیا ہے ؟ اسے یہ بیان کس طرح سکھا دیا جاتا ہے ؟ انسان کی حیثیت تو یہ ہے کہ یہ ایک خلیہ ہے جو باپ کے مادہ منویہ میں ہوتا ہے۔ یہ رحم مادر میں ایک نہایت ہی سادہ شکل میں زندگی کا آغاز کرتا ہے۔ یہ بہت ہی چھوٹا ہوتا ہے ، کمزور ہوتا ہے۔ یہ اس قدر چھوٹا ہوتا ہے کہ یہ صرف آلات کے ذریعے دیکھا جاسکتا ہے ، نہ یہ نظر آتا ہے اور نہ یہ اظہار کرسکتا ہے۔

یہ خلیہ جلد ہی جنین کی شکل اختیار کرلیتا ہے۔ اس جنین میں خلیوں کی تعداد پھر کئی ملین ہوجاتی ہے۔ ہڈی کے خلیے ، نرم ہڈیوں کے خلیے ، عضلات کے خلیے ، اعصاب کے خلیے اور جلد کے خلیے۔ پھر اعضا بنتے ہیں اور ان اعضاء کے حیران کن کام اور صلاحیتیں سننا ، دیکھنا ، چکھنا ، سونگھنا اور چھونا اور پھر شعور اور الہام۔ یہ سب خلیے اور یہ سب خواص اس ایک خلیے سے بن گئے جو ایک سادہ خلیہ تھا ، نہایت چھوٹا جو نہ نظر آتا تھا اور نہ اظہار کرسکتا تھا۔

یہ کیسے ہوا ؟ کہ اسے آیا ؟ یہ رحمان سے آیا ہے ، یہ رحمان کی مصنوعات میں سے ایک ہے۔

ذرا غور کیجئے کہ اس مخلوق کو اللہ نے کس طرح بین سکھایا۔

واللہ ............ ولافئدة (61 : 87) (اللہ نے تم کو تمہاری ماؤں کے پیٹوں سے نکالا اس حال میں کہ تم کچھ نہ جانتے تھے۔ اس نے تمہیں کان دیئے ، آنکھیں دیں اور سوچنے والے دل دیئے اس لئے کہ تم شکر گزار ہو)

حقیقت یہ ہے کہ بات کرنے کے اعضا ہی وہ عجوبہ ہیں جن کے عجائبات ختم نہیں ہوسکتے۔ زبان ، ہونٹ ، چہرے ، دانت ، ہوا کی نالی ، حنجرہ اور پھپھٹرے سب اس میں شریک ہوتے ہیں۔ یہ تمام اعضاء آواز نکالنے میں شریک ہوتے ہیں اور اعضا کا یہ فعل بیان کی بنیاد بنتا ہے۔ اس پیچیدہ عمل میں یہ اعضاء ایک میکان کی پہلو دکھاتے ہیں۔ اس کے بعد پھر ان اعضاء کا رابطہ دماغ ، قوت سماعت اور پورے اعصابی نظام سے ہوتا ہے۔ اس کے بعد عقل سے اس کا تعلق ہوتا ہے اور عقل کیا چیز ہے ، اس کے بارے میں ہم صرف یہ جانتے ہیں کہ اس کا نام ” عقل “ ہے۔ اس کی ماہیت اور حقیقت کا ہمیں علم نہیں ہے بلکہ یہ عقل کس طرح کام کرتی ہے ہم اس کے بارے میں بھی نہیں جانتے۔

ایک بات کرنے والا جب ایک لفظ بولتا ہے تو کس طرح بولتا ہے ؟ یہ ایک ایسا عمل ہے جس کے کئی مراحل ، کئی درجے اور کئی آلات ہیں اور بعض چیزیں ابھی تک معلوم نہیں۔

پہلے یہ شعور سامنے آتا ہے کہ اس مقصد کے لئے یہ لفظ بولنا چاہئے۔ یہ شعور عقل ، قوت مدرکہ یا روح سے حسی آلات کی طرف آتا ہے۔ یہ کس طرح آتا ہے اس کا ہمیں علم نہیں۔ دماغ کے بارے میں کہتے ہیں کہ وہ اعصاب کے ذریعے یہ حکم دیتا ہے مذکورہ بالا آلات کو کہ اس لفظ کا تلفظ کیا جائے۔ یہ لفظ بذات خود کیا چیز ہے۔ یہ وہ آواز ہے جو اللہ نے ہر انسان کو سکھائی اور اس کے معنی سکھائے۔ اب یہاں پھیپھڑے ہوا کی ایک مقدار ایک نالی کے ذریعہ ہوائی نالی کی طرف منتقل کرتے ہیں۔ پھر یہ ہوا گلے کی طرف آتی ہے۔ یہاں تاروں کا وہ نظام ہے جو آواز پیدا کرتا ہے۔ یہ نظام انسانوں کے بنائے ہوئے صوتی آلات کے تاروں سے بہت ہی مختلف اور پیچیدہ ہے۔ نہ اس نظام کے ساتھ انسان کے بنائے ہوئے آلات مشابہت کرسکتے ہیں جو آواز پیدا کرتے ہیں۔ اس کے بعد حنجرہ میں آواز پیدا ہوتی ہے اور اس کے بعد جس طرح عقل چاہتی ہے اس آواز کی تشکیل ہوتی ہے۔ اونچی آواز ، نرم آواز ، دھیمی آواز ، تیز آواز ، موٹی آواز ، سخت آواز ، نرم آواز ، پتلی آواز ، غرض قسم قسم کی آواز بھی۔ پھر حنجرہ کے ساتھ زبان ، ہونٹ ، جبڑے اور دانت کام کرتے ہیں۔ مختلف اطراف کے دباؤ کے نتیجے میں پھر حروف بنتے ہیں اور جہاں سے وہ نکلتے ہیں وہ ان کا مخرج ہوتا ہے۔ زبان کے اندر یہ کمال ہے کہ وہ ہر حرف کو زبان کے ایک حصے سے نکالتی ہے جس کا خاص اثر ہوتا ہے۔ زبان دباؤ کو اس حصے پر مرکوز کردیتی ہے۔ اسی طرح حروف کی آواز میں ایک خاص ترنم پیدا ہوتا ہے۔

یہ تمام آلات صرف ایک لفظ کی ادائیگی کا انتظام کرتے ہیں۔ اس کے بعد پھر عبارت موضوع ، افکار ، احساسات ، سابقہ اور نئے ، غرض یہ نظام ، ” نظام بیان “ بذات خود ایک معجزہ ہے۔ یہ بیان انسانی جسم کے اندر رکھ دیا گیا ہے۔ یہ رحمان کی صفت ہے اور رحمان کا فضل ہے۔

اردو ترجمہ

اور اسے بولنا سکھایا

انگریزی ٹرانسلیٹریشن

AAallamahu albayana

اردو ترجمہ

سورج اور چاند ایک حساب کے پابند ہیں

انگریزی ٹرانسلیٹریشن

Alshshamsu waalqamaru bihusbanin

اب اس کائنات کی نمائش گاہ میں دست قدرت کے بنائے ہوئے دو اور عجوبے۔

الشمس والقمر بحسبان (55:5) (سورج اور چاند ایک حساب کے پابند ہیں) شمس وقمر کی بناوٹ ان کی حرکت اور ہم آہنگی کو دیکھ کر انسان حیران اور ششدر رہ جاتا ہے۔ معلوم ہوتا ہے کہ یہ ایک عظیم نظام ہے اور منظم کی عظمت پر دال ہے اور اس نظام کے اندر گہرے حقائق پوشیدہ ہیں اور اس سے نکلنے والے نتائج دور رس ہیں۔

سورج اجرام فلکی میں سے کوئی بہت بڑا کرہ نہیں ہے۔ اس فضا نے کائنات کے اندر جس کے حدود کا تعین انسان نہیں کرسکا ، کئی ملین ستارے ہیں جن میں سے بہت سے سورج سے بڑے ہیں اور زیادہ حرارت والے ہیں۔ زیادہ تیز روشنی والے ہیں۔ بعض تو بیس گناہ بڑے اور زیادہ گرم ہیں اور جن کی روشنی سورج کی روشنی سے پچاس گنا تیز ہے۔

شعری یمانی سورج سے بیس گناہ بھاری اور اس کی روشنی سورج کی روشنی سے پچاس گنا زیادہ ہے۔ سماک رائح سورج کے حجم سے اسی گنا بڑا حجم رکھتا ہے اور اس کی روشنی آٹھ ہزار گنا زیادہ تیز ہے۔ سہیل کا حجم سورج سے دو ہزار پانچ صد مرتبہ بڑا ہے۔ اسی طرح اور ستارے اور سیارے۔

لیکن ہمارے لئے سورج ہی زیادہ اہم ہے یعنی ہم زمین کے باشندوں کے لئے کیونکہ یہ زمین اور اس کی یہ حالت اور انسان کی زندگی سورج کی حرارت کی مرہون منت ہے اور اس میں سورج کی جاذبیت کو بھی بڑا دخل ہے۔

اس طرح چاند جو اس زمین کا ایک چھوٹا سا سیارچہ ہے لیکن اسے بھی اس زمین کی زندگی میں اہمیت حاصل ہے۔ سمندروں کے اندر مددجزر اسی کی وجہ سے پیدا ہوتا ہے۔

سورج کا حجم ، اس کا درجہ حرارت ، ہم سے اس کا بعد ، اس کا اپنے مدار میں چکر لگانا ، اس طرح چاند کا حجم ، اس کی ہم سے دوری اور اپنے مدار میں گردش یہ سب امور نہایت ہی باریک حساب اور پیمانوں سے بنائے ہوئے ہیں اور زمین کی زندگی پر اثر انداز ہوتے ہیں۔ بمقابلہ دوسرے ستاروں اور سیاروں کے۔ شمس وقمر کے بعض حسابات ہم یہاں درج کرتے ہیں کہ زمین کے حوالے سے ان کے ان حسابات میں ذرا بھی فرق آئے تو دوررس نتائج نکلیں۔

سورج زمین سے 5 لاکھ 29 میل دور ہے۔ اگر یہ اس سے قریب تر ہوتا تو زمین جل جاتی اور تمام پانی بخارات میں بدل جاتا اور بخارات فضا میں بلند ہوجاتے اور اگر یہ ذرا اور دور ہوتا تو تمام چیزیں منجمد ہوجائیں۔ ہم تک سورج کی جو حرارت پہنچتی ہے ، وہ اس کی حرارت کے دو ملین حصوں میں سے ایک حصہ پہنچتی ہے اور ہماری موجودہ زندگی کے لئے یہی معمولی حرارت کافی ہے۔ اگر شعری اپنی موجودہ ضخامت اور حرارت کے ساتھ سورج کی جگہ ہوتا تو پورا کرہ ارض جل کر راکھ ہوجاتا اور پانی بخارات بن کر فضا آسمانی میں بکھر جاتا۔

اسی طرح چاند کا حجم اور ہم سے بعد ایک حساب سے رکھا گیا ہے۔ اگر یہ اس سے ذرا بھی بڑا ہوتا تو سمندر کے اندر اس قدر طوفان آتے کہ زمین بار بار ڈوبتی رہتی۔ اسی طرح اگر یہ ہم سے قریب ہوجاتا یعنی جہاں ہے تو بھی زمین پر طوفان مچا دیتا لیکن جہاں اللہ نے اسے رکھ چھوڑا ہے اس سے بال برابر ادھر ادھر نہیں ہوتا۔

سورج اور چاند کی جاذبیت زمین کے لئے ایک مقدار کے ساتھ متعین ہے اور ان کی رفتار کو بھی ایک نہایت ہی مضبوط حساب سے رکھا گیا ہے اور ہمارا یہ پورا کہکشاں اور مجموعہ شمسی بحساب بیس ہزار میل فی گھنٹہ ایک ہی سمت میں چل رہا ہے اور اس راہ میں وہ کسی دوسرے ستارے سے نہیں ٹکرایا اور اس رفتار کے کئی ملین سال ہوگئے ہیں اور فضائے کائنات ختم نہیں ہوئی۔

اس وسیع فضائے آسمانی کے اندر کوئی ستارہ اپنے مدار سے ایک بال برابر بھی ادھر ادھر نہیں ہوتا اور ان کے درمیان جو توازن اور ہم آہنگی رکھی گئی ہے ، اپنے حجم کے لحاظ سے یا حرکت کے لحاظ سے اس میں کوئی تبدیلی نہیں ہوتی۔ سچ فرمایا ذات باری نے :

الشمس والقمر بحسبان (55:5) (تارے اور درخت سب سجدہ ریز ہیں) سابقہ اشارہ یہ تھا کہ اس کائنات کی تخلیق وتشکیل میں ایک مضبوط حساب رکھا ہوا ہے اور یہ اشارہ اسی طرف ہے کہ یہ پوری کائنات اللہ کی ذات کے ساتھ مربوط ہے۔ یہ کہ یہ باری تعالیٰ کی ہدایات کے مطابق چلتی ہے اور اس کی مطیع فرمان ہے۔ مطلب یہ ہے کہ یہ کائنات پوری طرح اللہ کی مطیع فرمان ہے جس طرح بندہ اور غلام مطیع ہوتا ہے اور اس کے لئے خالق نے جو ضوابط رکھے ہیں ، ان کو تسلیم کرتی ہے۔ ستارے اور درخت اس بندگی اور اطاعت کا نمونہ ہیں۔ بعض نے ستارے کا یہ مفہوم لیا ہے کہ اس سے وہ ستارہ مراد ہے جو آسمان میں ہے جبکہ بعض نے شجر سے مراد وہ گھاس لی ہے جو نال پر کھڑی نہ ہو۔ مراد جو بھی ہو ، بہرحال آیت کا مفہوم وہی ہے کہ تمام چیزوں کی اطاعت اور بندگی کا رخ اللہ کی طرف ہے۔

غرض یہ کائنات ایک ایسی مخلوق ہے جس کی ایک روح اور اسی روح کی شکلیں اور مظاہر اور درجے مختلف ہوتے ہیں۔ کسی چیز میں کیسی روح ہے اور کسی میں کسی دوسری نوعیت کی روح در حقیقت روح کائنات ایک ہی ہے۔

قلب بشری نے روح کائنات کا ادراک بہت پہلے کرلیا تھا اور یہ کہ یہ پوری کائنات اپنی اس روح کے اعتبار سے خالق کی طرف متوجہ ہے۔ ہر شخص کو بذریعہ الہام لدنی اس حقیقت کا ادراک کرایا گیا تھا لیکن جب انسان نے اس روح کو اپنے حواص سے معلوم کرنے کیسعی کی تو اس حقیقت ، اس الہامی حقیقت کو غبار آلود کردیا گیا اور یہ انسانی نظروں سے اوجھل ہوگئی۔ جب بھی اس حقیقت کو عقل کے پائے چوبیں سے معلوم کرنے کی سعی کی گئی یہ بھاگ گئی۔

حال ہی میں انسان نے کائنات کی تخلیق میں علامات وحدت کا ایک حصہ تلاش کرلیا ہے لیکن موجودہ مادیت زدہ انسانیت روح کائنات تک نہیں پہنچ سکی جو ایک زندہ روح ہے اور اس تک روحانی انداز ہی میں پہنچنا چاہئے اور پہنچا جاسکتا ہے۔

سائنس دان اپنے کام کا آغاز اس سے کرتے ہیں کہ ذرہ تخلیق کی پہلی اکائی ہے اور وہ صرف شعاع یا نور سے مرکب ہے اور یہ کہ حرکت اصول کائنات ہے اور کائنات کے تمام اجسام اور افراد کے درمیان مابہ الاشتراک حرکت ہے۔

سوال بلکہ سوالات یہ ہیں کہ یہ کائنات حرکت کرکے جا کہاں رہی ہے۔ یہ تو کائنات کی صفت ہوئی اور خاصیت ہوئی۔ قرآن کریم یہ اطلاع دیتا ہے کہ یہ کائنات اپنے خالق کی طرف رخ کئے ہوئے ہے اور یہی حقیقی حرکت ہے۔ ظاہری حرکت دراصل روح کائنات کی حرکت کی ایک تعبیر ہے اور قرآن کریم اس روح کائنات کی حرکت کی تعبیر ایسے الفاظ میں کرتا ہے۔

اردو ترجمہ

اور تارے اور درخت سب سجدہ ریز ہیں

انگریزی ٹرانسلیٹریشن

Waalnnajmu waalshshajaru yasjudani

والنجم والشجر یسجدن (55: 6) (تارے اور درخت سجدہ ریز ہیں) بعض آیات میں اس کی تعبیریوں کی گئی ہے۔

تسبیح لہ ................ تسبیحھم (71 :44) (اس کی پاکی تو ساتوں آسمان اور زمین اور وہ ساری چیز بھی بیان کررہی ہیں جو آسمان و زمین میں ہیں۔ کوئی چیز ایسی نہیں جو اس کی حمد کے ساتھ اس کی تسبیح نہ کررہی ہو مگر تم ان کی تسبیح سمجھتے نہیں۔ ) اور دوسری جگہ ہے۔

الم تر ............ وتسبیحہ (4 2 : 1 4) (کیا تم دیکھتے نہیں ہو کہ اللہ کی تسبیح کررہے ہیں وہ سب جو آسمان اور زمین میں ہیں اور وہ پرندے جو پر پھیلائے اڑ رہے ہیں۔ ہر ایک اپنی نماز اور تسبیح کا طریقہ جانتا ہے۔ )

جب انسان اس حقیقت پر غور کرتا ہے کہ پوری کائنات سجدہ ریز ہے اور اللہ کی حمدوثنا میں رطب اللسان ہے تو انسانی قلب کو حق تعالیٰ تک پہنچنے کا بہت بڑا زاد راہ ملتا ہے۔ وہ اپنے ماحول کو زندہ سمجھتا ہے ۔ اس سے محبت کرتا ہے اور اس کے ساتھ ہمقدم ہوکر اللہ کی طرف فرار اختیار کرتا ہے۔ یہ سوچ روح کائنات سے یہ ہم نشینی انسان کو اس کائنات کا دوست بنادیتی ہے۔

یہ نہایت ہی دوررس اشارہ ہے اور بہت ہی گہرا ہے۔

اردو ترجمہ

آسمان کو اُس نے بلند کیا اور میزان قائم کر دی

انگریزی ٹرانسلیٹریشن

Waalssamaa rafaAAaha wawadaAAa almeezana

والسمائ ........................ المیزان (55: 9)

(آسمان کو اس نے بلند کیا اور میزان قائم کردی ۔ اس کا تقاضا یہ ہے کہ تم میزان میں خلل نہ ڈالو ، انصاف کے ساتھ ٹھیک ٹھیک تولو اور ترازو میں ڈنڈی نہ مارو) یہاں آسمان کی طرف اشارہ ہے ، قرآن کے دوسرے اشارات کی طرح یہ بھی غافل دلوں کو جگانے کے لئے ہے اور اس کو اس طرف متوجہ کرنا مطلوب ہے کہ آسمان کو رات اور دن تم دیکھتے ہو تم اس کی اہمیت نہ کھو دو ۔ اس پر غور کرو ، اس کی عظمت اس کے جمال اور اس کی صفت میزانیت پر غور کرو کہ اس کے مدار اور رفتار میں بال برابر فرق نہیں آتا اور اس کے ذریعہ قدرت والے کی قدرتوں کو دیکھو۔

آسمان سے مراد جو بھی ہو ، یہاں حکم دیا جاتا ہے کہ ذرا اوپر کو دیکھو ، تمہارے اوپر ایک ہولناک فضا ہے۔ بہت بلند بہت دور ، بلا حدود وقیود ، اس فضا کے اندر ہزار ہا ملین عظیم الجثہ اجرام فلکی تیر رہے ہیں۔ ان میں سے کوئی دو آپس میں نہیں ملتے۔ ان کا کوئی مجموعہ دوسر مجموعات سے متصادم نہیں ہوتا۔ ان مجموعات کی تعداد میں ایک ایک مجموعے کی تعداد بعض اوقات ایک ہزار ملین تاروں تک پہنچ جاتی ہے۔ ہمارے نظام شمسی کو جس مجموعے کی طرف منسوب کیا جاتا ہے اس میں ہمارے سورج جیسے اجرام بھی ہیں اور اس سے ہزار ہا گنا بڑے بھی ہیں۔ فقط ہمارے سورج کا قطر 21۔ املین کلومیٹر ہے اور یہ سب ستارے اور یہ سب کا مجموعے اس کائنات کے اندر نہایت ہی خوفناک تیزی کے ساتھ حرکت پذیر ہیں لیکن یہ سب اس عظیم اور محیرالعقول وسیع فضائے کائنات میں اس طرح ہیں جس طرح زمین کی فضا میں ذرات تیرر رہے ہیں جو ایک دوسرے سے دور دور چلتے ہیں اور ان کے اندر کوئی تصادم نہیں ہوتا۔ (اور اگر ہوجائے تو ؟ )

اللہ نے اس آسمان کو جس طرح بلند کیا ہے اور ہولناک حد تک وسیع کیا ہے اور اس کے لئے ایک فطری میزان تجویز کیا ہے اسی طرح تمعہارے لئے بھی ایک میزان حق تجویز کیا ہے۔ یہ ثابت ، مضبوط اور جماہوا ہے اور یہ میزان قدروں کی پیمائش اور وزن کے لئے ہے۔ افراد کی قدر ، واقعات کی قدر ، اشیاء کی قدر تاکہ ہر کسی کا وزن اور قدر متعین ہوجائے اور ان میں خلل واقع نہ ہو اور لوگ جہالت ، عناد اور خواہشات کے مطابق اچھے برے کا فیصلہ نہ کرتے پھریں۔ اس میزان کو فطرت کے اندر بھی رکھا ہوا ہے اور دعوت اسلامی کے اندر بھی رکھا ہوا ہے جسے تمام رسول لے کر آئے ہیں اور آخر میں یہ قرآن کی شکل میں آیا ہے۔

اردو ترجمہ

اِس کا تقاضا یہ ہے کہ تم میزان میں خلل نہ ڈالو

انگریزی ٹرانسلیٹریشن

Alla tatghaw fee almeezani

اللہ نے میزان قائم کردیا ہے۔ اس کا تقاضا یہ ہے کہ :

الا تطغوا فی المیزان (55: 8) ” تم میزان میں خلل نہ ڈالو ، کمی بیشی نہ کرو اور واقیموا ............ المیزان ” اور انصاف کے ساتھ ٹھیک ٹھیک تولو اور ترازو میں ڈنڈی نہ مارو “ میزان حق حقدار کو دینے اور انصاف کرنے کے لئے قائم ہوتا ہے لہٰذا نہ حد سے آگے جاؤ نہ پیچھے رہو۔

اس طرح زمین کے اندر موجود حق اور میزان اور انسانوں کی زندگی کے اندر موجود حقوق میں حق بحق دار رسید کے مطابق اسلامی نظام اور کائنات کے نظام کے درمیان توازن اور ہم آہنگی پیدا ہوگی۔ یوں آسمانوں سے نزول وحی اور آسمانوں کی رفعت اور بلندی دونوں کے درمیان اللہ کا میزان کام کرتا ہے اور یوں یہ دونوں مفہوم انسانی احساس پر سایہ فگن ہوتے ہیں۔

اردو ترجمہ

انصاف کے ساتھ ٹھیک ٹھیک تولو اور ترازو میں ڈنڈی نہ مارو

انگریزی ٹرانسلیٹریشن

Waaqeemoo alwazna bialqisti wala tukhsiroo almeezana

اردو ترجمہ

زمین کو اس نے سب مخلوقات کے لیے بنایا

انگریزی ٹرانسلیٹریشن

Waalarda wadaAAaha lilanami

والارض ............ الاکمام (55: 11) والحب ............ والریحان (55: 21) (زمین کو اس نے مخلوقات کے لئے بنایا۔ اس میں ہر طرح کے بکثرت پھل ہیں ، کھجور کے درخت ہیں جن کے پھل غلافوں میں لپٹے ہوئے ہیں۔ طرح طرح کے غلے ہیں جن میں بھوسا بھی ہوتا ہے اور دانہ بھی) اس زمین میں بس کر اور رہ رہ کر ہمیں یہ چیزیں نظر نہیں آتیں۔ اس زمین کے حالات واطوار کو دیکھ کر اور اپنے حالات واحوال کو ہر وقت دیکھ دیکھ کر ہم اس کی کوئی چیز انوکھی نہیں پاتے جو دراصل عجوبہ ہوتی ہے اور دست قدرت کی عجب کارستانی ہوتی ہے اور زمین پر جس طرح ہمیں سکون وقرار سے رکھا گیا ہے ، اس کی ٹیکنالوجی کا ہمیں پورا شعور نہیں ہوتا اور جس طرح ہمیں یہاں قرار سے رکھا گیا ہے اس کے معنی کو ہم نے سمجھا ہی نہیں ورنہ ہم اللہ کی قدرت اور عظمت کا کچھ تصور کرتے۔ ہاں کبھی کبھی جب آتش فشانی ہوتی ہے یا کوئی شدید زلزلہ آتا ہے تو ہمارے پاؤں کے نیچے سے زمین کانپتی ہے۔ تب ہمیں قدرے اضطراب ہوتا ہے اور معلوم ہوتا ہے کہ زمین کے مطیع ہونے کا مفہوم کیا ہے۔

انسانوں کا تو یہ فریضہ ہے اور ان کے لئے یہ بات شایان شان ہے کہ وہ ہر وقت اس بات کو ذرایاد رکھیں۔ یہ زمین جس کے اوپروہ چلتے دوڑتے ہیں ، اگر اس کی طرف قدرے توجہ کریں تو ان کی نظر آئے کہ یہ تو ایک ذرہ ہے جو اس ہولناک اور محیر العقول وسیع تر فضا میں تیر رہا ہے۔ یہ اس مطلق بےقید ، بےحد فضا میں ہے۔ یہ ذرہ خود اپنے گرد بھی ایک ہزار میل فی گھنٹہ کی رفتار سے چل رہا ہے اور سورج کے گرد یہ ساٹھ ہزار میل فی گھنٹہ کی رفتار سے چل رہا ہے جبکہ یہ زمین یہ سورج اور اپنے مجموعہ ستار گان جو کئی ملین میں بحساب بیس ہزار میل فی گھنٹہ کسی سمت میں جارہے ہیں جس کا ہمیں علم نہیں۔ سائنس دان کہتے ہیں کہ یہ برج جیار کی طرف جارہے ہیں۔

ہاں اگر انسان اس بات پر غور کریں کہ وہ ایک چھوٹے سے ذرے پر سوار ہیں اور یہ ذرہ اس فضا میں اس تیزی سے دوڑ رہا ہے اور یہ اس فضا میں لٹک رہا ہے اور کوئی ستون اور سہارا نہیں ہے صرف دست قدرت نے اسے یوں رکھا ہوا ہے تو وہ ہر وقت اللہ کا خوف اپنے دلوں کے اندر پائیں۔ کانپتے رہیں اور تھرتھراتے رہیں اور صرف اس ذات کی طرف متوجہ ہوں جس نے اسے ایسا رکھا ہوا ہے اور اس نہایت تیز رفتار گھوڑے پر یہ یوں چل پھر رہے ہیں۔

اللہ نے تو اس خوف کے لئے اس میں اسباب حیات مہیا کردیئے ہیں۔ یہ اس میں کھاتے پیتے ہیں جبکہ یہ انہیں لئے ہوئے اپنے گرد بھی دوڑرہی ہے اور سورج کے گرد بھی دوڑ رہی ہے اور نظام شمسی کے مجموعے کے ساتھ بھی دوڑ رہی ہے اور پھر اسی زمین کے اندر اللہ نے ہمارا رزق ، میوے اور فواکہ پیدا کر رکھے ہیں اور کھجور کے اونچے اونچے درخت جن کے پھل غلافوں میں بند ہوتے ہیں۔

کم اس تھیلے کو کہتے ہیں جن کے اندر سے کھجور کا پھل باہر آتا ہے کسی قدر خوبصورت ہوتا ہے وہ اور پھر دوسرے خوشے دار فصل اور دانے جن کے اوپر بھوسہ ہوتا ہے اور اسے ہٹا کر دانے نکال کر انسانوں کے لئے اور بھوسہ مویشیوں کے لئے ہوتا ہے۔ یہاں ریحان کا ذکر بھی کیا جاتا ہے کہ بعض نباتات خوشبودار ہوتے ہیں اور یہ زمین کے اندر مختلف قسم کے نباتات ہوتے ہیں جو خوشبودار ہوتے ہیں اور ان خوشبودار نباتات میں سے کچھ انسانوں کی خوراک ہیں اور کچھ حیوانوں کی خوراک اور بعض محض خوشبوئیں ہیں جو انسانوں کے لئے متاع حیات ہیں۔

اللہ کے ان انعامات کے ذکر کے بعد یعنی تعلیم القرآن ، تعلیم البیان ، شمس وقمر کا منظم دوران ، آسمان کی بلندیاں اور آسمانوں کا میزان اور اہل زمین کا میزان اور زمین کا لوگوں کے لئے برقرار رکھنا اور اس کے اندر کے میوہ جات ، پھل اور خوشبوئیں ظاہر و باطن کے لحاظ سے خوبصورت ، ان انعامات و احسانات کو گنوا کر جن وانس دونوں مکلف مخلوقوں کو خطاب کیا جاتا ہے۔

اردو ترجمہ

اس میں ہر طرح کے بکثرت لذیذ پھل ہیں کھجور کے درخت ہیں جن کے پھل غلافوں میں لپٹے ہوئے ہیں

انگریزی ٹرانسلیٹریشن

Feeha fakihatun waalnnakhlu thatu alakmami

اردو ترجمہ

طرح طرح کے غلے ہیں جن میں بھوسا بھی ہوتا ہے اور دانہ بھی

انگریزی ٹرانسلیٹریشن

Waalhabbu thoo alAAasfi waalrrayhani

اردو ترجمہ

پس اے جن و انس، تم اپنے رب کی کن کن نعمتوں کو جھٹلاؤ گے؟

انگریزی ٹرانسلیٹریشن

Fabiayyi alai rabbikuma tukaththibani

فبای ............ تکذبن (55: 31) (پس اے جن وانس اپنے رب کی کن کن نعمتوں کو جھٹلاؤ گے) یہ سوال شہادت قائم کرنے کے لئے ہے۔ ورنہ کوئی جن اور انسان فی الواقع اللہ کی نعمتوں کی تکذیب نہیں کرسکتا۔

جن وانس پر اللہ نے اپنے احسانات اور انعامات اس کائنات کے حوالے سے تو گنوادیئے ، اب خود اپنی ذات کے حوالے سے کچھ حقائق۔ ذرا اپنی ذات ہی پر غور کرو :

اردو ترجمہ

انسان کو اُس نے ٹھیکری جیسے سوکھے سڑے ہوئے گارے سے بنایا

انگریزی ٹرانسلیٹریشن

Khalaqa alinsana min salsalin kaalfakhkhari

خلق ............ کالفخار (55:4 1) وخلق ............ نار (55:5 1) فبای ........ تکذبن (55: 61) ” انسان کو اس نے ٹھیکری جیسے سوکھے سڑے گارے سے بنایا اور جن کو آگ کی لپٹ سے پیدا کیا۔ پس اے جن وانس ، تم اپنے رب کے کن کن عجائب قدرت کو جھٹلاؤ گے ؟ “

پیدا کرنا اور ایجاد کرنا ، اصول نعمت میں سے ہے۔ وجود اور عدم کے درمیان جو فاصلے ہیں ان کو ان پیمانوں میں سے کسی پیمانے کے ساتھ نہیں ناپا جاسکتا جو انسان کے ادراک میں ہیں۔ اس لئے کہ انسانوں کی دسترس میں جو پیمانے ہیں یا جن کا ادراک ان کی عقلوں نے کرلیا ہے وہ ایسے پیمانے ہیں جو ایک موجود اور دوسرے موجود کے درمیان فرق کرنے کے پیمانے ہیں۔ رہی یہ بات کے موجود اور غیر موجود کے درمیان کیا فرق ہے اور کس قدر فاصلے ہیں۔ ان کو انسان نہیں جان سکتا۔ یہی حال جنوں کا بھی ہے۔ ان کے پیمانے بھی مخلوقات کے پیمانے ہیں۔

جب اللہ انسانوں اور جنوں کو یاد دلاتا ہے کہ میں تمہیں عدم سے وجود میں لایا ہوں تو یہ ایک ایسی نعمت ہے جو حد ادراک سے ماورا ہے۔ اس کے بعد بتایا جاتا ہے کہ انسان کی تخلیق کسی مواد سے ہوئی اور جنوں کی تخلیق کسی مواد سے ہوئی۔ انسان کو اللہ نے۔

صلصال (55:4 1) سے بنایا ، صلصال (55:4 1) اس مٹی کو کہتے ہیں جو سوکھ جائے اور جب اس پر ضرب لگائی جائے تو اس سے آواز صلصلہ نکلے۔ ہوسکتا ہے کہ جس وقت انسان کو مٹی سے پیدا کیا گیا اس کی پیدائش کے مراحل میں سے یہ ایک مرحلہ ہو اور یہ بھی ممکن ہے کہ اس سے مراد یہ ہو کہ انسان کے مادہ تخلیق اور مٹی کے مادہ میں کوئی فرق نہیں ہے۔

” جدید سائنس نے تو یہ بات ثابت کردی ہے کہ جسم انسانی کے اندر وہی مواد ہے جو مٹی کے اندر ہے۔ انسان کاربن ، آکسیجن ، ہائیڈروجن ، فاسفورس ، گندھک ، کیلشیم ، پوٹاشیم ، سوڈیم کلورائیڈ ، میکگنیشیم ، آئرن ، مینگنیز ، تانبے ، لیڈ ، فلورین ، کو بالٹ ، زنک ، سلیکان اور ایلومینم سے مرکب ہے اور یہی وہ عناصر ہیں جن سے زمین بنی ہوئی ہے۔ اگرچہ ایک انسان اور انسان کے اندر ان کی نسبت مختلف ہوتی ہے اور انسان اور مٹی کے اندر بھی نسبت کا اختلاف ہے۔ البتہ عناصرو اصناف ایک ہی ہیں۔ “ (” اللہ اور سائنس “ صفحہ 081)

لیکن سائنس نے جو بات کی ہے یہ لازمی نہیں ہے کہ آیت کی تفسیر بھی وہی ہو۔ ہوسکتا ہے کہ قرآن کی مراد یہی ہو جو سانس نے ثابت کیا ہے یا وہ ہو جو سائنس دانوں کو بھی معلوم نہ ہو اور کچھ اور ہو۔ یا اس سے دوسرے معنوں میں انسان کو خالی مخلوق کہا گیا ہو اور طین اور صلحال کے کچھ اور ہی معانی مراد ہوں۔

ہم نے جس چیز کا بڑی شدت سے انتباہ کیا ہے وہ یہ ہے کہ کسی آیت کو ان مفہومات تک محدود نہیں کرنا چاہئے جو جدید سائنس نے دریافت کئے ہیں کیونکہ انسانی انکشافات صحیح بھی ہوسکتے ہیں اور غلط بھی ہوسکتے ہیں اور تغیر اور تبدل قبول کرتے ہیں۔ جوں جوں انسان کے وسائل علم بڑھتے ہیں انسانی نظریات میں تغیر وتبدل ہوتا رہتا ہے۔ بعض مخلص لوگ قرآنی آیات کو بہت جلد سائنسی مفہومات کے مطابق بنانے کی سعی کرتے ہیں ، خواہ یہ مفاہیم تجرباتی ہوں یا فرضی ہوں اور ان کی نیت یہ ہوتی ہے کہ قرآن کا اعجاز ثابت کیا جائے۔ اس لئے کہ قرآن سائنس کے خلاف ہو یا موافق ہو وہ اپنی جگہ معجزہ ہے۔ قرآن کے نصوص کا مفہوم بہت ہی وسیع ہے اور اس کو کسی ایک وقت کے انکشافات تک محدود نہیں کیا جاسکتا کیونکہ یہ انکشافات ہر وقت اپنے اندر غلطی کا احتمال رکھتے ہیں بلکہ بعض اوقات سرے سے نظریات باطل ہوجاتے ہیں۔ جدید سائنسی معلومات سے ہم صرف اس قدر استفادہ کرسکتے ہیں کہ ہم ان کے ذریعہ آیات کے مفہوم ومدلول کو اپنے تصور میں وسیع کردیتے ہیں بشرطیکہ وہ ان مفہومات کی طرف اشارہ کررہی ہوں جن کی طرف قرآن اشارہ کرتا ہے لیکن کبھی ہم یہ دعویٰ نہیں کرتے کہ قرآن کا مفہوم وہی ہے جس تک ہمارے انکشافات پہنچ گئے ہیں۔ جواز اس قدر ضرور ہے کہ ہم کہیں کہ یہی وہ چیز ہے جس کی طرف قرآن نے بھی اشارہ کیا ہے۔

رہی یہ بات کہ جنوں کو آگ کی لپٹ سے تخلیق کیا گیا ہے تو یہ مسئلہ انسانوں کے حدود علم سے باہر ہے۔ جنوں کے صرف وجود کی اطلاع قرآن نے دی ہے اور یہ بھی کہا ہے کہ وہ آگ سے پیدا کئے گئے ہیں ۔ مارج کے معنی آگ کے شعلوں کی وہ لپٹ ہے جو زبان کی طرح ہوتی ہے اور یہ ہوا سے بنتی ہے اور جن اسی زمین پر انسانوں کے ساتھ رہتے ہیں جن اور ان کی نسل کس طرح رہتی ہے اس کا ہمیں علم نہیں۔ یقینی بات یہی ہے کہ ان پر لازم ہے کہ وہ قرآن اور شریعت پر عمل کریں جیسا کہ اس سے قبل ہم نے۔

واذا ............ القران (اور اس وقت کو یاد کرو جب ہم نے تیری طرف جنوں کے کچھ افراد کو پھیر دیا اور وہ قرآن سننے لگے) کی تفسیر میں کہا ہے اور جنوں اور انسانوں دونوں کو اس آیت میں خطاب کیا گیا ہے کہ اللہ کی کن کن انعامات کی تم تکذیب کروگے۔ دونوں کی اللہ نے تخلیق کی اور تخلیق کرنا اور وجود بخشنا وہ نعمت ہے جس پر تمام نعمتوں کا دارومدار ہے۔ چناچہ اس پورے پیراگراف پر یہ شہادت قائم کی جاتی ہے۔

اردو ترجمہ

اور جن کو آگ کی لپٹ سے پیدا کیا

انگریزی ٹرانسلیٹریشن

Wakhalaqa aljanna min marijin min narin

اردو ترجمہ

پس اے جن و انس، تم اپنے رب کے کن کن عجائب قدرت کو جھٹلاؤ گے؟

انگریزی ٹرانسلیٹریشن

Fabiayyi alai rabbikuma tukaththibani

فبای ........ لکذبن (55: 61) (پس اے جن وانس تم اپنے رب کی کن کن نعمتوں کی تکذیب کرو گے) ان شہادتوں کے قلم بند ہوجانے کے بعد اب تکذیب کا کونسا مقام ہے !

531