سورہ روم (30): آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں۔ - اردو ترجمہ

اس صفحہ میں سورہ Ar-Room کی تمام آیات کے علاوہ فی ظلال القرآن (سید ابراہیم قطب) کی تمام آیات کی تفسیر بھی شامل ہے۔ پہلے حصے میں آپ سورہ الروم کو صفحات میں ترتیب سے پڑھ سکتے ہیں جیسا کہ یہ قرآن میں موجود ہے۔ کسی آیت کی تفسیر پڑھنے کے لیے اس کے نمبر پر کلک کریں۔

سورہ روم کے بارے میں معلومات

Surah Ar-Room
سُورَةُ الرُّومِ
صفحہ 405 (آیات 6 سے 15 تک)

وَعْدَ ٱللَّهِ ۖ لَا يُخْلِفُ ٱللَّهُ وَعْدَهُۥ وَلَٰكِنَّ أَكْثَرَ ٱلنَّاسِ لَا يَعْلَمُونَ يَعْلَمُونَ ظَٰهِرًا مِّنَ ٱلْحَيَوٰةِ ٱلدُّنْيَا وَهُمْ عَنِ ٱلْءَاخِرَةِ هُمْ غَٰفِلُونَ أَوَلَمْ يَتَفَكَّرُوا۟ فِىٓ أَنفُسِهِم ۗ مَّا خَلَقَ ٱللَّهُ ٱلسَّمَٰوَٰتِ وَٱلْأَرْضَ وَمَا بَيْنَهُمَآ إِلَّا بِٱلْحَقِّ وَأَجَلٍ مُّسَمًّى ۗ وَإِنَّ كَثِيرًا مِّنَ ٱلنَّاسِ بِلِقَآئِ رَبِّهِمْ لَكَٰفِرُونَ أَوَلَمْ يَسِيرُوا۟ فِى ٱلْأَرْضِ فَيَنظُرُوا۟ كَيْفَ كَانَ عَٰقِبَةُ ٱلَّذِينَ مِن قَبْلِهِمْ ۚ كَانُوٓا۟ أَشَدَّ مِنْهُمْ قُوَّةً وَأَثَارُوا۟ ٱلْأَرْضَ وَعَمَرُوهَآ أَكْثَرَ مِمَّا عَمَرُوهَا وَجَآءَتْهُمْ رُسُلُهُم بِٱلْبَيِّنَٰتِ ۖ فَمَا كَانَ ٱللَّهُ لِيَظْلِمَهُمْ وَلَٰكِن كَانُوٓا۟ أَنفُسَهُمْ يَظْلِمُونَ ثُمَّ كَانَ عَٰقِبَةَ ٱلَّذِينَ أَسَٰٓـُٔوا۟ ٱلسُّوٓأَىٰٓ أَن كَذَّبُوا۟ بِـَٔايَٰتِ ٱللَّهِ وَكَانُوا۟ بِهَا يَسْتَهْزِءُونَ ٱللَّهُ يَبْدَؤُا۟ ٱلْخَلْقَ ثُمَّ يُعِيدُهُۥ ثُمَّ إِلَيْهِ تُرْجَعُونَ وَيَوْمَ تَقُومُ ٱلسَّاعَةُ يُبْلِسُ ٱلْمُجْرِمُونَ وَلَمْ يَكُن لَّهُم مِّن شُرَكَآئِهِمْ شُفَعَٰٓؤُا۟ وَكَانُوا۟ بِشُرَكَآئِهِمْ كَٰفِرِينَ وَيَوْمَ تَقُومُ ٱلسَّاعَةُ يَوْمَئِذٍ يَتَفَرَّقُونَ فَأَمَّا ٱلَّذِينَ ءَامَنُوا۟ وَعَمِلُوا۟ ٱلصَّٰلِحَٰتِ فَهُمْ فِى رَوْضَةٍ يُحْبَرُونَ
405

سورہ روم کو سنیں (عربی اور اردو ترجمہ)

سورہ روم کی تفسیر (فی ظلال القرآن: سید ابراہیم قطب)

اردو ترجمہ

یہ وعدہ اللہ نے کیا ہے، اللہ کبھی اپنے وعدے کی خلاف ورزی نہیں کرتا، مگر اکثر لوگ نہیں جانتے ہیں

انگریزی ٹرانسلیٹریشن

WaAAda Allahi la yukhlifu Allahu waAAdahu walakinna akthara alnnasi la yaAAlamoona

اردو ترجمہ

لوگ دُنیا کی زندگی کا بس ظاہری پہلو جانتے ہیں اور آخرت سے وہ خود ہی غافل ہیں

انگریزی ٹرانسلیٹریشن

YaAAlamoona thahiran mina alhayati alddunya wahum AAani alakhirati hum ghafiloona

اردو ترجمہ

کیا انہوں نے کبھی اپنے آپ میں غور و فکر نہیں کیا؟ اللہ نے زمین اور آسمانوں کو اور اُن ساری چیزوں کو جو اُن کے درمیان ہیں برحق اور ایک مقرّر مدت ہی کے لیے پیدا کیا ہے مگر بہت سے لوگ اپنے رب کی ملاقات کے منکر ہیں

انگریزی ٹرانسلیٹریشن

Awalam yatafakkaroo fee anfusihim ma khalaqa Allahu alssamawati waalarda wama baynahuma illa bialhaqqi waajalin musamman wainna katheeran mina alnnasi biliqai rabbihim lakafiroona

اولم یتفکروا ۔۔۔۔۔ ربھم لکفرون (8) ” “۔ کیا یہ لوگ سوچتے نہیں کہ خود ان کی ساخت اور ان کی تخلیق اور ان کے اردگرد موجود یہ وسیع کائنات اس بات پر گواہ ہیں کہ یہ وجود ایک سچائی پر قائم ہے۔ ایک ایسے اٹل ناموس فطرت کے مطابق رواں دواں ہے جس کے اندر کوئی اضطراب نہیں ہے۔ یہ نہیں ہوتا ہے کہ یہ کائنات کبھی ادھر ڈھلک گئی اور کبھی ادھر۔ نہ اس کی گردش میں فرق آتا ہے ، نہ اجرام فلکی میں تصادم ہوتا ہے اور نہ اس کی حرکت کوئی غیر مرتب اندھی حرکت ہے۔ نہ یہ حرکت بدلتی ہوئی خواہشات کے مطابق بدلتی ہے۔ بلکہ یہ حرکت نہایت ہی گہری ، دقیق اور حکیمانہ نظام کے مطابق چل رہی ہے۔ یہ سچائی جس کے مطابق انسانی زندگی اور یہ وسیع کائنات چل رہی ہے اس کا تقاضا یہ ہے کہ اس جہان کا کوئی انجام ہو ، جہاں جزاء و سزا پوری ہو سکے۔ جہاں خیر اور شر دونوں کو ان کا بدلہ مل سکے۔ یہ سچائی نظر آتی ہے کہ یہاں ہر چیز ایک مقررہ انجام تک پہنچتی ہے یہ حکمت مدبرہ کے مطابق ہے اور اس کائنات کا ہر واقعہ اپنے وقت پر ظہور پذیر ہوتا ہے۔ اس میں کوئی تقدیم پایا خیر نہیں ہوتی۔ اگر انسان یہ اندازہ نہیں لگا سکا کہ آخرت کب وقوع پذیر ہوگی تو اس کے معنی یہ نہیں کہ آخرت نہیں آئے گی۔ آخرت کا عدم علم یا اس کی تاخیر سے صرف وہ لوگ غلط نتائج اخذ کرتے ہیں جو معاملات کا صرف ظاہری پہلو دیکھ سکتے ہیں اس طرح ان کو دھوکہ لگ جاتا ہے اس وجہ سے

ان کثیر من الناس ۔۔۔۔ لکفرون (30: 8) ” بیشک بہت سے لوگ اپنے رب کی ملاقات کے منکر ہیں “۔

ضمیر کائنات اور زمین و آسمان کے درمیان پائے جانے والی مخلوقات کی سیر جو نہایت ہی وسیع سیر ہے جس کے آفاق بہت ہی طویل و عریض ہیں اور ناقابل تصور وسعتیں رکھتے ہیں اور ان آفاق کے اندر متنوع مخلوق ہے۔ جو زندہ اور غیر زندہ ، قسم قسم کی اشیاء پر مشتمل ہے جس میں اجرام سماوی ، افلاک ، نجوم و کواکب ، بڑے اور چھوٹے تارے اور سیارے ، ظاہر اور چھپے ہوئے ، قریب و بعید اور معلوم و نامعلوم ہیں۔ اس وسیع سیر کے بعد اب قرآن کریم ہمیں خود اپنی تاریخ کی سیر کی دعوت دیتا ہے کہ آغاز انسانیت کے بعد ذرا خود انسانی تاریخ کا بھی مطالعہ کرو ، خود اس تاریخ میں بھی یہ عظیم سچائی سنت جاریہ کی صورت میں اپنا کام کرتی ہے اور انسانی تاریخ کے واقعات بھی ایسے ہی اٹل اسباب کی وجہ سے ظاہر ہوتے ہیں جس طرح اس کائنات کے حوادث۔

اردو ترجمہ

اور کیا یہ لوگ کبھی زمین میں چلے پھرے نہیں ہیں کہ اِنہیں اُن لوگوں کا انجام نظر آتا جو اِن سے پہلے گزر چکے ہیں؟ وہ اِن سے زیادہ طاقت رکھتے تھے، اُنہوں نے زمین کو خوب ادھیڑا تھا اور اُسے اتنا آباد کیا تھا جتنا اِنہوں نے نہیں کیا ہے اُن کے پاس ان کے رسول روشن نشانیاں لے کر آئے پھر اللہ ان پر ظلم کرنے والا نہ تھا، مگر وہ خود ہی اپنے اوپر ظلم کر رہے تھے

انگریزی ٹرانسلیٹریشن

Awalam yaseeroo fee alardi fayanthuroo kayfa kana AAaqibatu allatheena min qablihim kanoo ashadda minhum quwwatan waatharoo alarda waAAamarooha akthara mimma AAamarooha wajaathum rusuluhum bialbayyinati fama kana Allahu liyathlimahum walakin kanoo anfusahum yathlimoona

اولم یسیروا ۔۔۔۔۔ وکانوا بھا یستھزءون (9- 10)

ان آیات میں ہمیں دعوت دی جاتی ہے کہ گزرنے والوں کا جو انجام ہوا ، ذرا اس پر بھی غور کرو ، یہ بھی تو تمہاری ہی کی طرح کے انسان تھے۔ اسی طرح اللہ کی مخلوق تھے جس طرح تم ہو۔ ان کا انجام تمہارے لیے ایک نمونہ ہے۔ کیونکہ اللہ کی سنت تمام انسانوں کیلئے یکساں ہے۔ اللہ کی سنت انسانی تاریخ کے بارے میں بھی اسی طرح اٹل ہے جس طرح اس کائنات کے بارے میں اٹل ہے۔ اللہ کا انسانوں کی کسی نسل کے ساتھ کوئی مخصوص تعلق نہیں ہے کہ ان کے ساتھ کوئی ممتاز سلوک کرے۔ نہ اللہ کی کچھ خواہشات ہیں جو زمان و مکان کے ساتھ بدلتی رہتی ہیں۔ معاذ اللہ رب العالمین

یہ اس بات کی دعوت ہے کہ اس زندگی کی حقیقت کو اچھی طرح سمجھا جائے اور اس پر غور کیا جائے کہ انسانی زندگی کے اس جہاں میں جو روابط تعلقات ہیں ان کی حقیقت کیا ہے اور گذشتہ تاریخ میں اس انسانیت کی تخلیق اور اس کا انجام کیا رہا ہے تاکہ انسانوں کا کوئی گروہ اور نسل صرف اپنی زندگی ، اپنے تصورات اور اپنی اقدار تک محدود نہ ہوجائے۔ تمام نسلوں کے درمیان جو مضبوط رشتہ ہے اس سے غافل نہ ہوجائے اور اس سنت کو بھی نہ بھول جائے جو تمام نسلوں پر حکمران ہے۔ اور ان قدروں کو بھی نہ بھول جائے جو ہر زمان و مکان میں ایک ہوتی ہیں۔

تاریخ ماضی میں جو اقوام ہو گزری ہیں اور جو اہل مکہ سے پہلے ہوگزری ہیں۔ وہ اہل مکہ سے۔

کانوا اشد منھم قوۃ (30: 9) ” وہ ان سے زیادہ طاقت رکھتے تھے “۔

واثاروا الارض (30: 9) ” انہوں نے زمین کو خوب ادھیڑا تھا “۔ انہوں نے اس میں کھیتی باڑی کا کام بھی کیا اور اس کے باطن کو پھاڑا اور اس کے ذخائر کو نکالا۔

وعمرواھا اکثر مما عمروھا (30: 9) ” اور انہوں نے اسے اتنا آباد کیا تھا جتنا انہوں نے نہیں کیا “۔ وہ لوگ عربوں سے زیادہ متمدن اور ترقی یافتہ تھے اور عربوں سے زیادہ زمین کے اندر تعمیرات کرنے والے تھے۔ یہ لوگ اس دنیا کی ظاہری ترقی اور خوبصورتی پر ہی اکتفاء کر گئے اور آخرت کی طرف نگاہ نہ ڈالی۔

وجاءتھم رسلھم بالبینت (30: 9) ” ان کے پاس ان کے رسول روشن نشانیاں لے کر آئے “۔ لیکن ان روشن

نشانیوں کو دیکھ کر بھی ان کی آنکھیں نہ کھلیں اور یہ لوگ اس نور پر ایمان نہ لائے جو ان کو صحیح راستہ دکھا رہا تھا۔ چناچہ ان پر اللہ کی اس سنت کا اطلاق ہوگیا جو ہمیشہ مکذبین پر نافذ ہوتی ہے ۔ عذاب الٰہی کے مقابلے میں ان کی قوت ان کے کچھ کام نہ آئی۔ ان کا علم اور ان کی ترقی ان کے کچھ کام نہ آئی۔ اور ان کو ان کی وہ سزا و جزاء ملی جس کے وہ مستحق تھے۔

فما کا اللہ ۔۔۔۔ یظلمون (30: 9) ” پھر اللہ ان پر ظلم کرنے والا نہ تھا مگر وہ خود ہی اپنے اپور ظلم کر رہے تھے “۔

ثم کان ۔۔۔۔ السواء (30: 10) ” آخر کار جن لوگوں نے برائیاں کی تھیں ان کا انجام بہت ہی برا ہوا “۔ یعنی وہ لوگ جو برائیوں کا ارتکاب کرتے تھے ، ان برائیوں کے مطابق پوری پوری سزا اور جزاء ان کو دے دی گئی اور ان کی برائی کیا تھی ؟ یہ کہ ، ان کذبوا بایت اللہ وکانوا بھا یستھزءون (30: 10) ” اس لیے کہ انہوں نے اللہ کی آیات کو جھٹلایا تھا اور ان کا مذاق اڑاتے تھے “۔

قرآن کریم تکذیب کرنے والوں اور مزاح اڑانے والوں کو یہ دعوت دیتا ہے کہ وہ ذرا خدا کی اسی زمین پر چلیں پھریں اور گھونگھے کی طرح اپنے خول ہی میں بند نہ رہیں۔ انسانی تاریخ کو بھی ذرا پڑھیں کہ آپ جیسے مکذبین اور مزاح کرنے والوں کا انجام کیا ہوتا رہا ہے۔ کہیں ایس انہ ہو کہ تمہارا انجام بھی ان جیسا ہو۔ اللہ کی سنت اٹل ہے اور وہ کسی کے ساتھ رعایت نہیں کرتی۔ وہ ذرا اپنی سوچ اور فکر کو وسعت دیں۔ پوری انسانیت کو ایک وحدت سمجھیں انبیاء کی دعوت کو ایک سمجھیں۔ اور یہ یقین کرلیں کہ اللہ کے قوانین قدرت کے مطابق تمام لوگوں کا انجام ایک ہی جیسا ہوتا ہے۔ یہ ہے وہ تصور جس میں اسلام تمام مومنین کے فکر و نظر کو رنگنا چاہتا ہے اور اس پر بار بار زور دیتا ہے۔

اس پوری کائنات کی گہرائیوں کے مطابق اور انسانی تاریخ کے گہرے مطالعے کے بعد اب قرآن کریم انسان کو اس میدان میں لے جاتا ہے جس سے انسان ہمیشہ غافل رہتا ہے۔ یعنی بعث بعد الموت کے میدان میں۔ یہ اس عظیم سچائی کا ایک اہم عنصر ہے جس کے اوپر یہ پوری کائنات قائم ہے۔

اردو ترجمہ

آ خرکار جن لوگوں نے بُرائیاں کی تھیں ان کا انجام بہت برا ہوا، اس لیے کہ انہوں نے اللہ کی آیات کو جھٹلایا تھا اور وہ ان کا مذاق اڑاتے تھے

انگریزی ٹرانسلیٹریشن

Thumma kana AAaqibata allatheena asaoo alssooa an kaththaboo biayati Allahi wakanoo biha yastahzioona

اردو ترجمہ

اللہ ہی خلق کی ابتدا کرتا ہے، پھر وہی اس کا اعادہ کرے گا، پھر اسی کی طرف تم پلٹائے جاؤ گے

انگریزی ٹرانسلیٹریشن

Allahu yabdao alkhalqa thumma yuAAeeduhu thumma ilayhi turjaAAoona

اللہ یبدوا الخلق ۔۔۔۔ ترجعون (11)

یہ بہت ہی واضح اور سادہ حقیقت ہے اور اس کے دونوں اجزاء اور دونوں کڑیوں کے درمیان ربط مکمل واضح ہے کیونکہ کسی چیز کا پہلی بار بنانا اور اس کا دوبارہ بناناقابل فہم بات ہے ۔ اس میں اچنبھے کی کوئی بات نہیں ہے۔ تخلیق میں یہی دو حلقے ہوتے ہیں ، ان کے درمیان یہی تعلق ہوتا ہے اور انسان کی تخلیق کے بعد اس کے خالق کے سامنے دوبارہ پیش ہونا ایک لازمی اور معقول امر ہے۔ وہی پہلی بار تخلیق کرنے والا ہے اور وہی دوسری بار تخلیق کرنے والا ہے۔ اور یہ اس لیے کہ اچھا اور برا کام کرنے والوں کو وہ پوری پوری جزاء اور سزا دے۔

بعث بعد الموت پر یہ دلیل دینے کے بعد اب یہاں بعث بعد الموت کا ایک منظر پیش کیا جاتا ہے۔ اس میں اہل ایمان اور

اہل کفر کے انجام کی ایک جھلک دکھائی جاتی ہے ، جسکے اندر شریکوں اور عقیدہ شرک کے بودے پن کو اچھی طرح ظاہر کیا گیا ہے۔

اردو ترجمہ

اور جب وہ ساعت برپا ہو گی اس دن مجرم ہَک دَک رہ جائیں گے

انگریزی ٹرانسلیٹریشن

Wayawma taqoomu alssaAAatu yublisu almujrimoona

ویوم تقوم الساعۃ۔۔۔۔۔۔ فی العذاب محضرون (12 – 16)

یہ ہے وہ گھڑی جس سے لوگ غافل ہیں اور جھٹلانے والے جھٹلاتے ہیں۔ یہ دیکھو وہ آگئی اور ذرا دیکھو اس کا منظر ، یہ ہے برپا ہوگئی وہ۔ ذرا مجرمین کو دیکھو کس طرح حیران و پریشان ہیں۔ کس قدر مایوس ہیں ، ان کو نجات کی کوئی امید نہیں ہے اور نہ ان کو رہائی کی کوئی امید ہے۔ وہ شرکاء اور سفارشی جو انہوں نے دنیا کی زندگی میں بنا رکھے تھے اور جن سے وہ دھوکہ کھا کر گمراہ ہوگئے تھے ، ان کی جانب سے اب نہ اقتدار میں کوئی شرکت ہوگی اور نہ وہ سفارش کرسکیں گے ، بلکہ وہ تو ان لوگوں کی طرف سے شرک کرنے اور ان کی بندگی کرنے سے صاف صاف انکار کردیں گے کہ ہمیں تو معلوم ہی نہیں ہے کہ ان احمقوں نے ہمیں اللہ رب العالمین کے ساتھ شریک کیا ہے۔ چناچہ اہل ایمان اور اہل کفر کے درمیان یوں تفریق کردی جاتی ہے اور دونوں کے راستے جدا ہوجاتے ہیں۔

فاما الذین ۔۔۔۔۔ روضۃ یحبرون (30: 15) ” جو لوگ ایمان لائے اور جنہوں نے نیک عمل کئے وہ ایک باغ میں شاداں وفرحاں رکھے جائیں گے “۔ وہاں ان کو وہی صورت حال درپیش ہوگی جس سے وہ خوش ہوں گے۔ ان کے ضمیر میں فرحت پیدا ہوگی اور ان کے دل کو مسرت حاصل ہوگی۔

واما الذین کفروا ۔۔۔۔۔ فی العذاب محضرون (30: 16) ” اور جنہوں نے کفر کیا اور ہماری آیات کی تکذیب کی اور آخرت کی ملاقات کو جھٹلایا وہ عذاب میں حاضر رہیں گے “۔ یہ ہے آخری انجام نیکوکاروں اور بدکاروں کا۔

اب عالم آخرت کی سیر اور منظر سے ہم پھر واپس اس دنیا میں آجاتے ہیں۔ اس کائنات اور اس کے اندر زندگی اور اس کے اسرار و رموز اور عجائبات و کرامات کی سیر شروع ہوتی ہے۔ فی الواقعہ یہ کائنات ایک دلچسپ تفریح گاہ ہے۔ آغاز سفر صبح و شام اللہ کی حمد سے ہوتا ہے کہ صبح و شام کے مناظر کو ذرا دیکھو کس قدر دلفریب مناظر ہوتے ہیں۔

فسبحن اللہ حین ۔۔۔۔۔ وھو العزیز الحکیم (17 – 27)

” پس تسبیح کرو اللہ کی جب کہ تم شام کرتے ہو اور جب صبح کرتے ہو۔ آسمانوں اور زمین میں اسی کے لئے حمد ہے اور (تسبیح کرو اس کی) تیسرے سپہر اور جبکہ تم پر ظہر کا وقت آتا ہے۔ وہ زندہ کو مردے میں سے نکالتا ہے اور مردے کو زندہ میں سے نکال لاتا ہے اور زمین کو اس کی موت کے بعد زندگی بخشتا ہے۔ اسی طرح تم لوگ بھی (حالت موت سے) نکال لیے جاؤ گے۔

اس کی نشانیوں میں سے یہ ہے کہ اس نے تم کو مٹی سے پیدا کیا پھر یکایک تم بشر ہو کہ (زمین میں) پھیلتے چلے جا رہے ہو۔

اور اس کی نشانیوں میں سے یہ ہے کہ اس نے تمہارے لیے تمہاری ہی جنس سے بیویاں بنائیں تاکہ تم ان کے پاس سکون حاصل کرو اور تمہارے درمیان حجت اور رحمت پیدا کردی۔ یقیناً اس میں بہت سی نشانیاں ہیں ان لوگوں کیلئے جو غوروفکر کرتے ہیں۔ اور اس کی نشانیوں میں سے آسمان اور زمین کی پیدائش ، اور تمہاری زبانوں اور تمہارے رنگوں کا اختلاف ہے ، یقیناً اس میں بہت سی نشانیاں ہیں دانش مند لوگوں کیلئے۔ اور اس کی نشانیوں میں سے تمہارا رات اور دن کو سونا اور تمہارا اس کے فضل کو تلاش کرنا ہے۔ یقیناً اس میں بہت سی نشانیاں ہیں ان لوگوں کے لیے جو (غور سے) سنتے ہیں۔

اور اس کی نشانیوں میں سے یہ ہے کہ وہ تمہیں بجلی کی چمک دکھاتا ہے خوف کے ساتھ بھی اور طمع کے ساتھ بھی۔ اور آسمان سے پانی برساتا ہے ، پھر اس کے ذریعہ سے زمین کو اس کی اس کی موت کے بعد زندگی بخشتا ہے ، یقیناً اس میں بہت سی نشانیاں ہیں ان لوگوں کے لیے جو عقل سے کام لیتے ہیں۔

اور اس کی نشانیوں میں سے یہ ہے کہ آسمان اور زمین اس کے حکم سے قائم ہیں۔ پھر جوں ہی کہ اس نے تمہیں زمین سے پکارا ، بس ایک ہی پکار میں اچانک تم نکل آؤ گے۔ آسمانوں اور زمین میں جو بھی ہیں ، اس کے بندے ہیں۔ سب کے سب اسی کے تابع فرمان ہیں۔ وہی اللہ ہے جو تخلیق کی ابتداء کرتا ہے۔ پھر وہی اس کا اعادہ کرے گا اور یہ اس کے لیے آسان تر ہے۔ آسمانوں اور زمین میں اس کی صفت سب سے برتر ہے اور وہ زبردست اور حکیم ہے “۔

یہ اس کائنات کا نہایت ہی گہرا اور عظیم مطالعاتی سفر ہے۔ اس کائنات کی دوریوں اور گہرائیوں تک۔ انسانی توائے مشاہدہ کو صبح و شام کے مناظر کی سیر کرائی جاتی ہے۔ زمین کے مناظر اور آسمانوں کے مناظر ، صبح و شام کے علاوہ پھر دوپہر کی دنیا۔ ان آفاق و مناظر میں حیات و ممات اور بہاروخزاں کی کا رستانیاں دکھائی جاتی ہیں ، ان خوشگوار فضاؤں میں انسان کو بتایا جاتا ہے کہ وہ ذرا اپنی تخلیق پر غور کرے ، اپنی فطرت کے رجحانات اور میلانات کا مشاہدہ کرے۔ اپنی جسمانی اور روحانی قوتوں اور ان کی کشاکش کو ذرا دیکھے۔ اس دنیا میں ہر چیز جوڑے جوڑے ہیں۔ ان جوڑوں کی باہمی محبت کو دیکھے ، اور زوجین کے رجحانات و میلانات اور ان کے قوائے فطرت کو ڈرا دیکھے اور اس کائنات کے زمین و آسمان ، باغ و راغ اور رنگ ڈھنگ اور پھر انسانوں کی شکلیں ، ان کے رنگ اور ان کی ہزار ہا زبانیں اور پھر انسان کی بیداری ، اس کی ہشیاری اور اس کی نیند اور اس کی جدوجہد اور اس کا آرام ، پھر اس طبیقی کائنات میں طوفان باد باران اور برق و بادل اور پھر لوگوں کا ان کو چاہنا اور ان سے ڈرنا ، اور پھر زمین کی مردنی اور روئیدگی اور پھر زندگی اور بہار اور پھر بحیثیت مجموعی اس کائنات کا قیام اور گردش اور نظام و انتظام ، یہ سب کام اللہ کے سوا اور کون کرسکتا ہے۔ یہ اللہ ہی تو ہے جس کی یہ تجلیات ہیں۔ اس کے لئے یہ سب کام بہت ہی آسان ہیں۔ وہی ہے جس نے ان اشیاء کو پیدا کیا ہے اور وہی ہے جو ان کو دوبارہ پیدا کرے گا اور دوبارہ پیدا کرنا اس کے لئے بہت ہی آسان ہے۔ آسمانوں اور زمین میں ذات باری کے اعلیٰ مشاہد موجود ہیں جو بےمثال ہیں۔

اردو ترجمہ

ان کے ٹھیرائے ہوئے شریکوں میں کوئی ان کا سفارشی نہ ہو گا اور وہ اپنے شریکوں کے منکر ہو جائیں گے

انگریزی ٹرانسلیٹریشن

Walam yakun lahum min shurakaihim shufaAAao wakanoo bishurakaihim kafireena

اردو ترجمہ

جس روز وہ ساعت برپا ہو گی، اس دن (سب انسان) الگ گروہوں میں بٹ جائیں گے

انگریزی ٹرانسلیٹریشن

Wayawma taqoomu alssaAAatu yawmaithin yatafarraqoona

اردو ترجمہ

جو لوگ ایمان لائے ہیں اور جنہوں نے نیک عمل کیے ہیں وہ ایک باغ میں شاداں و فرحاں رکھے جائیں گے

انگریزی ٹرانسلیٹریشن

Faamma allatheena amanoo waAAamiloo alssalihati fahum fee rawdatin yuhbaroona
405