سورہ سجدہ: آیت 9 - ثم سواه ونفخ فيه من... - اردو

آیت 9 کی تفسیر, سورہ سجدہ

ثُمَّ سَوَّىٰهُ وَنَفَخَ فِيهِ مِن رُّوحِهِۦ ۖ وَجَعَلَ لَكُمُ ٱلسَّمْعَ وَٱلْأَبْصَٰرَ وَٱلْأَفْـِٔدَةَ ۚ قَلِيلًا مَّا تَشْكُرُونَ

اردو ترجمہ

پھر اس کو نِک سُک سے درست کیا اور اس کے اندر اپنی روح پھونک دی، اور تم کو کان دیے، آنکھیں دیں اور دِل دیے تم لوگ کم ہی شکر گزار ہوتے ہو

انگریزی ٹرانسلیٹریشن

Thumma sawwahu wanafakha feehi min roohihi wajaAAala lakumu alssamAAa waalabsara waalafidata qaleelan ma tashkuroona

آیت 9 کی تفسیر

آیت 9 ثُمَّ سَوّٰٹہُ یہاں ثُمَّ کا لفظ اس تخلیقی مرحلے کی نشاندہی کر رہا ہے جس کا آغاز ماں کے پیٹ میں استقرار حمل سے ہوتا ہے اور پھر رفتہ رفتہ بچے کے اعضاء ترتیب پاتے ہیں۔ نسل انسانی کا ہر بچہ اس مرحلے سے گزرتا ہے۔وَنَفَخَ فِیْہِ مِنْ رُّوْحِہٖ پھر ایک مرحلے پر اس حیوانی جسم میں روح پھونک کر اسے انسان بنادیا جاتا ہے۔ ماں کے پیٹ میں ایک بچہ جن مراحل سے گزرتا ہے اس کی تفصیل اس متفق علیہ حدیث میں بیان ہوئی ہے جس کا مطالعہ ہم سورة المؤمنون کی آیات 12 تا 14 کے ذیل میں کرچکے ہیں۔ ملاحظہ ہو اسی جلد کا صفحہ 170وَجَعَلَ لَکُمُ السَّمْعَ وَالْاَبْصَارَ وَالْاَفْءِدَۃَ ط۔اَفْءِدَۃَجمع ہے اور اس کا واحد فُؤاد ہے۔ عام طور پرفُؤاد کا ترجمہ دل ہی کیا جاتا ہے مگر حقیقت میں اس سے انسانی عقل و شعور مراد ہے جس کا تشخص حیوانی عقل اور شعور سے قطعاً مختلف ہے۔ لفظ فُؤاد کی مزید تشریح کے لیے سورة بنی اسرائیل ‘ آیت 36 کی تشریح ملاحظہ ہو۔

آیت 9 - سورہ سجدہ: (ثم سواه ونفخ فيه من روحه ۖ وجعل لكم السمع والأبصار والأفئدة ۚ قليلا ما تشكرون...) - اردو