وقد .................... کثیرا (17 : 42) ” انہوں نے بہت لوگوں کو گمراہ کردیا “۔ ہر گمراہ قیادت اسی قسم کے بتوں کے سامنے عوام کو جمع کرتی ہے ، یہ بت پتھروں کی شکل میں بھی ہوتے ہیں ، افراد کی شکل میں بھی ہوتے ہیں اور افکار کی شکل میں بھی ہوتے ہیں۔ او یہ سب کے سب بت ہوتے ہیں ، سب کے سب دعوت اسلامی کی راہ روکتے ہیں ۔ عوام کو داعیان حق سے دور رکھتے ہیں۔ بڑی بڑی سازشیں کرتے ہیں اور ان سازشوں پر اصرار کرتے ہیں۔
اس مقام پر اس نبی کریم کے دل سے ان گمراہوں ، مکاروں ، گمراہ کرنے والوں اور ان کے متبغین کے لئے بددعا نکلتی ہے۔
ولا تزد .................... ضللا (17 : 42) ” اے اللہ تو بھی ان ظالموں کو گمراہی کے سوا کسی چیز میں ترقی نہ دے “۔ یہ ایک ایسے دل کی بددعا ہے جس نے ایک طویل عرصہ تک جدوجہد کی۔ ایک طویل عرصہ تک مشقتیں برداشت کیں۔ یہ بددعا تب نکلی کہ تمام ذرائع ختم ہوگئے اور معلوم ہوگیا کہ ان ظالم باغی اور سرکش دلوں میں اب بھلائی کا رمق بھی باقی نہیں ہے۔ اور یہ بھی معلوم ہوگیا کہ یہ دل رب کی ہدایت اور نجات کے مستحق ہی نہیں رہے۔
قبل اس کے حضرت نوح (علیہ السلام) کی پوری بددعا یہاں نقل کی جائے ، ظالموں اور خطاکاروں کا انجام نقل کیا جاتا ہے۔ ان کا وہ انجام بھی جو یہاں ہوا اور وہ بھی جو آخرت میں ہوا۔ کیونکہ اللہ کے علم کے نقطہ نظر سے آخرت بھی حاضرو موجود ہے اور زاویہ سے بھی کہ اس کا وقوع اس قدر یقینی ہے کہ گویا واقع ہوگیا۔
آیت 24{ وَقَدْ اَضَلُّوْا کَثِیْرًاج وَلَا تَزِدِ الظّٰلِمِیْنَ اِلَّا ضَلٰلًا۔ } ”اور انہوں نے تو بہتوں کو بہکا دیا ہے۔ اور اے اللہ ! اب ُ تو ان ظالموں کے لیے سوائے گمراہی کے اور کسی چیز میں اضافہ نہ فرما !“ حضرت نوح علیہ السلام کے ان الفاظ سے اندازہ ہوتا ہے کہ اس مرحلے پر آپ علیہ السلام کے صبر کا پیمانہ لبریز ہوچکا ہے۔ اب آپ علیہ السلام کی حمیت دینی کو اس ناہنجار قوم کا ایمان لانا بھی گوارا نہیں ‘ بلکہ اللہ تعالیٰ کے حضور فریاد کناں ہیں کہ پروردگار ! اب تو ان گمراہوں کی گمراہی میں ہی اضافہ فرما۔۔۔۔ بالکل ایسی ہی کیفیت کی جھلک حضرت موسیٰ علیہ السلام کی اس دعا میں بھی نظر آتی ہے :{ وَقَالَ مُوْسٰی رَبَّنَآ اِنَّکَ اٰ تَیْتَ فِرْعَوْنَ وَمَلَاَہٗ زِیْنَۃً وَّاَمْوَالاً فِی الْْحَیٰوۃِ الدُّنْیَالا رَبَّنَا لِیُضِلُّوْا عَنْ سَبِیْلِکَج رَبَّنَا اطْمِسْ عَلٰٓی اَمْوَالِہِمْ وَاشْدُدْ عَلٰی قُلُوْبِہِمْ فَلاَ یُؤْمِنُوْا حَتّٰی یَرَوُا الْعَذَابَ الْاَلِیْمَ۔ } یونس”اور موسیٰ علیہ السلام ٰ نے عرض کیا : اے ہمارے پروردگار ! تو نے فرعون اور اس کے سرداروں کو سامانِ زیب وزینت اور اموال عطا کردیے ہیں دنیا کی زندگی میں۔ پروردگار ! اس لیے کہ وہ لوگوں کو گمراہ کریں تیرے راستے سے ! اے ہمارے رب ! اب ان کے اموال کو برباد کر دے اور ان کے دلوں میں سختی پیدا کر دے کہ یہ ایمان نہ لائیں جب تک کہ یہ کھلم کھلا دیکھ نہ لیں عذاب ِالیم کو۔“