اس صفحہ میں سورہ Nooh کی تمام آیات کے علاوہ فی ظلال القرآن (سید ابراہیم قطب) کی تمام آیات کی تفسیر بھی شامل ہے۔ پہلے حصے میں آپ سورہ نوح کو صفحات میں ترتیب سے پڑھ سکتے ہیں جیسا کہ یہ قرآن میں موجود ہے۔ کسی آیت کی تفسیر پڑھنے کے لیے اس کے نمبر پر کلک کریں۔
يُرْسِلِ ٱلسَّمَآءَ عَلَيْكُم مِّدْرَارًا
وَيُمْدِدْكُم بِأَمْوَٰلٍ وَبَنِينَ وَيَجْعَل لَّكُمْ جَنَّٰتٍ وَيَجْعَل لَّكُمْ أَنْهَٰرًا
مَّا لَكُمْ لَا تَرْجُونَ لِلَّهِ وَقَارًا
وَقَدْ خَلَقَكُمْ أَطْوَارًا
أَلَمْ تَرَوْا۟ كَيْفَ خَلَقَ ٱللَّهُ سَبْعَ سَمَٰوَٰتٍ طِبَاقًا
وَجَعَلَ ٱلْقَمَرَ فِيهِنَّ نُورًا وَجَعَلَ ٱلشَّمْسَ سِرَاجًا
وَٱللَّهُ أَنۢبَتَكُم مِّنَ ٱلْأَرْضِ نَبَاتًا
ثُمَّ يُعِيدُكُمْ فِيهَا وَيُخْرِجُكُمْ إِخْرَاجًا
وَٱللَّهُ جَعَلَ لَكُمُ ٱلْأَرْضَ بِسَاطًا
لِّتَسْلُكُوا۟ مِنْهَا سُبُلًا فِجَاجًا
قَالَ نُوحٌ رَّبِّ إِنَّهُمْ عَصَوْنِى وَٱتَّبَعُوا۟ مَن لَّمْ يَزِدْهُ مَالُهُۥ وَوَلَدُهُۥٓ إِلَّا خَسَارًا
وَمَكَرُوا۟ مَكْرًا كُبَّارًا
وَقَالُوا۟ لَا تَذَرُنَّ ءَالِهَتَكُمْ وَلَا تَذَرُنَّ وَدًّا وَلَا سُوَاعًا وَلَا يَغُوثَ وَيَعُوقَ وَنَسْرًا
وَقَدْ أَضَلُّوا۟ كَثِيرًا ۖ وَلَا تَزِدِ ٱلظَّٰلِمِينَ إِلَّا ضَلَٰلًا
مِّمَّا خَطِيٓـَٰٔتِهِمْ أُغْرِقُوا۟ فَأُدْخِلُوا۟ نَارًا فَلَمْ يَجِدُوا۟ لَهُم مِّن دُونِ ٱللَّهِ أَنصَارًا
وَقَالَ نُوحٌ رَّبِّ لَا تَذَرْ عَلَى ٱلْأَرْضِ مِنَ ٱلْكَٰفِرِينَ دَيَّارًا
إِنَّكَ إِن تَذَرْهُمْ يُضِلُّوا۟ عِبَادَكَ وَلَا يَلِدُوٓا۟ إِلَّا فَاجِرًا كَفَّارًا
رَّبِّ ٱغْفِرْ لِى وَلِوَٰلِدَىَّ وَلِمَن دَخَلَ بَيْتِىَ مُؤْمِنًا وَلِلْمُؤْمِنِينَ وَٱلْمُؤْمِنَٰتِ وَلَا تَزِدِ ٱلظَّٰلِمِينَ إِلَّا تَبَارًۢا
یرسل .................... مدرارا (17 : 11) ویمدد ................ انھرا (17 : 21) ” وہ تم پر آسمان سے خوب بارشیں برسائے گا ، تمہیں مال اور اولاد سے نوازے گا ، تمہارے لئے باغ پیدا کرے گا اور تمہارے لئے نہریں جاری کردے گا “۔
حضرت نوح (علیہ السلام) نے استغفار اور عظائے رزق جہاں کو باہم یکجا کردیا اور قرآن میں بیشمار مواقع پر ایمان ، ہدایت اور صلاح اور تقویٰ اور خوشحالی اور وافر رزق کو ایک دوسرے کے ساتھ یکجا کیا گیا ہے۔ دوسری جگہ آتا ہے :
ولو ان .................... یکسبون (7 : 69) ” اگر بستیوں والے ایمان لاتے اور پرہیزگاری کرتے تو ہم آسمان و زمین سے ان پر نعمتیں کھول دیتے لیکن انہوں نے جھٹلایا تو ہم نے ان کو ان کے اعمال کے بدلے پکڑا “۔
اور دوسری جگہ ہے :
ولو ان ............................ ارجلھم (66) (5 : 56۔ 66) ” اگر اہل کتاب ایمان لاتے اور ڈرتے تو ہم ان سے ان کی برائیاں دور کردیتے اور ان کو نعمت کے باغوں میں داخل کردیتے ، اگر وہ توریت ، انجیل اور جو ان کی طرف نازل کیا گیا ان کے رب کی طرف سے ، ان کو قائم کرتے ، تو وہ اپنے اوپر سے اور اپنے پاﺅں کے نیچے سے کھاتے “۔
اور دوسری جگہ ہے :
الا تعبدوا .................... فضل فضلہ (3) (11 : 2۔ 3) ” یہ کہ عبادت نہ کرو مگر اللہ کی میں تم کو اس کی طرف سے ڈر اور خوشخبری سناتا ہوں اور یہ کہ گناہ بخشواﺅ اپنے رب سے اور اس کی طرف رجوع کرو ، وہ تم کو بہت اچھا فائدہ پہنچائے گا۔ ایک مقرر وقت تک اور دے دے گا ہر صاحب فضل کو اس کا فضل “۔
یہ اصول جس کا ذکر قرآن کریم متفرق مقامات پر کرتا ہے ایک صحیح اصول ہے او یہ اللہ اپنے وعدے پر قائم ہے اور ان سنن حیات پر قائم ہے جو اللہ نے اس کائنات میں جاری کیے ہیں اور انسانوں کی عملی تاریخ اس پر شاہد عادل ہے۔ یہ قاعدہ اقوام کے لئے ہے افراد کے لئے نہیں ہے۔ اس جہاں میں جب بھی کسی قوم نے شریعت پر اپنا نظام استوار کیا ہے اور عمل صالح اختیار کرکے خدا خوفی کا رویہ اپنایا ہے اور اللہ سے ڈر کر اپنی کوتاہیوں سے معافی طلب کی ہے ، اللہ نے اسے مادی ترقی بھی دی ہے۔ غرض جب بھی کسی قوم نے تقویٰ اختیار کرکے اللہ کی بندگی اختیار کی ہے اور شریعت کو نافذ کیا ہے ، اور لوگوں کے درمیان عدل کا نظام رائج کیا ہے تو اس کائنات کی قدرتی قوتوں نے اس کے ساتھ تعاون کیا ہے اور اللہ نے اسے زمین پر تمکین عطا کی ہے اور وہ دنیاوی ترقی کے اعتبار سے بھی عروج تک پہنچی ہے۔
بعض اوقات ہم اس کرہ ارض پر ایسی اقوام دیکھتے ہیں جو اللہ سے نہیں ڈرتیں اور جو اللہ کی شریعت کے مطابق عمل پیرا نہیں ہوتیں ، لیکن اس کے باوجود ان کو وافر رزق ملتا ہے۔ اور اس زمین کے اوپر ان کو اقتدار اعلیٰ بھی ملا ہوا ہوتا ہے۔ لیکن یہ بھی اللہ کی طرف سے ایک آزمائش ہوتی ہے۔
وتبلوکم ................ فتنة ” اور ہم تمہیں خیروشر کے ذریعہ سے آزماتے ہیں “۔ پھر یہ خوشحالی ایک سڑی ہوئی خوشحالی ہوتی ہے اور اسے اجتماعی بیماریاں ، اخلاقی کر اوٹ ، ظلم اور زیادتی ، انسانی شرافت کا فقدان جیسی خرابیاں لاحق ہوتی ہیں اور ان کا مزہ کر کرا ہوتا ہے۔ آج ہمارے سامنے دو بڑی حکومتیں ہیں جن کو اللہ نے رزق میں وہ وسعت دی ہے۔ زمین کے ایک بڑے حصے پر ان کا اقتدار ملا ہوا ہے۔ ایک سرمایہ دار ہے اور ایک اشتراکی ہے۔ (سید قطب ، آپ کو اللہ نے اطلاع دے دی ہوگی کہ یہ نابود ہوچکی ہے) جہاں تک پہلی کا تعلق ہے اس کی اخلاقی حالت حیوانوں سے بھی زیادہ گری ہوئی ہے۔ اور ان کی زندگی کی مجموعی حالت یہ ہے کہ یہ صرف ڈالر پر قائم ہے اور ڈالر کے سوا وہاں کوئی اخلاقی قدر نہیں ہے۔ اور دوسری حکومت میں انسان ایک غلام سے بھی گرا ہوا ہے اور اس کا جاسوسی نظام اس قدر خوفناک ہے کہ ہر شخص ایک دائمی خوف میں زندگی بسر کرتا ہے۔ کوئی شخص رات کو اس حال میں نہیں سوتا کہ اسے صبح گرفتاری کا ڈر نہ ہو۔ یہ دونوں ممالک انسانی معیاروں کے لحاظ سے گرے ہوئے ہیں۔ (صرف سٹالن نے 3 کروڑ انسان تہ تیغ کیے۔ مترجم)
اب ذرا دیکھئے کہ حضرت نوح (علیہ السلام) اپنی طویل جدوجہد جاری رکھے ہوئے ہیں۔ ہم دیکھتے ہیں کہ آپ اپنی قوم کو انفس وآفاق میں پائے جانے والے دلائل ایمان کی طرف متوجہ کرتے ہیں۔ آپ حیران رہ جاتے ہیں کہ اس کے جواب میں قوم ان کو کس طرح رد کرتی ہے ، نہایت گستاخانہ رویہ اپناتی ہے۔ آپ اس رویہ پر ان کی سرزنش کرتے ہیں۔
مالکم ................ وقارا (17 : 31) وقد ............ اطوارا (17 : 41) ” تمہیں کیا ہوگیا ہے کہ اللہ کے لئے تم کسی وقار کی توقع نہیں رکھتے ؟ حالانکہ اس نے طرح طرح سے تمہیں بنایا ہے “۔ یہ اطوار کیا تھے ؟ قوم نوح (علیہ السلام) ان کو اچھی طرح سمجھتی تھی یا اس کا کوئی ایسا مفہوم تھا جو وہ لوگ اس وقت اچھی طرح سمجھتے تھے اور یہ طور اور تفریق کا ان کے ذہنوں پر بہت ہی اچھا اثر تھا۔ اس پر غور کرنے سے وہ راہ راست پر آسکتے تھے۔ اکثر مفسرین کی رائے یہ ہے کہ مراد جنین کے مختلف اطوار ہیں۔ نطفہ ، علقہ ، مضغہ اور موجودہ ہیکل انسانی۔ اور اس حقیقت کو وہ لوگ بھی سمجھتے تھے اور ہم بھی۔ کیونکہ وہ جو جنین کامل ہونے سے قبل ہی گر جاتے ہوں گے ، ان کے مشاہدے سے وہ انسانی اطوار کو سمجھتے ہوں گے۔ بہرحال اس آیت کے ممکنہ معنوں میں سے یہ ایک مفہوم ہے۔ یہ بھی ممکن ہے اس سے مراد جنین کے اطوار ہوں کہ آغاز میں وہ ایک خلیے کا حیوان ہوجاتا ہے۔ پھر متعدد خلیوں والا بن جاتا ہے ، پھر پانی کے حیوانات کی طرح ، پھر پستانوں والے حیوانات کی طرح اور آکر کار موجودہ شکل انسانی کی طرح۔ لیکن یہ اطوار قوم نوح (علیہ السلام) کے لئے قریب انفہم نہ تھے کیونکہ یہ اطوار حال ہی میں مشاہدے میں آئے ہیں۔ اور اس کا مفہوم یہ بھی ہوسکتا ہے جو دوسری آیات کا ہے۔
ثم انشانا .................... الخالقین ” پھر اٹھاکھڑا کیا اس کو ایک نئی صورت میں ، تو اللہ برکتوں والا ہے سب سے بہتر بنانے والا “۔ اور یہ بھی ممکن ہے کہ ان دونوں آیات کا اس کے سوا بھی کوئی اور مفہوم ہو۔ جسے ابھی تک ہم نہ سمجھ سکے ہوں اور آئندہ کسی وقت سمجھ لیں۔
بہرحال نوح (علیہ السلام) نے ان کو مطالعہ ذات کی طرف متوجہ کیا اور اس بات پر سخت گرفت کی کہ دیکھو تو سہی کہ اللہ نے تم کو کس طریقے سے پیدا کیا ہے اور پھر بھی لوگ خالق کو نہیں پہچانتے حالانکہ وہ دیکھتے ہیں کہ تمام مخلوقات میں سے انسان محیر العقول مخلوق ہے۔ اور اس کے بعد حضرت نوح (علیہ السلام) ان کو کائنات کی طرف متوجہ کرتے ہیں۔
الم تروا ............................ سراجا (17 : 61) ” کیا دیکھتے نہیں ہو کہ اللہ نے کس طرح سات آسمان تہ بہ تہ بنائے اور ان میں چاند کو نور اور سورج کو چراغ بنایا ؟ “۔ سات آسمانوں کے مفوم کا تعین ہم ان سائنسی نظریات کے مطابق نہیں کرسکتے ، جو سائنس دان اس کائنات کے بارے میں گھڑتے رہتے ہیں۔ کیونکہ سائنسی نظریات تو مفروضات ہوتے ہیں۔
حضرت نوح (علیہ السلام) نے لوگوں کو سات آسمانوں کی طرف متوجہ کیا اور اللہ نے ان کو بتایا کہ یہ سات ہیں۔ اور ان آسمانوں میں شمس وقمر اس طرح ہیں کہ ایک نور ہے اور دوسرا چراغ ہے۔ لوگ آسمانوں کو بھی دیکھ رہے تھے ، اور شمس وقمر کو بھی دیکھ رہے تھے۔ آسمان اس فضا سے عبارت ہے جو نیلگوں ہے۔ یہ ہے کیا ؟ اس کی حقیقت نہ وہ معلوم کرسکتے تھے اور نہ ان سے مطلوب تھا۔ نہ آج تک ان کی حقیقت معلوم ہوسکی ہے۔ اس حد تک وضاحت اس بات کے لئے کافی ہے کہ انسان اس ہولناک کائنات پر غور وفکر کرے اور دیکھے کہ قدرت الٰیہ نے کس قدر عجیب تخلیق کی ہے اور یہی مقصد تھا حضرت نوح (علیہ السلام) کا۔ اس کے بعد نوح (علیہ السلام) ان کو متوجہ کرتے ہیں کہ اللہ نے تمہیں کس طرح زمین سے پیدا کیا اور کس طرح دوبارہ زمین کی طرف لوٹایا۔ پھر اس سے تمہیں نکالے گا۔
واللہ ................ اخراجا (17 : 81) ” اور اللہ نے تم کو زمین سے عجیب طرح اگایا ، پھر وہ تمہیں اسی زمین میں واپس لے جائے گا اور اس سے یکایک تم کو نکال کھڑا کرے گا “۔
انسان کی تخلیق کے عمل کو یہاں ” اگانے “ سے تعبیر کیا گیا ہے اور یہ ایک عجیب انداز تعبیر ہے۔ قرآن کریم میں کئی جگہ یہ انداز اختیار کیا گیا ہے۔ مثلاً ۔
والبلد ................ الا نکدا ” ایک پاکیزہ زمین اپنے نباتات اپنے رب کے اذن سے نکالتی ہے اور جو خبیث ہے وہ صرف کم پیداوار نکالتی ہے “۔ اس آیت میں انسانوں کی پیدائش کی طرف اشارہ ہے۔ اور انسان کی پیدائش کے ساتھ نباتات کی پیدائش کا ذکر تو کئی جگہ آتا ہے۔ سورة حج میں بعث بعدالموت پر دلیل دیتے ہوئے یہ کہا گیا ہے :
یایھا الناس .................... زوج بھیج (33 : 5) ” اے لوگو ، تمہیں قیامت میں زندہ ہوکر اٹھنے میں شبہ ہے تو ہم نے تم کو مٹی سے پیدا کیا ، پھر نطفہ سے ، پھر گوشت کی بوٹی سے ، جو مختلف تھی بنی ہوئی اور غیر بنی ہوئی ، تاکہ تم کو بتا دیں اور ارحام میں ہم ٹھہراتے ہیں جو چاہتے ہیں ایک مقرر وقت تک ، پھر تمہیں طفل کی شکل میں نکالتے ہیں تاکہ تم جوانی تک پہنچو ، پھر تم میں سے بعض کو موت آلیتی ہے اور بعض ذلیل عمر تک لوٹ جاتے ہیں ، تاکہ اس طرح وہ علم کے بعد کچھ نہ جائیں اور تم دیکھتے ہو کہ زمین خراب پڑی ہے۔ جب ہم اس پر پانی برساتے ہیں تو وہ تازہ ہوجاتی ہے۔ اور ابھرتی ہے۔ اور وہ ہر قسم کی پررونق چیز اگاتی ہے “۔ اور سورة مومنون میں پیدائش کے مختلف مدارج بتلانے کے ساتھ یہ بھی بتایا گیا ہے۔
فانشانا ................ واعناب ” پھر ہم اس کے ذریعے تمہارے لئے کھجوروں اور انگوروں کے باغات اگاتے ہیں “۔ اور اسی طرح دوسرے مقامات پر بھی۔
یہ ایک ایسی خصوصیت ہے جو قابل نظر ہے۔ یہ بتاتی ہے کہ روئے زمین پر اللہ نے حیات ونبات کے لئے تقریباً ایک ہی جیسے اصول رکھے ہیں۔ انسان کی تخلیق بھی اسی طرح ہے جس طرح نباتات کی تخلیق ہے۔ جن عناصر سے انسان پیدا ہوتا ہے انہی سے حیوانات ونباتات بھی پیدا ہوتے ہیں۔ دونوں انہی عناصر سے غذا اخذ کرتے ہیں۔ انسان حیوان بھی زمین کے نباتات میں سے ایک نبات ہیں۔ جس طرح اللہ نے نباتات کو رنگارنگی دی ہے ، اسی طرح حیوانات اور انسانوں کو بھی تنوع اور رنگارنگی دی ہے۔ دونوں زمین سے ہیں ، دونوں زمین سے غذا لیتے ہیں اور دونوں زمین میں فنا ہوتے ہیں۔
یوں ایمان کے ذریعہ ایک مومن کے شعور میں اس زمین کی زندہ اگنے والی مخلوق کے بارے میں صحیح تصور پیدا ہوتا ہے۔ یہ ایک زندہ اور لعمی شعور ہے کیونکہ اس کی اساس شعوری ایمان پر ہے اور یہ قرآنی علوم کا مخصوص امتیاز ہے۔
جو لوگ زمین سے پیدا کیے گئے ہیں وہ دوبارہ اس زمین کے پیٹ میں جاتے ہیں۔ جس طرح اللہ نے ان کو زمین سے نکالا ، دوبارہ زمین کی طرف لوٹائے گا۔ چناچہ اس طرح ان کی ہڈیاں اور بوسیدہ اجزائے وجود زمین کے ذرات کو زمین سے نکالے گا۔ اور یہ اسی طرح ہوگا جس طرح پہلی مرتبہ ہوا۔ یہ نہایت ہی سہل کام ہے اللہ کے لئے۔ یہ کام اللہ ایک لمحہ اور ایک لحظہ میں کردے گا۔ یہ بات بڑی آسانی سے سمجھ میں آنے والی ہے۔ بشرطیکہ لوگ قرآنی زاویہ سے اس حقیقت پر غور کریں۔
حضرت نوح (علیہ السلام) نے اپنی قوم کو اس حقیقت کی طرف متوجہ فرمایا تاکہ ان کو معلوم ہو کہ اللہ قدرتوں والا ہے کہ اس نے تمہیں اس زمین سے اگایا ہے اور دوبارہ بھی وہ تمہیں اسی طرح اگالے گا۔ جب یہ شعور انسان کے اندر بیٹھ گیا تو پھر انسان خوف آخرت کرنے لگتا ہے۔ اور اس کی تیاری کرتا ہے کیونکہ یہ قیامت تو اسی طرح آسانی سے قائم ہوجائے گی جس طرح اس زمین پر نباتات اگتے ہیں۔ نہایت آسانی اور سہولت کے ساتھ۔ جس کے اندر کوئی معقول انسان ، کوئی قبل وقال نہیں کرسکتا۔
آخر میں حضرت نوح (علیہ السلام) لوگوں کو اس طرف متوجہ فرماتے ہیں کہ اللہ نے زمین کے اندر تمہارے لئے کیا کیا سہولیات پیدا کی ہیں۔ اس زمین کو تمہارے لئے مسخر کیا ، سدھایا۔ اس میں تمہارے زندہ رہنے کے لئے تمام سہولیات رکھ دیں۔
واللہ جعل ................ فجاجا (17 : 02) ” اور اللہ نے زمین کو تمہارے لئے فرش کی طرح بچھا دیا تاکہ تم اس کے اندر کھلے راستوں میں چلو “۔
یہ حقیقت جو حضرت نوح (علیہ السلام) نے لوگوں کے سامنے پیش کی اور ان کے سامنے موجود تھی ، حضرت نوح (علیہ السلام) کی باتوں سے وہ تو بھاگتے تھے لیکن ان میں جو حقائق تھے ، ان سے ان کے لئے فرار مشکل تھا۔ یہ زمین ان کے سامنے بچھی ہوئی تھی۔ یہ پہاڑ موجود تھے ، یہ وادیاں موجود تھیں اور ان وادیوں کی راہوں پر ہی وہ چلتے تھے۔ پیدل بھی چلتے ، سوار ہوکر بھی چلتے اور تیر کر بھی چلتے۔ اور اس کے اندر اللہ کے جو فضل وکرم بکھرے ہوئے تھے ان سے وہ استفادہ کرتے تھے اور نہایت ہی آسانی سے وہ استفادہ کرتے تھے۔
یہ حقائق وہ اپنی آنکھوں سے دیکھ رہے تھے ، اس سلسلے میں کسی گہری علمی تحقیق کی ضرورت نہ تھی۔ یہ اصول فطرت تھے اور ان کے مشاہدے اور تجربے میں تھے۔ اور ان حقائق کے اندر وہ زندہ رہ رہے تھے۔ ہاں جوں جوں انسان نے علمی ترقی کی اس نے ان حقائق کے مزید پہلو معلوم کرلیے۔ جس کے بارے میں قرآن کی ہدایت بھی ہے کہ تم زمین میں پھرو اور نصیحت حاصل کرو۔
ھوالذی ................................ النشور ( سورة ملک)
یوں حضرت نوح (علیہ السلام) نے کوشش کی کہ اپنی قوم کے کانوں میں کسی نہ کسی طرح کلمہ حکمت ڈال دیں ، مختلف طریقوں اور مختلف اسالیب کے ذریعہ اور اس کے لئے انہوں نے مختلف انداز اختیار کیے اور طویل عرصہ اس کام میں لگایا۔ صبر جمیل کے ساتھ اور ان تھک جدوجہد کے ساتھ ، ساڑھے نو سو سال مسلسل ! اس کے بعد اب حضرت نوح (علیہ السلام) رب تعالیٰ کی طرف لوٹتے ہیں ، جس رب تعالیٰ نے ان کو یہ مشن دیا تھا۔ رپورٹ پیش کرتے ہیں نہایت تفصیلی رپورٹ ہے یہ ۔ یہ رپورٹ نہایت ہی درد ناک لہجے میں ہے اور نہایت موثر الفاظ میں ہے۔ اس بیان سے معلوم ہوتا ہے کہ انہوں نے کس قدر جدوجہد کی۔ انہوں نے گم کردہ راہ انسانیت کو راہ ہدایت پر لانے کے لئے کیا کچھ کیا ۔ لیکن یہ تو سلسلہ رسالت کی ایک ہی کڑی ہے۔
قال نوح ............................ الا ضلاً
حضرت نوح (علیہ السلام) کی فریاد کا خلاصہ یہ ہے کہ قوم نے اس طویل جدوجہد ومسلسل جہاد کے باوجود ان کو پوری طرح مسترد کردیا۔ حقیقت کو اچھی طرح پیش کرنے اور حقائق پر اچھی طرح روشنی ڈالنے کے باوجود لوگوں نے منہ موڑ لیا۔ ان کو ڈرایا بھی گیا ، مال دولت اور اقتدار واولاد کے وعدے بھی ان کے ساتھ کیے گئے۔ ترقی اور خوشحالی کا لالچ بھی دیا گیا۔ یہ لوگ چونکہ گمراہ قیادتوں کے پیچھے چلتے تھے ، اور گمراہ قیادتیں ہمیشہ اپنے عوام کو دھوکہ دیتی ہیں ، اس لئے کہ گمراہ قیادتوں کے ہاتھ میں مالی وسائل اور جاہ واقتدار ہوتا ہے ، تو لوگ انہی کے پیچھے پڑجاتے ہیں۔
واتبعوا .................... خسارا (17 : 12) ” اور ان (رئیسوں) کی پیروی کی جو مال اور اولاد پاکر اور زیادہ نامراد ہوگئے ہیں “۔ اس مال اور اولاد نے انہیں دھوکہ دے کر مزید گمراہ کردیا ۔ لہٰذا مال واولاد کے نتیجے میں انہیں بدبختی اور خسارہ ہی ملا۔
ان لوگوں نے صرف گمراہی پر اکتفا نہ کیا ، بلکہ۔
ومکروا مکرا کبارا (17 : 22) ” ان لوگوں نے بڑا بھاری مکر کا جال پھیلا کر رکھ دیا “۔ یعنی اس قدر عظیم سازش کی کہ اس سے آگے کوئی بڑی سازش نہ ہو۔ انہوں نے دعوت اسلامی کے تمام راستے بند کرنے کے لئے مکاری کی۔ لوگوں کے دلوں کو دوسرے کاموں میں مشغول کردیا اور ان کے دلوں کے اندر دعوت اترنے کے مواقع ہی ختم کردیئے۔ کفر ، گمراہی اور جاہلیت کو ان کے لئے حسین بنادیا۔ اور لوگ جاہلیت ہی میں بھٹکتے رہے۔ ان کی بڑی مکاری یہ تھی کہ یہ لوگوں کو ان الہوں کی عبادت میں لگائے رکھتے تھے جن کو انہوں نے الٰہہ کہہ رکھا تھا۔ عوام الناس کے دلوں میں ان بتوں کی حمیت اور غیرت پیدا کردی تھی۔
وقالوا ................ الھتکم (17 : 32) ” انہوں نے کہا ہرگز نہ چھوڑ دو اپنے الہوں کو “۔ ان الہوں کو انہوں نے ” تمہارے الٰہ “ کہہ کر پکاراتا تاکہ ان کو جوش آئے۔ جھوٹی حمیت اور گناہ پر آمادہ کرنے والی غیرت جاگے۔ پھر انہوں ان بتوں میں سے جو زیادہ معزز اور مشہور تھے ، ان کا خصوصیت کے ساتھ تذکرہ کیا تاکہ عوام ان کی حمایت میں اٹھ کھڑے ہوں۔
ولا تذرن ........................ ونسرا (17 : 32) ” نہ چھوڑو ود اور سواع کو ، اور نہ یغوث اور یعوق اور نسر کو “۔ یہ نسر تو ان کا بڑا بت تھا جو حضور ﷺ کے دور جاہلیت میں بھی پوجا جاتا تھا۔
ہمیشہ گمراہ قیادتیں عوام الناس کی پوجا کے لئے بت گھڑتی ہیں ، ان کے نام اور شکلیں ہی مختلف اوقات میں مختلف ہوتی ہیں ، لیکن عوام الناس کو ان کے ارد گرد گھمایا جاتا ہے۔ عوام کے دلوں میں ان بتوں کی جاہلانہ محبت پیدا ہوجاتی ہے تاکہ وہ عوام کو ہلاکت کے جس گڑھے میں چاہیں ، لے جاکر گرادیں۔ اور ان کو اس گمراہی پر قائم رکھیں اور اس گمراہ قیادت کی قید میں رہیں۔
وقد .................... کثیرا (17 : 42) ” انہوں نے بہت لوگوں کو گمراہ کردیا “۔ ہر گمراہ قیادت اسی قسم کے بتوں کے سامنے عوام کو جمع کرتی ہے ، یہ بت پتھروں کی شکل میں بھی ہوتے ہیں ، افراد کی شکل میں بھی ہوتے ہیں اور افکار کی شکل میں بھی ہوتے ہیں۔ او یہ سب کے سب بت ہوتے ہیں ، سب کے سب دعوت اسلامی کی راہ روکتے ہیں ۔ عوام کو داعیان حق سے دور رکھتے ہیں۔ بڑی بڑی سازشیں کرتے ہیں اور ان سازشوں پر اصرار کرتے ہیں۔
اس مقام پر اس نبی کریم کے دل سے ان گمراہوں ، مکاروں ، گمراہ کرنے والوں اور ان کے متبغین کے لئے بددعا نکلتی ہے۔
ولا تزد .................... ضللا (17 : 42) ” اے اللہ تو بھی ان ظالموں کو گمراہی کے سوا کسی چیز میں ترقی نہ دے “۔ یہ ایک ایسے دل کی بددعا ہے جس نے ایک طویل عرصہ تک جدوجہد کی۔ ایک طویل عرصہ تک مشقتیں برداشت کیں۔ یہ بددعا تب نکلی کہ تمام ذرائع ختم ہوگئے اور معلوم ہوگیا کہ ان ظالم باغی اور سرکش دلوں میں اب بھلائی کا رمق بھی باقی نہیں ہے۔ اور یہ بھی معلوم ہوگیا کہ یہ دل رب کی ہدایت اور نجات کے مستحق ہی نہیں رہے۔
قبل اس کے حضرت نوح (علیہ السلام) کی پوری بددعا یہاں نقل کی جائے ، ظالموں اور خطاکاروں کا انجام نقل کیا جاتا ہے۔ ان کا وہ انجام بھی جو یہاں ہوا اور وہ بھی جو آخرت میں ہوا۔ کیونکہ اللہ کے علم کے نقطہ نظر سے آخرت بھی حاضرو موجود ہے اور زاویہ سے بھی کہ اس کا وقوع اس قدر یقینی ہے کہ گویا واقع ہوگیا۔
مما خطیئتہم ........................ انصارا
ان کی خطاکاریوں ، ان کے گناہوں اور ان کی نافرمانیوں کی وجہ سے وہ جہنم میں داخل ہوئے۔ یہاں فائے تعطیب بالارادہ لائی گئی ہے۔ کیونکہ ان کے غرق ہوتے ہی ان کو جہنم رسید بھی کردیا گیا اور ان کے غرق ہونے اور جہنم کے داخل ہونے کے درمیان جو زمانی فاصلہ ہے وہ گویا ہے ہی نہیں ہے۔ کیونکہ اللہ کے میزان اور معیار میں اس کی کوئی حیثیت نہیں ہے۔ گویا اس دنیا میں ان کا غرق کیا جانا اور آخرت میں ان کا دوزخ میں داخل کیا جانا گویا باہم قریب ومتصل ہے۔ یہ بھی ہوسکتا ہے کہ اس سے مراد عذاب قبر کا عرصہ ہو جو نہایت ہی مختصر ہے۔
فلم ........................ انصارا (17 : 52) ” پھر انہوں نے اپنے لئے اللہ سے بچانے والا کو مددگار نہ پایا “۔ نہ اولاد ، نہ مال ، نہ مرتبہ ، نہ دوست اور نہ ان کے نام نہاد الٰہہ۔
ان دو چھوٹی سی آیات میں ان سرکشوں کا قصہ تمام ہوگیا اور ان کا قصہ حیات ختم ہوا۔ لیکن ابھی حضرت نوح (علیہ السلام) کی دعا ختم نہیں ہوئی کہ اے اللہ ان کو فنا کردے۔ یوں کہ ان کا وجود تک نہ رہے۔ یہاں ان کی غرقابی اور طوفان کے قصے کی تفصیلات نہیں دی گئیں ، اس لئے کہ اس مقام پر نہایت شتابی کے ساتھ ان کا قصہ تمام کرکے دکھانا مطلوب تھا۔ یہاں تک کہ غرقابی اور داخلہ جہنم کے درمیان کے طویل فاصلے کو صرف فائے تعقیب کے ذریعہ لپیٹ لیا گیا۔
وقال نوح ........................ الاتبارا
حضرت نوح (علیہ السلام) کے قلب مبارک پر یہ الہام آگیا تھا کہ اس ناپاک زمین کو غسل دینا مقصود ہے اور ظالموں اور سرکشوں نے اس کو شروفساد سے بھر دیا ہے۔ یہ شر اس قدر غالب ہوگیا ہے اور اس قدر جم گیا ہے کہ اس نے دعوت دین کو جامد کرکے رکھ دیا ہے اور حضرت نوح (علیہ السلام) کے زمانے کے لوگ اب ناقابل اصلاح ہوگئے ہیں اور بارہا ایسا ہوتا ہے کہ جب کسی وقت اہل زمین ناقابل اصلاح ہوجائیں تو ان پر عام تباہی آتی ہے اور اس طرح اللہ زمین کی تطہیر فرما دیتا ہے۔ یہ وہ مقام ہے جہاں تک حضرت نوح (علیہ السلام) پہنچ چکے تھے۔ اس لئے انہوں نے دعا فرمائی کہ اے اللہ ، ان لوگوں کو ختم کردے ، ظالموں کو بیخ وبن سے اکھاڑ دے ، کوئی زندہ وجود باقی نہ رہے ، اور انہوں نے دلیل بھی دے دی۔
انک ................ عبادک (17 : 72) ” اگر تونے ان کو چھوڑ دیا تو یہ تیرے بندوں کو گمراہ کریں گے “۔ عبادک سے مراد یہاں اہل ایمان ہیں یعنی لوگ تو ایمان لائیں گے لیکن یہ بااثر اور سرکش مقتدر لوگ اپنے اقتدار اور قوت کے بل بوتے پر ان کو گمراہ کردیں گے۔ اور اس سے مراد عام انسان بھی ہوسکتے ہیں۔ پھر معنی یہ ہوگا کہ یہ عوام الناس کو اپنے مرتبے اور بلند مقام کی وجہ سے متاثر کریں گے اور اللہ سے دور کردیں گے۔
پھر ان لوگوں نے ایک ایسی فضا پیدا کردی ہے ، جس میں سے صرف کفار ہی پیدا ہوتے ہیں۔ جو بچے بھی پیدا ہوتے ہیں ، ان کی پیدائش کے نتیجے میں کفار نسل تیار ہوتی ہے۔ کیونکہ ظالموں نے جو فضا تیار کررکھی ہے اس میں ظالم اور گمراہ نسل ہی تیار ہوتی ہے۔ جو نور ایمان سے محروم ہوتی ہے۔ یہی وہ حقیقت ہے جس کی طرف حضرت نوح (علیہ السلام) نے اشارہ فرمایا اور قرآن کریم نے آپ کی زبانی نقل کیا۔
ولایلدوا .................... کفارا (17 : 72) ” اور ان کی نسل سے جو بھی پیدا ہوگا ، بدکار اور سخت کافر ہی ہوگا “۔ کیونکہ وہ اپنی سوسائٹی میں ئرے اور گمراہ کن حالات ، طریقے اور افکار شائع کرتے ہیں۔ اور انہوں نے اپنی سوسائٹی اور نظام کو ایسا بنا دیا ہے کہ اس کے اندر فاسق وفاجر ہی پیدا ہوسکتے ہیں۔
چناچہ آپ نے دوبارہ ان بیخ کنی کے لئے دعا کی۔ اللہ نے ان کی دعا قبول کرلیا اور رﺅے زمین کو ان کی گندگی سے صاف کردیا۔ ان پر ایسا سیلاب آیا جو سب کچھ بہا لے گیا۔ اور اس قسم کا تباہ کن سیلاب اللہ جبار وقہار ہی لاسکتا ہے۔
ایک طرف حضرت نوح (علیہ السلام) نے کفار کے بارے میں دعا فرمائی کہ ان کو نیست ونابود کردیا جائے۔
ولا تزد ................ الاتبارا (17 : 82) ” اور ظالموں کے لئے ہلاکت کے سوا کسی چیز میں اضافہ نہ کر “۔ اور دوسری جانب انہوں نے اپنے لئے دعا فرمائی :
رب اغفرلی ............................ المومنت (17 : 82) ” میرے رب ، مجھے اور میرے والدین کو ، اور ہر اس شخص کو جو میرے گھر میں مومن کی حیثیت سے داخل ہوا ہے ، اور سب مومن مردوں اور عورتوں کو معاف فرمادے “۔
حضرت نوح (علیہ السلام) نے اللہ کو اپنی مغفرت کے لئے بھی پکارا۔ اور یہ ہیں انبیاء کے آداب بارگاہ رب تعالیٰ میں۔ اللہ کے سامنے بندے کو اس طرح عاجزی سے بات کرنا چاہئے جس طرح نوح (علیہ السلام) کررہے ہیں۔ وہ اس طرح دعا کر رہے ہیں جس طرح ایک انسان دعا کرتا ہے۔ انسان سے غلطی بھی ہوتی ہے ، تقصیرات بھی ہوتی ہیں۔ اگرچہ ایک نبی غایت درجہ مطیع رب ہوتا ہے ، جس طرح حضرت محمد ﷺ نے فرمایا کہ میں بھی جنت میں رب کریم کے فضل کے سوا داخل نہیں ہوسکتا۔ حضرت نوح (علیہ السلام) نبی ہیں۔ انہوں نے طویل عرصہ اعصاب شکن جدوجہد کی ، پھر بھی وہ دعا کرتے ہیں کہ اللہ ، جو تقصیرات ہوئی ہیں معاف کردی جائیں۔
پھر وہ اپنے والدین کے لئے دعا کرتے ہیں۔ ایک نبی اپنے والدین کا احترام کرتا ہے۔ ظاہر ہے کہ یہ مومن ہوں گے۔ اگر مومن نہ ہوتے تو اللہ آپ کو اس کی اجازت نہ دیتا جس طرح اللہ نے آپ کی بات اپنے بیٹے کے بارے میں نہ سنی جو کافر تھا۔
پھر آپ کی دعا ان لوگوں کے بارے میں ہے جو آپ کے گھرانے میں اور آپ کی سوسائٹی میں بطور مومن بیٹھیں۔
یہ ایک مومن کی دوسرے مومن کے ساتھ نیکی ہے۔ ایک مومن اپنے لئے جو چیز پسند کرتا ہے وہی دوسرے مومن کے لئے بھی پسند کرتا ہے۔ گھر کا ذکر یہاں اس لئے ہوا کہ اس طوفان میں تمام مومنین کے لئے احکام تھے کہ وہ آپ کے گھر میں داخل ہوجائیں اور آپ ان کو سفینہ میں لے کر نکلیں گے۔
اس کے بعد عام مومنین اور مومنات کے لئے دعا ہے۔ یہ بھی ایک نبی کا رویہ ہے کہ وہ تمام اہل ایمان کے لئے نیک خواہشات رکھتا ہے۔ چاہے یہ مومنین اس کے دور کے ہوں ، اس سے پہلے گزرے ہوں یا بعد کے ادوار میں آنے والے ہوں۔ یہ اسلامی نظریہ حیات کا ایک راز ہے کہ اس نظریہ کے ساتھ منسلک ہونے والے لوگوں کا آپس میں بہت ہی گہرارابط ، تعلق اور محبت اور برادرانہ جذبات ہوتے ہیں۔ اور یہ خصوصیت صرف اسلامی نظریہ حیات ہی کو حاصل ہے۔ اس محبت کے مقابلے میں پھر کافروں کے ساتھ دشمنی اور کراہیت۔
ولاتزد ................ الاتبارا (17 : 82) ” اور ظالموں کے لئے ہلاکت کے سوا کسی چیز میں اضافہ نہ کر “۔ یہاں یہ سورت ختم ہوتی ہے جس میں ایک طرف ایک شریف نبی کی ان تھک جدوجہد کی تصویر کشی ہے اور دوسری طرف سرکشوں اور معاندین کی تصویر ہے۔ اس سے معلوم ہوتا ہے کہ داعیان حق کو کس قدر عظیم جدوجہد کرنی چاہئے اور یہ کہ اس راہ میں کس قدر مشکلات ہوا کرتی ہیں۔ اور کس قدر عظیم قربانیوں کا تقاضا کرتی ہے ، تحریک دعوت اسلامی ؟ اور یہ عظیم جدوجہد اس لئے ضروری ہے کہ کوئی انسانی سوسائٹی دعوت اسلامی اور اسلام نظام کے سوا ، نہ ہی دنیا میں اور آخرت میں ترقی اور کامیابی حاصل کرسکتی ہے۔ غرض ترقی کا راز اور انسانیت کے عروج کا ذریعہ دعوت اسلامی اور اسلامی نظام کے قیام میں ہے۔