اس صفحہ میں سورہ An-Noor کی تمام آیات کے علاوہ تفسیر بیان القرآن (ڈاکٹر اسرار احمد) کی تمام آیات کی تفسیر بھی شامل ہے۔ پہلے حصے میں آپ سورہ النور کو صفحات میں ترتیب سے پڑھ سکتے ہیں جیسا کہ یہ قرآن میں موجود ہے۔ کسی آیت کی تفسیر پڑھنے کے لیے اس کے نمبر پر کلک کریں۔


آیت 1 سُوْرَۃٌ اَنْزَلْنٰہَا وَفَرَضْنٰہَا ”سورت کے آغاز کا یہ انداز تمام سورتوں میں منفرد ہے۔ ”سُوْرَۃٌ“ کا لفظ یہاں پر بطور اسم نکرہ استعمال ہوا ہے۔ اس کو اگر تفخیم کے لیے مانا جائے تو اس کے معنی یوں ہوں گے کہ یہ ایک عظیم سورت ہے۔
وَّلَا تَاْخُذْکُمْ بِہِمَا رَاْفَۃٌ فِیْ دِیْنِ اللّٰہِ ”یہ اللہ کے دین اور اس کی شریعت کا معاملہ ہے۔ ایسے معاملے میں حد جاری کرتے ہوئے کسی کے ساتھ کسی کا تعلق ‘ انسانی ہمدردی یا فطری نرم دلی وغیرہ کچھ بھی آڑے نہ آنے پائے۔اِنْ کُنْتُمْ تُؤْمِنُوْنَ باللّٰہِ وَالْیَوْمِ الْاٰخِرِ ج ”یہ غیر شادی شدہ زانی اور زانیہ کے لیے حد ہے جو نص قرآنی سے ثابت ہے۔ البتہ شادی شدہ زانی اور زانیہ کی سزا رجم ہے جو سنت رسول ﷺ سے ثابت ہے اور قرآن کے ساتھ ساتھ سنت رسول ﷺ بھی شریعت اسلامی کا ایک مستقل بالذاتّ ماخذ ہے۔ رجم کی سزا کا قاعدہ اور اصول یہ ہے کہ شریعت موسوی علیہ السلام میں یہ سزا موجود تھی اور حضور ﷺ نے سابقہ شریعت کے ایسے احکام جن کی قرآن میں نفی نہیں کی گئی اپنی امت میں جوں کے توں جاری فرمائے ہیں۔ ان میں رجم اور قتل مرتد کے احکام خاص طور پر اہم ہیں۔ شادی شدہ زانی اور زانیہ کے لیے رجم کی سزا متعدد احادیث ‘ رسول اللہ ﷺ کی سنت ‘ خلفائے راشدین کے تعامل اور اجماع امت سے ثابت ہے۔وَلْیَشْہَدْ عَذَابَہُمَا طَآءِفَۃٌ مِّنَ الْمُؤْمِنِیْنَ ”اس حد کو عام پبلک میں کھلے عام جاری کرنے کا حکم ہے۔ اس سے یہ اصول ذہن نشین کرلینا چاہیے کہ اسلامی شریعت دراصل تعزیرات اور حدود کو دوسروں کے لیے لائقِ عبرت بنانا چاہتی ہے۔ اگر کسی مجرم کو جرم ثابت ہونے کے بعد چپکے سے پھانسی دے دی جائے اور لوگ اسے ایک خبر کے طور پر سنیں تو ان کے ذہنوں میں اس کا وہ تاثر قائم نہیں ہوگا جو اس سزا کے عمل کو براہ راست دیکھنے سے ہوگا۔ اگر کسی مجرم کو سرعام تختہ دار پر لٹکایا جائے تو اس سے کتنے ہی لوگوں کے ہوش ٹھکانے آجائیں گے۔ چناچہ اسلامی شریعت سزاؤں کے تصور کو معاشرے میں ایک مستقل سدراہ deterrent کے طور پر مؤثر دیکھنا چاہتی ہے۔ اس میں بنیادی فلسفہ یہی ہے کہ ایک کو سزا دی جائے تو لاکھوں کے لیے باعث عبرت ہو۔
آیت 3 اَلزَّانِیْ لَا یَنْکِحُ اِلَّا زَانِیَۃً اَوْ مُشْرِکَۃًز ”یہ حکم قانون کے درجے میں نہیں بلکہ اخلاق کے درجے میں ہے۔ یعنی اس شرمناک اور گھناؤنے جرم کا ارتکاب کر کے اس شخص نے ثابت کردیا ہے کہ وہ کسی پاک دامن ‘ عفتّ مآب مؤمنہ کے لائق ہے ہی نہیں۔ چناچہ اسے چاہیے کہ وہ اس قانونی بندھن کے لیے بھی اپنے جیسی ہی کسی بدکار عورت یا پھر مشرکہ عورت کا انتخاب کرلے۔
آیت 4 وَالَّذِیْنَ یَرْمُوْنَ الْمُحْصَنٰتِ ””محصنات“ ُ سے مراد خاندانی عورتیں بھی ہیں اور منکوحہ عورتیں بھی۔ گویا عورتوں کے حق میں احصان حفاظت کا حصار کی دو صورتیں ہیں۔ جو عورتیں کسی معزز اور شریف خاندان سے تعلق رکھتی ہیں وہ اپنے اس خاندان کی حفاظت کے حصار میں ہیں اور جو کسی کے نکاح کی قید میں ہیں انہیں اپنے خاوند اور نکاح کے اس تعلق کی حفاظت حاصل ہے۔ اس طرح خاندانی منکوحہ خا تون کو دوہرا ”اِحصان“ حاصل ہوتا ہے۔ چناچہ اگر کوئی شخص کسی پاکدامن خاندانی یا منکوحہ عورت پر زنا کا الزام لگائے اور :وَّلَا تَقْبَلُوْا لَہُمْ شَہَادَۃً اَبَدًاج وَاُولٰٓءِکَ ہُمُ الْفٰسِقُوْنَ ”اگر کوئی شخص کسی پاکدامن خاتون پر بدکاری کا الزام لگائے تو اس پر لازم ہے کہ وہ چار چشم دیدگواہ پیش کرے۔ اگر وہ اس میں ناکام رہتا ہے تو اس کے اس الزام کو بہتان تصور کیا جائے گا ‘ اور زنا کے بہتان کی سزا کے طور پر اسے اسّی 80 کوڑے لگائے جائیں گے۔ شریعت میں اسے ”حد قذف“ کہا جاتا ہے۔دیکھا جائے تو یہ سزا زنا کی سزا سو کوڑے کے قریب ہی پہنچ جاتی ہے۔ اس میں بظاہر یہ حکمت نظر آتی ہے کہ خواہ مخواہ برائی کی تشہیر نہ ہو۔ دراصل برائی کا چرچا بھی معاشرے کے لیے برائی ہی کی طرح زہر ناک ہے اور شریعت کا مقصود اس زہرناکی کا سدباب کرنا ہے۔ اس سلسلے میں شریعت کا تقاضا یہ ہے کہ اگر کہیں ایسی غلطی کا ارتکاب ہو تو قصور وار افراد کو قانون کے مطابق سخت سزا دی جائے۔ لیکن اگر کسی قانونی سقم کی وجہ سے یا گواہوں کی عدم دستیابی کے باعث جرم ثابت نہ ہوسکتا ہو اور مجرم کو کیفر کردار تک پہنچانا ممکن نہ ہو تو پھر بہتر ہے کہ اس سلسلے میں خاموشی اختیار کی جائے اور برائی کی تشہیر کر کے معاشرے کی فضا میں ہیجانی کیفیت پیدا کرنے سے اجتناب کیا جائے۔
آیت 5 اِلَّا الَّذِیْنَ تَابُوْا مِنْم بَعْدِ ذٰلِکَ وَاَصْلَحُوْا ج فَاِنَّ اللّٰہَ غَفُوْرٌ رَّحِیْمٌ ”مثلاً کسی شخص پر قذف کی حد جاری کی گئی اور اسلامی عدالت میں طویل عرصے تک اس کی گواہی بھی ناقابل قبول رہی ‘ لیکن سزا ملنے کے بعد اس شخص نے اللہ کے حضور توبہ کرلی اور اپنی پرانی روش کو مستقل طور پر تبدیل کرلیا۔ اس کے مثبت رویے کو دیکھتے ہوئے معاشرے میں پھر سے اسے ایک با اعتماد ‘ صالح اور پرہیزگار مسلمان کے طور پر تسلیم کرلیا گیا۔ اب ایسے شخص پر سے گواہی کے ناقابل قبول ہونے کی قدغن ختم ہوسکتی ہے۔
آیت 6 وَالَّذِیْنَ یَرْمُوْنَ اَزْوَاجَہُمْ وَلَمْ یَکُنْ لَّہُمْ شُہَدَآءُ اِلَّآ اَنْفُسُہُمْ ”یعنی اگر کوئی شخص اپنی بیوی کو بدکاری کا ارتکاب کرتے ہوئے دیکھ لے اور اس کے پاس اپنے علاوہ موقع کے تین اور گواہ بھی نہ ہوں تو وہ کیا کرے ؟ چونکہ معاملہ اس کی اپنی بیوی کا ہے اس لیے وہ خاموشی اختیار کر کے اس کے ساتھ رہ بھی نہیں سکتا۔ عام حالات میں تو اگر کوئی شخص اپنے علاوہ تین چشم دید گواہوں کے بغیر کسی پر ایسا الزام لگائے تو اسے اسّی 80 کوڑوں کی سزا دی جائے گی ‘ لیکن میاں بیوی کے معاملے میں ایسی صورت حال کے لیے یہاں ایک خصوصی قانون دیا گیا ہے جسے اصطلاح میں ”لعان“ کہا جاتا ہے۔فَشَہَادَۃُ اَحَدِہِمْ اَرْبَعُ شَہٰدٰتٍم باللّٰہِلا اِنَّہٗ لَمِنَ الصّٰدِقِیْنَ ”ایسے شخص سے تقاضا یہ ہے کہ وہ اللہ کی قسم کھا کر چار دفعہ واقعہ کی گواہی دے اور دعویٰ کرے کہ وہ جو کچھ کہہ رہا ہے سچ کہہ رہا ہے۔
آیت 7 وَالْخَامِسَۃُ اَنَّ لَعْنَتَ اللّٰہِ عَلَیْہِ اِنْ کَانَ مِنَ الْکٰذِبِیْنَ ”اس طرح ایسے شخص کی مذکورہ گواہی چار گواہوں کے برابر سمجھی جائے گی۔
آیت 9 وَالْخَامِسَۃَ اَنَّ غَضَبَ اللّٰہِ عَلَیْہَآ اِنْ کَانَ مِنَ الصّٰدِقِیْنَ ”اگر شوہر چار دفعہ اللہ کی قسم کھا کر الزام میں اپنی سچائی کی گواہی دے دے اور پانچویں دفعہ یہ بھی کہہ دے کہ اگر وہ جھوٹا ہو تو اس پر اللہ کی لعنت ہو تو اس کی طرف سے چار گواہ پیش کرنے کا قانونی تقاضا پورا ہوگیا۔ اس کے بعد متعلقہ عورت کو صفائی کا موقع دیا جائے گا۔ اگر وہ اس الزام کو تسلیم کرلے یا خاموش رہے تو اس پر حد جاری کردی جائے گی ‘ لیکن اگر وہ اس سے انکار کرے تو اسے بھی اللہ کی قسم کھا کر چار مرتبہ یہ کہنا ہوگا کہ اس کا شوہر جھوٹ بول رہا ہے اور پانچویں مرتبہ یہ کہنا ہوگا کہ اگر وہ اپنے الزام میں سچا ہو تو مجھ پر اللہ کا غضب نازل ہو۔ اگر وہ عورت ایسا کہہ دے تو اس پر حد جاری نہیں کی جائے گی اور وہ دنیا کی سزا سے بچ جائے گی۔ البتہ اس کے بعد ان کے درمیان طلاق واقع ہوجائے گی اور وہ دونوں بطور میاں بیوی اکٹھے نہیں رہ سکیں گے۔
وَاَنَّ اللّٰہَ تَوَّابٌ حَکِیْمٌ “ یہاں پر کچھ الفاظ مقدرّ understood مانے گئے ہیں۔ گویا تقدیر عبارت یوں ہے کہ اگر اللہ تعالیٰ کا فضل و کرم اور اس کی رحمت تم لوگوں کے شامل حال نہ ہوتی اور یہ بات نہ ہوتی کہ اللہ توبہ قبول فرمانے والا اور صاحب حکمت ہے تو بیویوں پر الزام کا معاملہ تمہیں غلط راستے پر ڈال دیتا اور تم کوئی بہت بڑا قدم اٹھا لیتے۔ان ابتدائی آیات کی صورت میں اس واقعہ کی تمہید بیان ہوئی ہے جو آگے آ رہا ہے۔