اس صفحہ میں سورہ Ash-Shu'araa کی تمام آیات کے علاوہ تفسیر بیان القرآن (ڈاکٹر اسرار احمد) کی تمام آیات کی تفسیر بھی شامل ہے۔ پہلے حصے میں آپ سورہ الشعراء کو صفحات میں ترتیب سے پڑھ سکتے ہیں جیسا کہ یہ قرآن میں موجود ہے۔ کسی آیت کی تفسیر پڑھنے کے لیے اس کے نمبر پر کلک کریں۔


آیت 4 اِنْ نَّشَاْ نُنَزِّلْ عَلَیْہِمْ مِّنَ السَّمَآءِ اٰیَۃً فَظَلَّتْ اَعْنَاقُہُمْ لَہَا خٰضِعِیْنَ ”انہیں ایسی کوئی نشانی دکھا دینا ہماری قدرت سے کچھ بعید نہیں ‘ لیکن اپنی خاص حکمت اور مشیت کے تحت ہم ایسا نہیں کر رہے۔ آگے چل کر اسی سورت میں اس حکمت کا ذکر بھی آئے گا۔
آیت 5 وَمَا یَاْتِیْہِمْ مِّنْ ذِکْرٍ مِّنَ الرَّحْمٰنِ مُحْدَثٍ اِلَّا کَانُوْا عَنْہُ مُعْرِضِیْنَ ”انہیں مختلف انداز سے سمجھا یا جا رہا ہے ‘ انداز بدل بدل کر آیات نازل کی جا رہی ہیں ‘ مگر یہ لوگ ہیں کہ کسی نصیحت اور کسی یاد دہانی سے اثر لینے کو تیار ہی نہیں۔
آیت 6 قَدْ کَذَّبُوْا فَسَیَاْتِیْہِمْ اَنْبآؤُا مَا کَانُوْا بِہٖ یَسْتَہْزِءُ وْنَ ” یعنی عذاب الٰہی کے ذریعے عنقریب ان کی پکڑ ہونے والی ہے۔
آیت 8 اِنَّ فِیْ ذٰلِکَ لَاٰیَۃًط وَمَا کَانَ اَکْثَرُہُمْ مُّؤْمِنِیْنَ ”اگر یہ لوگ معجزہ دیکھنا چاہتے ہیں تو دیکھ لیں ‘ اللہ تعالیٰ کی تخلیق کردہ پوری کائنات ہی معجزہ ہے۔ کائنات میں ہر جگہ ان کے لیے نشانیاں ہی نشانیاں ہیں :اِنَّ فِیْ خَلْقِ السَّمٰوٰتِ وَالْاَرْضِ وَاخْتِلاَفِ الَّیْلِ وَالنَّہَارِ وَالْفُلْکِ الَّتِیْ تَجْرِیْ فِی الْْبَحْرِ بِمَا یَنْفَعُ النَّاسَ وَمَآ اَنْزَلَ اللّٰہُ مِنَ السَّمَآءِ مِنْ مَّآءٍ فَاَحْیَا بِہِ الْاَرْضَ بَعْدَ مَوْتِہَا وَبَثَّ فِیْہَا مِنْ کُلِّ دَآبَّۃٍص وَّتَصْرِیْفِ الرِّیٰحِ وَالسَّحَابِ الْمُسَخَّرِ بَیْنَ السَّمَآءِ وَالْاَرْضِ لَاٰیٰتٍ لِّقَوْمٍ یَّعْقِلُوْنَ البقرۃ”یقیناً آسمانوں اور زمین کی تخلیق میں ‘ رات اور دن کے الٹ پھیر میں ‘ اور کشتیوں جہازوں میں جو سمندروں یا دریاؤں میں لوگوں کے لیے نفع بخش سامان لے کر چلتی ہیں ‘ اور اس پانی میں جو اللہ نے آسمان سے اتارا ہے ‘ پھر اس سے زندگی بخشی زمین کو اس کے مردہ ہوجانے کے بعد اور ہر قسم کے حیوانات اس کے اندر پھیلا دیے ‘ اور ہواؤں کی گردش میں ‘ اور ان بادلوں میں جو معلق کردیے گئے ہیں آسمانوں اور زمین کے درمیان ‘ یقیناً نشانیاں ہیں ان لوگوں کے لیے جو عقل سے کام لیں۔“
آیت 9 وَاِنَّ رَبَّکَ لَہُوَ الْعَزِیْزُ الرَّحِیْمُ ”یہاں ایک نکتہ لائقِ توجہ ہے کہ قرآن میں عام طور پر العزیز کے ساتھ اللہ تعالیٰ کا دوسرا صفاتی نام الحکیمآتا ہے ‘ مگر اس سورت میں الْعَزِیْزُ الرَّحِیْمُ کی تکرار ہے۔ دراصل اس کا مقصود یہ معلوم ہوتا ہے کہ اللہ تعالیٰ اگرچہ ”العزیز“ ہے یعنی زبردست طاقت کا مالک ہے ‘ وہ جو چاہے کرے مگر ساتھ ہی ساتھ وہ نہایت مہربان ‘ شفیق اور رحیم بھی ہے۔ اگر اللہ تعالیٰ چاہے تو پلک جھپکنے میں آسمان سے ایسا معجزہ اتاردے جس کے سامنے انہیں اپنی گردنیں جھکانے کے سوا چارہ نہ رہے۔ جیسا کہ قبل ازیں آیت 4 میں فرمایا گیا ہے : اِنْ نَّشَاْ نُنَزِّلْ عَلَیْہِمْ مِّنَ السَّمَآءِ اٰیَۃً فَظَلَّتْ اَعْنَاقُہُمْ لَہَا خٰضِعِیْنَ ”اگر ہم چاہیں تو ان پر ابھی آسمان سے ایک ایسی نشانی اتار دیں جس کے سامنے ان کی گردنیں جھک کر رہ جائیں“۔ چناچہ یہ اللہ تعالیٰ کی رحمت کا عظیم مظہر ہے کہ وہ فوری طور پر کوئی حسیّ معجزہ دکھا کر ان لوگوں کی مدت مہلت کو ختم نہیں کرنا چاہتا۔ وہ چاہتا ہے کہ اس دودھ کو کچھ دیر اور بلو لیا جائے ‘ شاید کہ اس میں سے کچھ مزید مکھن نکل آئے۔ شاید ان میں بھلائی کی استعداد رکھنے والے مزید کچھ لوگ موجود ہوں اور اس طرح انہیں بھی راہ راست پر آنے کا موقع مل جائے۔ بہر حال اس وجہ سے ان کے مسلسل مطالبے کے باوجود بھی انہیں معجزہ نہیں دکھا یا جا رہا تھا ‘ مگر وہ نادان اپنے اس مطالبے کے پورا نہ ہونے کو آپ ﷺ کے خلاف ایک دلیل کے طور پر استعمال کر رہے تھے۔
آیت 13 وَیَضِیْقُ صَدْرِیْ وَلَا یَنْطَلِقُ لِسَانِیْ فَاَرْسِلْ اِلٰی ہٰرُوْنَ ” تاکہ اس عظیم مشن میں وہ میرے دست وبازو بنیں اور اس کام میں میرا ہاتھ بٹائیں۔
آیت 14 وَلَہُمْ عَلَیَّ ذَنْبٌ فَاَخَافُ اَنْ یَّقْتُلُوْنِ ”مصر میں حضرت موسیٰ علیہ السلام کے ہاتھوں ایک قبطی قتل ہوگیا تھا۔ اس واقعہ کی تفصیل سورة القصص میں آئے گی۔ اگرچہ یہ قتل عمد نہیں بلکہ قتل خطا تھا ‘ لیکن تھا تو بہر حال قتل۔ اس لیے حضرت موسیٰ علیہ السلام کا اندیشہ درست تھا کہ وہ انہیں دیکھتے ہی گرفتار کرلیں گے اور مقدمہ چلا کر سزائے موت کا مستحق ٹھہرا دیں گے۔
آیت 17 اَنْ اَرْسِلْ مَعَنَا بَنِیْٓ اِسْرَآءِ یْلَ ”کہ اب تم بنی اسرائیل کو مزید تنگ نہ کرو اور انہیں آزاد کر کے ہمارے ساتھ جانے کی اجازت دے دو۔
آیت 18 قَالَ اَلَمْ نُرَبِّکَ فِیْنَا وَلِیْدًا وَّلَبِثْتَ فِیْنَا مِنْ عُمُرِکَ سِنِیْنَ ”یہ قرآن کا خاص اسلوب ہے کہ کوئی واقعہ بیان کرتے ہوئے اس کی غیر ضروری تفاصیل چھوڑ دی جاتی ہیں۔ چناچہ یہاں حضرت موسیٰ علیہ السلام کے مصر پہنچنے اور اپنے بھائی ہارون علیہ السلام کے ساتھ فرعون کے دربار میں جا کر اسے دعوت دینے سے متعلق تمام تفصیلات کو چھوڑ کر فرعون کے جواب کو نقل کیا گیا ہے کہ کیا تم وہی نہیں ہو جس کو ہم نے دریائے نیل میں بہتے ہوئے صندوق سے نکالا تھا اور پھر پال پوس کر بڑا کیا تھا ؟ آیت زیر مطالعہ میں قرآن کے الفاظ کا امکانی حد تک مناسب انداز میں ترجمہ تو وہی ہے جو اوپر کیا گیا ہے ‘ لیکن جس ماحول اور جس انداز میں فرعون نے یہ جملے کہے ہوں گے ان کا تصور کریں تو مفہوم کچھ یوں ہوگا کہ تم ہمارے ٹکڑوں پر پلے ہو اور آج اللہ کے رسول بن کر ہمارے ہی سامنے آ کھڑے ہوئے ہو۔ ہماری بلیّ اور ہمیں کو میاؤں ![ سورة الاعراف کی آیات 104 ‘ 105 کے ذیل میں یہ وضاحت آچکی ہے کہ یہ وہ فرعون نہ تھا جس کے گھر میں حضرت موسیٰ علیہ السلام نے پرورش پائی تھی ‘ بلکہ یہ اس کا بیٹا تھا۔ زیر مطالعہ آیت کے اسلوب سے بھی اس کی تائید ہوتی ہے۔ اگر یہ وہی فرعون ہوتا تو کہتا کہ میں نے تجھے پالا پوسا ‘ لیکن یہ کہہ رہا ہے کہ تو ہمارے ہاں رہا ہے اور ہم نے تیری پرورش کی ہے۔ ]
آیت 19 وَفَعَلْتَ فَعْلَتَکَ الَّتِیْ فَعَلْتَ وَاَنْتَ مِنَ الْکٰفِرِیْنَ ”فرعون نے اپنے مزعومہ احسانات جتلانے کے بعد حضرت موسیٰ علیہ السلام کو یہ بھی یادد لا دیا کہ تم نے ہمارے ایک آدمی کو بھی قتل کیا ہوا ہے۔ اور آخر میں بڑی رعونت سے کہا کہ تم کتنے ناشکر گزار اور احسان فراموش ہو !