اس صفحہ میں سورہ Al-Muminoon کی تمام آیات کے علاوہ تفسیر بیان القرآن (ڈاکٹر اسرار احمد) کی تمام آیات کی تفسیر بھی شامل ہے۔ پہلے حصے میں آپ سورہ المؤمنون کو صفحات میں ترتیب سے پڑھ سکتے ہیں جیسا کہ یہ قرآن میں موجود ہے۔ کسی آیت کی تفسیر پڑھنے کے لیے اس کے نمبر پر کلک کریں۔


آیت 1 قَدْ اَفْلَحَ الْمُؤْمِنُوْنَ ”اس آیت کا یہ ترجمہ شیخ الہند مولانا محمود حسن دیوبندی کا ہے۔ مگر خود حضرت شیخ الہند رح کا کہنا ہے کہ انہوں نے ”موضح القرآن“ میں شاہ عبدالقاد ردہلوی کا ترجمہ ہی اختیار کیا ہے اور اس میں کہیں کہیں زبان کی تبدیلیوں کے علاوہ کوئی اور تبدیلی نہیں کی۔ گویا بنیادی طور پر یہ ترجمہ شاہ عبدالقادر دہلوی رح کا ہے اور میرے نزدیک لفظ فلح کی اصل روح کے قریب ترین ہے۔ ”فَلَاح“ کا ترجمہ بالعموم ”کامیابی“ سے کیا جاتا ہے ‘ لیکن اس کے مفہوم کو درست انداز میں سمجھنے کے لیے ضروری ہے کہ لفظ ”فلاح“ کے حقیقی اور لغوی معنی کو اچھی طرح ذہن نشین کرلیا جائے۔ اس مادہ کے لغوی معنی ہیں : ”پھاڑنا“۔ اسی معنی میں کسان کو عربی میں ”فلّاح“ کہا جاتا ہے ‘ اس لیے کہ وہ اپنے ہل کی نوک سے زمین کو پھاڑتا ہے۔ عربی کی ایک کہاوت ہے : اِنَّ الحَدِید بالحَدِید یفلَحُ یعنی لوہا لوہے کو کاٹتا ہے۔ اس طرح فَلَح کا مفہوم گویا فلقَ کے قریب تر ہے۔ سورة الانعام کی آیت 95 میں لفظ ”فلق“ اسی مفہوم میں آیا ہے : اِنَّ اللّٰہَ فَالِقُ الْحَبِّ وَالنَّوٰی ط ”یقیناً اللہ تعالیٰ گٹھلیوں اور بیجوں کو پھاڑنے والا ہے“۔ اس سے اگلی آیت میں یہی لفظ اللہ تعالیٰ کے لیے نمود صبح کے حوالے سے اس طرح استعمال ہوا ہے : فَالِقُ الْاِصْبَاحِ ج یعنی وہ تاریکی کا پردہ چاک کر کے صبح کو نمودار کرنے والا ہے۔ چونکہ فلح اور فلق دونوں قریب المعنی الفاظ ہیں اور دونوں کے معنی پھاڑنا ہے اس لیے آیت زیر نظر میں فلح کا مفہوم سمجھنے کے لیے فٰلِقُ الْحَبِّ وَالنَّوٰی کے حوالے سے گٹھلی کے پھٹنے اور اس کے اندر سے کو نپلیں برآمد ہونے کے عمل کو ذہن میں رکھیں۔ جس طرح گٹھلی کے اندر پورا پودا بالقوہّ potentially موجود ہے ‘ اسی طرح انسان کے اندر بھی اس کی انا یا روح اپنی تمام تر خصوصیات کے ساتھ موجود ہے۔ اور جس طرح گٹھلی کے پھٹنے فلق سے دو کو نپلیں برآمد ہوتی ہیں اور پھر ان سے پورا درخت بنتا ہے اسی طرح جب انسانی وجود کے اندر موجود مادیت کے پردے چاک فلح ہوتے ہیں تو اس کی انا یا روح بےنقاب ہوتی ہے اور اس کی نشوونما سے اس کی معنوی شخصیت ترقی پاتی ہے۔ انسان کی اسی انا یا روح کو اقبال نے خودی کا نام دیا ہے اور اس کو اجاگر develop کرنے کے تصور پر اپنے فلسفے کی بنیاد رکھی ہے۔ ڈاکٹر رفیع الدین مرحوم نے خصوصی طور پر آئیڈیل یا آدرش کے فلسفہ کے حوالے سے اس ضمن میں گزشتہ صفحات میں سورة الحج کی آیت 73 کی تشریح بھی مدنظر رہے اپنی معرکۃ الآراء کتاب The Idealogy of the Future میں اقبال کے فلسفہ خودی کی بہترین تعبیر کی ‘ ہے۔انسان بظاہر ایک مادی وجود کا نام ہے۔ اس وجود میں ہڈیاں ہیں ‘ گوشت ہے اور دیگر اعضاء ہیں۔ لیکن اس مادی وجود کے اندر اس کی انا اور روح بھی ہے جو اس کی اصل شخصیت ہے۔ انسان کہتا ہے میرا ہاتھ ‘ میرا پاؤں ‘ میری آنکھ ‘ میری ٹانگ ‘ میرا سر ‘ میرا جسم ! لیکن اس ”میرا“ اور ”میری“ کی تکرار میں ”میں“ کہاں ہے اور کون ہے ؟ یہ ”میں“ دراصل انسان کی انایا روح ہے۔ یعنی انسان کو حیوانوں کے مقابلے میں صرف عقل و شعور کی دولت سے ہی نہیں نوازا گیا بلکہ اسے روح ربانی کی نورانیت بھی عطا کی گئی ہے۔ بقول علامہ اقبال دم چیست ؟ پیام است ! شنیدی نشنیدی ؟در خاک تو یک جلوۂ عام است ندیدی ؟دیدن دگر آموز ! شنیدن دگر آموز ! !انسانی جسم کے اندر اس کی روح مادی غلافوں میں لپٹی ہوئی ہے۔ گویا یہ ایک مخفی خزانہ ہے جسے کھود کر نکالنے کی ضرورت ہے۔ اگر اس خزانے کو کام میں لانا ہے تو ”فلّاحی“ کے عمل سے مادیت کے پردوں کو چاک کرنا ہوگا اور آیت زیر نظر میں قَدْ اَفْلَحَ کے الفاظ اسی مفہوم میں آئے ہیں کہ مؤمنین صادقین نے اپنی روحوں پر پڑے ہوئے مادیت کے پردوں کو چاک کر کے اصل خزانے یعنی روح کو بےنقاب کرنے اور اس کی نشوونما develop کرنے کا مشکل کام کر دکھایا ہے۔ جبکہ عام انسان کی تمام تر توجہ اپنے حیوانی وجود پر ہی مرکوز رہتی ہے۔ نہ وہ اپنی روح کی خبر لیتا ہے اور نہ ہی اس کی غذا اور نشوونما کا اہتمام کرتا ہے۔ اس کا نتیجہ یہ ہوتا ہے کہ ایسے انسان کی روح سسک سسک کر مرجاتی ہے اور اس کا جسم اس کی روح کا مقبرہ بن جاتا ہے۔ بظاہر ایسے شخص کا شمار زندہ انسانوں میں ہوتا ہے لیکن حقیقت میں وہ مردہ ہوتا ہے۔ مثلاً ابوجہل زندہ ہوتے ہوئے بھی مردہ تھا۔ وہ اندھا اور بہرا تھا ‘ اسی لیے نہ تو وہ محمد رسول اللہ ﷺ کو پہچان سکا اور نہ آپ ﷺ کی دعوت کو سن سکا۔ اس کے برعکس ایک بندۂ مؤمن ہے جو حقیقت میں زندہ ہے ‘ اس لیے کہ اس کی روح زندہ ہے۔ جیسے کہ سورة النحل کی آیت 97 میں ارشاد ہوا : فَلَنُحْیِیَنَّہٗ حَیٰوۃً طَیِّبَۃً ج ”تو ہم ضرور اسے عطا کریں گے ایک پاکیزہ زندگی“۔ چناچہ جو شخص بھی اپنی خودی کے ارتقاء development of self اور اپنے کردار کی تعمیر development of character کا مشکل کارنامہ سرانجام دے پائے گا وہی حقیقت میں کامیاب قرار پائے گا اور وہی آیت زیر مطالعہ کے حوالے سے قَدْ اَفْلَحَ کا مصداق ٹھہرے گا۔ اور یہ کامیابی ہر انسان کی پہنچ میں ہے ‘ کیونکہ روح کی دولت تو ہر انسان کو عطا ہوئی ہے۔ ہندی شاعر بھیکؔ کے بقول : ع ”بھیکاؔ بھوکا کوئی نہیں ‘ سب کی گدڑی لال !“ یعنی بھوکا یا نادار کوئی بھی نہیں ہے ‘ ہر انسان کی گٹھڑی میں لعل موجود ہے ‘ بس اس گٹھڑی کی گرہ کھول کر اس ”لعل“ یا دولت کو دریافت کرنے اور اسے کام میں لانے کا فن اسے آنا چاہیے۔ یہی نکتہ اس خوبصورت فارسی شعر میں ایک دوسرے انداز میں پیش کیا گیا ہے : ستم است گر ہو ست کشد کہ بہ سیرسرو وسمن درآ تو زغنچہ کم نہ دمیدۂ درِدل کشا بہ چمن در آ !یعنی تمہارے اندر بھی ایک مہکتا ہوا چمن موجود ہے ‘ تم اپنے دل کے دروازے سے داخل ہو کر اس چمن کی سیر سے لطف اندوز ہوسکتے ہو۔ اسی حقیقت کو قرآن حکیم میں اس طرح واضح کیا گیا ہے : وَفِیْٓ اَنْفُسِکُمْط اَفَلَا تُبْصِرُوْنَ الذّٰرٰیت یعنی خود تمہارے اندرمعرفت کا سامان موجود ہے مگر تم لوگ اس سے غافل ہو۔ اپنشد کے ایک جملے کا انگریزی ترجمہ اس طرح ہے :" Man in his ignorance identifies himself with the material sheeths which encompass his real self."یعنی انسان اپنی جہالت کے باعث ان مادی غلافوں ہی کو اپنی ذات سمجھ بیٹھتا ہے جو اس کی ذات انا یا روح کے گرداگرد لپٹے ہوئے ہیں۔ اور یوں وہ نہ خود کو پہچان پاتا ہے اور نہ ہی اللہ تعالیٰ کی معرفت اسے حاصل ہوتی ہے۔ چناچہ اللہ کی معرفت حاصل کرنے کے لیے اپنی ذات کی معرفت ضروری ہے ‘ جیسے کہ صوفیاء کا قول ہے : مَنْ عَرَفَ نَفْسَہٗ فَقَدْ عَرَفَ رَبَّہٗ ”جس نے اپنے آپ کو پہچان لیا اس نے اپنے رب کو پہچان لیا“۔ دوسرے لفظوں میں اس کا مفہوم یہ ہے کہ جو اپنی ”انا“ self سے غافل رہا وہ معرفت الٰہی سے بھی محروم رہا۔ یہی نکتہ ہے جو سورة الحشر کی آیت 19 میں اس طرح واضح فرمایا گیا ہے : وَلَا تَکُوْنُوْا کَالَّذِیْنَ نَسُوا اللّٰہَ فَاَنْسٰٹہُمْ اَنْفُسَہُمْ ط ”ان لوگوں کی طرح نہ ہوجاؤ جنہوں نے اللہ کو بھلا دیا تو اللہ نے انہیں اپنے آپ سے غافل کردیا“۔ چناچہ لفظ فلحکا یہ مفہوم ذہن میں رکھ کر اس آیت کو پڑھیں تو بات واضح ہوجاتی ہے کہ اپنی شخصیت اور ذات کے مادی غلافوں کو پھاڑ کر اپنی معنوی شخصیت اور روح کو اجاگر کرنے اور اس کے ذریعے سے عرفان ذات اور پھر معرفتِ الٰہی تک پہنچنے جیسے مشکل مراحل ‘ اہل ایمان کامیابی سے طے کرلیتے ہیں۔ اور وہ کون سے اہل ایمان ہیں :
آیت 2 الَّذِیْنَ ہُمْ فِیْْ صَلَاتِہِمْ خٰشِعُوْنَ ”کامیاب ‘ بامراد اور فائز المرام اہل ایمان وہ ہیں کہ نماز پڑھتے ہوئے ان کی توجہ رکعتوں کی گنتی پوری کرنے پر ہی مرکوز نہیں ہوتی بلکہ وہ اپنی نمازوں میں عاجزی اور فروتنی اختیار کرتے ہیں۔ ان کی نمازیں حقیقی خشوع و خضوع کا منظر پیش کرتی ہیں۔
آیت 3 وَالَّذِیْنَ ہُمْ عَنِ اللَّغْوِ مُعْرِضُوْنَ ”یعنی ان کا دوسرا وصف ہے بےکار باتوں سے احتراز کرنا ‘ بچنا ‘ دامن بچائے رکھنا۔ لغو سے مراد گناہ یا معصیت کا کام نہیں ‘ بلکہ ہر ایسا عمل یا کام ہے جو بےفائدہ اور فضول ہو۔ جیسے لوگ محفل جما کر تاش کھیلتے ہیں اور وقت کو ایسے ضائع کرتے ہیں جیسے یہ کوئی بوجھ liability ہو اور اسے سر سے اتار پھینکنا ناگزیز ہو۔ انہیں احساس نہیں ہو تاکہ یہ وقت ہی تو انسان کا سب سے بڑا سرمایہ asset ہے۔ اس وقت سے فائدہ اٹھا کر ہی انسان اپنی عاقبت کو سنوار سکتا ہے اور جو اس وقت کو فضول میں ضائع کرتا ہے وہ گویا اپنی عاقبت کو ضائع کرتا ہے۔ اس آیت میں مؤمنین صادقین کی یہ صفت بیان کی گئی ہے کہ وہ مہلت زندگی کو اپنا قیمتی سرمایہ سمجھتے ہیں۔ انہیں زندگی میں ایک ایک لمحے کی اہمیت کا احساس ہوتا ہے۔ وہ جانتے ہیں کہ صرف ایک دفعہ ”سبحان اللہ“ کہنے سے اللہ کے ہاں ان کے درجات کس قدر بلند ہوجاتے ہیں۔ چناچہ وہ اپنا وقت فضول اور بےمقصد مصروفیات میں ضائع نہیں کرتے۔ وہ زندگی کے ایک ایک لمحے سے فائدہ اٹھا تے ہیں اور اسے اپنی شخصیت کی تعمیر اور آخرت کے اجر وثواب کے حصول کے لیے صرف کرتے ہیں۔
آیت 4 وَالَّذِیْنَ ہُمْ للزَّکٰوۃِ فٰعِلُوْنَ ”یہ کامیاب وبامراد اہل ایمان کا تیسرا وصف بیان ہوا۔ یہاں ”زکوٰۃ“ کا لفظ اصطلاحی معنی میں نہیں بلکہ اپنے لغوی معنی میں آیا ہے اور اس سے مراد تزکیۂ نفس ہے۔ اس لیے کہ یہ ابتدائی مکی دور کی سورت ہے اور اس وقت تک زکوٰۃ ادا کرنے کا ابھی کوئی تصور نہیں تھا۔ ویسے بھی قرآن حکیم میں زکوٰۃ کے ساتھ عموماً لفظ ”ایتاء“ آتا ہے۔ چناچہ آیت کا مفہوم یہ ہے کہ اللہ کے مؤمن بندے ہمہ وقت ‘ ہمہ تن اپنے نفس کے تزکیے کے لیے کوشاں اور اپنے دامن کے داغ دھبے دھونے کے بارے میں فکر مند رہتے ہیں۔
آیت 6 اِلَّا عَلآی اَزْوَاجِہِمْ اَوْ مَا مَلَکَتْ اَیْمَانُہُمْ فَاِنَّہُمْ غَیْرُ مَلُوْمِیْنَ ”ان کا چوتھا وصف یہ بیان ہوا کہ وہ صرف جائز طریقے سے اپنی جنسی خواہش پوری کرتے ہیں اور اس میں کچھ مضائقہ نہیں۔ یعنی جنسی جذبہ فی نفسہُٖ برا نہیں ‘ بلکہ برائی اس کے غلط استعمال میں ہے۔ اسلام کے سوا دوسرے مذاہب میں تجرد کی زندگی بسر کرنا اور اپنے جنسی جذبہ کو ‘ جو فطرت اور جبلتّ میں ایک نہایت قوی جذبہ ہے ‘ کچلنا ایک اعلیٰ ترین روحانی قدر قرار دیا جاتا ہے ‘ جبکہ اسلام دین فطرت ہے ‘ چناچہ وہ اس فطری و جبلی جذبہ کو بالکلیہ کچلنے اور دبانے کو قطعاً پسند نہیں کرتا۔ اس کا منشا و مدعا یہ ہے کہ اس جذبہ کی تسکین کے لیے جائز اور حلال راہیں اختیار کی جائیں۔ نکاح کو اسی لیے نبی اکرم ﷺ نے اپنی سنتوں میں سے ایک سنتّ قرار دیا ہے۔ چناچہ یہاں جنسی تسکین کے جائز راستوں کے لیے ”غَیْرُ مَلُوْمِیْنَ“ کا اسلوب اختیار کیا گیا ہے۔
آیت 7 فَمَنِ ابْتَغٰی وَرَآءَ ذٰلِکَ فَاُولٰٓءِکَ ہُمُ الْعٰدُوْنَ ”اس سلسلے میں جو کوئی حلال اور جائز طریقے سے ہٹ کر کوئی اور راستہ اختیار کرے گا وہ گناہ اور زیادتی کا مرتکب قرار پائے گا۔
آیت 8 وَالَّذِیْنَ ہُمْ لِاَمٰنٰتِہِمْ وَعَہْدِہِمْ رٰعُوْنَ ”اس آیت میں دو وصف بیان ہوئے ہیں۔ یعنی پانچواں وصف امانتوں کی پاسداری اور چھٹا وصف ایفائے عہد۔
آیت 9 وَالَّذِیْنَ ہُمْ عَلٰی صَلَوٰتِہِمْ یُحَافِظُوْنَ ”یہاں یہ نکتہ قابل توجہ ہے کہ اس مضمون کا آغاز بھی نماز کے ذکر سے کیا گیا تھا اور اس کا اختتام بھی نماز کے ذکر پر کیا جا رہا ہے۔ آیت 2 میں کامیاب و بامراد مؤمنین کی پہلی صفت یہ بتائی گئی تھی : الَّذِیْنَ ہُمْ فِیْْ صَلَاتِہِمْ خٰشِعُوْنَ کہ وہ لوگ اپنی نمازوں میں خشوع اختیار کرنے والے ہیں۔ یعنی اس مضمون کے آغاز میں نماز کی باطنی کیفیت کے حسن کا ذکر کیا گیا تھا ‘ جبکہ اختتام پر آیت زیر نظر میں نماز کے نظام کی بات کی گئی ہے کہ سچے اہل ایمان نماز پر مداومت کرتے ہیں اور اس کے تمام آداب و قوانین کوّ کماحقہ ملحوظ رکھتے ہیں۔
اب جو مضمون آ رہا ہے وہ اس سے پہلے سورة الحج کی آیت 5 میں بھی آچکا ہے ‘ مگر وہاں اختصار کے ساتھ آیا تھا ‘ جبکہ یہاں زیادہ وضاحت اور جامعیت کے ساتھ آیا ہے۔ اس سے سورة الحج کے ساتھ اس سورت کی مشابہت کا پہلو بھی نظر آتا ہے۔آیت 12 وَلَقَدْ خَلَقْنَا الْاِنْسَانَ مِنْ سُلٰلَۃٍ مِّنْ طِیْنٍ ”تلوار کو نیام سے باہر کھینچنے کے عمل کو ”سَلَّ یَسُلُّ“ جبکہ نیام سے باہر نکلی ہوئی ننگی تلوار کو ”مَسْلُوْل“ کہا جاتا ہے۔ کسی بھی چیز کا اصل جوہر جو اس میں سے کشید کیا گیا ہو ”سُلَالَۃ“ کہلاتا ہے۔ چناچہ اس آیت کا ایک مفہوم تو یہ ہے کہ حضرت آدم علیہ السلام کو براہ راست مٹی کے جوہر سے تخلیق کیا گیا اور پھر پوری نسل انسانی چونکہ ان کی اولاد تھی اس لیے اپنی تخلیق کے حوالے سے ہر انسان کو گویا اسی مادہ تخلیق یعنی مٹی سے نسبت ٹھہری۔ لیکن میرے نزدیک اس کی زیادہ صحیح تعبیر یہ ہے کہ مرد کے جسم میں بننے والا نطفہ دراصل مٹی سے کشید کیا ہوا جوہر ہے۔ اس لیے کہ انسان کو خوراک تو مٹی ہی سے حاصل ہوتی ہے ‘ چاہے وہ معدنیات اور نباتات کی شکل میں اسے براہ راست زمین سے ملے یا نباتات پر پلنے والے جانوروں سے حاصل ہو۔ اس خوراک کی صورت میں گارے اور مٹی کے جوہر کشید ہو کر انسانی جسم میں جاتے ہیں اور اس سے وہ نطفہ بنتا ہے جس سے بالآخر بچے کی تخلیق ممکن ہوتی ہے۔
آیت 13 ثُمَّ جَعَلْنٰہُ نُطْفَۃً فِیْ قَرَارٍ مَّکِیْنٍ ”رحم uterus کو ایک محفوظ ٹھکانہ قرار دیا گیا ہے ‘ جس کی دیوار بہت مضبوط ہوتی ہے۔ نطفہ رحم مادر میں پہنچتا ہے اور بیضۂ انثی کے ساتھ مل کر ovum fertilized رحم کی دیوار کے اندر embed ہوجاتا ہے ‘ گویا دفن ہوجاتا ہے جیسے بیج زمین کے اندر دفن ہوجاتا ہے۔
آیت 14 ثُمَّ خَلَقْنَا النُّطْفَۃَ عَلَقَۃً ”عَلَقہ کا ترجمہ عام طور پر ”جما ہوا خون“ ہوتا آیا ہے جو کہ غلط ہے۔ لغوی اعتبار سے عربی مادہ علق ع ل ق سے معلق ‘ تعلق ‘ متعلق ‘ علاقہ وغیرہ الفاظ تو مشتق ہیں لیکن اس لفظ کا جمے ہوئے خون کے مفہوم و معانی کے ساتھ کوئی تعلق نہیں۔ دراصل جس زمانے میں یہ تراجم ہوئے ہیں اس میں نہ تو dissection کا کوئی تصور تھا اور نہ ہی ابھی مائیکروسکوپ ایجاد ہوئی تھی ‘ لہٰذا علم الجنین کے بارے میں تمام تر معلومات کی بنیاد ظاہری مشاہدے پر تھی۔ اور چونکہ ابتدائی ایام کا حمل گرنے کی صورت میں رحم سے بظاہر خون کے لوتھڑے ہی برآمد ہوتے تھے ‘ اس لیے اس سے یہی سمجھا گیا کہ رحم مادر میں انسانی تخلیق کی ابتدائی شکل جمے ہوئے خون کے لوتھڑے کی سی ہوتی ہے۔ آج جب ہم جنینیات Embryology کے بارے میں جدید سائنسی معلومات کی روشنی میں لفظ ”عَلَقہ“ پر غور کرتے ہیں تو اس کا مفہوم بالکل واضح ہوجاتا ہے۔ جدید سائنسی معلومات کے مطابق fertilized ovum ابتدائی مرحلے میں رحم کی دیوار کے اندر جما ہوا embeded ہوتا ہے ‘ جبکہ اگلے مرحلے میں وہ اس سے ابھر کر ‘ bulge out کر کے دیوار کے ساتھ جونک کی طرح لٹکنے لگ جاتا ہے۔ اور یہی دراصل ”علقہ“ ہے۔فَخَلَقْنَا الْعَلَقَۃَ مُضْغَۃً ”پھر اگلے مرحلے میں یہ ”علقہ“ گوشت کے ایک نیم چبائے ہوئے لوتھڑے کی شکل اختیار کرلیتا ہے۔ بلکہ ڈاکٹر کیتھ ایل مور موصوف دور حاضر میں علم الجنین پر سند کا درجہ رکھتے ہیں۔ اس حوالے سے ان کا ذکر بیان القرآن کے حصہ اوّل ‘ تعارف قرآن کے باب پنجم میں بھی آچکا ہے کے بارے میں بتایا جاتا ہے کہ انہوں نے اس کی وضاحت کے لیے کچے گوشت کا ایک ٹکڑا لیا اور واقعتا اسے دانتوں سے چبا کر دکھایا کہ دانتوں کے نشان پڑجانے سے اس گوشت کے ٹکڑے کی جو شکل بنی ہے بعینہٖ وہی شکل اس مرحلے میں ”مُضغۃ“ کی ہوتی ہے۔ فَخَلَقْنَا الْمُضْغَۃَ عِظٰمًا فَکَسَوْنَا الْعِظٰمَ لَحْمًاق ”اور اس کے بعد ”ثُمّ“ کے ساتھ چوتھے اور آخری دور کا ذکر ہے :ثُمَّ اَنْشَاْنٰہُ خَلْقًا اٰخَرَ ط ”آیت کے اس حصے میں معنی کا ایک جہان آباد ہے ‘ مگر اسے بہت کم لوگوں نے سمجھا ہے۔ عام لوگ قرآن کی ایسی بہت سی آیات کو پڑھتے ہوئے بیخبر ی سے یوں آگے گزر جاتے ہیں جیسے ان میں کوئی خاص بات نہ ہو ‘ مگر جس پر حقیقت منکشف ہوتی ہے اسے کلام اللہ کے ایک ایک حرف کے اندر قیامت مضمر دکھائی دیتی ہے۔ کتنے ہی مفسرین ہیں جو سورة الحدید کی تیسری آیت ہُوَ الْاَوَّلُ وَالْاٰخِرُ وَالظَّاہِرُ وَالْبَاطِنُ ج کی تفسیر کیے بغیر آگے گزر گئے ہیں ‘ لیکن امام رازی رح جب اسے پڑھتے ہیں تو ان کی نظر کسی اور ہی جہان کا نظارہ کرتی ہے ‘ اس کا اظہار وہ اس طرح کرتے ہیں : اِعْلَمْ اَنَّ ھٰذَا الْمَقَامَ مَقامٌ غَامِضٌ عَمِیْقٌ مُہِیبٌ جان لو کہ یہ مقام بہت مشکل ‘ بہت گہرا اور بہت پرہیبت ہے ! یہ قرآن کا معجزاتی پہلو ہے اور اس کا تعلق دیکھنے والی آنکھ سے ہے۔ بہر حال ان آیات کو پھر سے پڑھیے اور تخلیق کے مراحل میں ”فَ“ اور ”ثُمَّ“ کے نازک فرق کو سمجھنے کی کوشش کیجیے۔ غور کیجیے ! یہاں ”ثُمَّ“ کا وقفہ ایک پورے دور کو ظاہر کرتا ہے ‘ جبکہ تخلیقی عمل کے اندرونی مراحل کے بیان کو ”فَ“ سے الگ کیا گیا ہے : وَلَقَدْ خَلَقْنَا الْاِنْسَانَ مِنْ سُلٰلَۃٍ مِّنْ طِیْنٍ یعنی مٹی کے جوہر سے نطفے کی تخلیق ایک مکمل دور ہے۔ ثُمَّ جَعَلْنٰہُ نُطْفَۃً فِیْ قَرَارٍ مَّکِیْنٍ یہ دوسرا دور ہے۔ یعنی نطفے کا قرار مکین میں پہنچ کر ایک بیج کی حیثیت سے دفن ہوجانا۔ ثُمَّ خَلَقْنَا النُّطْفَۃَ عَلَقَۃً یہ تیسرے دور کا ذکر ہے اور اس دور کے اندر تین مراحل ہیں ‘ ہر مرحلے کے ذکر کے ساتھ ”فَ“ کا استعمال ہوا ہے : فَخَلَقْنَا الْعَلَقَۃَ مُضْغَۃً فَخَلَقْنَا الْمُضْغَۃَ عِظٰمًا فَکَسَوْنَا الْعِظٰمَ لَحْمًاق۔ اس کے بعد ”ثُمَّ“ کے ساتھ چوتھے اور آخری دور کا ذکر ہے : ثُمَّ اَنْشَاْنٰہُ خَلْقًا اٰخَرَ ط ”پھر ہم نے اسے ایک اور دوسری مخلوق بنا کھڑا کیا“۔ یعنی اب یہ ایک بالکل نئی مخلوق ہے۔ یہاں ”بالکل نئی مخلوق“ سے کیا مراد ہے ؟ اس کی تفصیل اس حدیث میں ملتی ہے جس کے راوی حضرت عبداللہ بن مسعود رض ہیں۔ یہ حدیث صحیح بخاری اور صحیح مسلم میں بایں الفاظ نقل ہوئی ہے : اِنَّ اَحَدَکُمْ یُجْمَعُ خَلْقُہٗ فِیْ بَطْنِ اُمِّہٖ اَرْبَعِیْنَ یَوْمًا نُطْفَۃً ، ثُمَّ یَکُوْنُ عَلَقَۃً مِّثْلَ ذٰلِکَ ، ثُمَّ یَکُوْنُ مُضْغَۃً مِّثْلَ ذٰلِکَ ، ثُمَّ یُرْسَلُ اِلَیْہِ الْمَلَکُ فَیَنْفُخُ فِیْہِ الرُّوْحَ۔۔ 1”تم میں سے ہر ایک کی تخلیق یوں ہوتی ہے کہ وہ اپنی ماں کے پیٹ میں چالیس یوم تک نطفہ کی صورت ‘ میں ‘ اس کے بعد اتنے ہی روز تک علقہ کی صورت میں ‘ اور اس کے بعد اتنے ہی روز گوشت کے لوتھڑے کی صورت میں رہتا ہے۔ بعد ازاں اس کی طرف ایک فرشتہ بھیجا جاتا ہے ‘ پس وہ اس میں روح پھونکتا ہے۔۔“یعنی چالیس دن تک نطفہ ‘ پھر چالیس دن تک علقہ اور اس کے بعد چالیس دن تک مضغۃ ‘ ایک سو بیس دن چار ماہ میں یہ تین مراحل مکمل ہونے کے بعد اللہ تعالیٰ ایک فرشتے کو بھیجتے ہیں۔ وہ کو لڈ سٹوریج عالم ارواح سے اس کی روح کو لا کر اس مادی جسم کے ساتھ ملا دیتا ہے اور یوں ایک نئی مخلوق وجود میں آجاتی ہے۔ یعنی اب تک وہ ایک حیوانی جسم تھا ‘ لیکن اس روح کے پھونکے جانے کے بعد وہ انسان بن گیا۔ البتہ اس حدیث کے مفہوم کو سمجھنے میں بھی لوگوں سے غلطی ہوئی ہے۔ عام طور پر یہی سمجھا گیا ہے کہ ایک سو بیس دن کے بعد اس جسم میں جان ڈال دی جاتی ہے۔ یعنی روح کو ”جان“ life سمجھا گیا ہے۔ گویا چار ماہ تک تخلیقی مراحل سے گزرتا ہوا یہ وجود بےجان تھا ؟ جبکہ حقیقت یہ ہے کہ زندگی یا جان اس میں پہلے دن سے ہی موجود تھی۔ حتیٰ کہ باپ کے نطفے کا خلیہ spermatozoon اور ماں کا بیضہ ovum بھی اپنی اپنی جگہ پر زندہ وجود ہیں اور ان دونوں کے اختلاط سے وجود میں آنے والا جفتہ zygote بھی۔ بہر حال ایک سو بیس دن کے بعد اس جسد حیوانی میں ”روح“ پھونکی جاتی ہے ‘ جو ایک نورانی چیز ہے اور وہی اسے حیوان سے انسان بناتی ہے۔ اور اسی تبدیلی یا تخلیقی مرحلے کو آیت زیر نظر میں ”خَلْقًا اٰخَرَ“ ایک نئی تخلیق سے تعبیر کیا گیا ہے۔
آیت 16 ثُمَّ اِنَّکُمْ یَوْمَ الْقِیٰمَۃِ تُبْعَثُوْنَ ”یہ گویا حیات انسانی کے مختلف مراحل کا بہترین اور جامع ترین بیان ہے ‘ جو ان آیات میں ہوا ہے۔ اس موضوع پر یہ قرآن حکیم کا ذروۂ سنام climax ہے۔
آیت 17 وَلَقَدْ خَلَقْنَا فَوْقَکُمْ سَبْعَ طَرَآءِقَق ”عام طور پر ”سَبْعَ طَرَآءِقَ“ سے سات آسمان مراد لیے جاتے ہیں۔ ”طرائق“ کے معنی راستوں کے بھی ہیں اور طبقوں کے بھی۔ دوسرے معنی کے مطابق اس سے ”تہہ بر تہہ سات آسمان“ مراد ہیں۔ واللہ اعلم ! جب تک انسانی علم کی رسائی اس کی حقیقت تک نہ ہوجائے ‘ اس بارے میں یقین سے کچھ نہیں کہا جاسکتا۔ اس لحاظ سے یہ آیت متشابہات میں سے ہوگی۔