سورۃ الانفال (8): آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں۔ - اردو ترجمہ

اس صفحہ میں سورہ Al-Anfaal کی تمام آیات کے علاوہ فی ظلال القرآن (سید ابراہیم قطب) کی تمام آیات کی تفسیر بھی شامل ہے۔ پہلے حصے میں آپ سورہ الأنفال کو صفحات میں ترتیب سے پڑھ سکتے ہیں جیسا کہ یہ قرآن میں موجود ہے۔ کسی آیت کی تفسیر پڑھنے کے لیے اس کے نمبر پر کلک کریں۔

سورۃ الانفال کے بارے میں معلومات

Surah Al-Anfaal
سُورَةُ الأَنفَالِ
صفحہ 177 (آیات 1 سے 8 تک)

يَسْـَٔلُونَكَ عَنِ ٱلْأَنفَالِ ۖ قُلِ ٱلْأَنفَالُ لِلَّهِ وَٱلرَّسُولِ ۖ فَٱتَّقُوا۟ ٱللَّهَ وَأَصْلِحُوا۟ ذَاتَ بَيْنِكُمْ ۖ وَأَطِيعُوا۟ ٱللَّهَ وَرَسُولَهُۥٓ إِن كُنتُم مُّؤْمِنِينَ إِنَّمَا ٱلْمُؤْمِنُونَ ٱلَّذِينَ إِذَا ذُكِرَ ٱللَّهُ وَجِلَتْ قُلُوبُهُمْ وَإِذَا تُلِيَتْ عَلَيْهِمْ ءَايَٰتُهُۥ زَادَتْهُمْ إِيمَٰنًا وَعَلَىٰ رَبِّهِمْ يَتَوَكَّلُونَ ٱلَّذِينَ يُقِيمُونَ ٱلصَّلَوٰةَ وَمِمَّا رَزَقْنَٰهُمْ يُنفِقُونَ أُو۟لَٰٓئِكَ هُمُ ٱلْمُؤْمِنُونَ حَقًّا ۚ لَّهُمْ دَرَجَٰتٌ عِندَ رَبِّهِمْ وَمَغْفِرَةٌ وَرِزْقٌ كَرِيمٌ كَمَآ أَخْرَجَكَ رَبُّكَ مِنۢ بَيْتِكَ بِٱلْحَقِّ وَإِنَّ فَرِيقًا مِّنَ ٱلْمُؤْمِنِينَ لَكَٰرِهُونَ يُجَٰدِلُونَكَ فِى ٱلْحَقِّ بَعْدَمَا تَبَيَّنَ كَأَنَّمَا يُسَاقُونَ إِلَى ٱلْمَوْتِ وَهُمْ يَنظُرُونَ وَإِذْ يَعِدُكُمُ ٱللَّهُ إِحْدَى ٱلطَّآئِفَتَيْنِ أَنَّهَا لَكُمْ وَتَوَدُّونَ أَنَّ غَيْرَ ذَاتِ ٱلشَّوْكَةِ تَكُونُ لَكُمْ وَيُرِيدُ ٱللَّهُ أَن يُحِقَّ ٱلْحَقَّ بِكَلِمَٰتِهِۦ وَيَقْطَعَ دَابِرَ ٱلْكَٰفِرِينَ لِيُحِقَّ ٱلْحَقَّ وَيُبْطِلَ ٱلْبَٰطِلَ وَلَوْ كَرِهَ ٱلْمُجْرِمُونَ
177

سورۃ الانفال کو سنیں (عربی اور اردو ترجمہ)

سورۃ الانفال کی تفسیر (فی ظلال القرآن: سید ابراہیم قطب)

اردو ترجمہ

تم سے انفال کے متعلق پوچھتے ہیں؟ کہو “یہ انفال تو اللہ اور اُس کے رسُولؐ کے ہیں، پس تم لوگ اللہ سے ڈرو اور اپنے آپس کے تعلقات درست کرو اور اللہ اور اُس کے رسولؐ کی اطاعت کرو اگر تم مومن ہو"

انگریزی ٹرانسلیٹریشن

Yasaloonaka AAani alanfali quli alanfalu lillahi waalrrasooli faittaqoo Allaha waaslihoo thata baynikum waateeAAoo Allaha warasoolahu in kuntum mumineena

(سورۃ کے تعارف کا بقیہ حصہ)

جو لوگ نظریہ جہاد اسلامی کے اخلاقی جواز کے لیے صرف دار الاسلام کی حفاظت کے اسباب و وجوہ تلاش کرتے ہیں ، انہوں نے در اصل نظام اسلامی کی صحیح قدر و قیمت کا اندازہ ہی نہیں لگایا۔ وہ اس نظام کو ایک وطن سے بھی کم تر درجے کی کوئی چیز سمجھتے ہیں ، حالانکہ اسلامی نقطہ نظفر سے یہ خیال درست نہیں ہے۔ یہ بالکل ایک یا تصور ہے جو اسلامی تصور پر غالب ہورہا ہے۔ حالانکہ حقیقت یہ ہے کہ اسلام پہلے عقیدے کو اہمیت دیتا ہے ، پھر اس نظام کو جو اس عقیدے پر مبنی ہوتا ہے۔ پھر اس معاشرے کو جس میں وہ نظام قائم ہوتا ہے یہی چیزیں اسلامی تصور حیات میں اہمیت کی حامل ہیں۔۔۔ باقی رہی صرف کوئی سرزمین تو بذات خود اسلام میں اس کی کوئی اہمیت نہیں۔ کسی اسلامی سرزمین کو اہمیت صرف اس وجہ سے حاصل ہوتی ہے کہ اس میں اللہ تعالیٰ کی حکومت قائم ہوتی ہے اور وہ اسلامی عقیدے کا گہوارا اور اسلامی نظام حیات کے لیے ایک کھیت کی حیثیت اختیار کرکے دار الاسلام قرار پاتی ہے اور " تحریک آزادی انسان " کے لیے مرکز بن جاتی ہے۔

دار الاسلام کی حفاظت بھی اس لیے ہوتی ہے کہ اس عقیدے ، اس نظام حیات اور اس معاشرے کی حفاظت ہو ، جو اس دار الاسلام میں قائم ہوتا ہے۔ بذات خود دار الاسلام کوئی مستقل بالذات مقصد نہیں اور نہ تحریک جہاد اسلامی منتہائے نظر صرف دار الاسلام کی حفاظت ہی ہے۔ اس کی حفاظت تو محض اس لیے کی جاتی ہے کہ وہاں حکومت الہیہ کا قیام عمل میں لایا جاسکے اور اس کے بعد تمام روئے زمین پر پھیلنے اور تمام نوع انسانی تک دعوت اسلامی کو پہنچانے کے لیے اسے مرکز بتایا جاسکے۔ اس طرح گویا پوری انسانیت اس دین کا موضوع ہے اور پورا کرہ ارض اس کا میدان کار ہے۔

جیسا کہ اس سے پہلے ہم کہہ چکے ہیں ، جب بھی دین کو پھیلانے کا کام شروع ہوگا اس کے راستے میں اس وقت کی سیاسی طاقت ، اس وقت کے موجودہ اجتماعی نظام اور اس وقت کے معاشروں کی عادات واطوار کی جانب سے مادی رکاوٹیں کھڑی کردی جاتی ہیں۔ پھر اسلام بھی ، ان تمام چیزوں کو اپنی قوت کے بل بوتے پر اپنے راستے سے ہٹاتا ہے تاکہ وہ براہ راست لوگوں کو اپیل کرسکے ، ان کے ضمیر اور ان کے افکار کو مخاطب کرسکے اور تبلیغ دین اور انسان کے درمیان کوئی مادی رکاوٹ نہ رہے۔ اس کے بعد انہیں اختیار دیا جائے کہ وہ اسلامی عقیدے کو قبول کرتے ہیں یا نہیں۔

ہمیں اسلام کے نظریہ جہاد کے بارے میں ، کسی سے مرعوب نہ ہونا چاہیے اور نہ مستشرقین کی وسوسہ اندازیوں سے متاثر ہونا چاہیے۔ موجودہ بین الاقوامی حالات سے دب کر ، اسلام کے نظریہ جہاد کی جدید تعبیر کرنا مناسب نہیں ہے۔ اس سے اس کی روح ختم ہوجائے گی۔ حقیقت یہ ہے کہ وہ حالات اور واقعات جن کا وقتی دفاع سے تھا ، اگر وہ نہ بھی ہوتے تو بھی مسلمان اسی طرح جہاد کرتے جس طرح انہوں نے ان حالات کے ہوتے ہوئے کیا۔

براہ راست مطالعہ

ہمیں صرف اسلامی نظام حیات کا تاریخی جائزہ لینا چاہئے اور دیکھنا چاہئے کہ وہ کن کن امور کو اولیت دیتا ہے۔ اس کا مزاج کیا ہے ، اور وہ کس چیز کا اعلان کرتا ہے۔ اس کا طریق کار کیا ہے ؟ ان تمام امور کے بارے میں کوئی حتمی فیصلے کرتے وقت ہمیں وقتی اور دفاعی اقدامات اور دائمی نصب العین میں فرق کرنا چاہیے۔

یہ بات اپنی جگہ بالکل درست کہ یہ دین حملہ آوروں کا دفاع بھی کرتا ہے کیونکہ جاہلیت کسی حال میں بھی اسے برداشت نہیں کرسکتی۔ محض یہ اعلان ہی جاہلیت کے ایک بڑا چیلنج ہے کہ اللہ کے سوا کوئی اور الہ نہیں ہے۔ اس کے سوا کوئی انسان کسی کا غلام نہیں۔ خالی خولی اعلان ہی نہیں بلکہ اس کے ساتھ ساتھ ایک قیادت کے تحت عملی تحریک بھی منظم کرنا اور بالکل ایک نئے اور ممتاز معاشرہ کی بنیاد رکھنا ، جو سیاسی لحاظ سے اللہ کے سوا تمام حاکمیتوں کا انکار کرتا ہو ، یہ سب چیزیں ہمیشہ جاہلیت کے لیے ناقابل برداشت ہوتی ہیں۔ غرض اسلامی نظام زندگی کا وجود ہی اپنی اس تاریخی صورت میں ، جس میں حضور ﷺ نے اسے پیش کیا تھا ، اس بات کے لیے کافی تھا کہ اس وقت کے تمام جاہلی معاشرے اس کے خلاف اٹھ کھڑے ہوں ، جن کی بنیاد ہی اس بات پر تھی کہ انسان انسان کی غلامی کرے اور کوشش کرکے اس دین کو ختم کریں اور اپنے وجود کا دفاع کریں۔ ان حالات میں اسلامی نظام زندگی کے لیے بھی یہ ضروری تھا کہ وہ اپنا دفاع کرے اور پر خطر حالات میں بچاؤ کی تدابیر اختیار کرے۔ یہ ایک ناگزیر ضرورت تھی ، اسلام کے وجود کے ساتھ اس کا دفاع بھی ضروری تھا۔ ایسا کبھی نہیں ہوتا کہ کوئی نئی ابھرنے والی طاقت فوراً ہی اقدامی پوزیشن حاصل کرلے۔ ایک دور ایسا بھی ہوتا ہے کہ کوئی نئی ابھرنے والی طاقت فورا ہی اقدامی پوزیشن حاصل کرلے۔ ایک دور ایسا بھی ہوتا ہے جس میں اپنا دفاع کرن اپڑتا ہے لیکن اس کا مطلب یہ ہرگز نہیں ہوسکتا کہ اسلام ابد الآباد تک اپنا دفاع ہی کرتا رہے۔ بلکہ یہ بھی ایک حقیقت ہے کہ اسلام کے وجود کا تقاضا ہی یہ ہے کہ وہ مناسب حالات میں ، آگے بڑھے اور پوری انسانیت کو غیر اللہ کی غلامی سے رہائی دلائے۔ اس معاملہ میں اسلام کسی جغرافیائی حد بندی کا قائل نہیں ہے ، یہ اسلام کے مزاج کے خلاف ہے کہ پوری انسانیت کو جہالت اور گمراہی کے اندھیرے میں بھٹکتا اور ظلم و ستم میں پستا چھوڑ کر صرف ایک نسل یا ایک مخصوص قوم کی اصلاح پر قانع ہوجائے۔

بعض اوقات ایسے حالات میں بھی پیش آسکتے ہیں کہ جاہلیت کے حامی نظام اسلام کے بارے میں نرم رویہ اختیار کرتے ہیں۔

بعض اوقات ایسے حالات بھی پیش آسکتے ہیں کہ جاہلیت کے حامی نظام اسلام کے بارے میں نرم رویہ اختیار کرتے ہیں اور اس پر حملہ آور نہیں ہوتے اور اسلام بھی انہیں ان کی جغرافیائی حدود کے اندر آزاد چھوڑ دیتا ہے تاکہ وہ انسانوں کو غلام بنا کر ان پر حکمرانی کریں اور مداخلت نہیں کی جاتی اور نہ ہی تحریک اسلامی کو ان حدود تک وسیع کیا جاتا ہے۔ لیکن یہ وقفہ عارضی ہوتا ہے ، اصل پالیسی یہی ہوتی ہے کہ اسلام ان جاہلی معاشروں کے ساتھ اس وقت تک مصالحت نہیں کرتا ، جب تک وہ اسلام کے اقتدار اعلیٰ کے سامنے سر تسلیم خم نہ کردیں اور جزیہ ادا کرکے یہ ثبوت فراہم نہ کردیں کہ ان کے ملک کے دروازے تحریک اسلامی کے لیے کھلے ہیں اور ان کی حدود میں قائم حکومت ، اسلام کی راہ میں رکاوٹ نہیں ہے۔ یہ ہے اس دین کا مزاج اور اس کی اصل غرض وغایت یعنی تمام انسانیت کو غیر اللہ کی غلامی سے چھڑا کر صرف اللہ کی غلامی میں داخل کرنا ہے۔

دین اسلام کے اس تصور اور اس تصور کے درمیان میں زمین و آسمان کا فرق ہے جو اسے ایک محدود علاقے کے اندر بند کرکے رکھ دیتا ہے۔ اگر ہم اسلام کے اس محدود تصور کو اپنا لیں تو اس صورت میں ہمارے لیے یہ ضروری ہوجاتا ہے کہ قرن اول میں اسلام کی وسعت پذیری کے لیے وجوہ جواز تلاش کریں۔

لیکن اگر ہمارے سامنے اسلامی نظام زندگی کا تصور یہ ہے کہ اسلام تمام انسانوں کے لیے ، اللہ کا تجویز کردہ نظام زندگی ہے اور اس کا تعلق انسانوں کے کسی خاص گروہ اور نسل سے نہیں ہے تو اسلامی کی وسعت پسندی کی حقیقی وجوہات خود بخود ہمارے سامنے آجاتی ہیں اور جب تک یہ حقیقت ہمارے ذہنوں سے اوجھل رہتی ہے ، ہم اس وسعت پذیر کے لیے خارجی اسباب تلاش کرتے پھرتے ہیں حالانکہ مسئلہ کی اصلیت صرف اس قدر ہے کہ اسلام کا نصب العین پوری انسانیت کی حریت اور اللہ کی غلامی ہے اور جس کسی کے ذہن میں یہ حقیقت بیٹھ جائے اسے کسی اور اخلاقی جواز کے تلاش کی کوئی ضرورت نہیں رہتی۔

دو نقطہ ہائے نظر

اسلام کے نظریہ جہاد کے بارے میں دو نقطہ ہائے نظر پائے جاتے ہیں ، ایک یہ کہ اسلام مجبور تھا کہ وہ معرکہ جہاد میں کود پڑے کیونکہ جاہلی معاشرے اس کو مٹانے کے لیے اٹھ کھڑے ہوئے تھے ، دوسرا تصور یہ ہے کہ اسلام از خود اقدام کرتا ہے اور معرکہ جہاد میں داخل ہوتا ہے۔ اگرچہ ابتدائی دور میں ان دونوں تصورات کے درمیان امتیاز کرنا دشوار نظر آتا ہے کیونکہ دونوں صورتوں میں اسلام کو معرکہ جہاد میں کودنا پڑا ہے لیکن آگے جا کر دونوں میں فرق واضح ہوجاتا ہے ، جس سے اسلام کے بارے میں مسلمانوں کے نقطہ نظر اور احساس و شعور میں بڑی تبدیلی واقع ہوئی ہے اور اس کے دور رس نتائج مرتب ہوتے ہیں۔

دوسرے نقطہ نظر کے مطابق اسلام ایک ایسا نظام زندگی بن جاتا ہے جسے خود اللہ تعالیٰ نے تجویز کیا ہے۔ وہ چاہتا ہے کہ پوری انسانیت اللہ کی بندگی میں داخل ہو ، انسان پر صرف اللہ کا حکم چلے اور اس کی شریعت ملک کا قانون ہو اور الوہیت کا مستحق صرف اللہ ہو ، جب اسلام کے بارے میں یہ نقطہ نظر اختیار کیا جائے تو یہ اس کا طبیعی حق ہوجاتا ہے کہ وہ اپنے راستے میں حائل ہونے والی تمام مشکلات کو دور کرے تاکہ وہ براہ راست لوگوں کی عقل و شعور اور وجدان کو اپیل کرسکے۔ اسلام کے اس جامع تصور اور اس تصور کے درمیان بہت بڑآ فرق ہے ، جس کی رو سے اسے ایک " علاقائی اور مقامی " تصور کے طور پر پیش کیا جاتا ہے۔ اگر ہم اسے ایک علاقائی نظام سمجھیں تو پھر اس کا حق صرف یہ رہ جائے گا کہ وہ اپنے ان علاقائی حدود کے اندر اپنے وجود اور اپنی بقاء کے لیے مدافعت کرسکے۔ اسلام کے یہ دونوں تصورات نظریہ جہاد پر اثر انداز ہوتے ہیں۔ اگرچہ بظاہر دونوں میں کوئی خاص فرق نظر نہیں آتا۔ دونوں صورتوں میں مسلمانوں کو معرکہ جہاد میں کودنا پڑتا ہے لیکن دونوں تصورات کے نتیجے میں نظریہ جہاد کی نوعیت اور حقیقت بدل جاتی ہے۔

جب اسلام کسی ایک قوم اور نسل کا دین نہیں ہے تو پھر اس کا یہ فطری حق ہے کہ وہ متحرک ہو ، کیونکہ وہ ایک الہی نظام ہے اور پورے جہان کے لیے ہے۔ لہذا اس کے لیے یہ ضروری نہیں ہے کہ وہ آگے بڑھے اور زندگی کے باطل نظاموں کو ختم کردے۔ غلط اوضاع واطوار کے پردوں کو چاک کردے اور ان بندشوں کو ختم کردے جنہوں نے عوام الناس سے آزادانہ رد و قبول کے اختیار کو سلب کر رکھا ہے۔ اس معاملے میں اسلام نے صرف یہ احتیاط برتی ہے کہ وہ کسی ایک فرد پر جبر نہیں کرتا۔ بلکہ وہ زندگی کے اجتماعی نظم اور اجتماعی عادات واطوار پر حملہ آور ہوتا ہے تاکہ زندگی پر اثر انداز ہونے والے غلط اثرات سے افراد کو محفوظ رکھا جاسکے جو انسان کی فطرت کو بگاڑ کر اس کی آزادی کو سلب کرلیتے ہیں۔

اسلام کا یہ حق ہے کہ وہ لوگوں کو غیر اللہ کی غلامی سے نکال کر صرف اللہ کی غلامی میں داخل کرے اور اپنے اس مطمح نظر کو ایک حقیقت بنا دے کہ اللہ کے سوا کوئی رب اور آقا نہیں ہے۔ تمام لوگ اب جھوٹے آقاؤں کی غلامی سے آزاد ہیں۔ یہ کام صرف اس صورت میں ہوسکتا ہے کہ اس دنیا میں اسلامی نظام زندگی قائم ہو ، کیونکہ صرف یہی ایک نظام ہے جس میں اللہ تعالیٰ ہی تمام انسانوں کے لیے قانون سازی کرتا ہے ، خواہ وہ انسان حکمران ہوں یا محکوم ہوں ، سفید رنگ ہوں یا سیاہ فام ہوں ، دور کے رہنے والے ہوں یا قریب کے رہنے والے ہوں ، فقیر ہوں یا امیر ہوں۔ غرض ایک ہی قسم کی قانون سازی ہے جس کے سامنے سب کے سب سر تسلیم خم کیے ہوئے ہیں۔ جب اسلام کے سوا تمام دوسرے نظاموں میں حالت یہ ہے کہ بعض انسان انسانوں کی بندگی کر رہے ہیں ، کیونکہ ان کے لیے انسان قانون بناتے ہیں اور قانون سازی در اصل الوہیت کا ایک اہم خاصہ ہے ، جو شخص بھی یہ دعوے کرتا ہے کہ اسے انسان کے لیے قانون سازی کا حق ہے تو وہ در اصل ربوبیت کا دعویدار ہے ، خواہ وہ اپنے اس دعوے کا صریح الفاظ میں اعلان کرے یا نہ کرے اور جو شخص بھی کسی ایسے شخص کے دعوے کو تسلیم کرلیتا ہے وہ در اصل اسے اپنا الہ مان لیتا ہے خواہ وہ اس کا اعلان کرے یا نہ کرے۔

یہ بات اچھی طرح یاد رکھیے کہ اسلام محض فلسفہ اور نظریہ نہیں ہے کہ وہ فقط وعظ وبیان پر اکتفاء کرے اور اپنے تصورات کو لوگوں کے گوش گزار کردے بلکہ وہ ایک اجتماعی نظام زندگی ہے اور بڑی قوت اور زور سے آگے بڑھ کر لوگوں کو غیر اللہ کی غلامی سے آزاد کرنا چاہتا ہے اور دوسرے اجتماعی نظام اس کے اہل نہیں ہیں کہ وہ انسانوں کی اجتماعی زندگی کی تنظیم ان خطوط پر کرسکیں جو اسلام کو مطلوب ہیں۔ اس لیے اسلام اپنے آپ کو اس میں حق بجانب سمجھتا ہے کہ وہ ان باطل نظاموں کو جڑ سے اکھاڑ پھینکے تاکہ وہ انسان کی حریت فکر کی راہ میں رکاوٹ نہ بن سکیں۔ یہی مفہوم ہے ویکون الدین کلہ للہ کا۔ یعنی اسلامی نظام میں قانون سازی اور حاکمیت کے اصلی اختیارات صرف اللہ تعالیٰ ہی کو حاصل ہوتے ہیں۔

زمانہ حال کے بعض اہل قلم اسلامی نظام زندگی کی اس خصوصیت کو نہیں پا سکے اور اسلام کے نظریہ جہاد کو محض دفاعی نظریہ قرار دیتے ہیں۔ یہ لوگ مستشرقین کے اس پروپیگنڈے سے دب گئے ہیں کہ اسلام تلوار کے زور سے پھیلا رہا ہے اور وہ بہ جبر لوگوں کو مسلمان کرتا ہے۔ اپنی جگہ مستشرقین اسلامی نظام کی حقیقت سے اچھی طرح واقف ہیں لیکن اس کا مقصد یہ ہے کہ اسلام کے نظریہ جہاد کی حقیقت کے بارے میں غلط فہمیاں پیدا کردی جائیں۔ اس صورت حال کے مقابلے میں یہ اہل قلم اٹھ کھڑے ہوتے ہیں اور ان سوالات کا جواب دیتے ہیں اور ان کے لیے اس کے سوا اور کوئی چارہ کار ہی نہیں ہوتا کہ وہ دفاعی جنگ کے وجوہ و اسباب تلاش کریں۔ یہ حضرات اسلام کے مزاج اور اس کے نصب العین کو یکسر نظر انداز کردیتے ہیں حالانکہ اسلامی نظریہ حیات کی رو سے اسلام کا یہ فرض ہے کہ وہ اقدام کرے نہ کہ دفاع۔ ان شکست خوردہ اہل قلم کے دل و دماغ میں مذہب کا مغربی تصور اس قدر راسخ ہوچکا ہے کہ وہ اسلامی نظام زندگی کو بھی ایک مذہبی عقیدہ سمجھتے ہیں ، جسے زندگی کے عملی اور اجتماعی نظام سے کوئی سرورکار نہ ہو ، اس لیے دینی جہاد (Holy War) کے معنے ان کی نظروں میں صرف یہ رہ جاتے ہیں کہ لوگوں کو دین میں داخل کرنے کے لیے جہاد کیا جائے اور ان پر ایک خاص عقیدہ مسلط کردیا جائے ، حالانکہ صورت حال بالکل اس کے برعکس ہے۔ اسلام پوری زندگی کے لیے ایک مکمل نظام حیات ہے اور اس کی اساس اس عقیدے پر ہے کہ اس کائنات کا ایک خالق ہے جو خود حاکم اور فرمان روا بھی ہے اور اس نے یہ مکمل نظام پوری انسانیت کے لیے تجویز کیا ہے اور اس کے مطابق جہاد کے معنے یہ ہیں کہ انسانوں پر اس نظام کو نافذ کیا جائے۔ رہا یہ سوال کہ کوئی اسلامی عقائد کو اپناتا ہے یا نہیں تو یہ بالکل اس کے آزادانہ اختیار تمیزی پر موقوف ہے۔ البتہ یہ بات ضروری ہے کہ آزادانہ غور و فکر کے لیے اسے آزاد فضاء میسر ہو اور ایسی فضا میسر ہونے کے لیے اسلامی نظام زندگی کا نفاذ ضروری ہے۔ یہ ہے مذہب کا وہ حقیقی اسلامی تصور جو مذہب کے مغربی تصور سے بالکل مختلف ہے۔

اسلامی معاشرے کے ظہور کے بعد اور اس میں اسلامی نظام زندگی کے قیام کے بعد اللہ تعالیٰ اس معاشرے کو یہ اختیار دیتا ہے کہ وہ آگے بڑھے اور اقتدار پر قابض ہو اور اس نظام کو پورے کرہ ارض پر جہاں تک ممکن ہو ، نافذ کردے ، رہا یہ شعوری طور پر کوئی اس نظام زندگی کو قبول کرتا ہے یا نہیں تو اس میں ہر کوئی آزاد ہے۔ حالات اور مواقع کے اعتبار سے بعض اوقات یوں بھی ہوا ہے کہ اللہ تعالیٰ نے مسلمانوں کو جہاد بالسیف سے روکا ہے۔ یہ مستقل پالیسی نہ تھی بلکہ وقتی حالات اور مصالح کا تقاضا تھا۔ تحریک کے عملی تقاضوں کی بناء پر ایسا کیا گیا۔ ہم نے اس مضمون میں مختلف ادوار کی آیات پر بحث کرکے ان کا مفہوم متعین کردیا ہے۔ اس کی روشنی میں ہمیں چاہیے کہ وہ پالیسیان جو مختلف مواقع پر طے ہوئیں اور وہ نظریہ اور نصب العین جو ابد الآباد کے لیے طے ہوا ہے ، ان کے درمیان فرق کریں اور وقتی احکامات کے پیش نظر دائمی احکامات کو پس پشت نہ ڈالیں۔

اب ہمارے سامنے صرف یہ نکتہ رہ گیا ہے کہ اسلام کے نظریہ جہاد کا مزاج کیا ہے ؟ اور اسلامی نظام زندگی کی نوعیت کیا ہے تو اس سلسلے میں امیر جماعت اسلامی پاکستان سید ابو الاعلی مودودی کی نہایت ہی مختصراً مگر قیمتی بحث ہماری بہت ہی اچھی راہنمائی کرتی ہے۔ یہ بحث انہوں نے اپنی کتاب " جہاد فی سبیل اللہ " میں کی ہے۔ میں سمجھتا ہوں کہ یہاں اس کتاب سے قدرے طویل اقتباسات نقل کرنے کی ضرورت ہے۔ جو شخص اس موضوع کو اچھی طرح سمجھنا چاہتا ہے اس کے لیے اس کتاب کا پڑھنا نہایت ضروری ہے تاکہ وہ اس مسئلے کی گہرائی میں جا کر اسے اچھی طرح سمجھ سکے اور اس بات کا ادراک کرسکے کہ تحریک اسلامی کے برپا کرنے میں اس کا کیا کردار ہے ، فرماتے ہیں :

" عموما لفظ " جہاد " کا ترجمہ انگریزی زبان میں (Holy War) مقدس جنگ " کیا جاتا ہے اور اس کی تشریح و تفسیر مدتہائے دراز سے کچھ اس انداز میں کی جاتی رہی ہے کہ اب یہ لفظ " جوش جنوں " کا ہم معنی ہوکر رہ گیا ہے۔ اس کو سنتے ہی آدمی کی آنکھوں میں کچھ اس طرح کا نقشہ پھرنے لگتا ہے کہ مذہبی دیوانوں کا ایک گروہ ننگی تلواریں ہاتھ میں لیے داڑھیاں چڑھائے ، خونخوار آنکھوں کے ساتھ اللہ اکبر کے نعرے لگاتا ہوا چلا آرہا ہے۔ جہاں کسی کافر کو دیکھ پاتا ہے ، پکڑ لیتا ہے اور تلوار اس کی گردن پر رکھ کر کہتا ہے کہ بول لا الہ اللہ ورنہ ابھی سر تن سے جدا کردیا جاتا ہے۔ ماہرین نے ہماری یہ تصویر بڑی قلمکاریوں کے ساتھ بنائی ہے اور اس کے نیچے موٹے حرفوں میں لکھ دیا ہے کہ :

بوئے خوں آتی ہے اس قوم کے انسانوں سے

لطف یہ ہے کہ اس تصویر کے بنانے والے ہمارے وہ مہربان ہیں جو خود کئی صدیوں سے انتہا درجہ کی غیر مقدس جنگ (Unholy War) میں مشغول ہیں۔ ان کی اپنی تصویر یہ ہے کہ دولت اور اقتدار کے بھوکے ہر قسم کے اسلحہ سے مسلح ہوکر قزاقوں کی طرح ساری دنیا پر پل پڑے ہیں اور ہر طرف تجارت کی منڈیاں ، خام پیداوار کے ذخیرے ، نو آبادیاں بسانے کے قابل زمینیں اور معدنیات کی کانیں ڈھونڈتے پھرتے ہیں تاکہ اپنی حرص کی کبھی نہ بجھنے والی آگ کے لیے ایندھن فراہم کریں۔ ان کی جنگ خدا کی راہ میں نہیں بلکہ پیٹ کی راہ میں ہے۔ ہوس اور نفس امارہ کی راہ میں ہے۔ ان کے نزدیک کسی قوم پر حملہ کرنے کے لیے بس یہ کافی وجہ جواز ہے کہ اس کی زمین میں کانیں ہیں ، یا جن اس کافی پیدا ہوتی ہیں ، یا وہاں تیل نکل آیا ہے ، یا ان کے کارخانوں کا مال وہاں اچھی طرح کھپایا جاسکتا ہے ، یا اپنی زائد آبادی کو وہاں آسانی کے ساتھ بسایا جاسکتا ہے۔ کچھ اور نہیں تو اس قوم کا یہ گناہ بھی کوئی معمولی گناہ نہیں ہے کہ وہ کسی ایسے ملک کے راستے میں رہتی ہے جس پر یہ پہلے قبضہ کرچکے ہیں یا اب قبضہ کرنا چاہتے ہیں۔ ہم نے تو جو کچھ کیا وہ زمانہ ماضی کا قصہ ہے۔ اور ان کے کارنامے حال کے واقعات ہیں جو شب و روز دنیا کی آنکھوں کے سامنے گزر رہے ہیں۔ ایشیا ، افریقہ ، امریکہ ، غرض کرۂ زمین کا کون سا حصہ ایسا بچا رہ گیا ہے جو ان کی اس غیر مقدس جنگ سے لالہ زار نہیں ہوچکا ، مگر ان کی مہارت قابل داد ہے۔ انہوں نے ہماری تصویر اتنی بری بنائی کہ خود ان کی تصویر اس کے پیچھے چھپ گئی اور ہماری سادہ لوحی بھی قابل داد ہے۔ جب ہم نے غیروں کی بنائی ہوئی اپنی یہ تصویر دیکھی تو ایسے دہشت زدہ ہوئے کہ ہمیں اس تصویر کے پیچھے جھانک کر خود مصورروں کی صورت دیکھنے کا ہوش ہی نہ آیا اور لگے معذرت کرنے کہ حضور ! بھلا ہم جنگ و قتال کیا جانیں۔ ہم تو بھکشووؤں اور پادریوں کی طرح پر امن مبلغ لوگ ہیں۔ چند مذہبی عقائد کی تردید کرنا اور ان کی جگہ کچھ دوسرے عقائد لوگوں سے تسلیم کرالینا ، بس یہ ہمارا کام ہے۔ ہمیں تلوار سے کیا واسطہ ؟ البتہ اتنا قصور کبھی کبھار ہم سے ضرور ہوا ہے کہ جب کوئی ہمیں مارنے آیا تو ہم نے بھی جواب میں ہاتھ اٹھا دیا۔ سو اب تو ہم اس سے بھی توبہ کرچکے ہیں۔ حضور کی اطمینان کے لیے تلوار والے جہاد کو سرکاری طور پر منسوخ کردیا گیا ہے۔ اب تو جہاد فقط زبان و قلم کی کوشش کا نام ہے۔ بندق چلانا سرکار کا کام ہے اور زبان و قلم چلانا ہمارا کام۔

جہاد کے متعلق غلط فہمی کے اسباب

خیر یہ تو سیاسی چالوں کی بات ہے مگر خالص علمی حیثیت سے جب ہم ان اساب کا تجزیہ کرتے ہیں جن کی وجہ سے " جہاد فی سبیل اللہ " کی حقیقت کو سمجھنا غیر مسلموں ہی کے لیے نہیں ، خود مسلمانوں کے لیے بھی دشوار ہوگیا ہے تو ہمیں دو بڑی اور بنیادی غلط فہمیوں کا سراغ ملتا ہے۔

پہلی غلط فہمی یہ ہے کہ اسلام کو ان معنوں میں ایک مذہب سمجھ لیا گیا ہے جن میں لفظ مذہب عموماً بولا جاتا ہے۔

دوسری غلط فہمی یہ ہے کہ مسلمانوں کو ان معنوں میں محض ایک قوم سمجھ لیا گیا ہے جن میں یہ لفظ عموماً مستعمل ہوتا ہے۔

ان دو غلط فہمیوں نے صرف ایک جہاد ہی کے مسئلہ کو نہیں بلکہ مجموعی حیثیت سے پورے اسلام کے نقشہ کو بدل ڈالا ہے اور مسلمانوں کی پوزیشن کلی طور پر غلط کرکے رکھ دی ہے۔

" مذہب کے معنی عام اصطلاح کے اعتبار سے بجز اس کے اور کیا ہیں کہ وہ چند عقائد اور عبادات اور مراسم کا مجموعہ ہوتا ہے۔ اس معنی کے لحاظ سے مذہب کو واقعی ایک پرائیویٹ معاملہ ہی ہونا چاہیے۔ آپ کو اختیار ہے کہ جو عقیدہ چاہیں ، رکھیں اور آپ کا ضمیر جس کی عبادت کرنے پر راضی ہو ، اس کو جس طرح چاہیں پکاریں۔۔ زیادہ سے زیادہ اگر کوئی جوش اور سرگرمی آپ کے اندر اس مذہب کے لیے موجود ہے تو آپ دنیا بھر میں اپنے عقائد کی تبلیغ کرتے پھر یے اور دوسرے عقائد والوں سے مناظرے کیجیے۔ اس کے لیے تلوار ہاتھ میں پکڑنے کا کون سا موقع ہے ؟ کیا آپ لوگوں کو مار مار کر اپنا ہم عقیدہ بنانا چاہتے ہیں ؟ یہ سوال لازمی طور پر پیدا ہوتا ہے جبکہ آپ اسلام کو عام اصطلاح کی رو سے ایک " مذہب " قرار دے لیں۔ یہ پوزیشن اگر واقعی اسلام کی ہو تو جہاد کے لیے حقیقت میں کوئی وجہ جواز ثابت نہیں کی جاسکتی۔

اسی طرح " قوم " کے معنی اس کے سوا کیا ہیں کہ وہ ایک متجانس گروہ اشخاص (A homogencous Grup of men) کا نام ہے جو چند بنیادی امور میں مشترک ہونے کی وجہ سے باہم مجتمع اور دوسرے گروہوں سے ممتاز ہوگیا ہے۔ اس معنی میں جو گروہ ایک قوم ہو وہ دو ہی وجوہ سے تلوار اٹھاتا ہے اور اٹھا سکتا ہے۔ یا تو اس کے جائز حقوق چھیننے کے لیے کوئی اس پر حملہ کرے ، یا وہ خود دوسروں کے جائز حقوق چھیننے کے لیے کوئی اس پر حملہ کرے یا وہ خود دوسروں کے جائز حقوق چھینے کے لیے حملہ آور ہو۔ پہلی صورت میں تو خیر تلوار اٹھانے کے لیے کچھ نہ کچھ اخلاقی جواز موجودہ بھی ہے (اگرچہ بعض درھماتماؤں کے نزدیک یہ بھی ناجائز ہے) لیکن دوسری صورت کو تو بعض ڈکٹیٹروں کے سوا کوئی بھی جائز نہیں کہہ سکتا ، حتی کہ برطانیہ اور فرانس جیسی وسیع سلطنتوں سے مدبرین بھی آج اس کو جائز کہنے کی جرات نہیں رکھتے۔

جہاد کی حقیقت

پس اگر اسلام ایک " مذہب " اور مسلمان ایک " قوم " ہے تو جہاد کی ساری معنویت جس کی بنا پر اسلام میں افضل العبادات کہا گیا ہے ، سرے سے ختم ہوجاتی ہے۔ لیکن حقیقت یہ ہے کہ اسلام کسی " مذہب " کا اور مسلمان کسی " قوم " کا نام نہیں ہے۔ وہ در اصل اسلام ایک انقلابی نظریہ و مسلک ہے جو تمام دنیا کے اجتماعی نظم (Social Order) کو بدل کر اپنے نظریہ و مسلک کے مطابق اسے تعمیر کرنا چاہتا ہے۔ اور مسلمان اس بین الاقوامی انقلابی جماعت (International Revolution Party) کا اور اس تنہائی صرف طاقت کا نام ہے ، جو اس مقصد کو حاصل کرنے کے لیے اسلامی جماعت عمل میں لاتی ہے۔

تمام انقلابی مسلکوں کی طرح اسلام بھی عام مروج الفاظ کو چھوڑ کر اپنی ایک خاص اصطلاحی (Terminology) اختیار کرتا ہے تاکہ اس کے انقلابی تصورات عام تصورات سے ممتاز ہوسکیں۔ لفظ جہاد بھی اسی مخصوص اصطلاحی زبان سے تعلق رکھتا ہے۔ اسلام نے حرب اور اسی نوعیت کے دوسرے عربی الفاظ جو جنگ (War) کے مفہوم کو ادا کرتے ہیں ، قصداً ترک کردیے اور ان کی جگہ " جہاد " کا لفظ استعمال کیا جو (Struggle) کا ہم معنی ہے بلکہ اس سے زیادہ مبالغہ رکھتا ہے۔ انگریزی میں اس کا صحیح مفہوم یوں ادا کیا جاسکتا ہے :

(To exort Onc's Utmost endcavour in promoting a Cause) اپنی تمام طاقتیں کسی مقصد کی تحصیل میں صرف کردینا۔

سوال یہ ہے کہ پرانے الفاظ کو چھوڑ کر یہ نیا لفظ کیوں اختیار کیا گیا ؟ اس کا جواب بجز اس کے اور کچھ نہیں کہ " جنگ " کا لفظ قوموں اور سلطنتوں کی ان لڑائیوں کے لیے استعمال ہوتا تھا اور آج تک ہو رہا ہے۔ جو اشخاص یا جماعتوں کی نفسانی اغراض کے لیے لڑی جاتی ہیں۔ ان لڑائیوں کے مھرک محض اپنے شخصی یا اجتماعی مقاصد ہوتے ہیں جن کے اندر کسی نظرئیے اور کسی اصول کی حمایت کا شائبہ تک نہیں ہوتا۔ اسلام کی لڑائی چونکہ اس نوعیت کی نہیں ہے اس لیے وہ سرے سے اس لفظ ہی کو ترک کردیتا ہے۔ اس کے پیش نظر ایک قوم کا مفاد یا دوسری قوم کا مفاد نہیں ہے۔ وہ اس سے کوئی دلچسپی نہیں رکھتا کہ زمین پر ایک سلطنت کا قبضہ رہے یا دوسری سلطنت کا۔ اس کی دلچسپی جس چیز سے ہے وہ انسانیت کی فلاح ہے۔ اس فلاح کے لیے وہ اپنا ایک خاص نظریہ اور ایک عملی مسلک رکھتا ہے۔ اس نظرئیے اور مسلک کے خلاف جہاں کی حکومت بھی ہے ، اسلام اسے مٹانا چاہتا ہے۔ قطع نظر اس سے کہ وہ کوئی قوم ہو اور کوئی ملک ہو۔ اس کا مدعا اپنے نظریے اور مسلک کی حکومت قائم کرنا ہے۔ بلا لحاظ اس کے کہ کون اس کا جھنڈا لے کر اٹھتا ہے اور کس کی حکمرانی پر اس کی ضرب پڑتی ہے۔ وہ زمین مانگتا ہے۔ زمین کا ایک حصہ نہیں بلکہ پورا کرہ ارض۔۔ اس لیے نہیں کہ ایک قوم یا بہت سی قوموں کے ہاتھ سے نکل کر زمین کی حکومت کسی خاص قوم کے ہاتھ میں آجائے۔ بلکہ صرف اس لیے کہ انسانیت کی فلاح کا جو نظریہ اور پروگرام اس کے پاس ہے یا بالفاظ صحیح تر یوں ہے کہ فلاح انسانیت کے جس پروگرام کا نام " اسلام " ہے اس سے تمام نوع انسانی متمتع ہو۔ اس غرض کے لیے وہ تمام ان طاقتوں سے کام لینا چاہتا ہے جو انقلاب برپا کرنے کے لیے کارگر ہوسکتی ہیں ، اور ان سب طاقتوں کے استعمال کا ایک جامع نام وہ " جہاد " رکھتا ہے۔ زبان و قلم کے زور سے لوگوں کے نقطہ نظر کو بدلنا اور ان کے اندر ذہنی انقلاب پیدا کرنا بھی جہاد ہے۔ تلوار کے زور سے پرانے ظالمانہ نظام زندگی کو بدل دینا اور نیا عادلانہ نظام مرتب کرنا بھی جہاد ہے اور اس راہ میں مال صرف کرنا اور جسم سے دوڑ دھوپ کرنا بھی جہاد ہے۔

" فی سبیل اللہ " کی لازمی قید

لیکن اسلام کا جہاد نرا " جہاد " نہیں ہے بلکہ " جہاد فی سبیل الہ " ہے۔ " فی سبیل اللہ " کی قید اس کے ساتھ ایک لازمی قید ہے۔ یہ لفظ بھی اسلام کی اسی مخصوص اصطلاح زبان سے تعلق رکھتا ہے جس کی طرف ابھی میں اشارہ کرچکا ہوں۔ اس کا لفظی ترجمہ ہے " راہ خدا میں " اس ترجمے سے لوگ غلط فہمی پڑگئے اور یہ سمجھ بیٹھے کہ زبردستی لوگوں کو اسلام کے مذہبی عقائد کا پیرو بنانا جہاد فی سبیل اللہ ہے کیونکہ لوگوں کے تنگ دماغوں میں " راہ خدا " کا کوئی مفہوم اس کے سوا نہیں سما سکتا۔ مگر اسلام کی زبان میں اس کا مفہوم بہت وسیع ہے۔ ہر وہ کام جو اجتماعی فلاح و بہبود کے لیے کیا جائے اور جس کے کرنے والے کا مقصد اس سے خود کوئی دنیوی فائدہ اٹھانا نہ ہو بلکہ محض خدا کی خوشنودی حاصل کرنا ہو ، اسلام ایسے کام کو فی سبیل اللہ قرار دیتا ہے۔ مثال کے طور پر اگر آپ خیرات دیتے ہیں۔ اس نیت سے کہ اس دنیا میں مادی یا اخلاقی طور پر اس خیرات کا کوئی فائدہ آپ کی طرف پلٹ کر آئے تو یہ فی سبیل اللہ نہیں ہے۔ اور اگر خیرات سے اپ کی نیت یہ ہے کہ ایک غریب انسان کی مدد کرکے آپ خدا کی خوشنودی حاصل کریں تو یہ فی سبیل اللہ ہے۔ پس یہ اصطلاح مخصوص ہے ایسے کاموں کے لیے جو کامل خلوص کے ساتھ ، ہر قسم کی نفسانی اغراض سے پاک ہوکر ، اس نظرئیے پر کیے جائیں کہ انسان کا دوسرے انسانوں کی فلاح کے لیے کام کرنا خدا کی خوشنودی کا موجوب ہے اور انسان کی زندگی کا نصب العین مالک کائنات کی خوشنودی حاصل کرنے کے سوا کچھ نہیں ہے۔

" جہاد " کے لیے بھی " فی سبیل اللہ " کی قید اسی غرض کے لیے لگائی گئی ہے۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ کوئی شخص یا گروہ جب نظام زندگی میں انقلاب برپا کرنے اور اسلامی نظرئیے کے مطابق نیا نظام مرتب کرنے کے لیے اٹھے تو اس قیام اور اس سربازی و جاں نثاری میں اس کی اپنی کوئی نفسانی غرض نہ ہو۔ اس کا یہ مقصد ہر گز نہ ہو کہ قیصر کو ہٹا کر وہ خود قیصر بن جائے۔ اپنی ذات کے لیے مال و دولت ، یا شہرت و ناموری ، یا عزت و جاہ حاصل کرنے کا شائبہ تک اس کی جدوجہد کے مقاصد میں شامل نہ ہو۔ اس کی تمام قربانیوں اور ساری محنتوں کا مدعا صرف یہ ہو کہ بندگان خدا کے درمیان ایک عادلانہ نظام زندگی قائم کیا جائے۔ اس کے معاوضہ میں اسے خدا کی خوشنودی کے سوا کچھ بھی مطلوب نہ ہو۔ قرآن کہتا ہے۔

الذین آمنوا یقاتلون فی سبیل اللہ والذین کفروا یقاتلون فی سبیل الطاغوت۔ جو لوگ ایمان لائے ہیں وہ خدا کی راہ میں لڑتے ہیں اور جو کافر ہیں وہ طاغوت کی راہ میں لڑتے ہیں "۔

" طاغوت " کا مصدر " طغیان " ہے جس کے معنی حد سے گزر جانے کے ہیں۔ دریا جب اپنی حد سے گزر جاتا ہے تو آپ کہتے ہیں طغیانی آگئی ہے۔ اسی طرح جب آدمی اپنی جائز حد سے گزر کر اس غرض کے لیے اپنی طاقت استعمال کرتا ہے کہ انسانوں کا خدا بن جائے یا اپنے مناسب حصہ زائد فوائد حاصل کرے تو یہ طاغوت کی راہ میں لڑنا ہے۔

اور اس کے مقابلہ میں راہ خدا کی جنگ وہ ہے جس کا مقصد صرف یہ ہو کہ خدا کا قانون عدل دنیا میں قائم ہو ، لڑنے والا خود بھی اس کی پابندی کرے اور دوسروں سے بھی بھی اس کی پابندی کرائے۔ چناچہ قرآن کہتا ہے :

تلک الدار الاخرۃ نجعلہا للذین لایریدون علوا فی الارض ولا فسادا والعاقبۃ للمتقین۔ آخرت میں عزت کا مقام تو ہم نے صرف ان لوگوں کے لیے رکھا ہے جو زمین میں اپنی بڑائی قائم کرنا اور فساد کرنا نہیں چاہتے۔ عاقبت کی کامیابی صرف خدا ترس لوگوں کے لیے ہے۔

حدیث میں آیا ہے کہ ایک شخص نے رسول اللہ ﷺ سے دریافت کیا۔ " راہ خدا کی جنگ سے کیا مراد ہے ؟ ایک شخص مال کے لیے جنگ کرتا ہے۔ دوسرا شخص بہادری کی شہرت حاصل کرنے کے لیے جنگ کرتا ہے۔ تیسرے شخص کو کسی سے عداوت ہوتی ہے یا قومی حمیت کا جوش ہوتا ہے اس لیے جنگ کرتا ہے۔ ان میں سے کس کی جنگ فی سبیل اللہ ہے ؟ آنحضرت ﷺ نے جواب دیا۔ کسی کی بھی نہیں۔ فی سبیل اللہ تو صرف اس شخص کی جنگ ہے جو خدا کا بول بالا کرنے کے سوا کوئی مقصد نہیں رکھتا۔

ایک دوسری حدیث میں ہے کہ " اگر کسی شخص نے جنگ کی اور اس کے دل میں اونٹ باندھنے کی ایک رسی حاصل کرنے کی بھی نیت ہوئی تو اس کا اجر ضائع ہوگیا " اللہ صرف اس عمل کو قبول کرتا ہے جو محض اس کی خوشنودی کے لیے ہو اور کوئی شخصی یا جماعتی غرض پیش نظر نہ ہو۔ پس جہاد کے لیے فی سبیل اللہ کی قید اسلامی نقطہ نظر سے خاص اہمیت رکھتی ہے۔ مجرد جہاد تو دنیا میں سب ہی جاندار کرتے ہیں۔ ہر ایک اپنے مقصد کی تحصیل کے لیے اپنا پورا زور صرف کر رہا ہے لیکن " مسلمان " جس انقلابی جماعت کا نام ہے اس کے انقلابی نظریات میں سے ایک اہم ترین نظریہ بلکہ بنیادی نظریہ یہ ہے کہ اپنی جان و مال کھپاؤ، دنیا کی ساری سرکش طاقتوں سے لڑو ، اپنے جسم و روح کی ساری طاقتیں خرچ کردو ، اس لیے کہ دوسرے سرکشوں کو ہٹا کر تم ان کی جگہ لے لو ، بلکہ صرف اس لیے کہ دنیا سے سرکشی و طغیانی مٹ جائے اور خدا کا قانون دنیا میں نافذ ہو۔

جہاد کے اس مفہوم اور فی سبیل اللہ کی اس معنویت کو مختصراً بیان کردینے کے بعد اس دعوت انقلاب کی تھوڑی سی تشریح کرنا چاہتا ہوں جو اسلام لے کر آیا ہے تاکہ آسانی کے ساتھ یہ سمجھا جاسکے کہ اس دعوت کے لیے جہاد کی حاجت کیا ہے اور اس کی غایت (Objective) کیا ہے۔

اسلام کی دعوت انقلاب

اسلام کی دعوت انقلاب کا خلاصہ یہ ہے :

یا ایہا الناس اعبدوا ربکم الذی خلقکم۔ لوگوں ! صرف اپنے اس رب کی بندگی کرو جس نے تمہیں پیدا کیا۔

اسلام مزدوروں یا زمینداروں یا کاشت کاروں یا کارخانہ داروں کو نہیں پکارتا ، بلکہ تمام انسانوں کو پکارتا ہے۔ اس کا خطاب انسان سے بحیثیت انسان ہے اور وہ کہتا یہ ہے کہ اگر تم خدا کے سوا کسی کی بندگی و اطاعت اور فرماں برداری کرتے ہو تو اسے چھوڑ دو ۔ اگر خود تمہارے اندر خدائی کا داعیہ ہے تو اسے بھی دماغ سے نکال دو ۔ کیونکہ دوسروں سے اپنی بندگی کرانے اور دوسروں اک سر اپنے آگے جھکوانے کا حق بھی تم میں سے کسی کو حاصل نہیں ہے۔ تم سب کو ایک خدا کی بندگی قول کرنی چاہیے اور اس بندگی میں سب کو ایک سطح پر آجانا چاہیے۔

تعالیٰ الی کلمۃ سواء بیننا و بینکم الا نعبد الا اللہ ولا نشرک بہ شیئا ولا یتخذ بعضنا بعضا اربابا من دون اللہ۔ آؤ ہم اور تم ایک ایسی بات پر جمع ہوجائیں جو ہمارے اور تمہارے درمیان یکساں ہے۔ وہ یہ کہ ہم خدا کے سوا کسی کی بندگی نہ کریں۔ اور خداوندی میں کسی کو خدا کا شریک بھی نہ ٹھہرائیں اور ہم میں سے کوئی کسی کو خدا کے بجائے امر و نہی کا مالک بھی نہ بنائے۔

یہ عالمگیر اور کلی انقلاب کی دعوت تھی۔ اس نے پکار کر کہا ان الحکم الا اللہ حکومت سوائے خدا کے اور کسی کی نہیں ہے۔ کسی کو یہ حق نہیں پہنچتا کہ بذات خود انسانوں کا حکمران بن جائے اور اپنے اختیار سے جس چیز کا چاہے حکم دے اور جس چیز سے چاہے روک دے۔ کسی انسان کو بالذات امر و نہی کا ملک سمجھنا در اصل خدائی میں اسے شریک کرنا ہے۔ اور دنیا میں یہی اصل بنائے فساد ہے۔ اللہ نے انسان کو جس صحیح فطرت پر پیدا کیا ہے اور زندگی بسر کرنے کا جو سیدھا راستہ اسے بتایا ہے اس سے انسان کے ہٹنے کی وجہ صرف یہ ہے کہ لوگ خدا کو بھول جاتے ہیں اور نتیجۃ خود اپنی حقیقت کو بھی فراموش کردیتے ہیں۔ اس کا انجام پھر لازمی طور پر یہی ہوتا ہے کہ ایک طرف بعض اشخاص یا خاندان یا طبقے خدائی کا کھلا یا چھپا داعیہ لے کر اٹھتے ہیں اور اپنی طاقت سے ناجائز فائدہ اٹھا کر لوگوں کو اپنا بندہ بنا لیتے ہیں۔ اور دوسری طرف اسی خدا فروشی و خود فراموشی کا نتیجہ یہ بھی ہوتا ہے کہ لوگوں کا ایک حصہ طاقتوروں کی خداوندی مان لیتا ہے اور ان کے اس حق کو تسلیم کرلیتا ہے کہ وہ حکم کریں اور یہ اس حکم کے آگے سر جھکا دیں۔ یہ دنیا میں ظلم و فساد اور ناجائز انتفاع (Exploitation) کی بنیاد ہے اور اسلام پہلی ضرب اسی پر لگاتا ہے۔ وہ ہانکے پکارے کہتا ہے : ولا تطیعوا امر المسرفین۔ الذین یفسدون فی الارض ولا یصلحون۔ ان لوگوں کا حکم ہر گز نہ مانو جو اپنی جائز حد سے گزر گئے ہیں اور زمین میں فساد پھیلاتے ہیں اور اصلاح نہیں کرتے "۔

لاتطع من اغفلنا قلبہ عن ذکرنا واتبع ھواہ و کان امرہ فرطا۔ اس شخص کی اطاعت ہر گز نہ کر جس کے دل کو ہم نے اپنی یاد سے غافل کردیا ہے اور جو اپنی خواہشات نفس کا بندہ بن گیا ہے اور جس کا کام افراط وتفریط پر مبنی ہے۔

الا لعنۃ اللہ علی الظلمین۔ الذین یصدون عن سبیل اللہ و یبغونہا عوجا۔ خدا کی لعنت ان ظالموں پر جو خدا کے بنائے ہوئے زندگی کے سیدھے راستے میں رکاوٹیں ڈالتے ہیں اور اس کو ٹیڑھا کرنا چاہتے ہیں۔

وہ لوگوں سے پوچھتا ہے کہء ارباب متفرقون خیر ام اللہ الواحد القہار۔ یہ بہت سے چھوٹے خدا ، جن کی بندگی میں تم پسے جا رہے ہو ، ان کی بندگی قبول ہے ، یا اس ایک خدا کی جو سب سے زبردست ہے ؟ اگر اس خدائے واحد کی بندگی قبول نہ کروگے تو ان چھوٹے اور جھوٹے خداؤں کی آقائی سے تمہیں کبھی نجات نہ مل سکے گی۔ یہ کسی نہ کسی طور سے تم پر تسلط پا لیں گے ، اور فساد برپا کرکے رہیں گے : ان الملوک اذا دخلوا قریۃ افسدوھا وجعلوا اعزۃ اھلہا اذلۃ وکذلک یفعلون۔ یہ بادشاہ جب کسی بستی میں گھستے ہیں تو اس کے نظام حیات کو تہ وبالا کر ڈالتے ہیں اور اس کے عزت والوں کو ذلیل کردیتے ہیں اور ان کا یہی وطیرہ ہے۔

و اذا تولی سعی فی الارض لیفسدو فیہا و یھلک الحرث و النسل واللہ لا یحب الفساد۔ اور جب وہ اقتدار پا لیتا ہے تو زمین میں فساد پھیلاتا ہے کھیتوں کو خراب اور نسلوں کو تباہ کرتا ہے اور اللہ فساد کو پسند نہیں کرتا۔

یہاں پوری تفصیل کا موقع نہیں۔ مختصراً میں یہ بات آپ کے ذہن نشین کرنا چاہتا ہوں کہ اسلام کی دعوت توحید و خدا پرستی محض اس معنی میں ایک مذہبی عقیدے کی دعوت نہ تھی جس میں عام طور پر مذہبی عقائد کی دعوت ہوا کرتی ہے ، بلکہ حقیقت میں یہ ایک اجتماعی انقلاب (Social Revolution) کی دعوت تھی۔ اس کی ضرب بلا واسطہ ان طبقوں پر پڑتی تھی جنہوں نے مذہبی رنگ میں پروہت بن کر ، یا سیاسی رنگ میں بادشاہ اور رئین اور حکمران گروہ بن کر ، یا معاشری نگ میں مہاجن اور زمیندار اور اجارہ دار بن کر عامۃ الناس کو اپنا بندہ بنا لیا تھا۔ یہ کہیں علانیہ ارباب من دون اللہ بنے ہوئے تھے۔ دنیا سے اپنے پیدائشی یا طبقاتی حقوق کی بنا پر اطاعت و بندگی کا مطالبہ کرتے تھے اور صاف کہتے تھے کہ ما لکم من الہ غیرہ اور انا ربکم الاعلی اور انا احی و امیت اور من اشد منا قوۃ اور کسی جگہ انہوں نے عامۃ لناس کی جہالت کو استعمال (Exploit) کرنے کے لیے بتوں اور ہیکلوں کی شکل میں مصنوعی خدا بنا رکھے تھے جن کی آڑ پکڑ کر یہ اپنے خداوندی حقوق بندگان خدا سے تسلیم کراتے تھے۔ پس کفر و شرک اور بت پرستی کے خلاف اسلام کی دعوت ، اور خدائے واحد کی بندگی و عبودیت کے لیے اسلام کی تبلیغ ، براہ راست حکومت اور اس کو سہارا دینے والے یا اس کے سہارے چلنے والے طبقوں کی اغراض سے متصادم ہوتی تھی۔ اسی وجہ سے جب کبھی کسی نبی نے یا قوم اعبدوا اللہ ما لکم من الہ غیرہ کی صدا بلند کی ، حکومت وقت فوراً اس کے مقابلے میں آن کھڑی ہوئی اور تمام ناجائز انتفاع کرنے والے طبقے اس کی مخالفت پر کمر بستہ ہوگے۔ کیونکہ یہ محض ایک ما بعد الطبیعی قضیہ (Mataphysical Proposition) کا بیان نہ تھا ، بلکہ ایک اجتماعی انقلاب کا اعلان تھا اور اس میں پہلی اواز سنتے ہی سیاسی شورش کی بو سونگھ لی جاتی تھی۔

اسلامی دعوت انقلاب کی خصوصیت

اس میں شک نہیں کہ انبیاء (علیہم السلام) سب کے سب انقلابی لیڈر تھے اور سیدنا محمد ﷺ سب سے بڑے انقلابی لیڈر ہیں۔ لیکن جو چیز دنیا کے عام انقلابیوں اور ان خدا پرست انقلابی لیڈروں کے درمیان واضح خط امتیاز کھینچتی ہے وہ یہ ہے کہ دوسرے انقلابی لوگ خواہ کتنے ہی نیک نیت کیوں نہ ہو ، عدل اور توسط کے صحیح مقام کو نہیں پا سکتے۔ وہ یا تو خود مظلوم طبقوں میں سے نہ اٹھتے ہیں یا ان کی حمایت کا جذبہ لے کر اٹھتے ہیں اور پھر سارے معاملات کو انہی طبقوں کے نقطہ نظر سے دیکھتے ہیں۔ اس کا قدرتی نتیجہ یہ ہوتا ہے کہ ان کی نظر غیر جانبدارانہ اور خلاص انسانیت کی نظر نہیں ہوتی بلکہ ایک طبقے کی طرف غصہ و نفرت کا اور دوسرے طبقے کی طرف حمایت کا جذبہ لیے ہوئے ہوتی ہے۔ وہ ظلم کا ایسا علاج سوچتے ہیں جو نتیجہ ایک جوابی ظلم ہوتا ہے۔ ان کے لیے انتقام ، حسد اور عداوت کے جذبات سے پاک ہو کر ایک ایسا معتدل اور متوازن اجتماعی نظام تجویز کرنا ممکن نہیں ہوتا جس میں مجموعی طور پر تمام انسانوں کی فلاح ہو۔ بخلاف اس کے انبیاء (علیہم السلام) خواہ کتنے ہی ستائے گئے ہوں اور کتنا ہی ان پر اور ان کے ساتھیوں پر ظلم کیا گیا ہو ، ان کی انقلابی تحریک میں کبھی ان کے شخصی جذبات کا اثر آنے نہیں پایا۔ وہ براہ راست خدا کی ہدایت کے تحت کام کرتے تھے اور خدا چونکہ انسانی جذبات سے منزہ ہے ، کسی انسانی طبقے سے اس کا مخصوص رشتہ نہیں ، نہ کسی دوسرے انسانی طبقے سے اس کو کوئی شکایت یا عداوت ہے۔ اس لیے خدا کی ہدایت کے تحت انبیاء (علیہم السلام) تمام معاملات کو بےلاگ انصاف کے ساتھ اس نظر سے دیکھتے تھے کہ تمام انسانوں کی مجموعی فلاح و بہبود کس چیز میں ہے۔ کس طرح ایک نظام بنایا جائے جس میں ہر شخص اپنی جائز حدود کے اندر رہ سکے۔ اپنے جائز حقوق سے متمتع ہوسکے اور افراد کے باہمی روابط ، نیز فرد اور جماعت کے باہمی تعلق میں کامل توازن قائم ہوسکے۔ یہی وجہ ہے کہ انبیاء (علیہم السلام) کی انقلابی تحریک کبھی طبقاتی نزاع (Class War) میں تبیل نہ ہونے پائی۔ انہوں نے اجتماعی تعمیر نو (Social Reconstruction) اس طرز پر نہیں کی کہ ایک طبقے کو دوسرے طبقے پر مسلط کردیں ، بلکہ اس کے لیے عدل کا ایسا طریقہ اختیار کیا جس میں تمام انسانوں کے لیے ترقی اور مادی و روحانی سعادت کے یکساں امکانات رکھے گئے تھے۔

(بہت طویل ہونے کی وجہ سے اس آیت کی مکمل تفسیر شامل نہیں کی جا سکی۔ ہم اس کے لیے معذرت خواہ ہیں۔ برائے مہربانی اس آیت کی تفسیر کا بقیہ حصہ فی ظلال القرآن جلد سے پڑھیں)

اردو ترجمہ

سچّے اہل ایمان تو وہ لوگ ہیں جن کے دل اللہ کا ذکر سُن کر لرز جاتے ہیں اور جب اللہ کی آیات ان کے سامنے پڑھی جاتی ہیں تو ان کا ایمان بڑھ جاتا ہے اور وہ اپنے رب پر اعتماد رکھتے ہیں

انگریزی ٹرانسلیٹریشن

Innama almuminoona allatheena itha thukira Allahu wajilat quloobuhum waitha tuliyat AAalayhim ayatuhu zadathum eemanan waAAala rabbihim yatawakkaloona

(سورۃ کے تعارف کا تیسرا حصہ)

حضور ﷺ نے عمار ابن یاسر اور عبداللہ ابن مسعود کو بھیجا تاکہ وہ دشمن کے بارے میں معلومات حاصل کریں۔ انہوں نے دشمن کی قیام گاہ کے گرد چکر لگایا اور واپس آکر حضور ﷺ کو یہ رپورٹ دی کہ دشمن بہت پریشان حال ہے اور یہ کہ بارش ان پر خوب برس رہی ہے۔

جب رسول اللہ ﷺ کنویں پر اترے تو آپ کے لیے ایک چبوترہ بنایا گیا ، کھجور کی شاخوں سے اور حضرت سعد ابن معاذ اپنی تلوار سونت کر اس کے دروازے پر کھڑے ہوگئے۔ حضور ﷺ نے میدان جنگ میں گشت کیا۔ اور آپ نے اپنے ساتھیوں کو قریش کے سرداروں میں سے ایک ایک کی قتل گاہ بتائی۔ آپ فرماتے یہاں فلان قتل ہوگا ، یہاں فلاں قتل ہوگا ، یہ سب قتل ہوئے اور ان میں سے کوئی بھی حضور اکرم ﷺ کی مقرر کردہ جگہ سے آگے نہ بڑھ سکا۔ آپ ﷺ نے مسلمانوں کی صفوں کو درست کیا اور اپنے چبوترے کی طرف لوٹے۔ آپ کے ساتھ صرف حضرت ابوبکر تھے۔

ابن اسحاق کہتے ہیں ، قریش ساری رات سفر کرتے رہے اور صبح کے وقت مقابلے پر آگئے۔ جب حضور ﷺ نے قریش کو دیکھا تو آپ نے اس ٹیلے سے منہ پھیر کر اپنا چہرہ وادی کی طرف موڑ دیا اور اس وقت آپ نے یہ دعا فرمائی " اے اللہ یہ ہے قبیلہ قریش جو نہایت ہی کبر و غرور کے ساتھ بڑھتا چلا آ رہا ہے اور یہ تیری دشمنی میں آیا ہے ، اور تیرے رسول کی تکذیب کر رہا ہے۔ آج میں تیری اس امداد کا طلبگار ہوں جس کا تونے میرے ساتھ وعدہ کیا تھا۔ اے اللہ کل انہیں پیس کر رکھ دیجیے "۔ حضور ﷺ یہ کہہ رہے تھے۔ آپ کی نظر عتبہ ابن ربیعہ پر پری جو سرخ اونٹ پر سوار تھے۔ وہ قریش کے ساتھ تھے۔ آپ نے فرمایا اگر اہل قریش میں سے کسی کے ہاں کوئی بھلائی ہوسکتی ہے تو صرف سرخ اونٹ والے سوار کے ہاں ہوسکتی ہے۔

حفاف ابن ایما ابن رحضہ الغفاری نے یا اس کے باپ ایما نے اہل قریش کو اپنے بیٹے کے ہاتھ کچھ مویشی برائے ذبح بھیجے اور ساتھ ہی یہ پیغام بھی دیا کہ اگر تم چاہو تو ہم تمہیں اسلحہ اور افراد کی امداد بھی دے سکتے ہیں۔ قریش نے اس کے بیٹے کے ذریعے شکریہ ادا کیا اور کہا کہ تونے صلہ رحمی کا حق ادا کردیا ہے۔ اور تم پر جو حق تھا وہ تم نے ادا کردیا ہے اور کہا خدا کی قسم اگر ہم انسانوں سے لڑنے نکلے ہیں تو انسانوں کے مقابلے میں ہم اپنے اندر کوئی کمزوری محسوس نہیں کرتے۔ اور اگر ہماری یہ جنگ خدا کے خلاف ہے جس طرح محمد سمجھتے ہیں تو خدا کے مقابلے میں کسی کی کوئی طاقت نہیں ہے۔

جب لوگ اپنی منزل پر اترے تو حضور ﷺ کے تیار کردہ حوض پر کچھ لوگ پانی لینے آئے۔ ان میں حکیم ابن حزام بھی تھے۔ حضور ﷺ نے فرمایا : " انہیں پانی پینے دو "۔ غرض اس حوض سے جس نے بھی پانی پیا۔ وہ مارا گیا ماسوائے حکیم ابن حزام کے ، یہ بعد میں مسلمان ہوگئے اور بہت اچھے مسلمان بنے اور جب حلف اٹھاتے اور بہت تاکید کرتے تو کہتے اس خدا کی قسم جس نے مجھے بدر کے دن نجات دی۔

ابن اسحاق کہتے ہیں : مجھے ابو اسحاق ابن یسار جمحی انصار کے دوسرے اکابر نے بتایا کہ جب اہل قریش نے اطمینان سے پڑاؤ کرلیا تو انہوں نے عمر ابن وہب جمحی کو بھیجا کہ وہ اصحاب محمد کا اندازہ لگا کر بتائیں کہ اسلامی لشکر کی کوئی خفیہ فوج بھی ہے یا کوئی امدادی فوج ہے۔ کہتے ہیں کہ وہ دو بار وادی میں دور تک گیا۔ اسے کچھ نظر نہ آیا اور واپس آ کر رپوٹ دی کہ مجھے کچھ سراغ نہیں ملا۔ لیکن اے اہل قریش میں ایک ایسی مصیبت دیکھ رہا ہوں جس میں بہت لوگوں کی موت ہے۔ یثرت کے ترشح میں موت واضح طور پر نظر آرہی ہے۔ ہمارا مقابلہ ایسی قوم سے ہے جن کا دفاع اور جن کا قلعہ صرف ان کی تلواریں ہیں۔ خدا کی قسم میں یہ نہیں سمجھتا کہ ان میں سے کوئی شخص مارا جائے گا الا یہ کہ وہ ہم سے ایک آدمی کو قتل کردے۔ اگر وہ اپنی تعداد جتنے لوگ بھی ہم سے مار لیں تو ہمارے لیے زندہ رہنے میں کوئی مزہ نہ ہوگا۔ اس لیے مناسب ہے کہ آپ لوتگ اس جنگ کے بارے میں سوچ لیں۔

جب حکیم ابن حزام نے یہ باتیں سنیں تو وہ لوگوں میں گھوما اور اس نے سب سے پہلے عتبہ بن ربیعہ سے ملاقات کی۔ اس نے کہا : " اے ابو الولید ! تم قریش کے معمر بزرگ اور سردار ہو اس میں تمہاری بات بھی چلتی ہے۔ کیا یہ مناسب نہیں ہے کہ تمہاری ایک بھلائی کو قوم قیامت تک یاد رکھے "۔ اس نے کہا " حکیم وہ کیا بھلائی ہے "۔ حکیم نے کہا بھلائی یہ ہے کہ تم لوگوں کو لے کر واپس ہوجاؤ۔ اور تمہارے حلیف عمرو ابن الحضرمی کا معاملہ تمہارے اوپر عائد ہو۔ اس نے جواب دیا مجھے یہ منظور ہے۔ تم اس پر میرے گواہ ہو۔ وہ میرا حلیف ہیے ، اس لیے اس کی دیت میرے ذمہ ہوگی۔ (یعنی اس کے بھائی کی دیت جو مسلمانوں کے ہاتھوں عبداللہ ابن جحش کے سریہ میں مارا گیا تھا) ۔ نیز مسلمانوں نے اس سے جو مال لیا تھا وہ بھی میرے ذمہ ہے۔ لیکن مناسب ہے کہ تم حنطیہ کے بیٹے کے پاس جاؤ کیونکہ مجھے یہ ڈر ہے کہ اس کی وجہ سے لوگوں کے اندر اختلافات پیدا ہوجائیں گے۔ اس سے ان کی مراد ابوجہل سے تھی۔ اس کے بعد عتبہ ابن ربیعہ نے ایک تقریر کی۔

" اے اہل قریش خدا کی قسم تم محمد اور اصحاب محمد سے کیا لوگے ، اگر تم نے انہیں قتل کردیا تو تم سے کوئی شخص پسند نہ کرے گا کہ وہ مقتول کو دیکھے اس لیے کہ اس کا مقتول یا اس کا چچا زاد ہوگا یا خالہ زاد ہوگا یا اس کے خاندان میں سے کوئی ہوگا۔ لہذا مناسب یہ ہے کہ تم لوگ لوٹ جاؤ اور محمد اور تمام عربوں کو مقابلہ کرنے دو ، اگر عربوں نے اسے قتل کردیا تو تمہاری مراد پوری ہوئی اور اگر اس کے سوا کوئی اور صورت حال ہو تو تم اسے اس حال میں ملوگے کہ تم نے اس کے ساتھ یہ سلوک نہ کیا ہوگا۔

اس تقریر کے بعد میں ابوجہل کے پاس آیا۔ میں نے دیکھا کہ اس نے اپنی زرہ تھیلے سے نکالی ہوئی ہے اور اسے وہ تیار کر رہا ہے۔ میں نے اسے کہا اے ابوالحکم مجھے عتبہ نے آپ کے پاس یہ تجاویز دے کر بھیجا ہے۔ اس نے جواب دیا کہ محمد اور اس کے ساتھیوں کو دیکھ کر اس کے اوسان خطا ہوگئے ہیں ، ایسا ہرگز نہیں ہوسکتا۔ خدا کی قسم ہم ہر گز واپس نہ ہوں گے ، جب تک کہ اللہ ہمارے اور محمد کے درمیان فیصلہ نہیں کردیتا اور عتبہ جو باتیں کرتا ہے اس کی وجہ یہ ہے کہ اس نے دیکھ لیا ہے کہ محمد اور اس کے ساتھی جانور ذبح کرکے کھا کر رہے اور ان میں ان کے بیٹے ابوحذیفہ بھی ہیں جو مسلمان ہوگئے اور عتبہ کو ڈر ہے کہ لشکر قریش کے ہاتھوں وہ قتل نہ ہوجائیں۔

اس کے بعد اس نے عامر الحضرمی کو یہ پیغام بھیجا کہ دیکھو عتبہ تمہارا حلیف ہے اور وہ لوگوں کو لے کر واپس جانا چاہتا ہے حالانکہ تم نے اپنے شکار کو اپنی آنکھوں سے دیکھ لیا ہے ، اس لیے آپ انہیں اور اپنے عہد کا واسطہ دلائیں اور لوگوں کو یاد دلائیں کہ تمہارے بھائی قتل ہوچکے ہیں۔ اس پر عامر الحضرمی اٹھا اور اپنے آپ کو ننگا کرکے چلایا " اے عمر ، اب جنگ شروع ہوگئی اور لوگوں کے درمیان معرکہ تیز ہونے لگا ، اور انہوں نے جس فتنے کا فیصلہ کر رکھا تھا اس پر پر عزم ہوگئے اور لوگوں کے ذہنوں سے وہ بات نکل گئی جس کی طرف عتبہ لوگوں کو بلا رہے تھے۔ جب عتبہ کو معلوم ہوا کہ ابوجہل یہ باتیں کرتا ہے تو اس نے کہا کہ عنقریب اس کے چوتروں کی زردی کو معلوم ہوجائے گا کہ کس کے اوسان خطا ہوگئے ہیں۔ میرے یا اس کے۔

ابن اسحاق کہتے ہیں کہ اسود بن عبدالاسد مخزومی ایک نہایت ہی جری اور بد مزاج شخص تھے۔ انہوں نے کہا کہ خدا کی قسم میں ان کے حوض سے پانی پیوں گا یا اسے منہدم کردوں گا اور یا اس حوض کے پاس قتل ہوجاؤں گا۔ جب وہ نکلا تو حمزہ ابن عبدالمطلب اس کی طرف بڑھے۔ جب حضرت حمزہ نے اس پر وار کیا تو اس کی ایک ٹانگ کو اڑا دیا۔ یہ اس وقت حوض کے قریب تھے۔ وہ پشت کی جانب پر گر پڑے اور اس کی ٹانگ سے خون کے فوارے اپنے ساتھیوں کی جانب چھوٹ رہے تھے لیکن وہ پیٹ کے بل حوض کی طرف بڑھا اور حوض میں گھس گیا۔ مقصد یہ تھا کہ اس نے اپنی قسم پوری کردی ہے ، لیکن حضرت حمزہ نے اس کا پیچھا کیا اور ایک ہی وار کرکے اسے حوض کے اندر قتل کردیا۔

اس کے بعد عتبہ ابن ربیعہ نکلے ، اس کے ساتھ اس کے بھائی شیبہ اور بیٹا ولید ابن عتبہ بھی تھے۔ جب یہ لوگ اپنی صف سے جدا ہوئے تو انہوں نے دعوت مبارزت دی۔ ان کے مقابلے میں انصار میں سے تین نوجوان آگے بڑھے جن کے نام عوف ، معوذ بسران حارث جن کی والدہ عفرا تھی اور ایک شخص دوسرا تھا۔ یعنی عبداللہ ابن رواحہ۔ عتبہ کے گروپ نے کہا کہ تم کون ہو ؟ تو انہوں نے کہا ہم انصاری ہیں۔ اس پر عتبہ نے کہا کہ ہمیں تم سے کوئی کام نہیں ہے۔ ابن اسحاق کی روایت میں ہے کہ عتبہ نے ان انصاری حضرات سے کہا کہ تم ہمارے معزز ہم پلہ ہو لیکن ہمارا مقصد اپنے بھائیوں سے لڑنا ہے۔ اس کے بعد انہوں نے آواز دی اے محمد تم ہمارے مقابلے میں ہماری قوم کے ہم پلہ لوگوں کو سامنے لاؤ۔ اس پر حضور ﷺ نے فرمایا : عبیدہ ابن الحارث ، حمزہ اور علی تم نکلو۔ جب یہ لوگ نکلے اور عتبہ گروپ کے قریب گئے تو انہوں نے یہی سوال کیا تم کون ہو ؟ عبیدہ نے کہا میں عبیدہ ہوں ، حمزہ نے کہا میں حمزہ ہوں۔ اور علی کہا میں علی ہوں۔ اس پر انہوں نے کہا ہاں تم معزز ہم پلہ ہو۔ عبیدہ نے جو سن رسیدہ تھے عتبہ ابن ربیعہ کو دعوت مبارزت دی اور حمزہ نے شیبہ ابن ربیعہ کو اور حضرت علی ، نے ولید بن عتبہ کو۔ حمزہ نے تو شیبہ کو ایک وار ہی میں ختم کردیا۔ اور علی نے ولید کو ایک ہی وار میں قتل کردیا۔ عبیدہ اور عتبہ کے درمیان دو دو وار ہوئے اور دونوں نے ایک دوسرے کو ایسا زخمی کردیا کہ جگہ سے حرکت ممکن نہ رہی۔ لیکن حضرت اور حضرت حمزہ عتبہ کی طرف لوٹے اور اس کا کام تمام کرکے اپنے ساتھی کو اٹھا کر اپنے کیمپ میں لے گئے۔

اب لوگ آگے بڑھے اور جنگ شروع ہوگئی۔ رسول اللہ ﷺ نے اپنے ساتھیوں کو حکم دیا تھا کہ وہ اس وقت تک حملہ نہ کریں جب تک آپ انہیں حکم نہ دیں۔ اور اگر وہ لوگ حملہ آور ہوں تو نیزوں کے ذریعہ مدافعت کریں۔ اس کے بعد حضور ﷺ نے صفیں درست کیں اور آپ اپنے چبوترے کی طرف لوٹ گئے۔ آپ اندر گئے اور اس وقت آپ کے ساتھ صرف ابوبکر تھے اور کوئی نہ تھا۔ حضور ﷺ اپنے رب کو پکار رہے تھے اور وہ وعدہ یاد دلا رہے تھے جو آپ کے ساتھ نصرت کے بارے میں ہوا تھا۔ اور باتوں کے علاوہ آپ نے اس پکار کے موقعہ پر یہ باتیں کہیں۔ " اے اللہ ! اگر یہ مٹھی بھر لوگ آج قتل ہوگئے تو تیری بندگی کبھی نہ ہوگی " حضرت ابوبکر فرما رہے تھے۔ آپ اپنی دعا کو کم کردیں۔ اللہ اپنا وعدہ پورا کرنے والا ہے۔

امتاع الاسماع مصنفہ مقریزی میں ہے کہ عبداللہ ابن روحہ نے حضور اکرم ﷺ سے کہا کہ حضور میں آپ یہ مشورہ دیتا ہوں حالانکہ آپ کو کسی مشورے کی ضرورت نہیں ہے۔ یہ کہ اللہ کو اس کے وعدوں کی یاد دہانی کی ضرورت نہیں ہے۔ تو آپ نے فرمایا ابن رواحہ ، کیا میں اللہ تعالیٰ کو وعدہ یاد نہ دلاؤں۔ اللہ تو وعدہ پورا کرنے والے ہیں ، کبھی خلاف نہیں کرتے۔

ابن اسحاق نے کہا ، جب رسول اللہ ﷺ چبوترے میں تھے تو آپ کو قدرے اونگھ نے آ لیا۔ جب آپ جاگے تو فرمایا : ابوبکر مبارک ہو ، اللہ کی مدد اگئی۔ یہ ہیں جبرئیل اپنے گھوڑے کی لگام تھامے ہوئے چلے آ رہے ہیں اور اس کی دونوں جانب غبار اٹھ رہا ہے۔

حضرت عمر ؓ کے آزاد کردہ غلام مہجع کو ایک تیر لگا اور وہ شہید ہوگیا۔ یہ مسلمانوں میں سے پہلا مقتول تھا۔ اس کے بعد حارثہ ابن سراقہ نے بنی عدی ابن نجار کے ایک شخص کو تیر مارا اور اسے ہلاک کردیا۔ یہ شخص حوض سے پانی پی رہے تھے۔ تیر اس شخص کی گردن میں لگا اور وہ شہید ہوگیا۔

اس کے بعد حضور ﷺ چبوترے سے نکلے اور آپ نے لوگوں کو جنگ کرنے پر اکسایا۔ آپ نے فرمایا : " خدا کی قسم آج جو شخص بھی صبر ، تحمل سے فی سبیل اللہ لڑا اور وہ آگے ہی بڑھتا رہا اور پیٹھ نہ پھیری وہ لازماً جنت میں دخل ہوگا "

ایک شخڑ عمر ابن الہمام بنی سلمہ کے بھائی تھے جو اس وقت کھجوریں کھا رہے تھے۔ انہوں نے رسول اللہ ﷺ کی یہ بات سنی اور کہا بہت خوب ! حضور کیا میرے اور جنت کے درمیان صرف اتنا فاصلہ ہے کہ یہ لوگ مجھے قتل کردیں ؟ اس کے بعد اس نے وہ کھجوریں پھینک دیں۔ تلوار لی اور خوب لڑا یہاں تک کہ شہید ہوگیا۔

ابن اسحاق نے یہ روایت نقل کی ہے کہ ایک شخص عوف ابن الحارث نے جو " عفرا " کا بیٹآ تھا ، نے حضور ﷺ سے دریافت کیا کہ اللہ اپنے بندے کے کس فعل پر ہنس دیتا ہے ؟ آپ نے فرمایا اللہ اس بات سے ہنس پڑتا ہے کہ ایک شخص کے جسم پر زرہ بھی نہ ہو اور وہ تلوار لے کر دشمن کی صفوں میں گھس جائے۔ چناچہ اس نے جو زرہ پہنی ہوئی تھی اسے اتار پھینکا۔ اس کے بعد تلوار لی اور دشمن کی صفوں میں گھس گیا اور اس قدر لڑا کہ شہید ہوا۔

ابن اسحاق نے زہری سے ایک روایت نقل کی ہے ، وہ کہتے ہیں کہ جب لوگ ایک دوسرے کے قریب ہوئے تو ابوجہل نے کہا ، اے اللہ ہم سے جو قطع رحمی کرنے والا ہو اور ایسے کام کرنے والا ایسے کام کرنے والا ہو جو معروف نہ ہو تو کل اسے شکست دے دے ، چناچہ اس کی دعا قبول ہوئی۔

ابن اسحاق نے روایت کی ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے ایک مٹھی ریت لی اور اسے قریش کی طرف پھینکا اور فرمایا شاہت الوجوہ اور اپنے ساتھیوں سے کہا کہ زور لگاؤ اور اس کے بعد مخالفین کو شکست ہوئی اور قریش کے سرداروں میں سے اکثر مارے گئے اور باقی گرفتار ہوئے۔

جب لوگوں نے قتل سے ہاتھ کھینچ لیے اور لوگوں کو گرفتار کرنے لگے اور رسول خدا ﷺ نے دیکھا کہ سعد ابن معاذ کے چہرے پر کراہت کے آثار نظر آتے ہیں کیونکہ لوگ مخالفین کو قتل کرنے کے بجائے گرفتار کر رہے تھے تو حضور ﷺ نے انہیں مخاطب کر کے کہا " خدا کی قسم اور شاید تم لوگوں کی اس حرکت کو ناپسند کرتے ہو "

اس نے کہا ہاں جناب میں اسے ناپسند کرتا ہوں۔ یہ پہلا معرکہ ہے جس میں کفر و اسلام کا تصادم ہوا ہے۔ میں سمجھتا ہوں کہ اس معرکے میں دشمن کا پوری طرح کچل دینا ہمارے لیے اس سے بہتر تھا کہ ہم انہیں گرفتار کرتے۔

ابن اسحاق نے حضرت ابن عباس کی ایک روایت نقل کی ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے اپنے ساتھیوں کو یہ حکم دیا تھا کہ بنی ہاشم میں سے بعض لوگ مجبوراً اس لشکر میں آئے ہیں اور وہ ہمارے خلاف لڑنا نہیں چاہتے۔ اس لیے تم میں سے جو شخص بنی ہاشم میں سے کسی کے سامنے آئے تو انہیں قتل نہ کرے۔ اور جو شخص ابوالبختری ابن ہشام ابن الحارث ابن اسد کو پائے اسے بھی قتل نہ کرے۔ اور جو شخص عباس ابن عبدالمطلب کو پائے اسے بھی قتل نہ کرے۔ کیونکہ حضرت عباس مجبورا لشکر کے ساتھ آگئے ہیں۔ اس پر ابوحذیفہ ابن عتبہ ابن ربیعہ نے کہا (یہ مسلمان تھے) " کیا ہم اپنے باپوں ، بھائیوں اور بیٹوں اور خاندان کو قتل کریں اور عباس کو چھور دیں۔ خدا کی قسم اگر وہ مجھے ملا تو اسے مزہ چکھاؤں گا "۔ تو یہ بات حضر نبی ﷺ تک پہنچ گئی تو آپ نے حضرت عمر بن الخطاب سے کہا " اے ابو حفص (اور یہ پہلا دن تھا کہ حضور ﷺ نے مجھے اس کنیت کے ساتھ خطاب فرمایا " کیا رسول اللہ کے چچا کے چہرے کو تلوار سے مارا جائے گا۔ اس پر حضرت عمر نے فرمایا رسول خدا مجھے اجاز دیجیے کہ میں اس کی گردن کو اڑا دوں۔ خدا کی قسم یہ منافق ہے۔ اس گفتگو کے بعد ابوحذیفہ کہا کرتے تھے کہ اس وقت میں نے جو بات کی میں آج تک اس سے ڈرتا ہوں اور میں ہمیشہ اس سے ڈرتا رہوں گا۔ الا یہ کہ شہادت پا کر میں اس کا کفارہ ادا کروں۔ بعد میں ابوحذیفہ مرتدین کے ساتھ جنگ میں یوم الیمامہ میں شہید ہوئے۔

ابن اسحاق کہتے ہیں کہ حضور نے ابوالبختری کے قتل سے اس لیے روکا تھا کہ جب آپ مکہ میں تھے تو وہ لوگوں کو آپ کے ساتھ چھیڑ چھاڑ کرنے سے روکتا تھا۔ وہ حضور ﷺ نے کوئی ایسی بات نہ سنی تھی جو آپ کے لیے موجب اذیت ہوتی۔ اور قریش نے بنی ہاشم کے ساتھ بائیکاٹ کا جو معاہدہ لکھا تھا اس کے توڑنے والوں میں وہ بھی تھا۔ لیکن اس دن وہ اس لیے مارا گیا کہ اس نے قیدی بننے سے انکار کردیا۔

ابن اسحاق نے یحی ابن عباد سے ایک روایت نقل کی ہے کہ ان کے والد نے کہا کہ امیہ ابن خلف میرا دوست تھا۔ اور میرا نام جاہلیت میں عبد عمرو تھا۔ میں نے جب اسلام قبول کیا تو نام عبدالرحمن رکھ لیا۔ اس وقت ہم مکہ میں تھے۔ امیہ مجھے کہتا عبد عمرو تونے اپنے اس نام کو چھوڑ دیا جس کے ساتھ تمہارے باپ نے تجھے موسوم کیا تھا۔ میں کہتا ہاں۔ اس نے کہا میں رحمن کو نہیں جانتا اس لیے تم میرے لیے آپس کا کوئی نام تجویز کردو تاکہ میں تمہیں اس کے ساتھ پکاروں۔ اس لیے کہ تم پہلے نام کے ساتھ پکارنے کا جواب نہیں دیتے اور میں دوسرا نام نہیں لیتا جسے میں جانتا نہیں ہوں۔ جب وہ مجھے عبد عمرو کہتا ، میں جواب نہ دیتا۔ میں نے اسے کہا کہ تم ہی کوئی نام رکھ دو ، چناچہ اس نے میرا نام عبد الالہ رکھ دیا۔ اور جب ہم ملتے تو وہ مجھے عبدالالہ کہتا اور ہم باتیں کرتے۔ بدر کے دن میں نے دیکھا کہ وہ اپنے بیٹے علی ابن امیہ کے ساتھ کھڑا ہے۔ اور میں بعض زرہیں اٹھا کر جا رہا ہوں جو میں نے جنگ کے بعد لوٹ لی تھیں۔ جب اس نے مجھے دیکھا تو اس نے کہا اے عبد عمرو ، تو میں نے جواب نہ دیا۔ اس پر اس نے کہا اے عبدالالہ تو میں نے کہا ہاں۔ کیا تمہیں ہمارے اندر کوئی دلچسپی ہے۔ میں سمجھتا ہوں میں تمہارے لیے ان زر ہوں سے زیادہ مفید رہوں گا جو تونے اٹھا رکھی ہیں۔ میں نے کہا ہاں۔ تو انہوں نے کہ کہ میں نے زرہیں پھینک دیں۔ اور ان دونوں کو میں نے ہاتھ سے پکڑ لیا اور دونوں کو قیدی بنا لیا۔ انہوں نے کہا کہ میں نے ایسا دن کبھی نہیں دیکھا۔ کیا تمہیں دودھ کی ضرورت نہیں ہے۔ یعنی مجھے جس نے قیدی بنایا تو میں اسے دودھ دینے والی اونٹنیاں فدیہ میں دوں گا۔ میں انہیں لے کر کیمپ میں چلا گیا۔

ابن اسحاق روایت کرتے ہیں کہ عبدالرحمن ابن عوف نے بتایا کہ مجھے امیہ ابن خلف نے کہا ، اس وقت میں اس کے اور اس کے بیٹے کے درمیان تھا اور میں نے دونوں کے ہاتھ پکڑے ہوئے تھے۔ عبد الالہ ، تم میں سے وہ شخص کون تھا جس نے اپنے سینے پر شتر مرغ کے پر لگا رکھے تھے ؟ کہتے ہیں ، میں نے کہا کہ وہ حمزہ ابن عبدالمطلب ہے۔ اس نے کہا کہ اس شخص نے ہمارے خلاف سخت کارہائے نمایاں کیے۔

عبدالرحمن کہتے ہیں ، کدا کی قسم میں ان لوگوں کو لے کر جا رہا تھا کہ اچانک اسے حضرت بلال نے میرے ساتھ دیکھ لیا اور یہ وہی شخص تھا جو حضرت بلال کو اذیت دیتا تھا اور مکہ میں اسے ترک اسلام پر مجبور کیا کرتا تھا۔ وہ اسے مکہ کے ریگستان کی طرف لے جاتا۔ جب یہ ریت گرم ہوتی ، تو یہ شخص انہیں الٹے لیٹاتا اور اس کے بعد ان کے سینے پر بڑا پتھر رکھ دیتا اور اس کے بعد کہتا کہ تم اسی طرح پڑے رہوگے الا یہ کہ تم دین محمد کو چھوڑ نہ دو ۔ اور بلال کہتے جاتے۔ احد احد۔ کہتے ہیں جب اسے بلال نے دیکھا وہ چلایا ، یہ تو رئیس الکفار امیہ ابن خلف ہے۔ اگر یہ بچ نکلا تو میں نے نجات نہ پائی۔ میں نے کہا کہ بلال تم میرے اسیر کے ساتھ یہ کرتے ہو۔ اس نے پھر کہا اگر یہ نجات پا گیا تو گویا مجھے نجات نہ ملی۔ میں نے پھر سختی سے کہا " اے کالی کے بیٹے تم سنتے نہیں ، اس نے پھر کہا اگر یہ نجات پا گیا تو میں مرا۔ کہتے ہیں اس کے بعد بلال نہایت ہی بلند آواز سے پکارا۔ اے اللہ کے انصار یہ ہے رئیس الکفار امیہ ابن خلف۔ اگر یہ بچ نکلا تو میں مر گیا۔ کہتے ہیں کہ لوگوں نے ہمیں گھیر لیا۔ لیکن میں ان دونوں سے لوگوں کو روکتا ہی رہا۔ پیچھے سے ایک آدمی آیا اور اس نے اس کے بیٹے پر وار کیا اور وہ گر گیا۔ اس کے بعد امیہ ابن خلف نے ایک چیخ نکالی۔ اس پر میں نے کہ جان بچاؤ تاکہ میں بھی بچ جاؤں خدا کی قسم اب میں کچھ نہیں کرسکتا۔ کہتے ہیں کہ لوگوں نے اپر تلواروں سے پے در پے وار کیے اور ان سے فارغ ہوگئے۔ عبدالرحمن کہا کرتے تھے۔ اللہ بلال پر رحم کرے کہ میری زرہیں بھی گئیں اور میرے قیدیوں کو بھی قتل کرکے اس نے مجھے دکھ پہنچایا۔

ابن اسحاق کہتے ہیں کہ جب حضور ﷺ دشمن سے فارغ ہوئے تو حکم دیا گیا کہ مقتولوں میں سے ابوجہل کو تلاش کیا جائے۔ اور جیسا کہ روایات میں آتا ہے کہ معاذ ابن عمرو ابن الجموح بنی سلمہ کے بھائی نے کہا کہ میں نے لوگوں سے سنا کہ ابوجہل تک پہنچنا بہت مشکل ہے اور وہ اس وقت ایک درخت کی اوٹ میں تھا۔ جب میں نے یہ سنا تو میں نے ارادہ کرلیا کہ میں یہ کام کروں گا۔ میں اس کی طرف بڑھا۔ جب میرے لیے ممکن ہوا تو میں نے اس پر حملہ کردیا۔ میں نے اس پر ایک ایسا وار کیا کہ میں نے اس کے پاؤں کو نصف پنڈلی کے ساتھ اڑا دیا۔ جب اس کا پاؤں اڑا تو مجھے ایسا لگا جس طرح گٹھلی توڑنے والے پتھر کے نیچے سے گٹھلی اڑتی ہے۔ اس وار کے بعد اس کے بیٹے عکرمہ نے مجھے مارا اور میرے کاندھے پر ایسی چوٹ آئی کہ میرا بازو کٹ گیا اور وہ ایک جانب سے میرے پہلو میں چمڑے کے ساتھ لٹک رہا تھا۔ اب لڑائی میں جلدی اور تیزی آگئی۔ میں نے اس کی طرف توجہ نہ دی اور پورا دن لڑتا رہا۔ اور یہ ہاتھ میری پشت کے ساتھ لٹکا رہا۔ جب اس نے مجھے بہت تنگ کیا تو میں اس پر اپنا پاؤں رکھا اور اسے کاٹ کر پھینک دیا۔

اس کے بعد معوذ ابن عفرا ابوجہل تک جا پہنچا اور اس وقت اس کی ٹانگ کٹی ہوئی تھی۔ اس نے اسے اس قدر زخمی کردیا کہ وہ اب حرکت کے قابل نہ رہا۔ اور معوذ لڑتا رہا یہاں تک کہ وہ قتل ہوگیا۔ اس کے بعد عبداللہ بن مسعود ابوجہل تک جا پہنچا۔ یہ اس وقت ہوا جب حضور ﷺ نے حکم دیا تھا کہ ابوجہل کو مردوں میں تلاش کیا جائے۔ تلاش کرنے والوں کو رسول اللہ ﷺ نے کہا تھا کہ اسے تلاش کرو۔ اگر اسے پہچاننے میں دقت ہو ، تو اس کے گھٹنے پر ایک زخم ہے اسے دیکھو اس لیے کہ میں اور وہ دونوں ایک دن عبداللہ ابن جدعان کی دعوت میں شریک تھے اور اس وقت ہم دونوں لڑکپن میں تے۔ اژدھام میں ، میں نے اسے دھ کہ دیا اور اگرچہ میں اس کے مقابلے میں دبلا پتلا تھا ، وہ گھٹنوں کے بل گرا۔ اس کا ایک گھٹنا اس قدر زخمی ہوا کہ زخم کے اثرات زائل نہ ہوئے۔ حضرت عبداللہ ابن مسعود فرماتے ہیں کہ میں نے اس اس حال میں تلاش کرلیا کہ وہ زندگی کے آخری سانس لے رہا تھا۔ میں نے اپنا پاؤں اس کی گردن پر رکھا۔ اس نے مکہ میں ایک بار میرے ساتھ بدسلوکی کی تھی۔ مجھے مارا تھا اور مکہ لگائے تھے۔ اس کے بعد میں نے اسے کہا : اللہ کے دشمن تم نے جان لیا کہ آج اللہ نے تجھے ذلیل کیا ہے ؟ " مجھے کیوں ذلیل کیا ہے ؟ " اس نے کہا ، کیا تم نے مجھے سے کسی بڑے آدمی کو بھی قتل کردیا ہے۔ اس نے کہا یہ تو بتاؤ آج کی جنگ کس نے جیتی ؟ میں نے جواب دیا اللہ اور رسول اللہ نے۔

ابن اسحاق کہتے ہیں کہ بنی مخزوم کے بعض لوگ یہ خیال کرتے تھے کہ ابن مسعود نے کہا کہ اس نے مجھے یہ کہا کہ اے چرواہے ، تم ایک عظیم آدمی کی گردن پر سوار ہو ، جس پر سوار ہونا کوئی آسان کام نہ تھا۔ کہتے ہیں کہ اس کے بعد میں نے اس کی گردن کو تن سے جدا کیا اور لا کر رسول اللہ ﷺ کے قدموں میں ڈال دیا اور کہا اے رسول خدا یہ رہا خدا کے دشمن کا سر۔ اس پر رسول اللہ ﷺ نے اللہ کا شکر ادا کیا۔

ابن ہشام کہتے ہیں کہ مجھے مقامی کے ماہرین اہل علم نے بتایا کہ حضرت عمر ابن لخطاب نے سعید ابن العاص کو ایک مرتبہ یہ کہا کہ میں سمجھتا ہوں کہ تجھے میرے بارے میں غلط فہمی ہے کہ شاید میں نے تمہارے باپ کو قتل کیا ہے۔ اگر میں نے اسے قتل کیا ہوتا تو میں اس کے قل کی ہرگز معذرت نہ کرتا۔ لیکن میں نے اپنے ماموں عاص ابن ہشام ابن المغیرہ کو قتل کیا تھا۔ رہا تمہارا باپ تو میں جنگ میں اس کے پاس سے گزرا تا۔ اس طرح لڑ رہا تھا جس طرح ایک بیل جنگ کے وقت اپنے سینگوں کے ساتھ زمین کو چیرتا ہے۔ تو میں اس سے ایک طرف ہوگیا اور مجھ سے آگے بڑھ کر اس کے چچا زاد نے اس کا رخ کیا اور اسے قتل کردیا۔

ابن اسحاق ، یزید ابن رومان ، عروہ ابن الزبیر کے واسطے سے حضرت عائشہ سے روایت کرتے ہیں ، جب حضور نے حکم دیا کہ مقتولین کو ایک گڑے میں پھینکا جائے تو ایک گڑھا کھود کر سب کو اس میں پھینک دیا گیا ، ماسوائے امیہ ابن خلف کے کیونکہ وہ اپنی زرہ کے اندر پھول گیا تھا اور زوہ کو بھر دیا تھا ، لوگ اس کے پاس گئے اور اسے حرکت دی تو اس کا گوشت اپنی جگہ چھوڑ گیا۔ لوگوں نے اسے اسی جگہ چھوڑ دیا اور اس کے اوپر مٹی ڈال دی۔ جب تمام مقتولین کو گڑھے میں ڈال دیا گیا تو رسول اللہ ﷺ گڑھے کے دہانے پر کھڑے ہوئے اور کہا : " اے گڑھے والو ، کیا تم نے وہ انجام دیکھ لیا جو تم سے تمہارے رب نے اس کا وعدہ کیا تھا۔ میں نے تو وہ انجام دیکھ لیا جو مجھ سے میرے رب نے وعدہ کیا تھا پوری طرح۔ کہتے ہیں کہ اصحاب رسول نے آپ سے سوال کیا : " کہ آپ تو مردوں سے بات کر رہے ہیں " آپ کہا " حقیقت یہ ہے کہ وہ اب جانتے ہیں کہ ان سے ان کے رب نے جو وعدہ کیا تھا وہ سچ تھا " حضرت عائشہ کہتی ہیں لوگ کہتے ہیں کہ حضور ﷺ نے یہ فرمایا : در حقیقت میں نے جو کہا وہ سنتے ہیں " حالانکہ حضور نے فرمایا تھا : " در اصل وہ جانتے ہیں کہ رب کا وعدہ سچا تھا "۔

ابن اسحاق کہتے ہیں کہ جب حضور ﷺ نے حکم دیا کہ انہیں گڑھے میں پھینک دیا جائے تو عتبہ ابن ربیعہ کو گڑھے کی طرف کھینچا گیا تو حضور نے ان کی طرف دیکھا (یہ بات مجھ تک پہنچی ہے) کہ ابوحذیفہ ابن عتبہ نہایت ہی غمگین ہیں اور ان کا رنگ بدل گیا ہے تو آپ نے فرمایا : ابو حذیفہ ، شاید تمہارے باپ کی وجہ سے تم پر اثر ہوگیا ہے۔ یا جو الفاظ حضور نے کہے۔ ابوحذیفہ نے کہا " حضور خدا کی قسم ! ایسا نہیں ہے۔ مجھے اپنے باپ کے بارے میں کوئی شک نہیں اور نہ اس کے قتل کے بارے میں شک ہے ، لیکن میں جانتا تھا کہ میرا باپ بڑا مدبر ، بردبار اور صاحب علم آدمی تھا۔ اور میری دلی خواہش تھی کہ اللہ اسے اسلام کی طرف ہدایت دے۔ جب میں نے دیکھا کہ اس کی یہ حالت ہے اور مجھے جب یہ خیال آیا کہ یہ تو کفر کی حالت میں دیا سے چلا گیا اور میری آرزو پوری نہ ہوئی تو اس وجہ سے مجھے یہ دکھ ہوا۔ اس پر آپ ﷺ نے اس کے باپ کے لیے دعائے خیر فرمائی اور اس کے لیے بھی بہت اچھے کلمات کہے۔

اس کے بعد حضور ﷺ نے لشکر گاہ میں جو کچھ تھا ، اسے یکجا کرنے کا حکم دیا۔ تمام مال غنیمت یکجا کردیا گیا۔ اس کے بارے میں مسلمانوں کے درمیان اختلاف ہوگیا۔ جن لوگوں نے مال جمع کیا تھا ، انہوں نے کہا کہ اس پر پورا ہمارا حق ہے کیونکہ ہم نے جمع کیا ہے اور جو لوگ دشمن کو مار رہے تھے اور اس کا تعاقب کر رہے تھے انہوں نے کہا کہ اگر ہم نہ ہوتے تو تم کہا جمع کرتے۔ ہم نے دشمن کو مشغول رکھا ، اور تم نے مال جمع کیا۔ اور جو لوگ رسول اللہ ﷺ کی حفاظت پر مامور تھے انہوں نے کہا ہم نے رسول اللہ ﷺ کو دشمن کے حملے سے بچایا ہے۔ لہذا تمہارے مقابلے میں ہمارا حق زیادہ ہے ، ہم نے یہ سامان اس وقت دیکھ لیا تھا ، مگر آپ کا محافظ کوئی نہ تھا۔ ہم اس بات سے ڈر گئے کہ اگر ہم چلے گئے تو دشمن آپ پر حملہ نہ کردے۔ لہذا ہم حفاظت میں رہے۔ چناچہ تم لوگ ہم سے زیادہ مستحق نہیں ہو۔

ابن اسحاق کہتے کہ عبدالرحمن ابن الحارث وغیرہ نے سلیمان ، مکحول اور ابو امامہ باہلی سے روایت کی ہے۔ کہتے ہیں کہ میں نے حضرت عبادہ بن الصامت سے انفال کے بارے میں پوچھا تو انہوں نے کہا کہ یہ سورة ہم اصحاب بدر کے بارے میں نازل ہوئی ہے۔ اس وقت ہمارے درمیان انفال کے بارے میں اختلافات ہوگئے تھے اور اس کے بارے میں ہماری اخلاقی حالت اچھی نہ رہی تھی تو اس وجہ سے اللہ نے انفال کو ہم سے لے کر اسے رسول اللہ کے اختیار میں دے دیا ، تو رسول اللہ ﷺ نے مسلمانوں کے درمیان مساویانہ تقسیم کردی۔

ابن اسحاق کہتے ہیں کہ بنی عبدالدار کے بھائی نبیہ ابن وہب نے بتایا کہ حضور جب قیدیوں کی طرف لوٹے تو آپ نے انہیں اپنے ساتھیوں کے درمیان تقسیم کردیا۔ اور آپ نے ان کو حکم دیا کہ ان کے ساتھ حسن سلوک کیا جائے تو ابو عزیر ابن ہاشم ، مصعب ابن عمیر کے سگے بھائی تھے اور قیدی تھے۔ ابو عزیر نے بتایا کہ ایک انصاری مجھے گرفتار کر رہے تھے اور مصعب ابن عمیر میرے بھائی آگئے تو انہوں نے انصاری سے کہا کہ اسے خوب باندھیے کیونکہ ان کی والدہ مالدار خاتون ہیں وہ اس کا خوب فدیہ دیں گی۔ کہتے ہیں کہ جب میدان جنگ سے مجھے لے کر آئے تو میں انصاریوں کے پاس تھا۔ جب کھانے کا وقت ہوتا تو وہ لوگ مجھے روٹی دیتے اور خود کھجوروں پر اکتفاء کرتے کہ انہیں حضور نے ہمارے بارے میں وصیت کی تھی کہ حسن سلوک کرو ، ان میں سے جس کے ہاتھ بھی روٹی آتی وہ مجھے دے دیتا۔ میں شرمندہ ہو کر انہیں واپس کرتا مگر وہ مجھے دوبارہ واپس کردیتے اور اسے ہاتھ بھی نہ لگاتے۔

ابن ہشام کہتے ہیں ابو عزیر بدر کے دن مشرکین کے علم بردار تھے۔ اور یہ علم انہیں نضر ابن الحارث کے بعد ملا تھا۔ جب ان کے بارے میں ، اس کے گرفتار کرنے والے ابوالیسیر کو مصعب ابن عمیر نے وہ بات کہی (جو اوپر مذکور ہے) تو ابو عزیر نے کہا اے بھائی ، تم میرے بارے میں یہ سفارش کرتے ہو ، تو مصعب نے کہا کہ یہ انصاری تم سے پہلے میرا بھائی ہے۔ اس پر اس کی ماں نے معلوم کیا کہ کسی قریش کا زیادہ سے زیادہ فدیہ کیا رہا ہے ؟ تو اسے بتایا گیا کہ چار ہزار درہم تو اس نے چار ہزار درہم بھیجے اور اس کا فدیہ دیا۔

ابن اسحاق کہتے ہیں کہ اس کے بعد قریش نے اسیروں کا تاوان بھیجا۔

۔۔۔۔

یہ تھا غزوہ بدر کا واقعاتی نقشہ ، ہم نے بقدر استطاعت اسے مختصراً بیان کرنے کی سعی کی ہے۔ سورة انفال اسی غزوہ پر بطور تبصرہ نازل ہوئی۔ اسی میں اس غزوہ کے ظاہری واقعات پر بھی تبصرہ ہے۔ اس کے تاریخی پس منظر کا بھی ذکر ہے۔ اور یہ تمام تبصرے قرآن کے منفرد اور معجزانہ انداز بیان میں ہیں جن کی تفصیلات ہم آئندہ تشریح آیات کے درمیان بیان کریں گے۔ یہاں ہم نے صرف اس سورة کے مضامین کے اساسی خدوخال مختصراً دے دئیے ہیں۔

یہ سورة کس لائن پر جا رہی ہے ؟ اس کے اندر ایک مضمون اس کی پوری طرح وضاحت کرتا ہے۔ ابن اسحاق نے حضرت عبادہ ابن الصامت سے روایت کی ہے۔ وہ فرماتے ہیں کہ یہ سورة بدری لوگوں کے بارے میں نازل ہوئی ہے۔ جب ہم مال غنیمت کے بارے میں باہم اختلاف کرنے لگے اور اس سلسلے میں ہمارے اخلاق بھی خراب ہوئے تو اللہ نے انفال کا اختیار ہمارے ہاتھ سے لے لیا اور رسول اللہ ﷺ کو دے دیا اور آپ نے انفال کو مساویانہ اصول کے مطابق تقسیم کردیا۔

یہ واقعہ بتاتا ہے کہ اس سورة کا آغاز کس طرح ہوا اور اس کی لائن کیا ہے۔ لوگوں نے اس واقعہ میں حاصل ہونے والے مال غنیمت کے بارے میں اختلاف کیا تھا جسے اللہ تعالیٰ نے انسانی تاریخ میں قیامت تک فرقان قرار دیا تھا۔

اللہ کو مطلوب یہ تھا کہ ان کو اور ان کے بعد آنے والوں کو بعض اہم تعلیمات دیں۔ یہی تعلیم یہاں پوری طرح انہیں دی گئی اور یہ تعلیم اللہ نے جس تدبیر اور نظام قضا و قدر کے مطابق دی ، ہر اقدام ایسا نظر آتا ہے جس کے پیچھے کوئی اصلاحی تدبیر ہے۔ اس لیے کہ جنگ بدر اور اس کے نتیجے میں جو عظیم فیصلے ہوئے اس کے بارے میں خود مسلمانوں کی منصوبہ بندی کو کوئی دخل نہ تھا۔ نہ انہوں نے جنگ بدر کے معمولی اموال غنیمت کے متعلق کوئی اپنی تدبیر کی تھی اور نہ اس جنگ کے عظیم نتائج انہوں نے سوچے تھے۔ یہ سب کام اللہ تعالیٰ کی منشا اور تدبیر کے ذریعے ہوئے۔ اس واقعہ میں اللہ نے مسلمانوں کو خوب ازمایا اور یہ اس کا فضل و کرم تھا۔

اللہ تعالیٰ نے بتایا کہ لوگ اپنے بارے میں کیا سوچتے تھے۔ وہ یہ سوچتے تھے کہ قافلے کو لوٹ لیں۔ مگر اللہ نے ان کے لیے قافلے کے مقابلے میں ایک مسلح لشکر لا کھڑا کردیا۔ دونوں میں کس قدر فرق ہے تاکہ لوگ دیکھ لیں کہ خود ان کی اپنی سوچ کس قدر موثر ہے اور ان کے بارے میں اللہ کی تدبیر کس قدر دور رس حکمت کی حامل ہے۔ اور دونوں کے اندر کس قدر فرق ہے۔

سورة کا آغاز اس طرح ہے کہ انفال کے بارے میں عوام کی جانب سے ایک سوال ہے اور اللہ کی طرف سے مختصر جواب ہے کہ یہ مال غنیمت اللہ اور اس کے رسول اللہ کا ہے۔ اس کے بعد کہا گیا ہے کہ وہ خدا سے ڈریں اور باہم تعلقات کو درست کریں۔ جس طرح حضرت عبادہ ابن الصامت نے کہا کہ ہمارے اخلاق پر اثر پڑگیا تھا۔ اسے دور کردیں اور اللہ اور رسول اللہ کی اطاعت کریں۔ کیونکہ سمع و اطاعت ایمان کا مقتضا ہے۔ سورة کے آغاز میں اہل ایمان کے لیے ایک نہایت ہی موثر تصویر کشی کی گئی ہے۔

يَسْأَلُونَكَ عَنِ الأنْفَالِ قُلِ الأنْفَالُ لِلَّهِ وَالرَّسُولِ فَاتَّقُوا اللَّهَ وَأَصْلِحُوا ذَاتَ بَيْنِكُمْ وَأَطِيعُوا اللَّهَ وَرَسُولَهُ إِنْ كُنْتُمْ مُؤْمِنِينَ (1)إِنَّمَا الْمُؤْمِنُونَ الَّذِينَ إِذَا ذُكِرَ اللَّهُ وَجِلَتْ قُلُوبُهُمْ وَإِذَا تُلِيَتْ عَلَيْهِمْ آيَاتُهُ زَادَتْهُمْ إِيمَانًا وَعَلَى رَبِّهِمْ يَتَوَكَّلُونَ (2) الَّذِينَ يُقِيمُونَ الصَّلاةَ وَمِمَّا رَزَقْنَاهُمْ يُنْفِقُونَ (3) أُولَئِكَ هُمُ الْمُؤْمِنُونَ حَقًّا لَهُمْ دَرَجَاتٌ عِنْدَ رَبِّهِمْ وَمَغْفِرَةٌ وَرِزْقٌ كَرِيمٌ (4)

اے پیغمبر لوگ تم سے غنیمتوں کے بارے میں پوچھتے ہیں ، کہہ دو کہ یہ غنیمتیں اللہ اور اس کے رسول کی ہیں ، پس اللہ سے ڈرو اور آپ سکے باہم تعلقات ٹھیک رکھو۔ اگر تم مومن ہو تو اللہ اور اس کے رسول کی اطاعت کرو۔ مومت تو وہ ہے کہ جب اللہ کا ذکر کیا جاتا ہے تو ان کے دل دہل جاتے ہیں اور جب ان پر آیات الہی کی تلاوت ہوتی ہے تو ان کے ایمان کو زیادہ کردیتی ہے اور وہ اپنے رب پر بھروسہ کرتے ہیں۔ جو نماز قائم کرتے ہیں اور جو کچھ ہم نے انہیں دے رکھا ہے اس میں خرچ کرتے ہیں۔ ایسے ہی لوگ حقیقی مومن ہیں۔ ان کے لیے ان کے رب کے پاس بڑے درجے ہیں اور مغفرت ہے اور عزت کی روزی ہے۔ (الانفال ، آیات 1 تا 4)

اس کے بعد بدر کے معاملے کو یاد دلایا جاتا ہے۔ یہ بتایا جاتا ہے کہ وہ اپنے لیے کیا سوچتے تھے اور اللہ تعالیٰ ان کے لیے سوچ رہا تھا اور وہ زمین پر دنیاوی معیار کے مطابق جو کچھ دیکھ رہے تھے اور اللہ کا نظام تقدیر جو کچھ کر رہا تھا :۔

كَمَا أَخْرَجَكَ رَبُّكَ مِنْ بَيْتِكَ بِالْحَقِّ وَإِنَّ فَرِيقًا مِنَ الْمُؤْمِنِينَ لَكَارِهُونَ (5) يُجَادِلُونَكَ فِي الْحَقِّ بَعْدَمَا تَبَيَّنَ كَأَنَّمَا يُسَاقُونَ إِلَى الْمَوْتِ وَهُمْ يَنْظُرُونَ (6) وَإِذْ يَعِدُكُمُ اللَّهُ إِحْدَى الطَّائِفَتَيْنِ أَنَّهَا لَكُمْ وَتَوَدُّونَ أَنَّ غَيْرَ ذَاتِ الشَّوْكَةِ تَكُونُ لَكُمْ وَيُرِيدُ اللَّهُ أَنْ يُحِقَّ الْحَقَّ بِكَلِمَاتِهِ وَيَقْطَعَ دَابِرَ الْكَافِرِينَ (7) لِيُحِقَّ الْحَقَّ وَيُبْطِلَ الْبَاطِلَ وَلَوْ كَرِهَ الْمُجْرِمُونَ (8)

جیسا کہ تمہارے رب نے تجھے حق کے ساتھ اپنے گھر سے نکال دیا اور مومنوں کے ایک گروہ کو یہ ناگوار تھا۔ وہ حق بات کے سلسلے میں تم سے جھگڑ رہے تھے۔ حالانکہ واضح ہوچکا تھا۔ ان کا حال یہ تھا کہ گویا وہ موت کی طرف ہانکے جا رہے ہیں اور وہ موت اپنی آنکھوں سے دیکھ رہے ہیں۔ جب اللہ تم سے وعدہ کر رہا تھا کہ دو گروہوں میں سے کوئی ایک گروہ تمہارے ہاتھ آجائے گا۔ اور تم چاہ رہے تھے کہ کمزور گروہ تمہارے ہاتھ آئے لیکن اللہ چاہتا تھا کہ اپنے احکام سے حق کا حق ہونا ثابت کردے اور کافروں کی جڑ کاٹ دے تاکہ حق کو حق اور باطل کو باطل کر دکھائے خواہ مجرموں کو ناگوار ہی کیوں نہ لگے۔

(بہت طویل ہونے کی وجہ سے اس آیت کی مکمل تفسیر شامل نہیں کی جا سکی۔ ہم اس کے لیے معذرت خواہ ہیں۔ برائے مہربانی اس آیت کی تفسیر کا بقیہ حصہ فی ظلال القرآن جلد سے پڑھیں)

اردو ترجمہ

جو نماز قائم کرتے ہیں اور جو کچھ ہم نے ان کو دیا ہے اس میں سے (ہماری راہ میں) خرچ کرتے ہیں

انگریزی ٹرانسلیٹریشن

Allatheena yuqeemoona alssalata wamimma razaqnahum yunfiqoona

درس نمبر 83 ایک نظر میں

یہ اس سورة کا پہلا سبق ہے۔ اس کا موضوع انفال اور اموال غنیمت کی تقسیم ہے۔ اموال غنیمت اور انفال میں وہ تمام چیزیں شامل ہوتی ہیں جو میدان جنگ میں مسلمانوں کے ہاتھ لگتی ہیں ، جبکہ یہ جنگ جہاد فی سبیل اللہ ہو۔ سب سے پہلے اہل بدر کے درمیان اموال غنیمت کی تقسیم کے بارے میں اختلافات پھوٹ پڑے تھے۔ اللہ تعالیٰ نے اہل ایمان کو خدا خوفی اور اطاعت رسول کے معاملے کی طرف بھی متوجہ کیا اور لوگوں کے دلوں میں ایمان اور تقوی کے جذبات ابھارے گئے۔

اللہ تعالیٰ نے انہیں یاد دلایا کہ تم تو آغاز ہی سے یہ چاہتے تھے کہ قافلے پر حملہ کرکے مال غنیمت حاصل کرلو۔ لیکن اللہ کی حکمت کا تقاضا یہ تھا کہ تمہیں نصرت اور عزت سے نوازے۔ پھر انہیں یاد دلاای کہ ذرا اس معرکے کے مراحل پر غور کرو کہ تمہاری تعداد اور سازوسامان دشمن کے مقابلے میں بہت ہی کم تھا ، وہ تم سے کہیں زیادہ تھا۔ مگر اللہ نے فرشتوں کے ذریعے تمہارے قدم مضبوط کیے۔ پھر اس نے بارش برسا کر تمہارے لیے لڑنا آسان کردیا۔ تمہارے پاؤں مضبوطی سے جمتے تھے ، تم بارش کے پانی سے مویشیوں کو سیراب کرائے تھے اور غسل کرتے تھے کیونکہ جنگ بدر ریت کے میدان میں لڑی گئی تھی اور ریت میں انسانوں اور گھوڑوں کے قدم دھنس جایا کرتے ہیں۔ پھر یاد دلایا گیا کہ تم کو ایک قسم کی نیند نے آ لیا اور نیند آتے ہی تم مطمئن ہوگئے۔ پھر اللہ نے تمہارے دشمنوں کے دلوں میں رعب ڈال دیا اور ان پر شدید عذاب نازل کردیا۔

ان تجربات کی روشنی میں قرآن ان کو حکم دیتا ہے کہ تم ہر جنگ میں ثابت قدمی اختیار کرو۔ اگرچہ بظاہر تمہیں دشمنوں کی قوت زیادہ نظر آئے کیونکہ قتل کرنے والا اللہ ہوتا ہے۔ اللہ ہی دراصل تیر چلاتا ہے وہی معاملات کی تدبیر کرتا ہے ، تم تو در اصل تقدیر الہی کے لیے ایک پردہ ہو ، وہ تمہیں جس طرح چاہتی ہے ، چلاتی ہے۔ اس کے بعد اس سبق میں مشرکین کی اس احمقانہ حرکت پر تبصرہ کیا گیا ہے کہ یہ لوگ اس واقعہ سے قبل اللہ کے سامنے دست بدعا تھے کہ اے اللہ آپ آج کی جنگ میں اس فرقے کو تباہ کردیں جو گمراہ ہو اور جو صلہ رحمی کا قاطع ہو۔ اللہ فرماتے ہیں ان تستفتحوا فقد جاء کم الفتح۔ اگر تم فیصلہ چاہتے تھے تو لو فیصلہ تمہارے سامنے آگیا۔

مسلمانوں کو کہا جاتا ہے کہ اپنی زندگیوں سے نفاق کو دور کرو اور منافقوں کا رویہ اختیار نہ کرو۔ جو کہتے تو یہ تھے کہ ہم سنتے ہیں لیکن سنتے نہ تھے اس لیے کہ وہ سن کر مانتے نہ تھے۔

اس سبق کے آخر میں مسلمانو کو بار بار پکارا جاتا ہے کہ مسلمانو ! رسول تمہیں جب بھی پکارے تو لبیک کہو ، اس لیے کہ وہ تمہیں ایک ایسی دعوت دیتا ہے جس کے نتیجے میں تمہیں زندگی دوام حاصل ہوگی۔ اگرچہ بظاہر وہ تمہیں موت اور قتل کی طرف بلا رہا ہو۔ اللہ اہل ایمان کو یاد دلاتا ہے کہ وہ وقت یاد کرو جب تم قلیل اور کمزور تھے۔ تمہیں ہر وقت ہر طرف سے ڈر لگا رہتا تھا کہ دشمن کہیں تمہیں اچک نہ جائے۔ ان حالات میں اللہ نے تمہیں پناہ دی ، نصرت دی۔ اور اب تمہارے ساتھ یہ وعدہ ہے کہ اگر تم تقویٰ کی راہ اختیار کرو تو اللہ تمہیں فیصلہ کن طرز عمل اور فیصلہ کن رائے عطا کرے گا اور تمہارے گناہوں کو معاف کردے گا ، تمہاری تقصیرات سے درگذر کرے گا اور اللہ کے ہاں جو کچھ تمہارے لیے دار آخرت میں تیار ہے وہ اس جہاں کے تمام غنائم و اموال سے کہیں زیادہ ہے۔

۔۔۔

درس نمبر 83 تشریح آیات : 1 ۔۔ تا۔۔ 29:۔

تفسیر آیات 1 تا 4 ۔

يَسْأَلُونَكَ عَنِ الأنْفَالِ قُلِ الأنْفَالُ لِلَّهِ وَالرَّسُولِ فَاتَّقُوا اللَّهَ وَأَصْلِحُوا ذَاتَ بَيْنِكُمْ وَأَطِيعُوا اللَّهَ وَرَسُولَهُ إِنْ كُنْتُمْ مُؤْمِنِينَ (1)إِنَّمَا الْمُؤْمِنُونَ الَّذِينَ إِذَا ذُكِرَ اللَّهُ وَجِلَتْ قُلُوبُهُمْ وَإِذَا تُلِيَتْ عَلَيْهِمْ آيَاتُهُ زَادَتْهُمْ إِيمَانًا وَعَلَى رَبِّهِمْ يَتَوَكَّلُونَ (2) الَّذِينَ يُقِيمُونَ الصَّلاةَ وَمِمَّا رَزَقْنَاهُمْ يُنْفِقُونَ (3) أُولَئِكَ هُمُ الْمُؤْمِنُونَ حَقًّا لَهُمْ دَرَجَاتٌ عِنْدَ رَبِّهِمْ وَمَغْفِرَةٌ وَرِزْقٌ كَرِيمٌ (4)

اے پیغمبر لوگ تم سے غنیمتوں کے بارے میں پوچھتے ہیں ، کہہ دو کہ یہ غنیمتیں اللہ اور اس کے رسول کی ہیں ، پس اللہ سے ڈرو اور آپ سکے باہم تعلقات ٹھیک رکھو۔ اگر تم مومن ہو تو اللہ اور اس کے رسول کی اطاعت کرو۔ مومت تو وہ ہے کہ جب اللہ کا ذکر کیا جاتا ہے تو ان کے دل دہل جاتے ہیں اور جب ان پر آیات الہی کی تلاوت ہوتی ہے تو ان کے ایمان کو زیادہ کردیتی ہے اور وہ اپنے رب پر بھروسہ کرتے ہیں۔ جو نماز قائم کرتے ہیں اور جو کچھ ہم نے انہیں دے رکھا ہے اس میں خرچ کرتے ہیں۔ ایسے ہی لوگ حقیقی مومن ہیں۔ ان کے لیے ان کے رب کے پاس بڑے درجے ہیں اور مغفرت ہے اور عزت کی روزی ہے۔

ان آیات کے نزول کے بارے میں جو روایات وارد ہیں ، ان کا ایک بڑا حصہ ہم نے اس سورة کے تعارف کے ضمن میں نقل کیا تھا۔ یہاں ہم بعض دوسری روایات کا اضافہ کرتے ہیں۔ تاکہ وہ حالات قاری کے پیش نظر رہیں جن میں عموماً یہ سورت نازل ہوئی ہے۔ خصوصا جن حالات میں وہ آیات نازل ہوئیں جن کا تعلق اموال غنیمت سے ہے۔ ان روایات سے یہ بات بھی معلوم ہوگی کہ مدینہ میں پہلی اسلامی حکومت کے قیام کے وقت جماعت مسلمہ کے خدوخال کیا تھے ؟ اور وہ کن عملی دشواریوں سے گزر رہی تھی۔

ابن کثیر فرماتے ہیں : ابو داود ، نسائی ، ابن جریر ، ابن مردویہ (الفاظ ان کے ہیں) ابن حبان ، اور حاکم نے بواسطہ داود ابن ابو ہند اور عکرمہ ، ابن عباس سے یہ روایت نقل کی ہے۔ وہ کہتے ہیں کہ جب بدر کا دن آیا تو حضور ﷺ نے فرمایا " جس نے یہ یہ کیا ، اسے یہ یہ جزا ہوگی "۔ اسی طرح قوم کے نوجوان آگے بڑھ گئے اور بوڑھے لوگ جھنڈوں کے آس پاس رہے۔ جب اموال غنیمت کا وقت آیا تو انہوں نے حضور اکرم ﷺ سے وہ مطالبات شروع کردئیے جن کا وعدہ حضور ﷺ نے فرمایا تھا۔ تو بڑے لوگوں نے یہ کہا کہ تم لوگ ترجیحات کا مطالبہ نہ کرو کیونکہ ہم لوگ تمہارے لیے چادر تھے ، اگر تمہیں شکست ہوتی تو تم ہمارے پاس پناہ لیتے۔ اس پر ان دو گروہوں کے درمیان تنازعہ ہوگیا۔ اس موقعہ پر اللہ نے یہ آیات نازل فرمائیں۔ یسئلونک عن الانفال تا واطیعو اللہ ورسولہ ان کنتم مومنین۔ اور ثوری نے کلبی سے ، ابو صالح سے ، ابن عباس سے یہ روایت کی ہے۔ کہتے ہیں : جب بدر کی جنگ ہوئی ، تو حضور نے فرمایا کہ جس نے کسی کو قتل کیا تو اس کے لیے یہ یہ انعام ہوگا اور جس نے کسی کو قید کیا تو اسے یہ یہ انعام دیا جائے گا "۔ اس موقع پر ابو الیسیر نے دو آدمیوں کو قیدی بنا لیا تو انہوں نے عرض کیا یہ لیجیے حضور آپ نے ہم سے وعدہ کیا تھا۔ اس پر سعد ابن عبادہ کھڑے ہوئے اور فرمایا حضور اگر آپ نے ان لوگوں کو اس طرح غنائم دیے تو آپ کے ساتھیوں کے لیے کچھ نہ رہے گا۔ نیز ہم لوگ لڑائی کرنے سے اس لیے باز نہیں رہے کہ ہمیں اجر کی ضرورت نہ تھی یا ہم دشمن سے ڈرتے تھے۔ ہم یہاں اس لیے کھرے رہے کہ آپ کی حفاظت ہو۔ یہ نہ ہو کہ دشمن پیچھے سے آپ پر حملہ کردے۔ چناچہ اس پر کافی تنازعہ ہوگیا اور اس موقع پر یہ آیات نازل ہوئیں۔ یسئلونک عن الانفال قل الانفال للہ والرسول۔ انہوں نے کہا اور اسی سلسلے میں یہ آیات بھی نازل ہوئیں واعلموا انما غنمتم من شیئ فان للہ خمسہ الخ۔

امام احمد نے ایک روایت نقل کی۔ فرماتے ہیں : ابو معاویہ نے روایت کی ہے ، ابو اسحاق شیبانی سے ، محمد ابن عبیداللہ ثقفی سے ، سعد بن ابو وقاص سے ، یہ کہتے ہیں : بدر کی جنگ کے موقعہ پر میرے بھائی عمر قتل ہوگئے تھے ، میں نے سعید ابن العاص کو قتل کیا اور اس کی تلوار لے لی۔ اس تلوار کا نام " ذوالکثیفہ " تھا۔ میں یہ تلوار لے کر حضور کے پاس آیا۔ حضور نے فرمایا جاؤ اور اسے مقبوضات میں پھینک دو ۔ کہتے ہیں ، میں تلوار پھینک کر لوٹا لیکن میرے حال کو صرف خدا ہی جانتا تھا کہ میرا بھائی بھی قتل ہوگیا اور میرے ہاتھ جو قیمتی چیز لگی تھی وہ بھی نہ مل سکی۔ میں تھوڑی دور ہی گیا تھا کہ سورة انفال نازل ہوگئی۔ حضور نے مجھے حکم دیا کہ جاؤ وہ تلوار لے لو جو تمہارے ہاتھ لگی تھی۔

امام احمد فرماتے ہیں ، اسود ابن عامر نے روایت کی ، ابوبکر سے ، عاصم ابن ابو النجود سے ، مصعب ابن سعد سے ، سعد ابن مالک سے۔ یہ کہتے ہیں : میں نے حضور سے کہا کہ آج اللہ نے مشرکین سے مجھے شفا عطا کی تو یہ تلوار آپ مجھے بخش دیں۔ حضور نے فرمایا یہ تلوار نہ میرے لیے ہے اور نہ تیرے لیے۔ اسے ادھر رکھ دو ۔ تو اس نے کہا کہ میں تلوار رکھ دی اور واپس ہوگیا۔ ممکن ہے کہ یہ تلوار اس شخص کو ملے جس نے میری طرح اس کا حق ادا نہ کیا ہو۔ اچانک میں نے سنا کہ ایک شخص پیچھے سمجھے پکار رہا ہے۔ کہتے ہیں میں نے یہی سمجھا کہ شاید میرے بارے میں کوئی آیت نازل ہوگئی۔ حضور نے فرمایا تم نے مجھ سے تلوار مانگی تھی ، اور یہ میری ملکیت نہ تھی اور اب یہ مجھے بخش دی گئی ہے لہذا اب یہ تمہاری ہے " اس موقع پر یہ آیات نازل ہوئیں۔ يَسْــــَٔـلُوْنَكَ عَنِ الْاَنْفَالِ ۭقُلِ الْاَنْفَالُ لِلّٰهِ وَالرَّسُوْلِ ۔ ابو داود ، ترمذی ، نسائی نے ابوبکر ابن عیاش سے یہ روایت نقل کی ہے۔ متعدد طریقوں سے امام ترمذی نے اسے حسن صحیح کہا ہے۔

ان روایات سے وہ فضا معلوم ہوجاتی ہے جس میں سورة انفال نازل ہوئی۔ انسان یہ روایات پڑھ کر ایک بار حیران سا ہوجاتا ہے کہ اہل بدر اور یہ باتیں ! اس لیے کہ ان میں تو وہ لوگ تھے جو یا تو مہاجرین تھے جنہوں نے مکہ میں اپنا سب کچھ قربان کردیا تھا اور محض اپنے نظریات کی وجہ سے مدینہ چلے آئے تھے اور ان کی نظروں میں اس دنیا کے مفادات بہرحال ہیچ تھے۔ یا ان میں وہ انصار سابقین تھے جنہوں نے ان مہاجریین کو پناہ دی تھی اور انہیں اپنے علاقے اور اموال میں شریک کرلیا تھا۔ وہ ان کے ساتھ اس دنیا کے مفادات میں سے کسی مفاد میں بھی بخل نہ کرتے تھے۔ ان کے بارے میں اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں : يُحِبُّونَ مَنْ هَاجَرَ إِلَيْهِمْ وَلا يَجِدُونَ فِي صُدُورِهِمْ حَاجَةً مِمَّا أُوتُوا وَيُؤْثِرُونَ عَلَى أَنْفُسِهِمْ وَلَوْ كَانَ بِهِمْ خَصَاصَةٌ: یہ ان لوگوں سے محبت کرتے ہیں جو ہجرت کرکے ان کے پاس آتے ہیں اور جو کچھ بھی ان کو دے دیا جائے اس کی کوئی حاجت تک اپنے دلوں میں محسوس نہیں کرتے اور اپنی ذات پر دوسروں کو ترجیح دیتے ہیں خواہ اپنی جگہ محتاج ہوں۔

اس صورت حالات کی تشریح کی طرف اشارہ خود ان روایات میں موجود ہے۔ اس وقت مال غنیمت کا تعلق اس بہادری اور شجاعت سے تھا ، جس کا مظاہرہ ایک فوجی میدان جنگ میں کرتا تھا اور یہ مالی انعام اس بات کی علامت بھی ہوا کرتا تھا کہ انعام پانے والے نے داد شجاعت دی ہے اور اس دور میں لوگ اس بات کی خواہش رکھتے تھے کہ انہیں رسول اللہ کے ہاتھوں انعام خصوصی ملے جو براہ راست اللہ کی طرف سے انعام تصور ہوگا۔ خصوصاً اس پہلے معرکے میں جو اسلام اور کفر کے درمیان برپا ہوا۔ اس حرص اور انعام کے اس لالچ میں ایک دوسری صفت دب کر رہ گئی اور بعض لوگوں نے اموال غنیمت کے بارے میں بات کی اور اللہ نے ان کو اس صفت کی اہمیت کی طرف متوجہ کیا۔ وہ یہ کہ ایک دوسرے کے ساتھ معاملات میں ذرا حسن معاملت کی ضرورت ہے اور تمہاری قلبی اصلاح کی سخت ضرورت ہے۔ چناچہ انہوں نے اس بات کو اچھی طرح محسوس کرلیا اور سمجھ گئے۔ ایک موقع پر حضرت عبادہ ابن الصامت نے فرمایا : " یہ آیات ہم اصحاب بدر کے بارے میں نازل ہوئیں۔ جب ہم نے اموال غنیمت میں اختلاف کیا اور اس میں ہم اخلاقی حدود سے آگے نکل گئے۔ اللہ ان اموال کو ہمارے اختیار سے نکال لایا اور رسول اللہ ﷺ کے اختیار میں دے دیا "

اللہ تعالیٰ نے اس جماعت کی عملی اور لسانی تربیت فرمائی۔ چناچہ اموال غنیمت کی تقسیم کے اختیارا ان سے لے لیے اور کلی طور پر نبی ﷺ کے ہاتھ میں دے دئیے۔ یہاں تک کہ تقسیم غنائم کے بارے میں تفصیلی احکامات نازل ہوئے۔ لہذا اس معاملے میں ان کے لیے کسی تنازعے کا کوئی حق ہی نہ رہا۔ یہ اللہ کا فضل ہوگیا۔ رسول اللہ نے ان کے درمیان ان کی تقسیم اس طرح فرمائی جس طرح رب تعالیٰ نے آپ کو ہدایت دی۔ اس عملی اصلاح کے ساتھ ساتھ یہ طویل اور مسلسل ہدایت بھی ان کو دی گئیں اور یہ ہدایت اس سورة میں دور تک چلی گئیں۔ آغاز یوں ہوا :

يَسْــــَٔـلُوْنَكَ عَنِ الْاَنْفَالِ ۭقُلِ الْاَنْفَالُ لِلّٰهِ وَالرَّسُوْلِ ۚ فَاتَّقُوا اللّٰهَ وَاَصْلِحُوْا ذَاتَ بَيْنِكُمْ ۠ وَاَطِيْعُوا اللّٰهَ وَرَسُوْلَهٗٓ اِنْ كُنْتُمْ مُّؤْمِنِيْنَ : لوگ تم سے انفال کے متعلق پوچھتے ہیں۔ کہو " یہ انفال تو اللہ اور اس کے رسول کے ہیں۔ پس تم لوگ اللہ سے ڈرو اور اپنے آپس کے تعلقات درست کرو اور اللہ اور اس کے رسول کی اطاعت کرو ، اگر تم مومن ہو "

یہ سوال ان لوگوں کی جانب سے تھا جنہوں نے غنائم پر تنازعہ کیا تھا اور یہ پکار بھی انہی کے نام ہے کہ اللہ کا خوف کرو ، اللہ تمہارے دلوں کا خالق ہے اور تمہارے دلوں میں جو باتیں آتی ہیں ان کو وہ جانتا ہے۔ اللہ اس بات پر گرفت نہیں کرتا کہ کسی کے دل میں دنیاوی مقاصد کی خواہش کیوں آتی ہے۔ اور اس پر نزاع کیوں واقع ہوگیا۔ اگرچہ اس نزاع کی تہ میں یہ جذبہ تھا کہ رسول کے ہاتھوں ان کو انعام ملے جو ان کے حسن کار کردگی پر دلیل وبرہان ہو۔ لیکن اللہ نے دنیا و آخرت کی کامیابی کے لیے یہ ضروری قرار دیا کہ تم اپنے دلوں میں تقوی اور خدا خوفی کا جذبہ پیدا کرو ، اس لیے کہ جس دل کا تعلق باللہ نہ ہو اور وہ اللہ کے غضب سے نہ ڈرتا ہو اور اسے رضائے الہی کے حصول کی خواہش نہ ہو تو وہ ہر گز دنیاوی مفادات کو نظر انداز نہیں کرسکتا اور وہ کبھی بھی شعوری طور پر ان آلودگیوں سے دور نہیں ہوسکتا۔

حقیقت یہ ہے کہ تقوی دلوں کی لگام ہے اور تقویٰ ہی کے ذریعے دلوں کی قیادت کی جاسکتی ہے اور بڑی ہی سہولت کے ساتھ کی جاسکتی ہے۔ قرآن کریم اول سے آخر تک انسان کی قیادت اسی تقوی اور تعلق باللہ کی لگام کے ذریعے کرتا ہے اور اس کو اصلاح کا ذریعہ قرار دیتا ہے۔

قرآن کہتا ہے فَاتَّقُوا اللّٰهَ وَاَصْلِحُوْا ذَاتَ بَيْنِكُمْ : تم لوگ اللہ سے ڈرو اور اپنے آپس کے تعلقات درست کرو۔ اور آگے کہا جاتا ہے کہ یہی وہ ذریعہ ہے جس کی وجہ سے تم اطاعت رسول کرسکتے ہو۔ وَاَطِيْعُوا اللّٰهَ وَرَسُوْلَهٗٓ اِنْ كُنْتُمْ مُّؤْمِنِيْنَ : اور اللہ اور اس کے رسول کی اطاعت کرو اگر تم مومن ہو "

اور اور رسول کی پہلی اطاعت یہ ہے کہ تم ان احکام کو تسلیم کرو جو اللہ کی طرف انفال کے بارے میں آ رہے ہیں۔ مثلاً اموال غنیمت کو اب مجاہدین کی ملکیت سے نکال دیا گیا ہے اور ان کی ملکیت اللہ اور رسول کو دے دی گئی ہے۔ لہذا اب ان کے بارے میں تصرف کا حق صرف اللہ اور رسول کو ہے۔ اہل ایمان کا فرض یہ ہے کہ اس کے بارے میں اللہ اور رسول کے احکام کو تسلیم کریں۔ اور اللہ کی ہدایات کے مطابق رسول اللہ کی تقسیم کو قبول کریں اور بطیب خاطر قبول کریں ، راضی برضا ہوں اور اپنے ما بین کے تعلقات کی اصلاح کریں اور اپنے شعور اور احساسات کو درست کریں اور اپنے دلوں کو ایک دوسرے کے معاملے میں صاف کرلیں۔ ان کنتم مومنین : اگر تم مومن ہو۔

یہ ضروری ہے کہ ایمان کی کوئی عملی اور واقعی صورت ہو۔ اور اس عملی صورت میں ایمان نظر آئے اور واضح طور پر نمایاں ہو۔ وہ مجسم شکل میں نظر آئے اور انسان کے اعمال اس کے ایمان کے ترجمان ہوں۔ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا۔ لیس الایمان بالتمنی ولکن ھو ما وقرنی فی القلب و صدقۃ لاعمال : ایمان صرف تمنا نہیں ، یہ دل میں جاگزیں ہوتا ہے اور اعمال ایمان کی تصدیق کرتے ہیں۔ یہ وجہ ہے کہ قرآن کریم میں اس قسم کے فقرے فیصلہ کن انداز میں بار بار آتے ہیں اور ان سے مقصود یہی ہوتا ہے کہ ایمان کی حقیقت کیا ہے اور اس کا اعمال کے ساتھ کیا تعلق ہے۔ ایمان صرف الفاظ کا نام نہیں ہے جو زبان پر جاری ہوتے ہیں ، یا وہ محض تمنا بھی نہیں ہے جو نہ عالم واقعہ میں کچھ حقیقت رکھتی ہو اور نہ عالم اعمال میں اس کا وجود ہو۔

اس کے بعد بتایا جاتا ہے کہ ایک سچے مومن کی حقیق صفات کیا ہوتی ہیں تاکہ ان کو یہ بتایا جائے کہ ان کنتم مومنین سے مراد کیا ہے ؟ چناچہ بتایا جاتا ہے کہ رب العالمین کے نزدیک مومن ایسا ہوتا ہے۔

اِنَّمَا الْمُؤْمِنُوْنَ الَّذِيْنَ اِذَا ذُكِرَ اللّٰهُ وَجِلَتْ قُلُوْبُهُمْ وَاِذَا تُلِيَتْ عَلَيْهِمْ اٰيٰتُهٗ زَادَتْهُمْ اِيْمَانًا وَّعَلٰي رَبِّهِمْ يَتَوَكَّلُوْنَ ۔ الَّذِيْنَ يُقِيْمُوْنَ الصَّلٰوةَ وَمِمَّا رَزَقْنٰهُمْ يُنْفِقُوْنَ ۔ اُولٰۗىِٕكَ هُمُ الْمُؤْمِنُوْنَ حَقًّا ۭلَهُمْ دَرَجٰتٌ عِنْدَ رَبِّهِمْ وَمَغْفِرَةٌ وَّرِزْقٌ كَرِيْمٌ ۔ سچے اہل ایمان تو وہ لوگ ہیں جن کے دل اللہ کا ذکر سن کر لرز جاتے ہیں اور جب اللہ کی آیات ان کے سامنے پڑھی جاتی ہیں تو ان کا ایمان بڑھ جاتا ہے اور وہ اپنے رب پر اعتماد رکھتے ہیں۔ جو نماز قائم کرتے ہیں اور جو کچھ ہم نے ان کو دیا ہے اس میں سے (ہماری راہ میں) خرچ کرتے ہیں۔ ایسے ہی لوگ حقیقی مومن ہیں۔ ان کے لیے ان کے رب پاس بڑے درجے ہیں (قصوروں سے درگذر ہے اور بہترین رزق ہے) ۔

لفظی اور نحوی اعتبار سے ان آیات کا طرز تعبیر نہایت ہی معنی خیز ہے اور نہایت ہی گہری معنویت رکھتا ہے۔ یہاں لفظ قصر (انما) استعمال کیا گیا ہے۔ اور یہاں کوئی ایسی وجہ نہیں ہے کہ ہم لفظ انما کی قصر کی تاویل کریں جبکہ اللہ تعالیٰ نہایت ہی تاکید سے ایک بات کہنا چاہتے ہیں ، تاویلات یوں کی گئی ہیں کہ اس سے مراد ایمان کامل ہے۔ اگر اللہ اس طرح کہنا چاہتا تو کہتا کہ کامل مومن وہ ہیں جو ایسے ایسے ہوں ، در حقیقت یہ ایک نہایت مفصل تعبیر ہے۔ مطلب یہ ہے کہ جن لوگوں کا احساس و شعور ایسا ہو اور جن کے صفات و اعمال ایسے ہوں وہی درحقیقت مومن ہوتے ہیں۔ اور جن لوگوں کے اندر یہ صفات و اعمال نہیں ہیں وہ مومن نہیں ہیں اس لیے کہ اس آیت کے آخر میں اس نکتے کی بتکرار تاکید کی گئی ہے : اُولٰۗىِٕكَ هُمُ الْمُؤْمِنُوْنَ حَقًّا : ایسے ہی لوگ فی الحقیقت مومن ہیں۔ اور جو لوگ فی الحقیقت مومن نہیں ہوتے وہ پھر کس طرح کے مومن کہلاتے ہیں۔ قرآن کی تعبیرات خود ایک دوسرے کی تشریح و تفسیر کرتی ہیں۔ اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں فماذا بعد الحق الا الضلال : حق سے آگے گمراہی کے سوا اور ہو کیا سکتا ہے۔ اس لیے جو حق نہ ہوگا وہ ضلالت ہوگی۔ میں یہ کہتا ہوں کہ المومنون حقا کے مقابلے کی تعبیر یہ نہیں ہوسکتی۔ المومنون ایمانا غیر۔۔۔ لہذا قرآن مجید کی اس قدر واضح اور دقیق انداز تعبیر کو تاویلات کے خراد پر نہیں چڑھانا چاہیے جن کی وجہ سے ہر صحیح تصور اور ہر صحیح تعبیر اپنی جگہ سے ہٹ جاتی ہے۔

یہی وجہ ہے کہ بعض سلف صالحین یہ کہتے تھے کہ جس شخص کے عقیدے کے اندر اور اعمال کے اندر یہ صفات نہ ہوں اس نے ایمان نہیں پایا۔ اور وہ سرے سے مومن ہی نہیں ہے۔ ابن کثیر میں ہے ، علی بن طلحہ حضرت ابن عباس سے روایت کرتے ہیں کہ آیت اِنَّمَا الْمُؤْمِنُوْنَ الَّذِيْنَ اِذَا ذُكِرَ اللّٰهُ وَجِلَتْ قُلُوْبُهُمْ میں درحقیقت منافقین کا ذکر ہے ، وہ جب نماز پڑھ رہے ہوتے ہیں ان کے دلوں میں کچھ بھی داخل نہیں ہوتا اور در حقیقت آیات الہیہ پر ایمان ہی نہیں رکھتے اور اللہ پر توکل ہی نہیں کرتے۔ اور جب لوگوں کے سامنے نہ ہوں تو ان کے ساتھ صلہ رحمی بھی نہیں کرتے اور وہ اپنے اموال کی زکوۃ بھی نہیں دیتے۔ تو اللہ نے ان منافقین کے بارے میں خبر دی کہ وہ مومن نہیں ہیں۔ اس کے بعد اللہ نے حقیقی مومنوں کی صفات گنوا دیں۔ مثلاً :

اِنَّمَا الْمُؤْمِنُوْنَ الَّذِيْنَ اِذَا ذُكِرَ اللّٰهُ وَجِلَتْ قُلُوْبُهُمْ " اہل ایمان وہ لوگ ہیں جن کے دل اللہ کا ذکر سن کر لرز جاتے ہیں " اس طرح وہ اپنے فرائض ادا کرتے ہیں۔ وَاِذَا تُلِيَتْ عَلَيْهِمْ اٰيٰتُهٗ زَادَتْهُمْ اِيْمَانًا : " جب ان پر آیات الہیہ پڑھی جائیں تو ان کا ایمان زیادہ ہوجاتا ہے۔ یعنی ان کی تصدیق میں اضافہ ہوتا ہے۔ وَّعَلٰي رَبِّهِمْ يَتَوَكَّلُوْنَ : " اور وہ اپنے رب پر بھروسہ کرتے ہیں "

آئندہ سطور میں ہم یہ ثابت کریں گے کہ ان حقائق کے بغیر سرے سے ایمان کا وجود ہی نہیں قائم رہتا۔ اور اس سے مراد یہ نہیں ہے کہ ان کی وجہ سے ایمان کامل ہوتا ہے اور نہ ہونے سے ناقص ہوتا ہے بلکہ سوال ایمان کے عدم یا وجود کا ہے : " اہل ایمان تو وہ لوگ ہیں جن کے دل اللہ کا ذکر سن کر لرز جاتے ہیں "۔ جب کوئی مومن کسی امر یا نہی کے سلسلے میں اللہ کو یاد کرتے ہیں تو ان کے دل کے اندر ایک وجدانی ارتعاش پیدا ہوتا ہے۔ ان کے دل پر اللہ کی جلالت شان کی وجہ سے ہیت طاری ہوجاتی ہے اور ان کے دل میں خوف خدا کی لہریں اٹھتی ہیں ، اس طرح ان کی تقصیرات اور گناہوں کے بالمقابل اللہ کی ہیبت آ کھڑی ہوتی ہے اور اس طرح وہ باعث بنتی ہے عمل اور طاقت کا۔ جیسا کہ ام الدرداء ؓ نے کہا : الوجل فی القلب کافراق السعفۃ اما تجد لہ قشطریرہ ؟ قال بلی قالت اذا وجدت فاذا وجدت ذلک فادع اللہ عند ذلک فان الدعاء یذھب ذلک۔ " وجل " کا مطلب یوں سمجھیے کہ جب کسی کو پھنسیاں نکل آئیں تو اسے جلن ہوتی ہے۔ کیا تم ایسی حالت میں کپکپی محسوس نہیں کرتے۔ کہاں ہاں ایسا ہی ہوتا ہے۔ فرمایا جب تم ایسی حالت کو پاؤ تو اللہ کو پکارو ، دعا کے نتیجے میں یہ حالت چلی جاتی ہے۔

غرض یہ وہ حالت ہے جس میں دل میں بےقرار پیدا ہوجاتی ہے اور ایسے حالات میں ذکر اور دعاء کے نتیجے میں انسان کو راحت اور قرار نصیب ہوتا ہے اور یہ وہ حالت ہے جب انسان کسی امر اور نہی کے معاملے میں اللہ کو یاد کرتا ہے۔ وَاِذَا تُلِيَتْ عَلَيْهِمْ اٰيٰتُهٗ زَادَتْهُمْ اِيْمَانًا : اور جب اللہ کی آیات ان کے سامنے پڑھی جاتی ہیں تو ان کا ایمان بڑھ جاتا ہے۔ قلب مومن کے لیے فی الحقیقت ان آیات میں وہ نکات ہیں جو اس کے ایمان کے لیے اضافے کا باعث ہوتے ہیں اور جن کی وجہ سے مومن کو اطمینان قلب نصیب ہوتا ہے۔ قرآن قلب مومن کے ساتھ براہ راست سلوک اور برتاؤ کرتا ہے اور قرآن اور قلب مومن کے درمیان صرف کفر کا پردہ حائل ہوسکتا ہے جس کی وجہ سے قرآن سے قلب محجوب ہوجاتا ہے اور قلب سے قرآن۔ جب ایمان کی وجہ سے حجاب اٹھتا ہے تو دل حلاوت قرآن کو محسوس کرنے لگتا ہے اور اس طرح قرآنی اثرات پڑتے پڑتے ایمان میں اضافہ ہوتا رہتا ہے۔ یہاں تک کہ انسان کامل اطمینان کے مقام تک پہنچا جاتا ہے۔ جس طرح قرآن کے اثرات دل میں ایمان کی زیادتی کا باعث ہوتے ہیں۔ اسی طرح دل بھی قرآن کے اثرات کو اپنی طرف کھینچتا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ قرآن کریم میں یہ فقرہ بار بار آتا ہے۔ ان فی ذلک لایات للمومنین۔ بیشک اس میں مومنین کے لیے نشانیاں ہیں۔ اس فقرے میں اسی حقیقت کو دہرایا جاتا ہے۔ ان فی ذلک لایات لقوم یومنون۔ اس میں نشانیاں ہیں اس قوم کے لیے جو ایمان لاتی ہے۔ اور بعض صحابہ کرام کے اس قول کا یہی مطلب ہے کہ " ہمیں قرآن دیے جانے سے قبل ایمان دیا جاتا تھا "۔

یہی وجہ ہے کہ صحابہ کرام قرآن کے ساتھ ایک مخصوص تعلق اور ذوق رکھتے تھے۔ اور اس میں ان کی مدد وہ فضا کرتی تھی جس میں وہ باد نسیم کے جھونکے پاتے تھے جبکہ قرآن ان کی عملی زندگی تھا۔ ایک عمل تھا ، محض ذوق و ادراک نہ تھا۔ اس آیت کے نزول کی روایات میں ایک روایت سعد ابن مالک کا قول ہے۔ انہوں نے رسول اللہ ﷺ سے یہ درخواست کی تھی کہ ان کو مال غنیمت کے طور پر ایک تلوار دے دیں۔ اس وقت قرآن کی وہ آیات نازل نہ ہوئی تھیں جن میں غنائم کو حضور ﷺ کے اختیارات کی طرف لوٹا دیا گیا تھا۔ آپ کو نہ یہ اختیار دیا گیا تھا کہ آپ جس طرح چاہیں اس میں تصرف کریں۔ اور حضور نے انہیں جواب دیا تھا : بیشک یہ تلوار نہ میری اور نہ تیری ہے۔ اسے اموال کے ساتھ رکھ دیں " جب سعد کو دوبارہ پیچھے سے پکارا گیا حالانکہ وہ تلوار رکھ کر واپس ہوگئے تھے تو وہ توقع رکھتے تھے کہ شاید اللہ نے اس معاملے میں کچھ آیات اتار دی ہیں۔ کہتے ہیں : " میں نے کہا کیا اللہ تعالیٰ نے میرے بارے میں کچھ آیات نازل کردی ہیں ؟ " تو رسول اللہ ﷺ نے فرمایا ، تم نے مجھ سے تلوار کے لیے درخواست کی تھی ، حالانکہ اس وقت وہ میرے اختیار میں نہ تھی ، اب چونکہ اللہ نے غنائم مجھے دے دیے ہیں لہذا میں نے تجھے دے دی " یہ تھا ان لوگوں کا معاملہ اپنے رب کے ساتھ اور یہ تھا ان کا سلوک اس قرآن کے ساتھ جو مسلسل نازل ہورہا تھا۔ یہ ایک عظیم طرز عمل ہے۔

انسانی تاریخ میں یہ ایک عجیب دور تھا۔ اس لیے وہ قرآن کو اس طرح چکھتے تھے اور اسے سنتے ہی اپنی عملی زندگی میں واقعیت دے دیتے تھے۔ ان کا یہ ذوق خاص اس واقعیت کو ایک نہایت ہی اچھی کیفیت عطا کردیتا تھا اور سامع اور قاری دونوں کو ایک دوسرے سے متاثر ہوتے تھے۔ اگرچہ یہ پہلا تجربہ تو دہرایا نہیں جاسکتا لیکن جب بھی اس کرہ ارض پر کوئی مومن گروہ وجود میں آتا ہے تو ایسے ہی تجربات سامنے آتے رہتے ہیں بشرطیکہ اٹھنے والی تحریکات دین کو اسی طرح قائم کرنے کا مقصد پیش نظر رکھتی ہوں جس طرح جماعت مسلمہ اولی کا مقصد تھا اور ایسی ہی جماعتیں جو کہیں کہیں اٹھتی ہیں اور جماعت اول کی طرح اقامت دین کا نصب العین رکھتی ہیں ، انہی کے اندر قرآن فہمی کا وہ ذوق پیدا ہوتا ہے ، جو جماعت اولیٰ کے مماثل ہوتا ہے۔ اس کی تلاوت سے ان کے ایمان میں اضافہ ہوتا ہے۔ ان جماعتوں کے نزدیک دین اس تحریک کا نام ہوتا ہے جس کا مقصد دین کی اقامت ہو اور اس پہلے تجربے کو دہرانا مقصود ہوتا ہے۔ ایسے لوگوں کے نزدیک ایمان محض تمنا نہیں ہوتا بلکہ ایمان اس حقیقت کو کہا جاتا ہے جو دل میں اچھی طرح جاگزیں ہو اور عمل کی صورت میں اس کا ظہور ہو۔ وعلی ربہم یتوکلون اور وہ اپنے رب پر اعتماد کرتے ہیں۔ صرف رب پر۔ نحوی ترکیب کی رو سے اس کا یہی معنی ہے یعنی حصری۔

وہ اللہ کے ساتھ کسی اور کو شریک کرکے اس سے نہ استعانت کرتے ہیں اور نہ اس پر توکل کرتے ہیں۔ امام ابن کثیر نے لکھا ہے " وہ اس کے سوا کسی سے امید نہیں رکھتے ، کسی کی طرف قصد ہی نہیں کرتے ، کسی کے ہاں پانہ ہی نہیں لیتے ، کسی سے حوائج طلب نہیں کرتے ، کسی کی طرف ان کی رغبت اور میلان ہی نہیں ہوتا اور وہ جانتے ہیں کہ اللہ جو کچھ چاہے وہی ہوتا ہے اور جو کچھ نہیں چاہتا ، نہیں ہوتا۔ وہ اس کائنات میں اکیلا صاحب اختیار ہے ، اور اس میں اس کا کوئی شریک نہیں ہے ، نہ اس کے حکم سے کوئی سرتابی کرسکتا ہے۔ وہ جلد حساب لینے والا ہے۔ چناچہ حضرت سعید ابن جبیر کہتے ہیں اللہ پر توکل کرنا ایمان کی لذت ہے۔

یہ تو ہے اللہ کی وحدانیت کے عقیدے کا اخلاص ، اللہ کی بندگی کا اخلاص ، لہذا اب یہ ممکن نہیں ہے کہ ایک دل میں عقیدہ توحید بھی ہو اور اس کے ساتھ وہ شخص اللہ کے سوا اوروں پر بھروسہ بھی کرتا ہو۔ جو لوگ اللہ کے سوا دوسروں پر بھروسہ کرتے ہیں اور دوسروں پر تکیہ کرتے ہیں ان کو چاہیے کہ وہ ذرا غور سے اپنے دلوں کو ٹٹولیں اور دیکھیں کہ آیا ان میں ایمان بھی ہے یا نہیں۔

ہاں اللہ پر توکل مانع اساب نہیں ہے کیونکہ مومن اسباب کو بھی ایمان اور اطاعت کی راہ سے لیتا ہے۔ ہمارا ایمان ہے کہ مسبب الاسباب بھی اللہ ہے اور اسی نے انسان کو راہ اسباب اختایر کرنے کا حکم دیا ہے۔ لیکن مومن کا یہ ایمان بھی ہوتا ہے کہ نتائج کا نکلنا اسباب پر موقوف نہیں ہے۔ جس طرح اسباب اللہ کی مخلوق و مقدور میں ہیں اسی طرح نتائج بھی اللہ کے پیدا کردہ ہیں۔ مومن کے شعور و عقیدہ میں یہ بات لازمی نہیں ہے کہ خدا کے مہیا کردہ اسباب کے بعد بھی نتائج نمودار ہوں۔ لہذا اسباب کا اختیار کرنا عبادت و اطاعت ہے اور نتائج اللہ کی تقدیر پر نمودار ہوں گے۔ نتائج کا صدور اللہ کی تقدیر کے تابع ہے۔ صرف اللہ چاہے تو نتائج نمودار ہوں گے۔ ایک مومن کے شعور میں اسباب و نتائج کے درمیان کوئی لازمی تعلق نہیں ہوتا۔ اسی طرح ایک مومن کا شعور اسباب کی غلامی سے آزاد ہوجاتا ہے اور اس آزادی کے ساتھ ساتھ ایک مومن اسباب کو برائے حصول ثواب اختیار کرتا ہے تاکہ وہ اللہ کا مطیع ہو۔

جاہلیت جدیدہ ابھی تک اپنے اس نظریہ کے تاریک سمندر میں غوطے کھا رہی ہے کہ اسباب و مسبب کا باہم تعلق قطع ہے اور قوانین طبعی اٹل ہیں تاکہ اللہ کی تقدیر اور اللہ کی غیبی قوت کی نفی کرسکیں۔ لیکن جونہی اس جاہلیت نے اس راہ پر ایک حد تک سفر طے کیا اسے معلوم ہوگیا کہ اس کے آگے تو اللہ کی تقدیر کی حدود شروع ہوگئی ہیں اور اس سرحد پر یہ جاہلیت حیران و پریشان کھڑی ہے اب اس نے عالم مادی میں قوانین طبیعت کے اٹل ہونے کے نظریے کو ترک کرکے " احتمالات " کا نظریہ اپنا لیا ہے۔ گویا پہلے جس چیز کو وہ اٹل کہتے تھے اب محتمل ہوگئی ہے اور عالم غیب کی جس سرحد پر یہ جاہلیت کھڑی ہے۔ اس سے آگے اس کے تمام راستے بند ہیں اور یہی حقیقت تسلیم کرنا پڑتی ہے کہ یہ تقدیر الٰہی ہی ہے جو اس عالم میں کام کرتی ہے اور اللہ تعالیٰ کی یہ آیت اس عالم غیب پر حکمران ہے۔ لاتدری لعل اللہ یحدث بعد ذلک امرا تمہیں نہیں معلوم کہ شاید اللہ اس کے بعد کوئی بات پیدا کردے۔ تقدیر الہیہ کا نظریہ ہی حتمی اور آخری نظریہ ہے۔ اور یہ نظریہ صاف کہتا ہے کہ اس دنیا کے مادی قوانین کے پیچھے ارادہ الہیہ کار فرما ہے اور اللہ کا ارادہ بےقید ہے۔ جو چاہتا ہے ، کرتا ہے اور اس کا ارادہ مطلق اور آزاد ہے ۔ اپنے بنائے ہوئے نظام اسباب و مسبب کا پابند نہیں ہے۔

سر جیمس طبیعات اور ریاضی کے پروفیسر ہیں۔ وہ کہتے ہیں : " قدیم سائنس یہ بات وثوق سے کہتی تھی کہ طبیعت صرف ایک ہی راہ لے سکتی ہے اور وہ وہی راہ ہے جو اس کے لیے اس کے چلنے سے پہلے ہی تجویز کردی گئی ہے۔ اس پر اسے آغاز سے لے کر انجام تک چلنا ہے۔ اور مسلسل اور دائما علل اور معلول کا قانون اس کائنات میں جاری ہے۔ اس بات میں تخلف نہیں ہوسکتا کہ حالت (الف) کے بعد حالت (ب) پیدا ہوگی۔ رہی جدید سائنس تو اس کی رو سے صرف ہی بات وثوق سے کہی جاسکتی ہے کہ حالت (ب) کے بعد اس بات کا احتمال ہے کہ حالت (ب) کے ظہور کا احتمال دوسرے احتمالات سے زیادہ ہے۔ یا ج کا احتمال (د) سے زیادہ ہے علی ھذا القیاس۔

نیز سائنس کے دائرہ قدرت کے اندر یہ بات بھی ہے کہ وہ (ب) ، (ج) اور (د) کے احتمالات کی نسبت کا تعین کردے۔ لیکن نتیجے کے بارے میں کوئی یقینی بات کہنا مشکل ہے۔ کہ (الف) کی حالت کے بعد کون سی حالت کا ظہور ہوگا کیونکہ احتمال بہرحال احتمال ہوتا ہے لیکن کون سی حالت صادر ہوئی ہے۔ یہ پھر تقدیر کا فیصلہ ہوتا ہے۔ اب تقدیر کی حقیقت کیا ہے ، جو حقیقت بھی ہو " (تفصیلی بحث ہم آیت عندہ مفاتح الغیب میں کر آے ہٰں) (دیکھیے پارہ ہفتم ص)

جب قلب مومن اسباب ظاہریہ کے دباؤ سے آزاد ہوجائے تو پھر غیر اللہ پر بھروسہ کرنے کا کوئی جواز ہی نہیں رہتا۔ اس لیے کہ یہ اللہ کی تقدیر ہی ہے ، جس کے پیچھے سے سب کچھ نمودار ہورہا ہے اور یہی یقینی حقیقت ہے۔ رہے ظاہری اسباب تو ان کے نتیجے میں صرف حتمی احتمالات ہی وجود میں آسکتے ہیں۔ یہ ہے وہ عظیم انقلاب جو اسلامی نظریہ حیات انسانی قلب کے اندر پیدا کردیتا ہے اور اسی کے مطابق انسانی سوچ پروان چڑھتی ہے۔ جدید جاہلیت تین سو سال تک اندھیروں میں ٹامک ٹوئیاں مارتی رہی اور پورے تین سو سال کے بعد وہ اس ابتدائی حقیقت کے دروازے تک پہنچ سکی ہے۔ یعنی کالص عقلی اعتبار سے۔ لیکن ابھی تک شعوری طور پر وہ اس حقیقت میں داخل نہیں ہوئی ہے اور نہ انسانیت نے ابھی تک وہ طرز عمل اختیار کیا ہے جو اللہ کے نظام قضا وقدر کے ساتھ اختیار کیا جانا چاہیے یا جو اسباب ظاہریہ کے ساتھ اختیار کیا جانا چاہیے۔ یہ انقلاب در اصل عقلی آزادی اور عقلی انقلاب ہے۔ شعوری انقلاب ، سیاسی انقلاب ہے۔ معاشرتی انقلاب ہے اور اخلاقی انقلاب ہے۔ اور کوئی انسان جب تک وہ اسباب کا غلام ہے اور طبیعت کو اٹل سمجھتا ہے ، آزاد نج ہیں کہلا سکتا۔ کیونکہ جب وہ اسباب کو اٹل سمجھتا ہے تو پھر وہ انسانوں کے ارادے کا غلام بن جائے گا یا طبیعت کے ارادے کا غلام تصور ہوگا۔ کیونکہ اگر کوئی شخص اللہ کے ارادے اور تقدیر کے سوا کسی اور چیز کو بھی حتمی سمجھتا ہے تو اسے سمجھ لینا چاہی کہ وہ آزاد نہیں ہے ، غلام ہے۔ یہی وجہ ہے کہ اللہ نے حکم دیا کہ صرف اللہ پر بھروسہ کرو اور اللہ اور صرف اللہ پر بھروسہ ہی ایمان اور عدم ایمان پر دلالت ہے اسلام کا نظام تصورات ایک کل اور اکائی ہے۔ اور اس تصور حیات پر جو نظام تجویز ہوا ہے وہ بھی ایک کل ، متکامل اور اکائی ہے۔ الذین یقیمون الصلوۃ جو نماز قائم کرتے ہیں۔ یہاں ہم دیکھتے ہیں کہ ایمان ایک متحرک صورت میں ہمارے سامنے ہے۔ اس سے قبل جو حقائق بیان ہوئے ، ان میں ایمان ایک قلبی اور ذہنی حقیقت تھی ، جو نظر نہ آتی تھی۔ کیونکہ ایمان کی تعریف ہی یہ ہے جو دل میں پروقار طریقے سے بیٹھا ہو اور اعمال جوارح ہی اس کی تصدیق کر رہے ہوں کہ وہ ہے۔ لہذا عمل ایمان کی دلالت ظاہری ہے۔ اور یہ ظاہری علامات کا ظہور لابدی ہے تاکہ یہ گواہی فراہم ہوسکے کہ دلوں کے اندر ایمان موجود ہے۔

اقامت صلوۃ کا مفہوم صرف یہ نہیں ہے کہ نماز کو ادا کرلیا جائے بلکہ اس کا مفہوم یہ ہے کہ نماز کو حقیقی معنوں میں ادا کیا جائے یوں کہ نظر آے کہ نمازی اللہ کے حضور کھڑا ہے۔ نماز محض قیام قعود اور قراۃ ہی نہ ہو کہ رکوع و سجود ہو اور دل غافل ہو۔ نماز اگر صحیح طرح قائم ہو تو وہ ایمان پر گواہ ہے۔ و مما رزقنہم ینفقون۔ اور جو کچھ ہم نے ان کو دیا ہے ، اس میں سے خرچ کرتے ہیں۔ یہ عام ہے خواہ زکوۃ ہو یا دوسرے صدقات ہوں جو بھی خرچ کیا جائے وہ اللہ کے دیے ہوئے سے ہوگا۔ اس لیے وہ اللہ کے دین کا حصہ تصور ہوگا۔ قرآن کی ہدایت کا اپنا رنگ ہوتا ہے اور اس کے اندر خاص تعبیری اشارات ہوتے ہیں۔ یہاں یہ اشارہ ہے کہ اس مال و دولت کو تم نے نہیں پیدا کیا۔ یہ تو اللہ نے تمہیں دیا ہے اور تمہیں جو بھی دیا گیا ہے وہ اللہ کا دیا ہوا رزق ہے اور اللہ کا دیا ہوا اس قدر زیادہ ہے کہ انسان اسے گن ہی نہیں سکتا۔ اور جب انسان اللہ کے دیے ہوئے میں سے دیتا ہے تو ظاہر ہے اس کا ایک حصہ دیتا ہے اور باقی کو اپنے لیے محفوظ رکھتا ہے۔ لیکن حقیقت یہی ہوتی ہے کہ وہ اللہ کا دیا ہوا ہوتا ہے۔

یہ وہ صفات ہیں جن کے اندر اللہ نے ایمان کو محدود کردیا ہے۔ ان صفات میں ایک تو اللہ کی وحدانیت کا اعتقاد ہے اور اس کی وحدانیت کو قبول کرتے ہوئے ذکر الہی اور پھر اللہ کی آیات اور ذکر الہی سے قلبی تاثر لینا ، پھر اللہ وحدہ پر توکل کرنا ، پھر اقامت صلوۃ کما حقہ ، اور سب سے آخر میں یہ کہ اللہ کے دیے ہوئے میں سے کچھ حصہ اس کی راہ میں صرف کرنا ، یہ ہیں اس مقام پر علامات ایمان۔

یہ آیات وصفات در حقیقت ایمان کے اجزاء اور تفصیلات نہیں ہیں۔ جیسا کہ دوسری آیات میں ذکر ہوا ہے بلکہ یہاں ایمان کی واقعی صورت حالات کو بیان کیا گیا ہے یعنی وہ واقعی صورت حالات جن میں انفال و غنائم کے بارے میں اختلاف ہوگیا اور اہل ایمان کے باہم تعلقات خراب ہوگئے۔ لہذا یہاں اہل ایمان کو مومنین کی صفات سے آگاہ کیا جاتا ہے اور انہیں یاد دلایا جاتا ہے کہ اہل ایمان کی صفات ایسی ہوتی ہیں لیکن اگر ان صفات میں سے کسی میں کوئی صفت بھی موجود نہ ہو تو ایسے لوگوں سے حقیقت ایمان عملا منفی ہوسکتی ہے۔ لہذا یہ صفات ایمان کی اساسی علامات ہیں ، چاہے یہ ایمان کی پوری صفات ہوں یا پوری نہ ہوں ، کیونکہ یہ اسلامی نظام کی تربیت کی حکمت کا تقاضا ہے کہ وہ مخصوص حالات کے لیے ایمان کی کون سی شائط کا تذکرہ کرتا ہے اور کون سی شرائط کا نہیں کرتا۔ کیونکہ اسلامی منہاج تربیت ایک عملی اور حقیقت پسندانہ منہاج ہے۔ یہ محض نظریاتی طریقہ کار نہیں ہے کہ وہ ایک نظریہ کو وضع کرے اور اسے پھیلائے فقط۔ اسی قاعدے کے مطابق یہ آخری تبصرہ ہوتا ہے۔

اُولٰۗىِٕكَ هُمُ الْمُؤْمِنُوْنَ حَقًّا ۭلَهُمْ دَرَجٰتٌ عِنْدَ رَبِّهِمْ وَمَغْفِرَةٌ وَّرِزْقٌ كَرِيْمٌ ۔

ایسے ہی لوگ حقیقی مومن ہیں۔ ان کے لیے ان کے رب کے پاس بڑے درجے ہیں۔ قصور سے درگزر ہے اور بہترین رزق ہے۔

یہ وہ صفات ہیں جو کوئی بھی حقیقی مومن اپنے نفس اور اپنے اعمال کے اندر موجود پاتا ہے۔ اگر یہ تمام صفات کسی کی ذات سے غآئب ہوں تو گویا اس میں ایمان کی کوئی صفت نہیں ہے۔ یہ آیات چونکہ ایک واقعی صورت حالات کی طرف مخاطب ہیں اس لیے ان کا تقاضا یہ ہے کہ مخصوص حالات میں جس کار کردگی کا مظاہرہ کرنے والوں کے لیے اجر عظیم ہے اور جن لوگوں کے اندر یہ صفات ہیں ان کے لی اللہ کے نزدیک اجر عظیم ہے اور بڑے درجے ہیں۔ اسی طرح ان میں ان واقعات کی طرف بھی اشارہ ہے جو اس وقت اہل ایمان کے درمیان رونما ہوئے جیسا کہ حضرت عبادہ ابن الصامت نے فرمایا تو ان آیات میں کہا گیا کہ ان لوگوں کے لیے مغفرت ہے۔ اور جن لوگتوں نے اموال کے لیے نزاع کیا ان کے لیے بہترین رزق ہے۔ لہذا ان آیات میں ان جزوی واقعات کی طرف بھی اشارہ ہے۔ اور اپنی جگہ بات اصولی طور پر کہہ دی گئی ہے کہ مومن ایسے ہوتے ہیں۔ یہ ان کی صفات ہیں اور جس میں یہ نہ ہوں وہ اپنے ایمان کی خبر لے۔ اولئک ھم المومنون حقا۔ ایسے ہی لوگ حقیقی مومن ہیں۔

پہلی اسلامی جماعت کو یہ بات سکھائی جا رہی ہے کہ ایمان کی ایک حقیقت ہے اور ہر مومن کو چاہیے کہ اس کے نفس میں وہ حقائق پائے جائیں ، ایمان محض دعای نہیں ہے۔ نہ ایمان چند کلمات کا نام ہے اور نہ چند معصوم تمناؤں کا نام ہے۔ حافظ طبرانی ایک روایت کرتے ہیں محمد بن عبداللہ حضرمی سے ، ابوبکر سے ، ابن بن الحباب سے ، ابن لہیعہ سے ، خالد ابن یزید سس کی سے ، سعید ابن بلال سے ، محمد ابن ابوالجہم سے ، حارث ابن مالک انصاری سے ، یہ کہتے ہیں : کہ میں رسول اللہ ﷺ کے پاس سے گزرا اور رسول اللہ نے کہا : حارث تم صبح کیسے اٹھے ؟ تو حارث نے کہا " میں ایک سچے مومن کی طرح اٹھا ہوں "۔ آپ نے فرمایا ذرا دیکھو کیا کہہ رہے ہو ؟ کیونکہ ہر چیز کی ایک حقیقت ہوتی ہے۔ بتاؤ تمہارے ایمان کی حقیقت کیا ہے ؟ حارث نے کہا " میں نے دنیا سے نفرت کرلی ہے ، رات کو جاگتا ہوں اور دن کو مطمئن رہتا ہوں۔ میری حالت یہ ہے کہ گویا میں اللہ کے عرش عظیم کو اپنی آنکھوں سے دیکھ رہا ہوں۔ گویا میں اہل جنت کو اپنی آنکھوں سے دیکھ رہا ہوں کہ وہ ایک دوسرے سے ملاقاتیں کر رہے ہیں اور میں اہل جہنم کو دیکھ رہا ہوں کہ وہ ایک دوسرے پر لعنت کر رہے ہیں۔

حضور نے فرمایا : " حارث تم نے پا لیا ہے لہذا اسے پکڑے رکھو " یہ بات آپ نے تین بار کہی۔ یہ صحابی جو رسول اللہ کی طرف سے سند معرفت کے مستحق قرار پائے انہوں نے اپنے نفس کا حال بیان کرتے ہوئے ایسی باتوں کا ذکر کیا جس سے اس کے شعور کا اچھی طرح اظہار ہوتا ہے اور اس نے ایسی چیزوں کا تذکرہ بھی کیا جن کا تعلق اعمال و حرکات سے ہے ، گویا وہ عرش ربی کو دیکھ رہا ہے۔ اہل جنت کو دیکھ رہا ہے کہ وہ ایک دوسرے سے ملتے ہیں اور اہل جہنم کو دیکھ رہا ہے۔

یہ صحابی محض نظریات کی بات نہیں کرتے۔ وہ مسلسل اعمال کی بات کرتے ہیں۔ یہ اعمال اور حرکات اسی شعور سمیت اس کی زندگی پر حاوی ہیں۔ وہ رات کو جاگتے اور دن کو اطمینان کے ساتھ سوتے ہیں اور یقین ایسا ہے کہ انہیں سب کچھ نظر آ رہا ہے۔

حقیقت ایمان کے بارے میں ہمیں بہت ہی سنجیدہ ہونا چاہیے۔ اس لیے اس معاملے میں ہمیں اس قدر لبرل نہیں ہونا چاہیے۔ ایمان چند کلمات کا نام رہ جائے جو زبان پر جاری ہوتے رہیں لیکن عملی زندگی اس کے برعکس گواہی دے رہی ہو۔ تو یہ حالت حقیقت ایمان سے خالی ہے احتیاط کے معنی یہ نہیں کہ ہم ایمان کے بارے میں صرف لبرل ہوجائیں۔ ایمان کی شعوری حقیقت کا وجود لازمی ہے۔ اور اس کے تصور میں احتیاط ضروری ہے۔ خصوصا ان لوگوں کے معاملے میں جن کا دعوی یہ ہے کہ وہ امامت دین کا فریضہ سر انجام دینے کے لیے اٹھے ہیں جبکہ آج یہ لوگ جس آبادی میں اقامت دین کا کام کرنے اٹھے وہ مکمل جاہلیت میں ڈوبی ہوئی ہے اور جاہلیت کے قالب میں ڈھل چکی ہے۔

۔۔۔

اردو ترجمہ

ایسے ہی لوگ حقیقی مومن ہیں ان کے لیے ان کے رب کے پاس بڑے درجے ہیں قصوروں سے درگزر ہے اور بہترین رزق ہے

انگریزی ٹرانسلیٹریشن

Olaika humu almuminoona haqqan lahum darajatun AAinda rabbihim wamaghfiratun warizqun kareemun

اردو ترجمہ

(اِس مال غنیمت کے معاملہ میں بھی ویسی ہی صورت پیش آ رہی ہے جیسی اُس وقت پیش آئی تھی جبکہ) تیرا رب تجھے حق کے ساتھ تیرے گھر سے نکال لایا تھا اور مومنوں میں سے ایک گروہ کو یہ سخت ناگوار تھا

انگریزی ٹرانسلیٹریشن

Kama akhrajaka rabbuka min baytika bialhaqqi wainna fareeqan mina almumineena lakarihoona

اب آیت نمبر 5 سے 14 تک معرکے کے واقعات بیان کیے جاتے ہیں جس کے نتیجے میں یہ اموال غنیمت ہاتھ آئے تھے اور نتیجۃً مسلمانوں کے درمیان اختلافات پیدا ہوگئے تھے اور ایک دوسرے کے ساتھ الجھ گئے تھے جیسا کہ حضرت عبادہ ابن الصامت نے نہایت ہی خلوص ، وضاحت اور صاف گوئی سے بتایا۔ یہاں حالات و واقعات پر اجمالی تبصرہ کیا گیا ہے اور اس کے بارے میں مختلف لوگوں کے موقف اور احساس کو قلم بند کیا گیا ہے۔ اس پورے تبصرے سے معلوم ہوتا ہے کہ اس معرکے میں مسلمان دست قدرت کے لیے گویا ایک پردہ تھے اور جو واقعات بھی پیش آئے اور ان کے جو نتائج بھی رونما ہوئے ان میں اموال غنیمت اور ان کے بارے میں تنازعات بھی شامل ہیں۔ یہ سب کے سب تقدیر الہی کے کرشمے تھے ، اللہ کی تدبیر ، تقدیر اور ہدایت کے مطابق سب کچھ رونما ہوا۔ اس جنگ کے بارے میں خود مسلمانوں کی جو پلاننگ تھی یا جو ارادے تھے وہ بہت ہی معمولی سی بات تھی ، نہایت ہی محدود۔ اور اللہ نے جو چاہا تھا وہ نہایت ہی بڑا اور لا محدود تھا۔ کیونکہ اللہ چاہتا تھا کہ یہ معرکہ عظیم ہو اور فیصلہ کن (یوم الفرقان) ہو۔ اور زمین اور آسمان دونوں پر اس کے اثرات ہوں۔ اس سے مالء اعلی ا کے لوگ بھی فائدہ اٹھائیں اور زمین کی مخلوق بھی متاچر ہو۔ اس کے ذریعے انسانی تاریخ کا داھارا بدل کر رکھ دیا جائے۔ فرماتے ہیں کہ تم میں سے ایک فریق تو نہایت ہی بد دلی کے ساتھ اس معرکے میں جا رہا تھا۔ بعض نے انفال پر تنازعہ شروع کردیا۔ تو دیکھو کہ تم جو کچھ سوچ رہے تھے اور جسے تم پسند یا ناپسند کرتے تھے۔ وہ اللہ کے ہاں جو فیصلے ہو رہے تھے ان کی نسب سے بہت ہی حقیر تھا۔ تمام امور آخر کار اللہ ہی کے ہاتھ میں ہیں۔

۔۔۔

اللہ نے اموال غنیمت کا اختیار نبی ﷺ کے ہاتھ میں دے دیا تاکہ آپ ان کے درمیان برابری کے اصول پر تقسیم کریں۔ جیسا کہ آگے آ رہا ہے کہ آپ کو اختیار دیا گیا کہ قومی مصارف کے لیے خمس حضور کے لیے مختص کردیا گیا اور یہ انتظام اس لیے کیا گیا کہ جہاد کے مقدس فریضے میں مسلمانوں کے دلوں سے یہ لالچ بھی جاتی رہے کہ انہیں اموال غنیمت میں سے بھی کچھ ملے گا۔ تاکہ اموال غنیمت پر آئندہ اس قسم کے تنازعات پیدا نہ ہوں۔ اس میں حق تصرف حضور اکرم ﷺ کے ہاتھ میں دے دیا جائے۔ حضور کی تقسیم کے نتیجے میں ظاہر ہے کہ کسی کو کوئی شکایت پیدا ہونے کا سوال ہی نہ تھا اور تاکہ ان لوگوں کے دلوں سے خلش دور ہوجائے جنہوں نے اموال غنیمت کو جمع کیا تھا کیونکہ وہ بہرحال تمام لوگوں کے ساتھ اصول مساوات کے مطابق برابر کے شریک تھے۔

اب اللہ تعالیٰ یہاں خود ان کے طرز عمل سے ایک مثال پیش کرکے سمجھاتے ہیں کہ جو اللہ چاہتا ہے وہی بہتر ہے۔ اور جو وہ خود چاہتے ہیں وہ اللہ کی اسکیم کے مقابلے میں حقیر ہوتا ہے۔ لہذا ان کو سمجھ لینا چاہئے کہ انفال کے بارے میں اللہ جو اسلامی قانون نازل کر رہا ہے وہی بہتر رہے گا۔ اس لیے کہ لوگ تو سامنے کے فائدے کو دیکھ سکتے ہیں ، عالم غیب پر ان کی نظروں کے سامنے نہیں ہے اور اللہ یہ تبصرہ اللہ اسی واقعہ کو موضوع بنا کر فرما رہا ہے جو ان کے سامنے ہے اور اسی معرکے کا حصہ ہے جس کے نتیجے میں غنائم ملے اور انہوں نے جھگڑا شروع کردیا۔ اس معرکے کے بارے میں وہ کیا ارادہ رکھتے تھے اور اللہ تعالیٰ نے ان کے لیے کس کا ارادہ کرلیا۔ اب ذرا دیکھو اپنے ارادے کو بھی اور اللہ کے ارادے کو بھی۔ دونوں میں قدر و قیمت کے اعتبار سے کس قدر فرق ہے۔ دونوں ارادوں کا یہ فرق کس قدر بعید ہے۔

كَمَآ اَخْرَجَكَ رَبُّكَ مِنْۢ بَيْتِكَ بِالْحَقِّ ۠ وَاِنَّ فَرِيْقًا مِّنَ الْمُؤْمِنِيْنَ لَكٰرِهُوْنَ ۔ يُجَادِلُوْنَكَ فِي الْحَقِّ بَعْدَمَا تَبَيَّنَ كَاَنَّمَا يُسَاقُوْنَ اِلَى الْمَوْتِ وَهُمْ يَنْظُرُوْنَ ۔ وَاِذْ يَعِدُكُمُ اللّٰهُ اِحْدَى الطَّاۗىِٕفَتَيْنِ اَنَّهَا لَكُمْ وَتَوَدُّوْنَ اَنَّ غَيْرَ ذَاتِ الشَّوْكَةِ تَكُوْنُ لَكُمْ وَيُرِيْدُ اللّٰهُ اَنْ يُّحِقَّ الْحَقَّ بِكَلِمٰتِهٖ وَيَقْطَعَ دَابِرَ الْكٰفِرِيْنَ ۔ لِيُحِقَّ الْحَقَّ وَيُبْطِلَ الْبَاطِلَ وَلَوْ كَرِهَ الْمُجْرِمُوْنَ ۔ (اس مال غنیمت کے معاملہ میں بھی وسی ہی صورت پیش آرہی ہے جیسی اس وقت پیش آئی تھی جب کہ) تیرا رب تجھے حق کے ساتھ تیرے گھر سے نکال لایا تھا اور مومنوں میں سے ایک گروہ کو یہ ناگوار تھا۔ وہ اس حق کے معاملہ میں تجھ سے جھگڑ رہے تھے۔ در آں حالیکہ وہ صاف صاف نمایاں ہوچکا تھا۔ ان کا حال یہ تھا کہ گویا وہ آنکھوں دیکھتے موت کی طرف ہانکے جا رہے ہیں۔ یاد کرو وہ موقع جب کہ اللہ تم سے وعدہ کر رہا تھا کہ دونوں گروہوں میں سے ایک تمہیں مل جاے گا۔ تم چاہتے تھے کہ کمزور گروہ تمہیں ملے۔ مگر اللہ کا ارادہ یہ تھا کہ اپنے ارشادات سے حق کو حق کر دکھائے اور کافروں کی جڑ کاٹ دے۔ تاکہ حق حق ہو کر رہے اور باطل باطل ہوکر رہ جائے خواہ مجرموں کو یہ کتنا ہی ناگوار ہو۔

اموال غنیمت کو اللہ اور رسول کی طرف لوٹانا اور پھر ان کو جمع کرکے مسلمانوں کے درمیان اصول مساوات کے مطابق تقسیم کرنا اور اس اصول مساوات کو بعض لوگوں کا ناپسند کرنا اور اس سے قبل نبی ﷺ کی جانب سے بعض نوجوانوں کو دوسرے کے مقابلے میں بہتر حصہ دینا اسی طرح لوگوں کو پسند نہ تھا جس طرح ان لوگوں کو میدان جنگ کی طرف نکلنا پسند نہ تھا۔ کیونکہ مد مقابل بہتر ساز و سامان سے لیس تھا۔ اسلیے بعض مومنین اس وقت جنگ کو پسند نہ کرتے تھے لیکن نتائج سب کے سب ان کے سامنے تھے۔

اردو ترجمہ

وہ اس حق کے معاملہ میں تجھ سے جھگڑ رہے تھے دراں حالے کہ وہ صاف صاف نمایاں ہو چکا تھا ان کا حال یہ تھا کہ گویا وہ آنکھوں دیکھے موت کی طرف ہانکے جا رہے ہیں

انگریزی ٹرانسلیٹریشن

Yujadiloonaka fee alhaqqi baAAdama tabayyana kaannama yusaqoona ila almawti wahum yanthuroona

اردو ترجمہ

یاد کرو وہ موقع جب کہ اللہ تم سے وعدہ کر رہا تھا کہ دونوں گروہوں میں سے ایک تمہیں مِل جائے گا تم چاہتے تھے کہ کمزور گروہ تمہیں ملے مگر اللہ کا ارادہ یہ تھا کہ اپنے ارشادات سے حق کو حق کر دکھائے اور کافروں کی جڑ کاٹ دے

انگریزی ٹرانسلیٹریشن

Waith yaAAidukumu Allahu ihda alttaifatayni annaha lakum watawaddoona anna ghayra thati alshshawkati takoonu lakum wayureedu Allahu an yuhiqqa alhaqqa bikalimatihi wayaqtaAAa dabira alkafireena

اردو ترجمہ

تاکہ حق حق ہو کر رہے اور باطل باطل ہو جائے خواہ مجرموں کو یہ کتنا ہی ناگوار ہو

انگریزی ٹرانسلیٹریشن

Liyuhiqqa alhaqqa wayubtila albatila walaw kariha almujrimoona
177