اس صفحہ میں سورہ Yaseen کی تمام آیات کے علاوہ فی ظلال القرآن (سید ابراہیم قطب) کی تمام آیات کی تفسیر بھی شامل ہے۔ پہلے حصے میں آپ سورہ يس کو صفحات میں ترتیب سے پڑھ سکتے ہیں جیسا کہ یہ قرآن میں موجود ہے۔ کسی آیت کی تفسیر پڑھنے کے لیے اس کے نمبر پر کلک کریں۔


درس نمبر 205 تشریح آیات
1 ۔۔ تا۔۔۔ 29
﷽
یس والقرآن الحکیم۔۔۔۔۔۔ وکل شیء احصینہ فی امام مبین (1 – 12)
اللہ تعالیٰ دو حرفوں ” یا “ اور ” سین “ کی قسم اٹھا تا ہے اور اسی طرح قرآن کریم کی بھی قسم اٹھاتا ہے ۔ اللہ نے یہاں قسم میں ان حروف اور قرآن کریم کو یکجا فرمایاِ ، اس سے حروف مقطعات کی اس تفیرٹ کو ترجیح حاصل ہوجاتی ہے جو ہم نے ان حروف کے حوالے سے اختیار کی ہے ۔ ان حروف کے تذ کرے اور قرآن کے تذکرے کے درمیان یہ ربط ہے کہ یہ قرآن انہی حروف سے بنا ہے ۔ اور یہ اس بات کا ثبوت ہے کہ یہ قرآن اللہ کی جا نب سے ہے اور جس پر یہ لوگ تدبر نہیں کرتے ، اس کے ذریعہ قرآن کریم ان لوگوں کو متوجہ کرتا ہے کہ تم اس نکتے پر غور کرو ، کہ یہ قرآن انہی حروف سے بنایا گیا ہے جو تمہاری دسترس میں ہیں۔ لیکن قرآن کا انداز تعبیر ، اس کا انداز بیان اور اس کی منطقی فکر ایسی ہے کہ تم اس جیسا کلام پیش کرنے سے عاجز آگئے ہو۔
قسم کھائے ہوئے قرآن کی جو صفت یہاں لائی جاتی ہے۔ وہ صفت حکمت ہے۔ حکمت ایک ذی عقل کی صفت ہوتی ہے جو زندہ اور عقلمند ہو۔ قرآن کریم کی یہ صفت بتا کر یہ تاثر دینا مطلوب ہے کہ یہ زندہ اور قصد و ارادے کی مالک کتاب ہے۔ اسی وجہ سے یہ حکیم ہے۔ اگرچہ قرآن کریم کے لئے یہ صفت بطور مجاز استعمال کی گئی ہے لیکن یہ ایک عظیم حقیقت کی مظہر ہے۔ ایک اہم حقیقت کو اذہان کے قریب لایا جا رہا ہے۔ وہ یہ ہے کہ اس کتاب کی ایک روح اور ایک زندگی ہے۔ اور جب قاری کا دل صاف ہوجائے اور وہ محبت کے ساتھ اس سے ہم کلام ہوجائے تو یہ کتاب نہایت الفت اور محبت کے ساتھ اس شخص کے ساتھ ہمکلام ہوتی ہے اور وہ ایسے شخص پر پھر اپنے اسرار و رموز کھولتی ہے بشرطیکہ قاری خود اس کے لئے اپنا دل کھول دے اور اپنے دل و جان کے ساتھ اس کا ہوجائے۔ پھر اس کے قاری کو اس کے وہ خدوخال نظر آئیں گے جس طرح کسی دوست کے چہرے میں انسان کو نظر آتے ہیں۔ اور وہ اس کتاب کی طرف اسی شوق کے ساتھ مائل ہوگا جس طرح کوئی اپنے دوست کی طرف مائل ہوتا ہے۔ اور پھر قرآن میں اسے وہی سکون ملتا ہے جس طرح ایک دوست کی محفل میں ملتا ہے۔ رسول اللہ ﷺ دوسروں سے قرآن کو سننا پسند فرماتے تھے۔ آپ ایسے دروازوں پر کھڑے ہوجاتے اور سنتے جن میں قرآن حکیم کی تلاوت ہو رہی ہوتی تھی ۔ جس طرح کوئی عاشق اپنے محبوب کی باتیں غور سے سنتا ہے۔
اور قرآن تو حکیم ہے۔ وہ ہر اس شخص سے ہمکلام ہوتا ہے جو اس کا گرویدہ ہوجائے ۔ وہ ایک مومن کے دل کی حساس تاروں کو چھیڑتا ہے۔ اس کے ساتھ اسی مقدار میں ہمکلام ہوتا ہے جس قدر اس کو ضرورت ہوتی ہے۔ اور یہ مکالمہ نہایت حکمت سے ہوتا ہے ۔ اس انداز میں کہ مخاطب کی اصلاح ہوتی ہے اور اس کو ایک سمت ملتی ہے۔
قرآن حکیم ہے ، بڑی حکمت کے ساتھ تربیت کرتا ہے۔ نہایت ہی معقول انداز میں۔ درست نفسیاتی سمت میں۔ ایسے انداز
میں کہ جس میں تمام انسانی صلاحیتوں کو تعمیری انداز میں کھلا چھوڑ دیا جاتا ہے اور انسانی صلاحیتوں کو صحت مند ترقی کے لیے ایک سمت دی جاتی ہے ۔ یہ انسانوں کو زندگی گزارنے کا نہایت ہی حکیمانہ نظام دیتا ہے جس کے کھلے اور وسیع حدود کے اندر انسان زندگی کی سرگرمیاں جاری رکھتا ہے۔ اللہ تعالیٰ یا اور سین اور پھر قرآن مجید کی قسم کھا کر یقین دہانی فرماتا ہے کہ اے رسول آپ رسولوں میں سے ہیں اور آپ پر وحی نازل ہو رہی ہے۔ آپ رسول کریم ہیں اور یہ قرآن حکیم ہے۔
انک لمن المرسلین۔۔۔۔ علی صراط مستقیم (36: 3 – 4) ” تم یقیناً رسولوں میں سے ہو ، سیدھے راستے پر ہو “۔ اللہ تعالیٰ کو قسم اٹھانے کی ضرورت کیا ہے ؟ لیکن قرآن اور حروف قرآن کی یہ قسم ، ان چیزوں کو جلالت شان عطا کرتی ہے جن کی قسم اٹھائی گئی۔ کیونکہ اللہ تعالیٰ کی شان یہ ہے کہ وہ کسی عظیم الشان اور اہم چیز کی قسم اٹھاتا ہے یہاں تک کہ اس چیز کی اہمیت ایک شاہد اور ثابت کنندہ کی ہوجاتی ہے۔
انک لمن المرسلین (36: 3) ” تم یقیناً رسولوں میں سے ہو “۔ جس انداز سے یہ آیت آئی ہے ، اس سے معلوم ہوتا ہے کہ اللہ کے ہاں رسولوں کا بھیجنا اور انتخاب پہلے سے طے شدہ ہے۔ یہاں حضور اکرم ﷺ کو خلیفہ بیان کی صورت میں بتایا جاتا ہے کہ آپ کا نام رسولوں کی فہرست میں ہے اور یہاں مکذبین اور منکرین کو خطاب کرنے کی بجائے رسول اللہ کو خطاب فرمایا جاتا ہے۔ اس میں یہ تاثر دیا جاتا ہے کہ رسول اور منصب رسالت ، اس قدر بلند وبالا ہیں کہ جن پر کوئی کلام اور مباحثہ اور مجادلہ نہیں ہوسکتا۔ بس اللہ کی جانب سے رسول کو اطلاع دے دینا ہی مکمل ثبوت ہوتا ہے۔
انک لمن المرسلین۔۔۔۔۔۔ علی صراط مستقیم (36: 3- 4) ” تم یقیناً رسولوں میں سے ہو ، سیدھے راستے پر ہو “۔ رسولوں کے تعین اور تقرر کے بعد بتایا جاتا ہے کہ رسالت کی نوعیت کیا ہے ؟ یہ کہ وہ ایک سیدھا راستہ ہے۔ یہ رسالت تلوار کی دھار کی طرح سیدھی ہوتی ہے ۔ اس میں کوئی ٹیڑھ پن اور کوئی انحراف نہیں ہوتا۔ نہ اس میں کوئی پیچیدگی ہوتی ہے اور نہ کوئی لچک ہوتی ہے۔ یہ ایسی سچائی پر مشتمل ہوتی ہے جو بالکل واضح ہوتی ہے۔ اور اس میں کوئی التباس نہیں ہوتا۔ نہ وہ خواہشات نفاسیہ کی تابع ہے۔ اور نہ وہ مصلحتوں کی سمت میں قبلہ بدلتی ہے۔ جو شخص بھی اس سچائی کی تلاش کرے اور مخلص ہو ، یہ اسے مل جاتی ہے۔
یہ رسالت چونکہ سیدھا راستہ بتاتی ہے اس لیے اس میں نہ کوئی اشکال ہے ، نہ پیچیدگی ہے ، اور نہ کوئی چکر ہے۔ یہ مسائل کو مشکل نہیں بناتی۔ نہ لوگوں کو مشکلات میں ڈالتی ہے ، اس کے اندر جدلیاتی مسائل پر مکالمہ نہیں ہوتا۔ اور نہ فلسفیانہ تصورات میں الجھایا جاتا ہے۔ یہ سچائی کو نہایت ہی سادہ شکل میں پیش کرتی ہے۔ اور اس قدر سادہ شکل میں جس میں کوئی شبہ اور کوئی غلط مبحث نہیں ہوتا۔ اس قدر سادہ کہ اسے مزید تشریح کی ضرورت ہی نہیں ہوتی۔ الفاظ کو جوڑ توڑ ، اور باتوں سے بات نکالنا اس میں پیش ہوتا ہے اور نہ پیچیدہ اور ذولیدہ افکار کو زیر بحث لایا جاتا ہے۔ اسی رسالت کے ساتھ موجودہ ہدایات اور ظاہری احکام پر عمل کرتے ہوئے زندگی بسر کی جاسکتی ہے۔ یہ امی اور عالم دونوں کے لیے ہدایت ہے۔ یہ دیہاتی اور شہری دونوں کے لیے ہدایت ہے۔ ہر شخص اور ہر طبقہ اس کے اندر اپنی ضرورت کی ہدایت پاتا ہے ۔ اور اس کے ساتھ اس کی زندگی کی اصلاح ہوجاتی ہے۔ اسکا نظام زندگی درست ہوجاتا ہے۔ زندگی کے طور طریقے درست ہوجاتے ہیں اور انسانوں کے باہم تعلقات نہایت ہی آسانی کے ساتھ سر انجام پاتے ہیں۔
پھر یہ رسالت اس کائنات کی فطرت اور اس کائنات کے اندر جاری وساری قانون الٰہی کے ساتھ بھی ہم آہنگ ہے۔ انسان اور انسان کے ماحول میں پائے جانے والی اشیاء کے ساتھ بھی یہ رسالت ہم آہنگ ہے۔ یہ نہ دنیا کی اشیاء کے ساتھ متصادم ہے ، نہ انسان کو یہ رسالت حکم دیتی ہے کہ وہ فطرت کے ساتھ متصادم ہو۔ یہ اپنے منہاج پر درست استوار ہے۔ اور اس کائنات کے ساتھ متوازی ہے۔ یہ معاون ہے ، یہ ایک ایسا نظام دیتی ہے جو مکمل کائنات ہے۔
یہ رسالت اللہ تک پہنچنے کا صحیح راستہ بتاتی ہے ، اور اللہ تک پہنچاتی ہے۔ اس رسالت کے متبعین کو کبھی یہ خطرہ درپیش نہیں ہوتا کہ وہ راستہ بھلا دیں۔ نہ ان کی راہ میں کوئی ٹیڑھ آتی ہے جو اس وادی میں داخل ہوتا ہے۔ وہ اس کے نشیب و فراز سے ہوتا ہوا سیدھا رضائے الٰہی اور اپنے خالق عظیم تک جا پہنچتا ہے۔ اس رسالت نے یہ قرآن دیا پ ہے ۔ جو اس سیدھی راہ کا پورا نقشہ بناتا ہے اور ایک گائیڈ ہے۔ جب انسان اس کتاب کی راہنمائی میں چلے تو وہ سچائی کی سیدھی فکر پالیتا ہے۔ وہ اللہ کی طرف متوجہ ہوتا ہے اور پھر اس کی قدروں کے بارے میں یہ کتاب فیصلہ کن ہدایت دیتی ہے اور ہر چیز کو اس کی صحیح جگہ پر رکھ دیتی ہے۔
تنزیل العزیز الرحیم (36: 5) ” یہ غالب اور رحیم ہستی کا نازل کردہ ہے “۔ ایسے مقامات پر اللہ اپنے بندوں سے اپنے آپ کو متعارف فرماتا ہے تاکہ وہ اللہ کے کلام کی حقیقت کو سمجھیں کہ اللہ غالب ہے اور رحیم ہے۔ وہ غالب ہے لہٰذا جو چاہے کرسکتا ہے۔ اور رحیم ہے ، اس لیے اپنے بندوں کے ساتھ رحیمانہ برتاؤ کرتا ہے۔ اس لیے اللہ کے احکام میں رحمت کا پہلو ضرور ہوتا ہے۔ رہی یہ بات کہ اس قرآن کے نزول کے مقاصد کیا ہیں اور اس کی حکمت کیا ہے تو وہ صرف یہ ہے کہ لوگوں کو انجام بد د سے ڈرایا جائے اور ان تک سچائی کا پیغام پہنچایا جائے۔ خصوصاً
لتنذر قوما۔۔۔۔ فھم غفلون (36: 6) ” تاکہ تم خبردار کرو ایسی قوم کو جس کے باپ دادا خبر دار نہ کیے گئے تھے اور اس وجہ سے وہ غفلت میں پڑے ہوئے ہیں “۔ غفلت وہ بڑی بیماری ہے جس کی وجہ سے دلوں میں فساد پیدا ہوجاتا ہے۔ ایک غافل دل دراصل اپنے فریضہ منصبی کو چھوڑ دیتا ہے ، اس لیے وہ ایک عضو معطل ہوجاتا ہے۔ کیونکہ ہدایت اخذ کرنا اور اسے قبول کرنا یہ دل کا کام ہے۔ جب انسانوں کے سامنے دلائل ہدایت پیش کیے جاتے ہیں تو انسانی دل یا تو ان پر غافل ہوکر گزر جاتا ہے اور یا ان دلائل کو اخذ کرلیتا ہے۔ لہٰذا ان غافل لوگوں کو ڈرانا مفید تھا۔ کیونکہ نسلیں گزر گئی تھیں اور اس قوم کے پاس کوئی درانے والا نہ آیا تھا۔ نہ کوئی ایسا شخص آیا تھا جو ان کو متنبہ کرتا۔ یہ لوگ حضرت ابراہیم (علیہ السلام) کی امت اور اولاد میں سے تھے۔ اور ان کے بعد صدیاں گزر گئی تھیں۔ اور ان کے پاس کوئی نبی اور نذیر نہ آیا تھ۔ لہٰذا ایسا ڈرانے والا ان کی ضرورت تھا ، جو ان کو خوب غفلت سے بیدار کر دے کیونکہ آباؤ اجداد کے وقت سے یہ لوگ خواب غفلت میں پڑے ہوئے تھے۔
اس کے بعد بتایا جاتا ہے کہ ان غوفلوں کا انجام کیا ہونے والا ہے۔ اللہ کے نظام قضاء قدر نے ان کے بارے میں کیا فیصلہ کردیا ہے کیونکہ اللہ کو ان کے قلوب کے بارے میں خوب علم تھا۔ وہ ان سے سرزد ہونے والے امور کو پہلے سے جانتا تھا ۔ انہوں نے جو کیا وہ بھی اللہ کے علم میں تھا اور جو ہونے والا تھا ، وہ بھی اس کے علم میں تھا۔
لقد حق۔۔۔۔۔ فھم لا یومنون (36: 7) ” ان میں سے اکثر لوگ فیصلہ عذاب کے مستحق ہوچکے ہیں اسی لیے وہ ایمان نہیں لاتے “۔ ان کے معاملے میں اللہ نے فیصلہ صادر کردیا ہے اور اللہ کا فیصلہ ان کے حق میں درست ہے۔ یہ فیصلہ سچائی پر ہوا ہے۔ حق کے مطابق ہے۔ کیونکہ اللہ ان کی حقیقت سے خوب واقف تھا۔ اللہ ان کے شعور اور میلان سے بھی واقف تھا۔ یہ لوگ ایمان لانے والے ہی نہ تھے۔ اکثریت کا یہی انجام ہے۔ ان کے نفوس اور ہدایت کے درمیان پر دے حائل ہو چلے ہیں۔ وہ نہ سچائی کے دلائل کو دیکھ سکتے ہیں اور نہ ان کو ان کا شعور حاصل ہے۔
جن لوگوں پر اللہ کا فیصلہ حق ہوچکا ان کی نفسیاتی حالت کی تصویر یہ ہے ۔ ان کی گردنوں میں طوق پڑے ہوئے ہیں ، ان طوقوں کے اندر وہ ٹھوڑیوں تک جکڑے ہوئے ہیں۔ وہ دیکھ بھی نہیں سکتے۔ ان کے اوپر ہدایت کے درمیان پردے اور رکاوٹیں حامل ہوچکی ہیں۔ ان کی آنکھوں پر پردے پڑچکے ہیں ، اس لیے وہ سیکھنے کے اہل ہی نہیں رہے۔
انا جعلنا فی اعناقھم۔۔۔۔۔۔۔۔۔ فھم لا یبصرون (36: 8 – 9) ” ہم نے ان کی گردنوں میں طوق ڈال دئیے ہیں جن سے وہ ٹھوڑیوں تک جکڑے گئے ہیں ، اس لیے وہ سر اٹھائے کھڑے ہیں۔ ہم نے ایک دیوار ان کے آگے کھڑی کردی ہے اور ایک دیوار ان کے پیچھے۔ ہم نے انہیں ڈھانک دیا ہے۔ انہیں اب کچھ نہیں سوجھتا “۔
ان کے ہاتھ طوقوں کے ساتھ بندھے ہوئے ہیں۔ پھر یہ ان کی گردنوں کے ساتھ بندھے ہیں اور ان کی ٹھوڑیوں کے نیچے جکڑ دئے گئے ہیں۔ اس طرح ان کے سر مجبوراً اوپر کی طرف اٹھ گئے ہیں ۔ اس لیے وہ اپنے سامنے کی طرف نیچے راستے کو دیکھنے کے قابل ہی نہیں ہیں۔ چونکہ وہ اس بری حالت میں ہیں۔ اس لیے نہ دیکھ سکتے ہیں اور نہ کچھ کرسکتے ہیں۔ پھر ان کے آگے بھی ایک دیوار ہے اور پیچھے بھی ایک دیوار ہے۔ اس طرح وہ کسی طرح بھی حق تک پہنچنے کے اہل ہی نہیں رہے۔ یہ کسے ہوئے ہیں لہٰذا دیکھ نہیں سکتے۔ آگے پیچھے دیواریں ہیں جن سے ان کی نظریں پار نہیں ہوسکتیں۔ خود اپنی اپنی نالائقی اور بدعملی کی وجہ سے وہ اس نفسیاتی حالت تک پہنچے ہیں۔
یہ منظر حسی ہے اور بڑا شدید منظر ہے لیکن روز مرہ کی زندگی میں ہمیں بیشمار لوگ ملتے ہیں جن کے بارے میں انسان اس نتیجے تک پہنچتا ہے کہ یہ لوگ واضح سچائی کو نہیں دیکھ پا رہے۔ لہٰذا ان کے سامنے ایسے پردے اور ایسی دیواریں حائل ہیں کہ وہ ان سے اس پار نہیں دیکھ سکتے۔ اگر ہاتھ پاؤں یوں بندھے ہوئے نہ بھی ہوں اور ان کے سر اوپر کی طرف کس نے بھی دئیے گئے ہوں کہ وہ اوپر ہی کو دیکھ سکتے ہوں ، بلکہ وہ بظاہر صحیح سالم اور آزاد ہوں لیکن ان کی نفسیاتی حالت ایسی ہی ہوتی ہے ، کہ وہ اپنی بصیرت کے ذریعے ہدایت کو نہیں دیکھ پاتے اور دلائل ہدایت اور ان کی سوچ کے درمیان غیر مرئی دیواریں حائل نظر آتی ہیں۔ یہی حالت مکہ کے ان لوگوں کی تھی جنہوں نے قرآن کا استقبال ایسی ہی نفسیاتی حالت کے ساتھ کیا۔ قرآن ان کے سامنے صاف صاف دلائل و نشانیاں پیش کرتا اور وہ انکار پر مصر رہتے۔ پیش کردہ دلائل کے علاوہ قرآن تو بذات خود معجزانہ دلیل اور نشانی تھا جس کے مقابلے میں کوئی صاحب بصیرت انسان نہیں ٹھہر سکتا تھا مگر یہ لوگ انکار پر مصر رہے۔
وسوآء علیھم ۔۔۔۔۔ لا یومنون (36: 10) ” ان کے لیے یکساں ہے تم انہیں خبردار کرو یا نہ کرو ، یہ نہ مانیں گے “۔ اس لیے کہ ان کے معاملے میں اللہ نے فیصلہ کردیا کیونکہ اللہ کو علم تھا کہ ان کے دلوں میں ایمان کے راہ پانے کی کوئی صورت نہیں ہے۔ اور ایسے دلوں پر خبردار کرنے کا کوئی اثر نہیں ہوتا۔ جو ایمان کے لیے تیار ہی نہ ہوں۔ وہ دل جو بندھے ہوئے ہیں جن کے اور سچائی کے درمیان دیواریں حائل ہوں۔ انذار اور تبلیغ کی وجہ سے مردہ دلوں کو زندہ نہیں کیا جاسکتا بلکہ غافل اور سوئے ہوؤں کو جگایا جاسکتا ہے۔ خصوصا ایسے سوئے ہوئے دلوں کو جو ہدایت لینا چاہیں اور اس کے لیے تیار ہوں۔
انما تنذر من۔۔۔۔۔ واجر کریم (36: 11) ” تم تو اسی شخص کو خبردار کرسکتے ہو جو نصیحت کی پیروی کرے اور جو بےدیکھے رحمن سے ڈرے ، اسے مغفرت اور اجر کریم کی بشارت دے دو “۔ الذکر سے یہاں قرآن کریم مراد ہے۔ راجع قول یہی ہے۔ وہ شخص جو قرآن کی تابعداری کرے اور رحمن سے بن دیکھے ڈرے ، یہی شخص ڈرانے سے استفادہ کرسکتا ہے۔ گویا یہی شخص ہے جس کے لیے ڈراوا آیا ہے۔ گویا ایسے ہی شخص کے لیے رسول اللہ کو بھیجا گیا ہے۔ اگرچہ رسالت عمومی ہے لیکن دوسرے لوگوں اور ہدایت کے درمیان پردے حائل ہوچکے ہیں۔ لہٰذا ہدایت اس شخص تک محدود ہوگئی جو قرآن کو مان لے اور بن دیکھے رحمن سے ڈرے۔ ایسے ہی لوگ جب وہ ڈراوے سے استفادہ کرتے ہیں تو وہ خوشخبری کے مستحق ہوجاتے ہیں۔
فبشرہ بمغفرۃ واجر کریم (36: 11) ” اسے مغفرت اور اجر کریم کی بشارت دے دو “۔ مغفرت ان غلطیوں پر جو واقع ہوگئیں اور ان پر اصرار نہ کیا گیا۔ اور اجر کریم اسلیے کہ یہ شخص غائبانہ طور پر اللہ سے ڈرتا رہا۔ اور اللہ کی جانب سے جو یاد دہانی آتی رہی اس کا اتباع کرتا رہا۔ یہ دونوں چیزیں قلب مومن میں باہم دگر لازم و ملزوم ہیں۔ جب بھی کسی دل میں خدا کا خوف پیدا ہو تو انسان خدا کی ہدایات پر عمل شروع کردیتا ہے اور جس نظام زندگی کا اس نے ارادہ کیا اس پر استقامت حاصل ہوجاتی ہے۔
چناچہ یہاں یاد دہانی کرائی جاتی ہے کہ ایک دن تم نے خدا کے سامنے حاضر ہونا ہے ، تمہارا حساب نہایت وقت کے ساتھ تیار ہوگا اور اس میں سے کوئی بات چھوٹی ہوئی نہ ہوگی۔
انا نحن ۔۔۔۔۔ امام مبین (36: 12) ” یقیناً ہم ایک روز مردوں کو زندہ کرنے والے ہیں۔ جو کچھ افعال انہوں نے کیے ہیں وہ سب ہم لکھتے جا رہے ہیں اور جو کچھ آثار انہوں نے پیچھے چھوڑے ہیں وہ بھی ہم ثبت کر رہے ہیں۔ ہر چیز کو ہم نے ایک کھلی کتاب میں درج کر رکھا ہے “۔
مردوں کو دوبارہ زندہ کرنا وہ مسئلہ ہے جس پر ہمیشہ مباحثہ ہوتا رہا ہے ۔ اس سورت میں بھی اس کے امکان پر کئی مثالیں دی جائیں گی۔ یہاں ان کو ڈرایا جاتا ہے کہ وہ جو اعمال بھی کر رہے ہیں اور اپنے پیچھے جو بھی اچھے یا برے آثار چھوڑ رہے ہیں وہ سب اللہ کے ہاں ریکارڈ ہو رہے ہیں۔ ان اعمال میں سے نہ کوئی چیز چھوٹ سکتی ہے اور نہ بھول سکتی ہے۔ یہ اللہ ہی ہے جو مردوں کو زندہ کرتا ہے۔ وہی ہے جو ان کے اعمال و آثار کو قلم بند کر رہا ہے۔ وہی ہے جو ہر چیز کو لکھ رہا ہے۔ لہٰذا یہ تمام امور اسی طرح ظہور پذیر ہوں گے۔ جس طرح اللہ تعالیٰ اپنے دست قدرت سے انہیں ظاہر کرے گا اور جس طرح اللہ نے اپنے ذمہ لیا ہے کہ وہ ان امور کو اسی طرح ظاہر کرے گا۔ امام مبین سے مراد لوح محفوظ ہے یا وہ دفتر جہاں اللہ کے نظام کے مطابق اعمال ریکارڈ ہوتے ہیں ، لوح محفوظ سے اللہ کا ازلی اور قدیم علم مراد ہے۔ اور اللہ کا علم ہر چیز کو احاطہ کیے ہوئے ہے۔