سورہ شوریٰ (42): آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں۔ - اردو ترجمہ

اس صفحہ میں سورہ Ash-Shura کی تمام آیات کے علاوہ فی ظلال القرآن (سید ابراہیم قطب) کی تمام آیات کی تفسیر بھی شامل ہے۔ پہلے حصے میں آپ سورہ الشورى کو صفحات میں ترتیب سے پڑھ سکتے ہیں جیسا کہ یہ قرآن میں موجود ہے۔ کسی آیت کی تفسیر پڑھنے کے لیے اس کے نمبر پر کلک کریں۔

سورہ شوریٰ کے بارے میں معلومات

Surah Ash-Shura
سُورَةُ الشُّورَىٰ
صفحہ 483 (آیات 1 سے 10 تک)

حمٓ عٓسٓقٓ كَذَٰلِكَ يُوحِىٓ إِلَيْكَ وَإِلَى ٱلَّذِينَ مِن قَبْلِكَ ٱللَّهُ ٱلْعَزِيزُ ٱلْحَكِيمُ لَهُۥ مَا فِى ٱلسَّمَٰوَٰتِ وَمَا فِى ٱلْأَرْضِ ۖ وَهُوَ ٱلْعَلِىُّ ٱلْعَظِيمُ تَكَادُ ٱلسَّمَٰوَٰتُ يَتَفَطَّرْنَ مِن فَوْقِهِنَّ ۚ وَٱلْمَلَٰٓئِكَةُ يُسَبِّحُونَ بِحَمْدِ رَبِّهِمْ وَيَسْتَغْفِرُونَ لِمَن فِى ٱلْأَرْضِ ۗ أَلَآ إِنَّ ٱللَّهَ هُوَ ٱلْغَفُورُ ٱلرَّحِيمُ وَٱلَّذِينَ ٱتَّخَذُوا۟ مِن دُونِهِۦٓ أَوْلِيَآءَ ٱللَّهُ حَفِيظٌ عَلَيْهِمْ وَمَآ أَنتَ عَلَيْهِم بِوَكِيلٍ وَكَذَٰلِكَ أَوْحَيْنَآ إِلَيْكَ قُرْءَانًا عَرَبِيًّا لِّتُنذِرَ أُمَّ ٱلْقُرَىٰ وَمَنْ حَوْلَهَا وَتُنذِرَ يَوْمَ ٱلْجَمْعِ لَا رَيْبَ فِيهِ ۚ فَرِيقٌ فِى ٱلْجَنَّةِ وَفَرِيقٌ فِى ٱلسَّعِيرِ وَلَوْ شَآءَ ٱللَّهُ لَجَعَلَهُمْ أُمَّةً وَٰحِدَةً وَلَٰكِن يُدْخِلُ مَن يَشَآءُ فِى رَحْمَتِهِۦ ۚ وَٱلظَّٰلِمُونَ مَا لَهُم مِّن وَلِىٍّ وَلَا نَصِيرٍ أَمِ ٱتَّخَذُوا۟ مِن دُونِهِۦٓ أَوْلِيَآءَ ۖ فَٱللَّهُ هُوَ ٱلْوَلِىُّ وَهُوَ يُحْىِ ٱلْمَوْتَىٰ وَهُوَ عَلَىٰ كُلِّ شَىْءٍ قَدِيرٌ وَمَا ٱخْتَلَفْتُمْ فِيهِ مِن شَىْءٍ فَحُكْمُهُۥٓ إِلَى ٱللَّهِ ۚ ذَٰلِكُمُ ٱللَّهُ رَبِّى عَلَيْهِ تَوَكَّلْتُ وَإِلَيْهِ أُنِيبُ
483

سورہ شوریٰ کو سنیں (عربی اور اردو ترجمہ)

سورہ شوریٰ کی تفسیر (فی ظلال القرآن: سید ابراہیم قطب)

اردو ترجمہ

ح م

انگریزی ٹرانسلیٹریشن

Hameem

حروف ، مقطعات کے بارے میں کئی سورتوں کے آغاز میں بات ہوچکی ہے جسے یہاں دہرانے کی ضرورت نہیں ہے۔ یہ حروف بتاتے ہیں کہ سورت کا آغاز ہو رہا ہے ۔ ان حروف کے بعد پہلا فقرہ یہ ہے۔

کذلک یوحی ۔۔۔۔ العزیز الحکیم (42 : 3) ” اسی طرح اللہ غالب و حکیم تمہاری طرف اور تم سے پہلے گزرے ہوئے رسولوں کی طرف وحی کرتا رہا ہے “۔ یعنی جس طرح تمہاری طرف وحی ہورہی ہے اسی طرح اور اسی انداز میں ہم نے پہلے رسولوں کی طرف بھی وحی بھیجی ہے۔ یہ وحی الفاظ ، کلمات اور حروف تہجی پر مشتمل رہی ہے۔ وحی کا کلام الٰہی حروف سے بنایا گیا ہے ۔ ان حروف سے لوگ اچھی طرح واقف ہیں۔ ان کلمات کے معانی وہ سمجھتے ہیں لیکن اس وحی کی طرح وہ کلام پیش نہیں کرسکتے۔ حالانکہ جس مواد سے یہ کلام بنا ہے ، وہ ان کے سامنے ہے اور دسترس میں ہے۔

دوسرا مفہوم اس کا یہ ہے کہ وحی ایک ہے ، وحی کا مصدر و ماخذ ایک اللہ ہے جو عزیز و حکیم ہے۔ اور جن کی طرف وحی آتی ہے وہ ہر زمان و مکان کے رسول ہیں۔ رسول مختلف ہیں ، زمان و مکان کا اختلاف ہو سکتا ہے لیکن وحی اور ہدایت ایک ہی ہے۔

الیک والی الذین من قبلک (42 : 3) ” تمہاری طرف اور تم سے پہلے گزرے ہوئے رسولوں کی طرف “۔

یہ بہت لمبی کہانی ہے ، زمانے کے نشیب و فراز اور تاریخ کی بیشمار کڑیوں پر مشتمل اس کے مختلف سلسلے ہیں البتہ وحی کا یہ ایک مستحکم و مستقبل اصول و منہاج ہے اور اس کی کئی شاخیں ہیں۔

یہ بات اس انداز سے جب اہل ایمان کے دلوں میں بیٹھ جاتی ہے تو وہ اپنے اندر یہ شعور پاتے ہیں کہ وہ جس منہاج اور طریقے پر ہیں ، یہ ایک مستقل ، واحد طریقہ ہے اور اس کا سرچشمہ بھی واحد اللہ وحدہ ہے۔ اور یہ کہ ان کا سر رشتہ بھی اللہ العزیز الحلیم ہے۔ اس طرح ان کے اندر یہ شعور بھی پیدا ہوتا ہے کہ وہ ایک تاریخی قافلہ حق کے ممبر ہیں جس کا آخری سرایا پہلا سرا زمان ومکان کے اندر دور تک چلا گیا ہے ، یہ گویا اہل ایمان کا ایک خاندان ہے جس کا روحانی شجرۂ نسب انسانی تاریخ کے آغاز ہی سے شروع ہوتا ہے۔ آخر میں اس شجرے کی کڑیاں ملتی ہیں اور سب جا کر اللہ العزیز پر ملتے ہیں ، جو قوی اور قادر مطلق ہے ، جو حکیم ہے ، جو اپنی حکمت و تدبیر کے ساتھ جس کی طرف چاہتا ہے ، وحی کرتا ہے۔ لہٰذا تم اس واحد ثابت اور مستقل ربانی منہاج سے منتشر ہوکر ادھر ادھر پگڈنڈیوں پر کیوں جارہے ہو ، کیونکہ یہ پگڈنڈیاں تو اللہ تک نہیں پہنچاتیں ، ان کے جائے آغاز کا نہ پتہ اور نہ ان کے مقام انجام کا پتہ ہے اور نہ ان کا راستہ مستقیم ہے۔

اللہ جس نے تمام رسولوں کی طرف وحی فرمائی۔ اس کی مزید صفات بھی دی جاتی ہیں کہ وہ آسمانوں اور زمین کی ہر چیز کا واحد مالک ہے۔ اور وہی بلند اور عظیم ہے۔

لہ ما فی السموت ومافی الارض وھو العلی العظیم (42 : 4) ” آسمانوں اور زمین میں جو کچھ ہے ، اسی کا ہے ، وہ برتر اور عظیم ہے “

بسا اوقات لوگوں کو یہ دھوکہ ہوتا ہے اور وہ سمجھتے ہیں کہ وہ بھی مالک ہیں ، محض اس لیے کہ وہ دیکھتے ہیں کہ یہ چیزیں ان کے ہاتھوں میں ہیں۔ ان کے قبضہ قدرت اور کنٹرول میں ہیں۔ وہ ان سے فائدہ اٹھاتے ہیں اور جس طرح چاہتے ہیں ان سے خدمت لیتے ہیں لیکن یہ دراصل حقیقی ملکیت نہیں ہے۔ حقیقی ملکیت اللہ کی ہے۔ وہ اللہ ہے جو موجود اور معدوم کرتا ہے ، زندہ کرتا ہے اور مارتا ہے۔ یہ وہی ہے جو کسی بشر کو جو چاہتا ہے ، دیتا ہے۔ اور جس چیز سے چاہتا ہے محروم کردیتا ہے۔ جس وقت چاہتا ہے ان کے ہاتھ میں جو کچھ ہوتا ہے وہ یکدم چلا جاتا ہے۔ اور اگر وہ چاہے تو جو چلا گیا ہے ، اس کا متبادل دے دے۔ مالک حقیقی تمام اشیاء میں اللہ ہے۔ وہ ان چیزوں کو اپنے قانون قدرت کے مطابق چلاتا ہے۔ اور یہ تمام اشیاء اس کے حکم پر لبیک کہتی ہیں۔ اس لحاظ سے زمین و آسمان میں جو چیز ہے ، وہ اللہ کی ہے اور اس لحاظ سے اللہ کے ساتھ اس ملکیت میں کوئی شریک نہیں ہے۔

وھو العلی العظیم (42 : 4) ” وہ برتر اور عظیم ہے “۔ وہ صرف مالک ہی نہیں ہے ۔ وہ مالک اعلیٰ بھی ہے۔ اور وہ بڑی عظمتوں والا ہے ، اور اس عظمت میں وہ منفرد ہے۔ وہ اس طرح برتر ہے کہ اس کے مقابلے میں ہر چیز کمتر ہے اور وہ اس معنی میں عظیم ہے کہ اس کے مقابلے میں ہر چیز بہت ہی چھوٹی ہے۔

جب یہ حقیقت انسانوں کے خمیر میں اچھی طرح بیٹھ گئی اور لوگوں کو معلوم ہوگیا کہ وہ اپنے نفوس کے لئے جو مال ، جو رزق اور جو روزگار طلب کرتے ہیں ، یہ انہوں نے کہاں سے طلب کرنا ہے یعنی یہ زمین و آسمان میں جو چیزیں موجود ہیں ، ان کا مالک اللہ ہے۔ اور وہ مالک ہی کسی کو کوئی چیز دے سکتا ہے۔ پھر وہ برتر اور عظیم بھی ہے۔ اس سے اگر کوئی کچھ مانگتا ہے تو وہ اس کے سوال کو رد نہیں کرتا۔ جس طرح مخلوقات کے سامنے ہم ہاتھ پھیلاتے ہیں وہ نہ برتر ہیں اور نہ عظیم ہیں ، اس لیے ان کا سوال محروم بھی ہو سکتا ہے۔

اس کے بعد اس کائنات میں سے ایک ایسا منظر دکھایا جاتا ہے جس سے یہ بات ظاہر ہوتی ہے کہ اس کائنات کا مالک صرف اللہ ہے اور برتری اور عظمت اللہ ہی کے لئے ہے کہ قریب ہے کہ یہ آسمان اللہ کی عظمت کے رعب کی وجہ سے اور بعض لوگوں کی کج روی اور بری باتوں کی وجہ سے پھٹ پڑیں پھر اللہ کی عظمت کا ایک مظہر یہ بھی یہاں لایا گیا ہے کہ ملائکہ ہر وقت اللہ کی حمد و ثنا کرتے ہیں اور اہل زمین کے لئے مغفرت مانگتے رہتے ہیں ، کیونکہ اہل زمین کے انحراف اور بےراہ روی کو دیکھ کر وہ بھی سہم جاتے ہیں۔

تکاد السموت یتفطرن ۔۔۔۔۔ الغفور الرحیم (42 : 5) “ قریب ہے کہ آسمان اوپر سے پھٹ پڑیں۔ فرشتے اپنی حمد کے ساتھ تسبیح کر رہے ہیں اور زمین والوں کے حق میں درگزر کی درخواستیں کیے جارہے ہیں ۔ آگاہ رہو ، حقیقت میں اللہ غفور و رحیم ہی ہے ”۔

سماوات وہ عظیم کائنات ہے جو ہمارے اوپر نظر آتی ہے۔ اس کرۂ ارض کی پشت پر ہم جہاں کہیں بھی ہوں اور ہمارے پاس اس کے بارے میں ابھی تک جو معلومات جمع ہو ئی ہیں وہ اس کے ایک بالکل معمولی حصے کے بارے میں ہیں۔ آج تک جو معلومات دستیاب ہیں ان سے ہمیں معلوم ہوا ہے کہ ہمارے سورج جیسے ایک لاکھ ملین سورج معہ اپنے لاتعداد توابع کے موجود ہیں۔ اور ایسے مجموعے یا گروپ کتنے ہیں ؟ تقریباً ایک لاکھ ملین گروپ معلوم ہوچکے ہیں۔ یاد رہے کہ یہ سورج ہماری زمین سے ایک ملین گنا بڑا ہے۔ اور یہ لاکھوں اربوں سورج تو وہ ہیں جن کو ہم اپنی چھوٹی چھوٹی رصد گاہوں کے ذریعے دیکھتے ہیں ، یہ اس لا محدود فضائے کائنات (جسے ہم آسمان کہتے ہیں ) کے اندر بکھرے ہوئے ہیں اور ان کے درمیان طویل مسافتیں ہیں جو ہزارہا ملین نوری سالوں کی دوری پر ہیں ، جن کا حساب روشنی کی رفتار کے حساب سے کیا جاتا ہے یعنی 186000 میل فی سیکنڈ کے حساب سے۔

یہ آسمان جن کے بارے میں ہمارا علم بہت ہی محدود ہے ، قریب ہے کہ پھٹ پڑیں ، ہمارے اوپر اس فضا میں سے ، کیوں ؟ اللہ کے خوف سے ، اللہ کی عظمت سے ، اور اللہ کے جلال سے اور زمین کے ان لوگوں کی بدکاریوں کی وجہ سے ان کی غفلت اور نسیان کی وجہ سے جو انہوں نے اس رب ذوالجلال اور اس کائنات کے بارے میں روا رکھی ہوئی ہیں۔ قریب ہے کہ آسمانوں پر رعشہ طاری ہوجائے اور یہ ٹوٹ پڑیں اور اس مقام سے گر جائیں جہاں یہ ٹکے ہوئے ہیں۔

والملئکۃ یسبحون بحمد ربھم ویستغفرون لمن فی الارض (42 : 5) “ فرشتے اپنے رب کی حمد کے ساتھ تسبیح کر رہے ہیں اور زمین والوں کے حق میں درگزر کی درخواستیں کئے جاتے ہیں ”۔ ملائکہ وہ مخلوق ہے جو مکمل طور پر اطاعت شعار ہے۔ یہ تمام مخلوقات میں سے بہتر مخلوق ہے ، لیکن یہ مسلسل اپنے رب کی تسبیح کر رہے ہیں کیونکہ وہ جانتے ہیں کہ ان کا رب کتنا برتر ہے ۔ اور کتنا عظیم ہے۔ وہ باوجود اپنی مکمل اطاعت شعاری کے پھر بھی اس بات سے ڈرتے ہیں کہ کہیں حمد و ثنا میں اور اطاعت میں ان سے کوئی تقصیر نہ ہوجائے۔ جبکہ اہل زمین قصور وار بھی ہیں ، ضعیف بھی ہیں۔ راہ راست سے منحرف بھی ہیں ، پھر بھی احساس نہیں رکھتے چناچہ ملائکہ اللہ کے غضب سے ڈرتے ہیں اور زمین میں جو معصیت ہوتی ہے ، جو تقصیرات ہوتی ہیں ، اس پر وہ اللہ کے غضب کے ڈر سے استغفار کرتے ہیں۔ یہ مفہوم بھی ہو سکتا ہے کہ یہاں ملائکہ کے استغفار سے مراد اہل ایمان کے لئے استغفار ہو ، جس طرح سورة غافر میں آیا ہے۔

الذین یحملون ۔۔۔۔۔ للذین امنوا (غافر : 7) “ عرش الٰہی کے حامل فرشتے ، اور وہ جو عرش کے گردوپیش حاضر رہتے ہیں ، سب اپنے رب کی حمد کے ساتھ تسبیح کر رہے ہیں۔ وہ اس پر ایمان رکھتے ہیں اور ایمان لانے والوں کے حق میں دعائے مغفرت کرتے ہیں ”۔ اس حالت سے یہ بات معلوم ہوتی ہے کہ فرشتے زمین پر معصیت کے ارتکاب سے بہت ڈرتے ہیں۔ یہاں تک کہ اہل ایمان بھی اگر معصیت کریں تو فرشتے ڈرتے ہیں اور اس خوف کی وجہ سے وہ اللہ سے اہل زمین کے لئے معافی طلب کرتے ہیں اور وہ اللہ کی حمد کے ساتھ اس کی پاکی بیان کرتے رہتے ہیں تا کہ ان معصیتوں کی وجہ سے اللہ کا عذاب نہ آجائے اور اس لئے کہ اللہ کی رحمت لوگوں پر آتی رہے۔ وہ امید کرتے ہیں کہ لوگوں کو معاف کیا جائے گا اور ان پر حمت ہوگی۔

الا ان اللہ ھو الغفور الرحیم (52 : 5) “ آگاہ رہو حقیقت میں اللہ غفورو رحیم ہے ”۔ اللہ کی صفات عزت اور حکمت کے ساتھ اور صفات علو اور عظمت کے ساتھ صفات مغفرت اور رحمت کو بھی یہاں جمع کیا گیا ہے تا کہ لوگ رب کی تمام صفات کو پیش نظر رکھیں۔

اس پیرے کے آخر میں ، ان صفات الٰہیہ کے بیان اور اس کائنات میں ان کے اثرات کے بیان کے بعد ، روئے سخن ان لوگوں کی طرف مڑ جاتا ہے۔ جنہوں نے اللہ کے سوا کچھ اور سرپرست بھی بنا رکھے ہیں ، حالانکہ یہ بات ظاہر ہوچکی ہے کہ اس کائنات میں اللہ کے سوا کوئی سرپرست نہیں ہے تا کہ رسول اللہ ﷺ ان کے معاملات سے اب دستکش ہوجائیں ، کیونکہ آپ کو ان کا حوالہ دار نہیں مقرر کیا گیا۔ اللہ ہی دراصل ان پر نگران ہے اور مختار ہے۔

والذین اتخذوا من۔۔۔۔۔۔ علیھم بوکیل (42 : 6) “ جن لوگوں نے اللہ کو چھوڑ کر اپنے کچھ دوسرے سرپرست بنا رکھے ہیں ، اللہ ہی ان پر نگران ہے ، تم ان کے حوالہ دار نہیں ہو ”۔ انسانی تصور میں ان کج خلق اور بدبختوں کی یہ تصویر آتی ہے کہ انہوں نے اللہ کے سوا دوسرے سر پرستوں کے سامنے ہاتھ دراز کیے ہوئے ہیں اور ان سے کچھ مانگتے ہیں اور ان کے ہاتھ خالی ہیں ، وہاں تو ہوا کے سوا کچھ نہیں۔ ان کی تصویر اور ان کے سرپرستوں کی تصویر نہایت ہی مکروہ ، حقیر اور بونی تصویر ہے۔ اللہ کے قبضے میں ہیں یہ لوگ اور نہایت ہی چھوٹے ہیں۔ نبی ﷺ کو کہہ دیا گیا ہے کہ آپ ان کے معاملے سے بری الذمہ ہیں۔ آپ ان کی پرواہ نہ کریں ، اللہ تعالیٰ ان کا بندوبست کرے گا۔

اہل ایمان کے دلوں میں یہ بات اچھی طرح بیٹھ جانی چاہئے اور اس معاملے میں ان کو مطمئن ہونا چاہئے ، ہر حال میں مطمئن ہونا چاہئے۔ وہ لوگ جن کو سرپرست بنایا گیا ہے ، وہ اس کرۂ ارض پر برسر اقتدار اور اصحاب جاہ و مرتبہ ہوں یا دوسرے لوگ ہوں۔ اصحاب اقتدار کے بارے میں تو اہل ایمان کو یوں مطمئن ہونا چاہئے کہ وہ جس قدر جبار وقہار بھی ہوں ، اگر ان کا اقتدار قرآن وسنت سے ماخوذ نہیں ہے تو پھر وہ اللہ کی گرفت میں ہیں ، اللہ نے انہیں احاطے میں لے رکھا ہے۔ ان کے اردگرد پوری کائنات اللہ پر ایمان لانے والی ہے ، صرف وہی منحرف ہیں۔ وہ ایک نہایت ہی موزوں زمزمے میں ایک کرخت آواز کی طرح ہیں۔ اور اگر یہ سرپرست اہل اقتدار کے علاوہ اور پیر فقیر ہوں تو اہل ایمان پر ان کی ذمہ داری نہیں ہے کیونکہ اللہ کی مخلوق میں سے اگر کوئی غلط راہ اختیار کرتا ہے۔ تو یہ ذمہ دار نہیں۔ دین و عقائد میں زبردستی نہیں ہے ، ان پر صرف تبلیغ کی ذمہ داری ہے ۔ بندوں کے دلوں پر نگران اللہ ہی ہے۔

چناچہ مومنین کا کام یہ ہے کہ وہ اپنی سیدھی راہ پر وحی الٰہی کی روشنی میں چلیں اور اگر دوسرے لوگ غلط عقائد اختیار کرتے ہیں تو ان پر اس کی کوئی ذمہ داری نہیں ہے۔ یہ غلط عقائد جو بھی ہوں ، وہ خود ذمہ دار ہیں۔ اب ہم اس سورت کے پہلے موضوع یعنی وحی و رسالت کی طرف آتے ہیں :

اردو ترجمہ

ع س ق

انگریزی ٹرانسلیٹریشن

AAaynseenqaf

اردو ترجمہ

اِسی طرح اللہ غالب و حکیم تمہاری طرف اور تم سے پہلے گزرے ہوئے (رسولوں) کی طرف وحی کرتا رہا ہے

انگریزی ٹرانسلیٹریشن

Kathalika yoohee ilayka waila allatheena min qablika Allahu alAAazeezu alhakeemu

اردو ترجمہ

آسمانوں اور زمین میں جو کچھ بھی ہے اُسی کا ہے، وہ برتر اور عظیم ہے

انگریزی ٹرانسلیٹریشن

Lahu ma fee alssamawati wama fee alardi wahuwa alAAaliyyu alAAatheemu

اردو ترجمہ

قریب ہے کہ آسمان اوپر سے پھٹ پڑیں فرشتے اپنے رب کی حمد کے ساتھ اُس کی تسبیح کر رہے ہیں اور زمین والوں کے حق میں درگزر کی درخواستیں کیے جاتے ہیں آگاہ رہو، حقیقت میں اللہ غفور و رحیم ہی ہے

انگریزی ٹرانسلیٹریشن

Takadu alssamawatu yatafattarna min fawqihinna waalmalaikatu yusabbihoona bihamdi rabbihim wayastaghfiroona liman fee alardi ala inna Allaha huwa alghafooru alrraheemu

اردو ترجمہ

جن لوگوں نے اُس کو چھوڑ کر اپنے کچھ دوسرے سرپرست بنا رکھے ہیں، اللہ ہی اُن پر نگراں ہے، تم ان کے حوالہ دار نہیں ہو

انگریزی ٹرانسلیٹریشن

Waallatheena ittakhathoo min doonihi awliyaa Allahu hafeethun AAalayhim wama anta AAalayhim biwakeelin

اردو ترجمہ

ہاں، اِسی طرح اے نبیؐ، یہ قرآن عربی ہم نے تمہاری طرف وحی کیا ہے تاکہ تم بستیوں کے مرکز (شہر مکہ) اور اُس کے گرد و پیش رہنے والوں کو خبردار کر دو، اور جمع ہونے کے دن سے ڈرا دو جن کے آنے میں کوئی شک نہیں ایک گروہ کو جنت میں جانا ہے اور دوسرے گروہ کو دوزخ میں

انگریزی ٹرانسلیٹریشن

Wakathalika awhayna ilayka quranan AAarabiyyan litunthira omma alqura waman hawlaha watunthira yawma aljamAAi la rayba feehi fareequn fee aljannati wafareequn fee alssaAAeeri

آیت نمبر 7 تا 9 وکذلک اوحینا الیک قرانا عربیاً ( 42 : 7) “ ہاں ، اسی طرح اے نبی یہ قرآن عربی ہم نے تمہاری طرف وحی کیا ہے ”۔ تا کہ تم بستیوں کے مرکزی شہر مکہ کے لوگوں کو ڈراؤ ۔ یہ فقرہ معطوف ہے ، اس فقرے پر جس سے سورت کا آغاز ہوا۔ یعنی کذلک یوحی پر۔ سورت کے آغاز میں آنے والے اس کذلک سے مراد حروف مقطعات تھے۔ یہاں معطوف اور معطوف علیہ کے درمیان مناسبت حروف مقطعات اور قرآن عربی کی ہے۔ یہ مناسبت ظاہر ہے ۔ یعنی یہ حروف عربی ہیں اور یہ قرآن عربی ہے۔ وحی نے ان حروف سے یہ قرآن بنایا ہے تا کہ وہ اپنا مقصد پورا کرے اور غرض وغایت کیا ہے۔

لتنذر ام القری ومن حولھا (42 : 7) “ تا کہ تم بستیوں کے مرکز (شہر مکہ) اور اس کے گردو پیش رہنے والوں کو خبردار کردو ”۔ ام القریٰ سے مراد مکہ مکرمہ ہے۔ اس میں بیت اللہ ، اللہ کا پرانا گھر تھا۔ اللہ نے یہ پسند فرمایا کہ خانہ کعبہ اس آخری رسالت کا مرکز ہو اور اللہ نے اپنی آخری کتاب کے لئے عربی زبان کو منتخب کیا۔ یہ اس کی مصلحت تھی اور وہی اس کو جانتا ہے کہ کیوں۔

اللہ اعلم حیث یجعل رسالتہ “ اللہ ہی بہتر جانتا ہے کہ وہ اپنی رسالت کہاں رکھے ”۔

آج جب ہم تاریخی واقعات کا جائز لیتے ہیں اور پوری تاریخ کو چھانتے ہیں ، اس وقت کے حالات اور تقاضوں کو دیکھتے ہیں۔ پھر ہم یہ دیکھتے ہیں کہ یہ دعوت کس طرح پھیلی اور کن خطوط پر آگے بڑھی اور اس نے کیا کیا نتائج پیدا کئے اور دنیا پر کیا کیا اثرات چھوڑے۔ آج جب ہم یہ جائزہ لیتے ہیں تو ہمیں معلوم ہوجاتا ہے کہ اللہ نے اس سر زمین کو اس مقصد کے لئے کیوں منتخب کیا تھا۔ اور تاریخ کے ایک خاص موڑ پر اس آخری رسالت کے لئے کیوں مکہ مکرمہ کو مرکز ٹھہرایا۔ جبکہ یہ آخری رسالت تھی بھی عالمی رسالت ، تمام انسانوں کے لئے تھی۔ اور جس کے عالمی خدو خال اس کے ابتدائی دنوں ہی سے عیاں تھے۔

حضور اکرم ﷺ کے ظہور کے دور میں پورے کرۂ ارض کے آباد علاقوں کو چار شہنشاہوں نے باہم تقسیم کر رکھا تھا۔ روی سلطنت جو پورے ایشیا کے ایک حصے ، اور افریقہ پر حکمران تھی۔ کسرائے فارس کی مملکت جس کا اقتدار ایشیا کے ایک بڑے حصے ، افریقہ کے ایک حصے پر قائم تھا ، مملکت ہند اور مملکت چین۔ یہ آخر الذکر دونوں شہنشاہتیں اپنے خول میں بند تھیں ، ان کے اپنے عقائد تھے اور صرف چین و ہند کے باہم سیاسی روابط تھے ، چونکہ چین وہند کی مملکتیں اپنے ہی خول میں بند تھیں۔ اس لیے دنیا کے معاشروں پر حقیقی اثر قیصر روم اور کسرائے فارس ہی کی حکومتوں کو حاصل تھا۔

اس دور میں دنیا میں دو مشہور سماوی دین تھے۔ یہودیت اور نصرانیت ۔ یہ دونوں مذاہب اس پوزیشن تک پہنچ گئے تھے کہ یہ کسی نہ کسی حکومت اور مملکت کے زیر اثر ہوگئے تھے۔ ان ادیان پر حکومت کا اثر قائم ہوگیا تھا۔ کسی مملکت پر دین کا اثر نہ تھا بلکہ مملکت دین پر غالب تھی۔ یہ اس لیے کہ ان ادیان کے اندر تحریف و تغیر واقع ہوگیا تھا اور اہل دین بد عمل ہوگئے تھے۔

یہودیوں پر تو کبھی رومی ظلم کرتے اور کبھی اہل فارس ان پر مظالم ڈھاتے۔ ان کی تو اس علاقے میں کوئی قابل ذکر پوزیشن نہ تھی۔ حالات نے یہودیت کو مجبور کردیا تھا کہ وہ صرف یہودیوں ، یعنی بنی اسرائیل کا دین بن جائے اور خود اپنے اندر سکڑ جائے۔ ان کو نہ اس بات کی ضرورت تھی اور نہ خواہش تھی کہ وہ دوسری اقوام کو دین یہودیت میں لائیں۔

جہاں تک موجودہ عیسائیت کا تعلق ہے ، یہ مملکت روما کی پیدا کردہ ہے۔ جس وقت عیسائیت وجود میں آئی تو مملکت روما ، فلسطین ، مصر ، شام اور ان باقی حصوں پر برسر اقتدار تھی جن میں مسیحیت خفیہ طور پر پھیل گئی تھی اور مملکت روما اس پر تشدد کر رہی تھی۔ اس دین کو ماننے والوں کا پیچھا کیا جاتا تھا۔ اور ان پر سختیاں کی جاتی تھیں۔ یہ تشدد اس قدر سخت تھا کہ ہزارہا لوگوں کو ظالمانہ طریقے پر ذبح کیا گیا ۔ جب اس تشدد کا دور ختم ہوا اور قیصر روم خود دین مسیحیت میں داخل ہوگیا تو وہ اپنے ساتھ بت پرستانہ افسانے بھی لایا۔ چناچہ یونان کے مذہبی دیو مالائی فلسفے عیسائیت میں داخل ہوگئے اور عیسائیت کی سادہ شکل ہی کو بدل کر رکھ دیا گیا۔ لہٰذا اب سرکار کے سائے میں جو عیسائیت وجود میں آئی ، وہ اس دین سے بالکل مختلف تھی جسے اللہ تعالیٰ نے حضرت عیسیٰ (علیہ السلام) پر اتارا تھا بلکہ یہ ایک نئی چیز وجود میں آگئی۔ ہوا یوں کہ مملکت روم نے کلمہ تو پڑھ لیا مگر وہ مسیحیت سے متاثر نہ ہوئی۔ ادھر مسیحیت تشدد سے تو کنٹرول میں نہ آئی تھی ، اب مکمل طور پر کنٹرول میں آگئی۔ اس سرکاری کنٹرول کی وجہ سے یہ دین مزید ٹکڑے ٹکڑے ہوگیا اور اس طرح تشدد کا ایک دوسرا دور شروع ہوا ، سرکاری مسیحیت نے دوسرے فرقوں کو کچلنا شروع کردیا۔ کینسہ تقسیم ہوگیا اور یہ خطرہ بھی پیدا ہوگیا کہ اس کے نتیجے میں مملکت روما منقسم ہوجائے۔ یوں ایک سرکاری فرقے نے دوسرے فرقوں کو کچلا اور دونوں کی حالت یہ ہوگئی کہ کوئی بھی حضرت عیسیٰ کے دین پر نہ رہا۔

یہ وقت تھا جب اسلام نمودار ہوا۔ اسلام کا مقصد یہ تھا کہ انسانیت جس انحراف ، فساد ، ظلم اور جاہلیت میں گرفتار ہے ، اسے ان تاریکیوں سے نکالا جائے۔ اسلام نے چاہا کہ پوری انسانی زندگی کو اپنے کنٹرول میں لے ، اور نہایت ہی روشنی اور صحیح راستے پر اس کی راہنمائی کرے۔ یہ ضروری تھا کہ اسلام پوری انسانیت کے اوپر اپنا اقتدار اعلیٰ قائم کرے تا کہ انسانی زندگی میں وہ عظیم انقلاب لایا جاسکے ۔ جو اسلام کے پیش نظر تھا۔ لہٰذا یہ ضروری تھا کہ اسلام کا آغاز کسی ایسے مقام سے کیا جائے جو آزادانہ ہو اور وہاں دنیا کی بڑی شہنشاہیتوں میں سے کوئی بھی برسر اقتدار نہ ہو۔ اور اسلام کی ترقی اور نشوونما ایسے حالات میں ہو کہ اس پر کوئی ایسی مملکت مسلط نہ ہو ، جو اس کے مزاج کے متضاد ہو۔ بلکہ اس علاقے پر اسلام خود ہی برسر اقتدار ہو۔ ان مقاصد کو پیش نظر رکھتے ہوئے اگر سوچا جائے تو مکہ مکرمہ ، اس وقت کے حالات کے مطابق آغاز اسلام کے لئے ایک بہترین مقام تھا ، جہاں سے اسلام نے اپنا عالمی سفر شروع کیا کیونکہ ایک عالمی انقلاب اول روز سے اسلام کے پیش نظر تھا۔

جزیرۃ العرب میں ان دنوں کوئی منظم حکومت نہ تھی جس کے اپنے قوانین ہوں ، جس کی فوجیں ہوں ، جس کی پولیس ہو ، اور وہ پورے جزیرۃ العرب پر اقتدار رکھتی ہو۔ اور جو اپنے منظم ڈھانچے کے بل بوتے پر جدید نظریہ حیات کا مقابلہ کرسکتی ہو۔ اور جمہور عوام پوری طرح اس کے کنٹرول میں ہوں جیسا کہ اس وقت دنیا کی چار شہنشاہیتوں میں ایسا انتظام تھا۔

پھر جزیرۃ العرب میں ایسا واضح دین بھی نہ تھا ، جس طرح یہودیت ، عیسائیت تھی یا بکھری ہوئی بت پرستی تھی۔ تمام قبائل کے معتقدات اور ان کے طریقہ ہائے حیات مختلف تھے۔ پھر ان کے الہہ بھی مختلف تھے۔ ملائکہ سے ، جنوں سے ، سیاروں اور ستاروں سے ، اور بتوں سے ، لیکن ان حالات کے باوجود خانہ کعبہ اور قریش کی دینی قیادت و سیادت ، پورے جزیرۃ العرب میں مسلم تھی۔ اگرچہ یہ قیادت باقاعدہ اقتدار اعلیٰ کی نہ تھی ، نہ مکہ پر اور نہ بیرون مکہ پر۔ اس وجہ سے دین جدید کی مزاحمت حکومتی سطح پر نہ تھی۔ قریش نے دین جدید کا ایک حد تک مقابلہ ضرور کیا لیکن اگر اقتصادی وجوہات نہ ہوتیں ، اور قریش کے سرداروں کے خاص مفادات کا مسئلہ نہ ہوتا تو اسلام کی جو مخالفت ام القریٰ میں ہوئی وہ بھی نہ ہوتی۔ جہاں تک عقائد ونظریات کا تعلق ہے ، وہ جانتے تھے کہ ان کے عقائد پوچ ہیں اور ان کی کوئی حقیقت نہیں ہے۔

جزیرۃ العرب میں کسی سیاسی نظام کا نہ ہونا ، یا کسی منظم دینی نظام کا نہ ہونا ، اسلام کے مفاد میں تھا ، ابتدائی ادوار میں اسلام کے اوپر کوئی خاص دباؤ نہ تھا۔ اگر کوئی ایسا نظام ہوتا تو وہ لازماً اسلام کے مزاج کے خلاف ہوتا اور وہ اسلام کے خلاف اٹھ کھڑا ہوتا۔

بلکہ کسی اجتماعی حکومتی اور دینی نظام کی عدم موجودگی میں ، ایک طرح اسلام کی حمایت کا پہلو نکل آیا۔ اجتماعی نظام حکومت کی جگہ جزیرۃ العرب میں قبائلی نظام تھا اور اس قبائلی نظام میں خاندان کو اہمیت حاصل ہوتی۔ جب حضور ﷺ دعوت اسلامی لے کر اٹھے تو بنی ہاشم کی تلواریں آپ کے ساتھ تھیں اور جو قبائلی توازن قائم تھا وہ آپ کے حق میں تھا ۔ کیونکہ بنو ہاشم باوجود اس کے کہ آپ کے دین کو قبول نہ کرتے تھے لیکن آپ کے حامی ضرور تھے۔ بلکہ آغاز اسلام میں جن جن لوگوں نے اسلام قبول کیا تھا اور ان کا تعلق اہم قبائل سے تھا ، ان پر لوگ کسی قسم کے تشدد سے ڈرتے تھے۔ ان کی اصلاح اور تادیبی کاروائی کا کام قبائل کے سپرد تھا۔ اسی طرح جن غلاموں پر تشدد ہوا ان پر بھی ان کے مالکان نے تشدد کیا ، یہی وجہ ہے کہ حضرت ابوبکر ایسے غلاموں کو خریدتے اور آزاد کردیتے۔ اس طرح ان پر سختی ختم ہوجاتی اور وہ حضرت ابوبکر کے موالی ہوجاتے۔ اب لوگ ان کے دین کے بارے میں زیادہ نہ چھیڑتے ۔ اس صورت حال نے دین جدید کو ایک امتیازی شان دے دی ۔ تمام غرباء اور غلام اس کی طرف لپکے۔

پھر عربوں کے اندر بہادری ، ذاتی وقار ، جوانمردی اور بھلائی پر خوشی سے آمادہ ہوجانے کی صفات بھی تھیں۔ یہ وہ صفات ہیں جو جدید دین کی ذمہ داریاں اٹھانے کے لئے ضروری تھیں۔

ان باتوں کے علاوہ جزیرۃ العرب میں اس وقت وہ تمام صلاحیتیں موجود تھیں جو کسی تہذیب و ترقی کے لئے ضروری ہوتی ہیں اور ساکنان جزیرہ ان پر فخر کرتے تھے۔ جزیرۃ العرب میں قوت ، قابلیت ، شخصیات کے کافی ذخائر موجود تھے جو بےتاب تھے کہ ان کو کام میں لایا جائے۔ غیب کے قلب میں یہ سب کچھ موجود تھا۔ پھر اہل قریش پوری دنیا میں گرویدہ اور گرم و سروچشیدہ تھے۔ وہ ایک طرف قیصر روم کی مملکت میں سفر کرتے تھے دوسری جانب وہ کسری فارس کے علاقوں میں سفر کرتے تھے اور انہوں نے اس وقت کی تہذیب و تمدن کے تمام تجربات اپنی آنکھوں سے دیکھے ہوئے تھے۔ اہل قریش کے سفر موسم گرما اور سفر موسم سرما کو قرآن کریم نے ہمیشہ کے لئے ریکارڈ بھی کردیا ہے۔

لایلف قریش (106 : 1) الفھم رحلۃ الشتاء والصیف (106 : 2) فلیعبدوا رب ھذا البیت (106 : 3) الذی اطعمھم من جوع وامنھم من خوف (106 : 4) “ چونکہ قریش مانوس ہوتے ہیں ، جاڑے اور گرمی کے سفروں سے ، لہٰذا ان کو چاہئے کہ اس گھر کے رب کی عبادت کریں جس نے انہیں بھوک سے بچا کر کھانے کو دیا اور خوف سے بچا کر امن عطا کیا ”۔ پھر تجربات کا ایک بڑا ذخیرہ ان کے ہاں مختلف اسباب کے تحت جمع ہوگیا ، تا کہ جزیرۃ العرب اسلامی انقلاب کی مہم کے لئے تیار ہوجائے۔ جب اسلام آیا تو اس نے ان تمام ذخائر اور صلاحیتوں کو اسلام کے حق میں استعمال کیا۔ عربوں کی طاقت اور جنگی صلاحیت جو صدیوں سے جمع ہوچکی تھی ، وہ صلاحیت کھل گئی۔ اسلام کی کنجی سے یہ خزانے رو بعمل ہوگئے۔ یہ تمام صلاحیتیں اسلام کا سرمایہ بن گئیں ۔ یہی وجہ ہے کہ آغاز اسلام ہی سے اسلام کو ایسی عظیم شخصیات مل گئی جن کا ملنا کسی تحریک کے لئے بڑی خوش نصیبی ہوتی ہے۔ رسول اللہ ﷺ کے صحابہ کرام اس زاویہ نظر سے بہت بڑا مقام رکھتے ہیں ، مثلاً حضرت ابوبکر ‏ ؓ ‌ ؓ ، حضرت عمر ؓ ، حضرت عثمان ؓ ، حضرت علی ؓ ، حضرت حمزہ ؓ ، حضرت عباس ؓ ، حضرت ابو عبیدہ ؓ ، حضرت سعد ؓ ، حضرت معاذ ؓ ، حضرت ابو ایوب انصاری وغیرھم۔ ساتھیوں کا یہ باصلاحیت گروپ جنہوں نے ابتداء ہی میں اسلام قبول کرلیا تھا ، ان کے دل اللہ نے اسلام کے لئے کھول دئیے ، انہوں نے اس دعوت کو اٹھایا۔ اس دعوت کے ذریعہ یہ باصلاحیت لوگ مزید بڑے لوگ بن گئے اور ان کی صلاحیتیں اور نکھر گئیں۔ لیکن ان کے اندر بنیادی قابلیت اسلام سے پہلے بھی موجود تھی۔

یہاں ہم تفصیلی اسباب نہیں لکھ سکتے کہ جزیرۃ العرب کو کیوں دعوت اسلامی کے لئے منتخب کیا گیا۔ کیوں اس دعوت کو آغاز میں بچا کر جزیرۃ العرب ہی میں اس کی نشوونما کی گئی ، اور کیوں ام القریٰ اور ماحول کو برتری دی گئی کہ بڑی مملکتیں اس کی طرف متوجہ ہی نہ ہوئیں ، تو یہ اس لیے کہ اللہ تعالیٰ جزیرۃ العرب کو جدید رسالت کے لئے ایک پرورش گاہ بنانا چاہتا تھا ۔ جس نے پوری انسانیت کو روشنی دینی تھی۔ اور پھر ام القریٰ کو منتخب کیا گیا کہ رسول اللہ ﷺ وہاں سے اٹھیں۔ بہرحال یہ بہت ہی طویل بحث ہوگی اور اس کے لئے ایک مستقل کتاب کے صفحات درکار ہیں۔ یہاں یہی اشارات کافی ہیں اور جن سے آگے بڑھ کر مزید اسباب بھی معلوم کئے جاسکتے ہیں ، یہ تو ان اسباب کا ایک حصہ ہیں۔ جس طرح ہم کائنات میں سنن الٰہیہ کے سلسلے میں نئے اسباب معلوم کر رہے ہیں۔ اسی طرح ام القریٰ کے بارے میں مزید وجوہات غوروفکر کے بعد سامنے لائی جاسکتی ہیں۔

غرض یوں یہ قرآن ام القریٰ میں نازل ہوا ، اس نے اس کے اردگرد کام شروع کیا اور جب پورا جزیرۃ العرب جاہلیت سے نکل کر اسلام میں داخل ہوگیا۔ اور عرب پورے کے پورے اسلام میں داخل ہوگئے تو انہوں نے اسلام کے جھنڈے بلند کر دئیے اور وہ اسلام کو لے کر شرق و غرب میں داخل ہوگئے اور انہوں نے جدید رسالت اور اس کے ذریعہ آیا ہوا نظام اسلام اور نظام شریعت انسانوں کے سامنے پیش کیا۔ جس طرح اسلام کا مزاج تھا۔ جن لوگوں نے یہ جھنڈے بلند کئے وہ اس مقصد کے لئے صالح ترین لوگ تھے۔ جنہوں نے اسے اٹھایا اور پوری دنیا میں پھیلا دیا۔ جب وہ اسے لے کر اٹھے تو اسلام کی تولید وتشکیل ایک بہترین ماحول میں ہوچکی تھی۔

یہ بات کوئی اتفاقی بات نہیں ہے کہ اللہ نے رسول اللہ ﷺ کو پورے جزیرۃ العرب میں اسلام کے مکمل غلبے تک زندہ رکھا اور پورے جزیرۃ العرب کو مشرکین اور شرک کے آثار سے بھی پاک کردیا گیا۔ پھر اس دعوت کے لئے عربی زبان کو بھی محض اتفاق سے نہ چنا تھا بلکہ دنیا کی زبانوں میں یہ اس دعوت کے پھیلانے کے لئے نہایت ہی موزوں زبان تھی۔ یہ ایک مکمل اور پختہ زبان تھی۔ اس کے اندر وسعت کی بےپناہ صلاحیت تھی اور اس دعوت کے مقاصد کے لئے اس وقت اس سے زیادہ بہتر اور کوئی زبان نہ تھی۔ اگر یہ کوئی اور زبان ہوتی یا اس زبان کی تشکیل اور مقاصد کے لئے اس وقت اس سے زیادہ بہتر اور کوئی زبان نہ تھی۔ اگر یہ کوئی اور زبان ہوتی یا اس زبان کی تشکیل اور ساخت میں کوئی جھول ہوتی تو اس کے لئے ممکن نہ ہوتا ہے کہ یہ زبان دعوت اسلامی کے مقاصڈ کو پورا کرسکتی اور نہ یہ زبان اس دعوت کو جزیرۃ العرب کے باہر پھیلا سکتی۔ غرض جس طرح رجال عرب اس دعوت کا بوجھ اٹھانے کے لئے موزوں تھے اسی طرح ان کی زبان بھی موزوں تھی ، (یہ زبان پھر قرب و جوار کے ملکوں کی زبان بن گئی ) ۔

غرض یہ وہ قدرتی سازگاریاں تھیں جو اس رسالت کے جزیرۃ العرب سے آغاز میں مضمر تھیں۔ لیکن تمام وجوہات کے مقابلے میں اصل وجہ یہی ہے جو خود قرآن نے بتائی ہے۔

اللہ اعلم حیث یجعل رسالتہ “ اللہ بہتر جانتا ہے کہ وہ اپنی رسالت کہاں رکھتا ہے ”۔ بہرحال غورو تدبر سے حکمت الٰہیہ کو معلوم کیا جاسکتا ہے۔

لتنذر ام القری ۔۔۔۔ فی السعیر (42 : 7) “ تا کہ تم بستیوں کے مرکز اور اس کے گردو پیش رہنے والوں کو خبردار کر دو ، اور جمع ہونے کے دن سے ڈراؤ جس کے آنے میں کوئی شک نہیں۔ ایک گروہ کو جنت میں جانا ہے اور دوسرے گروہ کو دوزخ میں ”۔ قرآن کریم میں ڈراوے کا ذکر بہت آتا ہے۔ بار بار مختلف طریقوں سے لفظ انذار آتا ہے۔ اس سے مراد یوم قیامت سے ڈرانا ہے۔ پوری دنیا کی تاریخ میں جس زمان ومکان میں انسان پیدا ہوئے اور فوت ہوئے۔ اللہ تعالیٰ ایک دن سب کو جمع کرے گا اور پھر ان کی گروہ بندی ہوگی ،

فریق فی الجنۃ وفریق فی السعیر (42 : 7) “ ایک گروہ جنت میں جائے گا اور ایک جہنم میں ”۔ جس طرح انہوں نے اس دنیا میں عمل کیا ، جو دارالعمل ہے اور جو رویہ انہوں نے اپنی اس مختصر زندگی میں اختیار کیا۔

ولو شاء اللہ لجعلھم ۔۔۔۔۔۔ ولا نصیر (42 : 8) “ اگر اللہ چاہتا ہے تو ان سب کو ایک ہی امت بنا دیتا مگر وہ جسے چاہتا ہے ، اپنی رحمت میں داخل کرتا ہے اور ظالموں کا نہ کوئی ولی ہے اور نہ مددگار ”۔ اگر اللہ چاہتا تو انسانوں کی تخلیق ہی دوسرے انداز سے کرتا جس میں ان کا رویہ ایک جیسا ہوتا۔ ان کا انجام بھی ایک ہی ہوتا ، یا سب جنتی ہوتے یا سب جہنمی ہوتے لیکن اللہ نے اس انسان کو جس مقصد کے لئے پیدا کیا ہے۔ وہ یہ ہے کہ وہ اس کرۂ ارض پر اللہ کا خلیفہ ہے۔ اور اس خلافت کا تقاضا یہ تھا کہ انسان ایسا ہو جیسا کہ وہ ہے۔ انسان کو خصوصی استعداد دی جائے ، اس استعداد کے ذریعہ وہ فرشتوں سے بھی ممتاز ہو اور شیاطین سے بھی ممتاز ہو۔ جن کی تخلیق کسی محدود مقصد کے لئے ہے اور ان کا ایک ہی رویہ ہے۔ اس استعداد کے ذریعہ بعض انسان ہدایت اور نور کی طرف آجائیں ، عمل صالح کریں ، اور بعض لوگ گمراہی اور تاریکی کی طرف چلیں اور برے کام کریں۔ ہر انسان ان اجتمالات میں سے ایک طرف جھک جائے جو اس کی طبیعت میں رکھے ہوئے ہیں اور پھر اس احتمال کے لئے جو انجام مقرر ہے اس سے دوچار ہو ، یعنی ایک فریق جنت میں جائے اور دوسرا دوزخ میں۔ اور اس طرح یہ بات حق بن جائے کہ ۔

یدخل من یشاء فی رحمتہ والظالمون ما لھم من ولی ولا نصیر (42 : 8) “ اور ظالموں کا نہ کوئی ولی ہے اور نہ مددگار ” ۔ اور اللہ کی مشیت نے اپنا کام اپنے سابق علم کی وجہ سے کیا۔ انسان اس کی ہدایت کی وجہ سے اس کی رحمت مستحق ہوا اور ضلالت کی وجہ سے وہ گمراہی و عذاب کا مستحق ہوگیا۔

اس سے قبل یہ بات گزر گئی کہ بعض لوگوں نے اللہ کے سوا اور سرپرست بنا رکھے تھے۔ یہاں یہ فیصلہ دے دیا جاتا ہے کہ اللہ کے سوا تو کوئی ولی و مدد گار نہ ہوگا ۔ لہٰذا جن کو وہ ولی و مدد گار پکڑتے ہیں تو ، یہ ایک فضول حرکت ہے ان کی جانب سے کیونکہ ان کا تو وجود ہی نہیں ہے۔ پھر پوچھا جاتا ہے :

ام اتخذوا من دونہ اولیاء ( 42 : 9) “ کہا ، انہوں نے اللہ کے سوا اور ولی و مددگار پکڑ رکھے ہیں ؟” یہ سوال استنکاری اس لیے ہے کہ ان کو متوجہ کر کے یہ فیصلہ دے دیا جائے کہ اللہ وحدہ ولی و مددگار ہے۔ وہ قادر مطلق ہے۔ وہ مردوں کو زندہ کرتا ہے اور اس سے اس کی قدرت واضح ہوتی ہے۔ مردے کو حیات دینا یہ بہت بڑی قدرت ہے۔

فاللہ ھو الولی وھو یحی الموتی (42 : 9) “ اللہ ہی ولی و مددگار ہے اور وہی مردوں کو زندہ کرتا ہے ” اس کے بعد اس خصوصی قدرت کے مظہر یعنی احیائے موتیٰ کے بعد عام قدرت کا ذکر کیا جاتا ہے۔

وھو علی کل شیء قدیر (42 : 9) “ اور وہ ہر چیز پر قادر ہے ”۔ اس کی قدرت صرف احیائے موتیٰ تک محدود نہیں ۔

٭٭٭

پھر روئے سخن اس سورت کے موضوع اول کی طرف مڑتا ہے کہ اسلامی سوسائٹی میں اپنے تمام اختلافات کس معیار پر رفع کئے جائیں گے۔ یہ وحی واحد معیار حق ہے جو اللہ کی طرف سے آئی ہے ، یہ صراط مستقیم ہے اور مکمل اسلامی نظام زندگی آنے کے بعد تم نے تمام اختلافات اس کے مطابق ختم کرنے ہیں۔ اب یہ نہ ہوگا کہ ہر شخص ہوائے نفس کے مطابق چلے

اردو ترجمہ

اگر اللہ چاہتا تو اِن سب کو ایک ہی امت بنا دیتا، مگر وہ جسے چاہتا ہے اپنی رحمت میں داخل کرتا ہے، اور ظالموں کا نہ کوئی ولی ہے نہ مدد گار

انگریزی ٹرانسلیٹریشن

Walaw shaa Allahu lajaAAalahum ommatan wahidatan walakin yudkhilu man yashao fee rahmatihi waalththalimoona ma lahum min waliyyin wala naseerin

اردو ترجمہ

کیا یہ (ایسے نادان ہیں کہ) اِنہوں نے اُسے چھوڑ کر دوسرے ولی بنا رکھے ہیں؟ ولی تو اللہ ہی ہے، وہی مُردوں کو زندہ کرتا ہے، اور وہ ہر چیز پر قادر ہے

انگریزی ٹرانسلیٹریشن

Ami ittakhathoo min doonihi awliyaa faAllahu huwa alwaliyyu wahuwa yuhyee almawta wahuwa AAala kulli shayin qadeerun

اردو ترجمہ

تمہارے درمیان جس معاملہ میں بھی اختلاف ہو، اُس کا فیصلہ کرنا اللہ کا کام ہے وہی اللہ میرا رب ہے، اُسی پر میں نے بھروسہ کیا، اور اُسی کی طرف میں رجوع کرتا ہوں

انگریزی ٹرانسلیٹریشن

Wama ikhtalaftum feehi min shayin fahukmuhu ila Allahi thalikumu Allahu rabbee AAalayhi tawakkaltu wailayhi oneebu

آیت نمبر 10 تا 12

ان حقائق کو اس ایک پیراگراف میں پیش کرنے کا طریقہ بڑا عجیب ہے۔ اس پر غور کرنے کی ضرورت ہے۔ ان حقائق کے درمیان ایک باریک اور خفیہ ربط موجود ہے۔ یہ کہ لوگوں کے درمیان جو اختلافات ہیں ، ان کا فیصلہ اللہ کے ہاتھ میں ہے۔

وما اختلفتم فیہ من شییء فحکمہ الی اللہ (42 : 10) “ تمہارے درمیان جس معاملہ میں بھی اختلاف ہو ، اس کا فیصلہ کرنا اللہ کا کام ہے ”۔ اور اللہ نے اپنا فیصلہ اس قرآن میں نازل کردیا ہے اور اس قرآن نے دنیا و آخرت دونوں کے بارے میں فیصلے کر دئیے ہیں اور لوگوں کی زندگی کے لئے انفرادی اور اجتماعی منہاج اس کے اندر ضبط کردیا ہے۔ ان کے نظام زندگی ، ان کے نظام معیشت ، ان کے نظام قانون ، ان کے نظام سیاست اور ان کے نظام اخلاق و سلوک کے تمام امور قرآن کریم نے طے دئیے ہیں اور ان موضوعات پر کافی و شافی بیان دے دیا ہے۔ اس قرآن کو انسانی زندگی کا دستور العمل بنا دیا ہے۔ یہ تمام دنیا کے دساتیر سے زیادہ جامع و مانع ہے۔ اگر ان کے درمیان کسی معاملے میں اختلاف ہوجائے تو اس کا حکم اس قرآن میں تیار ہے اور حاضر ۔۔۔۔۔ حضرت محمد ﷺ پر اترا ہے۔ اور آپ نے اس قرآن کی اساس پر نظام زندگی قائم کر کے بتا دیا ہے۔

اس ہدایت کے بعد اب نبی ﷺ کی تقریر شروع ہوتی ہے کہ آپ نے اعلان کردیا کہ آپ اپنے امور تمام کے تمام اللہ کے حوالے کرتے ہیں اور اس طرف اشارہ فرماتے ہیں کہ یہ ہے رب تعالیٰ جس نے مجھے یہ کلیہ دیا ہے۔

ذلکم اللہ ربی علیہ توکلت والیہ انیب (42 : 10) “ یہی اللہ میرا رب ہے ، اس پر میں نے بھروسہ کیا اور اسی کی طرف میں رجوع کرتا ہوں ” یہ انابت اور یہ توکل اور یہ اقرار نبی ﷺ کی زبان سے یہاں ریکارڈ کیا جاتا ہے تا کہ اس کا لوگوں پر ایک نفسیاتی اثر ہو کہ دیکھو یہ ہیں رسول اللہ ﷺ جو اللہ کے نبی ہیں ، وہ بھی شہادت دیتے ہیں کہ اللہ ہی ان کا رب اور حاکم ہے اور یہ کہ آپ ﷺ اللہ ہی پر بھروسہ کرتے ہیں ، اللہ ہی کی طرف رجوع کرتے ہیں اور اللہ کے سوا کسی اور کی طرف رجوع نہیں کرتے۔ لہٰذا دوسرے انسان اور مسلمان اپنے اختلافات میں کس طرح کسی اور کی طرف رجوع کرسکتے ہیں اور نبی جو ہدایت پر ہیں اپنے فیصلہ اللہ ہی کی طرف لے جاتے ہیں۔ لہٰذا تمام لوگوں کو بطریق اولیٰ اپنے فیصلہ قرآن کی طرف لے جانے چاہئیں۔ اور اس سے کسی جگہ بھی ایک لمحے کے بھی ادھر ادھر نہیں ہونا چاہئے۔ اور کس طرح وہ اپنے امور میں کسی دوسری جانب جاسکتے ہیں جبکہ نبی ﷺ بذات خود بھی کسی دوسری طرف نہیں جاتے۔ اللہ ہی کی طرف رجوع فرماتے ہیں کیونکہ رب بھی اللہ ، والی بھی اللہ ، کفیل بھی اللہ اور یہ اللہ ہی ہے جو رسول اللہ ﷺ کو جدھر موڑنا چاہتا ہے ، موڑتا ہے۔

جب کسی مومن کے دل میں یہ حقیقت بیٹھ جاتی ہے تو اس کا راستہ روشن ہوجاتا ہے ، اس کے سفر زندگی کے نشانات واضح ہوجاتے ہیں اس لیے وہ اپنے سفر میں ادھر ادھر دیکھتا ہی نہیں۔ طمانیت کا ایک لبریز پیمانہ اس کے دل پر انڈیل دیا جاتا ہے اور اس کے مقامات قدم پر اعتماد بچھا دیا جاتا ہے۔ اس لیے وہ نہ شک کرتا ہے ، نہ تردد کرتا ہے ، اور نہ حیرت زدہ ہوتا ہے۔ اس کو یہ شعور مل جاتا ہے کہ اللہ اس کا حامی ، نگہبان ، محافظ اور اس کے قدموں کو درست رکھنے والا ہے اور نبی اکرم ﷺ بھی اس راستے کے راہی رہے ہیں۔

جب مومن کے ضمیر میں اور شعور میں یہ بات بیٹھ جاتی ہے تو اس کے نظام زندگی اور طرز زندگی کے بارے میں اس کا شعور اور اس کی سوچ بلند ہوجاتی ہے ، اس لیے وہ یہ سوچ بھی نہیں سکتا کہ اسلامی نظام زندگی کے سوا اور بھی کوئی قابل التفات منہاج ہو سکتا ہے۔ نہ وہ یہ تصور کرسکتا ہے کہ اللہ کے حکم اور فیصلے کے سوا اور بھی کوئی حکم اور فیصلہ ہو سکتا ہے ، جس کی طرف اختلاف کی صورت میں کوئی نگاہ بلند کرسکے۔ جبکہ ہادی اور نبی بھی اپنے فیصلوں میں اللہ کی شریعت اور حکم کی طرف ہی دیکھتے ہیں۔

اب ایک بار پھر اس حقیقت کو ذہن نشین کیا جاتا ہے تا کہ وہ اچھی طرح مومن کے شعور کی گہرائی تک اتر جائے۔

فاطر السموت والارض۔۔۔۔۔۔ وھو السمیع البصیر (42 : 11) “ آسمانوں اور زمین کا بنانے والا جس نے تمہاری اپنی جنس سے تمہارے لیے جوڑے پیدا کئے اور اس طرح جانوروں میں بھی جوڑے بنائے ، اور اس طریقے سے وہ تمہاری نسلیں پھیلاتا ہے۔ کائنات کی کوئی چیز اس کے مشابہ نہیں وہ سب کچھ سننے اور دیکھنے والا ہے ”۔ اللہ قرآن کو نازل کرنے والا ہے کہ اس کا حکم تمہارے اختلاف کے اندر فیصل ہو۔ وہی اللہ آسمانوں اور زمین کا بنانے والا ہے۔ وہ آسمانوں اور زمین کا مدبر ہے۔ زمین اور آسمان میں جو قانون قدرت چلتا ہے ، وہ زمین اور آسمان کے امور میں فیصلہ کن ہے۔ لوگوں کی زندگیوں کے معاملات بھی دراصل اس کائنات ہی کا ایک حصہ ہیں ، لہٰذا لوگوں کی زندگیوں میں قانون خداوندی کا اجراء دراصل لوگوں کی زندگیوں کو اس پوری کائنات کی فطرت کے ساتھ ہم آہنگ کر دے گا۔ اس طرح تمام انسان اس کائنات کے ساتھ ہم آہنگ اور ہم قدم ہو کر چلیں گے۔ جبکہ کائنات میں حکمرانی میں اللہ کا کوئی شریک نہیں ہے۔ لہٰذا انسان کی زندگی میں حکمرانی اس کی ہوگی۔

وہ اللہ جس کے حکم کی طرف لوگوں نے اپنے اختلافات میں رجوع کرنا ہے ، وہ اللہ وہی ذات ہے جو تمہارا خالق ہے۔ تمہارے نفوس کو اسی نے بنایا ہے اور یہ اپنی مخلوق کو اچھی طرح جانتا ہے۔ پھر۔

جعل لکم من انفسکم ازواجاً (42 : 11) پھر تمہاری جنس ہی سے تمہارے لیے جوڑے بنائے ”۔ اس طرح تمہاری زندگی کی بنیاد کی تشکیل ایک خاندان کی صورت میں ہوئی ، لہٰذا وہی جانتا ہے کہ کس طرح یہ زندگی درست ہو سکتی ہے ، اور انسان کی اصلاح کس طرح ہو سکتی ہے ، اللہ وہ ہے جس نے تمہاری تخلیق اس طرح کی جس طرح تمام دوسری زندہ مخلوق کو اس نے بنایا اور ان کے بھی جوڑے بنائے۔

ومن الانعام ازواجاً (42 : 11) “ اور اسی طرح جانوروں میں بھی جوڑے بنائے ”۔ تخلیق میں وحدت نظام اور تسلسل نوع ، یہ ظاہر کرتا ہے کہ خالق ایک ہی ہے۔ تم اور مویشی اسی نظام کے مطابق تکاثر و تناسل کے عمل سے گزرتے ہو۔ جبکہ اللہ کی مثال اپنی مخلوقات میں سے نہیں ہے۔

لیس کمثلہ شیء (42 : 11) “ کائنات کی کوئی چیز اس کے مشابہ نہیں ”۔ انسانی فطرت اس اصول کو تسلیم کرتی ہے کیونہ کوئی چیزیں اگر کسی نے بنائی ہیں تو خالق کسی طرح بھی ان کے ممثال نہیں ہو سکتا۔ لہٰذا انسانوں کو چاہئے کہ وہ اپے اس بےمثال خالق کے احکام ہی کی طرف لوٹیں۔ خصوصاً اس دنیا میں اپنے اختلافات کے معاملے میں۔ اللہ کے سوا کسی اور کی طرف رجوع نہ کریں۔ کیونکہ وہ بےمثال خالق و حاکم ہے۔ لہٰذا ایک مرجع کے سوا کوئی اور مرجع اور جائے فیصلہ نہیں ہو سکتا کیونکہ اللہ جیسا کوئی نہیں ہے۔

باوجود اس کے کہ اللہ سبحانہ تعالیٰ کے مشابہ کوئی شیء اس دنیا میں نہیں ہے لیکن اللہ اور اس کی مخلوقات کے درمیان رابطہ باقی اور قائم ہے۔ وہ دیکھتا ہے اور سنتا ہے اور پھر دیکھنے اور سننے والے کی طرح فیصلے کرتا ہے۔ اور اللہ جس اختلافی معاملے میں فیصلہ کرتا ہے وہ پھر آخری فیصلہ ہوتا ہے۔ وہ اس معنی میں کہ کنجیاں سب کائنات کی اسی کے ہاتھ میں ہیں اور اس وقت سے ہیں جب سے اس نے اس کو پہلی مرتبہ پیدا کیا ہے اور اس کے لئے ایک ناموس فطرت بنا کر اس میں اسے رائج کردیا ہے۔

لہ مقالید السموت والارض (42 : 21) “ آسمان اور زمین کے خزانوں کی کنجیاں اسی کے ہاتھ میں ہیں ”۔ لہٰذا انسانوں کے اختیارات بھی اسی کے ہیں کیونہ انسان بھی اس کائنات کا حصہ ہیں۔ لہٰذا انسانوں کی کنجیاں بھی اسی کے ہاتھ میں ہیں۔

پھر وہ اللہ ہی ہے جو انسانوں کے رزق کی کشادگی اور تنگی کے اختیارات رکھتا ہے ۔ اور یہ رزق ان کو زمین و آسمان کے خزانوں سے دیتا ہے۔

یسبط الرزق لمن یشاء ویقدر (42 : 21) “ جسے چاہتا ہے کھلا رزق دیتا ہے اور جسے چاہتا ہے ، نپا تلا دیتا ہے ”۔ وہ ان کا رازق ہے ، وہ ان کا کفیل ہے ، وہ ان کو کھانا دینے والا ہے ، ان کو پلانے والا ہے لہٰذا وہ غیر اللہ کے متوجہ کیوں ہوتے ہیں کہ وہ ان کے درمیان فیصلے کرے۔ حق تو یہ ہے کہ لوگ فیصلوں کے لئے رازق اور کفیل کی طرف رخ کریں جو رزق اور دوسرے معاملات کی تدبیر کرتا ہے۔

انہ بکل شیء علیم (42 : 21) “ اسے ہر چیز کا علم ہے ”۔ فیصلہ وہی ذات کرسکتی ہے جو علم رکھتی ہے اور اسی کا فیصلہ عادلانہ بھی ہو سکتا ہے۔۔۔۔ یوں اس پوری تقریر کے معانی نہایت ہی دقیق و لطیف انداز میں باہم مربوط اور متناسب ہیں تا کہ وہ انسانی قلب و عقل پر اثر انداز ہوں اور عقل و خرد کی تاروں پر ایسی چوٹ لگائیں کہ ان سے نہایت ہی گہرا ، موزوں اور خوش آواز زمزمہ پیدا ہو

اب پھر وحی الٰہی کی طرف :

483