اس صفحہ میں سورہ Az-Zumar کی تمام آیات کے علاوہ فی ظلال القرآن (سید ابراہیم قطب) کی تمام آیات کی تفسیر بھی شامل ہے۔ پہلے حصے میں آپ سورہ الزمر کو صفحات میں ترتیب سے پڑھ سکتے ہیں جیسا کہ یہ قرآن میں موجود ہے۔ کسی آیت کی تفسیر پڑھنے کے لیے اس کے نمبر پر کلک کریں۔


درس نمبر 215 تشریح آیات
﷽
آیت نمبر 1 تا 3
سورت کا آغاز اس فیصلہ کن قرار داد سے ہوتا ہے۔
تنزیل الکتب من اللہ العزیز الحکیم (39: 1) ” اس کتاب کا نزول اللہ زبردست اور دانا کی طرف سے ہے “۔ وہ زبردست ہے اور وہ اس قسم کی کتاب کے نزول پر قدرت رکھتا ہے۔ اور وہ حکیم ودانا ہے اور وہ جانتا ہے کہ نزول قرآن کس بارے میں ہے اور یہ حکیم کیوں ہے۔ یہ تمام کام اللہ نہایت حکمت اور تدبر اور تقدیر سے کرتا ہے۔
اس قرار داد پر بات طویل نہیں ہوتی کیونکہ یہ تو تمید تھی ، اصل بات کے لیے اور اصل موضوع کے لیے یہ پوری سورت وقف ہے۔ سورت کا نزول ہی اس موضوع کا ثبوت اور تاکید ہے۔ یعنی مسئلہ توحید ، اللہ کی بندگی میں توحید اور اسلامی نظام زندگی میں توحید۔ اور عقیدے ، بندگی اور نظام زندگی کو ہر پہلو سے شرک سے پاک کرنا۔ اور پھر اللہ تک رسائی کے لیے واسطوں کو ختم کرکے براہ راست اس کو پکارنا بغیر کسی سفارش کے۔
انآ انزلنآ الیک الکتٰب بالحق (39: 2) ” اے نبی ﷺ یہ کتاب ہم نے تمہاری طرف برحق نازل کی ہے “۔ اور جس سچائی پر نازل کی گئی ہے۔ وہ ہمہ جہت وحدانیت ہے ، جس کے اوپر یہ کائنات قائم ہے۔ اس سورت کی پانچویں آیت میں ہے :
خلق السٰمٰوت والارض بالحق (39: 5) ” آسمانوں اور زمین کو اس نے برحق پیدا کیا ہے “۔ لہٰذا جس حق اور سچائی پر سماوات
کا قیام ہے ، وہی سچائی اس کتاب کا موضوع ہے۔ اس کتاب کا تصور توحید اور اس کائنات کی تخلیق کی وحدت ایک ہی ہیں۔ جس طرح یہ کائنات اللہ واحد کی تخلیق اور مصنوع ہے اور جس طرح یہ انسان اللہ کی تخلیق اور اس کے امر پر قائم ہے ، اسی طرح یہ کتاب بھی اللہ کے امر پر قائم ہے۔ لہٰذا منطقی نتیجہ یہ ہے :
فاعبداللہ مخلصاله الدین (39: 2) ” لہذا تم اللہ ہی کی بندگی کرو ، دین کو اسی کے لیے خالص کرتے ہوئے “۔
خطاب رسول اللہ ﷺ کو ہے جن کی طرف یہ کتاب برحق نازل کی گئی۔ اور یہ کتاب رسول کا پیش کردہ منہاج حیات ہے جس کی طرف آپ تمام انسانوں کو دعوت دیتے ہیں۔ جو اس عقیدے پر قائم ہے کہ اللہ ایک ہے ، اسی کی بندگی کرنی ہے ۔ نظام زندگی صرف اسی سے اخذ کرنا ہے اور پوری زندگی کو اس عقیدۂ توحید پر قائم کرنا ہے۔
اللہ کو ایک الٰہ سمجھنا اور دین اس کے لیے خالص کرنا محض چند کلمات کا نام نہیں ہے جو زبان سے ادا کردیئے جائیں۔ یہ دراصل زندگی کا پورا نظام ہے جو انسان کے دل و دماغ سے عقیدۂ توحید کے ساتھ شروع ہوتا ہے اور ایک اسلامی سوسائٹی میں مکمل نظام زندگی کے قیام پر ختم ہوتا ہے۔
وہ دل جو اللہ وحدہ کو الٰہ سمجھتا ہے ' جو صرف اللہ کی بندگی کرتا ہے ، وہ اپنا سر کسی کے آگے نہیں جھکاتا۔ وہ نہ تو غیر اللہ سے کوئی چیز طلب کرتا ہے ، نہ غیر اللہ پر اعتماد کرتا ہے۔ ایسے شخص کے نزدیک صرف اللہ ہی قوی ہے اور صرف اللہ اس پوری کائنات پر غالب ہے۔ سب پر غالب ہے۔ سب کے سب ضعیف اور کمزور ہیں اور وہ کسی کے لیے کوئی نفع ونقصان کا اختیار نہیں رکھتے۔ لہٰذا کسی انسان کو کسی انسان کے سامنے سر نہیں جھکانا چاہیے۔ کیونکہ یہ انسان سب کے سب اسی کی طرح ہیں اور خود اپنے نفع ونقصان کے مختار بھی بنیں ۔ اللہ وحدہ ہی دینے والا اور روکنے والا ہے۔ لہٰذا اللہ کو اس سلسلے میں کسی وسیلے اور واسطے کی ضرورت نہیں۔ تمام مخلوق اس کی محتاج ہے اور وہ غنی ہے۔
پھر جو دل عقیدۂ توحید سے لبریز ہے وہ اس بات پر بھی ایمان لاتا ہے کہ اس کائنات کے ایک ہی قانون قدرت اور ناموس فطرت کنڑول کرتا ہے۔ لہذا اس کا یہ ایمان ہوتا ہے کہ جو نظام زندگی اللہ نے انسانوں کے لیے تجویز کیا ہے ، یہ بھی انہی قوانین قدرت کا حصہ ہے۔ جو اس کائنات کے لیے وضع ہوئے ہیں۔ لہذا یہ انسان اس دنیا کے ساتھ ہم آہنگی کی زندگی نہیں بسر کرسکتا الایہ کہ وہ اسلامی نظام زندگی کو اپنالے۔ لہٰذا وہ وہی احکام و انتظام اختیار کرتا ہے جو اللہ چاہتا ہے یعنی وہ اللہ ہی کی شریعت کی اطاعت کرتا ہے جو اس نظام کائنات اور انسان کے وجود کے نظام کے ساتھ موافق ہے۔
پھر جو دل کو وحدہ لاشریک سمجھتا ہے ، وہ اپنے اور اس اللہ کی پیدا کردہ تمام کائنات کے درمیان ایک قربت اور تعلق محسوس کرتا ہے۔ اس کائنات کی زندہ چیزیں ہوں یا مردہ ۔ لہٰذا اس کی زندگی ایک ایسے ماحول کے اندر بسر ہوتی ہے جو اس کا دوست ، ہمد ومعاون اور اس کے ساتھ ہمقدم اور محبت کرنے والا ہوتا ہے۔ وہ اپنے ماحول میں اللہ کے دست قدرت کی کارستانیاں محسوس کرتا ہے۔ لہٰذا وہ اس ماحول میں اللہ اور اس کی مخلوقات کے ساتھ مانوس ہوکر رہتا ہے۔ اس کے ساتھ اللہ کی مخلوق ہوتی ہے۔ اس کی آنکھیں اللہ کی پیدا کردہ عجائبات پر ہوتی ہیں۔ وہ یہاں اس کائنات کی کسی چیز کو ایذا نہیں دیتا۔ وہ اس کائنات کی کسی چیز کو تلف نہیں کرتا امرالہٰی سے۔ کیونکہ اللہ ہی ہر چیز کا خالق ہے۔ وہی زندگی دینے والا ہے۔ وہ سب کا رب ہے اور ہر چیز کا رب ہے۔
اسی طرح انسانی زندگی تصورات اور میلانات میں بھی توحید ظاہر ہوتی ہے۔ انسانی طرزعمل اور اس کی چال ڈھال میں بھی توحید کا اثر ہوتا ہے۔ اور انسانی زندگی اور سوسائٹی کے لیے منہاج اور طریق زندگی میں بھی توحید کا اثر ہوتا ہے۔ اور عقیدۂ توحید محض ایک کلمہ نہیں رہتا جسے زبان سے کہہ دیا جائے ۔ وہ ایک مکمل نظام بن جاتا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ پورے قرآن میں عقیدۂتوحید کو بہت ہی بڑی اہمیت دی گئی ہے۔ ہر جگہ اس پر اصرار و تکرار کیا گیا ہے۔ لہٰذا توحید پر ان زاویوں سے غور کیا جانا چاہئے ۔ اس زاویہ سے توحید ایک فکر ، ایک نظام اجتماعی اور نظام حکومت بن جاتی ہے۔ اور اس پر ہر وقت تدبر کی ضرورت ہے۔ ہر زمانے میں ، ہر خاندان اور سوسائٹی میں اور اسی مفہوم میں اس پر تدبر کی ضرورت ہے۔
الاللہ الدین الخالص (39: 3) ” خبردار دین خالص اللہ کا حق ہے “۔ نہایت ہی اونچی بہایت ہی طویل اور نہایت ہی رعب دار آواز میں۔ گویا اعلان شاہی ہے اور لفظ ” الا “ خبردار ! سے اس کا آغاز ہوتا ہے اور نہایت ہی قصر اور حصر کے الفاظ میں کہ اللہ ہی کا حق ہے زندگی اور خالص اللہ کا حق ہے ۔ جس طرح مفہوم موکد ہے اس طرح الفاظ بھی پرشوکت ہیں۔ یہ اصول حیات ہے۔ پوری زندگی اس پر قائم ہے بلکہ پوری کائنات اس اعلان پر قائم ہے۔ یہی وجہ ہے کہ اس قدر مختصر زور دار اور قصر حصر کے الفاظ میں یہ قانون نافذ ہوتا ہے۔ اور اس کے مقابلے میں اس دور کی جاہلیت کا کلمہ اور نظریہ کیا تھا جسے رد کیا گیا۔
والذین اتخذوا۔۔۔۔ ھوکذب کفار (39: 4) ” رہے وہ لوگ جنہوں نے اس کے سوا دوسرے سرپرست بنارکھے ہیں (کہتے ہیں) ہم ان کی عبادت صرف اس لیے کرتے ہیں کہ وہ اللہ تک ہماری رسائی کرادیں۔ اللہ یقیناً ان کے درمیان ان تمام باتوں کا فیصلہ کردے گا جن میں وہ اختلاف کررہے ہیں۔ اللہ کسی ایسے شخص کو ہدایت نہیں دیتا جو جھوٹا اور منکر حق ہو “۔ وہ اعلان کرتے تھے کہ اللہ ان کا خالق ہے۔ سموات اور زمین کا خالق ہے۔ لیکن پھر وہ فطری استدلال کی راہ پر چلتے تھے کہ اگر وہی خالق ہے تو وہی بندگی کے لائق ہے۔ اور پھر دین اور دستور اور قانون اسی کا چلنا چاہیے۔ یہاں آکر وہ یہ افسانہ گھڑتے تھے کہ فرشتے اللہ کی بیٹیاں ہیں ۔ پھر وہ فرشتوں کے بت بناتے اور ان کو پوجتے ۔ پھر یہ کہتے کہ وہ ملائکہ کے بتوں کی عبادت اس لیے کرتے ہیں ، جن کو وہ الٰہ کہتے تھے۔ لات ، منات اور عزیٰ ، یہ دراصل ان کی عبادت نہیں ہے بلکہ یہ محض اللہ کے قریب ہونے کے لئے ہم ان کے آگے جھکتے ہیں تاکہ یہ فرشتے اللہ کے ہاں ہماری سفارش کریں۔ اور یوں ہم اللہ کے نزدیک ہوجائیں۔
یہ عقیدہ سیدھے فطری انداز فکر سے انحراف ہے اور یہ عقیدہ غلط ہونے کے ساتھ ساتھ پیچیدہ اور ناقابل فہم بھی ہے۔ نہ فرشتے اللہ کی بیٹیاں ہیں اور نہ یہ بت فرشتوں کے بت ہیں۔ نہ اللہ نے اس کی اجازت دی ہے۔ نہ اللہ کسی کی سفارش سنتا ہے اور نہ اللہ اپنے بندے کو اس طریقے پر اپنے قریب لاتا ہے۔
جب بھی انسانیت نے عقیدۂ توحید کو ترک کیا ہے۔ وہ فطرت کے سیدھے انداز فکر اور سیدھے سادے انداز استدلال سے
محروم ہوگئی ہے ، جو اسلام اول روز سے لے کر آیا ہے اور آدم (علیہ السلام) سے لے کر ادھر تمام رسولان محترم نے یہی عقیدۂ توحید پیش کیا ہے۔ ہم دیکھتے ہیں کہ اس وقت پر جگہ نیک لوگوں اور اولیاء کی عبادت اسی طرح کی جاتی ہے جس طرح نبی ﷺ کے دور میں عرب فرشتوں اور فرشتوں کے بتوں کی عبادت بطور تقرب الہٰی اپنے زعم کے مطابق کیا کرتے تھے۔ مقصد اک کی سفارش کا حصول ہوتا تھام لیکن اللہ عقیدۂ توحید ، اور سیدھے راستے کی نشاندہی فرماتا ہے ایسی توحید جس کے ساتھ کوئی التباس ، کوئی سفارشی اور کوئی افسانوی مقربین خدا نہ ہوں۔
ان اللہ لایھدی من ھو کذب کفار (39: 3) ” اللہ کسی ایسے شخص کو ہدایت نہیں دیتا جو جھوٹا اور منکر حق ہو “۔ کیونکہ یہ لوگ اللہ پر جھوٹ بولتے ہیں۔ ایک تو جھوٹ ہے کہ ملائکہ اللہ کی بیٹیاں ہیں ، دوسرا یہ جھوٹ ہے کہ یہ اللہ کے ہاں سفارش کرتے ہیں جبکہ فرشتے ان کی بندگی کی تکذیب کرتے ہیں۔ یہ لوگ دراصل اللہ کے صریح احکام کا کفر کرتے ہیں۔ اس لیے ان لوگوں کو ہدایت نہیں دیتا جو اس پر جھوٹ باندھتے ہیں اور اس کا انکار کرتے ہیں۔ ہدایت تو ان کو ملتی ہے جو مخلص ہوں ، متوجہ ہوں ، برائی سے بچنا چاہتے ہوں اور ان کو نیکی کے کاموں میں دلچسپی بھی ہو اور وہ غور فکر کرکے اپنے لیے صحیح راستے کا انتخاب کرتے ہوں۔ جو لوگ جھوٹ باندھتے ہیں ، اللہ کی آیات کا انکار کرتے ہیں تو وہ اللہ کی ہدایت اور مہربانیوں کے مستحق نہیں ہوتے اسلیے کہ ایسے لوگ جان بوجھ کر صحیح راستے سے دوسری اختیار کرتے ہیں۔ اسکے بعد اس شرکیہ تصور خدا کی کمزوری اور پوچ ہونے کو ظاہر کیا جاتا ہے۔
آیت نمبر 4
یہ ایک استدلالی مفروضہ ہے۔ مقصد یہ ہے کہ اگر اللہ کسی کو اپنا شریک بناتا تو اپنی مخلوق میں سے کسی کو شریک کر کے اس کا اعلان کردیتا ۔ اس کا ارادہ تو بےقید ہے ، لیکن اللہ کی ذات ان سے پاک ہے۔ اس لیے اللہ کی طرف نہ بیٹے کی نسبت ہوسکتی ہے ، نہ اللہ کسی کا بیٹا ہے۔ یہ اللہ کی مشیت و ارادہ اور اس کی تقدیر ہے۔ ان چیزوں سے اللہ پاک ہے۔
سبحنه ھو اللہ الواحد القھار (39: 4) ” پاک ہے وہ اس سے ، وہ اللہ ہے اکیلا اور سب پر غالب “۔ اللہ اپنے لیے کسی کو بیٹا کب بناتا ہے۔ وہ تو ہر چیز کا پیدا کرنے والا ہے۔ ہر چیز کا خالق ہے۔ ہر چیز کا مدبر ہے۔ ہر چیز اور ہر انسان اس کی ملکیت میں ہے اور وہ جس طرح چاہتا ہے ، تصرف کرتا ہے۔
آیت نمبر 5
آسمان و زمین کی بادشاہت پر یہ ایک سرسری نظر ، لیل ونہار کے نظام اور شمس وقمر کے نظام اور اسے زبردست طریقے
سے مسخر کرنے کے نظارے پر ایک نگاہ ، اس بات کو ثابت کردیتی ہے کہ اللہ کے سوا کوئی اور الٰہ نہیں ہے۔ یہ نظام فطرت دل کے اندر یہ بات اتار دیتا ہے کہ نہ اللہ کا کوئی شریک ہے اور نہ اس کا کوئی بیٹا ہے۔
زمین و آسمان کی تخلیق میں اللہ کی وحدانیت کے دلائل بالکل ظاہر ہیں اور ان قوانین میں بھی وحدت الہٰی کے نشانات ظاہر ہیں جو ان کو کنڑول کررہے ہیں۔ اس پوری کائنات پر ایک سرسری نظر ہی اس بات کو ظاہر کردیتی ہے کہ بیشمار دلائل موجود ہیں۔ آج تک انسانوں نے جو سائنسی انکشافات کیے ہیں۔ ان میں وحدت الوہیت کے لیے بیشمار دلائل موجود ہیں۔ یہ بات انسانوں پر ثابت ہوگئی ہے کہ یہ کائنات جس تک انسان نے رسائی حاصل کرلی ہے ، یہ ایسے ذرات سے بنی ہوئی ہے جن کی حقیقت اور ماہیت ایک ہے اور ان ذرات میں سے ہر ایک ذرہ ایسی شعاعوں سے مرکب ہے ، جن کی حقیقت ایک ہے۔ اور یہ بات بھی معلوم ہوچکی ہے کہ ان ذرات سے جو اجرام فلکی بنے ہیں خواہ وہ ایسے ہوں جس میں ہم رہتے یا دوسرے سیارے اور ستارے ہوں۔ یہ سب کے سب مکمل حرکت میں ہیں اور اس حرکت کا ایک مخصوص جاری قانون ہے جس سے کوئی ستارہ بھی ہٹ نہیں سکتا ۔ چھوٹے ذرات اور ستاروں میں بھی وہی حرکت ہے اور اس دنیا کے عظیم ترین ذرات میں بھی وہی حرکت ہے۔ پھر مطالعہ کائنات سے یہ بھی معلوم ہوتا ہے کہ اس حرکت کا ایک نظام ہے۔ یہ نظام وہ حقیقت ہے جو اس بات کا ثبوت فراہم کرتی ہے کہ اس پوری کائنات کا خالق و مدبر ایک ہے۔ سائنس دان ہر روز جس نئی حقیقت کی دریافت کرتے ہٰں اس سے یہ بات معلوم ہوتی ہے کہ اس کائنات کے منصوبے میں جو کچھ رکھا ہوا ہے وہ اللہ وحدہ کی ذات پر شاہد عادل ہے اور ایک سچائی ہے اور یہ لوگوں کی خواہشات کے مطابق نہیں بدلتی۔ اور نہ کسی شخص کے سیلانات کے مطابق کسی طرف مائل ہوتی ہے۔ نہ اپنی راہ ایک سکینڈ کے لیے چھوڑتی ہے اور نہ بےراہ روی اختیار کرتی ہے۔
خلق السمٰوٰت والارض بالحق (39: 5) ” اس نے آسمانوں اور زمین کو برحق پیدا کیا “۔ اور کتاب بھی اس نے برحق نازل فرمائی۔ لہٰذا اس کائنات میں بھی حق ہے اور اس کتاب میں بھی حق ہے اور یہ ایک ہی دونوں حق اور سچائی ہے جو اس کائنات میں بھی ہے اور اس کتاب میں بھی ہے اور دونوں کا منبع ومصدر ایک ہی ہے۔ اور دونوں اس بات کی نشانی ہیں کہ اس کائنات کا پیدا کرنے والا ایک ہی ہے۔
یکورالیل۔۔۔ علی الیل (39: 5) ” وہی ہے جو دن پر رات کو اور رات پر دن کو لپیٹتا ہے “۔ یہ انداز تعبیر ایسا ہے کہ انسان کا دامن کھینچ کر ان جدید انکشافات کی طرف اس کی توجہ مبذول کراتا ہے جن کے مطابق زمین کا گول ہونا ثابت ہوا ہے۔ باوجود اس خواہش کے کہ میں قرآن مجید کی تفسیر میں جدید سائنسی انکشافات سے دامن بچاؤں۔ کیونکہ انسانی نظریات کبھی درست ہوتے ہیں کبھی غلط ۔ آج ثابت ہوتے اور کل باطل ہوجاتے ہیں جبکہ قرآن حق ہے اور اپنی سچائی پر وہ خود دلیل ہے۔ ” آفتاب آمد دلیل آفتاب “ قرآن اپنی سچائی کا ثبوت اپنے موافق یا مخالف سے مانگتا ہی نہیں ۔ نہ ان انکشافات سے جو یہ ضیعف انسان فراہم کرتا ہے۔ لیکن اپنے اس رویے کے باوجود یہ انداز تعبیر مجھے مجبور کررہا ہے کہ زمین کی گردش محوری اور اس کی کروی ساخت پر غور کروں اس لیے کہ ایک ظاہری منظر اس تعبیر سے صاف صاف نظر آتا ہے اور اس کا انکار ممکن نہیں۔ زمین گول ہے اور گردش محوری کے ساتھ سورج کے سامنے ہے۔ اس لیے اس کا جو حصہ دوسوج کے سامنے ہے وہ روشن ہے اور دن ہے لیکن یہ حصہ ایک جگہ کھڑا نہیں رہتا۔ جو نہی یہ حصہ حرکت کرکے آگے بڑھتا ہے۔ اندھیرا زمین کے اس حصے کو ڈھانپتا جاتا ہے۔ اور اسے لپیٹتا جاتا ہے۔ لہٰذا یہ دن والا حصہ لپیٹتا جارہا ہے اور رات اسے لپیٹتی جاتی ہے۔ دوسری جانب سے جہاں رات لپٹی ہوئی ہے وہ بھی اگے بڑھتی اور روشنی رات والے حصے کو لپٹتی ہے اور اس میں دن آتا جاتا ہے۔ یوں ایک طرف سے دن کو رات کور (Cover) کرتی ہے اور دوسری طرف سے رات دن کو کور کرتی جاتی ہے اور یہ حرکت جاری ہے۔
یکور الیل علی النھار ویکور النھار علی الیل (39: 5) یہ الفاظ صورت حال کا خوب نقشہ کھینچتے ہیں اور صورت حال کا صحیح نقشہ ذہین میں آجاتا ہے۔ اس طرح زمین کی حرکت کی نوعیت کا اظہار بھی ہوجاتا ہے۔ زمین کا گول ہونا بھی ثابت ہوتا ہے۔ اس کا دورہ بھی ثابت ہوتا ہے۔ اس انداز بیان کی یہ بہترین تفسیر ہے ، اس کے سوا کوئی دوسری تفسیر اس سے زیادہ گہری نہیں ہوسکتی۔
وسخر الشمس والقمر کل یجزی لاجل مسمی (39: 5) ” اس نے سورج اور چاند کو اس طرح مسخر کررکھا ہے کہ ایک ایک وقت مقرر تک چلے جارہا ہے “۔ سورج اپنے مدار پر چل رہا ہے اور چاند اپنے مدار پر چل رہا ہے۔ اور دونوں حکم الہٰی سے مسخر ہیں۔ اور کسی کا یہ دعویٰ نہیں ہے کہ وہ ان کو چلا رہا ہے اور فطری استدلال اس بات کو تسلیم نہیں کرتا کہ بغیر کسی محرک کے یہ حرکت ہورہی ہے اور ازخود یہ نہایت ہی پیچیدہ نظام اس باقاعدگی سے چل رہا ہے کہ کئی ملین سال گزرنے کے بعد ہمیں اس حرکت میں بال برابر کمی نظر نہیں آتی۔ اور یہ شمس وقمر اسی طرح جاری رہیں گے اور ایک وقت تک جاری رہیں گے۔ یعنی قیامت تک اور اس کا علم اللہ کے سوا کسی کو نہیں ہے۔ جب حکم ہوگا یہ رک جائیں گے۔
اناھو العزیز الغفار (39: 5) ” جان رکھو وہ زبردست ہے اور درگزر کرنے والا ہے “۔ لہٰذا قوت قدرت اور غلبے کی وجہ سے وہ کائنات کو سنبھالتا ہے اور اس قوت کے ساتھ ساتھ وہ غفار بھی ہے۔ جو لوگ اس کی طرف مڑ جاتے ہیں ان کی کوتاہیوں کو بخش دیتا ہے حالانکہ انہوں نے تکذیب اور شرک جیسے بڑے جرائم کیے تھے۔ اور وہ اللہ کے ساتھ الٰہ بناتے تھے۔ اور پھر اللہ کے لیے اولاد مقرر کرتے ہیں اور دوسرے جرائم کرتے ہیں لیکن توبہ کا دروازہ کھلا ہے اور اس سے داخل ہونے کے لیے راہ واگزار ہے اور اللہ عزیز و غفار ہے۔
اس عظیم کائنات کے مطالعے کے لیے اس سرسری نظر کے بعد اب روئے سخن ذرا پھرجاتا ہے۔ انسان کے نہایت ہی چھوٹے نفس کی طرف جو اپنے اند ایک عظیم جہان رکھتا ہے۔ صرف اس پہلو کی طرف متوجہ کیا جاتا ہے کہ ذرا ” زندگی “ اور ” حیات “ پر غور کرو۔