اس صفحہ میں سورہ An-Najm کی تمام آیات کے علاوہ تفسیر بیان القرآن (ڈاکٹر اسرار احمد) کی تمام آیات کی تفسیر بھی شامل ہے۔ پہلے حصے میں آپ سورہ النجم کو صفحات میں ترتیب سے پڑھ سکتے ہیں جیسا کہ یہ قرآن میں موجود ہے۔ کسی آیت کی تفسیر پڑھنے کے لیے اس کے نمبر پر کلک کریں۔


آیت 1{ وَالنَّجْمِ اِذَا ہَوٰی۔ } ”قسم ہے ستارے کی جبکہ وہ گرتا ہے۔“ ھَوٰی یَھْوِیْ ھَوِیًّا کا اصل معنی ہے اوپر سے نیچے گرنا۔ یہاں اس سے ستاروں کا افق سے غائب ہونا ‘ ڈوب جانا یا فنا ہوجانا مراد ہوسکتا ہے۔ اس پر قدرے تفصیلی بحث سورة الواقعہ میں ”مَوَاقِعِ النُّجُوْم“ کے ضمن میں آئے گی۔ الْھَوِیَّۃ گہرے کنویں کو اور ھَاوِیَۃ دوزخ کو کہا جاتا ہے۔ جبکہ اسی مادہ سے ھَوِیَ یَھْوٰی ھَوًی کا معنی ہے خواہش کرنا۔ یہ لفظ الھَوٰی آگے آیت 3 میں آ رہا ہے۔
آیت 2 { مَا ضَلَّ صَاحِبُکُمْ وَمَا غَوٰی۔ } ”اے لوگو ! تمہارے یہ ساتھی نہ تو بھٹکے ہیں اور نہ ہی بہکے ہیں۔“ قرآن حکیم میں قسم بالعموم شہادت کے لیے آتی ہے۔ یہاں ستاروں کے غروب یا سقوط کی قسم کھا کر قریش کو مخاطب کر کے بتایا جا رہا ہے کہ تمہارے یہ ساتھی محمد ٌرسول اللہ ﷺ نہ تو غلط فہمی کی بنا پر راستہ سے بہکے ہیں اور نہ اپنے قصد و اختیار سے جان بوجھ کر غلط راستے پر چلے ہیں۔
آیت 3 { وَمَا یَنْطِقُ عَنِ الْہَوٰی۔ } ”اور یہ جو کچھ کہہ رہے ہیں اپنی خواہش نفس سے نہیں کہہ رہے ہیں۔“
آیت 4 { اِنْ ہُوَ اِلَّا وَحْیٌ یُّوْحٰی۔ } ”یہ تو صرف وحی ہے جو ان کی طرف کی جاتی ہے۔“ اگلی آیات میں حضرت جبرائیل علیہ السلام کا ذکر ہے جنہوں نے نبی مکرم ﷺ کو اس کلام کی تعلیم دی۔ یہ مضمون دوسری مرتبہ 30 ویں پارے کی سورة التَّکوِیر میں آیا ہے۔ دونوں عبارتوں میں ایک خوبصورت مماثلت یہ ہے کہ وہاں بھی حضور ﷺ کا ذکر صَاحِبُـکُمْ کے لفظ سے کیا گیا ہے :{ وَمَا صَاحِبُکُمْ بِمَجْنُوْنٍ۔ وَلَقَدْ رَاٰہُ بِالْاُفُقِ الْمُبِیْنِ۔ وَمَا ہُوَ عَلَی الْغَیْبِ بِضَنِیْنٍ۔ وَمَا ہُوَ بِقَوْلِ شَیْطٰنٍ رَّجِیْمٍ۔ } التکویر”اور مکے والو تمہارے یہ رفیق دیوانے نہیں ہیں۔ بیشک انہوں نے اس جبرائیل کو کھلے افق پر دیکھا ہے۔ اور وہ غیب کے معاملے میں بخیل نہیں ہیں۔ اور یہ ہرگز کسی شیطان رجیم کا قول نہیں ہے۔“ حضرت جبرائیل علیہ السلام جب وحی لے کر آتے تو وہ حضور ﷺ کو نظر نہیں آتے تھے اور نہ ہی وحی کو آپ ﷺ اپنے کانوں سے سن سکتے تھے۔ فرشتے اور وحی دونوں کا تعلق چونکہ عالم امر سے ہے اس لیے ان کا نزول بھی آپ ﷺ کی شخصیت کے اس حصے پر ہوتا تھا جو عالم امر سے متعلق تھا ‘ یعنی آپ ﷺ کی روح مبارک۔ یا دوسرے لفظوں میں یوں سمجھیں کہ انسانی روح کا مسکن چونکہ قلب انسانی ہے اس لیے وحی کا نزول براہ راست حضور ﷺ کے قلب مبارک پر ہوتا تھا : ؎ نغمہ وہی ہے نغمہ کہ جس کو رُوح سنے اور روح سنائے ! تاہم حضرت جبرائیل علیہ السلام کا حضور ﷺ کے پاس انسانی شکل میں آنا بھی ثابت ہے۔ روایات میں یہ وضاحت بھی ملتی ہے کہ حضرت جبرائیل علیہ السلام جب انسانی شکل میں آپ ﷺ کے پاس آتے تو عموماً خوبصورت نوجوان صحابی حضرت دحیہ کلبی رض کی شکل میں آتے جو بہت عظیم انسان تھے۔ اس حوالے سے ایک اہم نکتہ یہ بھی ہے کہ انسانی شکل میں حضرت جبرائیل علیہ السلام کی حضور ﷺ سے جو گفتگو ہوتی وہ ”وحی متلو“ یعنی قرآن میں شامل نہیں ہے۔ مثلاً ”حدیث جبریل علیہ السلام“ میں حضرت جبرائیل علیہ السلام کے ساتھ حضور ﷺ کے مکالمے کی تفصیل درج ہے۔ اس موقع پر حضرت جبرائیل علیہ السلام انسانی شکل میں حضور ﷺ کے پاس آئے اور آپ ﷺ سے دین کے بارے میں چند بنیادی سوالات پوچھے۔ آپ ﷺ نے ان سوالات کے جوابات دیے۔ ان کے چلے جانے کے بعد آپ ﷺ نے صحابہ کرام کو بتایا کہ یہ جبرائیل علیہ السلام تھے جو تم لوگوں کو تمہارا دین سکھانے کے لیے آئے تھے۔ اس حدیث کا مضمون اس قدر اہم ہے کہ محدثین نے اسے ”اُمُّ السُّنَّہ“ قرار دیا ہے ‘ لیکن اس حدیث کے مندرجات قرآن میں شامل نہیں۔ البتہ حضور ﷺ نے حضرت جبرائیل علیہ السلام کو دو مرتبہ ان کی اصلی شکل میں بھی دیکھا ہے۔ پہلی مرتبہ تو آپ ﷺ نے انہیں آغاز نبوت کے زمانے میں دیکھا تھا۔ یہ واقعہ ”فترتِ وحی“ کے دنوں میں پیش آیا۔ پہلی وحی کے بعد وحی کا سلسلہ کچھ عرصہ کے لیے منقطع رہا ‘ اس وقفے کو ”فترتِ وحی“ کہا جاتا ہے۔ ایک دن آپ ﷺ غارِ حرا سے اتر رہے تھے تو آپ ﷺ نے ایک آواز سنی ”یامحمد !“ آپ ﷺ نے ادھر ادھر دیکھا تو کوئی بھی نہیں تھا۔ آپ ﷺ نے سمجھا کہ شاید مجھے دھوکہ ہوا ہے ‘ لیکن دوسرے ہی لمحے وہی آواز پھر سنائی دی۔ اس مرتبہ بھی آپ ﷺ کو جب کوئی انسان دکھائی نہ دیا تو آپ ﷺ کو کچھ خوف محسوس ہوا۔ تیسری مرتبہ جب آپ ﷺ نے پھر وہی آواز سنی تو آپ ﷺ نے آسمان کی طرف دیکھا۔ اوپر دیکھنے سے آپ ﷺ کو حضرت جبرائیل علیہ السلام اپنی اصلی ملکوتی شکل میں اس طرح نظر آئے کہ پورا افق بھرا ہوا تھا۔ دوسری مرتبہ آپ ﷺ نے حضرت جبرائیل علیہ السلام کو معراج کے موقع پر سدرۃ المنتہیٰ کے قریب دیکھا۔ آئندہ آیات میں اسی مشاہدے کا ذکر ہے۔ حضرت جبرائیل علیہ السلام جب حضور ﷺ کو سفر معراج پر لے جانے کے لیے آئے تو وہ انسانی شکل میں تھے اور آپ علیہ السلام کے لیے جو سواری براق وہ لے کر آئے تھے وہ بھی کوئی محسوس و مرئی قسم کی مخلوق تھی۔ لیکن جب آپ ﷺ ساتویں آسمان پر سدرۃ المنتہیٰ کے پاس پہنچے تو وہاں حضرت جبرائیل علیہ السلام اصل ملکوتی شکل میں ظاہر ہوئے۔ اس مقام پر انہوں نے آگے جانے سے معذرت کرتے ہوئے کہا کہ اگر میں یہاں سے آگے بڑھوں گا تو میرے َپر جل جائیں گے : ؎اگر یک سر ِموئے برتر قدم فروغِ تجلی بسوزد پرم اس مضمون کے حوالے سے یہاں سمجھنے کا اصل نکتہ یہ ہے کہ حضرت جبرائیل علیہ السلام کی اصل ملکوتی شکل میں حضور ﷺ سے ملاقات کرانے اور پھر اس ملاقات کا قرآن مجید میں ذکر کرنے کا مقصد نزول وحی کے سلسلے کے درمیانی رابطے link کی سند فراہم کرنا ہے۔ اس نکتہ لطیف کو ”اصولِ حدیث“ کے حوالے سے سمجھنا چاہیے۔ محدثین نے احادیث کی صحت authenticity کی تحقیق کے لیے جو اصول وضع کیے ہیں ان میں ایک بنیادی اصول یہ بھی ہے کہ جس شخص کی کسی دوسری شخصیت سے روایت منقول ہے اس کی اس شخصیت سے شعور کی عمر اور شعور کی کیفیت میں ملاقات بھی ثابت ہونا ضروری ہے۔ اگر ایسی ملاقات ثابت نہ ہو سکے تو متعلقہ راوی کی روایت قابل قبول نہیں سمجھی جاتی۔ مثلاً اگر ایک تابعی رح رح کی کسی صحابی رض سے کوئی روایت منقول ہے مگر حقائق ثابت کرتے ہیں کہ جب وہ صحابی رض فوت ہوئے تو متعلقہ تابعی کی عمر صرف چھ سال تھی ‘ یعنی اس وقت ان کی عمر ایسی نہ تھی کہ وہ بات کو سمجھ کر کسی دوسرے کو بتاسکتے ‘ تو ایسی صورت میں متعلقہ تابعی کی وہ روایت محدثین کے لیے قابل قبول نہیں ہوگی۔ چناچہ حدیث رسول ﷺ کی صحت authenticity کے لیے اگر متعلقہ راویوں کی ملاقات کا ثابت ہونا ضروری ہے تو ایسا ہی ثبوت اللہ تعالیٰ کی حدیث اللہ تعالیٰ نے قرآن کو سورة الزمر کی آیت 23 میں اَحْسَنَ الْحَدِیْثِ قراردیا ہے کی روایت کے حوالے سے بھی دستیاب ہونا چاہیے۔ -۔ چناچہ قرآن مجید کی روایت کی تصدیق و توثیق یوں ہوگی : قرآن کیا ہے ؟ یہ اللہ کا کلام ہے۔ اللہ سے اس کا کلام کس نے سنا ؟ جبرائیل علیہ السلام نے سنا۔ جبرائیل علیہ السلام سے کس نے سنا ؟ جبرائیل علیہ السلام سے محمد ﷺ نے سنا۔ تو کیا جبرائیل علیہ السلام اور محمد ﷺ کی ملاقات ثابت ہے ؟ جی ہاں ! ان کے درمیان دو مرتبہ کی ملاقات قرآن سے ثابت ہے۔ -۔ چناچہ وحی کی ”روایت“ کا درمیانی رابطہ link ثابت کرنے کے لیے حضور ﷺ کی حضرت جبرائیل علیہ السلام سے اصل ملکوتی شکل میں ملاقات کی ”سند“ انتہائی اہم ہے جو یہ آیات فراہم کر رہی ہیں۔
آیت 5{ عَلَّمَہٗ شَدِیْدُ الْقُوٰی۔ } ”انہیں سکھایا ہے اس نے جو زبردست قوت والا ہے۔“ ”شَدِیْدُ الْقُوٰی“ سے یہاں حضرت جبرائیل علیہ السلام مراد ہیں ‘ یعنی محمد رسول اللہ ﷺ کو یہ قرآن جبرائیل علیہ السلام نے سکھایا ہے جو زبردست قوت والا ہے۔
آیت 6{ ذُوْ مِرَّۃٍط فَاسْتَوٰی۔ } ”جو بڑا زور آور ہے۔ وہ سیدھا ہوا۔“
آیت 7{ وَہُوَ بِالْاُفُقِ الْاَعْلٰی۔ } ”اور وہ افق اعلیٰ پر تھا۔“ یعنی حضور ﷺ نے حضرت جبرائیل علیہ السلام کو افق پر اپنی اصلی شکل میں دیکھا۔
آیت 8{ ثُمَّ دَنَا فَتَدَلّٰی۔ } ”پھر وہ قریب آیا اور جھک پڑا۔“
آیت 9{ فَکَانَ قَابَ قَوْسَیْنِ اَوْ اَدْنٰی۔ } ”بس دو کمانوں کے برابر فاصلہ رہ گیا یا اس سے بھی قریب۔“
آیت 10{ فَاَوْحٰٓی اِلٰی عَبْدِہٖ مَآ اَوْحٰی۔ } ”پھر اس نے وحی کی اللہ کے بندے کی طرف جو وحی کی۔“ ”اَوْحٰی“ کا فاعل اللہ تعالیٰ بھی ہوسکتا ہے۔ اس صورت میں ترجمہ یوں ہوگا : ”پس اللہ نے وحی کی اپنے بندے کی طرف جو وحی کی۔“ جس وحی کا یہ ذکر ہے وہ ”وحی رسالت“ تھی ‘ جبکہ پہلی وحی جو سورة العلق کی ابتدائی آیات پر مشتمل تھی ”وحی نبوت“ تھی۔ اس وحی سے حضور ﷺ کی نبوت کا ظہور ہوا : { اِقْرَاْ بِاسْمِ رَبِّکَ الَّذِیْ خَلَقَ۔ خَلَقَ الْاِنْسَانَ مِنْ عَلَقٍ۔ اِقْرَاْ وَرَبُّکَ الْاَکْرَمُ۔ الَّذِیْ عَلَّمَ بِالْقَلَمِ۔ عَلَّمَ الْاِنْسَانَ مَا لَمْ یَعْلَمْ۔ } ان پانچ آیات میں نہ تو آپ ﷺ کو کوئی حکم دیا گیا تھا اور نہ ہی کوئی ذمہ داری سونپی گئی تھی۔ اس کے بعد کئی ماہ تک کوئی وحی نہیں آئی۔ اس عارضی وقفے کو ”فترتِ وحی“ کا دور کہا جاتا ہے۔ پھر ایک دن جب آپ ﷺ غارِ حرا سے واپس آ رہے تھے تو وہ واقعہ پیش آیا جس کا ذکر آیات زیر مطالعہ میں ہو رہا ہے۔ یعنی آپ ﷺ نے حضرت جبرائیل علیہ السلام کو ان کی اصل ملکی شکل میں افق پر دیکھا۔ اس منظر سے آپ ﷺ خوفزدہ ہوگئے اور اسی گھبراہٹ کی حالت میں آپ ﷺ گھر پہنچے۔ گھر پہنچتے ہی آپ ﷺ نے حضرت خدیجہ رض کو کمبل اوڑھانے کا فرمایا۔ اس کیفیت میں جب آپ ﷺ کمبل اوڑھے لیٹے تھے تو یہ وحی نازل ہوئی ‘ جس میں آپ ﷺ کو رسالت کی ذمہ داری سونپ دی گئی : { یٰٓــاَیُّھَا الْمُدَّثِّرُ۔ قُمْ فَاَنْذِرْ۔ وَرَبَّکَ فَکَبِّرْ۔ } المدثر ”اے کمبل میں لپٹ کر لیٹنے والے ! اب کھڑے ہو جائو اور لوگوں کو خبردار کرو۔ اور اپنے رب کی بڑائی کا اعلان کرو !“ یعنی آپ ﷺ کی اس دعوت کا نقطہ آغاز تو ”انذار“ ہے مگر دنیا میں اس کا ہدف ”تکبیر رب“ ہے۔ پس آپ ﷺ اپنے رب کی بڑائی بیان کریں ‘ اس کی بڑائی منوائیں اور اس کی بڑائی کو نافذ کریں۔
آیت 1 1{ مَا کَذَبَ الْفُؤَادُ مَا رَاٰی۔ } ”جو کچھ انہوں نے دیکھا ‘ ان کے دل و دماغ نے اسے جھٹلایا نہیں۔“ یعنی دل میں کسی قسم کا شک پیدا نہیں ہوا۔ یہ خیال نہیں آیا کہ یہ وہم ہوسکتا ہے یا خواب ہوسکتا ہے۔ جیسا کہ اکثر ہوتا ہے ‘ انسان جب کوئی غیر معمولی واقعہ یا انوکھامنظر دیکھتا ہے تو ایک لمحے کے لیے سوچ میں پڑجاتا ہے کہ ع ”آنچہ می بینم بیداریست یارب یا بخواب !“ اے اللہ ! یہ جو میں دیکھ رہا ہوں یہ بیداری میں دیکھ رہا ہوں یا خواب میں ! لیکن اس واقعہ کے بارے میں حضور ﷺ کا معاملہ ایسا نہیں تھا۔ آپ ﷺ کی آنکھوں نے جو دیکھا آپ ﷺ کے دل نے اسے تسلیم کیا اور اس کی تصدیق کی۔ گویا اس انتہائی غیر معمولی واقعہ کے بارے میں آپ ﷺ کے دل اور آپ ﷺ کی نگاہوں کے درمیان کوئی تضاد و اختلاف نہیں تھا۔
آیت 12{ اَفَتُمٰرُوْنَہٗ عَلٰی مَا یَرٰی۔ } ”تو کیا تم اس سے جھگڑتے ہو اس چیز پر جسے وہ دیکھتا ہے !“ اس بارے میں جو تفصیل محمد ﷺ بیان کر رہے ہیں تم لوگ اس میں شکوک و شبہات کا اظہار کر رہے ہو۔ لیکن وہ تو یہ سب کچھ اپنی آنکھوں سے دیکھ چکے ہیں اور وہ تم سے آنکھوں دیکھا واقعہ ہی بیان کر رہے ہیں۔ بقول اقبال : ع ”قلندر ہرچہ گوید دیدہ گوید“ کہ قلندر جو بھی بیان کرتا ہے اپنا مشاہدہ ہی بیان کرتا ہے۔
آیت 13{ وَلَقَدْ رَاٰہُ نَزْلَۃً اُخْرٰی۔ } ”اور انہوں نے تو اس کو ایک مرتبہ اور بھی اترتے دیکھا ہے۔“ یعنی حضور ﷺ نے حضرت جبرائیل علیہ السلام کو دو مرتبہ اصلی شکل و صورت میں دیکھا ہے۔ دوسری مرتبہ کہاں دیکھا ؟
آیت 14{ عِنْدَ سِدْرَۃِ الْمُنْتَہٰی۔ } ”سدرۃ المنتہیٰ کے پاس۔“ یہ ساتویں آسمان پر وہ مقام ہے جس سے آگے کسی مخلوق کو جانے کی اجازت نہیں۔ اس انتہائی حد کی علامت بیری کا وہ درخت ہے جسے آیت میں ”سِدْرَۃِ الْمُنْتَہٰی“ کا نام دیا گیا ہے۔ اس مقام کی کیفیت اور نوعیت ہمارے تصور سے ماوراء ہے۔ معراج کے موقع پر ”سِدْرَۃِ الْمُنْتَہٰی“ پر حضرت جبرائیل علیہ السلام اپنی اصل ملکوتی شکل میں ظاہر ہوئے اور آگے جانے سے معذرت کرلی۔
آیت 15{ عِنْدَہَا جَنَّۃُ الْمَاْوٰی۔ } ”جنت الماویٰ بھی اس کے پاس ہی ہے۔“ ”جنت الماویٰ“ سب سے اونچے درجے کی جنت ہے ‘ جو ساتویں آسمان پر سدرۃ المنتہیٰ کے قریب ہے۔ قیامت کے دن اہل جنت کو جہاں ”نزل“ پیش کیا جائے گا وہ جنت تو زمین پر واقع ہوگی۔ اس کے بعد ان میں سے ہر شخص کے اپنے اپنے ایمان و خلوص کی گہرائی اور انفاقِ جان و مال کے تناسب کے حساب سے درجہ بدرجہ ترقی ہوتی جائے گی۔ حتیٰ کہ کچھ خوش قسمت لوگ جنت الماویٰ میں پہنچ جائیں گے۔
آیت 16{ اِذْ یَغْشَی السِّدْرَۃَ مَا یَغْشٰی۔ } ”جبکہ چھائے ہوئے تھا سدرہ پر جو چھائے ہوئے تھا۔“ یعنی تم انسانوں کو کیا بتایا جائے کہ اس بیری کے درخت کی اس وقت کیا کیفیت تھی۔ تم اس کیفیت کو نہیں سمجھ سکتے ہو۔ وہ انوار و تجلیاتِ الٰہیہ کے نزول کی ایسی کیفیت تھی جو نہ تو کسی زبان سے ادا ہوسکتی ہے اور نہ ہی کسی قسم کے الفاظ اس کی تعبیر کرسکتے ہیں۔
آیت 17{ مَا زَاغَ الْبَصَرُ وَمَا طَغٰی۔ } ”اُس وقت محمد ﷺ کی آنکھ نہ تو کج ہوئی اور نہ ہی حد سے بڑھی۔“ یہاں پر دونوں انتہائی کیفیات کی نفی کردی گئی۔ انسان کی فطری اور طبعی کمزوری ہے کہ اگر اسے اچانک بہت تیز روشنی کا سامنا کرنا پڑے تو وہ نظروں کو اس سے پھیرنے اور ہٹانے کی کوشش کرتا ہے یا پلک جھپک لیتا ہے۔ اس حوالے سے یہاں بتایا گیا کہ حضور ﷺ نے انوار و تجلیاتِ اِلٰہیہ کا کھلی آنکھوں سے براہ راست مشاہدہ کیا اور نگاہ جما کر دیکھا۔ لیکن اس مشاہدے میں حد ادب سے تجاوز بھی نہیں کیا۔ واقعہ یہ ہے کہ اس آیت کو اکثر و بیشتر لوگ سمجھ نہیں سکے۔ جبکہ میں نے اس کے مفہوم کو علامہ اقبال ؔکے اس شعر کی مدد سے سمجھا ہے : ؎عین ِوصال میں مجھے حوصلہ نظر نہ تھا گرچہ بہانہ ُ جو رہی میری نگاہ بےادب !یہ بالِ جبریل کی نظم ”ذوق و شوق“ کا شعر ہے۔ یہ نظم بلاشبہ علامہ اقبال کی شاعرانہ استعداد کی معراج ہے ‘ اگرچہ امت ِمسلمہ کے لیے پیغام کے اعتبار سے ان کی آخری عمر 1936 ئ کی نظم ”ابلیس کی مجلس شوریٰ“ نقطہ عروج کا درجہ رکھتی ہے۔ اس شعر میں علامہ کہتے ہیں کہ میں وصال کے دوران ادب کے تمام تقاضوں کو بالائے طاق رکھ کر محبوب کے حسن کا مشاہد کرنا چاہتا تھا مگر نظریں جما کر براہ راست دیکھنے کا مجھ میں حوصلہ نہ تھا۔ یہاں اقبالؔ اپنی نظر کی ”بےادبی“ کو خود تسلیم کر رہے ہیں اور حد ادب سے تجاوز کرنے کی شدید خواہش کا بھی اعتراف کر رہے ہیں ‘ لیکن ساتھ ہی وہ اپنی معذوری کا بھی اعتراف کر رہے ہیں کہ ایسا کرنے کا حوصلہ ان میں نہیں تھا۔ گویا صرف وہ حوصلے کے فقدان کی وجہ سے ”بےادبی“ کے ارتکاب سے بچے رہے۔ اب اس شعر میں پیش کیے گئے تصور کی روشنی میں غور کریں تو آیت کا مفہوم واضح ہوجاتا ہے۔ حضور ﷺ کے تحمل اور حوصلے کا یہ عالم تھا کہ آپ ﷺ نے ان انوار و تجلیات کو براہ راست دیکھا اور جم کر مشاہدہ کیا۔ لیکن دوسری طرف آپ ﷺ کے ضبط اور ”ادب“ کا کمال یہ تھا کہ ”حوصلہ“ ہوتے ہوئے بھی آپ ﷺ کی طرف سے ایک خاص حد سے سرموتجاوز نہ ہوا۔
آیت 18{ لَقَدْ رَاٰی مِنْ اٰیٰتِ رَبِّہِ الْکُبْرٰی۔ } ”انہوں نے اپنے رب کی عظیم ترین آیات کو دیکھا۔“ معراج کے موقع پر حضور ﷺ کے مشاہدے سے متعلق صحابہ کرام میں بھی دو آراء پائی جاتی ہیں۔ کچھ صحابہ رض کا خیال ہے کہ حضور ﷺ نے اللہ کو دیکھا ‘ جبکہ دوسری رائے یہ ہے کہ آپ ﷺ نے اللہ کو نہیں دیکھا بلکہ انوارِالٰہیہ کا مشاہدہ کیا۔ حضرت عائشہ رض اور حضرت عبداللہ بن مسعود رض اس بات کے قائل تھے کہ رسول اللہ ﷺ نے شب معراج میں اللہ تعالیٰ کو نہیں دیکھا۔ حضرت عائشہ رض تو یہاں تک فرمایا کرتی تھیں کہ ”جو شخص یہ دعویٰ کرتا ہے کہ محمد ﷺ نے اپنے رب کو دیکھا تھا وہ اللہ تعالیٰ پر بہت بڑا افترا کرتا ہے“۔ صحیح مسلم کتاب الایمان میں حضرت ابوذر غفاری رض سے عبداللہ بن شفیق رح کی دو روایتیں منقول ہیں۔ ایک روایت میں حضرت ابوذر رض فرماتے ہیں کہ میں نے رسول اللہ ﷺ سے پوچھا : ھَلْ رَاَیْتَ رَبَّکَ ”کیا آپ نے اپنے رب کو دیکھا تھا ؟“ حضور ﷺ نے جواب میں فرمایا : نُوْرٌ اَنّٰی اَرَاہُ ؟ ”ایک نور تھا ‘ میں اسے کیسے دیکھتا ؟“ دوسری روایت میں حضرت ابوذر رض فرماتے ہیں کہ میرے اس سوال کا جواب آپ ﷺ نے یہ دیا کہ رَاَیْتُ نُوْرًا ”میں نے ایک نور دیکھا تھا“۔ علامہ ابن القیم رح نے ”زاد المعاد“ میں رسول اللہ ﷺ کے پہلے ارشاد کا مطلب یہ بیان کیا ہے کہ ”میرے اور رویت باری تعالیٰ کے درمیان نور حائل تھا“۔ جبکہ دوسرے ارشاد کا مطلب وہ یہ بیان کرتے ہیں کہ ”میں نے اپنے رب کو نہیں بلکہ بس ایک نور دیکھا“۔ البتہ حضرت عبداللہ بن عباس سے منسوب روایات میں رویت ِباری تعالیٰ کا اثبات ملتا ہے۔ آیت زیر مطالعہ اس حوالے سے یہ واضح کرتی ہے کہ آپ ﷺ نے اللہ کی عظیم آیات کا مشاہدہ کیا۔ چناچہ یہ آیت اول الذکر کے لیے بنیاد فراہم کرتی ہے کہ آپ ﷺ نے اللہ تعالیٰ کی آیات کا مشاہدہ کیا نہ کہ خود اللہ تعالیٰ کو دیکھا۔ سورة بنی اسرائیل کی پہلی آیت میں سفر معراج کے پہلے حصے مسجد حرام تا مسجد اقصیٰ کا ذکر ہوا ‘ وہاں بھی یہ ارشاد ہوا ہے کہ ہم اپنے بندے کو اس لیے لے گئے تھے { لِنُرِیَہٗ مِنْ اٰیٰتِنَا } ”تاکہ اس کو اپنی نشانیاں دکھائیں“۔ لیکن وہاں ”زمینی آیات“ کے مشاہدے کی بات ہوئی ہے ‘ جبکہ ان آیات میں سفر معراج کے دوسرے مرحلے کے دوران سدرۃ المنتہیٰ کے مقام کی آیات و تجلیات کے مشاہدے کا ذکر ہے۔ یہ مقام کسی مخلوق کی رسائی کی آخری حد ہے۔ اس سے آگے ”حریم ذات“ ہے ‘ جہاں کسی غیر کا کوئی دخل ممکن نہیں۔ اس مقام خاص اور اس آخری حد پر لے جا کر حضور ﷺ کو خاص الخاص آیات الٰہیہ کا مشاہدہ کرایا گیا جنہیں آیت زیر مطالعہ میں ”آیات الکبریٰ“ کہا گیا ہے۔
آیت 19{ اَفَرَئَ یْتُمُ اللّٰتَ وَالْعُزّٰی۔ } ”تو کیا تم لوگوں نے لات اور عزیٰ کے بارے میں غور کیا ہے ؟“ اب یہاں سے مکی سورتوں کے عمومی مضامین کا آغاز ہو رہا ہے۔
آیت 20{ وَمَنٰوۃَ الثَّالِثَۃَ الْاُخْرٰی۔ } ”اور جو تیسری ایک اور دیوی منات ہے ؟“ یعنی کبھی تم لوگوں نے اپنی ان تین دیویوں کی حقیقت کے بارے میں بھی سوچا ہے ؟
آیت 21{ اَلَـکُمُ الذَّکَرُ وَلَہُ الْاُنْثٰی۔ } ”کیا تمہارے لیے بیٹے ہیں اور اس کے لیے بیٹیاں ؟“ تم اپنے لیے تو بیٹے پسند کرتے ہو اور اللہ تعالیٰ کو تم نے الاٹ بھی کی ہیں تو بیٹیاں !
آیت 22{ تِلْکَ اِذًا قِسْمَۃٌ ضِیْزٰی۔ } ”یہ تو بہت بھونڈی تقسیم ہے !“
آیت 23{ اِنْ ہِیَ اِلَّآ اَسْمَآئٌ سَمَّیْتُمُوْہَآ اَنْتُمْ وَاٰبَآؤُکُمْ } ”یہ کچھ نہیں ہے سوائے اس کے کہ کچھ نام ہیں جو رکھ لیے ہیں تم نے اور تمہارے آباء و اَجداد نے“ { مَّــآ اَنْزَلَ اللّٰہُ بِہَا مِنْ سُلْطٰنٍط } ”اللہ نے ان کے لیے کوئی سند نہیں اتاری۔“ { اِنْ یَّـتَّبِعُوْنَ اِلَّا الظَّنَّ وَمَا تَہْوَی الْاَنْفُسُ ج } ”یہ لوگ نہیں پیروی کر رہے مگر ظن وتخمین کی اور اپنی خواہشاتِ نفس کی۔“ یعنی ان لوگوں نے اپنی خواہشاتِ نفس اور wishful thinkings کو عقائد کی شکل دے دی ہے اور کچھ فرضی نام رکھ کر ان کی پوجا شروع کردی ہے۔ { وَلَقَدْ جَآئَ ہُمْ مِّنْ رَّبِّہِمُ الْہُدٰی۔ } ”جب کہ ان کے پاس ان کے رب کی طرف سے الہدیٰ آچکا ہے۔“ اللہ تعالیٰ نے ان کی ہدایت کے لیے اپنی کتاب بھی نازل کی ہے اور محمد رسول اللہ ﷺ کو بھی بھیجا ہے۔
آیت 24{ اَمْ لِلْاِنْسَانِ مَا تَمَنّٰی۔ } ”کیا انسان کو وہی کچھ مل جائے گا جس کی وہ آرزو کرتا ہے ؟“
آیت 25{ فَلِلّٰہِ الْاٰخِرَۃُ وَالْاُوْلٰی۔ } ”پس آخرت اور دنیا ‘ سب اللہ ہی کے اختیار میں ہے۔“ یعنی دنیا اور آخرت سے متعلق اختیار مطلق اللہ ہی کے ہاتھ میں ہے۔
آیت 26{ وَکَمْ مِّنْ مَّلَکٍ فِی السَّمٰوٰتِ لَا تُغْنِیْ شَفَاعَتُہُمْ شَیْئًا } ”اور کتنے ہی فرشتے ہیں آسمانوں میں جن کی شفاعت کسی کام نہیں آئے گی“ { اِلَّا مِنْم بَعْدِ اَنْ یَّـاْذَنَ اللّٰہُ لِمَنْ یَّشَآئُ وَیَرْضٰی۔ } ”مگر اس کے بعد کہ اللہ جس کے لیے چاہے اجازت بخشے اور سفارش پسند کرے۔“ آسمانوں کے فرشتے اہل ایمان کے لیے تو دعا کرتے ہیں : { یَسْتَغْفِرُوْنَ لِلَّذِیْنَ اٰمَنُوْاج } المومن : 7 کہ پروردگار ! تو اہل ایمان کی مغفرت فرما دے۔ لیکن ان مشرکین کے لیے نہ کوئی دعا کرے گا اور نہ ہی شفاعت۔