اس صفحہ میں سورہ Luqman کی تمام آیات کے علاوہ تفسیر بیان القرآن (ڈاکٹر اسرار احمد) کی تمام آیات کی تفسیر بھی شامل ہے۔ پہلے حصے میں آپ سورہ لقمان کو صفحات میں ترتیب سے پڑھ سکتے ہیں جیسا کہ یہ قرآن میں موجود ہے۔ کسی آیت کی تفسیر پڑھنے کے لیے اس کے نمبر پر کلک کریں۔


سورة البقرۃ کی پہلی آیت بھی انہی تین حروف پر مشتمل ہے۔
آیت 2 تِلْکَ اٰیٰتُ الْکِتٰبِ الْحَکِیْمِ ”سورۃ البقرۃ سے تقابل کریں تو وہاں آیت 2 میں ذٰلِکَ الْکِتٰبُ لاَ رَیْبَ فِیْہِ کے الفاظ ہیں۔
آیت 3 ہُدًی وَّرَحْمَۃً لِّلْمُحْسِنِیْنَ ”یعنی قرآن محسنین کے لیے سراسر ہدایت اور سراپا رحمت ہے۔ یاد رہے سورة البقرۃ کی آیت 2 میں اس کے مقابل ہُدًی لِّلْمُتَّقِیْنَ کے الفاظ ہیں کہ یہ ہدایت ہے اہل تقویٰ کے لیے۔ یہاں پر ایک تو ہدایت کے ساتھ لفظ ”رَحْمَۃ“ کا اضافہ فرمایا گیا ہے۔ اس کے علاوہ یہاں کتاب سے استفادہ کے حوالے سے ”متقین“ کے بجائے ”محسنین“ کا ذکر ہے۔ محسنین دراصل متقین سے بلند تر درجے پر فائزوہ لوگ ہیں جن کا ایمان ترقی پاتے پاتے ”احسان“ کے درجے تک پہنچ جاتا ہے۔۔ ”احسان“ قرآن کی ایک اہم اصطلاح ہے۔ اس کی وضاحت قبل ازیں سورة المائدۃ کی اس آیت کے ضمن میں کی جا چکی ہے : اِذَا مَا اتَّقَوْا وَّاٰمَنُوْا وَعَمِلُوا الصّٰلِحٰتِ ثُمَّ اتَّقَوْا وَّاٰمَنُوْا ثُمَّ اتَّقَوْا وَّاَحْسَنُوْاط واللّٰہُ یُحِبُّ الْمُحْسِنِیْنَ ”جب تک وہ تقویٰ کی روش اختیار کیے رکھیں اور ایمان لائیں اور نیک عمل کریں اور پھر تقویٰ میں بڑھیں اور ایمان لائیں ‘ پھر اور تقویٰ میں بڑھیں اور پھر درجہ احسان پر فائز ہوجائیں۔ اور اللہ تعالیٰ محسنوں سے محبت کرتا ہے“۔ یہ اس درجہ بندی کی طرف اشارہ ہے جس میں سب سے پہلے اسلام ‘ اس کے بعد ایمان ‘ اور پھر اس کے اوپر احسان کا درجہ ہے۔ اسلام ‘ ایمان اور احسان کی یہ تین منازل ”حدیث جبریل علیہ السلام“ میں بھی بیان ہوئی ہیں۔ چناچہ اللہ کے راستے کے مسافروں کی اعلیٰ ترین منزل ”احسان“ ہے۔
آیت 4 الَّذِیْنَ یُقِیْمُوْنَ الصَّلٰوۃَ ”اب یہاں محسنین کے اوصاف کا ذکر ہے اور ان کی پہلی صفت یہ بیان کی گئی ہے کہ وہ نماز قائم کرتے ہیں۔وَیُؤْتُوْنَ الزَّکٰوۃَ ”ان الفاظ کا ایک مفہوم یہ بھی ہوسکتا ہے کہ وہ لوگ اپنے تزکیے کے لیے مسلسل کوشاں رہتے ہیں۔ یاد رہے کہ سورة البقرۃ کی آیت 3 میں اس حوالے سے وَمِمَّا رَزَقْنٰہُمْ یُنْفِقُوْنَ کے الفاظ آئے ہیں ‘ جبکہ یہاں باقاعدہ ”زکوٰۃ“ کا لفظ آیا ہے۔وَہُمْ بالْاٰخِرَۃِ ہُمْ یُوْقِنُوْنَ ””ایمان بالآخرۃ“ کی اہمیت کے پیش نظر اس کے بارے میں خصوصیت کے ساتھ یہاں ”یقین“ کا ذکر ہوا ہے۔ دراصل آخرت کا عقیدہ وہ عامل factor ہے جو انسان کے عمل اور کردار پر سب سے زیادہ اثر انداز ہوتا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ قرآن اس ضمن میں ایک بندۂ مسلمان سے یقین والے ایمان کا تقاضا کرتا ہے۔
آیت 5 اُولٰٓءِکَ عَلٰی ہُدًی مِّنْ رَّبِّہِمْ وَاُولٰٓءِکَ ہُمُ الْمُفْلِحُوْنَ ”یہاں اس سورت کی پانچویں آیت بعینہٖ وہی ہے جو سورة البقرۃ کی پانچویں آیت ہے۔
آیت 6 وَمِنَ النَّاسِ مَنْ یَّشْتَرِیْ لَہْوَ الْحَدِیْثِ لِیُضِلَّ عَنْ سَبِیْلِ اللّٰہِ بِغَیْرِ عِلْمٍق وَّیَتَّخِذَہَا ہُزُوًا ط ”یہاں خصوصی طور پر نضر بن حارث کے کردار کی طرف اشارہ ہے جو روسائے قریش میں سے تھا۔ دراصل نزول قرآن کے وقت عرب کے معاشرہ میں شعر و شاعری کا بہت چرچا تھا۔ ان کے عوام تک میں شعر کا ذوق پایا جاتا تھا اور اچھی شاعری اور اچھے شاعروں کی ہر کوئی قدر کرتا تھا۔ ایسے ماحول میں قرآن کریم جیسے کلام نے گویا اچانک کھلبلی مچا دی تھی۔ دیکھتے ہی دیکھتے لوگ اس کلام کے گرویدہ ہونے لگے تھے ‘ اس کی فصاحت و بلاغت انہیں مسحور کیے دے رہی تھی۔ یہاں تک کہ جو شخص قرآن کو ایک بار سن لیتا وہ اسے بار بار سننا چاہتا۔ یہ صورت حال مشرکین کے لیے بہت تشویش ناک تھی۔ وہ ہر قیمت پر لوگوں کو اس کلام سے دور رکھنا چاہتے تھے اور دن رات اس کی اس ”قوت تسخیر“ کا توڑ ڈھونڈنے کی فکر میں تھے۔ چناچہ نضر بن حارث نے اپنے فہم کے مطابق اس کا حل یہ ڈھونڈا کہ وہ شام سے ناچ گانے والی ایک خوبصورت لونڈی خرید لایا اور اس کی مدد سے مکہ میں اس نے راتوں کو ناچ گانے کی محفلیں منعقد کرانا شروع کردیں۔ بظاہر یہ ترکیب بہت کامیاب اور مؤثر تھی کہ لوگ ساری ساری رات ناچ گانے سے لطف اندوز ہوں ‘ اس کے بعد دن کے بیشتر اوقات میں وہ سوتے رہیں اور اس طرح انہیں قرآن سننے یا اپنے اور اپنی زندگی کے بارے میں سنجیدگی سے سوچنے کی کبھی فرصت ہی میسر نہ آئے۔یہاں ضمنی طور پر اس صورت حال کا تقابل آج کے اپنے معاشرے سے بھی کرلیں۔ مکہ میں تو ایک نضربن حارث تھا جس نے یہ کارنامہ سرانجام دیا تھا ‘ لیکن آج ہمارے ہاں سپورٹس میچز ‘ میوزیکل کنسرٹس concerts اور بےہودہ فلموں کی صورت میں لہو و لعب اور فحاشی و عریانی کا سیلاب بلا گھر گھر میں داخل ہوچکا ہے جو پورے معاشرے کو اپنی رو میں بہائے چلا جا رہا ہے۔ فحاشی و عریانی کے تعفنّ کا یہ زہر ہمارے نوجوانوں کی رگوں میں اس حد تک سرایت کرچکا ہے کہ بحیثیت مجموعی ان کے قلوب و اَذہان میں موت یا آخرت کی فکر سے متعلق کوئی ترجیح کہیں نظر ہی نہیں آتی۔ ان میں سے کسی کو الّا ما شاء اللہ اب یہ سوچنے کی فرصت ہی میسر نہیں کہ وہ کون ہے ؟ کہاں سے آیا ہے ؟ کس طرف جا رہا ہے ؟ اس کی زندگی کا مقصد و مآل کیا ہے ؟ اس کے ملک کے حالات کس رخ پر جا رہے ہیں اور اس ملک کا مستقبل کیا ہے ؟ اس سب کچھ کے مقابلے میں ذہن اقبالؔ کے ابلیس کی سوچ تو گویا بالکل ہی بےضرر تھی جس نے بقول اقبال ؔ مسلمانوں کو گمراہ کرنے کے لیے اپنے کارندوں کو یہ سبق پڑھایا تھا : مست رکھو ذکر و فکر صبح گا ہی میں اسے پختہ تر کر دو مزاج خانقاہی میں اسے !گویا اس دور میں ابلیس کو معلوم تھا کہ مسلمان کسی قیمت پر بھی ”عریاں الحاد“ کے جال میں پھنسنے والا نہیں۔ اس لیے وہ کھل کر سامنے آنے کی بجائے ”مزاج خانقاہی“ کا سہارا لے کر مسلمانوں کو ”شرع پیغمبر“ سے برگشتہ کرنے کا سوچتا تھا۔ مگر آج صورت حال یکسر مختلف ہے۔ آج ابلیس کی ”جدوجہد“ کی کرامت سے ”نوجواں مسلم“ اس قدر ”جدت پسند“ ہوچکا ہے کہ فحاشی و عریانی کے مظاہر کو وہ جدید فیشن اور نئی ترقی کا حصہ سمجھتا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ آج میڈیا کے سٹیج پر ابلیسیت کوئی بہروپ بدلنے کا تکلفّ کیے بغیر اپنی اصل شکل میں برہنہ محو رقص ہے اور ہماری نئی نسل کے نوجوان بغیر کسی تردّد کے اپنی تمام ترجیحات کو بالائے طاق رکھ کر اس تماشہ کو دیکھنے میں رات دن مگن ہیں۔ گویا یہی ان کی زندگی ہے اور یہی زندگی کا مقصد و مآل !
کَاَنْ لَّمْ یَسْمَعْہَا کَاَنَّ فِیْٓ اُذُنَیْہِ وَقْرًا ج ”گویا وہ بہرا ہے اور جو کچھ اللہ کے رسول ﷺ نے اسے سنایا ہے اس نے وہ سنا ہی نہیں۔فَبَشِّرْہُ بِعَذَابٍ اَلِیْمٍ ”تاویل خاص کے اعتبار سے دونوں آیات مذکورہ شخص نضر بن حارث کے بارے میں ہیں اور ان میں عذاب کے حوالے سے اسی کا ذکر ہے۔
وَاَلْقٰی فِی الْاَرْضِ رَوَاسِیَ اَنْ تَمِیْدَ بِکُمْ ”یعنی زمین کا توازن isostasy برقرار رکھنے کے لیے اس میں پہاڑ گاڑ دیے۔م وَاَنْزَلْنَا مِنَ السَّمَآءِ مَآءً فَاَنْبَتْنَا فِیْہَا مِنْ کُلِّ زَوْجٍ کَرِیْمٍ ”آج کی سائنس ”نباتات کے جوڑوں“ کی بہتر طور پر تشریح کرسکتی ہے۔ بہر حال دوسرے جانداروں کی طرح پودوں اور نباتات میں بھی نر اور مادہ کا نظام کار فرما ہے اور ان کے ہاں باقاعدہ خاندانوں اور قبیلوں کی پہچان اور تقسیم بھی پائی جاتی ہے۔
آیت 11 ہٰذَا خَلْقُ اللّٰہِ فَاَرُوْنِیْ مَاذَا خَلَقَ الَّذِیْنَ مِنْ دُوْنِہٖ ط ”قرآن میں مشرکین کے اس عقیدے کا بار بار ذکر ہوا ہے کہ وہ اللہ کو اس کائنات اور اس میں موجود ہر شے کا خالق مانتے تھے۔ چناچہ یہاں ان سے یہ سوال ان کے اسی عقیدے کی بنیاد پر کیا گیا ہے۔بَلِ الظّٰلِمُوْنَ فِیْ ضَلٰلٍ مُّبِیْنٍ ”دراصل اس دلیل کا ان کے پاس کوئی جواب نہیں تھا۔ عقیدے کے اعتبار سے اگرچہ وہ لوگ اپنے چھوٹے معبودوں کو کسی چیز کا خالق نہیں مانتے تھے ‘ لیکن وہ گمراہی میں اتنے دور جا چکے تھے کہ ایسی باتوں کی طرف کبھی متوجہ ہی نہیں ہوتے تھے۔