یہ ایک مکمل تصویر ہے ‘ جو نفس انسانی کی اندرونی کیفیات کی مظہر ہے۔ جو انسان کے ظاہری خدوخال کو بھی پیش کرتی ہے اور اس کی باطنی کیفیات کو اچھی طرح دکھاتی ہے اور انسان کے ظاہری تاثرات کو بھی دکھاتی ہے اور انسان کی آنے اور جانے والی حرکات کا اظہار بھی اس سے ہوتا ہے ۔ اس تصویر میں ایک ایسے انسان کا نمونہ پیش کیا جاتا ہے جو آئے دن ہر جگہ اور ہر زمانے میں ہماری نظروں کے سامنے آتا رہتا ہے اور جماعت مسلمہ کے ارد گرد پھیلے ہوئے دشمنوں میں کل بھی یہ نمونے نظر آتے تھے اور آج بھی نظر آتے ہیں ۔ یہ ایسے نمونے ہیں کہ جب مسلمانوں کا غلبہ نصیب ہو تو وہ ان کے دوست بن جاتے ہیں لیکن ان کے دل کی ہر دھڑکن ان کی تکذیب کرتی ہے اور ان کا ہر عضو ان کو جھٹلاتا ہے لیکن مسلمان ان سے دھوکہ کھاتے ہیں اور وہ ان سے محبت کرتے ہیں اور ان پر اعتماد کرتے ہیں لیکن اس کے مقابلے میں وہ لوگ مسلمانوں کے لئے صرف بےچینی اور ناکامی ہی کو پسند کرتے ہیں اور وہ مسلمانوں کو نافرمان بنانے اور ان کے راستوں میں کانٹے بچھانے میں کو فروگذاشت نہیں کرتے ۔ وہ ہر وقت ان کے خلاف سازشیں کرتے ہیں جب بھی انہیں فرصت ملے چاہے رات کو ملے یا دن کو ملے۔
یہ تصویر جس کے عجیب خدوخال قرآن کریم نے بتائے ہیں ‘ اور جس کا اطلاق سب سے پہلے ان اہل کتاب پر ہوتا تھا جو مدینہ میں مسلمانوں کے پڑوس میں رہتے تھے ۔ یہ ایسی تصویر ہے جو اپنے فیچرز سے اس بات کا اظہار کررہی ہے کہ یہ لوگ اسلام اور اہل اسلام کے خلاف جو پے پناہ کینہ اپنے دلوں میں رکھتے تھے وہ اسے چھپا رہے تھے ۔ یہ رات دن مسلمانوں کے خلاف سازشیں تیار کررہے تھے ‘ اور مسلمانوں کی نسبت ان کی نیت میں ہر وقت کھوٹ پایا جاتا تھا ۔ اور ان کے ان پوشیدہ جذبات میں ہر وقت ابال آتا رہتا تھا ‘ اس کے برخلاف سادہ دل مسلمانوں کی یہ حالت تھی کہ ابھی تک ان میں سے بعض لوگوں کو ان کے بارے میں غلط فہمی تھی ‘ بعض لوگ ابھی تک ان کے لئے اپنے دل میں محبت رکھتے تھے ‘ اور ابھی تک ان کو یہ اطمینان تھا کہ اگر ہم ان کو کوئی راز بتادیں تو وہ انہیں بطور امانت محفوظ رکھیں گے ۔ اس لئے انہوں نے ان اہل کتاب میں سے بعض لوگوں کو جگری دوست ‘ ساتھی اور رازدان بنالیا تھا اور وہ جماعت کے اندرونی راز تک انہیں بتانے سے نہ چوکتے تھے ‘ اس لئے اللہ تعالیٰ کی جانب سے انہیں یہ روشنی دی گئی جس میں جماعت مسلمہ نے ان کے اندروں کو دیکھ لیا اور حقیقت سے آگاہ ہوگئے ۔ اور اس روشنی کے ساتھ انہیں یہ سخت تنبیہ کی گئی اور انہیں اپنے ان قدرتی دشمنوں کے خفیہ منصوبوں اور سازشوں سے آگاہ کیا گیا ‘ اور یہ بتایا گیا کہ وہ ایسے دشمن ہیں جو کبھی ان کے لئے مخلص نہیں ہوسکتے ‘ مسلمانوں کی جانب سے محبت اور ہم نشینی ان کے اس دلی بغض کو صاف نہیں کرسکتی ‘ یہ تبصرہ اور یہ تنبیہ اسلامی تاریخ کے کسی خاص دور کے ساتھ مخصوص نہیں ہے ‘ بلکہ یہ ایک دائمی حقیقت ہے ‘ یہ ایک دائمی صورت حال کا مقابلہ ہے اور اس کا مصداق ہم اپنے موجودہ دور میں ایک کھلے مشاہدے کے بطور پر اپنے سامنے پاتے ہیں۔
آج مسلمان اپنے رب کریم کے اس حکم سے غافل ہیں ‘ اس نے حکم دیا ہے کہ وہ اپنے سوا کسی کے ساتھ دوستی نہ رکھیں خصوصاً ایسے لوگوں کے ساتھ جو ان کے مقابلے میں اپنی اصلیت کے اعتبار سے بھی کم تر ہیں ‘ نظام زندگی کے اعتبار سے بھی کم تر ہیں اور اپنے وسائل کے اعتبار سے بھی کم تر ہیں ۔ اس لئے انہیں چاہئے کہ وہ ان پر اعتماد نہ کریں ‘ ان کو راز دان نہ بنائیں اور ان سے کوئی مشورہ نہ لیں ۔ لیکن مسلمانوں کی غفلت کی انتہاء ہے کہ وہ اپنے رب حکیم کا یہ مشورہ بھول چکے ہیں اور ایسے لوگوں کو انہوں نے اپنے لئے ہر معاملے میں مشیر اور مرجع بنایا ہوا ہے ۔ ہر معاملے میں ‘ ہر موضوع پر اور ہر مسئلے کے بارے میں ‘ ہر سوچ میں ‘ ہر فکر میں ‘ ہر منہاج میں اور ہر طریقہ کار میں انہوں نے ان لوگوں کو اپنا استاد ومرشد بنارکھا ہے ۔
اللہ کی اس سخت تنبیہ و تخویف سے آج مسلمان غافل ہیں ‘ وہ ان لوگوں سے دوستی کررہے ہیں جو اللہ اور رسول کے دشمن ہیں ‘ انہوں نے اپنے دل و دماغ کے دریچے ان دشمنوں کے لئے وا کردیئے ہیں ‘ حالانکہ اللہ تعالیٰ پہلی جماعت مسلمہ سے بھی کہتے ہیں اور آج کی جماعت مسلمہ کو بھی کہتے ہیں اور ہر دور کی جماعت مسلمہ کو بھی کہتے ہیں اور آگاہ کرتے ہیں۔
وَدُّوا مَا عَنِتُّمْ قَدْ بَدَتِ الْبَغْضَاءُ مِنْ أَفْوَاهِهِمْ وَمَا تُخْفِي صُدُورُهُمْ أَكْبَرُ
” تمہیں جس چیز سے نقصان پہنچے وہی ان کو محبوب ہے ۔ ان کے دل کا بغض ان کے منہ سے نکلا پڑتا ہے اور جو کچھ وہ اپنے سینوں میں چھپائے ہوئے ہیں وہ اس سے شدید تر ہے ۔ “
آیت 118 یٰٓاَیُّہَا الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا لاَ تَتَّخِذُوْا بِطَانَۃً مِّنْ دُوْنِکُمْ یعنی جس شخص کے بارے میں اطمینان ہو کہ صاحب ایمان ہے ‘ مسلمان ہے ‘ اس کے علاوہ کسی اور شخص کو اپنا بھیدی اور محرم راز نہ بناؤ۔ یہودی ایک عرصے سے مدینہ میں رہتے تھے اور اوس و خزرج کے لوگوں کی ان سے دوستیاں تھیں ‘ پرانے تعلقات اور روابط تھے۔ اس کی وجہ سے بعض اوقات سادہ لوح مسلمان اپنی سادگی میں راز کی باتیں بھی انہیں بتا دیتے تھے۔ اس سے انہیں روکا گیا۔لاَ یَاْلُوْنَکُمْ خَبَالاً ط وَدُّوْا مَا عَنِتُّمْ ج قَدْ بَدَتِ الْبَغْضَآءُ مِنْ اَفْوَاہِہِمْ ج ان کا کلام ایسا زہر آلود ہوتا ہے کہ اس سے اسلام اور مسلمانوں کی دشمنی ٹپکی پڑتی ہے۔ یہ اپنی زبانوں سے آتش برساتے ہیں۔ وَمَا تُخْفِیْ صُدُوْرُہُمْ اَکْبَرُ ط ۔جو کچھ ان کی زبانوں سے ظاہر ہوتا ہے وہ تو پھر بھی کم ہے ‘ ان کے دلوں کے اندر دشمنی اور حسد کی جو آگ بھڑک رہی ہے وہ اس سے کہیں بڑھ کر ہے۔ قَدْ بَیَّنَّا لَکُمُ الْاٰیٰتِ اِنْ کُنْتُمْ تَعْقِلُوْنَ یعنی اپنے طرز عمل پر غور کرو اور اس سے باز آجاؤ !
کافر اور منافق مسلمان کے دوست نہیں انہیں اپنا ہم راز نہ بناؤ اللہ تعالیٰ ایمانداروں کو کافروں اور منافقوں کی دوستی اور ہم راز ہونے سے روکتا ہے کہ یہ تو تمہارے دشمن ہیں ان کی چکنی چپڑی باتوں میں خوش نہ ہوجانا اور ان کے مکر کے پھندے میں پھنس نہ جانا ورنہ موقعہ پا کر یہ تمہیں سخت ضرر پہنچائیں گے اور اپنی باطنی عداوت نکالیں گے تم انہیں اپنا راز دار ہرگز نہ سمجھنا راز کی باتیں ان کے کانوں تک ہرگز نہ پہنچانا بطانہ کہتے ہیں انسان کے راز دار دوست کو اور من دو نکم سے مراد جس خلیفہ کو مقرر کیا اس کیلئے دو بطانہ مقرر کئے ایک تو بھلائی کی بات سمجھانے والا اور اس پر رغبت دینے والا اور دوسرا برائی کی رہبری کرنے والا اور اس پر آمادہ کرنے والا بس اللہ جسے بچائے وہی بچ سکتا ہے، حضرت عمر بن خطاب ؓ سے کہا گیا کہ یہاں پر حیرہ کا ایک شخص بڑا اچھا لکھنے والا اور بہت اچھے حافظہ والا ہے آپ اسے اپنا محرر اور منشی مقرر کرلیں آپ نے فرمایا اس کا مطلب یہ ہوگا کہ غیر مومن کو بطانہ بنا لوں گا جو اللہ نے منع کیا ہے، اس واقعہ کو اور اس آیت کو سامنے رکھ کر ذہن اس نتیجہ پر پہنچتا ہے کہ ذمی کفار کو بھی ایسے کاموں میں نہ لگانا چاہئے ایسا نہ ہو کہ وہ مخالفین کو مسلمانوں کے پوشیدہ ارادوں سے واقف کر دے اور ان کے دشمنوں کو ان سے ہوشیار کر دے کیونکہ انکی تو چاہت ہی مسلمانوں کو نیچا دکھانے کی ہوتی ہے، ازہر بن راشد کہتے ہیں کہ لوگ حضرت انس ؓ سے حدیثیں سنتے تھے اگر کسی حدیث کا مطلب سمجھ میں نہ آتا تو حضرت حسن بصری سے جا کر مطلب حل کرلیتے تھے ایک دن حضرت انس ؓ نے یہ حدیث بیان کی کہ مشرکوں کی آگ سے روشنی طلب نہ کرو اور اپنی انگوٹھی میں عربی نقش نہ کرو انہوں نے آکر حسن بصری سے اس کی تشریح دریافت کی تو آپ نے فرمایا کہ پچھلے جملہ کا تو یہ مطلب ہے کہ انگوٹھی پر محمد ﷺ نہ کھدواؤ اور پہلے جملہ کا یہ مطلب ہے کہ مشرکوں سے اپنے کاموں میں مشورہ نہ لو، دیکھو کتاب اللہ میں بھی ہے کہ ایمان دارو اپنے سوا دوسروں کو ہمراز نہ بناؤ لیکن حسن بصری کی یہ تشریح قابل غور ہے حدیث کا ٹھیک مطلب غالباً یہ ہے کہ محمد رسول اللہ عربی خط میں اپنی انگوٹھیوں پر نقش نہ کراؤ، چناچہ اور حدیث میں صاف ممانعت موجود ہے یہ اس لئے تھا کہ حضور ﷺ کی مہر کے ساتھ مشابہت نہ ہو اور اول جملے کا مطلب یہ ہے کہ مشرکوں کی بستی کے پاس نہ رہو اس کے پڑوس سے دور رہو ان کے شہروں سے ہجرت کر جاؤ جیسے ابو داؤد میں ہے کہ مسلمانوں اور مشرکوں کے درمیان کی لڑائی کی آگ کو کیا تم نہیں دیکھتے اور حدیث میں ہے جو مشرکوں سے میل جول کرے یا ان کے ساتھ رہے بسے وہ بھی انہی جیسا ہے پھر فرمایا ان کی باتوں سے بھی ان کی عداوت ٹپک رہی ہے ان کے چہروں سے بھی قیافہ شناس ان کی باطنی خباثتوں کو معلوم کرسکتا ہے پھر جو ان کے دلوں میں تباہ کن شرارتیں ہیں وہ تو تم سے مخفی ہیں لیکن ہم نے تو صاف صاف بیان کردیا ہے عاقل لوگ ایسے مکاروں کی مکاری میں نہیں آتے پھر فرمایا دیکھو کتنی کمزوری کی بات ہے کہ تم ان سے محبت رکھو اور وہ تمہیں نہ چاہیں، تمہارا ایمان کل کتاب پر ہو اور یہ شک شبہ میں ہی پڑے ہوئے ہیں ان کی کتاب کو تم تو مانو لیکن یہ تمہاری کتاب کا انکار کریں تو چاہئے تو یہ تھا کہ تم خود انہیں کڑی نظروں سے دیکھتے لیکن برخلاف اس کے یہ تمہاری عداوت کی آگ میں جل رہے ہیں۔ سامنا ہوجائے تو اپنی ایمانداری کی داستان بیان کرنے بیٹھ جاتے ہیں لیکن جب ذرا الگ ہوتے ہیں تو غیظ و غضب سے جلن اور حسد سے اپنی انگلیاں چباتے ہیں پس مسلمانوں کو بھی ان کی ظاہرداری سے دھوکہ نہیں کھانا چاہئے یہ چاہے جلتے بھنتے رہیں لیکن اللہ تعالیٰ اسلام اور مسلمانوں کو ترقی دیتا رہے گا مسلمان دن رات ہر حیثیت میں بڑھتے ہی رہیں گے گو وہ مارے غصے کے مرجائیں۔ اللہ ان کے دلوں کے بھیدوں سے بخوبی واقف ہے ان کے تمام منصوبوں پر خاک پڑے گی یہ اپنی شرارتوں میں کامیاب نہ ہوسکیں گے اپنی چاہت کے خلاف مسلمانوں کی دن دوگنی ترقی دیکھیں گے اور آخرت میں بھی انہیں نعمتوں والی جنت حاصل کرتے دیکھیں گے برخلاف ان کے یہ خود یہاں بھی رسوا ہوں گے اور وہاں بھی جہنم کا ایندھن بنیں گے، ان کی شدت عداوت کی یہ کتنی بڑی دلیل ہے کہ جہاں تمہیں کوئی نفع پہنچتا ہے یہ کلیجہ مسوسنے لگے اور اگر (اللہ نہ کرے) تمہیں کوئی نقصان پہنچ گیا تو ان کی باچھیں کھل جاتی ہیں بغلیں بجانے اور خوشیاں منانے لگتے ہیں، اگر اللہ تعالیٰ کی طرف سے مومنوں کی مدد ہوئی یہ کفار پر غالب آئے انہیں غنیمت کا مال ملا یہ تعداد میں بڑھ گے تو وہ جل بجھے اور اگر مسلمانوں پر تنگی آگئی یا دشمنوں میں گھر گئے تو ان کے ہاں عید منائی جانے لگی۔ اب اللہ تعالیٰ ایمانداروں کو خطاب کر کے فرماتا ہے کہ ان شریروں کی شرارت اور ان بدبختوں کے مکر سے اگر نجات چاہتے ہو تو صبرو تقویٰ اور توکل کرو اللہ عزوجل خود تمہارے دشمنوں کو گھیر لے گا کسی بھلائی کے حاصل کرنے کسی برائی سے بچنے کی کسی میں طاقت نہیں جو اللہ تعالیٰ چاہتا ہے ہوتا ہے اور جو نہیں چاہتا نہیں ہوسکتا جو اس پر توکل کرے اسے وہ کافی ہے۔ اسی مناسبت سے اب جنگ احد کا ذکر شروع ہوتا ہے جس پر مسلمانوں کے صبرو تحمل کا بیان ہے اور جس میں اللہ تعالیٰ کی آزمائش کا پورا نقشہ ہے اور جس میں مومن و منافق کی ظاہری تمیز ہے سنئے ارشاد ہوتا ہے