اس آیت
يَرَوْنَهُمْ مِثْلَيْهِمْ رَأْيَ الْعَيْنِ …………… کے دومفہوم ہوسکتے ہیں ‘ یرون کی ضمیر اگر کفار کی طرف ہے اور ہم سے مراد اہل ایمان ہیں تو مفہوم ہوگا کہ اہل کفر کو اپنی ظاہری کثرت کے باجود نظر یوں آرہا تھا کہ اہل اسلام ان سے دوگنا ہیں ۔ اور یوں یہ اللہ تعالیٰ کی جانب سے تائید غیبی تھی کہ کفار کو اہل اسلام زیادہ اور وہ خود تھوڑے نظر آرہے تھے ۔ یوں ان کے قدم اکھڑ گئے اور ان کے دل بیٹھ گئے۔
اور اگر اس کے برعکس لیا جائے یعنی یرون سے مراد ہو کہ مسلمان ھم ان کو دیکھ رہے تھے ۔ تو مفہوم یہ ہوگا کہ مسلمانوں کو وہ اپنے دوگنا نظر آرہے تھے ‘ وہ تین گنا تھے ۔ اس کے باوجود اہل اسلام ثابت قدم رہے ‘ اور فتح یاب ہوئے ۔ اصل بات یہ ہے کہ تائید ونصرت اللہ کے ہاتھ میں ہے ۔ اس لئے دکھانا یہ مطلوب ہے کہ اہل کفر اپنے انجام پر غور کریں ۔ اور اہل اسلام دلوں کو مضبوط کرلیں اور یقین کرلیں کہ ان کے اعداء کی تقدیر میں شکست لکھی جاچکی ہے ۔ اس لئے وہ ان اعداء سے خوف نہ کھائیں ۔ جیسا کہ ہم نے اس سورت پر تبصرہ کرتے ہوئے یہ کہا تھا کہ اس وقت جو صورتحال تھی ‘ اس میں اہل کتاب کو اس قسم کی تنبیہ اور تخویف کی ضرورت تھی ۔
قرآن کریم مسلسل اپنی عظیم حقیقت پر کاربند ہے اور اس عظیم سچائی میں سے ایک بات یہ ہے کہ اس دنیا میں جو لوگ کفر کرتے ہیں ‘ آیات کو جھٹلاتے ہیں اور اسلامی نظام زندگی سے انحراف کرتے ہیں ان کی شکست کا وعدہ اب بھی اپنی جگہ قائم ہے اور قائم رہے گا۔ اسی طرح اللہ تعالیٰ کا ‘ اہل ایمان کے ساتھ یہ وعدہ بھی اپنی جگہ قائم ہے کہ وہ فتح یاب ہوں گے اگرچہ وہ قلیل تعداد میں ہوں ‘ اور نصرت اور فتح صرف تائید ایزدی پر موقوف ہے اور یہ صرف اس کا اختیا رہے ‘ جسے چاہے وہ فتح ونصرت سے نوازے ۔ حقیقت اپنی جگہ اب بھی قائم ہے ۔ منسوخ نہیں ہوئی۔
اہل ایمان کا یہ فرض ہے کہ وہ اس حقیقت پر اچھی طرح مطمئن ہوجائیں ۔ اور اس پر پوری طرح اعتماد کریں ۔ اور میدان جہاد میں اپنی تیاریاں مکمل طور پر کریں جس قدر ممکن ہو ‘ اور اس تیاری کے بعد پھر تائید خداوندی کا انتظار کریں ۔ وہ نہ جلدبازی کریں ‘ نہ مایوس ہوں ‘ اگرچہ انہیں طویل انتظار ہی کیوں نہ کرنا پڑے ۔ کیونکہ اللہ حکیم ہے وہ اپنی تدابیر خود اپنے وقت پر کرتا ہے ‘ اور اس حکمت کے مطابق ہی اس کا وعدہ اپنے وقت پر پورا ہوتا ہے۔
إِنَّ فِي ذَلِكَ لَعِبْرَةً لأولِي الأبْصَارِ ……………” دیدہ بینا رکھنے والوں کے لئے اس میں بڑا سبق پوشیدہ ہے ۔ اس لئے ضروری ہے دیکھنے والی آنکھ ہو ‘ تدبیر کرنے والی بصیرت ہو ‘ تب ہی ایک انسان عبرت حاصل کرسکتا ہے اور تب ہی قلب میں فہم پیدا ہوتا ہے ۔ اگر بصیرت نہ ہو تو سامان عبرت شب وروز آنکھوں کے سامنے سے گزرتا ہے مگر آنکھ نہیں دیکھ پاتی۔ “
اگلی آیت میں ‘ جماعت مسلم کی تربیت کے سلسلے میں ‘ اسے ان فطری میلانات اور فطری اسباب کے بارے میں آگاہ کیا جاتا ہے ‘ جن کی وجہ سے انسان کی زندگی میں گمراہی اور انحراف کا آگاز ہوتا ہے ‘ اس لئے اس بات کی اشد ضرورت ہے کہ ان فطری میلانات کو ہر وقت ضبط کنٹرول میں رکھا جائے ۔ اور ہر وقت زندگی کے اعلیٰ مقاصد کو پیش نظر رکھاجائے اور اصل مطمح نظر وہ اکرام وانعام ہوجائے جو کسی انسان کو یوم آخرت میں مل سکتا ہے۔
حقیقت یہ ہے کہ خواہشات دنیاوی میں گم ہوجانے ‘ مرغوبات نفس کے درپے ہوجانے اور دوسرے فطری میلانات کا بندہ بن جانے کا نتیجہ یہ ہوتا ہے ‘ کہ انسان کے دل بصیرت اور اس کی عقل سے عبرت آموزی ختم ہوجاتی ہے۔ اور انسان کی حالت یہ ہوجاتی ہے کہ وہ حسی لذتوں اور دنیاوی مرغوبات کے ہاتھوں مجبور ہوجاتا ہے۔ اعلیٰ اور بلند مقاصد نظروں سے اوجھل ہوجاتے ہیں ۔ انسان کے احساسات مادی ہوجاتے ہیں وہ دنیائے قریب کی ان لذتوں کے دائرے سے آگے نہیں بڑھ سکتا ۔ اور وہ ان اعلیٰ مقاصد کے حصول کی لذت سے محروم ہوجاتا ہے جس کا تعلق انسان کے خلیفۃ اللہ فی الارض ہونے کے منصب سے ہے ۔ اور جو اس دنیا کی اس مخلوق کے شایان شان ہیں جسے اللہ نے اپنا خلیفہ بنایا ہے۔ اس وسیع مملکت دنیا میں۔
یہاں یہ بات نوٹ کرنے کے قابل ہے کہ یہ فطری میلانات اور دنیاوی مرغوبات چونکہ اللہ کی جانب سے ‘ انسان کے تکوینی فرائض ہیں اور یہ رجحانات ومیلانات ‘ اس دنیا میں حیات انسانی کی نشوونما اور ترقی کے لئے اہم کردار ادا کرتے ہیں اور یہ ایک قسم کا فطری فریضہ ہیں ‘ اس لئے اسلام نے ان فطری میلانات کو ختم کرنے یا ان کی بیخ کنی کا کوئی اشارہ نہیں دیتا ۔ ہاں اسلام یہ حکم دیتا ہے کہ ان میلانات کو ضابطے کا پابند بنایاجائے ۔ ان کو منظم کیا جائے ‘ ان کی تیزی کو کم کیا جائے ان کو اس طرح کنٹرول کیا جائے کہ ان پر انسان کو پورا پورا ضبط حاصل ہو ‘ انسان ان کا مالک اور متصرف ہو ‘ اور انسان ان سے آگے مقاصد عالیہ پر بھی نظریں جمائے ہوئے ہو اور اپنے آپ کو ان کی غلامی سے بلند سمجھتا ہو۔
اس لئے قرآن کریم کی آنیونی آیات ان مرغوبات اور ان میلانات کے بارے میں بحث کرتی ہے۔ لیکن اللہ تعالیٰ اس آیت میں ان اخروی لذائذ ‘ مرغوبات جن کا تعلق کام ودہن سے ہے اور ان کا ذکر کرتے ہیں جن کا تعلق عقل وخرد سے ہوتا ۔ اور یہ اخروی لذات ان لوگوں کا نصیبہ ہوگا جنہوں نے اس جہاں میں اپنے نفوس کے اوپر کنٹرول کیا ۔ اور وہ اس جہاں میں عیش و عشرت اور لذات میں غرق نہ ہوئے اور انہوں نے یہاں اپنے آپ کو مقام انسانیت پر بلند رکھا۔
اس ایک ہی آیت میں قرآن کریم نے دوران کلام ‘ اس دنیا کی تمام اہم مرغوبات کو ایک ساتھ جمع کردیا ۔ مثلاً عورتیں ‘ اولاد ‘ مال دولت ‘ گھوڑے اور سواری ‘ سرسبز و شاداب اراضی اور اس میں قسم قسم کے مویشی ‘ اس دنیا میں جس قدر مرغوبات ممکن ہیں وہ سب اس آیت میں جمع کردی گئی ہیں ۔ یا تو بذات خود یہ اشیاء مرغوبات میں شامل ہیں ‘ یا وہ انسان کے لئے فراہمی مرغوبات کا ذریعہ ہیں۔ اور اس کے ساتھ ہی دوسری آیت میں ان مرغوبات اور لذائذ کا ذکر ہے ‘ جو اللہ نے اہل ایمان کے لئے ‘ اس جہاں میں تیار کی ہیں ۔ ایسے باغات اور لذائذ کا ذکر ہے ‘ جو اللہ نے اہل ایمان کے لئے ‘ اس جہاں میں تیار کی ہیں ۔ ایسے باغات جن کے نیچے نہریں بہہ رہی ہوں گی ‘ پاکیزہ بیویاں ‘ اور ان سب انعامات سے بڑا انعام ذات باری کی رضامندی اور خوشنودی ۔ اور یہ انعام صرف ان لوگوں کے لئے ہیں جن کی نظریں ان دنیاوی لذائذ سے اونچی ہیں ‘ جن کا تعلق اللہ سے قائم ہے ‘ ذرا ان آیات پر غور فرمائیں۔
آیت 13 قَدْ کَانَ لَکُمْ اٰیَۃٌ فِیْ فِءَتَیْنِ الْتَقَتَا ط یعنی بدر کی جنگ میں ایک طرف مسلمان تھے اور دوسری طرف مشرکین مکہ تھے۔ اس میں تمہارے لیے نشانی موجود ہے۔ فِءَۃٌ تُقَاتِلُ فِیْ سَبِیْلِ اللّٰہِ وَاُخْرٰی کَافِرَۃٌ یَّرَوْنَہُمْ مِّثْلَیْہِمْ رَاْیَ الْعَیْنِ ط اس کے کئی معانی کیے گئے ہیں۔ ایک یہ کہ مسلمانوں کو تو کھلم کھلا نظر آ رہا تھا کہ ہمارے مقابل ہم سے دوگنی فوج ہے ‘ جبکہ وہ تگنی تھی۔ بعض روایات میں یہ بھی آتا ہے کہ اللہ تعالیٰ نے غزوۂ بدر میں کفار پر ایسا رعب طاری کردیا تھا کہ انہیں نظر آ رہا تھا کہ مسلمان ہم سے دگنے ہیں۔وَاللّٰہُ یُؤَیِّدُ بِنَصْرِہٖ مَنْ یَّشَآءُ ط اِنَّ فِیْ ذٰلِکَ لَعِبْرَۃً لِّاُولِی الْاَبْصَارِ یہ عبرت اور سبق آموزی صرف ان کے لیے ہوتی ہے جو آنکھیں رکھتے ہوں ‘ جن کے اندر دیکھنے کی صلاحیت موجود ہو۔ اگلی آیت فطرت انسانی کے اعتبار سے بڑی اہم ہے۔ بعض لوگوں میں خاص طور پر دنیا اور علائق دنیوی کی محبت زیادہ شدید ہوتی ہے۔ یہاں اس کا اصل سبب بتایا جا رہا ہے کہ اللہ تعالیٰ نے واقعتا یہ شے فطرت انسانی میں رکھی ہے۔ اس لیے کہ اللہ تعالیٰ نے اس دنیا کو قیامت تک آباد رکھنا ہے اور اس کی رونقیں بحال رکھنی ہیں۔ چناچہ مرد اور عورت کی ایک دوسرے کے لیے کشش ہوگی تو اولاد پیدا ہوگی اور دنیا کی آبادی میں اضافہ ہوتا رہے گا اور اس طرح دنیا قائم رہے گی۔ دولت کی کوئی طلب ہوگی تو آدمی محنت و مشقت کرے گا اور دولت کمائے گا۔ اس لیے یہ چیزیں فطرت انسانی میں basic animal instincts کے طور پر رکھ دی گئی ہیں۔ بس ضرورت اس بات کی ہے کہ ان جبلی تقاضوں کو دبا کر رکھا جائے ‘ اللہ کی محبت اور اللہ کی شریعت کو اس سے بالاتر رکھا جائے۔ یہ مطلوب نہیں ہے کہ ان کو ختم کردیا جائے۔ تعذیب نفس اور نفس کشی self annihilation اسلام میں نہیں ہے۔ یہ تو رہبانیت ہے کہ اپنے نفس کو کچل دو ‘ ختم کر دو۔ جبکہ اسلام تزکیۂ نفس اور self control کا درس دیتا ہے کہ اپنے آپ کو قابو میں رکھو۔ نفس انسانی ایک منہ زور گھوڑا ہے۔ گھوڑا جتنا طاقت ور ہوتا ہے اتنا ہی سوار کے لیے تیز دوڑنا آسان ہوتا ہے۔ لیکن منہ زور اور طاقتور گھوڑے کو قابو میں رکھنے کی ضرورت بھی ہے۔ ورنہ سوار اگر اس کے رحم و کرم پر آگیا تو وہ جہاں چاہے گا اسے پٹخنی دے دے گا۔