زُيِّنَ لِلنَّاسِ……………” میں فعل مجہول کا صیغہ استعمال کرکے اس طرف اشارہ دیا گیا ہے کہ ان چیزوں کی طرف لوگوں کا میلان بتقضائے فطرت ہے ۔ ان چیزوں کو محبوب بنادیا گیا ہے اور ان کی تزئین کرکے ان کی محبوبیت میں اضافہ کردیا گیا ہے ۔ گویا یہ حقیقت واقعہ کے ایک پہلو کی تصدیق ہے ۔ اس لئے کہ انسان کی شخصیت میں ان چیزوں کی طرف میلان اور رغبت رکھی گئی ہے ۔ یہ اس کے اصل وجود اور اس کی ذات کا حصہ ہے ۔ اس بات کی ضرورت نہیں ہے کہ انسان خواہ مخواہ اس حقیقت کا انکار کرے ۔ نہ خود انسان اپنی ذات میں ان میلانات اور رجحانات کو قابل اعتراض سمجھے ۔ اس کرہ ارض پر انسانی زندگی کی ترقی اور نشوونما کے لئے ان میلانات کا موجود ہونا ازبس ضروری ہے جیسا کہ اس موضوع پر اس سے پہلے ہم مفصل بحث کر آئے ہیں ۔ لیکن یہ بھی حقیقت واقعیہ ہے کہ انسان کی فطرت کا ایک دوسرا پہلو بھی ہے ‘ جوان میلانات اور فطری رجحانات میں توازن پیدا کرتا ہے اور وہ ایک قسم کا چوکیدار ‘ جو انسان کو ان میلانات میں مستغرق ہونے سے بچاتا ہے ۔ اور یہ پہلو انسان کے عالم بالا کے ساتھ روحانی تعلق کو قائم رکھتا ہے ۔ چناچہ اس کی زندگی میں روحانی معنویت اور روحانی ہدایات پائی جاتی ہے ۔ اور یہ پہلو انسان کی روحانی زندگی کا پہلو ہے جو اس کے اندر بلندی کی استعداد پیدا کرتا ہے ۔ اس کے اندر ضبط نفس کی قوت پیدا ہوجاتی ہے ۔ اور اس کے نتیجے میں انسان ان ‘ دنیاوی مرغوبات کے استعمال میں ایک حد اعتدال پر قائم رہتا ہے ۔ ایسی حدود کے اندر جس میں نفس کی تعمیر ہو ۔ زندگی کا نشوونما ہو اور اس کے ساتھ ساتھ یہ جدوجہد بھی جاری رہے کہ انسانی زندگی کو حیوانیت کے نچلے مقام سے بلند کرکے عالم بالا کے روحانی افق تک پہنچایا جائے ۔ انسان کے دل کا تعلق عالم بالا سے قائم ہو اور اس کا ہدف دار آخرت اور اللہ کی رضامندی ہو ۔ نفس انسانی کی یہ دوسری جبلت ‘ اس کی پہلی فطری جبلت کو مہذب بناتی ہے ۔ اور اس کو تمام حیوانی ‘ آمیزشوں سے پاک کرتی ہے ۔ اور اسے ایسے حدود وقیود کے اندر بند کردیتی ہے جس کے نتیجے میں فطری میلانات سرکش نہیں ہوتے اور انسان صرف دنیاوی لذات کا گرویدہ نہیں ہوجاتا۔ اس طرح کہ انسانی ‘ روحانی قدریں دب جائیں ۔ تقویٰ اللہ خوفی اور زندگی کی اونچی اقدار کی راہیں بالکل مسدود ہوجائیں۔
زُيِّنَ لِلنَّاسِ حُبُّ الشَّهَوَاتِ …………… ” لوگوں کے لئے مرغوبات نفس کو مزین بنادیا گیا ہے۔ “ بس یہ مرغوبات مستحب ہیں اور لذیذ ہیں ……………یہ مکروہ اور غلیظ نہیں ہیں ۔ انداز تعبیر ایسا ہے کہ جس سے ان مرغوبات کی غلاظت اور کراہت کا اظہار نہیں ہوتا ۔ آیت صرف ان چیزوں کے مزاج اور ان کی حقیقت کو سمجھانا چاہتی ہے ۔ اور ان کے اثرات کا اظہار مقصود ہے ۔ نیز یہاں مطلوب یہ ہے کہ ان اشیاء کی قدرومنزلت اور ان کے مقام کا تعین کردیا جائے ‘ تاکہ وہ اس مقام سے آگے نہ بڑھ سکیں ۔ نہ وہ ان اقدار پر دست درازی کرسکیں جو ان کے مقابلے میں اعلیٰ وارفع ہیں ۔ انسان صرف ان دنیاوی شہوات میں غرق ہوکر نہ رہ جائے بلکہ اس کی نظریں دار آخرت پر مسلسل لگی ہوں ‘ اگرچہ وہ بقدر ضرورت ان لذات سے بھی لطف اندوز ہوتا رہے ۔
یہاں آکر معلوم ہوجاتا ہے کہ اسلام فطرت انسانی کو ایک حقیقت واقعیہ کے طور پر لیتا ہے اور فطری میلانات کا مناسب لحاظ رکھتا ہے ۔ اور وہ ان میلانات کو مہذب اور شائستہ بناتا ہے۔ اور ان کو رفعت دیتا ہے ۔ وہ کسی صورت میں بھی ان میلانات کی بیخ کنی نہیں کرتا ‘ جو لوگ آج کل علم النفس کے مضمون میں میلانات کی بیخ کنی کے نقصانات بیان کرتے ہیں یا وہ نفسیاتی الجھنوں پر بحث کرتے ہیں جو جذبات کی بیخ کنی کے نتیجے میں پیدا ہوتی ہیں ۔ وہ اس بات کی تائید کرتے ہیں کہ نفسیاتی الجھن جذبات کی بیخ کنی سے پیدا ہوتی ہے ‘ وہ جذبات کے ضبط اور تہذیب سے پیدا نہیں ہوتی اور بیخ کنی کا مفہوم یہ ہے تقاضائے فطرت کو گندگی سمجھاجائے اور اس کے ارتکاب کو برا سمجھاجائے ۔ ایسا کرنے کا انجام یہ ہوتا ہے کہ ایک فرد مختلف سمتوں سے مختلف قسم کے دومیلانات کے دباؤ میں آجاتا ہے ۔ ایک طرف اس کے شعور اور میلان اس کے نظریہ حیات ‘ اس کے مذہب یا اس کے رسم و رواج کے نتیجے میں پیدا ہوتا ہے ۔ مثلاً یوں کہ اس کا نظریہ یہ ہو کہ فطری میلانات تمام کے تمام گندے ہیں ۔ ان کا وجود ہی نہیں ہونا چاہئے ‘ اور درحقیقت وہ شیطانی میلانات ہیں ۔ لیکن ہوتا یہ ہے کہ کوئی نظریاتی یا کوئی مذہبی شعور کبھی بھی ان فطری رجحانات کے دبانے میں کامیاب نہیں ہوا۔ اس لئے یہ میلانات فطری ہوتے ہیں اور فطرت کے اندر اس کی گہری جڑیں ہوتی ہیں ۔ نیز ان کا تعلق بسا اوقات وظیفہ بقائے انسانیت سے ہوتا ہے ۔ ان کے بغیر بقائے انسانیت کا فرض اداہی نہیں کیا جاسکتا۔ انسانی فطرت میں ‘ اللہ تعالیٰ نے یہ میلانات یونہی عبث طور پر نہیں ودیعت کئے ۔ اس کشمکش کے نتیجے میں نفسیاتی الجھن پیدا ہوتی ہے ۔ اگر ہم ان نفسیاتی مباحث کو تسلیم بھی کرلیں تب بھی یہ بات نظر آئے گی کہ اسلام نے بہت پہلے فطرت انسانی کے ان دونوں رجحانات ومیلانات کے اندر توازن پیدا کیا ہے۔ اس نے شہوات اور لذت اور اخلاقی بلندی اور پاکیزگی کے درمیان ایک حسین توازن پیدا کرکے دونوں کو اپنے اپنے مقام پر حدود کے اعتدال کے اندر کام کرنے کی اجازت دی ہے ۔
زُيِّنَ لِلنَّاسِ حُبُّ الشَّهَوَاتِ مِنَ النِّسَاءِ وَالْبَنِينَ وَالْقَنَاطِيرِ الْمُقَنْطَرَةِ مِنَ الذَّهَبِ وَالْفِضَّةِ وَالْخَيْلِ الْمُسَوَّمَةِ وَالأنْعَامِ وَالْحَرْثِ
” لوگوں کے لئے مرغوبات نفس ‘ عورتیں ‘ اولاد ‘ سونے اور چاندی کے ڈھیر ‘ چیدہ گھوڑے ‘ مویشی اور زرعی زمینیں بڑی خوشنما بنادی گئی ہیں۔ “
عورتیں اور بچے انسانی خواہشات میں بہت ہی قوی اور شدید خواہشات ہیں ۔ اور ان کے ساتھ ساتھ سونے اور چاندی کے ڈھیروں کا بھی ذکر کیا گیا ہے ۔ زیادہ سے زیادہ دولت جمع کرنے کو وَالْقَنَاطِيرِ الْمُقَنْطَرَة…………سے بیان کیا گیا ہے ۔ اور اگر صرف مال و دولت کی مذمت مطلوب ہوتی تومِنَ الاَموَالِ……………کا لفظ ہوتا ہے مِنَ الذَّهَبِ وَالْفِضَّةِ …………… ہوتا لیکن قناطیر مقنطرۃ یعنی مال و دولت اور سونے چاندی کے ڈھیر کے الفاظ ایک خاص شیڈو دیتے ہیں۔ اور یہ سونے اور چاندی کے زیادہ سے زیادہ ذخار کا مطلب یہ ہے کہ ایک کہ دولت کا جمع کرنا بذات خود ایک مرغوب چیز ہے ۔ رہے اس کے فوائد تو وہ سب کو معلوم ہیں یعنی یہ ڈھیر ایک انسان کے لئے ہر قسم کے شہوات کی فراہمی کا سبب بنتے ہیں ۔ عورتوں ‘ اولاد اور ڈھیر سے سونے چاندی کے ساتھ ساتھ یہاں وَالْخَيْلِ الْمُسَوَّمَةِ……………کیا ذکر کیا گیا یعنی چیدہ گھوڑے ۔ گھوڑے ‘ جس طرح آج کے اس مادی اور صنعتی دور میں بھی محبوب سواری تصور ہوتے ہیں ۔ اس دور میں نہایت ہی محبوب اور مرغوب ہوتے تھے ۔ اور یہ اس لئے کہ ان میں حسن وجال بھی ہوتا ہے۔ وہ ہر شوکت اور سریع الحرکت ہوتے ہیں ۔ ان میں ذہانت اور اپنے مالک کے ساتھ بےحد محبت بھی ہوتی ہے ۔ یہاں تک کہ جن لوگوں نے عملاً گھوڑے سواری نہیں کی ہوتی انہیں بھی اسے دیکھ کر خوب مزہ آتا ہے ۔ جب تک ان میں اس قدر زندگی موجود ہو کہ وہ ایک مضبوط اور جوان گھوڑے کو دیکھ کر خوش ہوتے ہوں۔
ان کے بعد ان مرغوبات کے ساتھ ساتھ دوسرے مویشیوں اور زرعی اراضی کا ذکر کیا ‘ مویشی اور زرعی اراضی کے درمیان چولی دامن کا تعلق ہوتا ہے ۔ اس لئے ان کا ایک ساتھ ذکر ہوا ۔ ذہن میں بھی وہ ساتھ ہوتے ہیں اور حقیقت واقعہ میں بھی ۔ مویشی اور کھیت اور تروتازہ کھیت ‘ جہاں نشوونما کا کام جاری رہتا ہے ۔ انسان کے پسندیدہ مرغوبات ہیں ۔ اس لئے کہ ان کھیتوں میں سے زندگی پھوٹ کر نکلتی ہے۔ اور یہ ایک عجیب نظارہ ہوتا ہے ۔ بہت ہی پسندیدہ اور جب اس منظر کے ساتھ یہ شعور بھی وابستہ ہوجاتے کہ اس کھیت اور اس میں چلتی جوڑی کا مالک میں بھی ہوں تو واقعی یہ ایک فطرتاً پسندیدہ منظر ہوتا ہے۔
یہاں جن مرغوبات کا ذکر کیا گیا ہے ۔ وہ مرغوبات نفس کا ایک ادنیٰ نمونہ ہے ۔ ان میں سے بعض ایسی مرغوبات ہیں جو اس سوسائٹی میں اعلیٰ ترین مرغوبات تھیں جن سے قرآن کریم اس دور میں خطاب کررہا تھا اور بعض مرغوبات ایسی ہیں جو ہر زمانے میں نفس انسانی کے لئے مرغوب ہیں ۔ اسلام ان مرغوبات کا ذکر کرتا ہے ‘ ہر ایک کی قدر و قیمت متعین کرتا ہے ۔ تاکہ یہ مرغوبات اپنی جگہ قائم رہیں اور زندگی کی دوسری قدروں پر دست درازی نہ کریں۔
ذَلِكَ مَتَاعُ الْحَيَاةِ الدُّنْيَا ” یہ دنیا کی چند روزہ زندگی کے سامان ہیں ۔ “ یہ تمام مرغوبات جو پیش کی گئیں یا ان کے علاوہ جو دوسری فطرتاً پسندیدہ چیزیں ہیں یہ دنیا کی چند روزہ حیات کے لئے ساز و سامان ہیں جو اعلیٰ وارفع اور دائمی زندگی کا سامان نہیں ہیں نہ یہ ان آفاق عالیہ تک انسان کو بلند کرتے ہیں۔ یہ تو قریب ہی زمین کے اوپر زندہ رہنے کے اسباب ہیں ۔ لیکن جو شخص اس سے بہتر مرغوبات چاہتا ہے ان سب زیادہ قیمتی ‘ زیادہ بلند اور پاکیزہ مقاصد چاہتا ہے اور اس لئے چاہتا ہے کہ وہ ان مرغوبات ارضی اور شہوات نفسی میں مستغرق نہ ہوجائے اور بلندیوں تک اونچا ہونے کی بجائے زمین پر ہی پڑانہ رہے تو جو شخص فی الواقعہ اس دنیائے ادنیٰ سے کہیں بلند آشیانے کی تلاش میں ہے تو قرآن کریم اس مقام بلند تک بھی اس کی راہنمائی یوں کرتا ہے۔
آیت 14 زُیِّنَ للنَّاسِ حُبُّ الشَّہَوٰتِ مِنَ النِّسَآءِ وَالْبَنِیْنَ مرغوبات دنیا میں سے پہلی محبت عورتوں کی گنوائی گئی ہے۔ فرائیڈ کے نزدیک بھی انسانی محرکات میں سب سے قوی اور زبردست محرک potent motive جنسی جذبہ ہے اور یہاں اللہ تعالیٰ نے بھی سب سے پہلے اسی کا ذکر کیا ہے۔ اگرچہ بعض لوگوں کے لیے پیٹ کا مسئلہ فوقیت اختیار کرجاتا ہے اور معاشی ضرورت جنسی جذبے سے بھی شدید تر ہوجاتی ہے ‘ لیکن واقعہ یہ ہے کہ مرد و عورت کے مابین کشش انسانی فطرت کا لازمہ ہے۔ چناچہ رسول اللہ ﷺ نے بھی فرمایا ہے : مَا تَرَکْتُ بَعْدِیْ فِتْنَۃً اَضَرَّ عَلَی الرِّجَالِ مِنَ النِّسَاءِ 1میں نے اپنے بعد مردوں کے لیے عورتوں کے فتنے سے زیادہ ضرر رساں فتنہ اور کوئی نہیں چھوڑا۔ان کی محبت انسان کو کہاں سے کہاں لے جاتی ہے۔ بلعام بن باعورہ یہود میں سے ایک بہت بڑا عالم اور فاضل شخص تھا ‘ مگر ایک عورت کے چکر میں آکر وہ شیطان کا پیرو بن گیا۔ اس کا قصہّ سورة الاعراف میں بیان ہوا ہے۔ بہرحال عورتوں کی محبت انسانی فطرت کے اندر رکھ دی گئی ہے۔ پھر انسان کو بیٹے بہت پسند ہیں کہ اس کی نسل اور اس کا نام چلتا رہے ‘ وہ بڑھاپے کا سہارا بنیں۔ وَالْقَنَاطِیْرِ الْمُقَنْطَرَۃِ مِنَ الذَّہَبِ وَالْفِضَّۃِ وَالْخَیْلِ الْمُسَوَّمَۃِ عمدہ نسل کے گھوڑے جنہیں چن کر ان پر نشان لگائے جاتے ہیں۔وَالْاَنْعَامِ وَالْحَرْثِ ط پنجاب اور سرائیکی علاقہ میں چوپاؤں کو مال کہا جاتا ہے۔ یہ جانور ان کے مالکوں کے لیے مال کی حیثیت رکھتے ہیں۔ ذٰلِکَ مَتَاعُ الْحَیٰوۃِ الدُّنْیَاج بس نقطۂ اعتدال یہ ہے کہ جان لو یہ ساری چیزیں اس دنیا کی چند روزہ زندگی کا سازوسامان ہیں۔ اس زندگی کے لیے ضروریات کی حد تک ان سے فائدہ اٹھانا کوئیُ بری بات نہیں ہے۔وَاللّٰہُ عِنْدَہٗ حُسْنُ الْمَاٰبِ ۔وہ جو اللہ کے پاس ہے اس کے مقابلے میں یہ کچھ بھی نہیں ہے۔ اگر ایمان بالآخرت موجود ہے تو پھر انسان ان تمام مرغوبات کو ‘ اپنے تمام جذبات اور میلانات کو ایک حد کے اندر رکھے گا ‘ اس سے آگے نہیں بڑھنے دے گا۔ لیکن اگر ان میں سے کسی ایک شے کی محبت بھی اتنی زوردار ہوگئی کہ آپ کے دل کے اوپر اس کا قبضہ ہوگیا تو بس آپ اس کے غلام ہوگئے ‘ اب وہی آپ کا معبود ہے ‘ چاہے وہ دولت ہو یا کوئی اور شے ہو۔
دنیا کے حسن اور آخرت کے جمال کا تقابل اللہ تعالیٰ بیان فرماتا ہے کہ دنیا کی زندگی کو طرح طرح کی لذتوں سے سجایا گیا ہے ان سب چیزوں میں سب سے پہلے عورتوں کو بیان فرمایا، اس لئے کہ ان کا فتنہ بڑا زبردست ہے۔ صحیح حدیث میں ہے رسول اللہ ﷺ فرماتے ہیں میں نے اپنے بعد مردوں کیلئے عورتوں سے زیادہ نقصان دہ اور کوئی فتنہ نہیں چھوڑا، ہاں جب کسی شخص کی نیت نکاح کرکے زنا سے بچنے کی اور اولاد کی کثرت سے ہو تو بیشک یہ نیک کام ہے اس کی رغبت شریعت نے دلائی ہے اور اس کا حکم دیا ہے اور بہت سی حدیثیں نکاح کرنے بلکہ کثرت نکاح کرنے کی فضیلت میں آئی ہیں اور اس امت میں سب سے بہتر وہ ہے جو سب سے زیادہ بیویوں والا ہو، نبی ﷺ فرماتے ہیں دنیا کا ایک فائدہ ہے اور اس کا بہترین فائدہ نیک بیوی ہے کہ خاوند اگر اس کی طرف دیکھے تو یہ اسے خوش کردے اور اگر حکم دے تو بجا لائے اور اگر کہیں چلا جائے تو اپنے نفس کی اور خاوند کے مال کی حفاظت کرے۔ دوسری حدیث میں ہے مجھے عورتیں اور خوشبو بہت پسند ہے اور میری آنکھوں کی ٹھنڈک نماز میں ہے۔ حضرت عائشہ فرماتی ہیں رسول اللہ ﷺ کو سب سے زیادہ محبوب عورتیں تھیں، ہاں گھوڑے ان سے بھی زیادہ پسند تھے، ایک اور روایت میں ہے گھوڑوں سے زیادہ آپ کی چاہت کی چیز کوئی اور نہ تھی ہاں صرف عورتیں۔ ثابت ہوا عورتوں کی محبت بھلی بھی ہے اور بری بھی۔ اسی طرح اولاد کی اگر ان کی کثرت اس لئے چاہتا ہے کہ وہ فخر و غرور کرے تو بری چیز ہے اور اگر اس لئے ان کی زیادتی چاہتا ہے کہ نسل بڑھے اور موحد مسلمانوں کی گنتی امت محمد ﷺ میں زیادہ ہو تو بیشک یہ بھلائی کی چیز ہے۔ حدیث شریف میں ہے محبت کرنے والیوں اور زیادہ اولاد پیدا کرنے والی عورتوں سے نکاح کرو، قیامت کے دن میں تمہاری زیادتی سے اور امتوں پر فخر کرنے والا ہوں۔ ٹھیک اسی طرح مال بھی ہے کہ اگر ان کی محبت گرے پڑے لوگوں کو حقیر سمجھنے اور مسکینوں غریبوں پر فخر کرنے کیلئے ہے تو بیحد بری چیز ہے، اور اگر مال کی چاہت اپنوں اور غیروں سے سلوک کرنے، نیکیاں کرنے اور اللہ کی راہ میں خرچ کرنے کیلئے ہے تو ہر طرح وہ شرعاً اچھی اور بہت اچھی چیز ہے۔ قنطار کی مقدار میں مفسرین کا اختلاف ہے، ماحصل یہ ہے کہ بہت زیادہ مال کو قنطار کہتے ہیں، جیسے حضرت ضحاک کا قول ہے، اوراقوال بھی ملاحظہ ہوں، ایک ہزار دینار، بارہ ہزار چالیس ہزار ساٹھ ہزار، ستر ہزار، اسی ہزار وغیرہ وغیرہ۔ مسند احمد کی ایک مرفوع حدیث میں ہے، ایک قنطار بارہ ہزار اوقیہ کا ہے اور ہر اوقیہ بہتر ہے زمین و آسمان سے، غالباً یہاں مقدار ثواب کی بیان ہوئی ہے جو ایک قنطار ملے گا (واللہ اعلم) حضرت ابوہریرہ سے بھی ایسی ہی ایک موقوف روایت بھی مروی ہے اور یہی زیادہ صحیح ہے۔ اسی طرح ابن جریر میں حضرت معاذ بن جبل اور حضرت ابن عمر سے بھی مروی ہے، اور ابن ابی حاتم میں حضرت ابوہریرہ اور حضرت ابو الدرداء سے مروی ہے کہ قنطار بارہ سو اوقیہ ہیں، ابن جریر کی ایک مرفوع حدیث میں سو اوقیہ آئے ہیں لیکن وہ حدیث بھی منکر ہے، ممکن ہے کہ وہ حضرت ابی بن کعب کا قول ہو جیسے اور صحابہ کا بھی یہی فرمان ہے۔ ابن مردویہ میں ہے رسول اللہ ﷺ فرماتے ہیں جو شخص سو آیتیں پڑھ لے غافلوں میں نہیں لکھا جائے گا اور جس نے سو سے ہزار تک پڑھ لیں اسے اللہ تعالیٰ کی طرف سے ایک قنطار اجر ملے گا، اور قنطار بڑے پہاڑ کے برابر ہے، مستدرک حاکم میں ہی اس آیت کے اس لفظ کا مطلب رسول اللہ ﷺ سے پوچھا گیا تو آپ ﷺ نے فرمایا دو ہزار اوقیہ، امام حاکم اسے صحیح اور شرط شیخین پر بتلاتے ہیں۔ بخاری مسلم نے اسے نقل نہیں کیا، طبرانی وغیرہ میں ہے ایک ہزار دینار، حضرت حسن بصری سے موقوفاً یا مرسلاً مروی ہے کہ بارہ سو دینار، حضرت ابن عباس سے بھی مروی ہے، ضحاک فرماتے ہیں بعض عرب قنطار کو بارہ سو کا بتاتے ہیں، بعض بارہ ہزار کا، حضرت ابو سعید خدری فرماتے ہیں بیل کی کھال کے بھر جانے کے برابر سونے کو قنطار کہتے ہیں۔ یہ مرفوعاً بھی مروی ہے لیکن زیادہ صحیح موقوفاً ہے، گھوڑوں کی محبت تین قسم کی ہے، ایک تو وہ لوگ جو گھوڑوں کو پالتے ہیں اور اللہ کی راہ میں ان پر سوار ہو کر جہاد کرنے کیلئے نکلتے ہیں، ان کیلئے تو یہ بہت ہی اجر وثواب کا سبب ہیں۔ دوسرے وہ جو فخر و غرور کے طور پر پالتے ہیں، ان کیلئے وبال ہے، تیسرے وہ جو سوال سے بچنے اور ان کی نسل کی حفاظت کیلئے پالتے ہیں اور اللہ کا حق نہیں بھولتے، یہ نہ اجر نہ عذاب کے مستحق ہیں۔ اسی مضمون کی حدیث آیت واعدولھم الخ، کی تفسیر میں آئے گی انشاء اللہ۔ " مسومہ " کے معنی چرنے والا اور پنج کلیان (یعنی پیشانی اور چار قدموں پر نشان) وغیرہ کے ہیں، رسول اللہ ﷺ فرماتے ہیں ہر عربی گھوڑا فجر کے وقت اللہ کی اجازت سے دو دعائیں کرتا ہے، کہتا ہے اے اللہ جس کے قبضہ میں تو نے مجھے دیا ہے تو اس کے دل میں اس کے اہل و مال سے زیادہ میری محبت دے، انعام سے مراد اونٹ گائیں بکریاں ہیں۔ حرث سے مراد وہ زمین ہے جو کھیتی بونے یا باغ لگانے کیلئے تیار کی جائے، مسند احمد کی حدیث میں ہی انسان کا بہترین مال زیادہ نسل والا گھوڑا ہے اور زیادہ پھلدار درخت کھجور ہے۔ پھر فرمایا کہ یہ سب دنیاوی فائدہ کی چیزیں ہیں، یہاں کی زینت اور یہاں ہی کی دلکشی کے سامان ہیں جو فانی اور زوال پالنے والے ہیں، اچھی لوٹنے کی جگہ اور بہترین ثواب کا مرکز اللہ کے پاس ہے، مسند احمد میں ہے کہ جب یہ آیت نازل ہوئی تو حضرت عمر بن خطاب نے فرمایا اے اللہ جبکہ تو نے اسے زینت دے دی تو اس کے بعد کیا ؟ اس پر اس کے بعد والی آیت اتری کہ اے نبی ﷺ آپ ان سے کہہ دیجئے کہ میں تمہیں اس سے بہترین چیزیں بتاتا ہوں، یہ تو ایک نہ ایک روز زائل ہونے والی ہیں اور میں جن کی طرف تمہیں بلا رہا ہوں وہ صرف دیرپا ہی نہیں بلکہ ہمیشہ رہنے والی ہیں، سنو اللہ سے ڈرنے والوں کیلئے جنت ہے جس کے کنارے کنارے اور جس کے درختوں کے درمیان قسم قسم کی نہریں بہہ رہی ہیں، کہیں شہد کی، کہیں دودھ کی، کہیں پاک شراب کی، کہیں نفیس پانی کی، اور وہ نعمتیں ہیں جو نہ کسی کان نے سنی ہوں نہ کسی آنکھ نے دیکھی ہوں نہ کسی دل میں خیال بھی گزرا ہو، ان جنتوں میں یہ متقی لوگ ابدالآباد رہیں گے نہ یہ نکالے جائیں نہ انہیں دی ہوئی نعمتیں گم ہوں گی نہ فنا ہوں گی، پھر وہاں بیویاں ملیں گی جو میل کچیل سے خباثت اور برائی سے حیض اور نفاس سے گندگی اور پلیدی سے پاک ہیں، ہر طرح ستھری اور پاکیزہ، ان سب سے بڑھ کر یہ کہ اللہ کی رضامندی انہیں حاصل ہوجائے گی اور ایسی کہ اس کے بعد ناراضگی کا کھٹکا ہی نہیں، اسی لئے سورة برات کی آیت میں فرمایا ورضوان من اللہ اکبر اللہ کی تھوڑی سی رضامندی کا حاصل ہوجانا بھی سب سے بڑی چیز ہے، یعنی تمام نعمتوں سے اعلیٰ نعمت رضائے رب اور مرضی مولا ہے۔ تمام بندے اللہ کی نگاہ میں ہیں وہ بخوبی جانتا ہے کہ کون مہربانی کا مستحق ہے۔