اس ٹکڑے کی پہلی آیت ایک متعین واقعہ کی طرف اشارہ کررہی ہے اور یہ واقعہ غزوہ احد میں پیش آیا۔ جب تیراندازوں نے پہاڑ پر اپنا متعین مقام چھوڑدیا ‘ اور مشرکین وہاں سے ان پر چڑھ دوڑے ‘ مسلمانوں پر ٹوٹ پڑے ‘ مسلمانوں کو شکست ہوئی اور رسول ﷺ کے دانت مبارک شہید ہوگئے اور آپ کے چہرے پر زخم آئے اور چہرہ مبارک سے خون بہنے لگا ‘ فریقین باہم گتھم گتھا ہوگئے ‘ مسلمان منتشر ہوگئے ‘ کسی کو کسی کا پتہ نہ رہا۔ ان حالات میں کسی پکارنے والے نے یہ آواز دے دی ۔ لوگو ! محمد ﷺ قتل ہوگئے۔ اس چیخ کا مسلمانوں پر بہت ہی برا اثر ہوا۔ ان میں سے بہت سے لوٹ کر مدینہ آگئے ۔ پہاڑ کے اوپر چڑھ گئے ‘ شکست کھاگئے اور مایوس ہوکر میدان جنگ کو چھوڑ گئے ۔ رسول ﷺ کے پاس چند افراد رہ گئے اور ان حالات میں آپ ﷺ ان چند افراد کے ساتھ جم گئے۔ اور مسلمانوں کو یہ آواز دینے لگے کہ واپس آؤ ‘ چناچہ وہ پھر سے مجتمع ہوئے ۔ ان کے دل تھم گئے ۔ اس وقت اللہ تعالیٰ نے ایک محسوس انداز میں ان پر اونگھ طاری کرکے انہیں طمانیت قلب اور امن و سکون عطا کردیا جب کہ تفصیلات بعد میں آرہی ہیں۔
یہ واقعہ جس نے ان لوگوں کو مکمل طور پر مدہوش کردیا تھا ‘ قرآن کریم اسے نکتہ توجہ بناتا ہے اور اس مناسبت سے وہ یہاں اسلامی تصور حیات کے اہم حقائق کو سامنے لاتا ہے۔ اس کو موضوع بناکر یہاں حقیقت موت وحیات کے بارے میں اہم اشارے دئیے جاتے ہیں اور تاریخ ایمانی اور حالات قافلہ ایمانی پر روشنی ڈالی جاتی ہے۔
وَمَا مُحَمَّدٌ إِلا رَسُولٌ قَدْ خَلَتْ مِنْ قَبْلِهِ الرُّسُلُ أَفَإِنْ مَاتَ أَوْ قُتِلَ انْقَلَبْتُمْ عَلَى أَعْقَابِكُمْ وَمَنْ يَنْقَلِبْ عَلَى عَقِبَيْهِ فَلَنْ يَضُرَّ اللَّهَ شَيْئًا وَسَيَجْزِي اللَّهُ الشَّاكِرِينَ
” محمد اس کے سوا کچھ نہیں کہ بس ایک رسول ہیں ‘ ان سے پہلے اور بھی رسول گزرچکے ہیں ‘ پھر کیا اگر وہ مرجائیں یا قتل کردیئے جائیں تو تم لوگ الٹے پاؤں پھر جاؤگے یاد رکھو ‘ جو الٹا پھرے گا وہ اللہ کا کچھ نقصان نہ کرے گا ‘ البتہ جو اللہ کے شکر گزار بندے بن کر رہیں گے انہیں وہ اس کی جزادے گا۔ “
بیشک محمد ﷺ صرف رسول ہیں ‘ ان سے پہلے بھی رسول گزرے ہیں ‘ یہ سب رسل فوت ہوئے ہیں اور محمد ﷺ بھی اس طرح فوت ہوں گے جس طرح وہ رسول فوت ہوئے ۔ یہ ایک ایسی حقیقت ہے جس کا انکار نہیں کیا جاسکتا۔ جب اس معرکہ میں یہ حقیقت (اگرچہ جھوٹی افواہ کے طور پر) تمہارے سامنے آئی تو کیوں تمہاری نظروں سے اوجھل رہی ۔ یہ نہایت ہی حیرت انگیز بات ہے۔
محمد ﷺ اللہ کی طرف سے پیغام لانے والے ہیں ۔ وہ اس لئے آئے ہیں کہ اللہ کا پیغام پہنچادیں ۔ اللہ اپنی جگہ زندہ لایموت ہے ۔ اس کا پیغام زندہ جاوید ہے ۔ اس لئے یہ کس طرح مناسب ہوگا کہ اگر پیغام لانے والے فوت ہوجائیں یا قتل ہوجائیں تو تم اپنے نظریہ حیات کو چھوڑ کر الٹے پاؤں پھر جاؤ۔ یہ بھی ایک واضح حقیقت تھی جو اس معرکہ کی افراتفری میں ان کی نظروں سے اوجھل ہوگئی تھی حالانکہ مناسب تھا کہ یہ اہل ایمان کی نظروں سے اوجھل ہوجائے کیونکہ یہ نہایت ہی سیدھی سادھی بات تھی۔
انسان فانی ہے اور نظریہ حیات باقی ہے ۔ اسلامی نظام زندگی ایک علیحدہ حقیقت ہے جو ان لوگوں سے بالکل مستقل حقیقت رکھتا ہے جو اس کے حاملین ہیں اور جو اسے لوگوں تک پہنچاتے ہیں ‘ وہ رسول ہوں یا رسولوں کے بعد امت کے داعی اور مبلغین ہوں ۔ وہ مسلمان جو رسول اللہ ﷺ کے ساتھ محبت رکھتا ہے اور یہ محبت ایسی ہے جس کی پوری تاریخ انسانی میں کوئی نظیر نہیں ملتی ‘ اس کا فرض ہے کہ وہ ذات رسول اور اس نظریہ حیات کے اندر فرق و امتیاز کرے جسے اس ذات نے لوگوں تک پھیلایا۔ اس لئے کہ جو نظریہ حیات آپ ﷺ نے دیا وہ حَیٌّ لِایَمُوتُ…………ہے۔ اس کا تعلق اللہ تعالیٰ سے ہے جو حَیٌّ لَایَمُوتُ…………ہے۔ یہ فرق کرنا ان کا فرض اس لئے بنتا ہے کہ وہ محب رسول ہیں ۔ یہ لوگ نہیں چاہتے تھے کہ رسول ﷺ کو کانٹا تک بھی چبھے ۔ ابودجانہ کو دیکھو وہ اپنی پیٹھ کے ذریعہ رسول اللہ ﷺ کے ڈھال بنے ہوئے ہیں ۔ ان پر تیروں کی بارش ہورہی ہے اور وہ وہیں ہیں جو جمے ہوئے ہیں اور یہ دیکھو کہ آپ صرف 9 آدمیوں کے ساتھ رہ گئے اور ان سے ایک کے بعد ایک شہید ہورہا ہے ‘ سب ختم ہوجاتے ہیں لیکن آپ ﷺ کو گزند نہ پہنچے نہیں دیتے ۔ اور آج ہر جگہ اور ہر زمانے میں آپ کا نام سنتے ہی لوگ بوجہ محبت وجد میں آجاتے ہیں اور ٹوٹ کر آپ سے محبت کرتے ہیں ‘ اپنے پورتے پورے وجود کے ساتھ اور اپنے پورے جذبات کے ساتھ ۔
اے محبان رسول ! داعی سے دعوت کی قدر و قیمت زیادہ ہے ۔ وَمَا مُحَمَّدٌ إِلا رَسُولٌ قَدْ خَلَتْ مِنْ قَبْلِهِ الرُّسُلُ……………” محمد اس کے سوا کچھ نہیں کہ بس ایک رسول ہیں ۔ ان سے پہلے اور رسول بھی گزرچکے ہیں ۔ “ وہ سابق رسول بھی اسی دعوت کے حاملین تھے جس کی جڑیں زمانہ قدیم تک دور تک پھیلی ہوئی ہیں ‘ تاریخ کے بڑے بڑے میدانوں میں بارہا یہ دعوت سر سبز ہوتی رہی ہے ۔ اس کا آغاز ‘ آغاز انسانیت کے ساتھ ساتھ ہوا ہے ۔ اور یہ رسول زندگی کی گزرگاہوں میں اس کے حدی خواں رہے ہیں ۔ قائدانہ انداز میں امن وسلامتی کے ساتھ ۔
اس لئے یہ پیغام اور یہ نظام داعی سے بڑا ہے اور داعی سے زیادہ زندہ رہنے والا ہے۔ داعی تو آتے جاتے رہتے ہیں لیکن یہ پیغام زمانوں اور نسلوں سے جاری وساری ہے ۔ اس کے ماننے والے اس کے منبع اول کے ساتھ مربوط اور جڑے رہتے ہیں ۔ وہ منبع اور مصدر جس نے خود ان رسولوں کو بھیجا وہ منبع باقی ہے۔ اس کی طرف مومنین کا رخ ہے ۔ وہ نصب العین ہے اور اہل ایمان کے لئے یہ جائز نہیں ہے کہ وہ الٹے پاؤں پھریں اور اللہ کی ہدایت کو چھوڑ کر مرتد ہوجائیں حالانکہ اللہ زندہ جاوید ہے۔
یہی وجہ ہے کہ یہاں ان کے رویے پر سخت نکیر کی گئی ۔ فرماتے ہیں
أَفَإِنْ مَاتَ أَوْ قُتِلَ انْقَلَبْتُمْ عَلَى أَعْقَابِكُمْ وَمَنْ يَنْقَلِبْ عَلَى عَقِبَيْهِ فَلَنْ يَضُرَّ اللَّهَ شَيْئًا وَسَيَجْزِي اللَّهُ الشَّاكِرِينَ
” کیا اگر وہ مرجائیں یا قتل کردیئے جائیں تو تم لوگ الٹے پاؤں پھر جاؤگے ؟ یاد رکھو جو الٹا پھرے گا وہ اللہ کا کچھ نقصان نہ کرے گا ‘ البتہ جو اللہ کے شکر گزار بن رہیں گے انہیں وہ اس کی جزادے گا۔ “
تعبیر ایسی ہے کہ اس میں ارتداد کی زندہ تصویر سامنے آجاتی ہے۔” تم لوگ الٹے پھر جاؤگے۔ “ انْقَلَبْتُمْ عَلَى أَعْقَابِكُمْ……………اوروَمَنْ يَنْقَلِبْ عَلَى عَقِبَيْهِ……………” جو الٹاپھرے۔ “ یہ ایک حسی اور دیکھے جانے والی حرکت ہے ‘ ایک زندہ شخص الٹے پاؤں مڑتا ہے۔ یہ انقلاب ارتداد کی ایک مجسم شکل ہے ۔ اسلامی نظریہ حیات چھوڑنا بعینہ اسی طرح ہے جس طرح ایک شخص اچانک واپس الٹے پاؤں مڑجائے ۔ حالانکہ یہاں اس انقلاب سے مراد یہ حسی حرکت نہیں ہے ‘ بلکہ اس سے مراد وہ نفسیاتی حالت ہے جس میں ایک شخص نظریاتی پسپائی اختیار کرتا ہے ۔ ایک شخص نے یہ آواز دی کہ محمد ﷺ قتل ہوگئے ہیں ‘ یہ سنتے ہی بعض مسلمانوں کے ذہن میں یہ تصور اور یہ سوال آگیا کہ اب مشرکین کے ساتھ جنگ کا فائدیہ کیا ہے ؟ غرض اس طرح ذہنی حرکت اور اس ذہنی انقلاب کا اظہار حسی حرکت سے کیا گیا۔ یعنی ان کے ذہن اس طرح واپس ہوگئے جو طرح وہ معرکہ احد میں جسمانی طور پر پسپائی اختیار کررہے تھے ۔ یہ ہے وہ حقیقت جس کی طرف نضربن انس ؓ نے اشارہ کیا تھا۔ لوگوں نے ہتھیار چھوڑ دئیے اور ان سے کہا گیا کہ رسول اکرم ﷺ تو مارے گئے۔ اس پر انہوں نے ان سے کہا :” پھر محمد ﷺ کے بعد تم زندہ رہ کر کیا کروگے۔ اٹھو اور اس مقصد کے لئے شہیدہوجاؤ جس کے لئے آپ ﷺ شہید ہوئے۔ “
وَمَنْ يَنْقَلِبْ عَلَى عَقِبَيْهِ فَلَنْ يَضُرَّ اللَّهَ شَيْئًا……………” یاد رکھو جو الٹاپھرے گا وہ اللہ کا کچھ نقصان نہ کرے گا۔ “ وہ تو خود خسارہ اٹھائے گا ۔ وہ خود اپنے آپ کو ایذا شدیتا ہے کہ وہ الٹا پھرتا ہے اور اس کے اس انقلاب موقف سے اللہ کو کوئی نقصان نہ ہوگا۔ اللہ تو لوگوں سے بےنیاز ہے ۔ وہ ان کے ایمان کا محتاج نہیں ہے ۔ یہ تو اس کی مہربانی ہے کہ اس نے لوگوں کے لئے یہ نظام تجویز کیا جس میں خود ان کی سعادت اور ان کا فائدہ ہے ۔ اور جو شخص اس نظام سے روگردانی کرے گا وہ خود برے انجام سے اس دنیا میں دوچار ہوگا۔ وہ اپنی ذات میں حیران وپریشان ہوگا اور اپنی سوسائٹی میں بھی ۔ اس کے اس فعل کی وجہ سے یہ نظام خراب ہوگا ‘ حیات انسانی خراب ہوگی اور پوری انسانی آبادی خراب ہوگی ۔ تمام معاملات بےترتیب ہوجائیں گے ‘ لوگ خود اپنے ہاتھوں گرفتار مصیبت ہوں گے ۔ محض اس لئے کہ انہوں نے اس نظام سے روگردانی کی کہ صرف اس کے اندر پوری انسانی نظام زندگی کا نظام درست طور پر چل سکتا ہے ۔ انسان مطمئن ہوسکتا ہے اور صرف اس نظام کے زیرسایہ نفس انسانی اپنی فطرت کے ساتھ ہم آہنگ ہوسکتا ہے ۔ اور اس پوری کائنات کے ساتھ چل سکتا ہے جس کے اندر وہ زندہ رہ رہا ہے۔
وَسَيَجْزِي اللَّهُ الشَّاكِرِينَ……………” اور جو اللہ کے شکر گزاربندے بن کر رہیں گے انہیں وہ اس کی جزادے گا۔ “ یہ شکرگزار وہی ہیں جو اللہ تعالیٰ کی اس نعمت کی قدر و قیمت جاتے جو اس نے انہیں اسلامی نظام زندگی دے کر ان پر کی ۔ وہ شکر اس طرح ادا کرتے ہیں کہ وہ اس نظام کی اطاعت کرتے ہیں ‘ وہ اس طرح بھی شکر کرتے ہیں کہ اللہ کی ثناء خوانی کریں ‘ اور اس کو قائم کرکے اس دنیا کی سعادت حاصل کریں اور یہی ان کی جزا اس دنیا میں ہے ۔ ان کی شکر گزاری کی بہترین جزا اور اس کے بعد آخرت میں ان کو جزا دی جائے گی اور یہ اخروی سعادت ہوگی جو اس دنیاوی سعادت مندی سے بہت بڑی ہوگی اور جوابدہی ہوگی۔
گویا اس واقعہ پر اس تبصرے کے ذریعہ ‘ اللہ تعالیٰ ‘ مسلمانوں کی اس ذاتی دلچسپی کو ‘ جو رسول اکرم ﷺ کی ذات کے ساتھ تھی ‘ ہٹاکر اسے براہ راست ذات باری کے ساتھ جوڑتے ہیں جو اس دعوت کا اصل سرچشمہ ہے ۔ اس لئے کہ دعوت اسلامی کا یہ چشمہ صافی رسول ﷺ نے نہیں جاری فرمایا تھا۔ آپ نے تو لوگوں راہنمائی اس طرف فرمائی اور لوگوں کو بلایا کہ وہ اس ٹھاٹھیں مارتے ہوئے دریا کے فیض سے فیض یاب ہوں ‘ جس طرح آپ ﷺ سے پہلے دوسرے رسول بھی یہی راہنمائی کرتے رہے تھے ۔ اور وہ مخلوق کے پیاسے قافلوں کو دعوت دیتے رہے کہ اس چشمہ صافی سے سیراب ہوں اور پیاس بجھائیں۔
گویا اللہ تعالیٰ کا ارادہ یہ تھا کہ وہ لوگوں کا ہاتھ پکڑ کر ان کے ہاتھ میں وہ مضبوط رسی تھمادیں ‘ جسے حضرت محمد ﷺ نے نہیں باندھا ‘ بلکہ آپ تو اس لئے تشریف لائے تھے کہ لوگوں کو اس پختہ رسی میں باندھ دیں۔ ان کو اسی حالت میں چھوڑ دیں اور وہ اس دنیا سے اس حالت میں چلے جائیں کہ لوگ اس رسی کو مضبوطی سے پکڑے ہوئے ہوں۔
گویا اللہ تعالیٰ یہ چاہتے تھے کہ مسلمانوں کا رابطہ براہ راست اسلام سے ہوجائے اور ان کا عہد براہ راست اللہ کے ساتھ ہوجائے اور اللہ تعالیٰ کے سامنے ‘ اس عہد کے بارے میں ان کی شمولیت بلاواسطہ ہوجائے ۔ براہ راست اللہ کے سامنے وہ جوابدہ ہوں تاکہ وہ اپنی ذمہ داریوں کا احساس کرسکیں ‘ ایسی ذمہ داریاں جو رسول اکرم ﷺ کے فوت ہونے سے ختم نہیں ہوجاتیں ۔ گویا انہوں نے براہ راست اللہ سے بیعت اور براہ راست اللہ کے سامنے وہ اس کے بارے میں جوابدہ ہیں ۔
گویا اللہ کی مشیئت یہ تھی کہ امت مسلمہ اس صدمے سے دوچار ہوجائے جس سے ایک دن اس نے دوچار ہونا تھا۔ اللہ تعالیٰ کو معلوم تھا کہ جب یہ صدمہ ہوگا تو ان کے لئے ناقابل برداشت ہوگا۔ لہٰذا اللہ تعالیٰ نے اس مقام پر انہیں اس صدمے کی ریہرسل کرادی ۔ وہ انہیں عملاً پہنچادیا یعنی رسول کی وفات کے بارے میں بھی انہیں یہ صدمہ پہنچادیا ‘ قبل اس کے کہ یہ صدمہ جب فی الواقعہ ہو تو انہیں بالکل ہی نڈھال نہ کردے۔
اور جب رسول ﷺ کی وفات کے وقت وہ اس صدمے سے دوچار ہوئے تو وہ فی الوا قعہ اسے برداشت نہ کرسکے ۔ حضرت عمرؓ جیسی تربیت یافتہ شخصیت اٹھ کھڑی ہوئی ‘ تلوار سونت لی اور پکارا کہ کوئی یہ لفظ منہ تک نہ لائے کہ محمد ﷺ فوت ہوگئے ہیں۔
یہ ابوبکرؓ ہی تھے جو فوراً اٹھے ‘ جو خدا رسیدہ تھے ‘ جن کا تعلق تقدیر الٰہی سے براہ راست مضبوط تھا ‘ انہوں اسی آیت کو پڑھا اور ان لوگوں کو یاد دلایا جو نڈھال ہوکر حواس کھوبیٹھے تھے ۔ جب انہوں نے اس خدائی پکار کو سنا تو ان کے حواس بحال ہوئے اور وہ ہوش میں آئے ۔
آیت 144 وَمَا مُحَمَّدٌ الاَّ رَسُوْلٌ ج غزوۂ احد کے دوران جب یہ افواہ اڑ گئی کہ محمد رسول اللہ ﷺ کا انتقال ہوگیا ہے تو بعض لوگ بہت دل گرفتہ ہوگئے کہ اب کس لیے جنگ کرنی ہے ؟ حضرت عمر رض بھی ان میں سے تھے۔ آپ رض نے رسول اللہ ﷺ کی وفات کی خبر سن کر تلوار پھینک دی اور دل برداشتہ ہو کر بیٹھ گئے کہ اب ہم نے جنگ کر کے کیا لینا ہے ! یہاں اس طرز عمل پر گرفت ہورہی ہے کہ تمہارا یہ رویہ غلط تھا۔ محمد ﷺ اس کے سوا کچھ نہیں ہیں کہ وہ اللہ کے رسول ہیں ‘ وہ معبود تو نہیں ہیں۔ تم ان کے لیے جہاد نہیں کر رہے ‘ بلکہ اللہ کے لیے کر رہے ہو ‘ اللہ کے دین کے غلبے کے لیے اپنے جان و مال قربان کر رہے ہو۔ محمد ﷺ تو اللہ کے رسول ہیں۔ قَدْ خَلَتْ مِنْ قَبْلِہِ الرُّسُلُ ط اَفَاءِنْ مَّاتَ اَوْ قُتِلَ انْقَلَبْتُمْ عَآٰی اَعْقَابِکُمْ ط کیا اس صورت میں تم الٹے پاؤں راہ حق سے پھر جاؤ گے ؟ کیا یہی تمہارے دین اور ایمان کی حقیقت ہے ؟وَمَنْ یَّنْقَلِبْ عَلٰی عَقِبَیْہِ فَلَنْ یَّضُرَّ اللّٰہَ شَیْءًا ط وَسَیَجْزِی اللّٰہُ الشّٰکِرِیْنَ حضرت عمر رض چونکہ جذباتی انسان تھے لہٰذا رسول اللہ ﷺ کی وفات کی خبر سن کر حوصلہ چھوڑ گئے۔ آپ رض ‘ کی تقریباً یہی کیفیت پھر حضور ﷺ کے انتقال پر ہوگئی تھی۔ آپ رض ‘ تلوار سونت کر بیٹھ گئے تھے کہ جو کہے گا کہ محمد ﷺ کا انتقال ہوگیا ہے میں اس کا سر اڑا دوں گا۔ حضرت ابوبکر رض ثانئ اسلام و غار وبدر و قبر اس وقت مدینہ کے مضافات میں تھے۔ آپ رض ‘ آتے ہی سیدھے اپنی بیٹی حضرت عائشہ رض کے حجرے میں گئے۔ رسول اللہ ﷺ کے چہرۂ مبارک پر چادر تھی ‘ آپ رض نے چادر ہٹائی اور جھک کر آنحضور ﷺ کی پیشانی کو بوسہ دیا اور رو دیے۔ پھر کہا : اے اللہ کے رسول ‘ میرے ماں باپ آپ ﷺ پر قربان ! اللہ تعالیٰ آپ ﷺ پر دو موتیں جمع نہیں کرے گا۔ یعنی اب دوبارہ آپ ﷺ پر موت وارد نہیں ہوگی ‘ اب تو آپ ﷺ ‘ کو حیات جاودانی حاصل ہوچکی ہے۔ حضرت ابوبکر رض باہر آئے اور لوگوں سے خطاب شروع کیا تو حضرت عمر رض بیٹھ گئے۔ حضرت ابوبکر رض نے اللہ تعالیٰ کی حمد و ثنا کے بعد فرمایا : مَنْ کَانَ یَعْبُدُ مُحَمَّدًا فَاِنَّ مُحَمَّدًا قَدْ مَاتَ ‘ وَمَنْ کَانَ یَعْبُدُ اللّٰہَ فَاِنَّ اللّٰہَ حَیٌّ لاَ یَمُوْتُجو کوئی محمد ﷺ کی عبادت کرتا تھا وہ جان لے کہ محمد ﷺ کا انتقال ہوچکا ہے ‘ اور جو کوئی اللہ کی عبادت کرتا تھا اسے معلوم ہو کہ اللہ تو زندہ ہے ‘ جسے موت نہیں آئے گی۔ اس کے بعد آپ رض نے یہ آیت تلاوت فرمائی : وَمَا مُحَمَّدٌ الاَّ رَسُوْلٌج قَدْ خَلَتْ مِنْ قَبْلِہِ الرُّسُلُط اَفَاءِنْ مَّاتَ اَوْ قُتِلَ انْقَلَبْتُمْ عَآٰی اَعْقَابِکُمْط وَمَنْ یَّنْقَلِبْ عَلٰی عَقِبَیْہِ فَلَنْ یَّضُرَّ اللّٰہَ شَیْءًاط وَسَیَجْزِی اللّٰہُ الشّٰکِرِیْنَ حضرت ابوبکر رض کی زبانی یہ آیت سن کر لوگوں کو ایسے محسوس ہوتا تھا کہ جیسے یہ آیت اسی وقت نازل ہوئی ہو۔ 1
رسول اللہ ﷺ کی وفات کا مغالطہٰ اور غزوہ احد میدان احد میں مسلمانوں کو شکست بھی ہوئی اور ان کے بعض قتل بھی کئے گئے۔ اس دن شیطان نے یہ بھی مشہور کردیا کہ محمد ﷺ بھی شہید ہوگئے اور ابن قمیہ کافر نے مشرکوں میں جا کر یہ خبر اڑا دی کہ میں حضور ﷺ کو قتل کر کے آیا ہوں اور دراصل وہ افواہ بےاصل تھی اور اس شخص کا یہ قول بھی غلط تھا۔ اس نے حضور ﷺ پر حملہ تو کیا تھا لیکن اس سے صرف آپ ﷺ کا چہرہ قدرے زخمی ہوگیا تھا اور کوئی بات نہ تھی اس غلط بات کی شہرت نے مسلمانوں کے دل چھوٹے کردیئے ان کے قدم اکھڑ گئے اور لڑائی سے بددل ہو کر بھاگ کھڑے ہوئے اسی بارے میں یہ آیت نازل ہوئی کہ اگلے انبیاء کی طرح یہ بھی ایک نبی ہیں ہوسکتا ہے کہ میدان میں قتل کردیئے جائیں لیکن کچھ اللہ کا دین نہیں جاتا رہے گا ایک روایت میں ہے کہ ایک مہاجر نے دیکھا کہ ایک انصاری جنگ احد میں زخموں سے چور زمین پر گرا پڑا ہے اور خاک و خون میں لوٹ رہا ہے اس سے کہا کہ آپ کو بھی معلوم ہے کہ حضور ﷺ قتل کردیئے گئے اس نے کہا اگر یہ صحیح ہے تو آپ ﷺ تو اپنا کام کر گئے، اب آپ ﷺ کے دین پر سے تم سب بھی قربان ہوجاؤ، اسی کے بارے میں یہ آیت اتری پھر فرمایا کہ حضور ﷺ کا قتل یا انتقال ایسی چیز نہیں کہ تم اللہ تعالیٰ کے دین سے پچھلے پاؤں پلٹ جاؤ اور ایسا کرنے والے اللہ کا کچھ نہ بگاڑیں گے، اللہ تعالیٰ انہی لوگوں کو جزائے خیر دے گا جو اس کی اطاعت پر جم جائیں اور اس کے دین کی مدد میں لگ جائیں اور اس کے رسول ﷺ کی تابعداری میں مضبوط ہوجائیں خواہ رسول ﷺ زندہ ہوں یا نہ ہوں، صحیح بخاری شریف میں ہے کہ حضور ﷺ کے انتقال کی خبر سن کر حضرت ابوبکر صدیق جلدی سے گھوڑے پر سوار ہو کر آئے مسجد میں تشریف لے گئے لوگوں کی حالت دیکھی بھالی اور بغیر کچھ کہے سنے حضرت عائشہ کے گھر پر آئے یہاںحضور ﷺ پر حبرہ کی چادر اوڑھا دی گئی تھی آپ نے چادر کا کونا چہرہ مبارک پر سے ہٹا کر بےساختہ بوسہ لے لیا اور روتے ہوئے فرمانے لگے میرے ماں باپ آپ پر فدا ہوں، اللہ کی قسم اللہ تعالیٰ آپ ﷺ پر دو مرتبہ موت نہ لائے گا جو موت آپ پر لکھ دی گئی تھی وہ آپ کو آچکی۔ اس کے بعد آپ پھر مسجد میں آئے اور دیکھا کہ حضرت عمر خطبہ سنا رہے ہیں ان سے فرمایا کہ خاموش ہوجاؤ انہیں چپ کرا کر آپ نے لوگوں سے فرمایا کہ جو شخص محمد ﷺ کی عبادت کرتا تھا وہ جان لے کہ محمد ﷺ مرگئے اور جو شخص اللہ تعالیٰ کی عبادت کرتا تھا وہ خوش رہے کہ اللہ تعالیٰ زندہ ہے اس پر موت نہیں آتی۔ پھر آپ نے یہ آیت تلاوت فرمائی لوگوں کو ایسا معلوم ہونے لگا گویا یہ آیت اب اتری ہے پھر تو ہر شخص کی زبان پر یہ آیت چڑھ گئی اور لوگوں نے یقین کرلیا کہ آپ ﷺ فوت ہوگئے حضرت صدیق اکبر کی زبانی اس آیت کی تلاوت سن کر حضرت عمر کے تو گویا قدموں تلے سے زمین نکل گئی، انہیں بھی یقین ہوگیا کہ حضور ﷺ اس جہان فانی کو چھوڑ کر چل بسے، حضرت علی رسول اللہ ﷺ کی زندگی ہی میں فرماتے تھے کہ نہ ہم حضور ﷺ کی موت پر مرتد ہوں نہ آپ کی شہادت پر اللہ کی قسم اگر حضور ﷺ قتل کئے جائیں تو ہم بھی اس دین پر مرمٹیں جس پر پر شہید ہوئے اللہ کی قسم میں آپ کا بھائی ہوں آپ کا ولی ہوں آپ کا چچا زاد بھائی ہوں اور آپ کا وارث ہوں مجھ سے زیادہ حقدار آپ کا اور کون ہوگا۔ پھر ارشاد ہوتا ہے کہ ہر شخص اللہ تعالیٰ کے حکم سے اور اپنی مدت پوری کرکے ہی مرتا ہے جیسے اور جگہ ہے وما یعمر من معمر ولا ینقص من عمرہ الی فی کتاب نہ کوئی عمر دیا جاتا ہے نہ عمر گھٹائی جاتی ہے مگر سب کتاب اللہ میں موجود ہے اور جگہ ہے (هُوَ الَّذِيْ خَلَقَكُمْ مِّنْ طِيْنٍ ثُمَّ قَضٰٓى اَجَلًا) 6۔ الانعام :2) " جس اللہ نے تمہیں مٹی سے پیدا کیا قھر وقت پورا کیا اور اجل مقرر کی " اس آیت میں بزدل لوگوں کو شجاعت کی رغبت دلائی گئی ہے اور اللہ کی راہ کے جہاد کا شوق دلایا جارہا ہے اور بتایا جارہا ہے کہ جو انمردی کی وجہ سے کچھ عمر گھٹ نہیں جاتی اور پیچھے ہٹنے کی وجہ سے عمر بڑھ نہیں جاتی۔ موت تو اپنے وقت پر آکر ہی رہے گی خواہ شجاعت اور بہادری برتو خواہ نامردی اور بزدلی دکھاؤ۔ حجر بن عدی جب دشمنان دین کے مقابلے میں جاتے ہیں اور دریائے دجلہ بیچ میں آجاتا ہے اور لشکر اسلام ٹھٹھک کر کھڑا ہوجاتا ہے تو آپ اس آیت کی تلاوت کرکے فرماتے ہیں کہ کوئی بھی بےاجل نہیں مرتا آؤ اسی دجلہ میں گھوڑے ڈال دو ، یہ فرما کر آپ اپنا گھوڑا دریا میں ڈال دیتے ہیں آپ کی دیکھا دیکھی اور لوگ بھی اپنے گھوڑوں کو پانی میں ڈال دیتے ہیں۔ دشمن کا خون خشک ہوجاتا ہے اور اس پر ہیبت طاری ہوجاتی ہے۔ وہ کہنے لگتے ہیں کہ یہ تو دیوانے آدمی ہیں یہ تو پانی کی موجوں سے بھی نہیں ڈرتے بھاگو بھاگو چناچہ سب کے سب بھاگ کھڑے ہوئے۔ پھر ارشاد ہوتا ہے کہ جس کا عمل صرف دنیا کیلئے ہو تو اس میں سے جتنا اس کے مقدر میں ہوتا ہے مل جاتا ہے لیکن آخرت میں وہ خالی ہاتھ رہ جاتا ہے اور جس کا مقصد آخرت طلبی ہو اسے آخرت تو ملتی ہی ہے لیکن دنیا میں بھی اپنے مقدر کا پالیتا ہے جیسے اور جگہ فرمایا من کان یرید حرث الاخرۃ الخ، آخرت کی کھیتی کے چاہنے والے کو ہم زیادتی کے ساتھ دیتے ہیں اور دنیا کی کھیتی کے چاہنے والے کو ہم گو دنیا دے دیں لیکن آخرت میں اس کا کوئی حصہ نہیں اور جگہ ہے من کان یرید العاجلتہ جو شخص صرف دنیا طلب ہی ہو ہم ان میں سے جسے چاہیں جس قدر چاہیں دنیا دے دیتے ہیں پھر وہ جہنمی بن جاتا ہے اور ذلت و رسوائی کے ساتھ میں جاتا ہے اور جو آخرت کا خواہاں ہو اور کوشاں بھی ہو اور باایمان بھی ہو ان کی کوشش اللہ تعالیٰ کے ہاں مشکور ہے اسی لئے یہاں بھی فرمایا کہ ہم شکر گزاروں کو اچھا دبلہ دے دیتے ہیں پھر اللہ تعالیٰ احد کے مجاہدین کو خطاب کرتا ہوا فرماتا ہے کہ اس سے پہلے بھی بہت سے نبی اپنی جماعتوں کو ساتھ لے کر دشمنان دین سے لڑے بھڑے اور وہ تمہاری طرح اللہ کی راہ میں تکلیفیں بھی پہنچائے گئے لیکن پھر بھی مضبوط دل اور صابرو شاکر رہے نہ سست ہوئے نہ ہمت ہاری اور اس صبر کے بدلے انہوں نے اللہ کریم کی محبت مول لے لی، ایک یہ معنی بھی بیان کئے گئے ہیں کہ اے مجاہدین احد تم یہ سن کر حضور ﷺ شہید ہوئے کیوں ہمت ہار بیٹھے ؟ اور کفر کے مقابلے میں کیوں دب گئے ؟ حالانکہ تم سے اگلے لوگ اپنے انبیاء کی شہادت کو دیکھ کر بھی نہ دبے نہ پیچھے ہٹے بلکہ اور تیزی کے ساتھ لڑے، یہ اتنی بڑی مصیبت بھی ان کے قدم نہ ڈگمگا سکی اور کے دل چھوٹے نہ کرسکی پھر تم حضور ﷺ کی شہادت کی خبر سن کر اتنے بودے کیوں ہوگئے ربیون کے بہت سے معنی آتے ہیں مثلاً علماء ابرار متقی عابد زاہد تابع فرمان وغیرہ وغیرہ۔ پس قرآن کریم ان کی اس مصیبت کے وقت دعا کو نقل کرتا ہے پھر فرماتا ہے کہ انہیں دنیا کا ثواب نصرت و مدد ظفرو اقبال ملا اور آخرت کی بھلائی اور اچھائی بھی اسی کے ساتھ جمع ہوئی یہ محسن لوگ اللہ کے چہیتے بندے ہیں۔