یہاں قرآن مجید نے جنگ کی اسٹیج کے تمام مناظر کو پوری طرح ‘ الفاظ کے ذریعہ منقش کردیا ۔ اس میں فتح اور شکست دونوں کے مناظر دکھائے گئے ہیں ‘ الفاظ کی صورت میں ایک ریل چلتی نظر آتی ہے ‘ جس میں میدان جنگ کے تمام مناظر یکے بعد دیگرے سامنے آتے چلے جاتے ہیں ‘ بلکہ دلی خیانت ‘ جسموں کے انداز اور ضمیر کی کھٹک تک صاف نظرآتے ہیں ۔ عبارات کے معانی کو اس طرح منتقل کرتی ہیں گویا ریل ہے جو مناظر دکھا رہی ہے ۔ ہر حرکت میں جدید تصویر ‘ متحرک اور زندہ نظرآتی ہے خصوصاً وہ منظر جب لوگ پہاڑ پر چڑھتے ہوئے بھاگ رہے ہیں اور رسول اللہ ﷺ انہیں پکار رہے ہیں ‘ لیکن وہ ایک نہیں سنتے ۔ دہشت زدہ ہیں ‘ پریشان ہیں ‘ جنگ چھوڑ کر پیٹھ موڑ کر بھاگنے کے لئے اوپر ہی کی طرف جارہے ہیں ۔ ان تصاویر کے ساتھ ساتھ دلی وساوس ، قلبی کیفیات ‘ تاثرات اور خلجان بھی صاف نظر آتا ہے ۔ اتنی بڑی مقدار میں زندہ ‘ متحرک اور چلتی پھرتی تصاویر اور پھر ان کے اندر کے فیصلے ‘ ہدایات اور بہترین تبصرے اور یہ سب کچھ اسی مختصر سی عبارت میں ۔ یہ ہے قرآن کریم کا منفرد اسلوب بیان اور یہ ہے قرآن کریم کی منفرد طرز تربیت۔
وَلَقَدْ صَدَقَكُمُ اللَّهُ وَعْدَهُ إِذْ تَحُسُّونَهُمْ بِإِذْنِهِ…………… ” اللہ نے نصرت کا جو وعدہ تم سے کیا تھا ‘ وہ تو اس نے پورا کردیا۔ ابتداء میں اس کے حکم سے تم انہیں قتل کررہے تھے ۔ “ یہ معرکہ کی ابتدائی تصویر ہے جب مسلمانوں نے مشرکین کو قتل کرنا شروع کردیا تھا۔ تَحُسُّونَهُمْ سے مراد تخمدونَ حِسَّھُم…………(تم اس کے احساس کو بجھا رہے تھے ) یا تم ان کو جڑ سے اکھاڑ پھینک رہے تھے ۔ اس سے پہلے کہ مال غنیمت کالالچ انہیں بےراہ کردے ۔ اور رسول اللہ ﷺ نے انہیں کہہ دیا تھا ” تمہیں فتح نصیب ہوگی لیکن اس وقت تک جب تک تم نے صبر کیا ۔ “ چناچہ یہی بات سچی نکلی۔
حَتَّى إِذَا فَشِلْتُمْ وَتَنَازَعْتُمْ فِي الأمْرِ وَعَصَيْتُمْ مِنْ بَعْدِ مَا أَرَاكُمْ مَا تُحِبُّونَ مِنْكُمْ مَنْ يُرِيدُ الدُّنْيَا وَمِنْكُمْ مَنْ يُرِيدُ الآخِرَةَ
مگر جب تم نے کمزوری دکھائی اور اپنے کام میں باہم اختلاف کیا اور جونہی وہ چیز تمہیں اللہ نے دکھائی جس کی محبت میں تم گرفتار تھے ‘ تم نے اپنے سردار کے حکم کی خلاف ورزی کی ۔ اس لئے کہ تم میں سے بعض لوگ دنیا کے طالب تھے اور کچھ آخرت کی خواہش رکھتے تھے ۔ “
یہ تیراندازوں کے حالات کا جائزہ ہے ۔ ان میں سے بعض لوگ مال غنیمت کے دھوکے میں آگئے ۔ ان کے اور ان میں سے ان لوگوں کے درمیان نزاع ہوگیا جو رسول اللہ ﷺ کی مکمل اطاعت کرنا چاہتے تھے ۔ بات یہاں تک پہنچی کہ انہوں نے معصیت اور نافرمانی کا فیصلہ کیا خصوصاً اس وقت جب انہوں نے اپنی آنکھوں سے فتح مندی کے آثار دیکھ لئے ۔ ان میں دو گروہ بن گئے ۔ ایک گروہ نے مال غنیمت کا ارادہ کرلیا اور دوسرے نے ثواب آخرت کو ترجیح دی ۔ ان کے دلوں کے اندر اختلاف پیدا ہوگیا۔ اور اسلامی صفوں میں وحدت نہ رہی۔ اور نہ ہی ہدف ایک رہا۔ لالچ نے اخلاص کو مکدر کردیا حالانکہ نظریاتی جنگوں میں خلوص شرط اول ہوتی ہے ۔ اس لئے کہ نظریاتی جنگ دوسروں سے مختلف ہوتی ہے ۔ یہ جنگ ایک طرف میدان جنگ میں لڑی جاتی ہے اور دوسری طرف خود انسانی ضمیر کے اندر بھی لڑی جاتی ہے اور جب تک ضمیر کے میدان میں فتح حاصل نہ ہو ‘ جنگ کے میدان میں فتح ممکن نہیں ہے ۔ یہ ایک ایسی جنگ ہوتی ہے جو صرف اللہ کے لئے ہوتی ہے ‘ اس لئے اس میں کامیابی سے ہمکنار وہی لوگ ہوتے ہیں جن کے دل اللہ کے لئے خالص ہوجائیں ۔ جب وہ اللہ کا جھنڈا بلند کرتے ہیں تو اللہ انہیں تب ہی نصرت عطا کرتے ہیں ۔ جب اللہ ان کو چھانٹ کر خالص کردیں اور وہ صرف اسی کے معرکوں میں کامیاب رہتے ہیں حالانکہ وہ باطل کے جھنڈے اٹھا رہے ہوتے ہیں ۔ اس میں بھی حکمت ہوتی ہے ‘ جس کا علم اللہ ہی کو ہوتا ہے۔ لیکن جو لوگ حق کا علم بلند کرتے ہیں اور پھر حق کے لئے یکسو نہیں ہوتے ‘ مخلص نہیں ہوتے ‘ تو ایسے لوگوں کو اللہ کبھی بھی نصرت عطا نہیں کرتے ۔ ان کو آزمائش میں ڈالا جاتا ہے ‘ یہاں تک کہ ان کی چھانٹی ہوجاتی ہے اور وہ لوگ بالکل ستھرے ہوجاتے ہیں جو اللہ کے لئے کام کرتے ہیں ۔ یہ ہے وہ بات جسے قرآن مجید جماعت مسلمہ پر ان کے موقف کی روشنی میں واضح کرنا چاہتا ہے۔ یہ ہے وہ حقیقت جس کی تلقین پہلی جماعت اسلامی کو اس وقت کی جارہی ہے جب کہ وہ ہزیمت کے تلخ حقائق سے دوچار تھی ‘ اسے دردناک چوٹ لگی ہوئی تھی اور یہ چوٹ اس کے اپنے ڈانواں ڈول موقف کی وجہ سے لگی تھی ۔ مِنْكُمْ مَنْ يُرِيدُ الدُّنْيَا وَمِنْكُمْ مَنْ يُرِيدُ الآخِرَةَ……………(ابن کثیر ) یوں اللہ تعالیٰ ان کے دلوں کا حال کھول کر ان کے سامنے رکھ دیتے ہیں ‘ ان کے دلوں کی بات ظاہر کردی جاتی ہے اور انہیں معلوم ہوجاتا ہے کہ شکست کیوں ہوئی تاکہ آئندہ اس سے بچیں۔
اس کے ساتھ ساتھ اللہ اپنی حکمت اور تدبیر کا ایک پہلو بھی ان پر واضح فرماتے ہیں ۔ یہ کہ انہیں جو تکالیف اٹھانی پڑیں اور یہ واقعات جو بالکل ظاہری اسباب کی وجہ سے پیش آئے لیکن اللہ کی قدرت دیکھئے ثُمَّ صَرَفَكُمْ عَنْهُمْ لِيَبْتَلِيَكُمْ……………” تب اللہ نے تمہیں کافروں کے مقابلے میں پسپا کردیا تاکہ تمہاری آزمائش کرے ۔ “ حقیقت یہ ہے کہ انسان کے تمام افعال کی پشت پر تقدیر کارفرما ہوتی ہے ۔ جب انہوں نے کمزوری دکھائی ‘ آپس میں تنازع کیا ‘ حکم عدولی کی ‘ اللہ تعالیٰ نے ان کی قوت کو پھیر دیا ‘ ان کی طاقت ختم ہوگئی ‘ وہ مشرکین کی آمد کو معلوم نہ کرسکے ‘ تیراندازوں کو گھاٹی سے ہٹادیا۔ میدان میں لڑنے والوں کو بھی پیچھے ہٹادیا ۔ وہ بھاگنے لگے ‘ یہ سب واقعات اس طرح پیش آئے کہ خود ان کے کئے کا نتیجہ تھے۔ لیکن ان ظاہری واقعات کے پیچھے بھی حکمت وتدبیر تھی ‘ وہ یہ کہ اللہ اہل ایمان کو آزمائش میں ڈالنا چاہتے تھے تاکہ سخت ترین حالات ‘ خوف وہراس ‘ قتل وجراح اور ہزیمت وشکست سے دوچار کرکے انہیں آزمایاجائے ۔ اور ان مشکلات کے نتیجے میں ان دلوں کے خفیہ گوشے بھی سامنے آجائیں۔ دل صاف ہوجائیں اور صفوں سے کمزور لوگ دور ہوجائیں جیسا کہ آئندہ بیان ہوگا۔ ہوتاتو یہ ہے واقعات بظاہر اپنے ظاہری اسباب کے نیتجے میں سامنے آتے ہیں لیکن ان ظاہری اسباب کے ہوتے ہوئے بھی ان کے پیچھے تدبیر کام کررہی ہوتی ہے ۔ اس لئے ان دونوں کے درمیان کوئی تعارض نہیں ہے ۔ ہر واقعہ کے پیچھے سبب ظاہری بھی ہوتا ہے اور اس سبب ظاہری کے پیچھے اللہ کی حکمت وتدبیر بھی کام کررہی ہوتی ہے اور یہ تدبیر لطیف وخبیر کی طرف سے ہوتی ہے ۔
وَلَقَدْ عَفَا عَنْكُمْ……………” اور حق یہ ہے کہ اللہ نے پھر بھی تمہیں معاف ہی کردیا۔ “ یعنی اللہ نے تمہاری کمزوری ‘ باہم نزاع اور حکم عدولی کو معاف کردیا ۔ اس طرح تم جو بھاگ نکلے ‘ الٹے پاؤں پھرے ۔ یہ سب کچھ اللہ نے معاف کردیا۔ اور یہ معافی صرف اس کا فضل وکرم ہے ۔ تمہاری بشری کمزوریوں کو اس نے معاف کردیا ‘ نظرانداز کردیا کیونکہ تمہاری نیت بری نہ تھی ‘ تم غلطی پر اصرار نہیں کررہے تھے ۔ کیونکہ تمہاری یہ کمزوری اور یہ غلطی دائرہ ایمان کے اندر ہے ۔ تم اللہ کے سامنے بھی جھکتے ہو اور اپنی قیادت کے احکام کے سامنے بھی سرتسلیم خم کرتے ہو۔ وَاللَّهُ ذُو فَضْلٍ عَلَى الْمُؤْمِنِينَ……………” کیونکہ مومنین پر اللہ بڑی نظر عنایت رکھتا ہے۔ “
اس کا پہلا فضل تو یہ ہے کہ اس نے انہیں معاف کردیا ۔ جب تک وہ اسلامی نظام پر قائم ہیں اس کی بندگی کا اقرار کرتے ہیں ۔ وہ اللہ کے خصائص الوہیت وحاکمیت کے مدعی خود نہیں ہوتے ۔ وہ اپنے لئے منہاج حیات ‘ نظام قانون ‘ اقدار حیات اور حسن وقبح کے پیمانے خود وضع نہیں کرتے بلکہ صرف اللہ سے لیتے ہیں ۔ یہ اصول تسلیم کرتے ہوئے اگر ان سے بتقاضائے بشریت ‘ بوجہ کمزوری ‘ بوجہ عارضی جوش اور عارضی خواہشات کوئی غلطی ہوجائے تو وہ معاف ہوسکتی ہے لیکن غلطیوں پر ابتلا کی سزا ضرور دی جاتی ہے تاکہ وہ کھوٹ دور ہو اور وہ کمزوری دور ہو۔
آیت 152 وَلَقَدْ صَدَقَکُمُ اللّٰہُ وَعْدَہٗ اِذْ تَحُسُّوْنَہُمْ بِاِذْنِہٖ ج غزوۂ احد میں جو عارضی شکست ہوگئی تھی اور مسلمانوں کو زَک پہنچی تھی ‘ جس سے ان کے دل زخمی تھے اس کے ضمن میں اب یہ آیت ایک قول فیصل کے انداز میں آئی ہے کہ دیکھو مسلمانو ! تم ہم سے کوئی شکایت نہیں کرسکتے ‘ اللہ نے تم سے تائید و نصرت کا جو وعدہ کیا تھا وہ پورا کردیا تھا جبکہ تم انہیں اللہ کے حکم سے قتل کر رہے تھے ‘ گاجر مولی کی طرح کاٹ رہے تھے۔ تمہیں فتح حاصل ہوگئی تھی اور ہمارا وعدہ پورا ہوچکا تھا۔حَتّٰی اِذَا فَشِلْتُمْ وَتَنَازَعْتُمْ فِی الْاَمْرِ فَشِلْتُمْ کا ترجمہ بعض مترجمین نے کچھ اور بھی کیا ہے ‘ لیکن میرے نزدیک یہاں نظم ڈسپلن کو ڈھیلا کرنا مراد ہے۔ اسلامی نظم جماعت میں سمع وطاعت کو بنیادی اہمیت حاصل ہے ‘ اور ظاہر ہے کہ سمع وطاعت میں ایک ہی شخص کی اطاعت مقصود نہیں ہوتی۔ رسول اللہ ﷺ کی اطاعت بھی فرض تھی اور آپ ﷺ اگر کسی کو امیر مقرر کرتے تو اس کی اطاعت بھی فرض تھی۔ حضرت ابوہریرہ رض روایت کرتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے ارشاد فرمایا : مَنْ اَطَاعَنِیْ فَقَدْ اَطَاع اللّٰہَ ‘ وَمَنْ عَصَانِیْ فَقَدْ عَصَی اللّٰہَ ‘ وَمَنْ اَطَاعَ اَمِیْرِیْ فَقَدْ اَطَاعَنِیْ ‘ وَمَنْ عَصٰی اَمِیْرِیْ فَقَدْ عَصَانِیْ 1جس نے میری اطاعت کی اس نے اللہ کی اطاعت کی ‘ اور جس نے میری نافرمانی کی اس نے اللہ کی نافرمانی کی۔ اور جس نے میرے مقرر کردہ امیر کی اطاعت کی اس نے میری اطاعت کی ‘ اور جس نے میرے نامزد کردہ امیر کی نافرمانی کی اس نے میری نافرمانی کی۔اگرچہ رسول اللہ ﷺ کے حکم کی تو انہوں نے تاویل کرلی تھی کہ حضور ﷺ نے جو یہ فرمایا تھا کہ اگر ہم سب بھی اللہ کی راہ میں قتل ہوجائیں اور تم دیکھو کہ چیلیں اور کوے ہمارا گوشت کھا رہے ہیں تب بھی یہاں سے نہ ہٹنا ‘ تو یہ شکست کی صورت میں تھا ‘ لیکن اب تو فتح ہوگئی ہے۔ چناچہ انہوں نے جان بوجھ کر اللہ کے رسول ﷺ کے حکم کی خلاف ورزی نہیں کی تھی۔ لیکن انہوں نے اپنے مقامی امیر لوکل کمانڈر کے حکم کی خلاف ورزی کی تھی۔ میرے نزدیک یہاں عَصَیْتُمْسے یہی حکم عدولی مراد ہے۔ اسلامی نظم جماعت میں اوپر سے لے کر نیچے تک ‘ سپہ سالار سے لے کر لوکل کمانڈر تک ‘ درجہ بدرجہ نظام سمع وطاعت کی پابندی ضروری ہے۔ فوج کا ایک سپہ سالار ہے ‘ لیکن پھر پوری فوج کے کئی حصے ہوتے ہیں اور ہر ایک کا ایک امیر ہوتا ہے۔ میسرہ ‘ میمنہ ‘ قلب اور ہراول دستہ وغیرہ ‘ ہر ایک کا ایک کمانڈر ہوتا ہے۔ اب اگر ان کمانڈروں کے احکام سے سرتابی ہوگی تو ایسی فوج کا جو انجام ہوگا وہ معلوم ہے۔ چناچہ ایک جماعت کے اندر درجہ بدرجہ جو بھی نظام سمع وطاعت ہے اس کی پوری پوری پابندی ضروری ہے۔وَعَصَیْتُم مِّنْم بَعْدِ مَآ اَرٰٹکُمْ مَّا تُحِبُّونَ ط۔عَصَیْتُمْ کے بارے میں وضاحت ہوچکی ہے کہ اس سے مراد اللہ کے رسول ﷺ کی نافرمانی نہیں ‘ بلکہ لوکل کمانڈر کی نافرمانی ہے۔ مِّنْم بَعْدِ مَآ اَرٰٹکُمْ مَّا تُحِبُّونَ ط سے اکثر مفسرین نے مال غنیمت مراد لیا ہے ‘ کہ درّے پر مامور حضرات مال غنیمت کی طلب میں درّہ چھوڑ کر چلے گئے ‘ لیکن میرے نزدیک یہ بات درست نہیں ہے۔ اس لیے کہ مال غنیمت کی تقسیم کا قانون تو غزوۂ بدر کے بعد سورة الانفال میں نازل ہوچکا تھا۔ اس کی رو سے چاہے کوئی شخص کچھ جمع کرے یا نہ کرے اسے مال غنیمت میں سے برابر کا حصہ ملے گا۔ یہاں مِّنْم بَعْدِ مَآ اَرٰٹکُمْ مَّا تُحِبُّونَ ط سے مراد دراصل فتح ہے اور اس کے لیے القرآن یفُسِّر بعضُہ بَعْضًاکی رو سے سورة الصف کی یہ آیت ہماری رہنمائی کرتی ہے : وَاُخْرٰی تُحِبُّوْنَھَاط نَصْرٌ مِّنَ اللّٰہِ وَفَتْحٌ قَرِیْبٌ ط آیت 13 گویا بندۂ مؤمن کو دنیا میں فتح و نصرت محبوب تو ہوتی ہے ‘ لیکن اسے اس کو اپنا مقصود نہیں بنانا۔ اس کا مقصود اللہ کی رضا جوئی اور اپنے فرض کی ادائیگی ہے۔ باقی کامیابی یا ناکامی اللہ کی مرضی اور اس کی حکمت کے تحت ہوتی ہے۔ اللہ کب فتح لانا چاہتا ہے وہ بہتر جانتا ہے۔ مِنْکُمْ مَّنْ یُّرِیْدُ الدُّنْیَا یعنی وہ خواہش رکھتے ہیں کہ دنیا میں فتح و نصرت اور کامیابی حاصل ہوجائے ‘ ہمارا بول بالا ہوجائے ‘ ہماری حکومت قائم ہوجائے۔وَمِنْکُمْ مَّنْ یُّرِیْدُ الْاٰخِرَۃَ ج ثُمَّ صَرَفَکُمْ عَنْہُمْ لِیَبْتَلِیَکُمْ ج پہلے وہ بھاگ رہے تھے اور تم ان کا تعاقب کر رہے تھے ‘ اب معاملہ الٹاہو گیا کہ تم پسپا ہوگئے اور اپنی جانیں بچانے کے لیے ادھر ادھر جائے پناہ ڈھونڈنے لگے۔ تمہاری یہ پسپائی تمہارے لیے آزمائش تھی۔وَلَقَدْ عَفَا عَنْکُمْ ط۔تم میں سے جس کسی سے جو بھی خطا ہوئی اللہ نے اسے معاف فرما دیا ہے۔