سورة آل عمران: آیت 154 - ثم أنزل عليكم من بعد... - اردو

آیت 154 کی تفسیر, سورة آل عمران

ثُمَّ أَنزَلَ عَلَيْكُم مِّنۢ بَعْدِ ٱلْغَمِّ أَمَنَةً نُّعَاسًا يَغْشَىٰ طَآئِفَةً مِّنكُمْ ۖ وَطَآئِفَةٌ قَدْ أَهَمَّتْهُمْ أَنفُسُهُمْ يَظُنُّونَ بِٱللَّهِ غَيْرَ ٱلْحَقِّ ظَنَّ ٱلْجَٰهِلِيَّةِ ۖ يَقُولُونَ هَل لَّنَا مِنَ ٱلْأَمْرِ مِن شَىْءٍ ۗ قُلْ إِنَّ ٱلْأَمْرَ كُلَّهُۥ لِلَّهِ ۗ يُخْفُونَ فِىٓ أَنفُسِهِم مَّا لَا يُبْدُونَ لَكَ ۖ يَقُولُونَ لَوْ كَانَ لَنَا مِنَ ٱلْأَمْرِ شَىْءٌ مَّا قُتِلْنَا هَٰهُنَا ۗ قُل لَّوْ كُنتُمْ فِى بُيُوتِكُمْ لَبَرَزَ ٱلَّذِينَ كُتِبَ عَلَيْهِمُ ٱلْقَتْلُ إِلَىٰ مَضَاجِعِهِمْ ۖ وَلِيَبْتَلِىَ ٱللَّهُ مَا فِى صُدُورِكُمْ وَلِيُمَحِّصَ مَا فِى قُلُوبِكُمْ ۗ وَٱللَّهُ عَلِيمٌۢ بِذَاتِ ٱلصُّدُورِ

اردو ترجمہ

اس غم کے بعد پھر اللہ نے تم میں سے کچھ لوگوں پر ایسی اطمینان کی سی حالت طاری کر دی کہ وہ اونگھنے لگے مگر ایک دوسرا گروہ، جس کے لیے ساری اہمیت بس اپنے مفاد ہی کی تھی، اللہ کے متعلق طرح طرح کے جاہلانہ گمان کرنے لگا جو سراسر خلاف حق تھے یہ لوگ اب کہتے ہیں کہ، "اس کام کے چلانے میں ہمارا بھی کوئی حصہ ہے؟" ان سے کہو "(کسی کا کوئی حصہ نہیں) اِس کام کے سارے اختیارات اللہ کے ہاتھ میں ہیں" دراصل یہ لوگ اپنے دلوں میں جو بات چھپائے ہوئے ہیں اُسے تم پر ظاہر نہیں کرتے ان کا اصل مطلب یہ ہے کہ، "اگر (قیادت کے) اختیارات میں ہمارا کچھ حصہ ہوتا تو یہاں ہم نہ مارے جاتے" ان سے کہہ دو کہ، "اگر تم اپنے گھروں میں بھی ہوتے تو جن لوگوں کی موت لکھی ہوئی تھی وہ خود اپنی قتل گاہوں کی طرف نکل آتے" اور یہ معاملہ جو پیش آیا، یہ تو اس لیے تھا کہ جو کچھ تمہارے سینوں میں پوشیدہ ہے اللہ اُسے آزما لے اور جو کھوٹ تمہارے دلوں میں ہے اُسے چھانٹ دے، اللہ دلوں کا حال خوب جانتا ہے

انگریزی ٹرانسلیٹریشن

Thumma anzala AAalaykum min baAAdi alghammi amanatan nuAAasan yaghsha taifatan minkum wataifatun qad ahammathum anfusuhum yathunnoona biAllahi ghayra alhaqqi thanna aljahiliyyati yaqooloona hal lana mina alamri min shayin qul inna alamra kullahu lillahi yukhfoona fee anfusihim ma la yubdoona laka yaqooloona law kana lana mina alamri shayon ma qutilna hahuna qul law kuntum fee buyootikum labaraza allatheena kutiba AAalayhimu alqatlu ila madajiAAihim waliyabtaliya Allahu ma fee sudoorikum waliyumahhisa ma fee quloobikum waAllahu AAaleemun bithati alssudoori

آیت 154 کی تفسیر

جب اس ہزیمت کا خوف وہراس فرو ہوگیا ‘ اس کی افراتفری ختم ہوگئی تو اہل ایمان پر ایک عجیب سکون طاری ہوگیا۔ اہل ایمان جو اپنے رب کی طرف دوبارہ پلٹ آئے اور نبی ﷺ کے اردگرد جمع ہوئے تو ان پر ایک عجیب اونگھ طاری کردی گئی ۔ انہیں ایک ناقابل فہم سکون حاصل ہوگیا اور وہ مطمئن ہوگئے ۔ اس نئی معجزانہ فضائے امن و سکون کی تعبیر نہایت ہی تعجب انگیز ہے ۔ وہ نہایت شفاف ‘ نرم اور خوشگوار فضا ہے اور اس کے زمزمہ اور خوشگوار چھاؤں کی تصویر کشی ان الفاظ میں ہے ۔ ثُمَّ أَنْزَلَ عَلَيْكُمْ مِنْ بَعْدِ الْغَمِّ أَمَنَةً نُعَاسًا يَغْشَى طَائِفَةً مِنْكُمْ……………” اس غم کے بعد پھر اللہ نے تم پر ایسی اطمینان کی سی حالت طاری کردی کہ وہ اونگھنے لگے ۔ “ یہ ایک ایسی فضاتھی جس سے رحمت الٰہی کا اظہار ہورہا تھا اور اللہ کے خاص مومن بندوں پر یہ خاص رحمت نازل ہوا کرتی ہے ۔ یہ ایک اونگھ تھی اور خوفزدہ اور پریشان حال مجاہدین پر جب اونگھ آجائے ‘ اگرچہ ایک لحظہ کے لئے کیوں نہ ہو تو وہ ان کے جسم کے اندر ساحرانہ اثر کرتی ہے ‘ اونگھ دور ہوتے ہی وہ تروتازگی محسوس کرتے ہیں ‘ گویا وہ ایک نئی مخلوق ہیں ‘ دلوں پر اطمینان کی حالت طاری ہوجاتی ہے ۔ جسم آرام محسوس کرتا ہے ۔ اس اونگھ کی کیا حقیقت ہے ‘ اس کی حقیقت اور ماہیت اور کیفیت کا ادراک ہم نہیں کرسکتے ۔ میں صرف یہ کہہ سکتا ہوں کہ میں نے شدید پریشانی کے عالم میں ایسی حالت کو محسوس کیا ہے ۔ میں نے واضح طور پر محسوس کیا کہ اس میں اللہ اللہ کی رحمت کی شبنم ہے ۔ اور اس قدر معجزانہ کہ ہمارے الفاظ اس کے بیان سے قاصر ہیں ۔

ترمذی ‘ نسائی ‘ حاکم نے حماد ابن سلمہ کے واسطہ سے ثابت کی روایت حضرت انس ؓ نے ابوطلحہ سے نقل کی ہے ۔ وہ فرماتے ہیں ” میں نے احد کے دن اپنا سر اٹھایا اور دیکھنے لگا ‘ ہر شخص کا سر ہودج پر جھکا ہوا ہے ۔ اور ایک دوسری روایت ابوطلحہ سے یہ ہے ” ہم احد کے دن میدان جنگ میں تھے ‘ کہ ہم پر ایک خاص اونگھ طاری ہوگئی ۔ میری تلوار گرتی اور میں اسے اٹھاتا ‘ گرتی اور میں دوبارہ اٹھاتا۔ “

ایک گروہ کا حال تو یہ تھا اور دوسرے گروہ کا حال یہ تھا کہ وہ متزلزل الایمان تھا۔ یہ لوگ تھے جنہیں صرف اپنی جان کی فکر تھی ‘ اسی کو اہمیت دیتے تھے ۔ یہ لوگ ابھی تک جاہلیت کے تصورات سے نکل کر باہر نہیں آئے تھے ۔ نہ انہوں نے پوری طرح اپنے آپ کو اس تحریک کے سپرد کردیا تھا ‘ نہ وہ پوری طرح تن بتقدیر الٰہی ہوگئے تھے ۔ وہ اس بات پر مطمئن نہ تھے کہ انہیں جو چوٹ لگی ہے وہ ان میں چھانٹی کے لئے لگی ہے ‘ آزمائش کے لئے یہ سب کچھ ہوا ہے ۔ یہ اس لئے نہیں ہوا کہ اللہ نے اپنے دوستوں اور حامیوں کو دشمنوں کے حوالے کردیا ہے اور نہ کہیں اللہ نے یہ آخری فیصلہ کردیا ہے کفر ‘ شر اور باطل کو اب آخری غلبہ حاصل ہوگیا ہے ۔ اور انہیں اب پورا کنٹرول حاصل ہوگیا ہے ۔

وَطَائِفَةٌ قَدْ أَهَمَّتْهُمْ أَنْفُسُهُمْ يَظُنُّونَ بِاللَّهِ غَيْرَ الْحَقِّ ظَنَّ الْجَاهِلِيَّةِ يَقُولُونَ هَلْ لَنَا مِنَ الأمْرِ مِنْ شَيْءٍ

” مگر ایک دوسراگروہ جس کے لئے ساری اہمیت بس اپنے مفاد ہی کی تھی ‘ اللہ کے متعلق طرح طرح کے جاہلانہ گمان کرنے لگا جو سرا سر خلاف حق تھے ۔ یہ لوگ اب کہتے ہیں کہ ” اس کام کے چلانے میں ہمارا بھی کوئی حصہ ہے۔ “

اسلامی نظریہ حیات ‘ اپنے ماننے والوں کو یہ تعلیم دیتا ہے کہ ان کی جان میں ان کا کچھ بھی نہیں ہے۔ وہ تو سب کے سب اللہ کے ہیں اور جب وہ جہاد فی سبیل اللہ کے نکلتے ہیں تو وہ اللہ کے لئے نکلتے ہیں ‘ وہ اللہ کے لئے حرکت میں آتے ہیں اور اللہ ہی کے لئے جنگ کرتے ہیں ۔ جہاد کے اس عمل میں ان کی ذات کے لئے کچھ بھی نہیں ہوتا ۔ اس میں پھر وہ اپنے آپ کو اللہ کی تقدیر کے سپرد کردیتے ہیں اور اللہ کی تقدیر ان پر جو حالات بھی لاتی ہے وہ اسے قبول کرتے ہیں ‘ مکمل تسلیم ورضا کے ساتھ جو بھی ہو سو ہو۔

رہے وہ لوگ جو اپنی ذات کو زیادہ اہمیت دیتے ہیں ان کی سوچ اور ان کے اندازے ان کی اپنی ذات ارد گرد گھومتے ہیں ‘ ان کی سرگرمی اور ان کے تمام اہتمام صرف اپنی ذات کے لئے ہوتے ہیں ‘ یہ وہ لوگ ہوتے ہیں کہ ان کے دل میں ایمان کی حقیقت ابھی تک جاگزیں ہی نہیں ہوتی ۔ یہ دوسرا طائفہ جس کا ذکر یہاں ہورہا ہے وہ ایسے لوگوں پر مشتمل تھا ۔ یہاں قرآن کریم نے ان پر تبصرہ کرنا ضروری سمجھا ۔ اس گروہ کے نزدیک ساری اہمیت ان کی ذات کے لئے تھی ۔ وہ نہایت کرب اور پریشانی میں مبتلا تھے ۔ انہیں یہ احساس کھائے جارہا تھا کہ وہ اپنے آپ کو اور اپنی صلاحتیوں کو ایسے کام میں ضائع کررہے ہیں ‘ جو ان کے ذہن میں واضح نہیں ہے ۔ ان کا خیال یہ تھا کہ وہ بغیر ان کی مرضی کے اس معرکے میں شریک ہونے پر مجبور ہوگئے ‘ انہیں اس میں خواہ مخواہ جھونک دیا گیا اس کے باوجود ان کو یہ تلخ چوٹ لگی اور وہ خوامخواہ اس قدر بھاری قیمت ادا کررہے ہیں ‘ قتل ہورہے ہیں ‘ زخمی ہوگئے ہیں اور پریشان کا تو حال نہ پوچھو ۔ یہ لوگ اللہ کی صحیح معرفت سے محروم ہیں ۔ وہ اللہ تعالیٰ کے بارے میں ایسی بدگمانیاں کرتے ہیں جس طرح جاہل لوگ کیا کرتے تھے اور سب سے بڑی بدگمانی یہ تھی کہ اللہ تعالیٰ انہیں اس معرکہ میں ضائع کررہا ہے ‘ جس کے انتظام میں ان کا کوئی حصہ نہیں ہے بس انہیں تو یہاں دھکیل کر لایا گیا ہے تاکہ وہ مریں ‘ زخمی ہوں ۔ اللہ تو نہ انہیں بچاتا ہے اور نہ ان کی مدد کرتا ہے۔ اللہ نے انہیں دشمنوں کے لئے لقمہ تر بنادیا ہے ۔ وہ پوچھتے ہیں هَلْ لَنَا مِنَ الأمْرِ مِنْ شَيْءٍ ” اس کام میں ہمارا بھی حصہ ہے ۔ “

ان کے اس اعتراض میں یہ بات بھی شامل تھی کہ اس معرکے کے لئے قیادت نے جو منصوبہ بنایا اس میں ان کی ایک نہ سنی گئی۔ شاید اس گروہ کی رائے یہ تھی کہ مدینہ کے اندر لڑا جائے اور باہر جاکر لڑنے سے پرہیز کیا جائے لیکن اس کے باوجود وہ عبداللہ ابن ابی کے ساتھ لوٹ نہ گئے تھے ۔ لیکن ان کے دل اس منصوبے پر مطمئن نہ تھے ۔

اس سے قبل کہ اس سیاق کلام میں ان کی بدگمانیوں کی بات ختم کی جائے ‘ درمیان میں مختصر سا جواب دیا جاتا ہے اور اس میں ان کے اس اعتراض کو رد کردیا جاتا ہے ۔ قُلْ إِنَّ الأمْرَ كُلَّهُ لِلَّهِ……………” کہہ دو کہ اس کام کے سارے اختیارات اللہ کے ہاتھ میں ہیں ۔ “ کسی کے لئے کوئی اختیار نہیں ہے ‘ نہ ان کا کوئی اختیار اور کسی کا کوئی اختیار ہے ۔ اس سے پہلے اللہ تعالیٰ نے خود اپنے نبی کو یہ حکم دے دیالیسَ لَکَ مِنَ الاَمرِ شَئٌ……………” اس کام میں کوئی اختیار تمہارے ہاتھ میں نہیں ہے ۔ “ لہٰذا اس دین کے تمام معاملات ‘ اس کی خاطر جہاد ‘ اس کے نظام کا قیام ‘ لوگوں کے دلوں کے اندرہدایت داخل کرنا وغیرہ یہ سب کام اللہ کے لئے ہیں ۔ ان اختیارات میں کوئی انسان شریک نہیں ہے ۔ بشر کا کام تو صرف یہ ہے کہ وہ اپنے فرائض سرانجام دے ۔ وہ اپنے وعدہ ایمان کے تقاضے پورے کرے ۔ یہ اب صرف اللہ کا کام ہے کہ اس جدوجہد کے کیا نتائج نکلتے ہیں ۔ اور وہ کیا نکالتا ہے ۔ اس موقعہ پر اللہ ان کے دل کے اندر ایک چھپی ہوئی کمزوری کو بھی طشت ازبام کردیتے ہیں يُخْفُونَ فِي أَنْفُسِهِمْ مَا لا يُبْدُونَ لَكَ……………” یہ لوگ اپنے دلوں میں جو بات چھپائے ہوئے ہیں تم پر ظاہر نہیں کرتے ۔ “ ان کا یہ سوال کہ ” کیا ان کے لئے بھی اس معاملے میں کوئی اختیا رہے ؟ “ اس بات کو ظاہر کرتا ہے کہ ان کے شعور اور لاشعور میں یہ بات تھی کہ انہیں ایک ایسے کام میں ڈال دیا گیا ہے جس میں وہ از خود نہیں آئے ۔ یہ کہ قیادت کی غلطیوں کی وجہ سے وہ قربانی کا بکرابن گئے ہیں ۔ اگر وہ خود اس معرکے کا نقشہ تیار کرتے تو اس کا یہ انجام نہ ہوتا يَقُولُونَ لَوْ كَانَ لَنَا مِنَ الأمْرِ شَيْءٌ مَا قُتِلْنَا هَا هُنَا……………” ان کی اصل بات یہ ہے کہ اگر قیادت کے اختیارات میں ہمارا کوئی حصہ ہوتا تو یہاں ہم نہ مارے جاتے ۔ “

یہ ایک وسوسہ ہے ‘ جو اس وقت تک دلوں میں پیدا ہوتا ہے ‘ جب تک وہ نظریہ کے لئے خالص اور یکسو نہیں ہوجاتے ۔ جب ایسے لوگوں کو کسی موقعہ پر شکست سے دوچار ہونا پڑتا ہے ‘ جب ان پر مصائب آتے ہیں ‘ جب انہیں ان کے تصور اور توقع سے زیادہ قیمت ادا کرنی پڑتی ہے ‘ جب انہیں ناقابل تصور ناگوار نتائج کا سامنا ہوتا ہے ‘ جب ان کے دل و دماغ میں وہ نظریہ حیات اچھی طرح جاگزیں نہیں ہوجاتا اور جب یہ لوگ یہ سوچتے ہیں کہ ان پر یہ مصائب محض قیادت کی غلط پالیسیوں کی وجہ سے ٹوٹ پڑے ہیں اور اگر وہ خود منصوبہ بندی کرتے تو بڑی کامیابی ہوتی ۔ غرض جب لوگوں کی ذہنی صورت حال یہ ہوتی تو اس گدلے تصور کے ہوتے ہوئے ایسا شخص یہ نہیں سوچ سکتا کہ تمام واقعات کے پیچھے حکمت خداوندی کارفرماہوتی ہے ۔ وہ یہ نہیں سوچ سکتا کہ تمام واقعات کے پیچھے حکمت خداوندی کارفرماہوتی ہے ۔ وہ یہ نہیں سوچ سکتے کہ اللہ کی طرف سے یہ آزمائش ہے ۔ ان کے خیال میں ایسی صورت حال میں خسارہ ہی خسارہ ہوتا ہے۔ ہر طرح کا ضیاع ہی ضیاع ہے۔

ایسے تصورات اور وسوسے رکھنے والوں کے خیالات کی درستگی کے لئے اللہ تعالیٰ ایک نہایت ہی گہری سچائی ان کے سامنے رکھتے ہیں ۔ وہ سچائی موت کی سچائی ہے ۔ اور اس کے ساتھ ساتھ ابتلا کے اندر جو حکمت پوشیدہ ہوتی ہے اس کے بارے میں بھی وضاحت ہوتی ہے ۔ فرماتے ہیں :

قُلْ لَوْ كُنْتُمْ فِي بُيُوتِكُمْ لَبَرَزَ الَّذِينَ كُتِبَ عَلَيْهِمُ الْقَتْلُ إِلَى مَضَاجِعِهِمْ وَلِيَبْتَلِيَ اللَّهُ مَا فِي صُدُورِكُمْ وَلِيُمَحِّصَ مَا فِي قُلُوبِكُمْ وَاللَّهُ عَلِيمٌ بِذَاتِ الصُّدُورِ (154)

” ان سے کہہ دو اگر تم اپنے گھروں میں بھی ہوتے تو جن لوگوں کی موت لکھی ہوئی تھی ‘ وہ خود اپنی قتل گاہوں کی طرف نکل آتے ۔ اور یہ معاملہ جو پیش آیا ‘ یہ تو اس لئے تھا کہ جو کچھ تمہارے سینوں میں پوشیدہ ہے ۔ اللہ اسے آزمالے ۔ اور جو کھوٹ تمہارے دلوں میں ہے اسے چھانٹ دے ‘ اللہ دلوں کا حال خوب جانتا ہے۔ “

اگر تم گھروں میں بھی ہوتے اور اسلامی قیادت کی پکار پر لبیک کہتے ہوئے ‘ اس معرکے میں نہ کود پڑتے ‘ اور تمام معاملات تم خود اپنی مرضی سے طے کرتے ‘ تو تم میں سے بعض لوگوں کی موت لکھی ہوئی تھی وہ خود اپنے مقتل کی طرف دوڑے آتے ۔ اس لئے کہ موت کا ایک وقت مقرر ہے ۔ وہ اس سے نہ آگے بڑھ سکتی ہے نہ پیچھے رہ سکتی ہے ۔ ہر شخص کی موت کے لئے ایک جگہ بھی مقرر ہے اور ہر شخص لازماً اس جگہ کی طرف کھنچا آئے گا اور وہاں دم توڑ دے گا ۔ جب موت کا وقت قریب ہوگا تو وہ شخص اپنے پاؤں پر چل کر وہاں پہنچے گا ۔ دوڑتا ہوا آئے گا ۔ کوئی اسے کھینچ کر نہ لائے گا ۔ نہ کوئی اسے اس طرف دھکیلنے والا ہوگا۔

یہ کیا ہی طرز ادا ہے ؟” اپنی جائے آرام کی طرف “ گویا اس کا مقتل نرم بستر ہے ‘ جس پر اس نے آرام کرنا ہے ۔ اس کے قدم وہاں آرام سے لمبے ہوجائیں گے ۔ تمام لوگ ‘ اس دنیا میں اپنی قتل گاہوں اور اپنی آخری آرام کی جگہ کی طرف کھنچے چلے آتے ہیں اور وہ ان مقامات کی طرف بعض اوقات ایسے محرکات کی وجہ سے آتے ہیں جو ان کے لئے ناقابل فہم ہوتے ہیں بلکہ یہ محرکات ان کے لئے ناقابل کنٹرول ہوتے ہیں ۔ یہ محرکات صرف اللہ کے کنٹرول میں ہوتے ہیں اور وہی ان کے نتائج کو جانتا ہے ۔ اور اس کا خاص تصرف ہوتا ہے ‘ جس طرح چاہتا ہے وہ سر انجام دیتا ہے ۔ اس لئے اگر ہم اللہ کے مقرر کردہ جائے قرار پر راضی ہوجائیں تو یہ ہمارے لئے روحانی سکون اور نفیساتی اطمینان اور ہمارے ضمیر کے مفاد میں ہوگا۔

یہ اللہ کی تقدیر ہے اور اس کے پس پشت جو حکمت کام کررہی ہے وہ یہ ہے لِيَبْتَلِيَ اللَّهُ مَا فِي صُدُورِكُمْ وَلِيُمَحِّصَ مَا فِي قُلُوبِكُمْ……………” اور یہ معاملہ جو پیش آیا ‘ یہ تو اس لئے تھا کہ جو کچھ تمہارے سینوں میں پوشیدہ ہے اللہ اسے آزمالے اور جو کھوٹ تمہارے دلوں میں ہے اسے چھانٹ دے۔ “

اس سے بڑی آزمائش اور کوئی نہیں کہ دلوں کی بات کو ظاہر کردیا جائے ‘ اور جو دلوں کی تہہ میں ہے وہ اوپر آجائے ۔ اس سے کھوٹ اور ریاکاری کو علیحدہ کردیا جائے اور بغیر کسی ملمع کاری اور بغیر کسی کور کے اصل حقیقت سامنے آجائے ۔ یہ بہت بڑی آزمائش ہے ‘ ان باتوں کے لئے جو دل کے خزانے میں پوشیدہ رکھی ہوتی ہیں ۔ حقیقت سامنے آجاتی ہے ۔ یہ ہے تطہیرالقلوب اور تصفیہ القلوب ‘ اس طرح کہ ان میں کوئی ملاوٹ اور کھوٹ نہ رہے ۔ اس طرح نظریات صحیح ہوکر صاف صورت میں سامنے آجاتے ہیں اور ان میں کوئی نقص اور ملاوٹ نہیں رہتی۔

وَاللَّهُ عَلِيمٌ بِذَاتِ الصُّدُورِ……………” اللہ دلوں کے حال خوب جانتا ہے ۔ “ ذات الصدور سے مراد وہ خفیہ راز ہیں جو دلوں کی تہہ میں ہوتے ہیں اور ہر وقت دل میں ہوتے ہیں جو دل سے جدا نہیں ہوتے اور نہ روشنی میں آتے ہیں ۔ اللہ ان بھیدوں کو بھی خوب جانتا ہے ۔ ان بھیدوں کو اللہ لوگوں پر اس لئے ظاہر کرتا ہے کہ لوگ خود بھی بعض اوقات ان خفیہ باتوں سے بیخبر ہوتے ہیں یعنی یہ ان کے لاشعور میں ہوتے ہیں ‘ بعض واقعات ایسے ہوتے ہیں جو انہیں سطح پر لے آتے ہیں ۔

آیت 154 ثُمَّ اَنْزَلَ عَلَیْکُمْ مِّنْم بَعْدِ الْغَمِّ اَمَنَۃً نُّعَاسًا یَّغْشٰی طَآءِفَۃً مِّنْکُمْ لا انسان کو نیند جو آتی ہے یہ اطمینان قلب کا مظہر ہوتی ہے کہ جیسے اب اس نے سب کچھ بھلا دیا۔ عین حالت جنگ میں ایسی کیفیت اللہ کی رحمت کا مظہر تھی۔وَطَاءِفَۃٌ قَدْ اَہَمَّتْہُمْ اَنْفُسُہُمْ یَظُنُّوْنَ باللّٰہِ غَیْرَ الْحَقِّ ظَنَّ الْجَاہِلِیَّۃِط ۔عبداللہ بن ابی اور اس کے تین سو ساتھی تو میدان جنگ کے راستے ہی سے واپس ہوگئے تھے۔ اس کے بعد بھی اگر مسلمانوں کی جماعت میں کچھ منافقین باقی رہ گئے تھے تو ان کا حال یہ تھا کہ اس وقت انہیں اپنی جانوں کے لالے پڑے ہوئے تھے۔ ایسی کیفیت میں انہیں اونگھ کیسے آتی ؟ ان کا حال تو یہ تھا کہ ان کے دلوں میں وسوسے آ رہے تھے کہ اللہ نے تو مدد کا وعدہ کیا تھا ‘ لیکن وہ وعدہ پورا نہیں ہوا ‘ اللہ کی بات سچی ثابت نہیں ہوئی۔ اس طرح ان کے دل و دماغ میں خلاف حقیقت زمانۂ جاہلیت کے گمان پیداہو رہے تھے۔ یَقُوْلُوْنَ ہَلْ لَّنَا مِنَ الْاَمْرِ مِنْ شَیْءٍ ط یہ وہ لوگ ہوسکتے ہیں جنہوں نے جنگ سے قبل مشورہ دیا تھا جیسے حضور ﷺ کی اپنی رائے بھی تھی کہ مدینے کے اندر محصور رہ کر جنگ کی جائے۔ جب ان کے مشورے پر عمل نہیں ہوا تو وہ کہنے لگے کہ ان معاملات میں ہمارا بھی کوئی اختیار ہے یا ساری بات محمد ﷺ ہی کی چلے گی ؟ یہ بھی جماعتی زندگی کی ایک خرابی ہے کہ ہر شخص چاہتا ہے کہ میری بات بھی مانی جائے ‘ میری رائے کو بھی اہمیت دی جائے۔ آخر ہم سب اپنے امیر ہی کی رائے کیوں مانتے چلے جائیں ؟ ہمارا بھی کچھ اختیار ہے یا نہیں ؟قُلْ اِنَّ الْاَمْرَ کُلَّہٗ لِلَّہِ ط۔یُخْفُوْنَ فِیْ اَنْفُسِہِمْ مَّا لاَ یُبْدُوْنَ لَکَ ط ان کے دل میں کیا ہے ‘ اب اللہ کھول کر بتارہا ہے۔یَقُوْلُوْنَ لَوْ کَانَ لَنَا مِنَ الْاَمْرِ شَیْءٌ مَّا قُتِلْنَا ہٰہُنَا ط۔اگر ہماری رائے مانی جاتی ‘ ہمارے مشورے پر عمل ہوتا تو ہم یہاں قتل نہ ہوتے۔ یعنی ہمارے اتنے لوگ یہاں پر شہید نہ ہوتے۔ قُلْ لَّوْ کُنْتُمْ فِیْ بُیُوْتِکُمْ لَبَرَزَ الَّذِیْنَ کُتِبَ عَلَیْہِمُ الْقَتْلُ اِلٰی مَضَاجِعِہِمْ ج اللہ کی مشیت میں جن کے لیے طے تھا کہ انہیں شہادت کی خلعت فاخرہ پہنائی جائے گی وہ خود بخود اپنے گھروں سے نکل آتے اور کشاں کشاں ان جگہوں پر پہنچ جاتے جہاں انہوں نے خلعت شہادت زیب تن کرنی تھی۔ یہ تو اللہ تعالیٰ کے فیصلے ہوتے ہیں ‘ تمہاری تدبیر سے ان کا کوئی تعلق نہیں ہے۔

تلواروں کے سایہ میں ایمان کی جانچ اللہ تعالیٰ نے اپنے بندوں پر اس غم و رنج کے وقت جو احسان فرمایا تھا اس کا بیان ہو رہا ہے کہ اس نے ان پر اونگھ ڈال دی ہتھیار ہاتھ میں ہیں دشمن سامنے ہے لیکن دل میں اتنی تسکین ہے کہ آنکھیں اونگھ سے جھکی جا رہی ہیں جو امن وامان کا نشان ہے جیسے سورة انفال میں بدر کے واقعہ میں ہے آیت (اذ یغشیکم النعاس امنتہ منہ) یعنی اللہ تعالیٰ کی طرف سے امن بصورت اونگھ نازل ہوئی۔ حضرت عبداللہ بن مسعود فرماتے ہیں لڑائی کے وقت انکی اونگھ اللہ سبحانہ و تعالیٰ کی طرف سے ہے اور نماز میں اونگھ کا آنا شیطانی حکمت ہے، حضرت ابو طلحہ کا بیان ہے کہ احد والے دن مجھے اس زور کی اونگھ آنے لگی کہ بار بار تلوار میرے ہاتھ سے چھوٹ گئی آپ فرماتے ہیں جب میں نے آنکھ اٹھا کر دیکھا تو تقریباً ہر شخص کو اسی حالت میں پایا، ہاں البتہ ایک جماعت وہ بھی تھی جن کے دلوں میں نفاق تھا یہ مارے خوف و دہشت کے ہلکان ہو رہے تھے اور ان کی بدگمانیاں اور برے خیال حد کو پہنچ گئے تھے، پس اہل ایمان اہل یقین اہل ثبات اہل توکل اور اہل صدق تو یقین کرتے تھے کہ اللہ تعالیٰ اپنے رسول ﷺ کی ضرور مدد کرے گا اور ان کی منہ مانگی مراد پوری ہو کر رہے گی لیکن اہل نفاق اہل شک، بےیقین، ڈھلمل ایمان والوں کی عجب حالت تھی ان کی جان عذاب میں تھی وہ ہائے وائے کر رہے تھے اور ان کے دل میں طرح طرح کے وسو اس پیدا ہو رہے تھے انہیں یقین کامل ہوگیا تھا کہ اب مرے، وہ جان چکے تھے کہ رسول اور مومن (نعوذ باللہ) اب بچ کر نہیں جائیں گے اب بچاؤ کی کوئی صورت نہیں، فی الواقع منافقوں کا یہی حال ہے کہ جہاں ذرا نیچا پانسہ دیکھا تو ناامیدی کی گھٹگھور گھٹاؤں نے انہیں گھیر لیا ان کے برخلاف ایماندار بد سے بدتر حالت میں بھی اللہ تعالیٰ سے نیک گمان رکھتا ہے۔ ان کے دلوں کے خیالات یہ تھے کہ اگر ہمارا کچھ بھی بس چلتا تو آج کی موت سے بچ جاتے اور چپکے چپکے یوں کہتے بھی تھے حضرت زبیر کا بیان ہے کہ اس سخت خوف کے وقت ہمیں تو اس قدر نیند آنے لگی کہ ہماری ٹھوڑیاں سینوں سے لگ گئیں میں نے اپنی اسی حالت میں معتب بن قشیر کے یہ الفاظ سنے کہ اگر ہمیں کچھ بھی اختیار ہوتا تو یہاں قتل نہ ہوتے، اللہ تعالیٰ انہیں فرماتا ہے کہ یہ تو اللہ تعالیٰ کے فیصلے ہیں مرنے کا وقت نہیں ٹلتا گو تم گھروں میں ہوتے لیکن پھر بھی جن پر یہاں کٹنا لکھا جا چکا ہوتا وہ گھروں کو چھوڑ کر نکل کھڑے ہوئے اور یہاں میدان میں آ کر ڈٹٹ گئے اور اللہ کا لکھا پورا اترا۔ یہ وقت اس لئے تھا کہ اللہ تعالیٰ تمہارے دلوں کے ارادوں اور تمہارے مخفی بھیدوں کو بےنقاب کرے، اس آزمائش سے بھلے اور برے نیک اور بد میں تمیز ہوگئی، اللہ تعالیٰ جو دلوں کے بھیدوں اور ارادوں سے پوری طرح واقف ہے اس نے اس ذرا سے واقعہ سے منافقوں کو بےنقاب کردیا اور مسلمانوں کا بھی ظاہری امتحان ہوگیا، اب سچے مسلمانوں کی لغزش کا بیان ہو رہا ہے جو انسانی کمزوری کی وجہ سے ان سے سرزد ہوئی فرماتا ہے شیطان نے یہ لغزش ان سے کرا دی دراصل یہ سب ان کے عمل کا نتیجہ تھا نہ یہ رسول ﷺ کی نافرمانی کرتے نہ ان کے قدم اکھڑتے انہیں اللہ تعالیٰ معذور جانتا ہے اور ان سے اس نے درگزر فرما لیا اور ان کی اس خطا کو معاف کردیا اللہ کا کام ہی درگزر کرنا بخشنا معاف فرمانا حلم اور بربادی برتنا تحمل اور عفو کرنا ہے اس سے معلوم ہوا کہ حضرت عثمان وغیرہ کی اس لغزش کو اللہ تعالیٰ نے معاف فرما دیا۔ مسند احمد میں ہے کہ ولید بن عقبہ نے ایک مرتبہ حضرت عبدالرحمن بن عوف سے کہا آخر تم امیر المومنین حضرت عثمان بن عفان سے اس قدر کیوں بگڑے ہوئے ہو ؟ انہوں نے کہا اس سے کہہ دو کہ میں نے احد والے دن فرار نہیں کیا بدر کے غزوے میں غیر حاضر نہیں رہا اور نہ سنت عمر ترک کی، ولید نے جا کر حضرت عثمان سے یہ واقعہ بیان کیا تو آپ نے اس کے جواب میں فرمایا کہ قرآن کہہ رہا ہے آیت (وَلَقَدْ عَفَا اللّٰهُ عَنْھُمْ) 3۔ آل عمران :155) یعنی احد والے دن کی اس لغزش سے اللہ تعالیٰ نے درگزر فرمایا پھر جس خطا کو اللہ نے معاف کردیا اس پر عذر لانا کیا ؟ بدر والے دن میں رسول اللہ ﷺ کی صاحبزادی میری بیوی حضرت رقیہ کی تیمارداری میں مصروف تھا یہاں تک کہ وہ اسی بیماری میں فوت ہوگئیں چناچہ مجھے رسول اللہ ﷺ نے مال غنیمت میں سے پور احصہ دیا اور ظاہر ہے کہ حصہ انہیں ملتا ہے جو موجود ہیں پس حکماً میری موجودگی ثابت ہوا ہے، رہی سنت عمر اس کی طاقت نہ مجھ میں ہے نہ عبدالرحمن میں، جاؤ انہیں یہ جواب بھی پہنچا دو۔

آیت 154 - سورة آل عمران: (ثم أنزل عليكم من بعد الغم أمنة نعاسا يغشى طائفة منكم ۖ وطائفة قد أهمتهم أنفسهم يظنون بالله غير الحق...) - اردو