یہ ایک مفصل جواب دعا ہے ۔ طرز ادا بھی طویل ہے ۔ اور یہ قرآن کریم کے طرز ادا کے عین مطابق ہے ۔ تقاضائے حال اور فریقین کے موقف کے عین مطابق نفیساتی اور شعوری دونوں زاویوں سے ۔
اب ہم اللہ کی جانب سے آنیوالے جواب دعا اور قبولیت دعا کے مضامین کی طرف آتے ہیں ۔ یہ جواب اسلامی نظام زندگی کے کن امور کو ظاہر کرتا ہے اور یہ کہ اس نظام کا مزاج کیا ہے ‘ اس کے اجزائے ترکیبی کیا ہیں اور یہ نظام انسان کی تربیت کے لئے کیا منہاج اختیار کرتا اور اس کی خصوصیات کیا ہیں ؟
یہ اصحاب دانش جنہوں نے تخلیق ارض وسما میں غور کیا ‘ جنہوں نے گردش لیل ونہار میں تدبیر کیا اور جنہوں نے اس کائنات کی کتاب مفتوح سے دلائل وآیات اخذ کئے اور ان کی فطرت نے ان دلائل وآیات حق کو قبول کیا اور اس کے بعد وہ اپنے رب کی طرف متوجہ ہوئے ۔ انہوں نے خشوع و خضوع سے بھرپور ‘ سوز وساز میں ڈوبی ہوئی طویل دعا کی ۔ اور اس کے بعد ان کے رب رحیم وکریم کی طرف سے فوراً جواب دعا آیا کیونکہ ان کی دعا نہایت ہی پر خلوص تھی وہ محبت سے بھری تھی ………اب دیکھئے جواب دعا کیا ہے ؟
یہ جواب دعا قبولیت دعاپر مشتمل ہے ‘ اور اس میں اسلامی منہاج حیات کے اصل عناصر ترکیبی کی طرف ہدایت کی گئی ہے ۔ اور اس کے فرائض بتائے گئے ہیں فَاسْتَجَابَ لَهُمْ رَبُّهُمْ أَنِّي لا أُضِيعُ عَمَلَ عَامِلٍ مِنْكُمْ مِنْ ذَكَرٍ أَوْ أُنْثَى بَعْضُكُمْ مِنْ بَعْضٍ……………جواب میں ان کے رب نے فرمایا۔” میں تم میں سے کسی کا عمل ضائع کرنے والا نہیں ہوں ‘ خواہ مرد ہو یا عورت ‘ تم سب ایک دوسرے کے ہم جنس ہو۔ “
تم لوگوں کی جانب سے صرف تدبر اور تفکر ہی کافی نہیں ہے ۔ خشوع اور خضوع اور پرسوزدعا ہی کافی نہیں ہے۔ صرف اللہ کی طرف متوجہ ہوکر گناہوں کی معافی مانگنا ہی کافی نہیں ہے اور صرف نجات اخروی کی طلب ہی کافی نہیں ہے ۔ بلکہ عمل ضروری ہے ۔ مثبت عمل کی ضرورت ہے ۔ اور یہ مثبت عمل نتیجہ ہے ۔ اس غوروفکر اور توجہ الی اللہ کا ‘ اس آمادگی اور اس احساس جس کا اظہار اس پر سوز دعا میں ہوگا۔ اس کا تقاضا ہے کہ انسان مثبت عمل پر آمادہ ہو ‘ وہ عمل جسے اسلام اسی طرح عبادت تصور کرتا ہے جس طرح اسلام تفکر اور تدبر کو عبادت سمجھتا ہے ۔ جس طرح اسلام ذکر وفکر ‘ خوف و استغفار اور پر امید توجہ الی اللہ کو عبادت سمجھتا ہے ۔ وہ عمل جسے اسلام تمام عبادات کا ثمرہ قرار دیتا ہے ۔ اور یہ ثمرہ سب کی جانب سے قبول ہوگا ۔ مرد یہ عمل کریں یا عورتیں یہ عمل کریں ۔ اس عمل کے مقابلے میں جنس وصنف کی کوئی شرط نہیں ہے ۔ اس لئے کہ مرد اور عورت انسانیت میں بالکل مساوی ہیں ۔ وہ ایک دوسرے کے اجزاء اور آباء و اجداد ہیں اور قیامت کے ترازو میں برابر ہیں ۔
اس کے بعد ان اعمال کی تفصیل دی جاتی ہے ۔ بتایا جاتا ہے کہ اسلام کے نظریہ حیات جان ومال کے ساتھ تعلق رکھنے والی کیا ڈیوٹیاں ہیں ۔ نیز ان اعمال کے ذکر سے یہ بھی معلوم ہوجاتا ہے کہ اس نظام زندگی کا مزاج کیا ہے ؟ اور وہ کیا گراؤنڈ ہے جس کے اوپر یہ نظام تعمیر ہوتا ہے۔ اور اس کے طریق کار کا مزاج کیا ہے اور اس میں کیا کیا رکاوٹیں اور کیا کیا کانٹے ہیں ۔ اور یہ کہ ان مشکلات پر قابو پانے کی اشد ضرورت ہے۔ ان کانٹوں کو ایک ایک کرکے چننے کی ضرورت ہے اور اس زمین میں پاک درخت لگانے کے لئے کس کس تیاری کی ضرورت ہے ۔ پھر اسے اس زمین پر تمکنت دینے کے لئے کن کن اقدامات کی ضرورت ہے ، چاہے جس قدر قربانیاں دینی پڑیں ۔ چاہے جس قدر مشکلات کو انگیز کرنا پڑے۔
فَالَّذِينَ هَاجَرُوا وَأُخْرِجُوا مِنْ دِيَارِهِمْ وَأُوذُوا فِي سَبِيلِي وَقَاتَلُوا وَقُتِلُوا لأكَفِّرَنَّ عَنْهُمْ سَيِّئَاتِهِمْ وَلأدْخِلَنَّهُمْ جَنَّاتٍ تَجْرِي مِنْ تَحْتِهَا الأنْهَارُ ثَوَابًا مِنْ عِنْدِ اللَّهِ وَاللَّهُ عِنْدَهُ حُسْنُ الثَّوَابِ
” لہٰذا جن لوگوں نے میری خاطر اپنے وطن چھوڑے ‘ اور میری راہ میں اپنے گھروں سے نکالے گئے اور ستائے گئے ‘ اور میرے لئے لڑے اور مارے گئے ان سب کے قصور معاف کردوں گا اور انہیں باغوں میں داخل کردوں گا جن کے نیچے نہریں بہتی ہوں گی ۔ یہ ان کی جزا ہے اللہ کے ہاں اور بہترین جزا اللہ کے پاس ہے ۔ “
اس قرآن نے سب سے پہلے جن لوگوں کو خطاب کیا اور دعوت فکر دی ‘ ان کے یہی خدوخال تھے ۔ یہی لوگ تھے جنہوں نے مکہ سے ہجرت کی ‘ یہی لوگ تھے جن کو محض اپنے نظریہ حیات کی وجہ سے اپنے گھروں سے نکالا گیا۔ اس کے سوا ان کا اور کوئی قصور نہ تھا ۔ یہی لوگ تھے جنہوں نے اس نظریہ کی خاطر قتال کیا اور مارے گئے ۔ لیکن یہ خدوخال ان تمام لوگوں کے ہونے چاہئیں جو دعوت اسلامی کو لے کر اٹھتے ہیں ۔ جب بھی کوئی اٹھے اور جہاں بھی کوئی اٹھے ۔ یہی خدوخال ہوں گے ان لوگوں کے جو جاہلیت کے اندر پل رہے ہوں ‘ جو جاہلیت بھی ہو وہ ……جو دشمن کی سر زمین پر پل رہے ہوں جو دشمن بھی ہو وہ اور جو سرزمین بھی ہو وہ ……جو دشمن اقوام کے اندر ہوں ۔ جو قوم بھی ہو وہ اور ان لوگوں کا پیمانہ صبر لبریز ہوجائے۔ دشمنوں کی نیش رینوی اور ان کی لالچ اور ان کی خواہشات نفسانیہ ان کے آڑے آرہی ہوں ۔ اور جب وہ قلیل تعداد میں ہوں تو انہیں اذیت کا نشانہ بنایا جارہا ہو اور یہ حالات نہایت ہی ابتدائی دور میں تھے جبکہ وہ مستضعفین تھے۔ اس کے بعد اس پاک پودے نے ذرا قوت پکڑی اور ہر جگہ پر یوں ہی قوت پکڑتا ہے اور باوجود ان اذیتوں کے پکڑتا ہے۔ باوجود ہجرت اور جلاوطنی کے پکڑتا ہے ۔ اس کے بعد یہ قوت اپنے پاؤں پر کھڑی ہوجاتی ہے ۔ اس کے اندر مقابلے کی قوت پیدا ہوجاتی ہے اور پھر وہ اپنا دفاع کرسکتی ہے ۔ اس مرحلے پر پھر قتال ومقاتلہ شروع ہوجاتا ہے ۔ یہ دشوار ‘ تلخ اور مشکل جدوجہد ہی دراصل گناہوں کا کفارہ بنتی ہے اور یہ اجزاء اور ثواب دنیا وآخرت کا سبب بھی بنتی ہے ۔
یہ ہے طریق کار ‘ یہ ربانی منہاج کار ہے ۔ جس منہاج زندگی کے لئے اللہ نے یہ طریق کار وضع کیا ہے کہ اسے انسانوں کی زندگی میں عملاً نافذ کرنے کے لئے انسانی جدوجہد کے ذرائع کو استعمال کیا جائے گا ۔ اسی طریق کے مطابق اور اسی مقدارجہاد کے مطابق جو مومنین اور مجاہدین فی سبیل اللہ ‘ اللہ کی راہ میں خالص اس کی رضاجوئی کے لئے کرتے ہیں۔
یہ ہے مزاج اس نظام حیات کا ‘ یہ ہیں اس کے عناصر ترکیبی اور یہ ہیں اس کے فرائض ‘ یہ ہے اس منہاج کا طریق تربیت ‘ یہ ہے اس کا طریقہ ہدایت و ارشاد کہ وہ اس کائنات میں غور وفکر کے وجدانی مرحلے سے گزر کر انسان کو مثبت عمل کی طرف منتقل کرتا ہے ۔ اور یہ عمل اس نظریاتی تاثرات کے مطابق ہوتا ہے اور اسی طرح یہ نظام زندگی قائم ہوتا ہے۔
اس کے بعد یہ جواب دعا میں ارض کفار کے اندر سازوسامان کے بھرے ہوئے بازاروں کی طرف متوجہ کیا جاتا ہے جو اسلامی نظام زندگی کے دشمن اور نافرمان ہیں۔ متوجہ کیا جاتا ہے کہ ایک مسلمان اس سازوسامان کو وہی وزن دیتا ہے جو فی الحقیقت اس کا اس دنیا کیلئے ہے ۔ اور اسے اپنے لئے فتنہ نہیں بناتا ہے ۔ اور نہ اسے اہل ایمان کے لئے فتنہ بننے کا موقعہ دیتا ہے ۔ کیونکہ ‘ اس لئے کہ اہل ایمان بہت بڑی قربانیاں دے رہے ہیں ۔ انہیں ہدایت دی جارہی ہے۔ انہیں اپنے گھروں سے نکالا جارہا ہے اور انہیں قتل کیا جارہا ہے اس لئے دنیا کا سازوسامان ان کے لئے فتنہ نہ ہوجائے ۔
آیت 195 فَاسْتَجَابَ لَہُمْ رَبُّہُمْ یہ ہے دعا کی قبولیت کی انتہا کہ اس دعا کے فوراً بعد اللہ تعالیٰ کی طرف سے قبولیت کا اعلان ہورہا ہے۔ اَنِّیْ لَا اُضِیْعُ عَمَلَ عَامِلٍ مِّنْکُمْ مِّنْ ذَکَرٍ اَوْ اُنْثٰی ج بَعْضُکُمْ مِّنْ بَعْضٍ ج ایک ہی باپ کے نطفے سے بیٹا بھی ہے اور بیٹی بھی ‘ اور ایک ہی ماں کے رحم میں بیٹا بھی پلا ہے اور بیٹی ‘ بھی۔ فَالَّذِیْنَ ہَاجَرُوْا وَاُخْرِجُوْا مِنْ دِیَارِہِمْ وَاُوْذُوْا فِیْ سَبِیْلِیْ وَقٰتَلُوْا وَقُتِلُوْا لَاُکَفِّرَنَّ عَنْہُمْ سَیِّاٰتِہِمْ ان کے نامۂ اعمال میں اگر کوئی دھبے ہوں گے تو انہیں دھو دوں گا۔وَلَاُدْخِلَنَّہُمْ جَنّٰتٍ تَجْرِیْ مِنْ تَحْتِہَا الْاَنْہٰرُ ج۔ ثَوَابًا مِّنْ عِنْدِ اللّٰہِ ط۔یعنی اللہ تعالیٰ کے خاص خزانۂ ‘ فضل سے۔وَاللّٰہُ عِنْدَہٗ حُسْنُ الثَّوَابِ اب آخری پانچ آیات جو آرہی ہیں ان کی حیثیت اس سورة مبارکہ کے تمام مباحث پر خاتمۂ ‘ کلام کی ہے۔ یاد رہے کہ اس سورت میں اہل کتاب کا عمومی ذکر بھی ہوا ہے اور یہود و نصاریٰ کا الگ الگ بھی۔ پھر اس میں اہل ایمان کا ذکر بھی ہے اور مشرکین کا بھی۔
دعا کیجئے قبول ہوگی بشرطیکہ ؟ یہاں استجاب کے معنی میں اجاب کے ہیں اور یہ عربی میں برابر مروج ہے حضرت ام سلمہ نے ایک روز حضور ﷺ سے پوچھا کہ کیا بات ہے عورتوں کی ہجرت کا کہیں قرآن میں اللہ تعالیٰ نے ذکر نہیں کرتا اس پر یہ آیت اتری، انصاری کا بیان ہے کہ عورتوں میں سب سے پہلی مہاجرہ عورت جو ہودج میں آئیں حضرت ام سلمہ ہی تھیں ام المومنین سے یہ بھی مروی ہے کہ صاحب عقل اور صاحب ایمان لوگوں نے جب اللہ تعالیٰ سے دعائیں مانگیں جن کا ذکر پہلے کی آیتوں میں تھا تو اللہ سبحانہ و تعالیٰ نے بھی ان کی منہ مانگی مراد انہیں عطا فرمائی، اسی لئے اس آیت کو "" سے شروع کیا، جیسے اور جگہ ہے آیت (وَاِذَا سَاَلَكَ عِبَادِيْ عَنِّىْ فَاِنِّىْ قَرِيْبٌ ۭ اُجِيْبُ دَعْوَةَ الدَّاعِ اِذَا دَعَانِ ۙفَلْيَسْتَجِيْبُوْا لِيْ وَلْيُؤْمِنُوْابِيْ لَعَلَّهُمْ يَرْشُدُوْنَ) 2۔ البقرۃ :186) یعنی میرے بندے تجھ سے میرے بارے میں سوال کریں تو کہہ دے کہ میں تو ان کے بہت ہی نزدیک ہوں جب کوئی پکارنے والا مجھے پکارتا ہے میں اس کی پکار کو قبول فرما لیتا ہوں پس انہیں بھی چاہئے کہ میری مان لیا کریں اور مجھ پر ایمان رکھیں ممکن ہے کہ وہ رشد و ہدایت پالیں پھر قبولیت دعا کی تفسیر ہوتی ہے اور اللہ تعالیٰ خبر دیتا ہے کہ میں کسی عامل کے عمل کو رائیگاں نہیں کرتا بلکہ ہر ایک کو پورا پورا بدلہ عطا فرماتا ہوں خواہ مرد ہو خواہ عورت، ہر ایک میرے پاس ثواب میں اور اعمال کے بدلے میں یکساں ہے، پس جو لوگ شرک کی جگہ کو چھوڑیں اور ایمان کی جگہ آجائیں دارالکفر سے ہجرت کریں بھائیوں دوستوں پڑوسیوں اور اپنوں کو اللہ کے نام پر ترک کردیں مشرکوں کی ایذائیں ہہ ہہ کر تھک کر بھی عاجز آ کر بھی ایمان کو نہ چھوڑیں بلکہ اپنے پیارے وطن سے منہ موڑ لیں جبکہ لوگوں کا انہوں نے کوئی نقصان نہیں کیا تھا جس کے بدلے میں انہیں ستایا جاتا بلکہ ان کا صرف یہ قصور تھا کہ میری راہ پہ چلنے والے تھے صرف میری توحید کو مان کر دنیا کی دشمنی مول لے لی تھی، میری راہ پر چلنے کے باعث طرح طرح سے ستائے جاتے تھے جیسے اور جگہ ہے آیت (یخرجون الرسول وایاکم ان تو منوا باللہ ربکم) یہ لوگ رسول ﷺ کو اور تمہیں صرف اس بنا وطن سے نکال دیتے ہیں کہ تم اللہ تعالیٰ پر ایمان رکھتے ہو جو تمہارا رب ہے، اور ارشاد ہے آیت (وَمَا نَقَمُوْا مِنْهُمْ اِلَّآ اَنْ يُّؤْمِنُوْا باللّٰهِ الْعَزِيْزِ الْحَمِيْدِ) 86۔ البروج :8) ان سے دشمنی اسی وجہ سے ہے کہ اللہ عزیز وحمید پر ایمان لائے ہیں پھر فرماتا ہے انہوں نے جہاد بھی کئے اور یہ شہید بھی ہوئے یہ سب سے اعلیٰ اور بلند مرتبہ ہے ایسا شخص اللہ کی راہ میں جہاد کرتا ہے اس کی سواری کٹ جاتی ہے منہ خاک و خون میں مل جاتا ہے۔ بخاری و مسلم میں ہے کہ ایک شخص نے کہا یا رسول اللہ ﷺ اگر میں صبر کے ساتھ نیک نیتی سے دلیری سے پیچھے نہ ہٹ کر اللہ کی راہ میں جہاد کروں اور پھر شہید کردیا جاؤں تو کیا اللہ تعالیٰ میری خطائیں معاف فرما دے گا ؟ آپ نے فرمایا ہاں پھر دوبارہ آپ نے اس سے سوال کیا کہ ذرا پھر کہنا تم نے کیا کہا تھا ؟ اس نے دوبارہ اپنا سوال دھرا دیا آپ نے فرمایا ہاں مگر قرض معاف نہ ہوگا یہ بات جبرائیل ابھی مجھ سے کہہ گئے۔ پس یہاں فرمایا ہے کہ میں ان کی خطا کاریاں معاف فرما دوں گا اور انہیں ان جنتوں میں لے جاؤں گا جن میں چاروں طرف نہریں بہہ رہی ہیں جن میں کسی میں دودھ ہے کسی میں شہد کسی میں شراب کسی میں صاف پانی اور وہ نعمتیں ہوں گی جو نہ کسی کان نے سنیں نہ کسی آنکھ نے دیکھیں نہ کسی انسانی دل میں کبھی خیال گزرا۔ یہ ہے بدلہ اللہ کی طرف سے ظاہر ہے کہ جو ثواب اس شہنشاہ عالی کی طرف سے ہو وہ کس قدر زبردست اور بےانتہا ہوگا ؟ جیسے کسی شاعر کا قول ہے کہ اگر وہ عذاب کرے تو وہ بھی مہلک اور برباد کردینے والا اور اگر انعام دے تو وہ بھی بےحساب قیاس سے بڑھ کر کیونکہ اس کی ذات بےپرواہ ہے، نیک اعمال لوگوں کو بہترین بدلہ اللہ ہی کے پاس ہے، حضرت شداد بن اوس فرماتے ہیں لوگوں اللہ تعالیٰ کی قضا پر غمگین اور بےصبرے نہ ہوجایا کرو سنو مومن پر ظلم وجور نہیں ہوتا اگر تمہیں خوشی اور راحت پہنچے تو اللہ تعالیٰ کی حمد اور اس کا شکر کرو اور اگر برائی پہنچے تو صبر و ضبط کرو اور نیکی اور ثواب کی تمنا رکھو اللہ تعالیٰ کے پاس بہترین بدلے اور پاکیزہ ثواب ہیں۔