سورة آل عمران: آیت 61 - فمن حاجك فيه من بعد... - اردو

آیت 61 کی تفسیر, سورة آل عمران

فَمَنْ حَآجَّكَ فِيهِ مِنۢ بَعْدِ مَا جَآءَكَ مِنَ ٱلْعِلْمِ فَقُلْ تَعَالَوْا۟ نَدْعُ أَبْنَآءَنَا وَأَبْنَآءَكُمْ وَنِسَآءَنَا وَنِسَآءَكُمْ وَأَنفُسَنَا وَأَنفُسَكُمْ ثُمَّ نَبْتَهِلْ فَنَجْعَل لَّعْنَتَ ٱللَّهِ عَلَى ٱلْكَٰذِبِينَ

اردو ترجمہ

یہ علم آ جانے کے بعد اب کوئی اس معاملہ میں تم سے جھگڑا کرے تو اے محمدؐ! اس سے کہو، "آؤ ہم اور تم خود بھی آ جائیں اور اپنے اپنے بال بچوں کو بھی لے آئیں اور خد ا سے دعا کریں کہ جو جھوٹا ہو اُس پر خدا کی لعنت ہو"

انگریزی ٹرانسلیٹریشن

Faman hajjaka feehi min baAAdi ma jaaka mina alAAilmi faqul taAAalaw nadAAu abnaana waabnaakum wanisaana wanisaakum waanfusana waanfusakum thumma nabtahil fanajAAal laAAnata Allahi AAala alkathibeena

آیت 61 کی تفسیر

اس کے بعد اس موضوع پر رسول اللہ کے ساتھ جو لوگ مباحثہ کرتے تھے ‘ رسول ﷺ نے بھرے مجمعے میں انہیں دعوت مباہلہ دی ۔ یعنی سب آجائیں اور اللہ سے دست بدعا ہوں کہ اللہ جھوٹوں پر لعنت کرے ۔ اس چیلنج کے انجام سے وہ لوگ ڈر گئے اور انہوں نے مباہلہ کرنے سے انکار کردیا۔ جس سے یہ بات واضح ہوگئی کہ رسول اللہ ﷺ کا موقف سچا ہے ۔ لیکن جس طرح بعض روایات میں آتا ہے کہ اسلام اس لئے قبول نہ کیا کہ ان لوگوں کو اپنے معاشرے میں ایک بلند مقام حاصل تھا ۔ نیز یہ لوگ ان کے مذہبی پیشواؤں میں سے تھے اور اس دور میں اہل کنیسہ کو اپنی سوسائٹی میں مکمل اقتدار حاصل تھا اور اس کے ساتھ ان کے بڑے مفادات وابستہ تھے ۔ اس سوسائٹی میں وہ عیش و عشرت کی زندگی بسر کررہے تھے ۔ یہ بات نہ تھی کہ جو لوگ دین اسلام سے اعراض کررہے تھے ان کے سامنے کوئی دلیل نہ پیش کی گئی تھی بلکہ ان کے بعض مفادات ایسے تھے جنہیں وہ نہ چھوڑ سکتے تھے ‘ کچھ ایسی نفسیاتی خواہشات میں وہ گھرے ہوئے تھے جن پر وہ یہ نہ کرسکتے تھے ۔ حالانکہ سچائی واضح ہوگئی تھی اور اس میں کوئی شک وشبہ نہ رہا تھا۔

دعوت مباہلہ کے بعد اب اس اختتامیہ میں حقیقت وحی ‘ حکمت قصص فی القرآن ‘ اور حقیقت توحید کا بیان کیا جاتا ہے۔ شاید یہ آیات دعوت مباہلہ سے مجادلین کے انکار کے بعد اتری ہوں ۔ اور ان لوگوں کو سخت دہمکی دی جاتی ہے جو اللہ کی اس زمین پر محض برائے فی سبیل اللہ فسادیہ مجادلے کرتے ہیں ۔

آیت 61 فَمَنْ حَآجَّکَ فِیْہِ مِنْم بَعْدِ مَا جَآءَ کَ مِنَ الْعِلْمِ آپ ﷺ کے پاس تو العلمآ چکا ہے ‘ آپ ﷺ جو بات کہہ رہے ہیں علیٰ وجہ البصیرۃ کہہ رہے ہیں۔ اس ساری وضاحت کے بعد بھی اگر نصاریٰ آپ ﷺ سے حجت بازی کر رہے اور بحث و مناظرہ سے کنارہ کش ہونے کو تیار نہیں ہیں تو ان کو آخری چیلنج دے دیجیے کہ یہ آپ ﷺ کے ساتھ مباہلہکر لیں۔ نجران سے نصاریٰ کا جو 70 افراد پر مشتمل وفد ابوحارثہ اور ابن علقمہ جیسے بڑے بڑے پادریوں کی سرکردگی میں مدینہ آیا تھا ‘ اس سے دعوت و تبلیغ اور تذکیر و تفہیم کا معاملہ کئی دن تک چلتا رہا اور پھر آخر میں رسول اللہ ﷺ سے کہا گیا کہ اگر یہ اس قدر سمجھانے پر بھی قائل نہیں ہوتے تو انہیں مباہلے کی دعوت دے دیجیے۔ فَقُلْ تَعَالَوْا نَدْعُ اَبْنَآءَ نَا وَاَبْنَآءَ کُمْ وَنِسَآءَ نَا وَنِسَآءَ کُمْ وَاَنْفُسَنَا وَاَنْفُسَکُمْ قف ثُمَّ نَبْتَہِلْ فَنَجْعَلْ لَّعْنَتَ اللّٰہِ عَلَی الْکٰذِبِیْنَ ۔ہم سب جمع ہو کر اللہ سے گڑگڑا کر دعا کریں اور کہیں کہ اے اللہ ! جو ہم میں سے جھوٹا ہو ‘ اس پر لعنت کر دے۔ یہ مباہلہ ہے۔ اور یہ مباہلہ اس وقت ہوتا ہے جبکہ احقاقِ حق ہوچکے ‘ بات پوری واضح کردی جائے۔ آپ کو یقین ہو کہ میرا مخاطب بات پوری طرح سمجھ گیا ہے ‘ صرف ضد پر اڑا ہوا ہے۔ اس وقت پھر یہ مباہلہ آخری شے ہوتی ہے تاکہ حق کا حق ہونا ظاہر ہوجائے۔ اگر تو مخالف کو اپنے موقف کی صداقت کا یقین ہے تو وہ مباہلہ کا چیلنج قبول کرلے گا ‘ اور اگر اس کے دل میں چور ہے اور وہ جانتا ہے کہ حق بات تو یہی ہے جو واضح ہوچکی ہے تو پھر وہ مباہلہ سے راہ فرار اختیار کرے گا۔ چناچہ یہی ہوا۔ مباہلہ کی دعوت سن کر وفد نجران نے مہلت مانگی کہ ہم مشورہ کر کے جواب دیں گے۔ مجلس مشاورت میں ان کے بڑوں نے ہوش مندی کا مظاہرہ کرتے ہوئے ان سے کہا : اے گروہ نصاریٰ ! تم یقیناً دلوں میں سمجھ چکے ہو کہ محمد ﷺ نبی مرسل ہیں اور حضرت مسیح علیہ السلام کے متعلق انہوں نے صاف صاف فیصلہ کن باتیں کہی ہیں۔ تم کو معلوم ہے کہ اللہ نے بنی اسماعیل میں نبی بھیجنے کا وعدہ کیا تھا۔ کچھ بعید نہیں یہ وہی نبی ہوں۔ پس ایک نبی سے مباہلہ و ملاعنہ کرنے کا نتیجہ کسی قوم کے حق میں یہی نکل سکتا ہے کہ ان کا کوئی چھوٹا بڑا ہلاکت یا عذاب الٰہی سے نہ بچے اور پیغمبر کی لعنت کا اثر نسلوں تک پہنچ کر رہے۔ بہتر یہی ہے کہ ہم ان سے صلح کر کے اپنی بستیوں کی طرف روانہ ہوجائیں ‘ کیونکہ سارے عرب سے لڑائی مول لینے کی طاقت ہم میں نہیں۔ چناچہ انہوں نے مقابلہ چھوڑ کر سالانہ جزیہ دینا قبول کیا اور صلح کر کے واپس چلے گئے۔

آیت 61 - سورة آل عمران: (فمن حاجك فيه من بعد ما جاءك من العلم فقل تعالوا ندع أبناءنا وأبناءكم ونساءنا ونساءكم وأنفسنا وأنفسكم ثم نبتهل...) - اردو