سورة آل عمران: آیت 72 - وقالت طائفة من أهل الكتاب... - اردو

آیت 72 کی تفسیر, سورة آل عمران

وَقَالَت طَّآئِفَةٌ مِّنْ أَهْلِ ٱلْكِتَٰبِ ءَامِنُوا۟ بِٱلَّذِىٓ أُنزِلَ عَلَى ٱلَّذِينَ ءَامَنُوا۟ وَجْهَ ٱلنَّهَارِ وَٱكْفُرُوٓا۟ ءَاخِرَهُۥ لَعَلَّهُمْ يَرْجِعُونَ

اردو ترجمہ

اہل کتاب میں سے ایک گروہ کہتا ہے کہ اس نبی کے ماننے والوں پر جو کچھ نازل ہوا ہے اس پر صبح ایمان لاؤ اور شام کو اس سے انکار کر دو، شاید اس ترکیب سے یہ لوگ اپنے ایمان سے پھر جائیں

انگریزی ٹرانسلیٹریشن

Waqalat taifatun min ahli alkitabi aminoo biallathee onzila AAala allatheena amanoo wajha alnnahari waokfuroo akhirahu laAAallahum yarjiAAoona

آیت 72 کی تفسیر

کس قدر مکارانہ طریق کار ہے یہ ؟ جیسا کہ ہم نے کہا یہ لوگ ایسے اوچھے ہتھیار بھی استعمال کرتے تھے ۔ اس لئے کہ اسلام لانا اور پھر اسلام سے پھرجانا ‘ اس لئے ممکن تھا کہ بعض کمزور طبع لوگ ‘ کم فہم لوگ ‘ ایسے لوگ جو زیادہ ثابت قدم نہ تھے ۔ اور جنہیں اپنے دین کی حقیقت کا بھی اچھی طرح علم نہ تھا ‘ وہ متاثر ہوسکتے تھے ۔ ان کے دل میں خلجان پیدا ہوسکتا تھا۔ خصوصاً عرب جو امی تھے ۔ اور ان میں یہ بات عام تھی کہ دین اور کتب سماوی کے بارے میں اہل کتاب ان سے زیادہ معلومات رکھتے ہیں ۔ جب انہوں نے دیکھا کہ وہ ایمان لاتے ہیں اور پھر مرتد ہوجاتے ہیں تو ظاہر ہے کہ انہوں نے اس دین میں کوئی خفیہ کمزوری یا نقص پکڑلیا ہوگا۔ یا یہ کہ خود مرتد ہونے والے شک میں پڑگئے کہ وہ فیصلہ نہیں کرپاتے کہ وہ کدھر جائیں اور ان کو کسی حال میں ثابت حاصل نہیں ہے ۔ اور اہل کتاب کی جانب سے یہ دھوکہ آج تک جاری ہے ۔ ہاں اس کی شکل و صورت اور طور طریقے حالات زمانہ کے مطابقت سے بدل گئے ہیں ۔

ہاں آج کے دور میں مسلمانوں کے دشمنوں نے یہ سمجھ لیا ہے کہ وہ اب ان پرانی سازشوں پر ملمع کاری کرکے اہل اسلام کو دھوکہ نہیں دے سکتے ۔ اس لئے تمام دشمنوں نے اسی پرانے اسلوب پر کچھ جدید طریقے وضع کئے ہیں اور ان کے ذریعے سے مسلمانوں کو گمراہ کرتے ہیں ۔ اب ان لوگوں نے عالم اسلام میں اساتذہ ‘ فلاسفہ ‘ محققین اور پی ایچ ڈی کے حاملین کی ایک جرار فوج چھوڑی ہوئی ہے ۔ یہ سب لوگ درپردہ ان دشمنان اسلام کے ایجنٹ ہیں ۔ پھر ان دشمنوں نے ہمارے مصنفین ‘ شعراء ‘ فن کاروں اور صحافیوں کو بھی اپنے جال میں پھنسا رکھا ہے ۔ ان لوگوں کے نام مسلمانوں جیسے ہیں ۔ اس لئے کہ وہ مسلمانوں کی اولاد ہیں اور بعض تو مسلمانوں کے علماء ہیں ۔

ایجنٹ کی اس فوج کا کام صرف یہ ہے کہ یہ مسلمانوں کے دل و دماغ میں شکوک و شبہات پھیلائے ۔ اور اس کے لئے مختلف اسلوب اختیار کرے ۔ کبھی وہ علم وادب کے دروازے سے کام کرتے ہیں ۔ کبھی وہ صحافی اور فنکار کے روپ میں کام کرتے ہیں ۔ یہ لوگ اسلامی اصول حیات کی قدر و قیمت کم کرنے ‘ اسلامی نظریہ حیات کا مزاح اڑانے ‘ اسلامی اصولوں اور نصوص میں ایسی تاویلیں کرنے میں لگے ہوتے ہیں ‘ جن تاویلوں کے وہ نصوص متحمل ہی نہیں ہوسکتے ۔ یہ مسلسل ڈھول پیٹتے ہیں کہ اسلامی نظام حیات رجعت پسندی ہے ۔ اور وہ ہر وقت اس تبلیغ میں لگے رہتے ہیں کہ اسلامی نظریہ حیات کو ترک کردیا جائے ۔ اور اسے انسان کی عملی زندگی سے خارج کردیاجائے ۔ گویا کہ انسانی زندگی کو اس سے خطرہ ہے اور اس کو زندگی سے خطرہ ہے۔ یہ لوگ مسلمانوں کے شعور اور طرز عمل میں ایسے تصورات اور ایسی روایات اور ایسے اصول کو رواج دیتے ہیں جو اسلامی تصورات کے متضاد ہوتے ہیں اور جن سے اسلامی طرز عمل اور اسلامی روایات کی خوش شکست وریخت ہوتی ہے ۔ یہ ایجنٹ ان جدیدجاہلی تصورات کو مسلمانوں کے نظریات میں جس قدر جاذب بناتے ہیں ۔ اسی قدر ایمانی روایات کا حلیہ بگاڑتے ہیں ۔ مزید برآں یہ کہ یہ ایجنٹ جنسیت کو ہر قید وبند سے آزاد کرتے ہیں ۔ اور اساسوں کو بنیاد سے اکھاڑ تے ہیں ۔ جن کے اوپر پاکیزہ اخلاق استوار ہوتے ہیں اور معاشرے کو اس گندگی کے اندر گراتے ہیں جسے وہ جگہ جگہ پھیلاتے پھرتے ہیں اور سب سے بڑی بات یہ ہے کہ یہ ایجنٹ اسلامی تاریخ کا بعینہ اسی طرح حلیہ بگاڑتے ہیں ‘ جس طرح انہوں نے اپنی کتب سماوی کا حلیہ بگاڑا اور اس میں تحریف کی ۔

لیکن آپ حیران ہوں گے یہ ایجنٹ ان سب کارناموں کے ساتھ پھر بھی مسلمان ہیں ! کیوں مسلمان نہ ہوں ‘ کیا ان کے نام مسلمانوں کی طرح نہیں ؟ اور وہ ان ناموں کے ساتھ ساتھ روز دن چڑھے اپنے اسلام کا اظہار واقرار بھی کرتے ہیں لیکن وہ مذکورہ بالا کارنامے کرکے گویا شام کے وقت وہ اسلام کا انکار کردیتے ہیں ۔ اور اس طرح یہ ایجنٹ وہ کردار ادا کرتے ہیں جو پرانے اہل کتاب کرتے تھے ۔ فرق صرف یہ ہے کہ دور قدیم اور آج کے ماحول اور طریقہ واردات میں قدرے فرق ہے۔

آیت 72 وَقَالَتْ طَّآءِفَۃٌ مِّنْ اَہْلِ الْکِتٰبِ اٰمِنُوْا بالَّذِیْ اُنْزِلَ عَلَی الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا وَجْہَ النَّہَارِ وَاکْفُرُوْآ اٰخِرَہٗ لَعَلَّہُمْ یَرْجِعُوْنَ یہاں یہود کی ایک بہت بڑی سازش کا ذکرہو رہا ہے جو ان کے ایک گروہ نے محمد رسول اللہ ﷺ کی دعوت کو ناکام بنانے کے لیے مسلمانوں کے خلاف تیار کی تھی۔ اس سازش کا پس منظر یہ تھا کہ دنیا کے سامنے یہ بات آچکی تھی کہ جو کوئی ایک مرتبہ دائرۂ اسلام میں داخل ہوجاتا تھا وہ واپس نہیں آتا تھا ‘ چاہے اسے بدترین تشدد کا نشانہ بنایا جائے ‘ بھوکا پیاسا رکھا جائے ‘ حتیٰ کہ جان سے مار دیا جائے۔ اس طرح اسلام کی ایک دھاک بیٹھ گئی تھی کہ اس کے اندر کوئی ایسی کشش ‘ ایسی حقانیت اور ایسی مٹھاس ہے کہ آدمی ایک مرتبہ اسلام قبول کرلینے کے بعد بڑی سے بڑی قربانی دینے کو تیار ہوجاتا ہے ‘ لیکن اسلام سے دست بردار ہونے کو تیار نہیں ہوتا۔ اسلام کی یہ جو ساکھ بن گئی تھی اس کو توڑنے کا طریقہ انہوں نے یہ سوچا کہ ایسا کرو صبح کے وقت اعلان کرو کہ ہم ایمان لے آئے۔ سارا دن محمد ﷺ کی صحبت میں رہو اور شام کو کہہ دو ہم نے دیکھ لیا ‘ یہاں کچھ نہیں ہے ‘ یہ دور کے ڈھول سہانے ہیں ‘ ہم تو اپنے کفر میں واپس جا رہے ہیں ‘ ہمیں یہاں سے کچھ نہیں ملا۔ اس سے مسلمانوں میں سے کچھ لوگ تو سمجھیں گے کہ انہوں نے سازش کی ہوگی ‘ لیکن یقیناً کچھ لوگ یہ بھی سمجھیں گے کہ بھئی بڑے متقی لوگ تھے ‘ متلاشیانِ حق تھے ‘ بڑے جذبے اور بڑی شان کے ساتھ انہوں نے کلمہ پڑھا تھا اور ایمان قبول کیا تھا ‘ پھر سارا دن رسول اللہ ﷺ کی محفل میں بیٹھے رہے ہیں ‘ آخر انہوں نے کچھ نہ کچھ تو دیکھا ہی ہوگا جو واپس پلٹ گئے۔ اس انداز سے عام لوگوں کے دلوں میں وسوسہ اندازی کرنا بہت آسان کام ہے۔ چناچہ انہوں نے منافقانہ شرارت کی یہ سازش تیار کی۔ اسلام میں قتل مرتد کی سزا کا تعلق اسی سے جڑتا ہے۔ اسلامی ریاست میں اس طرح کی سازشوں کا راستہ روکنے کے لیے یہ سزا تجویز کی گئی ہے کہ جو شخص ایمان لانے کے بعد پھر کفر میں جائے گا تو قتل کردیا جائے گا ‘ کیونکہ اسلامی ریاست ایک نظریاتی ideological ریاست ہے ‘ ایمان اور اسلام ہی تو اس کی بنیادیں ہیں۔ چناچہ اس کی بنیادوں کو کمزور کرنے اور اس کی جڑوں کو کھودنے والی جو چیز بھی ہوسکتی ہے اس کا سدباب پوری قوت سے کرنا چاہیے۔ ّ َ

آیت 72 - سورة آل عمران: (وقالت طائفة من أهل الكتاب آمنوا بالذي أنزل على الذين آمنوا وجه النهار واكفروا آخره لعلهم يرجعون...) - اردو