جب اہل اسلام نے یہ سنا تو ان کے دل میں اللہ کے فضل وکرم کا احساس پیدا ہوا ۔ انہوں نے یہ جان لیا کہ انہیں ایک عظیم ڈیوٹی کے لئے منتخب کیا گیا ہے۔ اور انہیں مخصوص طور پر یہ اعزاز دیا گیا ہے ۔ تو انہوں نے اپنے اس اعزاز کو بڑی دلچسپی کے ساتھ قائم رکھا۔ بڑی مضبوطی اور عزم سے اسے تھام لیا ۔ بڑی قوت اور ثابت قدمی سے اس کی مدافعت کی ۔ وہ حاسدوں اور مکاروں کی سازشوں کے مقابلے میں چوکنے ہوگئے ۔ قرآن کریم کا یہی انداز تربیت تھا ۔ اس لئے کہ یہ حکیم ودانا کا کلام ہے ۔ اور آج بھی امت مسلمہ کے لئے یہی عنصر موجب اصلاح وتربیت ہوسکتا ہے ۔ ہر زمانے اور ہر نسل میں ۔
آگے بڑھ کر مزیدحالات اہل کتاب کی بابت بیان ہوتے ہیں ۔ بتایا جاتا ہے کہ ان کے طرز عمل میں کس قدر تناقص پایا جاتا ہے ۔ اور قطعی طور پر بتادیا جاتا ہے کہ مسلمانوں کا دین یعنی اسلام کن صحیح اور سچے اقدار پر استوار ہوا ہے ۔ اس سلسلے میں بتایا جاتا ہے کہ اہل کتاب کے اندر باہمی معاملات میں کس قسم کے لوگ پائے جاتے ہیں ۔
آیت 74 یَّخْتَصُّ بِرَحْمَتِہٖ مَنْ یَّشَآءُ ط وَاللّٰہُ ذو الْفَضْلِ الْعَظِیْمِ اگلی آیت میں حکمت دعوت کے اعتبار سے بہت اہم نکتہ موجود ہے کہ برے سے برے گروہ کے اندر بھی کہیں نہ کہیں کوئی اچھے افراد لازماً ہوتے ہیں۔ داعی کے لیے ضروری ہے کہ وہ ان کا تذکرہ بھی کرتا رہے کہ ان میں اچھے لوگ بھی ہیں ‘ تاکہ ایسے لوگوں کے دلوں کے اندر نرمی پیدا ہو۔ اسی طرح فرد کا معاملہ ہے کہ برے سے برے آدمی کے اندر کوئی اچھائی بھی موجود ہوتی ہے۔ آپ اگر اسے حق کی دعوت دے رہے ہیں تو اس میں جو اچھائی ہے اس کو مانیے ‘ تاکہ اسے معلوم ہو کہ اسے مجھ سے کوئی دشمنی نہیں ہے ‘ میری جو بات واقعی اچھی ہے اس کو یہ تسلیم کر رہا ہے ‘ لیکن جو بات غلط ہے اس کو ردّ کر رہا ہے۔ اس طرح اس کے دل میں کشادگی پیدا ہوگی اور وہ آپ کی بات سننے پر آمادہ ہوگا۔