جب اہل دین اخلاقی فساد میں مبتلا ہوجاتے ہیں تو وہ دینی حقائق میں ملاوٹ کا ذریعہ بنتے ہیں اور یہ کام وہ علمائے دین کے لباس میں کرتے ہیں ۔ قرآن کریم یہاں اہل کتاب میں ایک گروہ کے جو حالات بیان کررہا ہے ‘ ان سے ہم اپنے زمانے میں اچھی طرح واقف ہیں ‘ اہل کتاب نصوص کتاب میں تاویلات کرتے تھے ۔ زبان کے ہیر پھیر سے مفہوم تبدیل کرتے تھے ۔ اور اس طرح وہ طے شدہ نتائج اخذ کرتے تھے ۔ اور ان کا یقین یہ ہوتا تھا کہ کتاب اللہ کا مفہوم یہی ہے ۔ اور یہی مفہوم ارادہ الٰہی کا اظہار ہے ۔ حالانکہ جو نتائج وہ اخذ کرتے تھے وہ اصول دین سے متصادم تھے ۔ ان کو یہ اعتماد تھا اکثر سامعین ان پڑھ اور بےعلم ہیں اور وہ ان کے خودساختہ نتائج اور آیات کے حقیقی مفہوم کے درمیان کوئی فرق اور امتیاز نہیں کرسکتے ۔ حالانکہ ان کے نتائج جعلی اور جھوٹے تھے اور ان نتائج تک وہ آیات کو زبردستی کھینچ کر لاتے تھے ۔
اہل کتاب کا یہ نمونہ ہمارے دور میں بعض دینی راہنماؤں میں پوری طرح پایا جاتا ہے ‘ جو بطور ظلم اپنے آپ کو دین کے حوالے سے پیش کرتے ہیں ۔ جو دین میں تحریف کرتے ہیں ۔ اور جو اپنی خواہشات نفسانیہ میں سے مزاح بناتے ہیں ۔ وہ اپنے کاندھوں پر آیات الٰہی کو اٹھائے ہوئے پھرتے ہیں اور جہاں بھی انہیں کوئی مفاد نظرآئے اسی کی بھینٹ چڑھاتے ہیں ‘ جہاں بھی اس دنیا کے مفادات میں سے کوئی بھی مفاد ملتا ہے ۔ ان آیات کے ذریعہ وہ اسے حاصل کرتے ہیں ۔ غرض آیات الٰہی کو اٹھائے یہ لوگ اغراض دنیاوی کے پیچھے دوڑتے رہتے ہیں ۔ اور پھر ان آیات کی گردن توڑ کر اور انہیں خوب مروڑ کر ان مفادات پر فٹ کرتے ہیں ۔ وہ الفاظ کے مفہوم میں ایسی تبدیلی کرتے ہیں کہ وہ ان کے مقاصد اور رجحانات سے موافق ہوجائیں ۔ اگرچہ یہ رجحانات دین کے اساسی تصورات اور اصول دین کے ساتھ متصادم ہوں ۔ وہ اس میدان میں سہ گانہ جدوجہد کرتے ہیں اور ہر قسم کی بہتان تراشی کا ارتکاب کرتے ہیں اور ہر وقت اسی گھات میں بیٹھے رہتے ہیں کہ کسی طرح قرآن مجید کے کسی لفظ کا وہ مفہوم نکال لیں جو ان کی خواہشات نفسانیہ کے مطابق ہو ‘ اور جس سے یہ رائج اور صاید خواہشات ثابت ہوجائیں ۔
وَیَقُولُونَ ھُوَ مِن عِندِ اللّٰہِ وَمَا ھُوَ مِن عِندِ اللّٰہِ وَیَقُولُونَ عَلَی اللّٰہِ الکَذِبَ وَھُم یَعلَمُونَ
” وہ کہتے ہیں کہ جو کچھ ہم پڑھ رہے ہیں یہ اللہ کی طرف سے ہے حالانکہ وہ اللہ کی طرف سے نہیں ہوتا ‘ وہ جان بوجھ کر بات اللہ کی طرف منسوب کردیتے ہیں ۔ “
قرآن کریم نے اہل کتاب کے ایک گروہ کا جو حال بیان کیا ہے ‘ یہ ایک ایسی بیماری ہے جو اہل کتاب کے ساتھ مخصوص نہیں ہے ۔ اس میں ہر وہ قوم مبتلا ہوجاتی ہے جو دین کا کام ایسے لوگوں کے سپرد کردیتی ہے جو نام نہاد دیندار ہوتے ہیں اور جن کے نزدیک دین اس قدر ارزاں ہوجاتا ہے کہ اس کی قدر و قیمت ان کی اغراض دنیاوی میں سے ادنی کے غرض کے برابر بھی نہیں ہوتی ۔ اور ان کی ذمہ داری کی حس اس قدر مانگ پڑجاتی ہے کہ ان کا دل اللہ پر جھوٹ باندھنے سے بھی نہیں چوکتا۔ وہ لوگوں اور بندوں کی چاپلوسی کی خاطر آیات الٰہی میں تبدیلی کرتے ہیں ۔ اور اپنی غیر صحت مندخواہشات کو پورا کرنے کے لئے وہ اللہ کے دین میں تحریف کا ارتکاب کرتے ہیں ۔ گویا اللہ تعالیٰ جماعت مسلمہ کو اس خطرناک مقام سے آگاہ کرتے ہیں جہاں قدم پھسل جاتے ہیں اور جس کی وجہ سے بنی اسرائیل نے اپنے مقام قیادت کو کھودیا۔
ان آیات کے مجموعی تاثر کے مطابق معلوم ہوتا ہے کہ بنی اسرائیل کا یہ گروہ کتاب اللہ میں سے مجازی تعبیرات پر مشتمل بعض جملے تلاش کرلیتا تھا اور پھر ان آیات کو توڑ مروڑ کر ان سے ایسے معانی نکال لیتا تھا ‘ جن کی متحمل وہ آیات نہ تھیں ۔ یوں وہ اپنی تاویلات کے ذریعہ عجیب معانی نکالتے اور ان پڑھ لوگوں کو یہ تاثر دیتے کہ یہ مفاہم کتاب اللہ کے مدلولات ہیں ۔ حالانکہ وہ خود ان کے ایجاد کردہ تھے ۔ وہ لوگوں سے کہتے یہ ہے وہ بات جو اللہ نے کہی ہے ۔ حالانکہ اللہ نے تعالیٰ نے ایسی کوئی بات نہیں کہی ہوتی ۔ ان تاویلات کا مقصد اور ہدف یہ تھا کہ وہ حضرت عیسیٰ (علیہ السلام) کی الوہیت ثابت کردیں ‘۔ یعنی تین اقنوم باپ ‘ بیٹا اور روح القدس ‘ تین بھی اور ایک بھی اور وہ ایک اللہ ہے ۔ حالانکہ اللہ تعالیٰ ان کے تصور سے پاک ہے ۔ وہ حضرت عیسیٰ (علیہ السلام) سے ایسے کلمات روایت کرتے تھے جو ان کے مزعومات کی تائید کرتے تھے ۔ تو اللہ تعالیٰ نے ان کی ان تحریفات اور تاویلات کی تردید کرتے ہوئے فرمایا کہ یہ کیسے ممکن ہے کہ اللہ اپنے بندے کو نبوت کے لئے چن لے اور اس کو یہ عظیم منصب عطاکردے اور وہ بندہ لوگوں کو حکم دے کہ وہ اسے الٰہ بنالیں ۔ فرشتوں کو الٰہ بنالیں ۔ یہ تو ممکن ہی نہیں ہے ۔
آیت 78 وَاِنَّ مِنْہُمْ لَفَرِیْقًا یَّلْوٗنَ اَلْسِنَتَہُمْ بالْکِتٰبِ لِتَحْسَبُوْہُ مِنَ الْکِتٰبِ وَمَا ہُوَ مِنَ الْکِتٰبِ ج۔علماء یہود الفاظ کو ذرا سا ادھر سے ادھر مروڑ کر اور معنی پیدا کرلیتے تھے۔ ہم سورة البقرۃ میں پڑھ چکے ہیں کہ یہود سے کہا گیا حِطَّۃٌکہو تو حِنْطَۃٌکہنے لگے۔ یعنی بجائے اس کے کہ اے اللہ ہمارے گناہ جھاڑ دے انہوں نے کہنا شروع کردیا ہمیں گیہوں دے۔ انہیں تلقین کی گئی کہ تم کہو : سَمِعْنَا وَاَطَعْنَا مگر انہوں نے کہا : سَمِعْنَا وَعَصَیْنَا۔ اسی طرح کا معاملہ وہ تورات کو پڑھتے ہوئے بھی کرتے تھے۔ جب وہ دیکھتے کہ جو سائل فتویٰ مانگنے آیا ہے اس کی پسند کچھ اور ہے جبکہ تورات کا حکم کچھ اور ہے تو وہ الفاظ کو توڑ مروڑ کر پڑھ دیتے کہ دیکھو یہ کتاب کے اندر موجود ہے ‘ اور اس طرح سائل کو خوش کر کے اس سے کچھ رقم حاصل کرلیتے۔ وَیَقُوْلُوْنَ ہُوَ مِنْ عِنْدِ اللّٰہِ وَمَا ہُوَ مِنْ عِنْدِ اللّٰہِ ج ہم یہ مضمون سورة البقرۃ آیت 79 میں بھی پڑھ چکے ہیں۔
غلط تاویل اور تحریف کرنے والے لوگ یہاں بھی انہی ملعون یہودیوں کا ذکر ہو رہا ہے کہ ان کا ایک گروہ یہ بھی کرتا ہے کہ عبارت کو اس کی اصل جگہ سے ہٹا دیتا ہے، یعنی اللہ کی کتاب بدل دیتا ہے، اصل مطلب اور صحیح معنی خبط کردیتا ہے اور جاہلوں کو اس چکر میں ڈال دیتا ہے کہ کتاب اللہ یہی ہے پھر یہ خود اپنی زبان سے بھی اسے کتاب اللہ کہہ کر جاہلوں کے اس خیال کو اور مضبوط کردیتا ہے اور جان بوجھ کر اللہ تعالیٰ پر افترا کرتا ہے اور جھوٹ بکتا ہے، زبان موڑنے سے مطلب یہاں تحریف کرنا ہے۔ حضرت ابن عباس سے صحیح بخاری شریف میں مروی ہے کہ یہ لوگ تحریف اور ازالہ کردیتے تھے مخلوق میں ایسا تو کوئی نہیں جو کسی اللہ کی کتاب کا لفظ بدل دے مگر یہ لوگ تحریف اور بےجا تاویل کرتے تھے، وہب بن منبہ فرماتے ہیں کہ توراۃ و انجیل اسی طرح ہیں جس طرح اللہ تعالیٰ نے اتاریں ایک حرف بھی ان میں سے اللہ نے نہیں بدلا لیکن یہ لوگ تحریف اور تاویل سے لوگوں کو گمراہ کرتے ہیں اور جو کتابیں انہوں نے اپنی طرف سے لکھ لی ہیں اور جسے وہ اللہ تعالیٰ کی طرف سے مشہور کر رہے ہیں اور لوگوں کو بہکاتے ہیں حالانکہ دراصل وہ اللہ کی طرف سے نہیں اللہ کی اصلی کتابیں تو محفوظ ہیں جو بدلتی نہیں (ابن ابی حاتم) حضرت وہب کے اس فرمان کا اگر یہ مطلب ہو کہ ان کے پاس اب جو کتاب ہے تو ہم بالیقین کہتے ہیں کہ وہ بدلی ہوئی ہے اور محرف ہے اور زیادتی اور نقصان سے ہرگز پاک نہیں اور پھر جو عربی زبان میں ہمارے ہاتھوں میں ہے اس میں تو بڑی غلطیاں ہیں کہیں مضمون کو کم کردیا گیا ہے کہیں بڑھا دیا گیا ہے اور صاف صاف غلطیاں موجود ہیں بلکہ دراصل اسے ترجمہ کہنا زیبا ہی نہیں وہ تو تفسیر اور وہ بھی بےاعتبار تفسیر ہے اور پھر ان سمجھداروں کی لکھی ہوئی تفسیر ہے جن میں اکثر بلکہ کل کے کل دراصل محض الٹی سمجھ والے ہیں اور اگر حضرت وہب کے فرمان کا یہ مطلب ہو کہ اللہ تعالیٰ کی کتاب جو درحقیقت اللہ کی کتاب ہے پس وہ بیشک محفوظ وسالم ہے اس میں کمی زیادتی ناممکن ہے۔