یہ خوفناک دہمکی دیکھ کر ‘ ہر وہ دل جس میں ذرہ برابر بھی ایمان ہو وہ کانپ اٹھتا ہے اور جن کے دل میں دنیا وآخرت دونوں کے بارے میں ذمہ داری کا احساس ہو اور یہی مناسب سزا ہے اس شخص کی جسے نجات کا خوبصورت موقعہ ملے اور وہ اس سے فائدہ نہ اٹھائے بلکہ اس سے اعراض برتے ۔
لیکن اس کفر واعراض کے باوجود اسلام تو بہ کے دروازے کھلے رکھتا ہے ۔ اسلام کسی گمراہ کے لئے واپسی کے دروازے بند نہیں کرتا ‘ لیکن اسے ہدایت کی طرف آنے پر مجبور بھی کر تاکہ وہ دروازہ ہدایت پر خود دستک دے ۔ بلکہ اسلام اس کے قریب ہوتا ہے اور اس کے درمیان کوئی پردہ حائل نہیں ہونے دیتا ۔ اور یہاں تک کہ وہ اس پرامن محفوظ مقام تک آجائے اور عمل صالح شروع کردے تاکہ معلوم ہو کہ اس نے توبہ صحیح طرح کرلی ہے۔
آیت 86 کَیْفَ یَہْدِی اللّٰہُ قَوْمًا کَفَرُوْا بَعْدَ اِیْمَانِہِمْ یعنی ان کے دل ایمان لے آئے تھے ‘ ان پر حقیقت منکشف ہوگئی تھی ‘ لیکن دنیوی مصلحتیں آڑے آگئیں اور زبان سے انکار کردیا۔ جیسے سورة النمل میں ہم پڑھیں گے : وَجَحَدُوْا بِہَا وَاسْتَیْقَنَتْہَآ اَنْفُسُہُمْ ظُلْمًا وَّعُلُوًّا ط آیت 14 انہوں نے ظلم اور تکبر کے مارے ان معجزات کا انکار کیا حالانکہ ان کے دل ان کے قائل ہوچکے تھے۔وَشَہِدُوْآ اَنَّ الرَّسُوْلَ حَقٌّ اہل کتاب جب آپس میں باتیں کرتے تھے تو کہتے تھے کہ یہ واقعتا نبی آخر الزمان ہیں جو ہماری کتابوں میں بیان کردہ پیشینگوئیوں کا مصداق ہیں۔ چناچہ روایات میں آتا ہے کہ علقمہ کے دو بیٹے ابوحارثہ اور کرز جب نجران سے مدینہ منورہ چلے آ رہے تھے تو راستے میں کرز کے گھوڑے کو کہیں ٹھوکر لگی تو اس نے کہا : تَعِسَ الْاَبْعَدُ ہلاک ہوجائے وہ دور والا یعنی جس کی طرف ہم جا رہے ہیں۔ اس کا اشارہ محمد رسول اللہ ﷺ کی طرف تھا۔ اس پر اس کے بڑے بھائی ابوحارثہ نے کہا بَلْ تَعِسَتْ اُمُّکَ بلکہ تیری ماں ہلاک ہوجائے ! اس نے کہا میرے بھائی ! تمہیں میری بات اس قدر بری کیوں لگی ؟ ابوحارثہ نے کہا : اللہ کی قسم ! یقیناً وہ وہی نبی امی ہیں جس کے ہم منتظر تھے۔ کرز نے کہا : جب آپ یہ سب جانتے ہیں تو ان پر ایمان کیوں نہیں لے آتے ؟ ابوحارثہ کہنے لگا : ان بادشاہوں نے ہمیں بڑا مقام و مرتبہ عطا کر رکھا ہے ‘ اگر ہم ایمان لے آئے تو وہ ہم سے یہ سب کچھ چھین لیں گے۔ یہ لوگ سلطنت روما کے تحت تھے اور انہیں مصر کی حکومت کی طرف سے بڑی مراعات حاصل تھیں ‘ انہیں مال و دولت اور عزت و وجاہت حاصل تھی۔ ابھی یہ لوگ محمد عربی ﷺ سے ملاقات کے لیے جا رہے تھے تو یہ حال تھا ‘ اس سے اندازہ کیا جاسکتا ہے کہ آنحضور ﷺ کی خدمت میں کئی روز گزارنے کے بعد مباہلہ سے راہ فرار اختیار کر کے واپس جاتے ہوئے انہیں کس قدر یقین حاصل ہوگیا ہوگا کہ یہی وہ نبی آخر الزمان ﷺ ہیں جن کے وہ منتظر تھے۔ ان کے دل گواہی دے چکے تھے کہ یہ رسول برحق ﷺ ہیں۔
توبہ اور قبولیت حضرت عبداللہ بن عباس ؓ فرماتے ہیں ایک انصار مرتد ہو کر مشرکین میں جا ملا پھر پچھتانے لگا اور اپنی قوم سے کہلوایا کہ رسول اللہ صلعم سے دریافت کرو کہ کیا میری توبہ قبول ہوسکتی ہے ؟ ان کے دریافت کرنے پر یہ آیتیں اتریں اس کی قوم نے اسے کہلوا بھیجا وہ پھر توبہ کر کے نئے سرے سے مسلمان ہو کر حاضر ہوگیا (ابن جریر) نسائی حاکم اور ابن حبان میں بھی یہ روایت موجود ہے امام حاکم اسے صحیح الاسناد کہتے ہیں، مسند عبدالرزاق میں ہے کہ حارث بن سوید نے اسلام قبول کیا پھر قوم میں مل گیا اور اسلام سے پھر گیا اس کے بارے میں یہ آیتیں اتریں اس کی قوم کے ایک شخص نے یہ آیتیں اسے پڑھ کر سنائیں تو اس نے کہا جہاں تک میرا خیال ہے اللہ کی قسم تو سچا ہے اور اللہ کے نبی تو تجھ سے بہت ہی زیادہ سچے ہیں اور اللہ تعالیٰ سب سچوں سے زیادہ سچا ہے پھر وہ حضور ﷺ کی طرف لوٹ آئے اسلام لائے اور بہت اچھی طرح اسلام کو نبھایا بینات سے مراد رسول ﷺ کی تصدیق پر حجتوں اور دلیلوں کا بالکل واضح ہوجانا ہے پس جو لوگ ایمان لائے رسول کی حقانیت مان چکے دلیلیں دیکھ چکے پھر شرک کے اندھیروں میں جا چھپے یہ لوگ مستحق ہدایت نہیں کیونکہ آنکھوں کے ہوتے ہوئے اندھے پن کو انہوں نے پسند کیا اللہ تعالیٰ ناانصاف لوگوں میں رہبری نہیں کرتا، انہیں اللہ لعنت کرتا ہے اور اس کی مخلوق بھی ہمیشہ لعنت کرتی ہے نہ تو کسی وقت ان کے عذاب میں تخفیف ہوگی نہ موقوفی۔ پھر اپنا لطف و احسان رافت و رحمت کا بیان فرماتا ہے کہ اس بدترین جرم کے بعد بھی جو میری طرف جھکے اور اپنے بداعمال کی اصلاح کرلے میں بھی اس سے درگذر کرلیتا ہوں۔