سورة آل عمران (3): آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں۔ - اردو ترجمہ

اس صفحہ میں سورہ Aal-i-Imraan کی تمام آیات کے علاوہ تفسیر بیان القرآن (ڈاکٹر اسرار احمد) کی تمام آیات کی تفسیر بھی شامل ہے۔ پہلے حصے میں آپ سورہ آل عمران کو صفحات میں ترتیب سے پڑھ سکتے ہیں جیسا کہ یہ قرآن میں موجود ہے۔ کسی آیت کی تفسیر پڑھنے کے لیے اس کے نمبر پر کلک کریں۔

سورة آل عمران کے بارے میں معلومات

Surah Aal-i-Imraan
سُورَةُ آلِ عِمۡرَانَ
صفحہ 63 (آیات 101 سے 108 تک)

وَكَيْفَ تَكْفُرُونَ وَأَنتُمْ تُتْلَىٰ عَلَيْكُمْ ءَايَٰتُ ٱللَّهِ وَفِيكُمْ رَسُولُهُۥ ۗ وَمَن يَعْتَصِم بِٱللَّهِ فَقَدْ هُدِىَ إِلَىٰ صِرَٰطٍ مُّسْتَقِيمٍ يَٰٓأَيُّهَا ٱلَّذِينَ ءَامَنُوا۟ ٱتَّقُوا۟ ٱللَّهَ حَقَّ تُقَاتِهِۦ وَلَا تَمُوتُنَّ إِلَّا وَأَنتُم مُّسْلِمُونَ وَٱعْتَصِمُوا۟ بِحَبْلِ ٱللَّهِ جَمِيعًا وَلَا تَفَرَّقُوا۟ ۚ وَٱذْكُرُوا۟ نِعْمَتَ ٱللَّهِ عَلَيْكُمْ إِذْ كُنتُمْ أَعْدَآءً فَأَلَّفَ بَيْنَ قُلُوبِكُمْ فَأَصْبَحْتُم بِنِعْمَتِهِۦٓ إِخْوَٰنًا وَكُنتُمْ عَلَىٰ شَفَا حُفْرَةٍ مِّنَ ٱلنَّارِ فَأَنقَذَكُم مِّنْهَا ۗ كَذَٰلِكَ يُبَيِّنُ ٱللَّهُ لَكُمْ ءَايَٰتِهِۦ لَعَلَّكُمْ تَهْتَدُونَ وَلْتَكُن مِّنكُمْ أُمَّةٌ يَدْعُونَ إِلَى ٱلْخَيْرِ وَيَأْمُرُونَ بِٱلْمَعْرُوفِ وَيَنْهَوْنَ عَنِ ٱلْمُنكَرِ ۚ وَأُو۟لَٰٓئِكَ هُمُ ٱلْمُفْلِحُونَ وَلَا تَكُونُوا۟ كَٱلَّذِينَ تَفَرَّقُوا۟ وَٱخْتَلَفُوا۟ مِنۢ بَعْدِ مَا جَآءَهُمُ ٱلْبَيِّنَٰتُ ۚ وَأُو۟لَٰٓئِكَ لَهُمْ عَذَابٌ عَظِيمٌ يَوْمَ تَبْيَضُّ وُجُوهٌ وَتَسْوَدُّ وُجُوهٌ ۚ فَأَمَّا ٱلَّذِينَ ٱسْوَدَّتْ وُجُوهُهُمْ أَكَفَرْتُم بَعْدَ إِيمَٰنِكُمْ فَذُوقُوا۟ ٱلْعَذَابَ بِمَا كُنتُمْ تَكْفُرُونَ وَأَمَّا ٱلَّذِينَ ٱبْيَضَّتْ وُجُوهُهُمْ فَفِى رَحْمَةِ ٱللَّهِ هُمْ فِيهَا خَٰلِدُونَ تِلْكَ ءَايَٰتُ ٱللَّهِ نَتْلُوهَا عَلَيْكَ بِٱلْحَقِّ ۗ وَمَا ٱللَّهُ يُرِيدُ ظُلْمًا لِّلْعَٰلَمِينَ
63

سورة آل عمران کو سنیں (عربی اور اردو ترجمہ)

سورة آل عمران کی تفسیر (تفسیر بیان القرآن: ڈاکٹر اسرار احمد)

اردو ترجمہ

تمہارے لیے کفر کی طرف جانے کا اب کیا موقع باقی ہے جب کہ تم کو اللہ کی آیات سنائی جا رہی ہیں اور تمہارے درمیان اس کا رسولؐ موجود ہے؟ جو اللہ کا دامن مضبوطی کے ساتھ تھامے گا وہ ضرور راہ راست پالے گا

انگریزی ٹرانسلیٹریشن

Wakayfa takfuroona waantum tutla AAalaykum ayatu Allahi wafeekum rasooluhu waman yaAAtasim biAllahi faqad hudiya ila siratin mustaqeemin

آیت 101 وَکَیْفَ تَکْفُرُوْنَ وَاَنْتُمْ تُتْلٰی عَلَیْکُمْ اٰیٰتُ اللّٰہِ وَفِیْکُمْ رَسُولُہٗ ط۔تمہارے درمیان محمد رسول اللہ ﷺ بنفس نفیس تمہاری راہنمائی کے لیے موجود ہیں اور تمہیں اللہ تعالیٰ کی آیات پڑھ پڑھ کر سنا رہے ہیں۔ اس سے اندازہ لگایا جاسکتا ہے کہ مدینہ میں علماء یہود کا کتنا اثر تھا۔ اوس اور خزرج کے لوگ ان سے مرعوب تھے کیونکہ یہ اَن پڑھ لوگ تھے ‘ ان کے پاس کوئی کتاب ‘ کوئی شریعت اور کوئی قانون نہیں تھا ‘ جبکہ یہود صاحب کتاب اور صاحب شریعت تھے ‘ ان کے ہاں علماء تھے۔ لہٰذا اوس اور خزرج کے جو لوگ اسلام لے آئے تھے ان کے بارے میں اندیشہ ہوتا تھا کہ کہیں یہود کی ریشہ دوانیوں کا شکار نہ ہوجائیں۔ اس قسم کے خطرے سے بچنے کی تدبیر بھی بتادی گئی :وَمَنْ یَّعْتَصِمْ باللّٰہِ فَقَدْ ہُدِیَ اِلٰی صِرَاطٍ مُّسْتَقِیْمٍ ۔جو کوئی اللہ کی پناہ میں آجائے ‘ اللہ کا دامن مضبوطی سے تھام لے اسے تو ضرور صراط مستقیم کی ہدایت ملے گی اور وہ ضلالت و گمراہی کے خطرات سے محفوظ ہوجائے گا۔ جیسے شیر خوار بچے کو کوئی خطرہ محسوس ہو تو وہ دوڑ کر آئے گا اور اپنی ماں کے ساتھ چمٹ جائے گا۔ اب وہ یہ سمجھے گا کہ میں مضبوط قلعہ میں آگیا ہوں ‘ اب مجھے کوئی کچھ نہیں کہہ سکتا۔ وہ نہیں جانتا کہ ماں بےچاری تمام خطرات سے اس کی حفاظت نہیں کرسکتی۔ اسے کیا پتا کہ کب کوئی درندہ صفت انسان اسے ماں کی گود سے کھینچ کر اچھالے اور کسی بلم یا نیزے کی انی میں پرو دے۔ بہرحال بچہ تو یہی سمجھتا ہے کہ اب میں ماں کی گود میں آگیا ہوں تو محفوظ پناہ میں آگیا ہوں۔ اللہ کا دامن واقعتا محفوظ پناہ گاہ ہے ‘ اور جو کوئی اس کے ساتھ چمٹ جاتا ہے وہ گمراہی کی ٹھوکروں سے محفوظ ہوجاتا ہے اور جادۂ مستقیم پر گامزن ہوجاتا ہے۔ اللّٰھُمَّ رَبَّنَا اجْعَلْنَا مِنْھُمْ ! آمِیْنَ یَا رَبَّ الْعَالَمِیْنَ ! !

اردو ترجمہ

اے لوگو جو ایمان لائے ہو، اللہ سے ڈرو جیسا کہ اس سے ڈرنے کا حق ہے تم کو موت نہ آئے مگر اس حال میں کہ تم مسلم ہو

انگریزی ٹرانسلیٹریشن

Ya ayyuha allatheena amanoo ittaqoo Allaha haqqa tuqatihi wala tamootunna illa waantum muslimoona

اب سورة آل عمران کا نصف ثانی شروع ہو رہا ہے ‘ جس کا پہلا حصہ دو رکوعوں پر مشتمل ہے۔ آپ نے یہ مشابہت بھی نوٹ کرلی ہوگی کہ سورة البقرۃ کے نصفِ اوّل میں بھی ایک مرتبہ یٰٓاَیُّہَا الَّذِیْنَ اٰمَنُوا سے خطاب تھا : یٰٓاَیُّہَا الَّذِیْنَ اٰمَنُوا لَا تَقُوْلُوْا رَاعِنَا وَقُوْلُوا انْظُرْنَا وَاسْمَعُوْا ط اسی طرح سورة آل عمران کے نصفِ اوّل میں بھی ایک آیت اوپر آچکی ہے : یٰٓاَیُّہَا الَّذِیْنَ اٰمَنُوْآ اِنْ تُطِیْعُوْا فَرِیْقًا مِّنَ الَّذِیْنَ اُوْتُوا الْکِتٰبَ یَرُدُّوْکُمْ بَعْدَ اِیْمَانِکُمْ کٰفِرِیْنَ لیکن مسلمانوں سے اصل خطاب گیارہویں رکوع سے شروع ہو رہا ہے اور یہاں پر اصل میں امت کو ایک سہ نکاتی لائحہ عمل دیا جا رہا ہے۔ ظاہر ہے کہ یہ امت اب قیامت تک قائم رہنے والی ہے ‘ اور اس میں زوال بھی آئے گا اور اللہ تعالیٰ اولوالعزم اور باہمت لوگوں کو بھی پیدا کرے گا ‘ جیسا کہ ہمیں معلوم ہے کہ مجددین امت ہر صدی کے اندر اٹھتے رہے۔ لیکن جب بھی تجدید دین کا کوئی کام ہو ‘ دین کو ازسر نو تروتازہ کرنے کی کوشش ہو ‘ دین کو قائم کرنے کی جدوجہد ہو تو اس کا ایک لائحہ عمل ہوگا۔ وہ لائحہ عمل سورة آل عمران کی ان تین آیات 102 ‘ 103 ‘ 104 میں نہایت جامعیت کے ساتھ سامنے آیا ہے۔ یہ حسن اتفاق ہے کہ یہ بھی تین آیات ہیں جیسے سورة العصر کی تین آیات ہیں ‘ جو نہایت جامع ہیں۔ ان آیات کے مضامین پر میری ایک کتاب بھی موجود ہے امت مسلمہ کے لیے سہ نکاتی لائحہ عمل اور اس کا انگریزی میں بھی ترجمہ ہوچکا ہے۔ اس لائحہ عمل کا پہلا نکتہ یہ ہے کہ جب بھی کوئی کام کرنا ہے تو سب سے پہلے افراد کی شخصیت سازی ‘ کردار سازی کرنا ہوگی۔چنانچہ فرمایا :آیت 102 یٰٓاَیُّہَا الَّذِیْنَ اٰمَنُوا اتَّقُوا اللّٰہَ حَقَّ تُقٰتِہ وَلاَ تَمُوْتُنَّ الاَّ وَاَنْتُمْ مُّسْلِمُوْنَ ۔قرآن مجید میں تقویٰ کی تلقین کے لیے یہ سب سے گاڑھی آیت ہے۔ اس پر صحابہ رض ‘ گھبرا گئے کہ یارسول اللہ ﷺ ! اللہ کے تقویٰ کا حق کون ادا کرسکتا ہے ؟ پھر جب سورة التغابن کی یہ آیت نازل ہوئی کہ فَاتَّقُوا اللّٰہَ مَااسْتَطَعْتُمْ آیت 16 اپنی امکانی حد تک اللہ کا تقویٰ اختیار کرو تب ان کی جان میں جان آئی۔ تقویٰ کے حکم کے ساتھ ہی یہ فرمایا کہ مت مرنا مگر حالت فرمانبرداری میں۔ اس کے معنی یہ ہیں کہ کوئی پتہ نہیں کس لمحے موت آجائے ‘ لہٰذا تمہارا کوئی لمحہ نافرمانی میں نہ گزرے ‘ مبادا موت کا ہاتھ اسی وقت آکر تمہیں دبوچ لے۔ اگر پہلے اس طرح کی شخصیتیں نہ بنی ہوں تو اجتماعی اصلاح کا کوئی کام نہیں ہوسکتا۔ اس لیے پہلے افراد کی کردار سازی پر زور دیا گیا۔ اس کے بعد دوسرا مرحلہ یہ ہے کہ ایک اجتماعیت اختیار کرو۔

اردو ترجمہ

سب مل کر اللہ کی رسی کو مضبوط پکڑ لو اور تفرقہ میں نہ پڑو اللہ کے اُس احسان کو یاد رکھو جو اس نے تم پر کیا ہے تم ایک دوسرے کے دشمن تھے، اُس نے تمہارے دل جوڑ دیے اور اس کے فضل و کرم سے تم بھائی بھائی بن گئے تم آگ سے بھرے ہوئے ایک گڑھے کے کنارے کھڑے تھے، اللہ نے تم کو اس سے بچا لیا اس طرح اللہ اپنی نشانیاں تمہارے سامنے روشن کرتا ہے شاید کہ اِن علامتوں سے تمہیں اپنی فلاح کا سیدھا راستہ نظر آ جائے

انگریزی ٹرانسلیٹریشن

WaiAAtasimoo bihabli Allahi jameeAAan wala tafarraqoo waothkuroo niAAmata Allahi AAalaykum ith kuntum aAAdaan faallafa bayna quloobikum faasbahtum biniAAmatihi ikhwanan wakuntum AAala shafa hufratin mina alnnari faanqathakum minha kathalika yubayyinu Allahu lakum ayatihi laAAallakum tahtadoona

آیت 103 وَاعْتَصِمُوْا بِحَبْلِ اللّٰہِ جَمِیْعًا وَّلاَ تَفَرَّقُوْاص۔یاد رہے کہ اس سے پہلے آیت 101 ان الفاظ پر ختم ہوئی ہے : وَمَنْ یَّعْتَصِمْ باللّٰہِ فَقَدْ ہُدِیَ اِلٰی صِرَاطٍ مُّسْتَقِیْمٍ اور جو کوئی اللہ تعالیٰ سے چمٹ جائے اللہ کی حفاظت میں آجائے اس کو تو ہدایت ہوگئی صراط مستقیم کی طرف۔ سورة الحج کی آخری آیت میں بھی یہ لفظ آیا ہے : وَاعْتَصِمُوْا باللّٰہِ اور اللہ سے چمٹ جاؤ ! اب اللہ کی حفاظت میں کیسے آیا جائے ؟ اللہ سے کیسے چمٹیں ؟ اس کے لیے فرمایا : وَاعْتَصِمُوْا بِحَبْلِ اللّٰہِ کہ اللہ کی رسی سے چمٹ جاؤ ‘ اللہ کی رسی کو مضبوطی سے تھام لو۔ اور یہ اللہ کی رسّی کونسی ہے ؟ متعدد احادیث سے واضح ہوتا ہے کہ یہ قرآن ہے۔ ایک طرف انسان میں تقویٰ پیدا ہو ‘ اور دوسری طرف اس میں علم آنا چاہیے ‘ قرآن کا فہم پیدا ہونا چاہیے ‘ قرآن کے نظریات کو سمجھنا چاہیے ‘ قرآن کی حکمت کو سمجھنا چاہیے۔ انسانوں میں اجتماعیت جانوروں کے گلوں کی طرح نہیں ہوسکتی کہ بھیڑبکریوں کا ایک بڑا ریوڑ ہے اور ایک چرواہا ایک لکڑی لے کر سب کو ہانک رہا ہے۔ انسانوں کو جمع کرنا ہے تو ان کے ذہن ایک جیسے بنانے ہوں گے ‘ ان کی سوچ ایک بنانی ہوگی۔ یہ حیوان عاقل ہیں ‘ باشعور لوگ ہیں۔ ان کی سوچ ایک ہو ‘ نظریات ایک ہوں ‘ مقاصد ایک ہوں ‘ ہم آہنگی ہو ‘ نقطۂ ‘ نظر ایک ہو تبھی تو یہ جمع ہوں گے۔ اس کے لیے وہ چیز چاہیے جو ان میں یک رنگئ خیال ‘ یک رنگئ نظر ‘ یک جہتی اور مقاصد کی ہم آہنگی پیدا کر دے ‘ اور وہ قرآن ہے ‘ جو حبل اللہ ہے۔ حضرت علی رض سے مروی طویل حدیث میں قرآن حکیم کے بارے میں رسول اللہ ﷺ کے الفاظ نقل ہوئے ہیں : وَھُوَ حَبْلُ اللّٰہِ الْمَتِیْنُ 1 حضرت عبداللہ بن مسعود رض سے روایت ہے کہ آنحضور ﷺ نے فرمایا : کِتَاب اللّٰہِ ‘ حَبْلٌ مَمْدُوْدٌ مِنَ السَّمَاءِ اِلَی الْاَرْضِ 2 اللہ کی کتاب کو تھامے رکھنا ‘ یہی وہ مضبوط رسّی ہے جو آسمان سے زمین تک تنی ہوئی ہے۔ ایک اور حدیث میں فرمایا : اَبْشِرُوْا اَبْشِرُوْا۔۔ فَاِنَّ ھٰذَا الْقُرْآنَ سَبَبٌ‘ طَرْفُہٗ بِیَدِ اللّٰہِ وَطَرْفُہٗ بِاَیْدِیْکُمْ 3 خوش ہوجاؤ ‘ خوشیاں مناؤ۔۔ یہ قرآن ایک واسطہ ہے ‘ جس کا ایک سرا اللہ کے ہاتھ میں ہے اور ایک سرا تمہارے ہاتھ میں ہے۔ چناچہ تقرب الی اللہ کا ذریعہ بھی قرآن ہے ‘ اور مسلمانوں کو آپس میں جوڑ کر رکھنے کا ذریعہ بھی قرآن ہے۔ یہی وجہ ہے کہ ہماری دعوت و تحریک کا منبع و سرچشمہ اور مبنیٰ و مدار قرآن ہے۔ اس کا عنوان ہی دعوت رجوع الی القرآن ہے۔ میں نے اپنی پوری زندگی الحمد للہ اسی کام میں کھپائی ہے اور اسی کے ذریعہ سے انجمن ہائے خدام القرآن اور قرآن اکیڈمیز کا سلسلہ قائم ہوا۔ ان اکیڈمیز میں ایک سالہ رجوع الی القرآن کو رس برسہا برس سے جاری ہے۔ اس کو رس میں جدید تعلیم یافتہ لوگ داخلہ لیتے ہیں ‘ جو ایم اے؍ایم ایس سی ہوتے ہیں ‘ بعض پی ایچ ڈی کرچکے ہوتے ہیں ‘ ڈاکٹر اور انجینئر بھی آتے ہیں۔ وہ ایک سال لگا کر عربی سیکھتے ہیں تاکہ قرآن کو سمجھ سکیں۔ ظاہر ہے جب قرآن مجید کے ساتھ آپ کی وابستگی ہوگی تو پھر آپ دین کے اس رخ پر آگے چلیں گے۔ تو یہ دوسرا نکتہ ہوا کہ اللہ کی رسی کو مل جل کر مضبوطی سے تھام لو اور تفرقہ میں نہ پڑو۔ وَاذْکُرُوْا نِعْمَتَ اللّٰہِ عَلَیْکُمْ اِذْ کُنْتُمْ اَعْدَآءً فَاَلَّفَ بَیْنَ قُلُوْبِکُمْ فَاَصْبَحْتُمْ بِنِعْمَتِہٖ اِخْوَانًا ج یہاں اوّلین مخاطب انصار ہیں۔ ان کے جو دو قبیلے تھے اوس اور خزرج وہ آپس میں لڑتے آ رہے تھے۔ سو برس سے خاندانی دشمنیاں چلی آرہی تھیں اور قتل کے بعد قتل کا سلسلہ جاری تھا۔ لیکن جب ایمان آگیا ‘ اسلام آگیا ‘ اللہ کی کتاب آگئی ‘ محمد رسول اللہ ﷺ آگئے تو اب وہ شیر و شکر ہوگئے ‘ ان کے جھگڑے ختم ہوگئے۔ اسی طرح پورے عرب کے اندر غارت گری ہوتی تھی ‘ لیکن اب اللہ نے اسے دارالامن بنا دیا۔وَکُنْتُمْ عَلٰی شَفَا حُفْرَۃٍ مِّنَ النَّارِ فَاَنْقَذَکُمْ مِّنْہَا ط کَذٰلِکَ یُبَیِّنُ اللّٰہُ لَکُمْ اٰیٰتِہٖ لَعَلَّکُمْ تَہْتَدُوْنَ اُمت مسلمہ کے لیے سہ نکاتی لائحہ عمل کے یہ دو نکتے بیان ہوگئے۔ سب سے پہلے افراد کے کردار کی تعمیر ‘ انہیں تقویٰ اور فرمانبرداری جیسے اوصاف سے متصف کرنا۔۔ اور پھر ان کو ایک جمعیت ‘ تنظیم یا جماعت کی صورت میں منظم کرنا ‘ اور اس تنظیم کا معنوی محور قرآن مجید ہونا چاہیے ‘ جو حبل اللہ ہے۔ بقول علامہ اقبال : عاعتصامش کن کہ حبل اللہ اوست ! اس کو مضبوطی سے تھامو کہ یہ حبل اللہ ہے ! اس جماعت سازی کا فطری طریقہ بھی ہم اسی سورت کی آیت 52 کے ذیل میں پڑھ چکے ہیں کہ کوئی اللہ کا بندہ داعی بن کر کھڑا ہو اور مَنْ اَنْصَارِیْ اِلَی اللّٰہِ کی آواز لگائے کہ میں تو اس راستے پر چل رہا ہوں ‘ اب کون ہے جو میرے ساتھ اس راستے پر آتا ہے اور اللہ کی راہ میں میرا مددگار بنتا ہے ؟ ایسی جمعیت جب وجود میں آئے گی تو وہ کیا کرے گی ؟ اس ضمن میں یہ تیسری آیت اہم ترین ہے :

اردو ترجمہ

تم میں کچھ لوگ تو ایسے ضرور ہی رہنے چاہییں جو نیکی کی طرف بلائیں، بھلائی کا حکم دیں، اور برائیوں سے روکتے رہیں جو لوگ یہ کام کریں گے وہی فلاح پائیں گے

انگریزی ٹرانسلیٹریشن

Waltakun minkum ommatun yadAAoona ila alkhayri wayamuroona bialmaAAroofi wayanhawna AAani almunkari waolaika humu almuflihoona

آیت 104 وَلْتَکُنْ مِّنکُمْ اُمَّۃٌ یَّدْعُوْنَ اِلَی الْخَیْرِ وَیَاْمُرُوْنَ بالْمَعْرُوْفِ وَیَنْہَوْنَ عَنِ الْمُنْکَرِ ط اس جماعت کے کرنے کے تین کام بتائے گئے ہیں ‘ جن میں اوّلین دعوت الی الخیر ہے ‘ اور واضح رہے کہ سب سے بڑا خیر یہ قرآن ہے۔ وَاُولٰٓءِکَ ہُمُ الْمُفْلِحُوْنَ یہاں لفظ منکُمْ بڑا معنی خیز ہے کہ تم میں سے ایک ایسی امت وجود میں آنی چاہیے۔ گویا ایک تو بڑی امت ہے امت مسلمہ ‘ وہ تو ایک سو پچاس کروڑ نفوس پر مشتمل ہے ‘ جو خواب غفلت میں مدہوش ہیں ‘ اپنے منصب کو بھولے ہوئے ہیں ‘ دین سے دور ہیں۔ لہٰذا اس امت کے اندر ایک چھوٹی امت یعنی ایک جماعت وجود میں آئے جو جاگو اور جگاؤکا فریضہ سرانجام دے۔ اللہ نے تمہیں جاگنے کی صلاحیت دے دی ہے ‘ اب اوروں کو جگاؤ اور اس کے لیے طاقت فراہم کرو ‘ ایک منظم جماعت بناؤ ! فرمایا کہ یہی لوگ فلاح پانے والے ہیں۔ وہ بڑی امت جو کروڑوں افراد پر مشتمل ہے اور یہ کام نہیں کرتی وہ اگر فلاح اور نجات کی امید رکھتی ہے تو یہ ایک امید موہوم ہے۔ فلاح پانے والے صرف یہ لوگ ہوں گے جو تین کام کریں گے : i دعوت الی الخیر ii امر بالمعروف iii نہی عن المنکر۔ میں نے منہج انقلاب نبوی ﷺ کے مراحل و مدارج کے ضمن میں بھی یہ بات واضح کی ہے کہ اسلامی انقلاب کے لیے آخری اقدام بھی نہی عن المنکر بالیدہو گا۔ اس لیے کہ حدیث میں رسول اللہ ﷺ نے نہی عن المنکر کے تین مراتب بیان کیے ہیں۔ حضرت ابوسعید خدری رض سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے ارشاد فرمایا : مَنْ رَاٰی مِنْکُمْ مُنْکَرًا فَلْیُغَیِّرْہُ بِیَدِہٖ ‘ فَاِنْ لَمْ یَسْتَطِعْ فَبِلِسَانِہٖ ‘ فَاِنْ لَمْ یَسْتَطِعْ فَبِقَلْبِہٖ ‘ وَذٰلِکَ اَضْعَفُ الْاِیْمَانِ 1تم میں سے جو کوئی کسی منکر کو دیکھے اس کا فرض ہے کہ اسے زور بازو سے روک ‘ دے۔ پس اگر اس کی طاقت نہیں ہے تو زبان سے روکے۔ پھر اگر اس کی بھی ہمت نہیں ہے تو دل میں برائی سے نفرت ضرور رکھے۔ اور یہ ایمان کا کمزور ترین درجہ ‘ ہے۔اگر دل میں نفرت بھی ختم ہوگئی ہے تو سمجھ لو کہ متاع ایمان رخصت ہوگئی ہے۔ بقول اقبال : ؂وائے ناکامی متاع کارواں جاتا رہا کارواں کے دل سے احساس زیاں جاتا رہا !ہاں ‘ دل میں نفرت ہے تو اگلا قدم اٹھاؤ۔ زبان سے کہنا شروع کرو کہ بھائی یہ چیز غلط ہے ‘ اللہ نے اس کو حرام ٹھہرایا ہے ‘ یہ کام مت کرو۔ لیکن اس کے ساتھ ساتھ اپنی ایک طاقت بناتے جاؤ۔ ایک جماعت بناؤ ‘ قوت مجتمع کرو۔ جب وہ طاقت جمع ہوجائے تو پھر کھڑے ہوجاؤ کہ اب ہم یہ غلط کام نہیں کرنے دیں گے۔ پھر وہ ہوگا نہی عن المنکر بالید یعنی طاقت کے ساتھ برائی کو روک دینا۔ اور یہ ہوگا انقلاب کا آخری مرحلہ۔تو ان تین آیات کے اندر عظیم ہدایت ہے ‘ انقلاب کا پورا لائحہ عمل موجود ہے ‘ بلکہ اسی میں منہج انقلاب نبوی ﷺ کا جو آخری اقدامی عمل ہے وہ بھی پوشیدہ ہے۔

اردو ترجمہ

کہیں تم اُن لوگوں کی طرح نہ ہو جانا جو فرقوں میں بٹ گئے اور کھلی کھلی واضح ہدایات پانے کے بعد پھر اختلافات میں مبتلا ہوئے جنہوں نے یہ روش اختیار کی وہ اُس روزسخت سزا پائیں گے

انگریزی ٹرانسلیٹریشن

Wala takoonoo kaallatheena tafarraqoo waikhtalafoo min baAAdi ma jaahumu albayyinatu waolaika lahum AAathabun AAatheemun

اردو ترجمہ

جبکہ کچھ لوگ سرخ رو ہوں گے اور کچھ لوگوں کا منہ کالا ہوگا، جن کا منہ کالا ہوگا (ان سے کہا جائے گا کہ) نعمت ایمان پانے کے بعد بھی تم نے کافرانہ رویہ اختیار کیا؟ اچھا تو اب اِس کفران نعمت کے صلہ میں عذاب کا مزہ چکھو

انگریزی ٹرانسلیٹریشن

Yawma tabyaddu wujoohun wataswaddu wujoohun faamma allatheena iswaddat wujoohuhum akafartum baAAda eemanikum fathooqoo alAAathaba bima kuntum takfuroona

آیت 106 یَّوْمَ تَبْیَضُّ وُجُوْہٌ وَّتَسْوَدُّ وُجُوْہٌ ج فَاَمَّا الَّذِیْنَ اسْوَدَّتْ وُجُوْہُہُمْقف اَکَفَرْتُمْ بَعْدَ اِیْمَانِکُمْ ہدایت کے آنے کے بعد تم لوگ تفرقے میں پڑگئے تھے اور حبل اللہ کو چھوڑ دیا تھا۔

اردو ترجمہ

رہے وہ لوگ جن کے چہرے روشن ہوں گے تو اُن کو اللہ کے دامن رحمت میں جگہ ملے گی اور ہمیشہ وہ اسی حالت میں رہیں گے

انگریزی ٹرانسلیٹریشن

Waamma allatheena ibyaddat wujoohuhum fafee rahmati Allahi hum feeha khalidoona

اردو ترجمہ

یہ اللہ کے ارشادات ہیں جو ہم تمہیں ٹھیک ٹھیک سنارہے ہیں کیونکہ اللہ دنیا والوں پر ظلم کرنے کا کوئی ارادہ نہیں رکھتا

انگریزی ٹرانسلیٹریشن

Tilka ayatu Allahi natlooha AAalayka bialhaqqi wama Allahu yureedu thulman lilAAalameena

آیت 108 تِلْکَ اٰیٰتُ اللّٰہِ نَتْلُوْہَا عَلَیْکَ بالْحَقِّ ط وَمَا اللّٰہُ یُرِیْدُ ظُلْمًا لِّلْعٰلَمِیْنَ لوگ اپنے اوپر خود ظلم کرتے ہیں ‘ خود غلط راستے پر پڑتے ہیں اور پھر اس کی سزا انہیں دنیا اور آخرت میں بھگتنی پڑتی ہے۔

63