سورة آل عمران (3): آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں۔ - اردو ترجمہ

اس صفحہ میں سورہ Aal-i-Imraan کی تمام آیات کے علاوہ فی ظلال القرآن (سید ابراہیم قطب) کی تمام آیات کی تفسیر بھی شامل ہے۔ پہلے حصے میں آپ سورہ آل عمران کو صفحات میں ترتیب سے پڑھ سکتے ہیں جیسا کہ یہ قرآن میں موجود ہے۔ کسی آیت کی تفسیر پڑھنے کے لیے اس کے نمبر پر کلک کریں۔

سورة آل عمران کے بارے میں معلومات

Surah Aal-i-Imraan
سُورَةُ آلِ عِمۡرَانَ
صفحہ 74 (آیات 181 سے 186 تک)

لَّقَدْ سَمِعَ ٱللَّهُ قَوْلَ ٱلَّذِينَ قَالُوٓا۟ إِنَّ ٱللَّهَ فَقِيرٌ وَنَحْنُ أَغْنِيَآءُ ۘ سَنَكْتُبُ مَا قَالُوا۟ وَقَتْلَهُمُ ٱلْأَنۢبِيَآءَ بِغَيْرِ حَقٍّ وَنَقُولُ ذُوقُوا۟ عَذَابَ ٱلْحَرِيقِ ذَٰلِكَ بِمَا قَدَّمَتْ أَيْدِيكُمْ وَأَنَّ ٱللَّهَ لَيْسَ بِظَلَّامٍ لِّلْعَبِيدِ ٱلَّذِينَ قَالُوٓا۟ إِنَّ ٱللَّهَ عَهِدَ إِلَيْنَآ أَلَّا نُؤْمِنَ لِرَسُولٍ حَتَّىٰ يَأْتِيَنَا بِقُرْبَانٍ تَأْكُلُهُ ٱلنَّارُ ۗ قُلْ قَدْ جَآءَكُمْ رُسُلٌ مِّن قَبْلِى بِٱلْبَيِّنَٰتِ وَبِٱلَّذِى قُلْتُمْ فَلِمَ قَتَلْتُمُوهُمْ إِن كُنتُمْ صَٰدِقِينَ فَإِن كَذَّبُوكَ فَقَدْ كُذِّبَ رُسُلٌ مِّن قَبْلِكَ جَآءُو بِٱلْبَيِّنَٰتِ وَٱلزُّبُرِ وَٱلْكِتَٰبِ ٱلْمُنِيرِ كُلُّ نَفْسٍ ذَآئِقَةُ ٱلْمَوْتِ ۗ وَإِنَّمَا تُوَفَّوْنَ أُجُورَكُمْ يَوْمَ ٱلْقِيَٰمَةِ ۖ فَمَن زُحْزِحَ عَنِ ٱلنَّارِ وَأُدْخِلَ ٱلْجَنَّةَ فَقَدْ فَازَ ۗ وَمَا ٱلْحَيَوٰةُ ٱلدُّنْيَآ إِلَّا مَتَٰعُ ٱلْغُرُورِ ۞ لَتُبْلَوُنَّ فِىٓ أَمْوَٰلِكُمْ وَأَنفُسِكُمْ وَلَتَسْمَعُنَّ مِنَ ٱلَّذِينَ أُوتُوا۟ ٱلْكِتَٰبَ مِن قَبْلِكُمْ وَمِنَ ٱلَّذِينَ أَشْرَكُوٓا۟ أَذًى كَثِيرًا ۚ وَإِن تَصْبِرُوا۟ وَتَتَّقُوا۟ فَإِنَّ ذَٰلِكَ مِنْ عَزْمِ ٱلْأُمُورِ
74

سورة آل عمران کو سنیں (عربی اور اردو ترجمہ)

سورة آل عمران کی تفسیر (فی ظلال القرآن: سید ابراہیم قطب)

اردو ترجمہ

اللہ نے اُن لوگوں کا قول سنا جو کہتے ہیں کہ اللہ فقیر ہے اور ہم غنی ہیں ان کی یہ باتیں بھی ہم لکھ لیں گے، اور اس سے پہلے جو وہ پیغمبروں کو ناحق قتل کرتے رہے ہیں وہ بھی ان کے نامہ اعمال میں ثبت ہے (جب فیصلہ کا وقت آئے گا اُس وقت) ہم ان سے کہیں گے کہ لو، اب عذاب جہنم کا مزا چکھو

انگریزی ٹرانسلیٹریشن

Laqad samiAAa Allahu qawla allatheena qaloo inna Allaha faqeerun wanahnu aghniyaon sanaktubu ma qaloo waqatlahumu alanbiyaa bighayri haqqin wanaqoolu thooqoo AAathaba alhareeqi

اللہ کی ذات کے بارے میں بدترین خیالات یہودیوں کی تحریف شدہ کتب کے اندر بھی درج ہیں ۔ لیکن قرآن نے ان کا جو قول نقل کیا ہے یہ ان کا ذات باری کے متعلق نہایت گھٹیا تصور ہے……………” وہ جو کچھ کہتے ہیں ہم اسے لکھ لیں گے ۔ “ تاکہ ان کا محاسبہ کیا جاسکے ۔ ان کی یہ بات یونہی ہوا میں تحلیل نہ ہوجائے گی اور نہ ہی اسے مہمل اور لغو بات سمجھ کر چھوڑدیاجائے گا ۔ ان کی اس گستاخی کے بیان کے ساتھ ساتھ ان کے سابق کرتوتوں کا ایک حصہ بھی یہاں ذکر کردیا جاتا ہے ۔ یہ وہ گناہ ہیں جو ان کے ہم قوم ماضی میں کرتے رہے ہیں ۔ یہ سابقہ گناہ ان کے کھاتے میں اس لئے ڈالے جاتے ہیں کہ ان کی فطرت بدستور وہی ہے ۔ وہ اسی طرح نافرمان اور خطاکار تھے ۔

وَقَتْلَهُمُ الأنْبِيَاءَ بِغَيْرِ حَقٍّ……………” وہ پیغمبروں کو ناحق قتل کرتے رہے ہیں ۔ “……بنی اسرائیل کی تاریخ نے قتل انبیاء کے اس مکروہ کام کے واقعات کو محفوظ رکھا ہے اور ان کا آخری کارنامہ وہ تھا جس میں انہوں نے حضرت مسیح (علیہ السلام) کو قتل کرنے کی سازش کی ۔ وہ تو اب بھی بہرحال یہ سمجھتے ہیں کہ انہوں نے حضرت مسیح (علیہ السلام) کو پھانسی دلوادی تھی اور اس عظیم جرم پر وہ فخر کرتے ہیں۔

وَنَقُولُ ذُوقُوا عَذَابَ الْحَرِيقِ……………” ہم ان سے کہیں گے کہ چکھو آگ میں جلنے کا عذاب۔ “ لفظ حریق یعنی جلنا اس لئے استعمال ہوا ہے کہ اس عذاب کی خوفناکی نظروں میں آجائے ۔ اور یہ بات ذہن میں آجائے کہ یہ عذاب پاتے وقت آگ کے شعلے بھڑک اٹھے ہوں گے ‘ اور وہ اپنا کام ہولناک انداز میں کررہے ہوں گے ۔ آگ میں خوفناک جوش ہوگا۔ یہ اس لئے کہ ان کا یہ فعل بھی اسی قدر مکروہ ہے ۔ انبیاء کو قتل کردینا اور بغیر کسی جواز کے قتل کردینا اور پھر وہ جو بات کررہے ہیں وہ بھی بہت ہی گھٹیا ہے کہ اللہ فقیر ہے اور وہ غنی ہیں۔

اردو ترجمہ

یہ تمہارے اپنے ہاتھوں کی کمائی ہے، اللہ اپنے بندوں کے لیے ظالم نہیں ہے

انگریزی ٹرانسلیٹریشن

Thalika bima qaddamat aydeekum waanna Allaha laysa bithallamin lilAAabeedi

ذَلِكَ بِمَا قَدَّمَتْ أَيْدِيكُمْ……………” یہ تمہارے ہاتھوں کی کمائی ہے ۔ “ پوری جزاء جس میں نہ ظلم ہے اور نہ ہی کوئی سنگدلی ہے۔

وَأَنَّ اللَّهَ لَيْسَ بِظَلامٍ لِلْعَبِيدِ……………” اللہ اپنے بندوں کے لئے ظالم نہیں ہے ۔ “ یہاں بندوں کے لئے عبید کا لفظ استعمال کرنے سے انسان کی اصل حیثیت بتادی گئی ہے کہ وہ اللہ کے مقابلے میں غلاموں کا غلام ہے ۔ اور پھر بھی اگر وہ اللہ کی بارگاہ میں اس قدر بےادبی کرتا ہے اور بندہ اور غلام ہوکر وہ کہتا ہے کہ اللہ فقیر ہے اور ہم غنی ہیں تو یہ کس قدر گستاخی ہے اور پھر اس کے ساتھ ساتھ انبیاء کے قتل جیسا شنیع کام ۔

یہ لوگ جو کہتے ہیں کہ اللہ فقیر ہے اور ہم غنی ہیں پھر یہی قاتلین انبیاء بھی ہیں ۔ ان کا مزید کارنامہ دیکھو کہ یہ کہتے ہیں کہ ہم محمد ﷺ پر اس لئے ایمان نہیں رکھتے کہ ہمیں خود اللہ نے یہ کہا ہے کہ وہ اس وقت تک کسی نبی پر ایمان نہ لائیں جب تک وہ ایسی قربانی نہ کرے جسے عالم غیب سے آگ آکر معجزانہ طور اسے کھانہ لے ۔ جس طرح انبیاء بنی اسرائیل میں سے بعض کے ہاتھوں اس قسم کے معجزے کا اظہار ہوا تھا ۔ اور جب تک محمد ﷺ کوئی اس قسم کا معجزہ نہ دکھائیں گے وہ چونکہ اللہ کے ساتھ عہد کرچکے ہیں اس لئے وہ ایمان نہیں لاسکتے ۔

اردو ترجمہ

جو لوگ کہتے ہیں "اللہ نے ہم کو ہدایت کر دی ہے کہ ہم کسی کو رسول تسلیم نہ کریں جب تک وہ ہمارے سامنے ایسی قربانی نہ کرے جسے (غیب سے آکر) آگ کھا لے "، اُن سے کہو، "تمہارے پاس مجھ سے پہلے بہت سے رسول آ چکے ہیں جو بہت سی روشن نشانیاں لائے تھے اور وہ نشانی بھی لائے تھے جس کا تم ذکر کرتے ہو، پھر اگر (ایمان لانے کے لیے یہ شرط پیش کرنے میں) تم سچے ہو تو اُن رسولوں کو تم نے کیوں قتل کیا؟"

انگریزی ٹرانسلیٹریشن

Allatheena qaloo inna Allaha AAahida ilayna alla numina lirasoolin hatta yatiyana biqurbanin takuluhu alnnaru qul qad jaakum rusulun min qablee bialbayyinati wabiallathee qultum falima qataltumoohum in kutum sadiqeena

یہاں قرآن کریم ان کی اس بات کا تاریخی حوالوں سے جواب دیتا ہے کہ انہوں نے جن انبیاء کو قتل کیا تھا ‘ انہوں نے تو ایسے معجزات دکھادیئے تھے ‘ جو خود انہوں نے طلب کئے تھے ۔

الَّذِينَ قَالُوا إِنَّ اللَّهَ عَهِدَ إِلَيْنَا أَلا نُؤْمِنَ لِرَسُولٍ حَتَّى يَأْتِيَنَا بِقُرْبَانٍ تَأْكُلُهُ النَّارُ قُلْ قَدْ جَاءَكُمْ رُسُلٌ مِنْ قَبْلِي بِالْبَيِّنَاتِ وَبِالَّذِي قُلْتُمْ فَلِمَ قَتَلْتُمُوهُمْ إِنْ كُنْتُمْ صَادِقِينَ

” جو لوگ کہتے ہیں ” اللہ نے ہم کو ہدایت کردی ہے کہ ہم کسی کو رسول تسلیم نہ کریں جب تک وہ ہمارے سامنے ایسی قربانی نہ کرے جسے (غیب سے آکر) آگ کھالے ۔ “ تمہارے پاس مجھ سے پہلے بہت سے رسول آچکے جو بہت سی روشن نشانیاں لائے تھے اور وہ نشانی بھی لائے تھے جس کا ذکر تم کرتے ہو ‘ پھر اگر (ایمان لانے کے لئے یہ شرط پیش کرنے میں ) تم سچے ہو تو ان رسولوں کو تم نے کیوں قتل کیا ؟ یہ نہایت ہی قوی الزامی جواب تھا ۔ جس سے ظاہر ہوگیا کہ وہ جھوٹ بولتے ہیں اور بات توڑ موڑ کر بیان کرتے ہیں اور کفر پر اصرار کرتے ہیں ۔ اور مزید یہ کہ سخت تکبر کا رویہ اختیار کئے ہوئے ہیں اور اللہ پر اختراء باندھتے ہیں ۔

یہاں آکر اب بات کا رخ رسول اللہ ﷺ کی طرف مڑجاتا ہے ‘ آپ کو تسلی دی جاتی ہے اور آپ کی دلجوئی کی جاتی ہے اور آپ کے لئے ان مخالفین کے رویے کو قابل برداشت بنایا جارہا ہے کہ یہ لوگ ایسا ہی سلوک اپنی تاریخ میں بیشمار رسولوں کے ساتھ کرتے آئے ہیں۔

اردو ترجمہ

اب اے محمدؐ! اگر یہ لوگ تمہیں جھٹلاتے ہیں تو بہت سے رسول تم سے پہلے جھٹلائے جا چکے ہیں جو کھلی کھلی نشانیاں اور صحیفے اور روشنی بخشنے والی کتابیں لائے تھے

انگریزی ٹرانسلیٹریشن

Fain kaththabooka faqad kuththiba rusulun min qablika jaoo bialbayyinati waalzzuburi waalkitabi almuneeri

فَإِنْ كَذَّبُوكَ فَقَدْ كُذِّبَ رُسُلٌ مِنْ قَبْلِكَ جَاءُوا بِالْبَيِّنَاتِ وَالزُّبُرِ وَالْكِتَابِ الْمُنِيرِ……………” یہ لوگ اگر تمہیں جھٹلاتے ہیں تو بہت سے رسول تم سے پہلے جھٹلائے جاچکے ہیں جو کھلی کھلی نشانیاں اور صحیفے اور روشنی بخشنے والی کتابیں ساتھ لائے تھے ۔ “

گویا نبی ﷺ پہلے رسول نہیں جن کو اہل کتاب یہودیوں نے جھٹلایاہو ‘ بنی اسرائیل اپنی پوری تاریخ میں ہمیشہ رسولوں کی تکذیب کرتے آئے ہیں ۔ حالانکہ وہ رسول ان کے پاس صحیح دلائل لے کر آئے تھے ۔ انہوں نے معجزات پیش کئے تھے ۔ انہوں نے ایسے صحائف پیش کئے جن میں الٰہی ہدایات موجود تھیں ۔ یعنی زبور……اور انہوں نے کتاب منیر بھی پیش کی تھی مثلاتورات اور انجیل ۔ غرض یہ رسولوں اور ان کی رسالتوں کا طریقہ کاررہا ہے ۔ اور اس راہ میں مشقت اور مصائب ہیں اور یہ واحد طریق کار ہے۔

اردو ترجمہ

آخر کار ہر شخص کو مرنا ہے اور تم سب اپنے اپنے پورے اجر قیامت کے روز پانے والے ہو کامیاب دراصل وہ ہے جو وہاں آتش دوزخ سے بچ جائے اور جنت میں داخل کر دیا جائے رہی یہ دنیا، تو یہ محض ایک ظاہر فریب چیز ہے

انگریزی ٹرانسلیٹریشن

Kullu nafsin thaiqatu almawti wainnama tuwaffawna ojoorakum yawma alqiyamati faman zuhziha AAani alnnari waodkhila aljannata faqad faza wama alhayatu alddunya illa mataAAu alghuroori

اس حقیقت کا نفس انسانی کے اندر پوری طرح بیٹھ جانا ضروری ہے کہ اس دنیا کی زندگی بہرحال محدود ‘ وقتی اور ایک متعین تاریخ تک ہے ۔ اور اس کا خاتمہ لازمی ہے ‘ یہاں اچھے لوگ بھی مرتے ہیں اور برے بھی رحلت کرتے ہیں ۔ یہاں جہاد میں حصہ لینے والے بھی مرتے ہیں اور جو لوگ گھر میں بیٹھے رہتے ہیں وہ بھی مرتے ہیں ۔ جو لوگ اپنے نظریات کی وجہ سے سربلند ہوتے ہیں وہ بھی مرتے ہیں جو کبھی ذلت برداشت نہیں کرتے اور وہ بزدل بھی مرتے ہیں جو ہر قیمت پر زندہ رہنا چاہتے ہیں ۔ وہ لوگ بھی رحلت کرتے ہیں جن کے عزائم بلند ہوتے ہیں اور جن کے مقاصد پاکیزہ ہوتے ہیں اور وہ مفاد پرست بھی مرتے ہیں جن کے پیش نظر دنیا کی حقیر چیزیں ہوتی ہیں ۔

سب مرتے ہیں۔ كُلُّ نَفْسٍ ذَائِقَةُ……………” ہر نفس نے موت کا مزہ چکھنا ہے۔ “ یہ جام ہر کسی نے منہ سے لگانا ہے ۔ ایک دن اسے اس زندگی کو خیر آباد کہنا ہے ۔ اس سلسلے میں کسی ایک شخص اور ایک شخص کے درمیان کوئی امتیاز نہیں ہے ۔ جام اجل باری باری ہر ایک کے سامنے آتا ہے اور ہر شخص اس کے ساتھ منہ لگاتا ہے ۔ فرق اگر ہے تو ایک دوسرے زاویے سے ہے ۔ فرق صرف اقدار میں ہے اور فرق انجام میں ہے ۔

وَإِنَّمَا تُوَفَّوْنَ أُجُورَكُمْ يَوْمَ الْقِيَامَةِ فَمَنْ زُحْزِحَ عَنِ النَّارِ وَأُدْخِلَ الْجَنَّةَ فَقَدْ فَازَ……………” اور تم سب اپنے اپنے پورے اجر قیامت کے روز پانے والے ہو۔ کامیاب دراصل وہ ہے جو وہاں آتش دوزخ سے سے بچ جائے اور جنت میں داخل کردیا جائے ۔ “

یہ ہے ایک موت اور موت کے درمیان فرق ۔ یہ انجام ہے جس کے ذریعے فلاں اور فلاں کے درمیان فرق ہوجاتا ہے ۔ یہ ہے وہ قیمت جو باقی رہتی ہے اور جس کے لئے سعی اور جدوجہد ضروری ہے ۔ اور وہ برا انجام جس سے بچنے کے لئے رات اور دن فکر کرنا چاہئے۔

فَمَنْ زُحْزِحَ عَنِ النَّارِ وَأُدْخِلَ الْجَنَّةَ فَقَدْ فَازَ……………” جو آتش دوزخ سے بچ جائے اور جنت میں داخل کردیا جائے تو وہ کامیاب ہے ۔ “ زحزح کا لفظ اپنے زمزمہ ہی سے اپنے مفہوم کو ظاہر کردیتا ہے ۔ وہ ایک صورت حال کا نقشہ نظروں کے سامنے لاتا ہے۔ اس کا ایک خاص پرتو ہے ۔ گویا آگ کے اندر کشش ہے ‘ جو بھی اس کے قریب پھٹکے وہ اس میں داخل ہوجاتا ہے ۔ اس کے دائرے میں آجاتا ہے ۔ اس لئے اس کو اس بات کی ضرورت ہوتی ہے کہ کوئی اسے اس جاذبیت سے آہستہ آہستہ چھڑائے تاکہ وہ اس کشش کے دائرے سے باہر آجائے ۔ اس لئے جس کے لئے یہ ممکن ہو کہ اسے اس دائرے سے کھینچ کر دور کردیا گیا اور اس آگ کے دائرہ جاذبیت سے ہٹادیا گیا اور وہ جنت میں داخل ہوگیا تو گویا وہ کامیاب ہوگیا۔

یہ ایک واضح تصویر کشی ہے ‘ ایک زندہ منظر ہے ۔ اس میں حرکت ہے اور کھینچاتانی ہے ۔ اور حقیقت کے اعتبار سے بھی صورت حال یہی ہوتی ہے ۔ آگ میں جاذبیت ہوتی ہے ؟ کیا گناہ میں جاذبیت اور لذت نہیں ہوتی ؟ کیا نفس انسانی کسی ایسے راہنما کا محتاج نہیں ہے جو اسے آہستہ آہستہ آگ کے دائرے جاذبیت سے دو رکردے ۔ ہاں ضرور ہے اور یہ اسے آگ سے بچاتا ہے۔ کیا انسان ‘ مسلسل کوششوں کے باوجود ‘ ہمیشہ عمل میں قصور وار نہیں رہتا ۔ الا یہ کہ اس پر اللہ کا فضل وکرم ہو۔ ہاں یہ فضل باری تعالیٰ ہی ہے جو اسے آگ سے دور کردیتا ہے ۔ فضل خداوندی اسے آہستہ آہستہ آگ کے دائرے سے کھینچ لیتا ہے۔

وَمَا الْحَيَاةُ الدُّنْيَا إِلا مَتَاعُ الْغُرُورِ……………” اس دنیا کا متاع تو ایک ظاہر فریب چیز ہے ۔ “ دنیا کا سامان تو بہرحال سامان ہی ہے ۔ لیکن یہ حقیقی سامان نہیں ہے ۔ یہ حالت بیداری اور ہوشیاری کا سامان نہیں ۔ یہ دھوکے میں ڈالنے والا سامان ہے ۔ انسان اس کے فریب میں آکر متاع سمجھتا ہے۔ یہ ایسا سامان ہے جو فریب اور دھوکہ پیدا کرتا ہے ۔ رہاوہ سامان جو سچائی پر مبنی ہے اور حقیقی سامان ہے ‘ اور جس کے لئے حقیقتاً جدوجہد کرنا چاہئے ‘ وہ آخرت کا سامان ہے اور آخرت کی کامیابی ہے یہ ہے کہ انسان دوزخ سے ہٹادیاجائے۔

اردو ترجمہ

مسلمانو! تمہیں مال اور جان دونوں کی آزمائشیں پیش آ کر رہیں گی، اور تم اہل کتاب اور مشرکین سے بہت سی تکلیف دہ باتیں سنو گے اگر ان سب حالات میں تم صبر اور خدا ترسی کی روش پر قائم رہو تو یہ بڑے حوصلہ کا کام ہے

انگریزی ٹرانسلیٹریشن

Latublawunna fee amwalikum waanfusikum walatasmaAAunna mina allatheena ootoo alkitaba min qablikum wamina allatheena ashrakoo athan katheeran wain tasbiroo watattaqoo fainna thalika min AAazmi alomoori

جب یہ حقیقت انسان کے اندر جگہ پکڑلیتی ہے اور جب نفس انسانی اپنے حساب و کتاب سے زندہ رہنے کی تڑپ نکال دیتا ہے ‘ کیونکہ ہر نفس نے بہرحال ایک دن مرنا ہے اور اسی طرح جب اس نے اپنی فہرست ترجیحات سے دنیا کے نظر فریب سامان کو بھی نکال دیا تو اس وقت پھر اللہ اہل ایمان سے بات کرتے ہیں کہ ان کے لئے مالی اور جانی آزمائشیں آنے والی ہیں ۔ اور اسی وقت پھر وہ ان قربانیوں کے لئے تیار ہوتے ہیں۔

لَتُبْلَوُنَّ فِي أَمْوَالِكُمْ وَأَنْفُسِكُمْ وَلَتَسْمَعُنَّ مِنَ الَّذِينَ أُوتُوا الْكِتَابَ مِنْ قَبْلِكُمْ وَمِنَ الَّذِينَ أَشْرَكُوا أَذًى كَثِيرًا وَإِنْ تَصْبِرُوا وَتَتَّقُوا فَإِنَّ ذَلِكَ مِنْ عَزْمِ الأمُورِ

” مسلمانو ‘ تمہیں مال اور جان دونوں کی آزمائشیں پیش آکر رہیں گی ‘ اور تم اہل کتاب اور مشرکین سے بہت سی تکلیف دہ باتیں سنوگے ۔ اگر ان سب حالات میں تم صبر اور اللہ ترسی کی روش پر قائم رہو تو یہ بڑے حوصلے کا کام ہے ۔ “

عقائد اور نظریات اور دعوت اور تحریک کی سنت یہ ہے کہ ان میں ابتلا ‘ جان کی ابتلا ‘ مال کی ابتلا ضروری ہوتی ہے اور نفس انسانی کو اس میں ثابت قدمی ‘ صبر اور عزم سے مقابلہ کرنا ہوتا ہے ۔ اس لئے کہ یہ جنت کی راہ ہے اور جنت تو تب ملتی ہے جب ناپسندیدہ کاموں سے اجتناب کیا جائتے اور جنت ان کے اندرگھیری ہوئی ہے اور دوزخ شہوات نفس کے درمیان ہے ۔

یہی ایک صورت ہے جس میں کسی دعوت کو لے کر اٹھنے والی جماعت کو برپا کیا جاسکتا ہے ۔ اسی صورت میں دعوتی فرائض ادا کئے جاسکتے ہیں ۔ یہی طریقہ ہے ‘ ایسی جماعت کی تربیت کا ۔ اور صرف اسی طریقے سے اس کی خفیہ قوتوں ‘ بھلائی کی قوتوں ‘ صبر وثبات کی قوتوں کو جگایا جاسکتا ہے ۔ یہ طریقہ کہ فرائض کو عملاً ادا کیا جائے اور لوگوں کی حقیقی حیثیت کو جانا جائے اور زندگی کی اصلیت بھی ذہن میں ہو کہ اس کی کیا حقیقت ہے ؟ یہی ایک طریقہ ہے کہ دعوت کے اردگرد مضبوط لوگ جمع ہوجاتے ہیں ۔ ایسے ہی لوگ کسی دعوت کو لے کر چلتے ہیں اور اسی کی راہ میں آنے والی مشکلات پر صبر کرتے ہیں اور ایسے ہی لوگوں پر اعتماد کیا جاسکتا ہے ۔

کسی بھی دعوت کی قدر ایسے ہی لوگوں کے پاس ہوتی ہے اور وہ اسے اہم سمجھتے ہیں اور اس دعوت کی راہ میں وہ جس قدر مشکلات برداشت کریں گے ‘ اس قدروہ انہیں عزیز ہوگی ۔ اس لئے وہ اس کو کبھی بھی نظر انداز نہ کریں گے ‘ خواہ جیسے حالات بھی ہوں۔

آزمائش کو ہر دعوت کی سنت اس لئے قرا ردیا گیا ہے کہ اس سے داعی اور دعوت دونوں مضبوط ہوجاتے ہیں ۔ مقابلہ ہی انسان کے اندر سے اس کی خفیہ قوتوں کو جگاتا ہے ۔ ان کو نشوونما دیتا ہے ‘ ان کو مجتمع کرتا ہے اور پھر ان کو ایک راہ پر لگاتا ہے ۔ کسی بھی جدید دعوت کو چاہئے کہ وہ ان خفیہ قوتوں سے کام لے ‘ انہیں جگائے تاکہ اس کی جڑیں مضبوط ہوں اور وہ معاشرے کے اندر گہری جڑیں رکھتی ہو۔ پھر نظریاتی اعتبار سے اسے چاہئے کہ وہ تروتازہ ‘ اور انسانی فطرت کے اندر رچی بسی ہو۔

حاملین دعوت کو اپنے نفوس کی حقیقت اچھی طرح معلوم ہو ‘ اور وہ جہاد فی سبیل اللہ اور اس کی زندگی کو ساتھ ساتھ لے کر چلتے ہوں ۔ انہیں معلوم ہو کہ نفس انسانی کی حقیقت کیا ہے اور اس کے اندر کیا کیا خفیہ قوتیں ہیں۔ انہیں معلوم ہو کہ ایک جماعت اور ایک معاشرے کی تشکیل کس طرح ہوتی ہے ۔ انہیں معلوم ہو کہ ان کی دعوت کے اصول اور ان کی نفسانی خواہشات کے درمیان کہاں کہاں اور کس کس طرح جنگ ہوگی اور پھر تمام لوگوں کے ساتھ اس دعوت کی جنگ کس طرح ہوگی ۔ پھر انہیں معلوم ہو کہ شیطان کن کن دروازوں سے نفس انسانی کے اندر داخل ہوجاتا ہے ‘ راستے میں کہاں کہاں پھسلن ہے اور کہاں کہاں گمراہی کی دلدل ہے ۔

اس جہد مسلسل کا ایک فائدہ یہ بھی ہوتا ہے کہ اس پر اس کے مخالفین بھی غور کرنا شروع کردیتے ہیں ۔ وہ سوچتے ہیں کہ جو اس قدر قربانیاں دیتے ہیں لازماً اس میں کوئی خیر ہوگی کوئی راز تو اس میں ہوگا۔ یہ لوگ اس راہ میں اس قدر مشکلات برداشت کرتے ہیں اور وہ پر عزم طور پر اپنے موقف پر جمے ہوئے ہیں ۔ ایک مقام ایسا ضرور آتا ہے کہ مخالفین کے دل پگھل جاتے ہیں ‘ وہ ٹوٹ جاتے ہیں اور آخرکار فوج درفوج تحریک میں داخل ہوتے ہیں۔

غرض دعوت کی یہ سنت ہے ۔ اس دعوت کی راہ میں جو پُر مشقت حالات پیش آتے ہیں ‘ ایسے حالات آتے ہیں جن حالات کے اندر تلخ کھینچاتانی قائم رہتی ہے اور اس راہ میں دشمنوں کے عملوں کا مقابلہ ہوتا ہے اور اس راہ میں ہر وقت مشکلات برداشت کرکے اللہ کی رحمت کی امید قائم رکھنا ہوتی ہے اور یہ سب کام صرف وہی لوگ کرسکتے ہیں جو نہایت ٹھوس لوگ ہوں اور جو نہایت ہی الوالعزم ہوں۔

وَإِنْ تَصْبِرُوا وَتَتَّقُوا فَإِنَّ ذَلِكَ مِنْ عَزْمِ الأمُورِ……………” اگر تم صبر کرو اور تقویٰ اختیار کرو تو یہ ان لوگوں کے کاموں میں سے ہوگا جو اولوالعزم ہیں ۔ “

مدینہ کی اسلامی جماعت اس بات کی توقع کرتی تھی کہ اس کی راہ میں اسے بےپناہ مشکلات پیش آنے والی ہیں ۔ وہ اذیت ‘ مصیبت اور مشکلات کی توقع کررہی تھی ۔ چاہے یہ مشکلات جانی ہوں یا مالی ۔ یہ ان اہل کتاب کی طرف سے ہوں جو مدینہ کے اردگرد بستے تھے یا ان دشمن مشرکین کی طرف سے ہوں جو مکہ میں تھے ۔ لیکن یہ مشکلات ضرور ان کی راہ میں آئیں گی ۔ وہ کبھی بھی شکست تسلیم نہ کرے گی……………اس جماعت کو یہ بھی یقین تھا کہ اس نے ایک دن ضرور مرنا ہے ۔ اور یہ کہ اصل اجر تو وہ ہوگا جو آخرت میں ملے گا اور یہ کہ کامیاب وہی ہوگا جو آگے سے ہٹایا گیا اور جنت میں داخل کردیا گیا اور یہ کہ دنیا کی زندگی تو متاع غرور ہے۔ مدینہ کی یہ جماعت اس قدر مضبوط بنیادوں پر کھلی زمین پر کھڑی تھی اور وہ اسی شاہرہ پر گامزن تھی جو یقیناً منزل مقصود کو جاتی تھی ۔ اور یہ پختہ اور مضبوط زمین اب بھی حاملین دعوت اسلامی کے لئے موجود ہے ۔ اور یہ کھلی اور سیدھی شاہراہ ہر انسان کے سامنے ہے ۔ اس کے دعوت کے وہی پرانے دشمن آج بھی اس کے دشمن ہیں ۔ صدیوں وقت گزرنے کے باجود یہ دشمن نہیں بدل ۔ وہ آج تک اس کے خلاف سازشوں میں مصروف ہیں ‘ حالانکہ صدیاں بیت گئیں اور قرآن وہی قرآن ہے اور وہی اس کا پیغام ہے جو تھا۔

ہاں ‘ یہ درست ہے کہ فتنہ وابتلا کے اسٹائل ہر دور میں بدل جاتے اور اس تحریک کے خلاف پروپیگنڈے کے نئے نئے وسائل سامنے آجاتے ہیں ۔ اس کو ایذا دینے کے طریقے بھی نئے آتے رہتے ہیں ۔ اس کی شہرت کو خراب کیا جاتا ہے ‘ اس کے تصورات کے بنیادی عناصر کو خراب کیا جاتا ہے ۔ ان کی اہمیت کو ختم کیا جاتا ہے اور دعوت کے مقاصد کے بارے میں غلط تاثرات دیئے جاتے ہیں ‘ لیکن اس سلسلے میں واحداصول یہ ہے :

لَتُبْلَوُنَّ فِي أَمْوَالِكُمْ وَأَنْفُسِكُمْ وَلَتَسْمَعُنَّ مِنَ الَّذِينَ أُوتُوا الْكِتَابَ مِنْ قَبْلِكُمْ وَمِنَ الَّذِينَ أَشْرَكُوا أَذًى كَثِيرًا

” اے مسلمانو ‘ تمہیں مال اور جان دونوں کی آزمائشیں پیش آکر رہیں گی اور تم اہل کتاب اور مشرکین سے بہت سی تکلیف دہ باتیں سنوگے۔ “

اس سورت میں اہل کتاب کی سازشوں کے ایک بڑے حصے کو بےنقاب کیا گیا ہے ۔ یہ ان کے پروپیگنڈے اور شکوک و شبہات پھیلانے کیے نمونوں سے بھری پڑی ہے ۔ کبھی شکوک و شبہات اصل دعوت اور اس کے اصول کے اندر پیش کئے جاتے ہیں ۔ کبھی اس دعوت کے حاملین اور کارکنوں کے خلاف شبہات پھیلائے جاتے ہیں ۔ اور اس کام کا اسٹائل اور شکل و صورت ہر دور میں بدل جاتی ہے۔ اور جدید وسائل ‘ نشر و اشاعت کے بعد اس کے رنگ ڈھنگ بہت ہی بدل گئے ہیں ۔ اور یہ تمام کام اسلام کے نظریاتی کام کے خلاف مسلسل ہورہا ہے ۔ نیز اس کا اول ٹارگٹ اسلامی جماعت اور اس کی قیادت ہوتی ہے ۔ لیکن اللہ تعالیٰ نے مذکور بالا آیت میں جو فریم ورک دیا ہے یہ کام آج بھی بہرحال اسی کے اندر ہورہا اور جس مزاج کا اللہ تعالیٰ نے بنایا ہے اس مزاج سے ہورہا ہے ۔ اور دشمنوں کے بارے میں اللہ تعالیٰ نے جو نشاندہی کی ہے اس کے رنگ ڈھنگ آج بھی وہی ہیں ۔

اس آیت میں اللہ تعالیٰ نے جو ہدایت دی ہے وہ ہر دور میں جماعت اسلامی اور تحریک اسلامی کے لئے ایک سرمایہ ہے ‘ جب بھی وہ اس دعوت کو لے کر اٹھے اور جب بھی وہ اس زمین کے کسی حصے میں اسلامی نظام کے قیام کا نصب العین لے کر اٹھے ۔ جب بھی یہ کام شروع ہوگا تو اس کے خلاف فتنہ اور سازشوں کے وسائل حرکت میں آنا شروع ہوں گے ‘ جدید سے جدید پروپیگنڈے کے وسائل کے دروازے کھل جائیں گے ۔ اس کے مقاصد کو غلط رنگ میں توڑ موڑ کر پیش کیا جائے گا ۔ اور اس کی صفوں کو منتشر کرنے کی سعی کی جائے گی اور قرآن کی جانب سے تحریک اسلامی کی ہدایت اور اس کی آنکھیں کھولنے کے لئے یہ آیت سامنے آجائے گی ۔ وہ اس تحریک کے مزاج سے داعیوں کو خبردار کرے گی ‘ اس کا طریق کار سمجھائے گی ۔ اور اس کے مخالفین کا مزاج بھی تحریک کے سامنے رکھ دے گی جو راستے میں تحریک کی راہ پکڑے ہوئے ہیں اور یہ آیت تحریک اسلامی کے دل کو اطمینان سے بھردے گی ۔ اور اس راہ میں اسے جو مشکلات پیش آئیں انہیں انگیز کرے گی اور جب یہ بھیڑیے ہر طرف سے اس کا گوشت نوچیں گے اور جب اس کے چاروں طرف نشر و اشاعت کے وسائل بھونکنے لگیں گے اور جب اس پر ہر طرف سے ابتلا آئے گی اور اسے فتنہ سامانیوں کا سامنا ہوگا تو یہ تحریک مطمئن ہوکر اپنی راہ پر گامزن رہے گی اور اسے یہ تمام نشانات راہ صاف صاف نظر آئیں گے ۔

یہی وجہ ہے کہ اسے ابتلا ‘ اذیت ‘ فتنے اور باطل پروپیگنڈے سے پہلے ہی خبردار کردیا گیا ۔ بتادیا گیا کہ وہ اس دعوت کی وجہ سے بہت کچھ سنے گی اور یہ اس لئے بتادیا گیا کہ اس تحریک کو اس بات پر پہلے سے پختہ یقین ہے کہ صبر وتقویٰ ہی زاد راہ ہیں ۔ اور ان کے ذریعے تمام سازشیں ‘ تمام پروپیگنڈے ختم ہوجاتے ہیں ‘ ان کے ہوتے ہوئے اذیت وابتلا کی اہمیت اور شدت ہی ختم ہوجاتی ہے اور تحریک اپنے ٹارگٹ کی طرف جاتی ہے ‘ رواں دواں ہوتی ہے ‘ نہایت پر امید ہوکر ‘ نہایت عزم کے ساتھ اور صبر وتقویٰ کے زاد راہ کے ساتھ۔

اس کے بعد روئے سخن اہل کتاب پر تنقید کی جانب ہوجاتا ہے ۔ ان کے غلط موقف کی قلعی کھولی جاتی ہے ۔ بتایا جاتا ہے کہ جب ان کو کتاب دی گئی تھی تو ان سے تو عہد لیا گیا تھا کہ تم یہ یہ کروگے ۔ مگر انہوں نے اسے پس پشت ڈال دیا اور جس بات کو ان کے پاس بطور امانت رکھا گیا تھا ‘ اس میں انہوں نے خیانت کی ۔ ان سے پوچھا جاتا ہے :

74