سورہ عبسہ: آیت 1 - عبس وتولى... - اردو

آیت 1 کی تفسیر, سورہ عبسہ

عَبَسَ وَتَوَلَّىٰٓ

اردو ترجمہ

ترش رو ہوا، اور بے رخی برتی

انگریزی ٹرانسلیٹریشن

AAabasa watawalla

آیت 1 کی تفسیر

یہ ہدایات جو اس متعین واقعہ کے حوالے سے دی گئی ہیں بہت ہی اہم ہدایات ہیں ، بادی النظر میں انسان ان کو پڑھ کر جو کچھ سمجھتا ہے ، اس سے کہیں زیادہ اہم ہیں۔ یہ ایک معجزہ ہے ، یہ ایک حقیقت ہے جسے اس کرہ ارض پر ایک زندہ اور عملی حقیقت بنایا گیا ہے۔ یہ ایک عظیم معجزہ ہے۔ انسانی زندگی کو اس معجزے نے یکسر بدل دیا۔ اور یہ اسلام کا پہلا اور نمایاں معجزہ تھا۔ یہ ہدایات اگرچہ بظاہر ایک معمولی انفرادی اور جزوی واقعہ کے حوالے سے آئی ہیں لیکن اس سے ان کی اہمیت کم نہیں ہوتی ، کیونکہ یہ قرآن کریم کا ایک ربانی انداز ہے کہ وہ ایک لامحدود اور نہایت ہی گہری اور تمام حقیقت ایک محدود اور ظاہری واقعہ کے ضمن میں بیان کردیتا ہے۔

اگر گہری نظر سے دیکھا جائے تو جو حقیقت یہاں ان ہدایات میں ذہن نشین کرائی جارہی ہے اور اس کے نتیجے میں اسلامی معاشرے کے اندر جو عملی نتائج پیدا ہورہے ہیں وہ تو عین اسلام ہے۔ یہی اسلام ہے جو ہر آسمانی رسالت نے پیدا کیا ، اور اس کا پودا زمین کے اندر لگایا۔

یہ گہری حقیقت جو ان ہدایات کے ضمن میں بیان کی گئی ہے۔ محض یہ نہیں ہے کہ معاشرے کے افراد کے ساتھ برتاﺅ کس طرح ہو ، غرباء کے ساتھ کیا ہو اور امراء کے ساتھ کس طرح ہو ، جیسا کہ بظاہر اس واقعہ سے معلوم ہوتا ہے۔ یہ حقیقت اس سے ذرا گہری ہے ، بہت بڑی ہے۔ وہ یہ ہے کہ معاملات کے وزن اور قدر کا اسلامی پیمانہ کیا ہے۔ مسلمانوں نے اپنی قدریں اور پیمانے کہاں سے لینے ہیں۔

ان ہدایات کے ذریعہ جس حقیقت کو استقلال بخشا گیا ہے کہ لوگوں کو اپنی اقدار صرف آسمانی حوالوں سے اخذ کرنی ہیں۔ ان کے پیمانے آسمان سے متعین ہوکر آئیں ، زمین اور اہل زمین کے ہاں کیا کچھ رائج ہے۔ یہ اسلامی نظروں میں کچھ نہیں ہے ، اہل دنیا کی اقدار کیا ہیں۔ یہ اسلامی نگاہ میں غیر متعلق بات ہے۔

اب معلوم ہوگا کہ یہ تو ایک عظیم معاملہ ہے اور اس کرہ ارض پر اس معیار کو قائم کرنا مشکل کام ہے۔ زمین کے اوپر زمین کے لوگ وہ قدریں اور پیمانے آسمان سے اخذ کریں جن کے اوپر زمین اور اہل زمین کی کوئی چھاپ نہ ہو ، اور زمین کے رواج اور حوالوں سے وہ خالی ہوں یہ فی الحقیقت ایک عظیم امر ہے۔

ان ہدایات کی عظمت اور ان کی عملی مشکلات کا اندازہ تب ہوتا ہے جب ہم انسان کی پیچیدہ عملی زندگی کا گہرا مطالعہ کریں اور یہ اندازہ کریں کہ انسانی نفس ، انسانی شعور پر ان کا دباﺅ کیا ہوتا ہے۔ انسان کے لئے واقعی حالات ، زندگی کے دباﺅ اور پریشر ، لوگوں کے خاندانی اور معاشی روابط کے بندھنوں سے نکلنا کس قدر مشکل ہوتا ہے۔ انسان کی موروثی قدریں ، تاریخی روایات اور تمام دوسری قدریں جو اسے زمین کے ساتھ مضبوطی سے باندھ رہی ہوتی ہیں اور جن کا دباﺅ نفس انسانی پر بہت سخت ہوتا ہے۔

اور یہ معاملہ اس وقت بھی عظیم اور مشکل نظر آتا ہے ، جب ایک انسان دیکھتا ہے کہ اس مسئلے پر سرور کونین کو بھی اللہ کی طرف سے ہدایات کی ضرورت پیش آئی بلکہ یہ ہدایات سخت عتاب کی شکل میں دی گئیں اور آپ کے طرز عمل پر بارگاہ رب العزت کی طرف سے تعجب کا اظہار کیا گیا۔

کسی معاملے کی عظمت اور اس کے مشکل الحصول ہونے کے لئے صرف یہ کہنا ہی کافی ہے کہ حضرت محمد ﷺ کو بھی اس کی طرف متوجہ کرنے کی ضرورت پیش آئی اور آپ کو ہدایت دی گئی اور تنبیہہ کی گئی کہ آپ کو یہ اعلیٰ معیار قائم کرنا ہے۔ یہ اس لئے کہ آپ کی عظمت ، آپ کی بلندی اور رفعت اس بات کی دلیل ہے کہ اگر آپ کو بھی اس معاملے کی طرف متوجہ کرنے کی ضرورت ہے تو یہ معاملہ فی الواقع بہت عظیم اور یہ معیار مشکل الحصول ہے۔ یہ ہے اس معاملے کی اہمیت اور حقیقت ، جسے اللہ تعالیٰ زمین کے اوپر ایک واقعہ اور حقیقت نفس الامری کے طور پر اس انفرادی واقعہ کی صورت میں ، ایک مثال ، معیار اور ماڈل کے طور پر پیش کرنا چاہتا تھا تاکہ لوگ اس میزان اور معیار کے مطابق اپنا طرز عمل درست کریں۔ اور نبی ﷺ کے اسوہ ، نمونہ اور عملی زندگی سے اپنے لئے میزان اور معیار اخذ کریں۔ یوں یہ واقعہ اور یہ ہدف ایک عظیم ہدف بن جاتا ہے۔ قرآن وسنت دراصل وہ پیمانہ ہے جسے اللہ نے رسولوں کو عطا کیا ، ان پر نازل کیا تاکہ لوگ ان کے مطابق اپنے اعمال اور طرز عمل کو درست کریں ، اس سلسلے میں یہ میزان کیا ہے ؟ یہ ہے۔

ان اکرمکم ................ اتقکم ” تم میں سے معزز اللہ کے نزدیک ، وہ ہے جو تم میں سے زیادہ متقی ہے “۔ بس یہی وہ وزن ہے جس کے مطابق کسی کا پلڑا بھاری ہوگا اور کسی کا ہلکا ہوگا۔ اور یہ خالص آسمانی قدروقیمت ہے۔ آسمانی پیمانہ ہے اور اس کا زمین کے حالات وروایات کے ساتھ کوئی تعلق نہیں ہے۔

لیکن لوگ تو اس زمین پر رہتے ہیں اور یہاں ان کے درمیان قسم قسم کے روابط ہیں۔ ہر رباطے کا ایک وزن ، ایک دباﺅ اور ایک کشش ہے۔ ان کی اقدار مختلف ہوتی ہیں۔ نسب ، قوت ، مال اور ان تینوں کی بنیاد پر قائم ہونے والے روابط ومفادات ، اقتصادی اور غیر اقتصادی روابط جن میں بعض لوگوں کے حالات دوسروں سے مختلف ہوتے ہیں۔ نسب ، مال اور قوت کے لحاظ سے اس زمین پر بعض لوگوں کا وزن زیادہ اور بعض کا کم ہوتا ہے۔

جب اسلام آتا ہے ، تو اس کا اعلان یہ ہوتا ہے۔

ان اکرمکم ........................ اتقکم ” تم میں سے معزز اللہ کے نزدیک ، وہ ہے جو تم میں سے زیادہ متقی ہے “۔ تو وہ ان تمام روابط ، اقدار اور تعلقات سے صرف نظر کرلیتا ہے۔ حالانکہ ان چیزوں کا ان کی عقلیت اور شعور پر دباﺅ ہوتا ہے۔ ان میں جاذبیت ہوتی ہے۔ انسانوں کے فہم و شعور میں اس کی گہری جڑیں ہوتی ہیں۔ اسلام ان تمام چیزوں کو بدل کر انسانوں کو آسمانی قدریں دیتا ہے اور یہ آسمانی قدریں اور پیمانے صرف ایک معیار کو تسلیم کرتے ہیں کہ جو متقی ہے وہ مکرم ہے اور بس۔

ایک واقعہ ، جزئی اور متعین واقعہ پیش آتا ہے اور اس کے ضمن میں یہ اصول اور یہ بنیادی قدر متعین ہوجاتی ہے کہ یہ آسمان سے نازل شدہ پیمانہ اور یہ قدر و قیمت آسمانوں سے مقرر ہوئی ہے۔ امت مسلمہ کا فریضہ یہ ہے کہ لوگ ہر اس چیز کو ترک کردیں جو لوگوں کے ہاں عرف اور متعارف ہو ، جو زمینی تصورات ، زمینی اقدار اور عرف پر مبنی ہو ، اور صرف ان قدروں اور پیمانوں کو اپنائیں جو آسمان سے نازل ہوں۔

ایک فقیر اور اندھا آتا ہے۔ نام عبداللہ ابن ام مکتوم ہے۔ یہ رسول اللہ کے ہاں آتا ہے تو آپ قریش کے سرداروں سے محوگفتگو ہیں۔ ان کو دعوت دین ہی دی جارہی ہے۔ عتبہ ، شیبہ ، یہ دونوں سردار ربیعہ کے مشہور بیٹے ہیں۔ ابوجہل (عمر ابن ہشام) امیہ ابن خلف ، ولید ابن مغیرہ اور عباس ابن عبدالمطلب بھی ان کے ساتھ ہیں۔ حضور کو یہ امید ہے کہ ان لوگوں کا اسلام اس وقت تحریک کی مشہلات میں کمی کردے گا۔ کارکنوں پر مظالم ہورہے تھے اور یہ چند افراد اپنے مالی ، جانی اور سیاسی حیثیت کے تمام وسائل کو اسلام کی راہ روکنے کے کام میں جھونک رہے تھے۔ اور لوگوں کو اسلام کی راہ سے روک رہے تھے۔ اور وہ اسلام کے خلاف ہر سازش کررہے تھے کہ اسے مکہ کے اندر ہی منجمد کرکے رکھ دیں جبکہ دوسری اقوام مکہ سے باہر غیر جانب دار کھڑی تھیں اور باہر کی اقوام اس دعوت کو اس لئے قبول نہیں کررہی تھی کہ خود اہل مکہ اس کی راہ روکنے کے لئے کھڑے تھے۔ سخت مخالفت کررہے تھے ، اور اس وقت کے قبائل نظام میں اگر کوئی قبیلہ بھی کسی سردار کی بات کو مان کر نہیں دیتا تو اس کی بڑی اہمیت ہوا کرتی تھی۔

یہ فقیر اندھا شخص حضور ﷺ کے پاس آتا ہے اور حضور اکرم ﷺ ان اکابر قریش کے ساتھ مصروف ہیں۔ اپنے کسی ذاتی معاملے میں نہیں ، کسی ذاتی مفاد میں نہیں بلکہ دعوت اسلام کے کام اور مفاد میں مصروف گفتگو ہیں۔ اگر یہ لوگ مسلمان ہوجاتے ہیں تو مکہ میں دعوت اسلامی کے راستے سے تمام رکاوٹیں دور ہوجاتی ہیں۔ اور اس کی راہ سے تمام نوکدار کانٹے چنے جاتے ہیں اور اسلام مکہ کے اردگرد کے علاقوں میں بھی پھیل جاتا ہے۔ کیونکہ ان اکابر کے اسلام لانے کے بعداسلام تیزی سے پھیل جاتا۔

یہ صاحب حضور اکرم ﷺ کے پاس اس حال میں آتے ہیں اور کہتے ہیں حضور مجھے اس علم میں سے کچھ پڑھائیے جو اللہ نے آپ کو دیا ہے۔ وہ بار بار اس بات کی تکرار کرتے ہیں اور جانتے بھی ہیں کہ حضور مصروف ہیں تو حضور اکرم ﷺ ان کے ان فعل اور ان کی اس بات کو پسند نہیں کرتے اور آپ کے چہرے پر کراہت کے آثار نمودار ہوتے ہیں اور یہ شخص ان آثار کو نہیں دیکھ پا رہے ہیں۔ آپ ترش روئی اختیار کرتے ہیں اور منہ پھیر لیتے ہیں کیونکہ یہ شخص آپ کو ایک نہایت اہم معاملے سے روک رہے ہیں۔ یہ معاملہ اس لئے اہم ہے کہ اگر یہ کام ہوجاتا تو دعوت اسلامی کو بہت فائدہ ہوجاتا ہے۔ اور یہ کام آپ دین اسلام کے فائدے اور مدد کے لئے کررہے ہیں ، خالص دینی فائدے کے لئے۔ اسلام کی مصلحت کی خاطر اور اسلام کے پھیلانے کی چاہت کے جذبے سے۔

لیکن آسمانوں سے مداخلت ہوتی ہے۔ سا لئے مداخلت ہوتی ہے کہ اس موضوع پر فیصلہ کن بات کردی جائے تاکہ دعوت اسلامی کے طریق کار میں کچھ نشانات راہ رکھ دیئے جائیں اور وہ ترازو قائم کردیا جائے جس سر اسلامی نقطہ نظر سے اقدار کو تولا جائے گا۔ اور اس کے مقابلے میں تمام حالات اور تمام مقاصد ترک کردیئے جائیں گے یہاں تک کہ خود اللہ کے دین کی مصلحت کو بھی نظرانداز کردیا جائے گا۔ اگر چہ انسان اس معیار کے خلاف کسی چیز کو دعوت اسلامی کے لئے مفید سمجھتے ہوں۔ بلکہ اگرچہ سید البشر ﷺ کسی ایسی چیز کو دعوت اسلامی کے لئے مفید سمجھتے ہوں۔

چناچہ عالم بالا سے نبی کریم ﷺ کے لئے عتاب آتا ہے اور نبی کریم تو خلق عظیم کے مالک ہیں اور محبوب رب العالمین ہیں لیکن یہ عتاب نہایت ہی شدید اسلوب میں آتا ہے۔ پورے قرآن میں اس قسم کے سخت عتاب کی یہ واحد مثال ہے جس میں لفظ کلا استعمال ہوا ہے جو سختی سے تردید کے لئے آتا ہے اور جھڑکی کے موقعہ پر استعمال ہوتا ہے اور یہ اس لئے کہ یہ میزان وہ ہے جس کے اوپر پورا دین قائم ہے۔

جس اسلوب اور انداز میں یہ عتاب فرمایا گیا ہے وہ ایک منفرد انداز ہے۔ انسانی اسلیب اس کی نقل یا ترجمانی نہیں کرسکتے۔ کیونکہ انسانی تحریر کی زبان کی کچھ حدود ہیں اور کچھ طریقے ہیں۔ انسانی اسلوب تحریر میں ایسے گرم اور سخت اشارات نہیں سموئے جاسکتے جو زندہ وتابندہ ہوں۔ یہ قرآن کریم کا اعجازی انداز گفتگو ہے جو اس قسم کے اشارے چند مختصر الفاظ میں کردے اور عتاب کی ایک جھلک سی دکھادے۔ ایسے انداز میں کہ گویا وہ نہایت ہی تیز تاثرات ہیں ، زندہ صورت میں ہیں ، مخصوص اثر اور انداز رکھتے ہیں۔

عبس .................... الاعمی (2:80) ” ترش رو ہوا اور بےرخی برتی اس بات پر کہ وہ اندھا اس کے پاس آگیا “۔ یہ گفتگو اس انداز کی ہے کہ گویا ایک غیر موجود اور غائب شخص کے بارے میں بات ہورہی ہے اور وہ مخاطب نہیں ہے۔ اس میں اس طرف اشارہ ہے ، بات اللہ کے نزدیک بڑی ناپسندیدہ ہے اور اللہ تعالیٰ نے مناسب نہ سمجھا کہ اس کا تذکرہ اپنے نبی اور محبوب کو براہ راست خطاب کرکے کرے۔ یہ اس لئے کہ آپ اللہ کو بہت محبوب ہیں اور اللہ آپ کا اکرام فرماتا ہے اور براہ راست خطاب نہیں فرمارہا کہ تم نے ایسا کیا۔ کیونکہ بات بڑی ناپسندیدہ ہے۔ اس کے بعد بات کا انداز بدلتا ہے۔ اصل بات کا تذکرہ کیے بغیر آپ سے خطاب شروع ہوجاتا ہے۔ اور خطاب بات کو یوں شروع کیا جاتا ہے۔

آیت 1{ عَبَسَ وَتَوَلّٰیٓ۔ } ”تیوری چڑھائی اور منہ پھیرلیا۔“ یعنی حضرت عبداللہ کی بار بار خلل اندازی پر حضور ﷺ کے چہرئہ انور پر ناگواری کے آثار نمایاں ہوئے اور آپ ﷺ نے چہرئہ مبارک دوسری طرف کرلیا۔

تبلیغ دین میں فقیر و غنی سب برابر بہت سے مفسرین سے مروی ہے کہ رسول اللہ ﷺ ایک مرتبہ قریش کے سرداروں کو اسلامی تعلیم سمجھا رہے تھے اور مشغولی کے ساتھ ان کی طرف متوجہ تھے دل میں خیال تھا کہ کیا عجب اللہ انہیں اسلام نصیب کر دے ناگہاں حضرت عبداللہ بن ام مکتوم ؓ آپ ﷺ کے پاس آئے، پرانے مسلمان تھے عموماً حضور ﷺ کی خدمت میں حاضر ہوتے رہتے تھے اور دنیا اسلام کی تعلیم سیکھتے رہتے تھے اور مسائل دریافت کیا کرتے تھے، آج بھی حسب عادت آتے ہی سوالات شروع کئے اور آگے بڑھ بڑھ کر حضور ﷺ کو اپنی طرف متوجہ کرنا چاہا آپ ﷺ چونکہ اس وقت ایک اہم امر دینی میں پوری طرح مشغول تھے ان کی طرف توجہ نہ فرمائی بلکہ ذرا گراں خاطر گزرا اور پیشانی پر بل پڑگئے اس پر یہ آیتیں نازل ہوئیں کہ آپ ﷺ کی بلند شان اور اعلیٰ اخلاق کے لائق یہ بات نہ تھی کہ اس نابینا سے جو ہمارے خوف سے دوڑتا بھاگتا آپ ﷺ کی خدمت میں علم دین سیکھنے کے لئے آئے اور آپ ﷺ اس سے منہ پھیر لیں اور ان کی طرف متوجہ ہیں جو سرکش ہیں اور مغرور و متکبر ہیں، بہت ممکن ہے کہ یہی پاک ہوجائے اور اللہ کی باتیں سن کر برائیوں سے بچ جائے اور احکام کی تعمیل میں تیار ہوجائے، یہ کیا کہا آپ ﷺ ان بےپرواہ لوگوں کی جانب تمام تر توجہ فرما لیں ؟ آپ ﷺ پر کوئی ان کو راہ راست پر لا کھڑا کرنا ضروری تھوڑے ہی ہے ؟ وہ اگر آپ ﷺ کی باتیں نہ مانیں تو آپ ﷺ پر ان کے اعمال کی پکڑ ہرگز نہیں، مطلب یہ ہے کہ تبلیغ دین میں شریف و ضعیف، فقیر و غنی، آزاد و غلام، مرد و عورت، چھوٹے بڑے سب برابر ہیں، آپ ﷺ سب کو یکساں نصیحت کیا کریں ہدایت اللہ کے ہاتھ ہے، وہ اگر کسی کو راہ راست سے دور رکھے تو اس کی حکمت وہی جانتا ہے جسے اپنی راہ لگا لے اسے بھی وہی خوب جانتا ہے، حضرت ابن ام مکتوم کے آنے کے وقت حضور ﷺ کا مخاطب ابی بن خلف تھا اس کے بعد حضور ﷺ ابن ام مکتوم کی بڑی تکریم اور آؤ بھگت کیا کرتے تھے (مسند ابو یعلی) حضرت انس ؓ فرماتے ہیں میں نے ابن ام مکتوم کو قادسیہ کی لڑائی میں دیکھا ہے، زرہ پہنے ہوئے تھے اور سیاہ جھنڈا لئے ہوئے تھے، حضرت عائشہ فرماتی ہیں کہ جب یہ آئے اور کہنے لگے کہ حضرت محمد ﷺ مجھے بھلائی کی باتیں سکھایئے اس وقت رؤساء قریش آپ ﷺ کی جلس میں تھے آپ ﷺ نے ان کی طرف پوری توجہ نہ فرمائی انہیں سمجھاتے جاتے تھے اور فرماتے تھے کہو میری بات ٹھیک ہے وہ کہتے جاتے تھے ہاں حضرت درست ہے، ان لوگوں میں عتبہ بن ربیعہ، ابو جہل بن ہشام، عباس بن عبدالمطلب تھے آپ ﷺ کی بڑی کوشش تھی اور پوری حرص تھی کہ کس طرح یہ لوگ دین حق کو قبول کرلیں ادھر یہ آگئے اور کہنے لگے حضور ﷺ قرآن پاک کی کوئی آیت مجھے سنایئے اور اللہ کی باتیں سکھایئے، آپ ﷺ کو اس وقت ان کی بات ذرا بےموقع لگی اور منہ پھیرلیا اور ادھر ہی متوجہ رہے، جب ان سے باتیں پوری کر کے آپ ﷺ گھر جانے لگے تو آنکھوں تلے اندھیرا چھا گیا اور سر نیچا ہوگیا اور یہ آیتیں اتریں، پھر تو آپ ﷺ ان کی بڑی عزت کیا کرتے تھے اور پوری توجہ سے کان لگا کر ان کی باتیں سنا کرتے تھے آتے جاتے ہر وقت پوچھتے کہ کچھ کام ہے کچھ حاجت ہے کچھ کہتے ہو کچھ مانگتے ہو ؟ (ابن جریر وغیرہ) یہ روایت غریب اور منکر ہے اور اس کی سند میں بھی کلام ہے، حضرت عبداللہ بن عمر ؓ فرماتے ہیں کہ میں نے رسول اللہ ﷺ سے سنا آپ ﷺ فرماتے تھے کہ بلال رات رہتے ہوئے اذان دیا کرتے ہیں تو تم سحری کھاتے پیتے رہو یہاں تک کہ ابن ام مکتوم کی اذان سنو یہ وہ نابینا ہیں جن کے بارے میں آیت (عَبَسَ وَتَوَلّىٰٓ ۙ اَنْ جَاۗءَهُ الْاَعْمٰى ۭ) عبس اتری تھی، یہ بھی موذن تھے بینائی میں نقصان تھا جب لوگ صبح صادق دیکھ لیتے اور اطلاع کرتے کہ صبح ہوئی تب یہ اذان کہا کرتے تھے (ابن ابی حاتم) ابن ام مکتوم کا مشہور نام تو عبداللہ ہے بعض نے کہا ہے ان کا نام عمرو ہے، واللہ اعلم، انھا تذکرہ یعنی یہ نصیحت ہے اس سے مراد یا تو یہ سورت ہے یا یہ مساوات کہ تبلیغ دین میں سب یکساں ہیں مراد ہے، سدی کہتے ہیں مراد اس سے قرآن ہے، جو شخص چاہے اسے یاد کرلے یعنی اللہ کو یاد کرے اور اپنے تمام کاموں میں اس کے فرمان کو مقدم رکھے، یا یہ مطلب ہے کہ وحی الٰہی کو یاد کرلے، یہ سورت اور یہ وعظ و نصیحت بلکہ سارے کا سارا قرآن موقر معزز اور معتبر صحیفوں میں ہے جو بلند قدر اور اعلیٰ مرتبہ والے ہیں جو میل کچیل اور کمی زیادتی سے محفوظ اور پاک صاف ہیں، جو فرشتوں کے پاس ہاتھوں میں ہیں اور یہ بھی مطلب ہوسکتا ہے کہ اصحاب رسول ﷺ کے پاکیزہ ہاتھوں میں ہے۔ حضرت قتادہ کا قول ہے کہ اس سے مراد قاری ہیں۔ ابن عباس فرماتے ہیں کہ یہ نبطی زبان کا لفظ ہے معنی ہیں قاری، امام ابن جریر فرماتے ہیں صحیح بات یہی ہے کہ اس سے مراد فرشتے ہیں جو اللہ تعالیٰ اور مخلوق کے درمیان سفیر ہیں، سفیر اسے کہتے ہیں کہ جو صلح اور بھلائی کے لیے لوگوں میں کوشش کرتا پھرے، عرب شاعر کے شعر میں بھی یہی معنی پائے جاتے ہیں، امام بخاری ؒ فرماتے ہیں اس سے مراد فرشتے ہیں جو فرشتے اللہ کی جانب سے وحی وغیرہ لے کر آتے ہیں وہ ایسے ہی ہیں جیسے لوگوں میں صلح کرانے والے سفیر ہوتے ہیں، وہ ظاہر باطن میں پاک ہیں، وجیہ خوش رو شریف اور بزرگ ظاہر میں، اخلاق و افعال کے پاکیزہ باطن میں۔ یہاں سے یہ بھی معلوم کرنا چاہیے کہ قرآن کے پڑھنے والوں کو اعمال و اخلاق اچھے رکھنے چاہئیں، مسند احمد کی ایک حدیث میں ہے رسول اللہ ﷺ فرماتے ہیں جو قرآن کو پڑھے اور اس کی مہارت حاصل کرے وہ بزرگ لکھنے والے فرشتوں کیساتھ ہوگا اور جو باوجود مشقت کبھی پڑھے اسے دوہرا اجر ملے گا۔

آیت 1 - سورہ عبسہ: (عبس وتولى...) - اردو