لکل .................... یغنیہ (37:80) ” ان میں سے ہر شخص پر اس دن ایسا وقت آپڑے گا کہ اسے اپنے سوا کسی کا ہوش نہ ہوگا “۔
ان عبارات وکلمات کی تہہ میں غم واندوہ کے گہرے سائے ہیں۔ پریشانیوں کی اس سے زیادہ بہتر تعبیر ممکن ہی نہیں ہے۔ احساس وضمیر دونوں کے بوجھ کو یہ عبارت کیا خوب ظاہر کرتی ہے۔
لکل ........................ یغنیہ (37:80) ” ان میں سے ہر شخص پر اس دن ایسا وقت آپڑے گا کہ اسے اپنے سوا کسی کا ہوش نہ ہوگا “۔ (اقتباسات ازماھی القیامتہ)
یہ ہوگی حالت اس دن تمام لوگوں کی جب یہ آواز برپا ہوگی اور یہ ایسی سخت اور کرخت آواز ہوگی کہ کان بہرے ہوجائیں گے ۔ اس روزمومنین کا کیا حال ہوگا اور کافروں کا کیا حال ہوگا ؟ اس روز تو سب کو اللہ کے پیمانوں سے ناپا جائے گا اور اللہ کے ترازو سے تولا جائے گا۔
آیت 37{ لِکُلِّ امْرِیٍٔ مِّنْہُمْ یَوْمَئِذٍ شَاْنٌ یُّغْنِیْہِ۔ } ”اس دن ان میں سے ہر شخص کو ایسی فکر لاحق ہوگی جو اسے ہر ایک سے بےپروا کر دے گی۔“ اس دن ہر انسان نفسا نفسی کی کیفیت میں ہوگا۔ ہر انسان کو اپنی پریشانی کی وجہ سے اپنے عزیز ترین رشتوں سمیت کسی دوسرے کی کوئی پروا نہیں ہوگی۔