آیت نمبر 43 تا 57
یہ منظر زقوم کے درخت کے پیش کرنے سے شروع ہوتا ہے اور یہ بدکاروں کی خوراک ہوگا۔ اور یہ اس قدر کڑوا ہوگا جس طرح تیل کی تلچھٹ کڑوی ہوتی ہے۔ یہ جہنمیو کی خوراک کی خوفناک تصویر کشی ہے اور یہ تلچھت پیٹ میں یوں جوش مارے گا جس طرح پتیلے میں پانی کھولتا ہے۔ ان بدکاروں کے پیٹ میں ، جو برتری دکھاتے تھے رب پر اور اس کے رسول ﷺ امین پر۔ فرمان الٰہی یوں ان ” شرفاء “ کے لئے صادر ہوتا ہے۔
خذوہ فاعتلوہ الی سواء الجحیم (44 : 47) ثم صبوا فوق راسہ من عذاب الحمیم (44 : 48) ” پکڑو اسے اور رگیدنے ہوئے لے جاؤ اس کو جہنم کے بیچوں بیچ اور انڈیل دو اس کے سر پر کھولتے پانی کا عذاب “۔ یعنی پکڑو اسے سخت بےدردی کے ساتھ۔ کس کر باندھو اسے اور پھر رگیدتے ہوئے جہنم کی طرف لے جاؤ، کوئی نرمی اور کوئی باعزت گرفتاری نہ ہو۔ اور ان کے سروں پر اس قدر سخت گرم پانی انڈیل دو کہ ان کو بھون کر رکھ دے ، اس سختی ، کھینچنے ، دھکیلنے ، رگید نے گرم پانی سے جلانے اور داغ دینے کے ساتھ جہنم کے اندر گراؤ اور پھر یہ بھی کہہ دو :
ذق انک انت العزیز الکریم (44 : 49) ” چکھ اس کا مزا ، بڑا زبردست عزت دار آدمی ہے تو “۔ جو لوگ عزت اور شرافت کے بغیر عزیز وکریم بنتے ہیں ان کی سزا ویسی ہی ہے ۔ تم اللہ اور رسول اللہ ﷺ کے مقابلے میں یہی کچھ کرتے تھے۔ تم اس دن میں شک کرتے تھے اور مذاق اڑاتے تھے اور ٹھٹھے کرتے تھے۔
اس منظر میں ایک طرف تو پکڑ دھکڑ ، باندھنا اور داغنا ہے اور گرم پانی گرانا ہے اور دوسری طرف وہ حقیقی شریف و کریم لوگ ہیں جو متقین تھے ، جو ہر وقت اس دن سے ڈرتے تھے۔ یہ لوگ نہایت ہی امن کے مقام میں کھڑے ہیں ، نہ در ہے اور فریاد و فغاں ہے نہ کھینچا تانی ہے اور نہ دھکم پیل ہے ، اور نہ ان پر سختی اور گرم پانی گرانا ہے۔ بلکہ وہ نہایت ہی بہتر پوزیشن میں ہیں۔ باغات میں جہاں ہر طرف چشمے بہہ رہے ہیں۔ یہ نرم و باریک ریشم اور موٹے ریشم کے کپڑے پہنے ہوئے ہیں وہ ایک دوسرے کے بالمقابل تکیوں پر بیٹھے ہیں اور ایک دوسرے کے ساتھ شریک محفل ہیں۔ پھر ان کو وہاں ایسی بیویاں دی جائیں گی جو نہایت ہی خوبصورت آنکھوں والی ہوں گی۔ یوں یہ نعمت اور فرحت تمام ہوگی اور وہ جنت میں ہمیشہ ہمیشہ کے لئے مقیم ہوں گے جو بھی وہاں چاہیں گے ، ملے گا۔
یدعون فیکھا بکل فاکھۃ امنین (44 : 55) ” وہاں وہ اطمینان سے ہر طرح کی لذیذ چیزیں طلب کریں گے “۔ یعنی ان کو ان نعمتوں کے ختم ہونے کا کوئی اندیشہ نہ ہوگا ، نہ موت ہوگی جبکہ ایک بار وہ مرچکے ۔ اور اس کے سوا کوئی اور موت ہوگی ہی نہیں۔ مشرکین تو یہ کہتے تھے کہ یہی پہلی موت ہے اور حشر و نشر نہ ہوگا ، اس کے جواب میں ہے کہ ٹھیک ہے یہی پہلی موت ہے لیکن حشر ونشر ہوگیا ، اب کوئی موت نہیں ، اگرچہ تم موت چاہتے ہو۔ اور اللہ نے اہل ایمان کو جہنم سے بچا لیا ، محض اپنے فضل وکرم سے کیونکہ نجات تو اللہ کے فضل وکرم سے موقوف ہے۔
فضلا من ربک ذلک ھو الفوز العظیم (44 : 57) ” اور اللہ اپنے فضل سے ان کو موت سے بچائے گا ، یہی بڑی کامیابی ہے “۔ اور نہایت ہی عظیم کامیابی !
اس شدید منظر کے بعد اب سورت کا خاتمہ اسی بات پر ہوتا ہے جس سے اس کا آغاز ہوا تھا کہ یہ قرآن اور یہ رسالت اللہ کی طرف سے نعمت عظمیٰ ہے اور اس نعمت کا انکار اور رسول کی تکذیب کے نتائج سے متنبہ کیا جاتا ۔
آیت 43 { اِنَّ شَجَرَتَ الزَّقُّوْمِ } ”یقینا زقوم کا درخت۔“
زقوم ابو جہل کی خوراک ہوگا منکرین قیامت کو جو سزا وہاں دی جائے گی اس کا بیان ہو رہا ہے کہ ان مجرموں کو جو اپنے قول اور فعل کو نافرمانی سے ملوث کئے ہوئے تھے آج زقوم کا درخت کھلایا جائے گا۔ بعض کہتے ہیں اس سے مراد ابو جہل ہے۔ گو دراصل وہ بھی اس آیت کی وعید میں داخل ہے لیکن یہ نہ سمجھا جائے کہ آیت صرف اسی کے حق میں نازل ہوئی ہے۔ حضرت ابو درداء ایک شخص کو یہ آیت پڑھا رہے تھے مگر اس کی زبان سے لفظ (اثیم) ادا نہیں ہوتا تھا اور وہ بجائے اس کے یتیم کہہ دیا کرتا تھا تو آپ نے اسے (طعام الفاجر) پڑھوایا یعنی اسے اس کے سوا کھانے کو اور کچھ نہ دیا جائے گا۔ حضرت مجاہد فرماتے ہیں کہ اگر زقوم کا ایک قطرہ بھی زمین میں ٹپک جائے تو تمام زمین والوں کی معاش خراب کر دے ایک مرفوع حدیث میں بھی یہ آیا ہے جو پہلے بیان ہوچکی ہے، یہ مثل تلچھٹ کے ہوگا۔ اپنی حرارت بدمزگی اور نقصان کے باعث پیٹ میں جوش مارتا رہے گا اللہ تعالیٰ جہنم کے داروغوں سے فرمائے گا کہ اس کافر کو پکڑ لو وہیں ستر ہزار فرشتے دوڑیں گے اسے اندھا کر کے منہ کے بل گھسیٹ لے جاؤ اور بیچ جہنم میں ڈال دو پھر اس کے سر پر جوش مارتا گرم پانی ڈالو۔ جیسے فرمایا آیت (يُصَبُّ مِنْ فَوْقِ رُءُوْسِهِمُ الْحَمِيْمُ 19ۚ) 22۔ الحج :19) ، یعنی ان کے سروں پر جہنم کا جوش مارتا گرم پانی بہایا جائے گا جس سے ان کی کھالیں اور پیٹ کے اندر کی تمام چیزیں سوخت ہوجائیں گی اور یہ بھی ہم پہلے بیان کر آئے ہیں کہ فرشتے انہیں لوہے کے ہتھوڑے ماریں گے جن سے ان کا دماغ پاش پاش ہوجائیں گے پھر اوپر سے یہ حمیم ان پر ڈالا جائے گا یہ جہاں جہاں پہنچے گا ہڈی کو کھال سے جدا کر دے گا یہاں تک کہ اس کی آنتیں کاٹتا ہوا پنڈلیوں تک پہنچ جائے گا۔ اللہ ہمیں محفوظ رکھے پھر انہیں شرمسار کرنے کے لئے اور زیادہ پشیمان بنانے کے لئے کہا جائے گا کہ لو مزہ چکھو تم ہماری نگاہوں میں نہ عزت والے ہو نہ بزرگی والے۔ مغازی امویہ میں ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے ابو جہل ملعون سے کہا کہ مجھے اللہ کا حکم ہوا ہے کہ تجھ سے کہہ دوں تیرے لئے ویل ہے تجھ پر افسوس ہے پھر مکرر کہتا ہوں کہ تیرے لئے خرابی اور افسوس ہے۔ اس پاجی نے اپنا کپڑا آپ کے ہاتھ سے گھسیٹتے ہوئے کہا جا تو اور تیرا رب میرا کیا بگاڑ سکتے ہو ؟ اس تمام وادی میں سب سے زیادہ عزت و تکریم والا میں ہوں۔ پس اللہ تعالیٰ نے اسے بدر والے دن قتل کرایا اور اسے ذلیل کیا اور اس سے کہا جائے گا کہ لے اب اپنی عزت کا اور اپنی تکریم کا اور اپنی بزرگی اور بڑائی کا لطف اٹھا اور ان کافروں سے کہا جائے گا کہ یہ ہے جس میں ہمیشہ شک شبہ کرتے رہے۔ جیسے اور آیتوں میں ہے کہ جس دن انہیں دھکے دے کر جہنم میں پہنچایا جائے گا اور کہا جائے گا کہ یہ وہ دوزخ ہے جسے تم جھٹلاتے رہے کیا یہ جادو ہے یا تم دیکھ نہیں رہے ؟ اسی کو یہاں بھی فرمایا ہے کہ یہ جس میں تم شک کر رہے تھے۔